Ishq Qaid Season 2 by Rimsha Hussain NovelR50563 Ishq Qaid Season 2 (Last Episode)
Rate this Novel
Ishq Qaid Season 2 (Last Episode)
Ishq Qaid Season 2 by Rimsha Hussain
چار دن بعد:
کجھ بات کرنی تھی آپ سے اِس لیے کال کی۔ماہا کمرے میں بیٹھی کتاب پڑھ رہی تھی جب سیل فون پہ پروفیسر منان کی کال آئی تو اُس کو کجھ تعجب ہوا آج اُس کو مایوں میں بیٹھے ساتواں دن تھا اور اِن دنوں میں پہلی دفع منان کی کال آئی تھی۔
جی کہے میں سن رہی ہوں۔ماہا نے کتاب بند کرکے کہا۔
آپ مایوں سے اُٹھ جائے میں آپ سے شادی نہیں کرسکتا۔پروفیسر منان دھیمی آواز میں بولا ماہا کو نہ کوئی دُکھ ہوا نہ افسوس نہ حیرانی بس چہرے پہ طنزیہ مسکراہٹ آگئ۔
تو کیا آپ نے مجھ سے بدلا لیا؟ماہا نے چبھتے لہجے میں پوچھا۔
بدلا کیسا میری مجبوری ہے ورنہ میں کبھی آپ سے شادی کرنے کے لیے انکار نہ کرتا۔پروفیسر منان نے فورن سے وضاحت کی۔.
بدلا اُس بات کا جب آپ نے مجھے پرپوز کیا تو میں نے انکار کردیا۔ماہا نے یاد کروایاں۔
آپ غلط سمجھ رہی ہیں ایسا کجھ نہیں میں نے بس اپنے دل کی بات کی تھی اس کے بعد آپ کا رائٹ تھا جو جیسا آپ جواب دیتی میں ایک میچور مرد ہوں اتنی بات کو اپنی انا کا مسئلہ بناکر بدلا نہیں لیں سکتا دوسری بات کے ہمارا تعلق اُس مذہب سے ہے جو بدلا لینے والے کو بہادر نہیں بزدل کہتا ہے اور الحمد اللہ میں نے ایسا کجھ نہیں کیا اگر اللہ نے چاہا تو آپ کو پتا چل جائے گا میرے انکار کرنے کی وجہ۔منان نے صاف گوئی سے کہا
ہمارا تعلق اُس مذہب سے ہے جو بدلا لینے والے کو بہادر نہیں بزدل کہتا ہے۔
ماہا منان کی ایک بات پہ رُک سی گئ تھی۔
شکریہ اتنی جلدی آپ کو احساس ہوا آپ کو مجھ سے شادی نہیں کرنی۔ماہا اپنی بات کہتی کال کاٹ گئ تھی۔
شاید ڈیڈ کو مایوس کرنے کی سزا ہے۔ماہا کے آنکھ سے آنسو گِر پڑا۔ماہا خود کو کمپوز کرتی کمرے سے باہر نکلتی مہرین کے کمرے میں آئی۔
موم آپ فری ہیں؟ماہا نے سنجیدگی سے کہا۔
ہاں فری ہوں تم آوٴ یہ دیکھو میں نے تمہارے لیے سیٹ بنوایا تھا کیسا ہے۔مہرین نے مسکراکر کہا ماہا نے ایک سرسری نظر بیڈ پہ موجود جیولری پہ ڈالی پھر مہرین کے پاس آئی۔
آپ نے ایک دفع کہا تھا کہ جب کسی لڑکی کی شادی ہوتے ہوتے رہ جاتی ہے اور وہ مایوں میں بیٹھی ہو تو گھر میں سے کوئی انسان اُس لڑکی کے اُپر پانی کا مٹکہ بہادیتے تھے پھر اُس کا مایوں ختم ہوجاتا تھا۔ماہا نے مہرین کو دیکھ کر کہا
کہا تھا میں نے پر تم اِس وقت یہ باتوں کیوں لیکر بیٹھی ہو۔مہرین کو ماہا کی باتیں عجیب لگی۔
مٹکہ تو آپ کے پاس نہیں ہوگا اِس لیے میرے اُپر پانی کی بالٹی گِرادے تاکہ میں مایوں سے اُٹھ جاؤں۔ماہا نے مسکراکر کہا۔
یہ کیا بول رہی ہو اندازہ ہے تمہیں۔مہرین نے سخت لہجے میں کہا۔
منان نے کہا میں مایوں سے اُٹھ جاؤں مجھ سے شادی نہیں کرے گا وجہ اللہ نے چاہا تو مجھے پتا لگ جائے گی آپ جلدی سے میرا مایوں ختم کریں تاکہ میں اِس ڈریس سے خود کو آزاد کروں۔ماہا آرام سے کہتی کمرے سے نکل گئ مہرین نے اپنا سر پکڑلیا۔




میں بہت شرمندہ ہوں فرزام سچ پوچھو تو میرا دل چاہتا ہے ڈوب کے مروں۔زرجان چار دنوں میں ہر روز فرزام سے ملنے آتا تھا مگر فرزام ہمیشہ خاموش رہتا تھا آج جب فرزام کی حالت بہتر ہوئی تو زرجان نے افسوس کا اظہار کیا۔
تم کیوں شرمندہ ہورہے ہو خودکشی کونسا اس نے تمہاری وجہ کی ہے کی ہوگی پر بات کجھ اور ہے جس سے ابھی تمہارا ناواقف ہونا بہتر ہے۔فرزام سپاٹ انداز میں بولا تو زرجان کے ماتھے پہ ناسمجھی کی لکیریں اُبھری چار دنوں سے وہ خود سے نظریں ملانے کے قابل نہیں تھا رات کو عروہ کا چہرہ اُس کو سکون سے سونے نہیں دیتا تھا اس کی موت کا ذمیدار وہ خود کو سمجھتا تھا اور اب فرزام کہہ رہا تھا اُس کی وجہ سے کجھ نہیں ہوا اِس بات پہ جہاں اُس کو سکون آیا تھا پریشانی بھی ہوئی کے پھر اور کیا بات ہے دل میں افسوس بھی تھا عروہ کی موت کا مگر جو وہ چاہتی تھی زرجان وہ چاہ کر بھی نہیں کرسکتا تھا کجھ چیزوں میں انسان کا اختیار نہیں ہوتا اُسی طرح زرجان بھی ماہا کے عشق کے آگے بے بس تھا۔
کونسی وجہ مجھے معلوم ہونی چاہیے ایسی کیا بات ہے جو تم چھپارہے ہو؟زرجان نے سنجیدگی سے پوچھا۔
وقت آنے دو پھر۔فرزام نے ٹالنے والے انداز میں کہا۔





میں بات کرتا ہوں ایسے کیسے انکار کردیا اب انہوں نے مذاق سمجھا ہوا ہے کیا۔مہرین نے جیسے ہی ریان کو ساری بات سے آگاہ کیا تب سے اُس کا غصے سے بُرا حال ہوگیا تھا مہرین پریشان ہوگئ تھی آج سے پہلے اُس نے کبھی ریان کو اتنے غصے میں نہیں دیکھا تھا۔
بات کرنے کا مطلب اپنی بیٹی کو ان پہ زبردستی مسلط کرنا اور میری بیٹی گئ گُزری نہیں جو ہم ایسا کریں۔مہرین نے انکار کرتے کہا.
تمہاری وجہ سے پہلے میں نے میر کو انکار کیا تب بھی تمہارا یہ جُملا تھا اور اب جب تم لوگوں کی پسند کا لڑکا عین وقت پہ اناکر کررہا ہے تب بھی تم ایسے بول رہی ہو۔ریان نے سخت لہجے میں کہا۔
دیکھو ریان انہوں نے انکار کیا ہے بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں میں ماہا کو مایوں سے اُٹھارہی ہو۔مہرین کہتی کمرے سے جانے لگی۔
معاملے بات کرنے سے حل ہوتے ہیں۔ریان نے اس کو جاتا دیکھا تو کہا اُس کی بات سن کر مہرین پلٹ کر واپس ریان کی طرف آئی۔
بیشک معاملے باتوں سے جس طرف خراب ہوتے ہیں اُس طرح ٹھیک بھی مگر منان نے خود یہ بات ماہا سے کہی ہے اب ماہا ساری زندگی کنواری رہے گی پر منان سے کبھی شادی نہیں کریں اِس لیے بہتر ہے تم یا میں بات نہیں کریں۔مہرین نے سنجیدگی سے کہا۔
اگر ایسا ہے تو ٹھیک تم ماہا پہ پانی نہیں گراؤ گی۔ریان سپاٹ لہجے میں بولا
ایسا کرنا ضروری ہے ورنہ اُس کا مایوں ختم نہیں ہوگا۔مہرین نے سمجھانا چاہا۔
میں نے تم لوگوں کی بات مانی اس کا نتیجہ دیکھ لیا اب جو میں کہوں گا اور کروں گا تمہیں یا ماہا کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے ماہا سے کہہ دو جہاں ایک ہفتہ بعد اس کی شادی تھی اب دو دن بعد اس کا نکاح ہے زر کے ساتھ خود کو مینٹلی طور پہ تیار کردیں اگر اِس بار میری بات نہیں مانی تو میں سمجھوں گا اِس گھر میں میری کوئی حیثیت نہیں۔ریان نے سنجیدہ ہوکر کہا تو مہرین نے حیرت سے اُس کی طرف دیکھا۔
لوگ کیا کہیں گے
کتوں کا کام ہوتا ہے بھونکنا وہ جب بھونکتے ہیں تو انسان پاس سے گُزر جاتے ہیں ناکہ اس کا بونکنا سننے کے لیے رُک جاتے ہیں یا جواب دیتے ہیں اُس طرح لوگوں کا کام باتیں کرنا ہوتا ہے ہمیں چاہیے ان کو نظرانداز کریں دوسروں کی وجہ سے ہم اپنے فیصلے کیوں بدلے۔مہرین کی بات ریان نے بیچ میں ہی کاٹ دی دروازے کے پاس ماہا نے گہری سانس لی اور اندر داخل ہوئی مہرین اور ریان نے اس کو آتا دیکھا تو خاموش ہوگئے۔
مجھے آپ کا ہر فیصل منظور ہے ڈیڈ۔ماہا کے بے تاثر لہجے میں کہی بات سن کر ریان نے کے چہرے پہ مسکراہٹ آگئ تھی ماہا ریان کا مسکراتا چہرہ دیکھ کر آگے آکر اپنا سر اس کے سینے پہ رکھا۔
ایم سوری ڈیڈ میں نے پہلے آپ کی بات پہ اختلاف کیا عمر کا بہانہ کرکے جب کے مجھے یہ سوچنا چاہیے تھا آپ میرے باپ ہیں اگر آپ ایسا چاہتے ہیں تو اِس میں میرے لیے بہتر ہوگی مگر میں نے آپ کی پسند کو پسند کرنے کے بجائے خود کی پسند کو ترجیح دی۔ماہا کی آنکھ سے آنسو گِرکر فرش پہ پڑا۔
کوئی بات نہیں تم نے جو کیا اپنے حساب سے تم بھی ٹھیک تھی۔ریان نے اس کے ماتھے پہ بوسہ دیتے کہا۔
خدا کریں بس تم خوش رہو۔مہرین گہری سانس لیکر بولی۔
اپنے سارے خدشات دور کردو زرجان میر بہت چاہتا ہے ماہا کو دیکھنا بہت خوش رکھے گا ماہا کو۔ریان نے دونوں کو تسلی کروائی جس پہ مہرین نے تو آمین کہا پر ماہا خاموش رہی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ سب کیا سن رہی ہوں میں؟ملیحہ ماہا کے کمرے میں آتی حیران لہجے میں بولی۔
تمہارے کان سنا تم نے پتا بھی تم ہوگا۔ماہا نے اپنے ہاتھ سر پہ رکھ کر ہلکہ ہلکہ دباکر کہا
زیادہ مسخراپن نہیں کرو۔ملیحہ نے گھور کر کہا
میرے سر میں بہت پین ہورہا ہے اِس لیے فلحال بحث نہیں کرو۔ماہا نے منت کرنے والے انداز میں کہا وہ ابھی تک خود کو زرجان کے ساتھ نکاح پہ تیار نہیں کرپائی تھی ریان سے تو کہہ دیا تھا اب سوچ سوچ کر اس کے سر میں درد ہوگیا تھا کے کیسے وہ اپنے سے چھوٹے عمر کے لڑکے کے ساتھ شادی کریں گی۔
پہلے بتاتی نہ میں دوائی دیتی ہوں انشااللہ آرام ملے گا۔ملیحہ نے فکرمند ہوکر جس پہ ماہا نے بس سرہلانے پہ اکتفا کیا۔




مبارک ہو۔شاہ میر مہرماہ کے کان کے پاس آکر بولا
کس چیز کی مبارکباد۔ماہا ناسمجھی سے پوچھنے لگی۔
آپ کے بیٹے کی دعائیں قبول ہوگئ پرسو دونوں کا نکاح ہے۔شاہ میر نے مسکراکر کہا مہرماہ بے یقین نظروں سے شاہ میر کو دیکھا۔
واقعی شاہ پر کیسے۔مہرماہ متجسس ہوکر بولی
زیادہ تو ریان نے مجھے نہیں بتایا بس یوں سمجھ لوں معجزہ ہوگیا۔شاہ میر نے کہا
زر کو بتایا۔مہرماہ شکر ادا کرتی شاہ میر سے بولی۔
پہلے آپ کو بتایا سوچا ساتھ میں چلتے ہیں۔شاہ میر نے جواب دیا۔
کمرے میں ہے اپنے چلو۔مہرماہ خوشی سے بولتی شاہ میر کا پکڑتی زرجان کے کمرے میں آئی۔
مما ڈیڈ کوئی کام تھا۔زرجان نہاکر باہر آیا تو شاہ میر اور مہرماہ کو دیکھ کر پوچھا۔
تمہارے لیے خوشخبری ہے۔مہرماہ نے مسکراکر کہا
ریئلی بتائے پھر۔زرجان نے بے صبری سے پوچھا
ایک دن بعد نکاح ہے تمہارا ماہا کے ساتھ۔شاہ میر مسکراہٹ دباتا زرجان کا چہرہ دیکھ کر بولا
میرا نکاح وہ بھی ماہا کے ساتھ۔زرجان اپنے تیز دھڑکتے دل کو قابو پاتا اٹک اٹک کر بولا اُس کو لگ رہا تھا جیسے یہ کوئی خواب ہو۔
بلکل تمہارا اور ماہا کا۔شاہ میر زرجان کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر بولا تو زرجان اُس کے گلے لگ گیا
میں بہت خوش ہوں ڈیڈ اتنا کے بتا نہیں سکتا۔زرجان اپنی آنکھوں میں آنے والی نمی کو اندر دھکیل کر بولا۔
میں سمجھ سکتا ہوں کہا تھا نہ دعاؤں میں طاقت ہوتی ہے نیت سچی ہو تو خدا کبھی دعا رد نہیں کرتا۔شاہ میر نے مسکراکر اس کی پیٹھ تھپتھپاکر کہا۔
اِن اللہٙ کُلِّ شٙیْءٍ قٙدِیْرُٗ”
بے شک اللہ ہر چیز پہ قادر ہے”
زرجان نے آیت پڑھی تو مہرماہ کو وہ وقت یاد آیا جب شاہ میر نے بھی یہی کہا تھا سب یاد آکر اُس کے چہرے پہ مسکراہٹ آگئ تھی۔






زرجان آج بہت خوش تھا جس وجہ سے اُس نے آج فرزام اور احتشام کو ٹریٹ دی تھی زرجان کو لگا تھا احتشام حیران ہوگا جب وہ اُس کو اپنی اور ماہا کی شادی کا بتائے گا تو پر اُس کا نارمل ری ایکٹ تھا جس پہ زرجان نے کندھے اُچکادیئے تھے۔
آج تو میں دل کھول کر تمہارے پئسے خرچ کروں گا۔کھانے آرڈر کرتے وقت احتشام نے کہا فرزام جب کی خاموش تھا۔
مرضی ہے۔زرجان نے آرام سے کہا
آنٹی کی طبیعت کیسی ہے؟زرجان نے فرزام سے پوچھا عروہ کے مرنے کے بعد وہ بیمار رہنے لگی تھی جس وجہ سے فرزام نے اُن کو ہسپتال ایڈمٹ کروایا تھا تاکہ ان کا علاج ٹھیک سے ہو۔
دعا کرو ٹھیک ہوجائے میرا ان کے سوا اور کوئی نہیں ڈیڈ کو کھودیا بہن کو کھودیا اب ماں کو کھونے کی ہمت نہیں بچی۔فرزام بے تاثر لہجے میں بولا تو ماحول میں خاموشی چھاگئ۔
اللہ ان کو لمبی اور تندرستی والی زندگی دے گا تم پریشان نہ ہو۔زرجان نے اُس کو تسلی کروائی
آمین میں آتا ہوں۔فرزام سنجیدگی سے کہتا اُٹھ گیا۔
تمہیں پتا ہے تمہیں اگر تمہاری محبت مل رہی ہے تو اُس میں سب سے بڑا ہاتھ فرزام کا ہے۔احتشام نے سنجیدگی سے کہا
مطلب۔زرجان حیرت سے بولا
فرزام نے مجھے بتایا تھا تم میم ماہا کو چاہنے لگے ہو جس پہ مجھے کافی شاک لگا خیر پھر تمہاری حالت تم اتنے اُداس تھے تو ہم نے ایک فیصلہ کیا۔احتشام اتنا کہہ کر خاموش ہوگیا۔
کونسا فیصلہ۔زرجان بے قرار ہوا۔
ہم دونوں مل کر پروفیسر منان کے آفس گئے تھے۔احتشام کی بات پہ زرجان کی بلو آنکھیں حیرت سے پھیل گئ احتشام ہلکہ سا مسکرایا پھر بتانا شروع کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وی آر کم اِن سر۔پروفیسر منان اپنے آفس میں بیٹھا تھا جب فرزام اور احتشام نے ایک ساتھ اندر آنے کی اجازت چاہی۔
یس کم اِن۔پروفیسر منان نے اجازت دی تو وہ اندر آئے۔
سر آپ سے ایک درخواست کرنی تھی اِس وقت آپ یہ بھول جائے ہم یونیورسٹی میں ہیں اور آپ ہمارے اُستاد اور ہم شاگرد۔فرزام نے گہری سانس بھر کر کہا۔
ایسی کیا درخواست ہے؟پروفیسر منان ناسمجھی سے بولا۔
سر آپ غصہ مت ہوئیے گا۔احتشام نے ڈرتے ہوئے کہا۔
نہیں ہوتا میں تم دونوں ایزی ہوکر ساری بات کرو۔پروفیسر منان مسکراکر بولے تو ان کو کجھ ڈھارس ملی۔
سر آپ میم ماہا سے شادی مت کریں۔فرزام نے آنکھیں بند کیے ایک سانس میں کہا
یہ کیا بکواس ہے تم دونوں میرے پرسنلز میں گھس رہے ہو۔پروفیسر منان سخت لہجے میں بولے۔
سر پلیز زرجان میر بہت چاہتا ہے اگر میم ماہا کی شادی اس کے بجائے کسی اور سے ہوئی تو وہ یا تو مرجائے گا یا اپنی زندگی برباد کردیں گا۔احتشام نے التجا کی۔
زرجان میر؟پروفیسر منان نے بے یقینی سے پوچھا
جی سر ان کے بیچ فیملی ٹرمز بھی ہیں جب سے آپ دونوں کا رشتہ طے ہوا ہے تب سے زر نے یونی آنا کم کردیا ہے آپ اِن دنوں میں اُس کی پڑھائی کا رکارڈ دیکھے گے نہ اُس کی پریزیٹیشن اس کا اسائمنٹ یا کجھ بھی جہاں سب سے پہلے اس کے ہائی مارکس ہوتے تھے اب بہت کم دیکھنے کو ملے گے۔فرزام نے کہا تو پروفیسر منان کو وہ دن یاد آیا جب وہ رشتے کی بات کررہے تھے تو زرجان اچانک اُٹھ کر چلاگیا تھا۔
تم لوگ جاسکتے ہو اب۔پروفیسر منان نے کہا تو دونوں کا چہرہ تاریک ہوگیا۔
وہ جب باہر نکلے تو دروازے پاس عروہ منہ پہ ہاتھ رکھ کر کھڑی تھی چہرہ پورا آنسو سے تر تھا جس کا مطلب صاف تھا اُس نے ساری باتیں سن لی تھی وہ تو یہاں پروفیسر منان سے لیکچر کے بارے میں پوچھنے آئی تھی پر اندر سے آتی آواز سن کر وہ وہی رُک گئ تھی اس کو زرجان کا ماہا سے محبت کرنا حیران نہیں کرگیا تھا بلکہ اپنے بھائی کا اس کے ساتھ ایسا کرنا توڑ کے رکھ دیا تھا۔
آپ نے اچھا نہیں کیا بھائی۔عروہ شکوہ کرتی نظروں سے فرزام کو دیکھتی وہاں سے چلی گئ فرزام پریشان سے اُس کے پیچھے جانے لگا پر احتشام نے ہاتھ پکڑ کر روک دیا۔
ابھی اُس کو اکیلے رہنے دو۔احتشام نے کہا
نادان ہے وہ کجھ غلط نہ کردیں خود کے ساتھ۔فرزام پریشانی سے بالوں میں ہاتھ پھیر کر بولا
نہیں کریں گی اُس کو اب سمجھ جانا چاہیے اُس کی محبت یکطرفہ ہے۔احتشام نے سمجھانے والے انداز میں کہا تو فرزام نے سرہلانے پہ اکتفا کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
احتشام ساری بات کرکے خاموش ہوگیا تھا زرجان ابھی تک بے یقین سا تھا۔
فرزام اگر تمہیں نہ بتائے تو تم بھی مت بتانا کے تم سب جانتے ہو۔احتشام نے خود ہی بات شروع کی۔
ہمم۔زرجان نے بس اتنا کہا۔







وہ جو مل جائے
تو میں
بھی کہوں
مل گیا
مجھے میری تہجد کی
دعاٶں کا
صلہ
جب سے اُس کو ماہا کی طبیعت خراب ہونے کا پتا چلا تھا ایک منٹ بھی اُس کو چین نہیں آیا تھا اب وہ اُس کے کمرے میں آیا تھا مگر اُس کی بند آنکھیں دیکھ کر بے چین ہوا تھا بیڈ پہ آکر اس نے اپنا ہاتھ اس کے ماتھے پہ رکھ کر ٹیمپریچر چیک کرنا چاہا مگر اُس نے جیسے ہی اپنا ہاتھ آگے بڑھایا تبھی ماہا کی آنکھیں کھول گئیں جس سے اُس نے اپنا ہاتھ سرعت سے واپس کھینچ کر اپنا دھیان دوسری طرف کیا۔
تم کیوں میرے سر پہ کھڑے ہو؟ماہا کا دماغ گھوم گیا اُس کو اپنے کمرے میں دیکھ کر۔
کہاں میں تو ماربل کے فریش پہ کھڑا ہوں۔اپنے پیروں کو دیکھ کر پھر ماہا کو دیکھ کر بڑی معصومیت سے جواب دیا گیا۔
زیادہ ہوشیار بننے کی ضرورت نہیں۔ماہا کہتی سیدھی ہوکر بیٹھی۔
آپ کی طبعیت خراب ہونے کا پتا چلا تو سوچا دیکھ لوں۔زرجان نے مسکراکر بتایا
کھڑکی تو لاک ہے۔ماہا نے کھڑکی کی طرف دیکھ کر کہا
اِس دفع ڈائریکٹ کمرے کے دروازے سے آیا ہوں۔زرجان نے فخر سے بتایا۔
بڑا معرکہ مار لیا۔ماہا نے طنزیہ کیا۔
معرکہ تو کل آپ سے نکاح کرنے کے بعد ماروں گا۔زرجان نے آنکھ ونک کرکے کہا تو ماہا سٹپٹاگئ۔
شرم کرو۔ماہا نے اپنی خجلت مٹانے کے غرض سے کہا۔
نہیں آتی آپ مجھے اپنے ڈمپل شو کروائے بڑی چاہت اِن کو دیکھنے کی۔زرجان نے کسی بچے کی طرح کہا
زیادہ فری مت ہو۔ماہا کو ہنسی آئی جس کو ضبط کرتی ہوئی بولی۔
فری کہا ہوا میں نے ایسے ہی کہا۔زرجان کا منہ لٹک گیا۔
اچھا اب جاوٴ باہر۔ماہا نے اس کو باہر بھیجنے چاہا۔
مجھے آپ سے باتیں کرنی ہے۔زرجان نے دانتوں کی نمائش کرتے کہا۔
پر مجھے نہیں کرنی۔ماہا نے ہڑی جھنڈی دیکھائی۔
آپ کو کرنے کا کون کہہ رہا ہے آپ بس میری سن لیجئے گا۔زرجان نے آرام سے مشورہ دیا۔
اگر تم نہیں گئے نہ تو میں نکاح سے انکار کرودں گی۔ماہا نے دھمکی دی۔
میں آپ کو اغوا کرلوں گا۔زرجان مزے سے بولا
بہت بولنے لگے ہو مجھے آرام کرنا ہے۔ماہا نے تھک ہار کر کہا تو زرجان کو اُس کی بات ماننی پڑی۔
اچھا ابھی جاتا ہوں۔زرجان دروازے کے پاس آیا پھر رُک کر ماہا کی طرف دیکھا۔
یہ سترہ اٹھارہ سال کا بچہ اب بڑا ہوگیا ہے اِس لیے کبھی کبھی آپ کو بھی اِس کی بات ماننی پڑے گی۔زرجان کہہ کر رُکا نہیں تھا ماہا پہلے تو زرجان کی بات سمجھنے کی کوشش کرنے لگی تھوڑی دیر بعد جب سمجھ آیا تو اُس کے چہرے پہ مسکراہٹ آگئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج کیسے کال کرلی؟مرجان نے سنجیدگی سے پوچھا
سوچا تمہیں معاف کرلوں گی رشتہ بدل گیا ہے مزید بدل جائے گا۔ماہا نے آرام سے کہا
تم سچ کہہ رہی ہو۔مرجان خوشی سے بولا
ہممم سوچا تھا بدلا لوں گی تم سے پھر کسی نے مجھ سے کہا بدلا لینا بزدلوں کا کام ہے جو بزدلی تم نے دیکھائی اُس کا مظاہرہ میں کیوں کروں۔ماہا نے کہا تو مرجان شرمندہ ہوگیا۔
سوری
سوری کی کوئی ضرورت نہیں اب کجھ باتیں راز رہیں تو بہتر ہیں میں اگر ملیحہ کو تمہارا سچ بتاٶں گے تو تمہاری محبت پہ میری محبت حاوی آجائے گی اِس لیے میں ایسا کجھ نہیں کروں گی کیونکہ مجھے میری بہن کی خوشی عزیز ہے۔ماہا نے سنجیدگی سے کہا
تم کسی کو نہیں کہوگی کجھ؟مرجان نے تصدیق چاہی۔
کہا نہ کجھ باتیں راز رہے تو بہتر ہیں تم نے جو کیا وہ دس سال پہلے کیا تھا میں اب اس کو نہیں دوہراٶ گی۔ماہا نے جواب دیا۔
شکریہ تم نہیں جانتی آج میں خود کو کتنا پرسکون محسوس کررہا ہوں۔مرجان گہری سانس بھر کر کہا تب ماہا نے کال کاٹ دی۔






کجھ وقت پہلے ہی ماہا ریان سے ماہا زرجان میر بن گئ تھی رخصتی زرجان کی پڑھائی کے بعد طے پائی تھی جس پہ سب خوش تھے سوائے زرجان کے مگر وہ رخصتی نہ ہونے کے غم پہ موجود وقت برباد نہیں کرنا چاہتا تھا اِس لیے خوشی خوشی سب سے مبارکباد وصول کررہا تھا زرجان نے ڈارک بلیو کلر کے شلوار قمیض پہنا تھا جس سے وہ بہت ہینڈسم اور ڈیشنگ لگ رہا تھا ماہا بھی آف وائٹ میکسی میں حد سے زیادہ خوبصورت لگ رہی تھی ہرکوئی ان کی جوڑی کی تعریف کررہا تھا۔
نکاح مبارک ہو۔زرجان آنکھوں میں چمک لیے ماہا سے بولا۔
خیر مبارک۔ماہا نے آہستہ آواز میں کہا۔
بہت خوبصورت لگ رہی ہیں آپ۔زرجان نے پھر کہا
شکریہ پر تم بھی بہت پیارے لگ رہے ہو۔ماہا نے کہا تو زرجان نے اپنے دل پہ ہاتھ رکھا جس پہ ماہا نے اپنی مسکراہٹ چھپائی۔





شاہ میر اور مہرماہ سکندر خان کے گھر کے لان میں بیٹھے پُرانی یادیں تازہ کررہے تھے یہ جگہ شاہ میر کی پسندیدہ جگہ تھی بقول اُس کے اُس نے یہاں مہرماہ کو پہلی دفع دیکھا تھا۔
مجھے لگتا ہے اب یہ روایت میں شامل ہوگا۔شاہ میر کے بازوں پہ سررکھے مہرماہ نے کہا۔
کونسی روایت؟شاہ میر نے پوچھا۔
جیسے تم نے چار سال بڑی عمر لڑکی سے شادی اُس طرح تمہارے بیٹے نے بھی یہی کیا اب آگے جاکر اُس کا بیٹا بھی یہی کریں گا۔مہرماہ نے بڑی سنجیدگی سے کہا شاہ میر کا قہقہقہ بلند ہوا۔
سیریسلی ماہ آپ کو یہ لگتا ہے؟شاہ میر اپنی ہنسی پہ قابو پاتا بولا۔
اور نہیں تو کیا۔مہرماہ نے منہ کے زاویے بگاڑ کر کہا۔
کجھ دنوں بعد آرہے ہیں ویر اور حیات میں نے اب حیات کو پورا مہینہ اپنے ساتھ رکھنا ہے۔شاہ میر نے اپنے خیالات سے آگاہ کیا تو مہرماہ نے اپنا سر اُٹھا کر گھور کر شاہ میر کو دیکھا
پاس میں گھر ہے ایک مہینہ رکھوگے تو ویر کو کا کیا ہوگا۔
کیا ہی کیا ہوگا اُس نے جو میری بیٹی کو اتنے وقت تک قید کیا ہے اُس حساب سے ایک مہینہ کجھ نہیں۔شاہ میر آرام سے بولا
اور جو تم نے مجھے قید کیا ہے۔مہرماہ نے کہا
اور جو آپ نے بارہ سال کے بچے کو اپنے عشق میں قید کیا تھا اُس کا کیا۔شاہ میر مہرماہ کی بات پہ دوبدو بولا
ایک تو میں تمہاری حاضر جوابی سے بہت تنگ ہوں۔مہرماہ اپنا سر دوبارہ شاہ میر کے بازوں پہ رکھ کر کہا۔
بس اب کیا کرسکتا ہوں میں۔شاہ میر بے چارگی سے بولا۔
شاہ۔مہرماہ نے پیار سے اُس کا نام کیا۔
جی کہے۔شاہ میر دل وجان سے فدا ہوتا بولا
میں نے سوچا ہے اب میں تمہیں تم نہیں بلکہ آپ کہوں گی۔مہرماہ کی بات پہ شاہ میر کے گلے میں کھانسی کا پھندا اٹکا۔
ماہ اب اِس عمر میں میرا ہارٹ تو فیل نہیں کروائے۔شاہ میر اپنا سینہ سہلاتا بولا۔
ایسا بھی کیا کہہ دیا میں نے تم میرا مطلب آپ نے اتنا کجھ کیا ہے میرے لیے اور کرتے ہو میں اتنا تو کرسکتی ہوں نہ۔مہرماہ نے مسکراکر کہا۔
آپ کی مرضی جو کہے۔شاہ میر اس کے بالوں پہ بوسہ دیتا بولا تو مہرماہ سکون سے آنکھیں بند کرلی۔







زرجان بہت منت کرتے ماہا کو سمندر کے پاس لیں آیا تھا وہ دونوں آہستہ آہستہ گیلی ریت پہ چل رہے تھے ہوا سے ماہا کے بال اُڑتے اُس کے چہرے پہ پڑرہے تھے جن کو وہ پیچھے کررہی تھی ماہا کے چہرے پہ سکون تھا تو زرجان کی آنکھوں میں الگ سی چمک تھی جب کی چہرے کے رنگ ہی کجھ اور تھے۔
اب تو ڈمپل شو کروائے۔زرجان ماہا کو اپنے روبرو کھڑا کرتا بولا تو ماہا ہنس دی زرجان مبہوت سے اس کے ڈمپلز دیکھنے لگا۔
آپ بہت بڑی اداکار ہیں کیسے یونی کے فرسٹ ڈے پہ ایسے ظاہر کیا جیسے مجھے پہنچاتی ہی نہیں۔زرجان نے ماہا کے چہرے پہ ہاتھ رکھ کر کہا۔
تو کونسا اچھی جان پہنچان تھی اتفاقی ملاقات تھی۔ماہا نے کہا
جو بھی میں تو لمحے میں آپ کو پہچان گیا تھا جب کی تب میں اور اب میں فرق تھا۔زرجان نے مسکراکر کہا۔
تمہارا کیا ہی کہنا۔ماہا نفی میں سرہلاتی بولی۔
آپ کو پتا ہے میں یہاں کیوں لایا ہوں آپ کو؟زرجان نے ماہا سے پوچھا۔
نہیں پتا۔ماہا نے لاعلمی ظاہر کی۔
ڈیڈ نے مما سے یہاں اپنی محبت کا اظہار کیا تھا۔زرجان نے بتایا تو ماہا مسکرادی
تو کیا تم بھی کرنے والے ہو۔ماہا کے جاننا چاہا
میں نے کرلیا تھا۔زرجان نے کہا تو ماہا نے منہ بنایا۔
اب زبان میں زنک لگا ہوا ہے کیا۔ماہا نے طنزیہ کیا۔
نہیں تو۔زرجان نے ماہا کا ہاتھ پکڑ کر کہا۔
پھر۔ماہا نے اُس کے سینے پہ ہاتھ رکھ کر کہا۔
پھر یہ کے زرجان میر ماہا زرجان میر سے بے انتہا محبت کرتا ہے شاید محبت سے زیادہ محبت کرتا ہے اور وہ چاہتا ہے ماہا ہمیشہ اُس کے ساتھ رہے کبھی نہ دور جانے کے لیے۔زرجان نے فسوں خیز لہجے میں کہا تو ماہا مطمئن سی اس کے سینے پہ اپنا سر رکھا۔
امید ہے ہمارے درمیان عمر نہیں آئے گی۔ماہا نے آہستہ آواز میں کہا۔
کبھی بھی نہیں آئے گی ہمارے درمیان بس محبت ہوگی۔زرجان ماہا کے گرد اپنا مضبوط حصار قائم کرتا بولا۔
