Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Qaid Season 2 by Rimsha Hussain

ویسے اگر حور سے زین شادی کرنا چاہتا ہے تو اِس میں کوئی قباحت نہیں حور بھی زین کو پسند کرتی ہے۔ سکندر خان نے سارہ بیگم سے کہا جو کافی پریشان معلوم ہورہی تھی۔
بات قباحت کی نہیں آپ خود سوچے پہلے نادیہ کو حور اور زیب کے رشتے پہ کوئی اعتراض نہیں تھا ہم جب باقاعدہ رشتہ لیکر گئے تب بھی سب ٹھیک تھا ہم نے زیب سے بھی اس رضامندی جانی جس پہ وہ راضی تھا اب اگر یہ رشتہ زیب سے نہیں زین سے ہوگا تو زیب کے دماغ پہ کیا اثر پرے گا۔ سارہ بیگم نے ان کا دھیان زیب کی جانب کیا۔
زیب کو حور میں دلچسپی نہیں تھی وہ بس ہمارے وجہ سے مان گیا تھا کیونکہ تم مہرو کی طرف سے پریشان تھی وہ اپنی طرف سے تمہیں پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا۔سکندر خان نے کہا۔
اچھا پر یہ نادیہ کی نند بھی حد کرتی ہے جب دل کرتا ہے رشتہ جوڑ لیتی ہے اور جب دل چاہتا ہے ختم کردیتی ہے ورنہ آپ خود سوچے حور اور زین کا رشتہ تو پہلے ہوچکا تھا نہ مہرو اور شہیر کی بات بعد میں ہوئی ایسے میں اگر مہرو کی شادی شہیر سے نہ ہوسکی تو اِس میں انہوں نے حور کا اور زین کا رشتہ کیوں ختم کردیا تھا اور اب پھر سے جوڑنا چاہتی ہیں یہ کوئی مذاق کی بات تو نہیں۔سارہ بیگم سخت ہوئی تھی۔
اللہ کے ہر کام میں کوئی نہ کوئی مصلحت ہوتی ہے پر ہم انسان وہ سمجھ نہیں پاتے زیب لڑکا ہے تم شادی کے معاملے میں اس کی پرواہ مت کرو اُس کو اگر کوئی پسند آئی یا تمہیں تو زیب کے فرض سے بھی ہم سبکدوش ہوجائے گے تم بس اللہ سے اچھی امید رکھو۔ سکندر خان نے ان کا غصہ ٹھنڈا کرنا چاہا جس میں سارہ بیگم نے سرہلانے پہ اکتفا کیا۔
کیا باتیں ہورہی ہیں میرے بغیر۔شاہ زیب اپنے آفس جانے کے لیے تیار ہوتا باہر آکر مسکراکر ان سے پوچھنے لگا۔
بس تمہارے ماں کو تمہاری شادی کی جلدی ہے۔ سکندر خان نے بتایا۔
گڈ امی جان لگی رہیں۔ شاہ زیب شوخ لہجے میں بولا سارہ بیگم نے گھور کر شاہ زیب کو دیکھا جو ان کی بات کو مذاق میں لے رہا تھا۔
تمہاری نظر میں کوئی لڑکی ہے تو بتادو ورنہ تمہارے ماں نے پریشان ہوکر اپنے بال سفید کردینے ہیں۔سکندر خان نے شرارت سے سارہ بیگم کی طرف دیکھ کر شاہ زیب سے بولے۔
میری نظر میں کہاں کوئی میں تو بہت معصوم سا بندہ ہوں میں کیوں بھلا لڑکیوں کو اپنی نظر میں رکھوں گا۔ شاہ زیب نے اپنی شرافت کے قصے بتانے شروع کیے۔
لڑکیوں کو نظر میں رکھنے کی ضرورت ہے بھی نہیں بس ایک لڑکی بہت ہوگی تمہارے لیے۔ سارہ بیگم نے جتاتے لہجے میں کہا۔
ہاں بیشک امی جان میں کونسا چار شادیاں کرکے بچے پیدا کرکے کرکیٹ ٹیم بنانی ہے۔شاہ زیب دانتوں کی نمائش کرتا ہوا بولا جس پہ سارہ بیگم نے اپنا سر پکڑلیا پر سکندر خان ہنس پڑے۔
سہی تو کہہ رہا ہے میرا بیٹا۔ سکندر خان نے شاہ زیب کا دفاع کیا جس پہ شاہ زیب کی گردن اکڑگئ۔
اب تمہیں آفس جانے چاہیے۔سارہ بیگم نے شاہ زیب کو آنکھیں دیکھاتے ہوئے کہا۔
جارہا ہوں میں آفس اور میں بتادوں میں نے کوئی شادی وادی نہیں کرنی میری بیوی کے سامنے بھی آپ نے ایسے آنکھیں دیکھانی ہے پھر کیا ایمپریشن پڑے گا میری بیوی کے سامنے میرا۔ شاہ زیب منہ کے زاویے بگاڑتا ہوا بولا۔
اففف شاہ زیب مہرو کی کم عقلی اب تم میں ٹرانسفر ہوگئ ہے۔ سارہ بیگم کوفت سے بولی۔
بیگم تھوڑا ہاتھ ہلکا رکھو میری مہرو جیسی سمجھدار بیٹی پوری خاندان میں نہیں ہوگی۔ سکندر خان نے اب فورن سے مہرماہ کی طرفداری کی۔
جی جی آپ کی بیٹی نے اپنی سمجھداری کے بل بوتے پہ تو کشمیر آزاد کروانہ ہے۔ سکندر خان کی بات پہ شاہ زیب منہ بسور کر بڑبڑایا۔
میں نہیں کہتی کجھ ۔سارہ بیگم غصے سے کہتی وہاں سے چلی گئ۔
کرلیا ناراض میری ماں کو اب مناتے رہیے گا۔ شاہ زیب مزے سے کہتا باہر کی طرف لپکا حیدر خان بھی مسکراتے سارہ بیگم کو منانے چلے گئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *