Ishq Qaid Season 2 by Rimsha Hussain NovelR50563 Ishq Qaid Season 2 (Episode 08)
Rate this Novel
Ishq Qaid Season 2 (Episode 08)
Ishq Qaid Season 2 by Rimsha Hussain
شاہ زیب آفس آکر بے چینی سے ثانیہ کا اتنظار کررہا تھا پر انتظار آج کافی لمبا ہوگیا تھا یا اس کو لگ رہا تھا یہ شاہ زیب سمجھ نہیں پایا۔
سر مسٹر قادری آپ سے ملنے آئے ہیں۔مینجر کیبن کا دروازہ نوک کرتا شاہ زیب سے بولا مینجر کی بات پہ شاہ زیب نے گہری سانس لی وہ بھول گیا تھا کہ آج اس کی میٹنگ تھی قادر عرفان کے ساتھ۔
میں آتا ہوں تم سب کو میٹنگ روم میں آنے کا کہو۔ شاہ زیب نے کہا
جی سر پر مس ثانیہ افتخار ابھی نہیں آئی۔ مینجر نے بتایا
کوئی بات نہیں تم باقیوں سے کہہ دو۔ شاہ زیب نے کہا اور اپنا کوٹ پہنتا اٹھ کھڑا ہوا تو مینجر بھی اس کی تلقین پہ باہر نکلا۔
تیس منٹ بعد شاہ زیب دوبارہ اپنے کیبن میں آیا تو اس کو ثانیہ کھڑی ہوئی نظر آئی شاہ زیب نے اس کو دیکھا جو آج نیلے کلر کے سادہ سے شلوار قمیض پہنے بہت خوبصورت لگ رہی تھی پر آج اس نے کالی چادر کے بجائے آف وائیٹ کلر کی چادر پہنی ہوئی تھی۔
آج آپ لیٹ آئی ہیں مس ثانیہ افتخار۔شاہ زیب خود اپنی جگہ پہ بیٹھتا ثانیہ کو بھی بیٹھنے کا اشارہ کرتا ہوا بولا
سوری سر آج ٹریفک زیادہ تھی جس سے دیر ہوگئ۔ ثانیہ نے آہستہ آواز میں وضاحت دی۔
آپ کو آنے جانے کا مسئلہ ہے تو آفس کی طرف سے پِک اینڈ ڈراب کی سروس مل سکتی ہے۔ شاپ زیب نے کہا۔
نہیں سر اِس کی کوئی ضرورت نہیں میں وقت پہ آجایا کروں گی۔ ثانیہ نے سہولت سے انکار کیا
آپ سے ایک سوال پوچھنا تھا امید ہے آپ بنا کوئی ری ایکٹ کیے میری بات تحمل سے سنے گی۔ شاہ زیب نے آج بہت وقت بعد ثانیہ کو اپنے دل کی بات سنانے کا فیصلہ کیا۔
جی سر آپ کہے۔ ثانیہ کو تجسس ہوا کیونکہ ان تین ماہ میں شاہ زیب نے کبھی بات کرتے وقت تہمید نہیں باندھی تھی۔
کیا تمہاری منگنی وغیرہ ہوئی ہے کہیں؟ شاہ زین سیدھا مدعے کی بات پہ آیا بنا آپ جناب کا تکلف کیے وہ تم پہ آگیا جب کی ثانیہ کو شاہ زیب کے سوال پہ حیرت کا جھٹکا لگا۔
جواب دو۔ شاہ زیب اس کو خاموش دیکھ کر اپنی بات پہ زور دیتا ہوا بولا۔
نہیں سر۔ ثانیہ بس یہی کہہ پائی۔ شاہ زیب کے چہرے پہ مسکراہٹ آگئ ثانیہ کے جواب پہ
تمہیں کسی سے محبت ہے؟ شاہ زیب نے دوسرا سوال پوچھا اِس بار ثانیہ کا دل چاہا وہ کہہ دیں کہ کیوں وہ اتنے پرسنل سوال پوچھ رہا تھا
پر اس نے بس سر کو نفی میں ہلایا۔
میں اپنے گھروالوں کو تمہاری گھر بھیجنا چاہتا ہوں۔ شاہ زیب نے کہا۔
کیوں سر؟ ثانیہ کے منہ سے بے ساختہ پھسلا
کیا آپ نہیں چاہتی میری فیملی آپ کے گھر آئے۔ شاہ زیب اب سنجیدہ ہوا۔
میرا وہ مطلب تو نہیں تھا۔ ثانیہ منمناکر بولی
میں شادی کرنا چاہتا ہوں تم سے تم انکار نہیں کرسکتی کیونکہ انکار کی وجہ تمہارے پاس نہیں۔شاہ زیب آرام سے چیئر پہ پشت ٹکاکر بولا تو ثانیہ کو اپنے آس پاس دھماکے ہوتے ہوئے محسوس ہوئے۔
شادی۔ ثانیہ کا منہ کُھل گیا۔
جی شادی وہ بھی مجھ سے۔ شاہ زیب اسی کے انداز میں بولا
میں آپ سے کیسے شادی کرسکتی ہوں۔ ثانیہ نے کہا
کیوں نہیں کرسکتی۔ شاہ زیب تیز آواز میں بولا جس سے ثانیہ سہم گئ۔
آپ کے اور میرے اسٹیٹس میں بہت فرق ہے۔ ثانیہ نے کہا
شادی کے لیے یہ کافی نہیں کہ ہم دونوں اشرف المخلوقات ہیں آپ کا یا میرا خلائی مخلوق سے تعلق نہیں۔شاہ زیب نے بڑی سنجیدگی سے غیرسنجیدہ بات کی ثانیہ شاہ زیب کے عجیب مثال پہ بس اس کو دیکھتی رہ گئ۔
دیکھو ثانیہ ایسا کہیں نہیں لکھا کہ جو لڑکا امیر ہو وہ شادی بھی کسی امیر لڑکی سے کریں
میرا تعلق اگر کسی امیر گھرانے سے ہے تو اِس میرا کمال نہیں اور نہ تمہارا چھوٹے گھرانے میں ہونے پہ تمہارا کوئی قصور یہ سب دنیاوی باتیں ہیں میں جہاں رہتا ہوں وہاں ایسے فرق کو نہیں دیکھا جاتا۔ شاہ زیب نے سنجیدگی سے سمجھانا چاہا
مجھے کجھ وقت چاہیے۔ ثانیہ نے اتنا کہا۔
دو دن ہے آرام سے سوچ لو۔ شاہ زیب نے احسان کرنے والے انداز میں کہا۔ ثانیہ کے لیے یہی بہت تھا کہ شاہ زیب نے دو دن بھی سوچنے کے لیے دیئے تھے۔














امی آپ سے کجھ بات کرنی ہے مجھے۔ سالار نادیہ بیگم کے پاس آتا ہوا بولا جو انابیہ کے بالوں میں مساج کررہی تھی۔
کرو بات۔ نادیہ بیگم نے اجازت دی۔
بیا تم باہر جاٶ۔سالار نے انابیہ سے کہا
یہ کیوں جائے سالار بڑی مشکل سے ہاتھ آئی ہے بال دیکھو اِس کے چڑیا کا گھونسلہ بن گیا ہے میں تیل کی مالش کررہی ہوں تاکہ اِس بال ٹھیک ہو۔ نادیہ بیگم سالار کی بات پہ بولی۔
بھائی آپ آرام سے بات کریں میں جاتی ہوں۔ انابیہ اپنی جان خلاصی پہ شکر کا سانس بھرتی ہوئی بولی ورنہ کوئی بعید نہیں تھا نادیہ بیگم اس کے اسٹائلش کرلی بالوں کا کیا حال کردیتی۔
چلی گئ۔ نادیہ بیگم کو افسوس ہوا۔
امی آپ میری بات سنے۔ سالار نے کہا۔
کیا بات ہے سالار۔ نادیہ بیگم اس کی طرف متوجہ ہوئی۔
میں شادی کرنا چاہتا ہوں۔ سالار نے کہا۔
اچھی بات ہے میں دیکھتی ہوں تمہارے لیے کوئی اچھی سی لڑکی۔ نادیہ بیگم سالار کی بات پہ مسکراکر بولی۔
لڑکی میں نے دیکھ رکھی ہے آپ بس رشتے کی بات کریں۔ سالار نے فورن سے کہا تو نادیہ بیگم سوالیہ نظروں سے اس کو دیکھنے لگی۔
کون؟ نادیہ بیگم نے پوچھا۔
پری۔ سالار نے بس اتنا کہا۔
پری حیدر بھائی کی بیٹی۔ نادیہ بیگم حیران ہوئی۔ سالار نے سرہلاکر ہاں کہا۔
فکر نہیں کرو میں کرتی ہوں بات بھائی اور بھابھی سے مہرو سے بھی نہیں ملی سوائے ایک دو دفع جو ملی تھی۔ نادیہ بیگم نے سالار کو مطمئن کیا جس پہ۔ سالار نے سکون کا سانس خارج کیا۔












یہ اتنا کیا اٹھا لائے ہو۔ مہرماہ نے حیرانگی سے شاہ میر سے پوچھا جس کے ہاتھوں میں ڈھیر سارے شاپنگ بیگز تھے۔
آپ کے لیے اور ہمارے بچے کے لیے میں شاپنگ کر آیا ہوں۔شاہ میر نے مسکراکر سب بیگز بیڈ پہ مہرماہ کے سامنے رکھے وہ اب اوپر کے بجائے راہداری کے پاس بنے کمرے میں شفٹ ہوگئے تھے
مجھے بھی چلنا تھا ہم ساتھ مل کر شاپنگ کرتے۔ مہرماہ نے ناراض لہجے میں کہا۔
توں اِس میں ناراض کیوں ہورہی ہیں ہم کل جائے گے دوبارہ ویسے بھی بچے کی شاپنگ کونسا ایک دن میں پوری ہوگی بازار کے چکر تو لگتے رہے گیں نہ۔ شاہ میر نے جلدی سے کہا۔
اچھا کیا لائے ہو۔ مہرماہ متجسس ہوئی۔
آپ کے لیے ایزی ڈریسز لایا ہوں جس میں آپ کمفرٹیبل فیل کریں گی اور یہ سلپر بھی آپ پہلے والی سلپر کا استعمال نہیں کریں گی بار بار آپ کا پیر پھسل رہا تھا۔شاہ میر بڑی دادی اماٶں کی طرح مہرماہ کو سمجھانے لگا مہرماہ مسکراکر ڈریسز دیکھنے لگی جو کافی ڈھیلے ڈالیں تھے جس سے اس کو آسانی ہوتی جس مرحلے سے وہ گزر رہی تھی اُس میں ویسے بھی اپنے بڑھتے وزن کی فکر ہورہی تھی کیونکہ اب شاہ میر بار بار اس کے گال کھینچتا تھا جو سرخ اور پہلے سے زیادہ بھرے ہوئے تھے۔
یہ اِن کا پاجامہ تم نے الگ لیا ہے کیا؟ مہرماہ سارے کپڑے دیکھ کر شاہ میر سے بولی۔
ہمم کیوں کی ان کے ساتھ ٹراٶزر تھا مجھے یاد ہے آپ نے پہلا ایسے کوئی ڈریس پہنا تھا جس سے آپ کا پیر اٹک گیا تھا وہ تو اچھا ہوا آپ گِرنے سے بچ گئ اِس لیے میں نے سوچا نارمل پاجامہ شلوار ہو۔ شاہ میر نے کہا تو مہرماہ کو اپنی قسمت پہ رشک آیا تھا بیشک اللہ کی طرف سے شاہ میر اس کے لیے نعمت تھا جس کا وہ جتنا شکر ادا کرتی کم تھا۔
واک کرنے چلیں لان میں؟شاہ میر نے سارا سامان وارڈروب میں رکھ کر مہرماہ سے پوچھا
ہاں ضرور میں تو یہاں کمرے میں بیٹھ بیٹھ کر تنگ آگئ ہوں۔ مہرماہ جھٹ سے شاہ میر کی بات سن کر بولی تو شاہ میر مسکرادیا اور مہرماہ کو اٹھنے میں مدد دینے لگا مہرماہ اپنے اطراف اچھے سے شال لپیٹتی شاہ میر کے ساتھ لان کی طرف آئی۔
آپ کو مجھ سے محبت کب ہوئی؟ شاہ میر آہستہ آہستہ مہرماہ کے ساتھ چلتا ہوا بولا
پتا نہیں۔مہرماہ ہنس کے بولی۔
ہے تو سہی نہ۔ شاہ میر منہ بناکر بولا۔
اگر پیار نہیں ہوتا تو اِس وقت میرے ساتھ تم نہیں ہوتے۔ مہرماہ نے رک کر اس کے بال بگاڑتے ہوئے کہا۔
یہاں مجھے آپ کے ساتھ ہی ہونا تھا کیونکہ میں نے پہلے بھی کہا آپ ازل سے میری ہیں اور زمین پہ آپ کو میرے لیے اُتارہ گیا ہے۔ شاہ میر مہرماہ کی بات پہ سنجیدہ ہوگیا تھا جبھی اس کو اپنے قریب کیے شدت بھرے لہجے بولا۔
شاہ مجھے تم سے محبت ہے میں نہیں جانتی کب سے پر میں نے محبت کا اصل مطلب تم سے ملنے کے بعد جانا میں نہیں جانتی میرا ہمارا ساتھ لوگوں کو کیسے لگتا ہوگا ہمارے درمیان جو چار سال کا فرق ہے وہ مجھے سکون سے نہیں رہنے دیتا تھا میں یہی سوچتی تھی کہ تمہاری محبت تمہارا بچپنا ضد ہے بس جو ختم ہوجائے گا کیونکہ تم مجھ سے زیادہ بہتر ہمسفر کے مستحق تھے پر اِن نوں ماہ نے مجھے احساس کروایا مجھے بتایا کہ مہرماہ سکندر شاہ میر حیدر کی ماہ شاہ میر ہے جس سے شاہ میر کو عشق ہے اور اُس عشق نے مہرماہ کو بھی قید کردیا تھا میں اب مہرو مہرماہ نہیں مجھے اب بس شاہ کی ماہ بن کر رہنا ہے۔مہرماہ سمجھ گئ تھی شاہ میر اظہار چاہتا ہے اِس لیے ایڑیوں کے بل اونچی ہوتی اپنی پیشانی کو شاہ میر کی پیشانی سے ٹکاکر اپنی محبت کا اعتراف کیا جسے سن کر شاہ میر کے اندر سرشاری سی ڈور گئ تھی شاہ میر نے مہرماہ کو کمر سے پکڑکر کجھ اونچا کیا۔
شاہ میر حیدر خان اگر کسی کا مستحق تھا تو وہ بس مہرماہ کا تھا اور کسی کا نہیں۔شاہ میر نے آنکھیں بند کیے کہا۔
اب واپس اندر چلتے ہیں۔مہرماہ نیچے ہوتی شاہ میر سے بولی۔
ضرور۔شاہ میر کہتا مہرماہ کو اپنی بانہوں میں اٹھاتا اندر کی جانب بڑھنے لگا مہرماہ نے مسکراکر اپنے بازوں شاہ میر کی گردن پہ حائل کر دیئے۔













ایک ہفتہ شاہ زیب نے ثانیہ کی منمانی کیسے برداشت کی تھی وہ بس شاہ زیب خود جانتا تھا ثانیہ دو دنوں کا کہتی ہفتہ بھر غائب تھی جس پہ شاہ زیب کجھ نہیں کہا پر آج اُس نے سوچ لیا تھا وہ آفس نہیں آئی تو وہ اُس کے گھر پہنچ جائے گا شاہ زیب ڈریسنگ کے پاس کھڑا ہوتا خود پہ نظر ڈالی پھر اپنا سیل فون اٹھا کر ایک نمبر پریس کیا جو تین سے چوتھی بیل پہ رسیو کیا گیا تھا۔
ہیلو۔ ثانیہ کی آواز سن کر شاہ زیب نے گہری سانس بھری۔
بنا آفس میں کسی کو اِن فارم کیے تم ہفتہ بھر لیو پہ کیسے رہ سکتی ہو۔ شاہ زیب سنجیدگی سے بولا تو ثانیہ کے گلے پہ گلٹی اُبھر کر معدوم ہوئی۔
وہ سر میری ماں کی طبیعت خراب تھی جس وجہ سے میں نہیں آسکی۔ ثانیہ نے وضاحت دی جو سچ تھی کیونکہ کجھ دنوں پہلے ہی ان کی طبیعت خراب رہنے لگی کبھی بخار ہوتا کبھی جوڑوں میں درد کبھی کھانسی تو کبھی کجھ اور جس سے ثانیہ کے دماغ سے ہربات فراموش ہوچکی تھی۔
اوو اب کیسی طبیعت ہے آپ کی والدہ کی؟ ثانیہ کی بات پہ شاہ زیب کجھ نارمل ہوا۔
اللہ کا شکر ہے اب بہتر ہیں۔ ثانیہ نے کہا۔
ٹھیک ہے جب وہ مکمل طور پہ صحتیاب ہوجائے تو تم آفس آجانا بہت سے کام ہیں جو تم نے کرنے ہیں۔شاہ زیب گھمبیر آواز میں بولا تو ثانیہ کے ماتھے پہ پسینے کی بوندیں چمکنے لگی۔
جی سر۔ ثانیہ نے کہا شاہ زیب ایک دو اور باتیں کرنے کے بعد کال کاٹ دی تھی۔














ہمہیں تو کوئی اعتراض نہیں سالار اپنا بچہ ہے اور ہمارے لیے اُس سے بڑی کیا بات ہوگی کہ پری اپنی پھپھو کے گھر میں رہے گی غیروں کا کیا اعتبار۔حیدر خان نادیہ بیگم کی بات سن کر بولے جو آج ان سے سالار کے رشتے کی بات کرنے آئی تھی ڈرائینگ روم میں سب موجود تھے جو حیدر خان کی بات پہ بہت خوش ہوئے تھے سالار کی بتیسی تو اندر جانے کا نام نہیں لے رہی تھی۔
تو کب کی تاریخ طے کریں ہم؟ نادیہ بیگم مصرت بھرے لہجے میں بولی۔
نادیہ اتنی بھی کیا جلدی آرام سے ہوجائے گا سب ویسے بھی مہرو کا چھٹا مہینہ ہے اچھا ہے بچہ آجائے پھر شادی کی تیاریاں کریں گے۔ ہانم بیگم ان کی جلدبازی پہ مہرماہ کی جانب اشارہ کرتی ہوئی بولی۔
دراصل میں جلدی سالار کی شادی کرنا چاہتی ہوں مہرو کے بچہ کی پیدائش میں تو ابھی وقت ہے۔ نادیہ بیگم مسکراکر بولی
چچی جان آپ لوگ تاریخ رکھ لیں اچھا ہے پری کی شادی بھی جلد ہوجائے تو ابھی تو میں آپ کی مدد بھی کرواسکتی ہوں پھر تو ناممکن سی بات ہے۔ مہرماہ نے شرارت سے کہا تو سب ہنس پڑے۔
آپ کو ڈاکٹر نے آرام کا کہا ہے ناکہ کام کرنے ڈاکٹر نے خاص طور مجھے کہا تھا کہ آپ وزنی چیزیں نہیں اٹھائے گی اور نہ خود کو تھکائے گی۔ شاہ میر جو اب تک خاموش تھا مہرماہ کی مدد والی بات سن کر بول اٹھا۔
میر کا بس نہیں چل رہا ورنہ مہرو کے ساتھ پریگنسی کی دوا بھی کھالیں۔شاہ میر کی بات پہ شاہ زیب بڑبڑیا جب کی اس کی بات پہ پاس بیٹھے آیان کو پانی پیتے زبردست قسم کا اچھو لگا تھا جس سے شاہ زیب گڑبڑا گیا تھا۔
آیان تم ٹھیک ہو؟ ہانم بیگم فکرمند ہوئی اس کی لال ہوتی رنگت دیکھ کر جو کھانس نے کی وجہ سے ہورہی تھی۔
جی امی جان میں ٹھیک ہوں۔ آیان ایک نظر شاہ زیب پہ ڈالتا ہوا بولا۔
تم لوگوں نے منتھلی چیک اپ کے لیے کب جانا ہے؟ سکندر خان نے شاہ میر سے پوچھا۔
آج شام چار بجے ماہ کا اپائیمنٹ ہے۔ شاہ میر نے بتایا۔
ٹھیک ہے تو ہم تاریخ طے کرلیتے ہیں ویسے بھی نیک کاموں میں دیر نہیں کرنی چاہیے۔ حیدر خان نے کہا تو سب نے سریلایا۔
اِس مہینے کی آخر تاریخ پہ فنکشن شروع کرتے ہیں۔نادیہ بیگم نے کہا۔
پہلے شادی کی ساری تیاریاں کرلیتے ہیں کپڑے جیولری اور بھی بہت سی ضروری چیزیں ہیں جس میں وقت لگ جائے جب سب شاپنگ ہوجائے تو ہم شادی کے فنکشن شروع کردے گے کیونکہ تب مہرماہ کی ڈیلیوری کے دن بھی کم رہے گے۔ ہانم بیگم کجھ سوچ کر بولی
ہاں یہ تو میں نے سوچا ہی نہیں تھا ان چیزوں میں بھی وقت تو لگے گا۔ نادیہ بیگم ان کی بات پہ متفق ہوتی ہوئی بولی۔
میں آپ سب سے کجھ کہنا چاہتا ہوں۔ شاہ زیب اچانک سے بولا تو سب اس کی طرف متوجہ ہوئے۔
میں چاہتا ہوں میری شادی بھی سالار کے ساتھ ہو۔ شاہ زیب کی بات پہ سب حیرانکن نظروں سے اس کو دیکھنے لگے۔
تمہاری ماں نے تو ابھی تک کوئی لڑکی نہیں دیکھی تو شادی کس سے کروگے۔ سکندر خان نے کہا
لڑکی ماں کے بیٹے نے دیکھ لی ہے آپ بس ان کے گھر رشتہ لیں جائے۔شاہ زیب آرام سے بولا
زیب تم مجھ سے بات نہ کرنا اتنی بڑی بات مجھ سے چھپائی۔مہرماہ غصہ سے شاہ زیب سے بولی تو شاہ زیب سٹپٹاگیا اپنی بات کہتے وقت وہ مہرماہ کے ری ایکشن کو فراموش کربیٹھا تھا۔
مہرو میں بتانے والا تھا۔ شاہ زیب نے وضاحت کرنی چاہی۔
جی بتا تو دیا۔مہرماہ کہتی جلدی کھڑی ہوئی تو اس کے پیٹ میں ہلکا سا درد ابھرا اس نے اپنے پیٹ پہ ہاتھ رکھا شاہ میر نے مہرماہ کے چہرے پہ تکلیف کے آثار دیکھے تو اس کے پاس کھڑا ہوا۔
آرام سے ماہ آپ اپنا خیال بلکل نہیں رکھتی۔ شاہ میر فکرمندی سے بولا جب کی سب اب مہرماہ کے پاس آئے تھے۔ شاہ میر نے آرام سے مہرماہ کو دوبارہ بیٹھایا۔
مہرو جانتی ہوں یہ نازک وقت ہوتا ہے پھر بھی اتنی لاپروائی۔سارہ بیگم نے اس کو گھڑکا۔
چچی جان پلیز ماہ کو پہلے ہی پین ہورہا ہے۔شاہ میر کو سارہ بیگم کا مہرماہ سے ایسے بات کرنا پسند نہیں آیا جب کی اتنی سنجیدہ حالت میں بھی شاہ میر کی بات پہ مسکرائے بنا نہیں رہ پائے۔
میر تم مہرو کو اندر کمرے میں لیں جاوٴ تاکہ آرام کریں۔ ہانم بیگم نے کہا جس پہ شاہ میر نے سرہلایا۔
چلیں۔ شاہ میر نے مہرماہ کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا پر مہرماہ نے کجھ نہیں کہا کیونکہ اس کو اپنی پسلی کی جگہ بہت درد محسوس ہورہا تھا جس میں وہ اٹھنے کی سکت نہیں کرپارہی تھی مہرماہ نے اُس وقت کو کوسا جب وہ جلدی سے کھڑی ہوئی تھی۔شاہ میر مہرماہ کی حالت سمجھتا بنا کسی پہ دھیان دیئے مہرماہ کو اپنے بانہوں میں بھرا جس پہ سکندر خان،حیدر خان،شاہ زیب،سالار نے اپنا چہرہ جھکادیا تھا جب کی آیان کا منہ حیرت سے کُھل گیا تھا نادیہ بیگم نے اپنی ہنسی دبائی جب کی سارہ بیگم، ہانم بیگم خوامخواہ شرمندہ ہوگئ تھی ان سب کے ری ایکشن سے بے نیاز شاہ میر بس مہرماہ کا چہرہ دیکھ رہا تھا جہاں وہ درد برداشت میں ہلکان ہورہی تھی مہرماہ نے شاہ میر کے چہرے پہ اپنے لیے پریشانی کے تاثرات دیکھے تو اس کو رلیکس کرنے کی خاطر زبردستی مسکرائی اور شاہ میر کے سینے پہ سرٹکادیا پر شاہ میر مطمئن نہیں ہوا تھا ایسے ہی وہ مہرماہ کو کمرے میں لایا اور اس کو بیڈ پہ لیٹایا خود وہ بلکل پاس بیٹھایا۔
زیادہ پین ہے تو ڈاکٹر کو کال کروں؟ شاہ میر آرام سے مہرماہ کے وجود سے شال الگ کرتا ہوا بولا۔
نہیں شاہ میں ٹھیک ہوں شام میں تو ویسے بھی جانا ہے نہ۔ مہرماہ نے کہا۔
پر ابھی جو آپ کو تکلیف ہے اس کا کیا؟ شاہ میر مہرماہ کے چہرے پہ ہاتھ پھیرتا ہوا بولا۔
مجھے پین کلر دو تھوڑا درد ہے ٹھیک ہوجائے گا۔ مہرماہ نے کہا تو شاہ میر جلدی سے سائیڈ ٹیبل کے دراز سے فرسٹ ایڈ بوکس نکال کر اس میں سے ایک پین کلر نکالی جگ میں پانی کا گلاس بھرا پھر مہرماہ کو آرام سے اٹھایا اور پین کلر دیں کر اس کے پاس تکیہ درست کیے۔
یہ بچہ ہوجائے پھر دوبارہ آپ کوئی بچہ نہیں کریں گی۔ شاہ میر مہرماہ کے پیٹ میں ہاتھ رکھتا ہوا بولا جس سے سن کر مہرماہ کی ہنسی نکل گئ۔
یہ تو اللہ کے ہاتھ میں ہیں ویسے بھی ایسی حالت میں ہر لڑکی ایسی تکلیف سے گزرتی ہے۔ مہرماہ نے کہا
جو بھی پر مجھ سے نہیں برداشت ہورہی آپ کی تکلیف۔شاہ میر نے کہا تو مہرماہ نے بیڈ کی دوسری طرف شاہ میر کو آنے کا کہا تو شاہ میر وہاں آگیا مہرماہ نے شاہ میر کے بازوں پہ سرٹکایا جس پہ شاہ میر مسکرایا اور ساتھ میں اس کی بلو آنکھیں بھی۔
شاہ کیا تم نہیں چاہتے ہمارے ڈھیر سارے بچیں ہو۔ مہرماہ نے کہا تو شاہ میر نے منہ بگاڑا۔
یہ ایک برداشت کرلوں گا ڈھیر ساروں کی ضرورت نہیں ۔شاہ میر نے کہا تو مہرماہ نے گھور کر اس کو دیکھا۔
ماہ مجھے پتا نہیں تھا کہ آپ اتنی تکلیف سہے گی ورنہ میں اِس کو بھی آنے نہیں دیتا۔ شاہ میر نے صاف گوئی سے کہا مہرماہ کا دل کیا اپنا ماتھا پیٹ لیں۔
مجھے تو تین چار بچے چاہیے۔ مہرماہ نے آرام سے کہا۔
ماہ آپ کے لیے میں کافی ہوں جیسے میرے لیے آپ اِس لیے بچوں کا اب نہ سوچے ایک بہت ہے میں برداشت نہیں کروں گا آپ کی توجہ میرے علاوہ کسی اور پہ ہو۔ شاہ میر کا انداز جنونی ہوگیا تھا۔
وہ کسی نہیں ہمارے بچے ہوگے۔ مہرماہ نے باور کروانا چاہا۔
جو بھی۔ شاہ میر بنا اثر لیے بولا مہرماہ بحث کیے بنا بس خاموش رہی شاہ میر نے اپنا سر مہرماہ کے سر سے ٹکالیا۔
یہ مجنوں کی اولاد میرے گھر کیسے پیدا ہوئی۔ ہانم بیگم بولی۔
آپ کو نہیں پتا ورنہ حیدر بھی جوانی میں ایسے تھا۔ سکندر خان نے حیدر خان کو چھیڑا جس پہ ان کی سٹی گم ہوئی تھی۔
بھائی مذاق کیوں کررہے ہیں۔حیدر خان نے خود پہ ہانم بیگم کی تیکھی نظریں محسوس کی تھی ہڑبڑاکر بولے باقی سب دلچسپی سے ان کو دیکھ رہے تھے۔
مذاق کہاں کیا تم نہیں تھے کالج میں کیسے ہر روز نئ گرلفرینڈ ہوا کرتی تھی جن کے لیے کبھی تم شاعری کرتے تو کبھی گانا گاتے میر تو پھر بھی مہرو کے لیے پاگل ہے۔ سکندر خان نے حیدر خان کا پھانڈا پھوڑا اِس وقت حیدر خان کو سکندر خان اپنا بھائی نہیں بلکہ جانی دشمن لگا
میرے لیے تو کبھی تعریف کا ایک لفظ نہیں بولا پر کالج میں لڑکیوں کے لیے شعرو شاعری کرتے رہے ہیں۔ ہانم بیگم جل بھن کے بولی۔
بیگم بھائی مذاق کررہے ہیں۔حیدر خان نے کمزور سی دلیل پیش کی مگر ہانم بیگم ان کو گھوری سے نوازتی اٹھ گئ حیدر خان کی شکل دیکھ کر سب کا قہقہقہ گونج اٹھا جس پہ حیدر خان کو بھی پرانے دن یاد آگئے تو ہنس پڑے۔














اماں سے کیسے بات کروں؟ ثانیہ چھت پہ چکر لگاتی پریشانی سے بولی بہت دنوں سے وہ زبیدہ بیگم سے بات کرنا چاہتی تھی شاہ زیب کے بارے میں پر وقت نہیں مل رہا تھا اور جب وقت مل رہا تھا تو ہمت نہیں ہورہی تھی آج اُس کو ایک ماہ ہوگیا تھا آفس نہیں گئے ہوئے جس پہ زبیدہ بیگم نے بہت بار پوچھا اور آفس جانے کا بھی کہا کہ ورنہ نوکری چلی جائے گی پر اس نے ان کو مطمئن کیا تھا کہ بوس نے کہا تھا جب تک آپ کی والدہ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہوتی چھٹی کرسکتی ہیں انہوں تب بھی کہا وہ اب ٹھیک ہیں پر ثانیہ نہیں گئ اس کو پتا تھا شاہ زیب جواب مانگے گا تو وہ کیا جواب دیتی وہ اپنی ماں سے بات کرنے سے پہلے شاہ زیب سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتی تھی۔ بہت سوچ بے چار کے بعد ثانیہ نے گہری سانس لی اور اپنے قدم زبیدہ بیگم کے کمرے کی طرف بڑھائے۔
ثانیہ کیا ہوا بیٹا؟زبیدہ بیگم نے ثانیہ سے پوچھا جو کمرے میں آتے ان کو دیکھ رہی تھی۔
اماں آپ سے کجھ بات کرنی تھی۔ ثانیہ نے کہا
کرو۔ زبیدہ بیگم نے کہا
میرے جو بوس ہیں نہ۔ ثانیہ نے بس اتنا کہا
اس نے جاب پہ آنے کا کہا ہوگا میں تو پہلے ہی کہہ رہی تھی میں اب ٹھیک ہوں تمہیں کام پہ جانا چاہیے۔ زبیدہ بیگم اندازہ لگاتی ہوئی بولی
یہ بات نہیں ہے اماں۔ ثانیہ نے کہا
پھر کیا بات ہے؟ زبیدہ بیگم نے پوچھا
وہ مجھ سے شادی کرنا چاہتے ہیں۔ثانیہ نے بتایا تو وہ حیرت انگیز نظروں سے ثانیہ کو دیکھنے لگی ثانیہ نے اپنا سرجھکادیا۔
ثانیہ اتنے بڑی کمپنی کا مالک تجھ سے کیوں شادی کرے گا۔ زبیدہ بیگم نے کہا
اماں وہ کہتے ہیں اسٹیٹس نہیں دیکھا جاتا شادی کے لیے لوگوں کو دیکھا جاتا ہے ان کا اخلاق ان کا کردار معائنے رکھتا ہے بہترین ہمسفر کا ملنا اسٹیٹس سے نہیں ہوتا کیونکہ پئسوں کا ہونا ضروری نہیں ہوتا پئسا ہاتھوں کی میل ہے کب کہاں پھسل جائے پتا نہیں چلتا۔ثانیہ کو کجھ دن پہلے شاہ زیب کی کال پہ کہی بات یاد آئی تو کہا
اگر لڑکا اچھا ہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں تم کہو وہ اپنے گھروالوں کو لائے یہاں۔زبیدہ بیگم ثانیہ کی بات سن کر بولی وہ بھی چاہتی تھی وہ اپنے فرض سے سبکدوش ہوجائے۔
کیا واقع اماں؟ ثانیہ کو یقین نہیں ہوا۔
بلکل اِس لیے کل آفس جانا۔ زبیدہ بیگم نے مسکراکر کہا تو ثانیہ بھی مسکرادی۔
