Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Qaid Season 2 (Episode 19)

Ishq Qaid Season 2 by Rimsha Hussain

ملیحہ اپنے نئے گھر کا جائزہ لیتی اب کمرے میں لیٹی ہوئی تھی اُس کی سوچو کا محو اِس وقت مرجان تھا جو پہلی تو نہیں پر دوسری نظر میں دل پہ قابض ہوگیا تھا سوچتے سوچتے ملیحہ کے چہرہ پہ مسکراہٹ آگئ تھی پھر وہ اٹھ کر الماری کی طرف آکر اُس کا پٹ کھولا جہاں مشرقی ٹائپ کپڑوں کی کلیکشن تھی مہرین نے یہاں جینز شرٹ پہننے سے منع کردیا تھا جس پہ ملیحہ نے کوئی ری ایکٹ نہیں کیا تھا کے مجھے عادت نہیں وغیرہ کیونکہ جب وہ دعوت پہ گئے تھے تو اُس نے چودہ سال منت پہ سر پہ بھی ڈوپٹہ دیکھا تب اُس کو شرٹ کے جینز پہنتے ہوئے عجیب لگا تھا اِس لیے اُس نے سوچ لیا تھا وہ بھی اب اِن کی طرح ڈریسنگ کرے گی۔ملیحہ نے بلیو اور یلو کلر کا پرنٹڈ سوٹ کا انتخاب کیا اور ملحقہ واشروم کی طرف گئ نہانے کے لیے۔تھوڑی دیر بعد وہ فریش ہوتی باہر آئی اور اپنے بھورے بالون کو تولیہ سے آزاد کرکے بیڈ پہ پھینک کر ڈریسنگ کے دراز سے ہیئر ڈرائیر اٹھا کر بال سوکھانے لگی بال سوکھانے کے بعد ان کو پشت پہ بکھرا چھوڑ کر خود کو آئینے میں دیکھا جہاں وہ معمولی سے ہٹ کر بہت پیاری لگ رہی تھی پرنٹڈ شلوار قمیض جس کا گلا کافی چھوٹا تھا اُس کی صراحی دار گردن اس سے مزید پتلی معلوم ہوئی ملیحہ نے خود پہ نظر ہٹانے کے بعد گلابی رنگ کا لپ گلوس اپنے ہونٹوں پہ لگایا پھر ہاتھ میں گھڑی پہننے کے بعد اپنی چین اٹھائی جو کافی بڑی تھی جس کے بیچ لاکیٹ میں بڑے حرفوں سے اُس کا نام ملیحہ جگمگارہا تھا ملیحہ اپنی سادہ تیاری سے مطمئن ہوتی دوبارہ الماری کے پاس آئی اور اپنے پہنے ہوئے ڈریس سے میچنگ ڈوپٹہ نکال کر ایک شانے پہ سیٹ کرتی باہر آئی۔

موم

موم۔

ملیحہ سیڑھیاں اُترتی زور زور سے مہرین کو پُکارنے لگی جو ابھی اپنی یونی کی جاب سے واپس آتی کچن میں گئ تھی۔

کیا ہے ملی کیوں پورا گھر سر پہ اٹھایا ہوا ہے۔مہرین ہال میں آتی ملیحہ سے بولی۔

موم میں نے ڈیڈ سے گاڑی کا کہا تھا تاکہ میں اپنی مرضی سے آ جا سکوں۔ملیحہ نے مہرین سے کہا۔

تو دلادے گے ویسے بھی اکیلے تم نے نہیں جانا میر بھائی کے بیٹی حیات یا ان کے گھر کے کسی فرد کے ساتھ جایا کرنا ابھی کہاں واقف ہوتم یہاں کے راستوں سے۔مہرین نے جواب دیا۔

تو ابھی مجھے باہر جانا تھا کیا کروں پھر گھر میں بھی بور ہوگئ ہوں۔ملیحہ نے کوفت سے کہا

میری مانو تو یونی میں ایڈمیشن لیکر اپنی پڑھائی دوبارہ سے کنٹینیوں کرو۔مہرین نے مشورہ دیا۔

موم پلیز مجھ سے نہیں پڑھی جاتی یہ موٹی موٹی کتابیں۔ملیحہ نے اکتاہٹ بھرے لہجے میں کہا۔

ماہا کو دیکھو دونوں ساتھ دنیا میں آئی ہو اُس نے دوبار ایم بی ائے کیا ہے اور ایک تم ہو جس نے ایف کے بعد کتابوں کی شکل بھی نہیں دیکھی۔مہرین نے اس کو شرمندہ کرنا چاہا۔

ماہا آجائے گی تو اُس کو دیکھ لوں گی فلحال یہ بتائے میں جو اتنا تیار ہوئی ہوں اب کیا کروں۔ملیحہ ان کی بات پہ دھیان دیئے بنا اپنی بات کہنے لگی۔

کرتی ہوں مہرو سے بات کے اگر حیات ہے تو اُس کو بھیجے۔مہرین نفی میں سرہلاتی ہوئی بولی۔

ہوئی بات؟ملیحہ نے مہرین سے پوچھا۔

مرجان آرہا ہے حیات ہوسپٹل میں اپنی ڈیوٹی پہ ہے۔مہرین نے بتایا تو مرجان کے نام پہ ملیحہ کے دل میں ہلچل ہوئی۔

انہیں کیوں تکلیف دی۔ملیحہ نے اپنا بھرم قائم کرنے کی خاطر کہا ورنہ دل تو بھنگڑے ڈال رہا تھا۔

ہاں میں نے بھی کہا پر اُس نے کہا آج اُس کا آف ہے آفس سے اِس لیے کوئی پریشانی نہیں۔مہرین نے بتایا تو ملیحہ شدت سے مرجان کے آنے کا انتظار کرنے لگی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

ریان نے اپنا بزنس شاہ میر کے بزنس کے ساتھ جوڑ دیا تھا اب وہ دونوں آپس میں بزنس پارٹنرز بھی تھے ریان کے ساتھ ولی آفس کا کام دیکھتا تھا تو شاہ میر کے ساتھ مرجان ابھی ریان اپنے کیبن میں بیٹھا تھا جب اس کا موبائل فون رِنگ کرنے لگا تو ریان نے اسکرین پہ ماہا کالنگ دیکھا تو کال پِک کرلی۔

کیسی ہے میری بیٹی؟ریان نے محبت سے پوچھا

بہت اچھی اور اب آپ کا ویٹ کررہی ہے جناح ایئر پورٹ پہ۔ماہا نے آرام سے اُن پہ سر پہ بم پھوڑا۔

کیا واقع تم آگئ بتایا کیوں نہیں پہلے۔ریان اپنی جگہ سے اٹھتا بولا۔

سوچا آپ کو سرپرائز دوں۔ماہا نے جواب دیا۔

آدھا گھنٹہ پہلے بتادیتی فلائٹ ٹیک آف ہونے سے پہلے تو اب انتظار نہیں کرنا پڑتا۔ریان آفس کی راہداری سے گزرتا فون کان سے لگائے بولا۔

کجھ نہیں ہوتا انتظار سے آپ بس جلدی آجائے۔ماہا نے کہا۔

اوکے آیم کمنگ۔ریان پورچ میں آکر اپنی گاڑی میں بیٹھ کر بولا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

کہاں جانا ہے؟مرجان نے گاڑی ڈرائیو کرتے ملیحہ سے پوچھا جو اس کو ہی دیکھے جارہی تھی۔

جہاں آپ لیں چلے۔ملیحہ کے منہ سے بے ساختہ نکلا تو مرجان نے حیرت سے گردن موڑ کر اس کو دیکھا جس سے ملیحہ سٹپٹاتی سیدھی ہوئی۔

میرا مطلب تھا مجھے تو یہاں کے راستوں کے علم نہیں تو آپ ہی کجھ نالج دے تاکہ میں خود آسکوں۔ملیحہ نے اپنی بات کی صفائی دیتے کہا

اوکے تو میں آپ کو سی ویو لیں چلتا ہوں۔مرجان کے چہرے پہ مسکراہٹ آگئ تھی ملیحہ کے اِس انداز سے۔

کیا ہم آپ کا تکلف چھوڑ سکتے ہیں؟ملیحہ نے پوچھا۔

مطلب؟

مطلب یہ ہماری عمر میں زیادہ فرق تو ہے نہیں اِس لیے آپ بھی مجھے تم کہے اور میں بھی۔ملیحہ نے اپنی بات کا مطلب سمجھایا۔

ٹھیک ہے نو پروبلم۔مرجان راضی ہوتا بولا تو ملیحہ خوش ہوگئ۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

گھر چل کر میں اب ریسٹ کروں گی۔ماہا اپنا سفری بیگ گاڑی کی ڈگی میں رکھنے کے لیے ریان کو دیتی بولی۔

ضرور پھر تمہیں میرے دوست سے بھی تو ملنا ہے باقی سب تو مل لیے۔ریان نے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے کہا۔

وہ کہاں ہوگے اِس وقت۔ماہا نے پوچھا

ہم نے بزنس ایک ساتھ کیا ہے تو وہ اپنے آفس میں ہی ہے میں جلدی میں آگیا ورنہ اس کو بتادیتا۔ریان نے جواب دیا

تو آپ گاڑی اپنے آفس کی جانب موڑ دے۔ماہا نے کہا۔

ابھی تو تم نے آرام کرنا تھا۔ریان نے کہا۔

ہاں پر میر انکل سے مل لوں گی پہلے جب آئے تھے تو میں نہیں مل پائی تھی۔ماہا نے جواب دیا۔

تم ڈیڈ کے وفات پہ صدمے میں جو تھی۔ریان اچانک اُداس ہوا تھا ماہا بھی خاموش ہوگئ تھی۔

میں آخری بار ان کا چہرہ بھی نہیں دیکھا تھا یہ بات میری برداشت سے باہر تھی۔ماہا تھوڑی دیر بعد بولی۔

ایکسیڈنٹ بُرا ہوا تھا اِس لیے تزفین جلدی کرنا پڑی تھی۔ریان کی آنکھوں میں اپنے باپ کے ذکر پہ نمی اُتر آئی تھی۔

گاڑی تیز چلائے نہ تاکہ جلدی پہنچ جائے۔ماہا نے بات بدلنے میں بہتری سمجھی۔

ہممم۔ریان اتنا کہتا گاڑی کی اسپیڈ بڑھاگیا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

مرجان اور ملیحہ ساحل سمندر پہ اِس وقت ننگے پاٶں ریت پہ چل رہیں تھے ٹھنڈی ٹھنڈی لہریں اُن کے پیروں کو چھوتی واپس لوٹ جاتی ملیحہ کو یہ سب بہت خوبصورت لگ رہا تھا اُپر سے دل میں نئے جذبات جو پیدا ہوئے تھے یہ سب اُس لیے نیا اور منفرد تھا جس کو وہ بھرپور طریقے سے گزارنا چاہتی تھی۔

کیسا لگ رہا ہے یہاں آکر؟مرجان نے بات کی شروعات کی۔

بہت اچھا۔ملیحہ نے ہوا کی دوش سے اُڑتے بالوں کے چہرے سے ہٹاکر مسکراکر جواب دیا۔

یہ میری پسندیدہ جگہ ہے میں جب بھی اکیلا رہنا چاہتا ہوں تو یہاں آجاتا ہوں بہت ہلکہ پھلکہ ہوجاتا ہوں یہاں کا پرسکون ماحول یہ پانی اور لہروں کو دیکھ کر اِس گیلی ریت پہ چلنا مجھے اچھا لگتا ہے۔مرجان نے چلتے ہوئے بتایا۔

مطلب آپ کی بہت اچھی ہے۔ملیحہ نے اُس کی بات سن کر کہا۔

بلکل میری کیا زر اور حیات بھی اکثر یہاں آتے ہیں پتا ہے کیوں؟مرجان نے آخر میں اس کی طرف رخ کیے پوچھا۔

کیوں؟ملیحہ نے بے ساختہ پوچھا۔

کیونکہ یہاں پہلی بار ڈیڈ نے مما سے اپنی محبت کا اظہار کیا تھا۔مرجان کے چہرے پہ یہ بتاتے ہوئے تبسم کِھلا تھا۔

واؤ آپ کے فادر کافی رومانٹک معلوم ہوتے ہیں ڈیڈ اکثر بتاتے ہیں ہمیں ان کے بارے میں کے وہ کتنا پیار کرتے ہیں اپنی بیوی سے۔ملیحہ نے بھی مسکراکر کہا۔

جی پیار تو وہ سچ میں بہت کرتے ہیں شاید پیار لفظ تو بہت چھوٹا ہے وہ تو مما سے عشق کرتے ہیں۔مرجان نے جواب دیا۔

آپ کے والدین کے بیچ میں ایج ڈفرنس ہیں نہ؟ملیحہ نے پوچھا۔

ہاں بس چار سال کا پر کبھی محسوس نہیں ہوتا۔مرجان نے آرام سے جواب دیا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

بہت خوشی ہوئی کہ آپ ایئر پورٹ سے سیدھا یہاں آئی۔شاہ میر نے مسکراکر ماہا سے کہا۔

مجھے بچپن سے ہی آپ سے ملنے کا تجسس ہوتا تھا پر جب آپ آئے میں اُس کنڈیشن میں نہیں تھی کے آپ سے مل سکوں۔ماہا نے جواب دیا پر شاہ میر کا چہرہ اُس کو کسی کی یاد دلارہا تھا جس سے اُس کو اپنے یہاں آنے پہ افسوس ہورہا تھا پر یہاں بیٹھنا اُس کی مجبوری تھا کیونکہ سامنے بیٹھا شخص اُس کے باپ کا گہرا دوست تھا اور وہ نہیں چاہتی تھی اپنے روڈ بیہیو سے ریان مایوس ہو اور اپنے دوست کے سامنے شرمندہ۔

ہاں وہ وقت ہی ایسا تھا خیر یہ بتاٶ کیا لوں گی کھانے میں اور پینے میں؟شاہ میر انٹرکام اٹھاتا پوچھنے لگا جب کی اِس بیچ ریان خاموش بیٹھا تھا۔

کجھ بھی نہیں میں نے فلائٹ میں کھالیا تھا۔ماہا نے سہولت سے انکار کیا

جو بھی ایک کافی تو پھر بھی ہوگی ساتھ میں۔شاہ میر نے مسکراکر کہا تو ماہا اتنی چاہت سے کہنے پہ انکار نہیں کرپائی۔

میرے لیے چائے کے ساتھ سموسے بھی۔ریان نے کہا

اوکے۔شاہ میر نے کہہ کر انٹرکام پہ کہا پھر ماہا سے ہلکی پھلکی باتیں کرنے لگا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

زرجان دوستوں کے ساتھ فٹبال گیم کِھیل رہا تھا جس کے مخالف اس کے کلاس فیلو میں ایک عباس نامی شخص تھا جس کے ساتھی عمار،خالد،فیاض،اور نعیم تھے۔زرجان پوری پُھرتی سے بال کو اپنی طرف کرتا سامنے گول کرگیا تھا جس سے اس کے مخالف کے منہ سے او شٹ کا لفظ نکلا تھا پر باقی سب نے زرجان زرجان کے نام کا نعرہ لگایا تھا زرجان کے چہرے پہ فاتحہ مسکراہٹ آئی تھی زرجان بال کو اپنے ہاتھ میں لیتا انگلی کے اُپر رکھتا گول گول گھماتا سیٹی کی دُھن بجاتا سامنے عباس کو چڑانے کے غرض سے پاس سے گُزر گیا جس سے عباس دانت پیستا رہ گیا اُس سے زیادہ وہ کجھ کر بھی نہیں سکتا تھا گیم تو زرجان جیت چُکا تھا۔

مجھے پتا تھا تم جیت جاؤگے۔عروہ نے مسکراکر زرجان سے کہا جو پانی کی بوتل آدھی پی کر باقی چہرے کے اُپر انڈیل دی تھی اور اپنے سر کو دائیں بائین کررہا تھا۔

ہر بار تو زر ہی جیت جارتا ہے کوئی نئ بات نہیں۔احتشام نے تولیہ زرجان کی طرف بڑھاکر فخریہ انداز سے کہا۔

آگے کا کیا پلان ہے؟فرزام نے زرجان سے پوچھا

میں تو گھر جارہا ہوں ڈیڈ کی کال آئی تھی۔زرجان نے اپنے بیگ سے دوسری شرٹ نکال کر بتایا۔

جیت کی خوشی میں ٹریٹ تو بنتی ہیں۔احتشام نے کہا

تم لوگ جی بھر کر ٹریٹ لو بِل میں پے کرلوں گا پر میں ساتھ نہیں آسکتا۔زرجان نے انکار کرکے کہا۔

کل دے دینا۔عروہ نے زرجان کی توجہ خود پہ کروانی چاہی۔

مرضی ہے تم لوگوں کی ابھی میں چلتا ہوں۔زرجان احتشام اور فرزام سے ملتے ہوئے بولا۔

تم کیوں خود کو اس کے سامنے ڈی گریڈ کرتی ہوں جب کی پتا بھی ہے اُس کو تم میں کوئی دلچسپی نہیں۔زرجان کے جانے کے بعد احتشام نے عروہ سے کہا۔

ایٹی ٹیوڈ دیکھاتا ہے اپنی خوبصورت پہ ناز ہے اُس کو پر وہ جانتا ہے آنا اُس کو میرے پاس ہی ہے۔عروہ خوشفہمی میں مبتلا ہوتی بولی۔

سوچ ہے تمہاری۔احتشام نے تاسف سے اُس کو دیکھ کر کہا

دیکھ لینا کیسے وہ اپنی محبت کا اظہار مجھ سے کرتا ہے۔عروہ نے چیلنج کرنے والے انداز میں کہا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

بڑی میسنی ہو مجھے بتایا تک نہیں۔ملیحہ دوسرے دن ماہا کے کمرے میں آتی ہوئی ناراض لہجے میں بولی۔

میسنی کیا سرپرائز دینا چاہتی تھی میں تو۔ماہا اپنے بھورے بالوں کو جوڑے میں قید کرتی ہوئی سادہ انداز میں بولی۔

ہممم سرپرائز تو مجھے بہت پسند آیا۔ملیحہ ماہا کو اپنے ساتھ لگاتی مسکراکر بولی تو ماہا کے چہرے پہ بھی مسکراہٹ آئی۔

میں فریش ہوکر باہر آتی ہوں بھوک بہت لگی ہے۔ماہا بیڈ سے اٹھتی ہوئی بولی۔

ڈریس میں دیتی ہوں وہ پہن کر آنا۔ملیحہ نے کہا

میں اپنے کپڑے لائی ہوں۔ماہا نے بتایا

جینز شرٹ ہوگی نہ۔ملیحہ نے منہ بناکر کہا۔

ڈیئر ملیحہ ریان تم بھول رہی ہو میں نے ایک سال سے اپنی ڈریسنگ چینج کردی ہے۔ماہا اُس کی بات کا مطلب سمجھتی ہوئی بولی۔

ریئلی میں تو سچ میں بھول گئ تھی۔ملیحہ سر پہ ہاتھ مارتی ہوئی بولی

یاد کیا رہتا ہے تمہیں۔ماہا نے نفی میں سرہلاکر کہا تو ملیحہ کی آنکھوں کے سامنے مرجان کا چہرہ آیا۔

اچھا سنو ملی۔ماہا اپنے بیگ سے ایک ڈریس کا انتخاب کرتی ملیحہ سے مخاطب ہوئی۔

بولوں۔ملیحہ نے کہا۔

میرا وارڈروب تو سیٹ کردو۔ماہا نے کہا۔

ٹھیک ہے تم جلدی سے فریش ہوجاؤ ناشتہ ہم نے بھی نہیں کیا۔ملیحہ اُس کا بیگ اپنی طرف کرتی بولی۔

بس بیس منٹس۔ماہا کہتی واشروم میں بند ہوگئ۔ملیحہ بھی اس کے کپڑے بیگ سے نکالتی وارڈروب میں سیٹ کرنے لگی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

ناراض ہو؟مرجان شاہ ویر کی آفس میں آئے کافی وقت بیت گیا تھا پر شاہ ویر اُس کو بُری طرح نظرانداز کرتا کیس ریڈ کرنے میں مصروف تھا تبھی مرجان ہمت کرتا خود ہی بول پڑا۔

میں کیوں ناراض ہوگا۔شاہ ویر کندھے اُچکاتا بولا۔

میں جانتا ہوں میں غلط تھا پر حیات کے ساتھ جو ہوا اُس سے پہلے ہی میں شرمندگی کے احساس سے گِھرا ہوا تھا مجھے اپنے کیے پہ افسوس ہے پر میں گزرا ہوا وقت واپس نہیں لاسکتا۔مرجان نے پژمردگی سے کہا۔

سُدھار تو سکتے ہو نہ اُس کو ڈھونڈنے کی کوشش کرو۔شاہ ویر نے سنجیدگی سے کہا

ہمت نہیں معافی مانگنے کی۔مرجان نے افسردہ ہوکر کہا۔

ڈھونڈنے کی کوشش کرو جتنا ہوسکے اُس کو منالینا پھر اُس کو اپنا نام دینا۔شاہ ویر نے کہا

یو مین میں اُس سے شادی کروں؟مرجان کو جیسے شاہ ویر سے اِس بات کی توقع نہیں تھی۔

ہاں تو کیا بُرائی ہے۔شاہ ویر نے کہا

میں نے جو اُس کے ساتھ کیا تمہیں لگتا ہے پھر کوئی لڑکی ایسے انسان سے شادی کرنا چاہے گی اُس نے جن نفرت زدہ نظروں سے مجھے دیکھا تھا نہ مجھے نہیں لگتا وہ ایسا کرے گی۔مرجان نے کہا

پیار کرنے لگی تھی نہ تو بس معافی مل جائے گی کیونکہ جن سے محبت ہو ان کے لیے کجھ بھی ہو پر دل میں ہمیشہ نرم گوشہ رہتا ہے۔شاہ ویر نے آرام سے کہا

میرے لیے اُس کے لیے پیار کے جذبات نہیں میں بس اپنے کیے پہ پیشمان ہوں۔مرجان نے صاف گوئی سے کہا

پہلے اس کو ڈھونڈو پیار ہے یا نہیں وہ بعد کی بات ہے ویسے بھی اصل محبت وہ ہے جو نکاح کے بعد ہو۔شاہ ویر نے اس کی بات پہ کہا تو مرجان گہری سوچ میں ڈوب گیا

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

موم میں بھی جاب کرنا چاہتی ہوں۔ماہا نے مہرین سے کہا۔

یہ تو اچھی بات ہے ریان سے کہتی ہوں وہ تمہیں اپنے ساتھ آفس لے جایا کریں۔مہرین اُس کی بات سن کر مسکراکر بولی۔

بزنس میں نہیں یونی میں جہاں آپ کرتی ہے جاب آپ کو تو پتا ہے مجھے پڑھنے اور پڑھانے کا آپ کی طرح ہی شوق ہے۔ماہا نے سنجیدگی سے کہا۔

ہاں پر تمہیں بزنس کی نالج ہے اچھا ہے ریان کے ساتھ جاؤں گی تو۔مہرین نے کہا۔

اِس لیے تو میں چاہتی ہوں یونی میں ایم بی اے کے اسٹوڈنٹ کو پڑھا لوں گی آپ بات کریں میری۔ماہا نے کہا.

یونی میں جاب ملنا اتنا آسان تو نہیں پر تم قابل ہو آرام سے پڑھاسکتی ہوں میں میر بھائی سے بات کروں گی تمہیں جاب مل جائے گی۔مہرین نے کجھ سوچ کر کہا۔

جی کوشش کرئیے گا جلدی ہو میں گھر میں بور ہوجاتی ہوں۔ماہا نے کہا

کاش ملیحہ بھی تمہاری طرح پڑھائی کی شوقین ہوتی۔مہرین کو ملیحہ کا افسوس ہوا۔

اُس کو کھانا پکانے کا شوق ہے طرح طرح کے کھانے بنائے۔ماہا نے آرام سے مشورے سے نوازا

کرتی ہوں اِس کا میں بندوبست۔مہرین پرسوچ انداز میں بولی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

مرجان آج اتوار ہونے کی وجہ سے دیر اُٹھا تھا وہ فریش ہوتا باہر آیا تو اپنے فون پہ کال آتی دیکھی تو موبائل اسکرین پہ نظر ڈالی جہاں ملیحہ کا نام جگمگارہا تھا مرجان نے اپنے گیلے بالوں کے ماتھے سے ہٹایا اور اسکرین پہ گرین بٹن کو پُش کرکے کال اٹینڈ کی۔

اسلام علیکم!مرجان نے سلام میں پہل کی۔

وعلیکم اسلام!میں نے آپ کو ڈسٹرب تو نہیں کیا؟ملیحہ نے جھجھک کر پوچھا۔

نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں آپ بتائے کوئی کام تھا۔مرجان نے ملیحہ کے کہنے کے بعد بھی آپ کہنا ختم نہیں کیا تھا اور نہ ہی ملیحہ نے خود۔

کیا بنا کام کے کال نہیں کرسکتی؟ملیحہ کا لہجہ بوجھل ہوگیا تھا۔

نہیں میرا یہ مطلب نہیں تھا۔مرجان نے فورن سے صفائی پیش کی۔

میں نے نیو گاڑی لی ہے سوچا آپ کو کہوں میرے ساتھ باہر چلے کیونکہ آج اِتوار ہے آپ بھی فری ہیں پھر تو وقت نہیں ہوگا اگر آج ہے تو انجوائے کیا جائے۔ملیحہ نے اپنا پلان بتایا۔

اوکے نو پروبلم آپ تیار ہوجائے میں آجاتا ہوں۔مرجان نے آرام سے کہا تو ملیحہ کا دل باغ باغ ہوگیا۔

جی میں تیار ہوں بس آپ آجائے۔ملیحہ نے فورن سے کہا پھر کال کاٹ کر مرر کے سامنے کھڑی ہوئی۔اُس نے آج اسکن کلر کے کُرتے کے ساتھ وائٹ ٹراؤزر پہنا تھا جس کا ڈوپٹہ بھی وائٹ کلر کا تھا چہرے پہ اُس نے ڈارک لپ اسٹک لگائی ہوئی تھی جب کی بال پشت پہ کُھلے چھوڑے ہوئے تھے جس سے وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی ملیحہ نے گہری سانس لی اور برش اٹھاکر بالوں میں پِھیرنے لگی۔

کہیں جارہی ہو کیا؟ماہا اُس کے کمرے میں آئی تو اُس کو اتنا مگن انداز میں بالوں کو برش کرتا دیکھا تو سوال پوچھا۔

ہاں ڈیڈ نے نیو کار دی ہے نہ تو سوچا سواری کرلوں۔ملیحہ نے مسکراکر بتایا

کس کے ساتھ جاؤ گی؟

میر انکل کا بیٹا ہے اُس کے ساتھ میری اچھی خاصی دوستی ہوگئ ہے اُس کے ساتھ ہی پروگرام بنایا ہے۔ملیحہ نے بتایا

نام کیا ہے جس کے ساتھ اتنے کم عرصے میں اتنا گُھل مل گئ ہو۔ماہا کو اُس کا کسی لڑکے پہ اتنا بھروسہ کرنا پسند نہیں آیا۔

مر

ملیحہ نام بتانے ہی والی تھی جب ہارن کی آواز آئی تو ملیحہ نے جھٹ سے برش رکھا اور اپنا پرس اٹھاکر سینڈل ہاتھوں میں لیا

میں جارہی ہوں پھر بات کرتے ہیں۔ملیحہ عجلت میں کہتی باہر نکلی سینڈل ہاتھوں میں ہی تھا جس سے ماہا کو ملیحہ کا انداز کجھ عجیب سا لگا پر اپنا وہم سمجھتی سر جھٹک کے رہ گئ۔

سوری میں بس تیار ہورہی تھی۔ملیحہ نے جلدی آکر کہا اور سینڈل نیچے رکھتی پہننے لگی۔

اتنی بھی کیا جلدی آپ آرام سے آتی۔مرجان اُس کی پُھولی ہوئی سانس میں بات کرتا دیکھ کر مسکراکر بولا۔

بزنس کرنے والے لوگ وقت کے بہت پابند ہوتے ہیں نہ تو بس میں نے سوچا آپ کو ویٹ نہ کرواؤں۔ملیحہ نے گاڑی سے ٹیک لگاکر کہا۔

پر یہاں کونسا ہم بزنس کررہے ہیں۔مرجان نے کہا

یہ تو ہیں آئے میں آپ میری گاڑی کی طرف آج میں ڈرائیو کروں گی۔ملیحہ نے اُس کو اپنے ساتھ آنے کا اشارہ کیا تو مرجان اُس کی تقلید میں پورچ کی جانب چلنے لگا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

میری یونی والوں سے بات ہوئی تھی ماہا وہاں جاب کرسکتی ہے بس ایک دفع خود جاب کے لیے اپلائے کریں۔شاہ میر آفس میں لنچ ٹائم پہ ریان سے بولا۔

میں کہوں گا اُس کو۔ریان نے جواب دیا۔

ریان ماہا اتنی خاموش کیوں رہتی ہے تم تو کہتے تھے وہ بہت شرارتی ہے ہنس مکھ ہے۔شاہ میر نے پوچھا

پہلے بچی تھی اب میچیور ہوگئ ہے۔ریان نے مسکراکر جواب دیا جب کی وہ خود بھی پریشان رہتا تھا کے ماہا ہنسنا کیوں بھول گئ ہے

میچیور ہونے کا یہ مطلب تو نہیں ہوتا کے انسان ہنسنا لوگوں سے بات کرنا ملنا جُلنا چھوڑدے۔شاہ میر نے کہا

مطلب؟ریان کو سمجھ نہیں آیا

مطلب یہ کے ماہ ماہا سے ملنا چاہتی تھی ایک دفع تمہارے گھر آئی تھی پر ماہا نہیں تھی تب پھر ماہ نے مہرین سے کہا تھا ماہا سے کہے وہ چکر لگالیں کیونکہ ماہ کو وقت نہیں ملتا اپنے والدین کے گھر بھی بامشکل جا پاتی ہے۔شاہ میر نے مطلب بتایا اپنی بات کا۔

او مجھے نہیں تھا پتا شاید مہرین ماہا سے کہنا بھول گئ ہو پر میں چکر لگاتا ہوں ماہا کے ساتھ۔ریان نے فورن سے کہا۔

ہاں ٹھیک ہے باقی سب سے تو وہ مل چکی ہے بس ماہا سے نہیں ملی۔شاہ میر نے جوابً کہا

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

مرجان اور ملیحہ اِس وقت ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے آئے تھے جہاں چاروں طرف لذیذ پکوانوں کی خوشبوں پھیلی ہوئی تھی اور دھیمی آواز میں گانے کی آواز گونج رہی تھی جو ماحول کو خوبصورت اور رومانٹک بنارہی تھی۔

تمہاری فیوریٹ ڈش کونسی ہے؟ملیحہ نے آپ کا تکلف بُھلائے پوچھا۔

میں کھانے کی چیز جو بھی ہو آرام سے کھالیتا ہوں۔مرجان سادگی سے بولا

اچھا مجھے تو تلی ہوئی مچھلی شامی کباب نہاری کچن رول قورمہ ہے سب بہت پسند ہیں۔ملیحہ نے آرام سے بتایا۔

اتنا ہیوی کھانا کھاتی ہیں۔مرجان ہنس کے بولا

یس پر میری جڑواں بہن ماہا وہ ڈائیٹ کے معاملے میں بہت کونشئس ہے وہ اتنا ہیوی کھانا نہیں کھاتی کبھی کبھار کھالیں اگر کوئی اصرار کریں ورنہ نہیں۔ملیحہ نے بتایا۔

تمہاری جڑواں بہن سے تو میں نہیں ملا تمہاری طرح ہی ہوگی۔مرجان نے کہا

نہیں ہائیٹ میں،میں بڑی ہوں اُس سے۔ملیحہ نے مزے سے بتایا

اچھا اور وہ کیوں جڑواں میں زیادہ تر ایسا تو نہیں ہوتا۔

نہیں ہوتا ہوگا پر ماہا بچپن میں اکثر بیمار رہتی تھی اور جو بچے بیمار رہتے ہیں ان کی گروتھ آہستہ آہستہ بڑھتی ہے ماہا کے ساتھ بھی ایسا ہی تھا پر اب الحمد اللہ وہ بلکل ہٹی کٹی ہے اور مجھ سے زیادہ خوبصورت بھی۔ملیحہ نے رائس کا چاول منہ میں ڈالتے بتایا۔

یہ تو میں ان سے ملنے کے بعد کہہ سکتا ہوں ورنہ تم بھی بہت پیاری ہو۔مرجان کے عام لہجے میں کہیں بات ملیحہ کو بہت خاص کرگئ تھی اُس کو اپنے آس پاس پھول بکھرتے محسوس ہوئے۔

شکریہ۔بہت دیر بعد وہ بس یہی کہی پائی جب کی گال تپ گئے تھے مرجان کے جُملے پہ جو مرجان نہیں دیکھ پایا کیونکہ اُس کا سرجھکا ہوا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *