Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Qaid Season 2 (Episode 27)

Ishq Qaid Season 2 by Rimsha Hussain

ماہا کبھی ہمارے ساتھ بھی بیٹھ لیا کریں۔ماہا یونی آکر اپنے آفس جارہی تھی جب راستے میں اس کی کولیگ تحریم کے ساتھ کھڑی بیلا نے کہا۔

ضرور بیٹھتی پر ابھی مجھے اسائمنٹ دیکھنے ہیں ۔ماہا نے سہولت سے انکار کرتے ہوئے کہہ کر سامنے سے گُزر گئ۔

خوبصورت پہ بہت ناز ہے اُس کو اِس لیے اپنی انا میں رہتی ہے۔تحریم ماہا کا انکار سن کر جل کے بولی بیلا نے اس کی بات پہ تائید میں سرہلایا ماہا اپنے بارے میں ان کے خیالات جان کر طنزیہ مسکرائی تھی۔

میرے اندر کی کہانی سے کہاں واقف ہیں

یہ لوگ

اور کہتے ہیں یہ لڑکی اپنی انا میں رہتی ہے

تم یہاں؟ماہا اپنے آفس میں زرجان کو بیٹھا دیکھ کر بولی۔

اسلام علیکم!!!زرجان فورن سے کھڑا ہوتا فرمانبرداری سے بولا

وعلیکم اسلام!!ماہا اپنی جگہ پہ بیٹھ کر بولی۔

آپ سے پراجیکٹ کے بارے میں بات کرنی تھی جس کے آپ نے گروپ بنائے تھے۔زرجان نے اپنے یہاں آنے کی وجہ بتائی۔

تو میں کلاس میں آتی تو پوچھ لیتے باقی سب بھی جان لیتے۔ماہا نے سنجیدگی سے کہا اس کو زرجان کی آنکھوں میں چمک دیکھ کر اُلجھن ہوتی تھی۔

سوری اگر میرا آنا آپ کو بُرا لگا ہو تو۔زرجان ٹیبل سے اپنا فون اٹھاکر کہتا آفس سے باہر نکل گیا ماہا بس اس کو دیکھتی رہ گئیں جو خوامخواہ اُس کو اٹیٹیوڈ دیکھا کر جاچُکا تھا۔

اب یہ اسٹوڈنٹس اپنے ٹیچرز کو نخرے دیکھائے گے۔ماہا بڑبڑاہٹ میں کہتی کام میں بزی ہوگئ۔

کیسے ہو سنا ہے تمہارے بھائی کی شادی ہونے والی ہے۔زرجان سیڑھیوں کے پاس بیٹھا ماہا کو سوچ رہا تھا جب عروہ ساتھ میں بیٹھتی پوچھنے لگی یا بتانے لگی زرجان سمجھ نہ پایا۔

ہمم ٹھیک سنا ہے۔زرجان نے بس اتنا کہا

اپسیٹ ہو۔عروہ نے اُس کے بازوں پہ اپنا ہاتھ رکھ کر پوچھا زرجان نے گردن موڑ کر اس کی طرف دیکھا جو میٹھی نظروں سے اُس کو دیکھ رہی تھی زرجان واقف تھا کے وہ اس کے لیے جذبات رکھتی ہے پر زرجان بس تھوڑی بہت باتیں فرزام کی وجہ سے کرلیتا تھا اب بھی وہ بس یہی سوچ رہا تھا جب وہ جان گیا تھا عروہ کے دل کا حال تو کیا ماہا نہیں سمجھ پائی ہوگی کے وہ اس کے لیے کیا محسوس کرتا ہے۔

کہاں گم ہوگئے؟عروہ نے مسکراکر پوچھا۔

تمہاری کلاس نہیں کیا آج؟زرجان اس کی بات ٹال کر بولا۔

ہے پر تمہیں یہاں دیکھا تو آگئ۔عروہ نے آرام سے جواب دیا۔

میرے بارے میں جو خیالات تمہارے دماغ کے اندر پل رہے ہیں ان کو نکال دو۔زرجان نے سنجیدگی سے کہا عروہ کے چہرے پہ سایہ لہرایا۔

بات دماغ کی نہیں زر دل کی ہے اور عروہ دل کے سامنے بے بس ہے۔عروہ خود کو کمپوز کرتی اپنا سر زرجان کے بازوں پہ رکھا عروہ کی حرکت پہ زرجان کو کرنٹ سا لگا تھا لائبریری جاتی ماہا نے افسوس سے یہ منظر دیکھا تھا مگر وہ اپنا سر نفی میں ہلاتی وہاں سے ہٹ گئ۔۔

حد میں رہو اپنی۔زرجان اپنی جگہ سے کھڑا ہوتا تنیبیہ کرتی نظروں سے اس کو دیکھتا بولا

محبت میں کوئی حد نہیں ہوتی۔عروہ ڈھٹائی سے بولی

بکواس بند کرو اپنی۔زرجان آپے سے باہر ہوتا بولا۔

تم ہر بار مجھے نظرانداز کردیتے ہو پر یاد رکھنا آنا تمہیں میرے پاس ہی ہے نہیں تو۔۔۔عروہ کہتی کہتی رُک گئ۔

نہیں تو کیا بولو نہیں تو کیا دھمکی دے کس کو رہی ہو زرجان میر نام ہے میرا اِن ٹھرڈ کلاس دھمکیوں سے میں نہیں ڈرنے والا۔زرجان طنزیہ مسکراہٹ سے بولا۔

میں دھمکی نہیں دے رہی اگر تم نے میرے علاوہ کسی اور کے ہونا کا سوچا تو آے سویئر میں اپنی جان لے لوں گی۔عروہ نے سرخ آنکھوں سے زرجان کو دیکھ کر کہا۔

میری بلا سے تم آج مرجاؤ۔زرجان سفاکی سے کہتا یونی کے ایکزیٹ دروازے کی طرف بڑھا عروہ دھندلی نظروں سے زرجان کو خود سے دور جاتا دیکھا جانے کتنے آنسو اس کی آنکھوں سے گِر کر بے مول ہوئے تھے۔

وہ محبت کجھ ادھوری سی لگی!!!!!

پاس ہوکر بھی دوری سی لگی!!!!

“ہونٹوں میں ہنسی آنکھوں میں نمی”

پہلی بار کسی کی ضرورت اتنی ضروری لگی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

شاہ ویر مسکراتا حیات کی بھیجی ہوئی تصویریں دیکھ رہے تھا جب مرجان کو اندر آتا دیکھا تو فون کی اسکرین بند کرتا اس کی طرف متوجہ ہوا۔

منہ کیوں اُترا ہوا ہے؟شاہ ویر نے پوچھا۔

کیا میں سہی کررہا ہوں؟مرجان نے پوچھا

تم تو فلحال کجھ نہیں کررہے۔شاہ ویر نے معلومات فراہم کی۔

میں سیریس ہوں اور میں اپنی شادی کی بات کررہا ہوں۔مرجان نے گھور کر شاہ ویر سے کہا

تمہیں اس لڑکی سے محبت نہیں تھی اب جو ہے وہ پچھتاوا ہے اِس لیے جو ہورہا ہے وہ ہونے دو۔شاہ ویر نے سنجیدگی سے کہا

میں ملیحہ کو بتانا چاہتا ہوں میں نہیں چاہتا پھر ہمارے درمیان بحث ہو۔مرجان نے کہا

کرکے دیکھ لو میرا نہیں خیال یہ غلط ہے۔شاہ ویر نے کہا

وہ مجھے سمجھے گی تو سہی نہ؟مرجان نے پوچھا۔

پتا نہیں۔شاہ ویر کے کندھے اُچاکر کہا۔

💕
💕
💕
💕

رات کا وقت تھا شاہ میر کی آج ضروری میٹینگز تھی جس وجہ سے اُس کو آنے میں دیر ہوگئ تھی شاہ میر اپنے کمرے میں جارہا تھا جب کجھ دوری پہ زرجان کے کمرے کی لائٹ آن دیکھی شاہ میر نے آنکھیں چھوٹی کرکے کمرے کو دیکھا پھر اپنی کلائی میں بندھی ریسٹ واچ پہ ٹائم دیکھا جو دو بجے کا بتارہی تھی۔شاہ میر کجھ سوچ کر زرجان کے کمرے کے پاس آکر آہستہ سے دروازے کے ہینڈل پہ ہاتھ رکھ کر کھولا شاہ میر نے کمرے کے چاروں طرف نظر گھمائی بیڈ خالی تھا زرجان کا کمرہ براؤن کلر کے تھیم سے ڈیکوریٹ تھا پر ڈریسنگ ٹیبل بیڈ اور صوفے وائٹ کلر کے تھے۔شاہ میر واپس جانے والا تھا پر بالکنی پہ جب اس کی نظر پڑی تو اس کو اپنی بینائی پہ یقین نہیں آیا شاہ میر بالکنی کے پاس آتا گلاس وال کے پار زرجان کو نماز پڑھتا دیکھ کر جتنی اُس کو حیرت ہوئی شاید ہی کبھی ہوگی وہ جانتا تھا مرجان زرجان نماز پڑھتے تھے پر تہجد یہ اُس کے لیے نئ بات تھی وجہ کجھ جو اس کے دل میں وہم آگئے تھے ایک یہ بھی وجہ تھی جو شاہ میر جھٹلا رہا تھا پر آج زرجان کو سفید کُرتے شلوار پہنے مگن انداز میں نماز پڑھتا دیکھ کر جیسے یقین ہوگیا تھا۔شاہ میر زرجان کے کمرے سے باہر آتا اپنے کمرے میں آیا جہاں مہرماہ اُس کے انتظار میں صوفے پہ ہی سوچُکی تھی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

ماہا تم نے اپنا جیجا دیکھا ہے۔ملیحہ نے اشتیاق سے ماہا سے پوچھا جو اس کے پاس بیٹھی اپنے یونی کا کام کررہی تھی۔

نہیں۔ماہا نے سپاٹ انداز میں کہا۔

بڑی بے مروت ہو اکلوتے جیجا کو نہیں دیکھا۔ملیحہ کو حقیقتً ماہا کی بات پہ افسوس ہوا۔

بے مروت کی کیا بات ہے کل مہندی پہ اچھے طریقے سے مل لوں گی۔ماہا پُراسرار مسکراہٹ سے بولی۔

ٹھیک اچھے سے ملنا مہندی کا فنکشن تو ویسے بھی ہم چاروں کا کمبائن ہے۔ملیحہ نے پرجوش ہوکر کہا۔

بے فکر رہو اچھے سے ہی ملوں گی۔ماہا نے ملیحہ کو دیکھ کر تسلی کروائی جو ابھی تک مایوں کے ڈریس میں ملبوس تھی۔

💕
💕
💕
💕
💕

اپسیٹ ہو؟مہرماہ ٹیوی لاؤنج میں شاہ میر کے پاس بیٹھ کر بولی شادی کی وجہ سے اب شاہ میر نے آفس جانا بند کیا تھا باقی سب بھی کل کے فنکشن کی تیاریوں میں بزی تھے جو ہوٹل میں ہونا طے پایا تھا۔

ماہ زر بڑا ہوگیا ہے۔شاہ میر کی بات مہرماہ کے سر پہ سے گُزری۔

یہ بات اب پتا چلی ہے تمہیں جب وہ اکیس سال کا ہونے والا ہے۔مہرماہ نے کہا

ماہ زر محبت کرنے لگا ہے۔شاہ میر نے پرسوچ انداز میں کہا۔

شاہ مذاق کرنے کا موڈ ہے تمہارا؟مہرماہ شاہ میر کی بات پہ حیران تو ہوئی تھی جس پہ قابوں پاکر وہ بس اتنا بول پائی۔

میں سنجیدہ ہوں

زر کسی لڑکی کو آنکھ اُٹھاکر نہیں دیکھتا تم محبت کی بات کررہے ہو۔مہرماہ کو یقین نہیں آرہا تھا۔

نظریں نہ بھی ملے تو محبت ہوجاتی ہے۔شاہ میر نے سکون سے کہا۔

یہ بھی بتادو کس سے کیونکہ میرا بیٹا تمہارے جیسا نہیں جو کم عمری میں محبت کا روگ پالے۔مہرماہ کی بات پہ شاہ میر کا دل کیا زور سے ہنسے۔

ماہا ریان سے زرجان میر کو عشق ہوگیا ہے۔شاہ میر نے کہا مہرماہ کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئ تھی۔

شاہ تمہیں نیند کی ضرورت ہے زر کیا اتنا بیوقوف ہے جو استاد اور شاگرد کے درمیان کا رشتہ سمجھ نہ پائے دوسرا بات ماہا چھ سال زر سے بڑی ہے اُس نے مرجان سے شادی پہ انکار کیا زر سے تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔مہرماہ ایک سانس میں بول پڑی۔

ماہ محبت بتاکر نہیں ہوتی میں نے پہلے بھی آپ سے کہا تو محبت عمر نہیں دیکھتی جب انسان کو کسی سے محبت ہوتی ہے نہ تو فرق نہیں پڑتا سامنے والا کیسا ہے اس کی ظاہری شخصیت کسی ہے محبت کا تعلق روح سے ہوتا ہے اور بس۔شاہ میر کھوئے ہوئے انداز میں کہا۔

محبت میں تو تم نے جیسے پی ایش ڈی کی ہے کہ شاہ بات کو آگے بڑھنے کا انتظار مت کرو زر کو۔سمجھاؤ وہ جس کشتی پہ خود کو سوار کررہا ہے اس کی کوئی منزل نہیں۔مہرماہ نے پریشان کن لہجے میں شاہ میر سے کہا۔

رلیکس ماہ آپ کیوں پریشان ہورہی ہیں ماہا زر کی طلب اس کا عشق بن گئ ہے میں یا آپ کجھ نہیں کرسکتے۔شاہ میر نے سنجیدہ انداز میں کہا

کوئی طلب نہیں نادانی ہے اس کی۔مہرماہ شاہ میر کی بات سن کر بھڑک اُٹھی۔

ماہ جب طلب بڑھتی ہے نہ تو ہاتھ خودبخود اللہ کے آگے پھیل جاتے ہیں بات ساری طلب کی ہوتی ہے میں نے زر کے ہاتھوں کو اللہ کے سامنے پھیلاتے دیکھا ہے۔شاہ میر نے آرام سے کہا

شاہ جو تم نے کیا میں نہیں چاہتی زر بھی ایسا کرے کجھ۔مہرماہ نے دو ٹوک انداز میں کہا شاہ میر کے چہرے کے تاثرات یکدم بدلے تھے۔

میں نے کیا کیا ماہ کیا ہمارا ایک ہونا غلط ہے کیا میں نے کبھی آپ کو ایسا محسوس کروایا کجھ کیا کبھی میری محبت میں ملاوٹ محسوس ہوئی آپ کو یا میں نے کبھی آپ کی کسی بات پہ اعتراض اٹھایا۔شاہ میر کو مہرماہ کی بات بُری لگی تھی مہرماہ بھی اپنے کہے پہ شرمندہ ہوگئ تھی۔

میرا وہ مطلب نہیں تھا شاہ۔مہرماہ نے وضاحت کرنا چاہی۔

جو بھی تھا مجھے آپ کا یہ کہنا اچھا نہیں لگا۔شاہ میر صاف گوئی سے بولا۔

ماہا نہیں مانے گی ریان مہرین تمہاری وجہ سے مان بھی گئے تو اور میں اپنے بیٹے کی وہ حالت نہیں دیکھ سکتی جو بہت سال پہلے میرے انکار پہ تمہاری ہوئی تھی یہ تھا میری بات کا مطلب۔مہرماہ سنجیدگی سے کہتی لاونج سے چلی گئ شاہ میر اپنی آنکھیں زور سے میچتا سر ہاتھوں میں گِرادیا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

آج مہندی کی تقریب تھی جو کی ہوٹل میں کمبائن منعقد تھی۔سارے مہمان آچکے تھے تینوں فیملیز بھی آچکی تھی سوائے ماہا کے جس کو تیار ہونے میں وقت درکار تھا اِس لیے اس نے بعد میں آنے کو ترجیح دی مہرین کے اصرار کے باوجود بھی اس نے منع کردیا کہ وہ ولی کو بلادے گی۔

زرجان بے چینی سے انٹرنس کی طرف دیکھتا ماہا کا انتظار کررہا تھا زرجان نے آج براوٴن کلر کے شلوار قمیض پہنا ہوا تھا بالوں کو پیچے کی طرف سیٹ کیا ہوا تھا چہرے پہ تازی کی ہوئی شیو میں وہ بہت ڈیشنگ لگ رہا تھا پیروں میں پیشاوری چپل پہنی ہوئی تھی جب کی ہاتھ کی کلائی میں ڈیجیٹل واچ تھی۔

ماہا کہاں ہیں مہندی کی رسم شروع ہونے والی ہے؟مہرین نے دھیمی آواز میں کال پہ ولی سے پوچھا ماہا نام پہ زرجان جو پاس کھڑا تھا الرٹ ہوکر مہرین کو دیکھا جو کجھ پریشان نظر آرہی تھی۔

اچھا میں بھیجتی ہوں کسی کو۔مہرین اتنا کہہ کر کال کاٹ گئ۔

کیا ہوا آنٹی سب خیریت؟زرجان نے مہرین سے پوچھا۔

زر کیا تم میرا ایک کام کرسکتے ہو؟مہرین نے جھجھک کر پوچھا۔

شیور آپ بتائے۔زرجان نے خوشدلی سے کہا۔

ولی لینے جارہا تھا ماہا کو پر راستے میں اس کی گاڑی خراب ہوگئ تم جاکر ماہا کو لیں آسکتے ہو مہندی کی رسم ہونے والی ہے ماہا کا یہاں ہونا ضروری ہے۔مہرین کی بات پہ زرجان نے بمشکل اپنے چہرے پہ آتی مسکراہٹ کو روکا تھا۔

وائے ناٹ میں ابھی جاتا ہوں۔زرجان نے کہا

شکریہ بیٹا۔مہرین شکر کا سانس ادا کرتی بولی۔

پیاری لگ رہی ہوں۔مرجان نے سامنے دیکھتے ہوئے پاس بیٹھی ملیحہ سے کہا جو لہنگا چولی پہنے ہوئے تھی بیوٹیشن نے چہرے پہ نفاست سے میک اپ کیا ہوا تھا جس سے وہ بہت خوبصورت نظر آرہی تھی۔

آپ بھی پیارے لگ رہے ہیں۔ملیحہ مرجان کی بات سن کر مسکراکر بولی۔مرجان نے سفید کُرتا شلوار زیب تن کیا تھا ساتھ میں براوٴن واسکٹ پہنے وہ بہت جاذب نظر آرہا تھا۔

میں تو ہمیشہ لگتا ہوں۔مرجان نے مغرور لہجے میں کہا۔

خوشفہمیاں۔ملیحہ نے چڑانے والے انداز میں کہا۔

۔۔۔۔۔۔

کیا ایسا ہوسکتا ہے مہندی کے ساتھ ہمارا نکاح بھی ہو۔شاہ ویر نے بے صبری سے حیات سے کہا جس نے آج آف وائٹ شلوار قمیض پہنا تھا بال کھلے ہوئے تھے جب کی بیچ مانگ میں جھومر لٹک رہا تھا اُس سے وہ اِتنی پیاری لگ رہی تھی کے شاہ ویر کا بس نہیں چل رہا تھا وہ حیات کو کہیں چُھپالیں جہاں اُس کے علاوہ اور کوئی نہ دیکھے خود شاہ ویر بھی مرجان کی طرح ڈریسنگ کیے ہوئے تھا جس میں دونوں ایک دوسرے کو ٹکر دے رہے تھے۔

نہیں ڈیئر فیوچر ہبی۔حیات نے شرارت بھری نظروں سے دیکھ کر کہا۔

ایک دن انتظار کرلیتے ہیں پھر۔شاہ ویر دل مسوس کرتا بولا جس پہ حیات کا قہقہ گونجا شاہ میر اپنی بیٹی کا چمکتا چہرہ دیکھ کر مطمئن سا تھا مگر پاس کھڑی بلیک کلر کی نفیس سلک کی ساڑھی پہنے مہرماہ کا دل کیا اپنی بیٹی کی حرکت پہ ماتھا پیٹ لیں جو اپنی مہندی کے دن بھی سب مہمانوں کی موجودگی میں گلا پھاڑ پھاڑ کر ہنس رہی تھی۔

میں آتی ہوں۔مہرماہ ساڑھی کا پلو ہاتھ میں پکڑتی شاہ میر سے بولی۔

حیات سے کجھ مت کہئیے گا۔شاہ میر نے درخواست کی۔

مہندی کے دن ایسے کون کرتا ہے شاہ۔مہرماہ چڑ کر بولی

ہماری حیات کررہی ہے۔شاہ میر نے مسکراکر جواب دیا مہرماہ بس اُس کو دیکھتی رہ گئ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زرجان نے گاڑی باہر پارک کی خود گھر کے باہر دروازے پہ بیل دی تو ماہا باہر نکل آئی ماہا کو ہتھیارلیس دیکھ کر زرجان کے چودہ طبق روشن ہوگئے تھے زرجان کو آج اپنا آپ سنبھالنا بے حد مشکل لگا ماہا نے گولڈن کلر کا لہنگا پہنا ہوا تھا جس کا ڈوپٹہ نیٹ کا تھا جو اُس نے ایک شانے پہ ٹِکا کر بیچ میں کمر بند باندھا ہوا تھا کمر کے نیچے آتے بھورے اسٹریٹ بال کھلے ہوئے تھے جو کجھ کندھے پہ تھے تو کجھ پشت پہ پڑے تھے خوبصورت چہرے پہ لائٹ سا میک اپ ہونٹوں پہ ڈارک ریڈ لپ اسٹک لگائے وہ زرجان کی سانسیں اتھل پُتھل کرنے کا سبب بنی ہوئی تھی ماہا کو زرجان کا یوں دیکھنا عجیب لگا۔

نیند میں چلے گئے کیا؟ماہا نے ہاتھ اس کے چہرے کے سامنے لہراکر پوچھا جس سے اس کے ہاتھوں میں پہنی چوڑیوں کی چھنک سے زرجان ہوش میں آیا زرجان کو لگا جیسے ہر چیز ساکت ہوگئ ہو زرجان نے اپنا ہاتھ دل پہ لگا جو ایسے دھڑک رہا تھا جیسے ابھی باہر نکل آئے گا۔

آپ اتنا تیار کیوں ہوئی ہیں۔زرجان اس کے سراپے سے نظریں چُراتا بس یہی بول پایا۔

میری بہن کی شادی ہے۔ماہا نے جتانے والے انداز میں کہا جس سے زرجان چاہ کر بھی ماہا کو نہیں دیکھا وہ جانتا تھا اگر اس نے دیکھا تو اپنی نظریں ہٹا نہیں پائے گا اور نہ ہی اپنے اندر چھپے جذبات کو وہ اپنے تک رہنے دے گا وہ جو پہلے ہی اس کے سادہ حُلیے میں ہی دھڑکن روکنے کی سبب بنتی مگر آج تو وہ شاید پورا مارنے کا ارادہ کیے ہوئے تھی۔

چلیں میں آلریڈی دیر کرچکی ہوں۔ماہا نے خاموش کھڑے زرجان سے کہا ماہا کو آج زرجان ٹھیک نہیں لگا۔

جی آئے۔زرجان نے سرہلاتے ہوئے کہا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ثانیہ نے حیات کو مہندی لگادی تھی اب بس باقی لوگ باری باری رسم ادا کررہے تھے۔اسٹیج کی دوسری سائیڈ پہ مہرماہ ملیحہ کو مہندی لگا رہی تھی مہرین نے میٹھائی کا پیس مرجان کے کِھلانے کی طرف بڑھایا مرجان نے جیسے ہی ہلکا سا منہ کُھولا تو نظر سامنے آتی ہستی پہ پڑی تو اس کے منہ کے ساتھ ساتھ آنکھیں بھی پوری کی پوری کُھل گئ مرجان کو لگا وہ کوئی خواب دیکھ رہا تھا مگر وہ خواب نہیں حقیقت بن کر اُس کے سامنے تھی۔

ماہی۔مرجان کے لب پھڑپھڑائے۔مہرین جو میٹھائی پیس لیکر بیٹھی تھی پر مرجان کو ساکت انٹرنس کی طرف دیکھتا پھر ماہی نام لیکر سنا تو اس نے پلٹ کر دیکھا تو سامنے ماہا زرجان کے ساتھ آرہی تھی مہرین نے ماہا کو دیکھا تو دل ہی دل میں اُس کی نظر اُتاری۔

ماشااللہ کتنے پیارے لگ رہے ہیں نہ دونوں۔مہرماہ اسٹیج سے نیچے آئی تو شاہ میر نے ماہا اور زرجان کو ایک ساتھ آتا دیکھا تو کہا جو واقع ایک دوسرے کے ساتھ بہت اچھے لگ رہے تھے ہر ایک کی نظر ان پہ ٹھیرگئ تھی دونوں کو دیکھ کر کوئی کہہ نہیں سکتا تھا کہ اِن کے بیچ چھ سال کا فرق ہے زرجان اپنے لمبے قد چوڑے سینے اور مضبوط مسلز سے اپنی عمر سے کجھ بڑا لگ رہا تھا۔

فضول مت بولو۔مہرماہ نے گھور کر کہا۔

اسلام علیکم!!!!!جیجا جی۔۔۔۔ماہا اسٹیج پہ آتی مرجان کی طرف دیکھ کر مسکراکر بولی زرجان بھی مرجان کی ایک سائیڈ پہ کھڑا ہوگیا تھا اس کی نظر ماہا کے نمایاں ہوتے ڈمپل پہ پڑی تو اپنا دل ڈوپ کے اُبھرتا محسوس ہوا۔

مرجان ساکت سا بس ماہا کو دیکھ رہا تھا جو آج دس سال بعد اس کے روبرو کھڑی تھی اِن دس سالوں میں وہ ایک پل کے لیے بھی ماہا کو نہیں بھولا تھا جس سے اُس کو ایک لمحہ بھی مشکل نہیں ہوئی ماہا کو پہچان نے میں جو بلکل ویسے ہی تھی بس خوبصورت پہلے سے زیادہ ہوگئ تھی مرجان کا گلا خشک ہوگیا تھا۔ماہا طنزیہ مسکراہٹ سے مرجان کو دیکھ رہی تھی۔

ملی جیجا جی نے جواب نہیں دیا۔ماہا نے مصنوعی اُداس بھرے لہجے میں کہا۔

وہ شاید مرجان پہلی بار دیکھ رہا ہے نہ مرجان یہ میری بہن ہے ماہا۔ملیحہ نے مسکراکر ماہا سے کہا پھر مرجان سے ماہا کا تعارف کروایا۔

اوو اچھا پہلی بار تو واقع ہم مل رہے ہیں میرا نام ماہا ریان ہے آپ کی سالی ہونے کا رتبہ مجھے ملنے والا ہے۔ماہا نے مسکراکر کہا زرجان پہلی بار ماہا کے چہرے پہ مسکراہٹ دیکھ رہا تھا جو بہت خوبصورت تھی مگر زرجان کو اچھا نہیں لگ رہا تھا وہ مرجان سے ایسے بات کررہی تھی اُس کا دل کررہا تھا جب جب ماہا مسکرائے اُس کے لیے مسکرائے اور اُس وجہ سے مسکرائے نہ کے کسی اور کی وجہ سے زرجان خود کو زرنش کرتا نظریں جھکاگیا تھا جو آج بے ایمان ہونے کو تھی دور کھڑی عروہ نے جلتی آنکھوں سے زرجان کی محویت نوٹ کی تھی۔

صرف باتیں کرو گی یا رسم بھی کرو گی۔مہرین نے کہا تو ماہا نے سر پہ ہاتھ مارا۔

اوپس سوری میں بھول گئ۔ماہا اتنا کہتی رسم ادا کرنے لگی بیک گراؤنڈ میں پہلے جو ہلکہ سا میوزک بج رہا تھا وہ اب تیز ہوگیا تھا سب لوگ اب ڈانس فلور کی طرف آتے ڈانس کرنے میں مگن تھے جو اسٹیج کے پاس ہی تھا شاہ ویر حیات کا ہاتھ پکڑتا لایا تھا اب دونوں بھی ہلکے ہلکے ڈانس کے اسٹیب کررہے تھے ملیحہ مسکراکر سب دیکھ رہی تھی جب کی مرجان ابھی صدمے کے زیر اثر تھا اس کو اپنا وجود زلزلوں کی زد میں آتا محسوس ہورہا تھا ماہا پرسکون ہوتی مرجان کی حالت دیکھ رہی تھی آج اتنے سال بعد اس کے جلتے دل کو قرار ملا تھا۔

کین وی ڈانس۔زرجان اپنا ہاتھ ماہا کے سامنے کرتا بولا۔ماہا نے ایک آئبرو اُپر کرکے زرجان کو دیکھا۔

ابھی تو ہم یونی میں نہیں سو ہمارے بیچ ٹیچر اسٹوڈنٹ کا رشتہ نہیں۔زرجان نے چمکتی نظروں سے اس کو دیکھ کر کہا کوئی اور وقت ہوتا تو ماہا انکار کردیتی مگر آج اُس کا موڈ بہت اچھا تھا جس وجہ سے اس نے اپنا نازک ہاتھ زرجان کے ہاتھ پہ رکھا زرجان کتنے پل بے یقین سا اپنے ہاتھ کے اُپر ماہا کے ہاتھ کا لمس محسوس کرتا رہا تھا پھر اپنا ہاتھ زور سے بند کیا جس میں ماہا کا ہاتھ تھا۔

زرجان ماہا کو لیکر اسٹیج پہ آیا تبھی میوزک چینج ہوگیا تھا مگر پھر جو سونگ آن ہوا تھا ماہا کے ساتھ ساتھ زرجان کے ہوش بھی اُڑ گئے تھے کہاں اُس نے رومانٹک سا گانا ڈی جے کو پلے کرنے کا کہا تھا اور اب اُس نے جانے کسی صدی کا سونگ چلایا ہوا تھا۔

یہ کیا ہے۔ماہا نے کینہ توز نظروں سے زرجان کو دیکھ کر کہا جو خود پریشان سا تھا کیونکہ سب لوگوں کی نظریں ان پہ تھی جو گانا شروع ہونے کے بعد بھی بس چپ کھڑے تھے۔شاہ میر،حیات،شاہ ویر گھر کے باقی سب لوگ بھی دلچسپی سے ان کو دیکھ رہے تھے

پتا نہیں میں خود نہیں جانتا سنگر کیا بول رہا ہے کیا گا رہا ہے۔زرجان نے منمناتے ہوئے کہا۔

ڈانس آتی تو ہے نہ؟ماہا نے کنفرم کرنا چاہا۔

بلکل آتی ہے جو چل رہا میں تو اُس میں بھی سلمان خان کو پیچھے چھوڑ دوں۔زرجان نے گردن اکڑاکر کہا

تمہیں تو کجھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔ماہا نے طنزیہ کہا تو زرجان چپ ہوگیا۔

آجا نہ چھولے میری چنڑی

صنم کجھ نہ بولوں تجھے

میری قسم۔

زرجان ہونک سا ماہا کو دیکھ رہا تھا جو اب ماہرانہ طریقے سے ڈانس کے اسیٹپ لے رہی تھی ساتھ میں اپنے لہنگے کو بھی گُھما رہا تھا۔

آج تو میں گیا۔زرجان بالوں میں ہاتھ پھیرتا بڑبڑایا۔

آئی جوانی سر پہ میرے

تیرے پہ کیا کروں جوانی

بے رحم۔

آجا نہ چھولے میری چنڑی

صنم کجھ نہ بولوں تجھے

میری قسم۔

آئی جوانی سر پہ میرے

تیرے پہ کیا کروں جوانی

بے رحم۔

آجا نہ چھولے میری چنڑی

صنم کجھ نہ بولوں تجھے

میری قسم۔

چنڑی۔۔۔۔۔۔۔۔چنڑی۔۔۔۔

چنڑی۔۔۔۔۔۔۔۔چنڑی۔۔۔

۔۔۔۔۔چنڑی۔۔۔۔۔۔۔۔

حیات نے شاہ ویر کے کان میں کجھ کہا جس پہ شاہ ویر کی آنکھیں بھی شرارت سے چمک اُٹھی پھر وہ دونوں اُٹھ کر ملیحہ اور مرجان کے پاس آئے ملیحہ کے بار بار منع کرنے کے بعد بھی حیات نے اس کو اپنے ساتھ کھڑا کیا جب کی مرجان کو شاہ ویر اسٹیج پہ لے آیا۔

میری چنڑی لال رنگ کی شرمائے گھبرائے

توں جو ڈالے اُس پہ نظر تو اور لال ہوجائے۔

چنڑی۔۔۔۔۔۔۔۔ چنڑی

چنڑی۔۔۔۔۔۔چنڑی۔۔۔۔

۔۔۔۔۔چنڑی۔۔۔۔

ماہا نے اپنا گولڈن کلر کا ڈوپٹہ لہراتے زرجان کو دیکھ کر ڈانس کے اسٹیپ کیے جس پہ زرجان اس کے پاس آیا۔

تیری چنڑی لپٹ لپٹ کر

پاگل مجھے بنائے پہلے سے

ہی تڑپ رہا تھا اور مجھے تڑپائے

جانے تمنا کرنا ایسے ستم

زرجان ماہا کے گرد گھومتا آس پاس سے بیگانہ ہوگیا تھا ماہا مسکراکر اس کی طرف پلٹی تھی زرجان سانس روکے بس اس کو دیکھ رہا تھا۔

کجھ نہ میں بولوں مجھے

میری قسم

آئی جوانی سر پہ میرے

تیرے پہ کیا کروں جوانی

بے رحم۔

آجا نہ چھولے میری چنڑی

صنم کجھ نہ بولوں تجھے

میری قسم۔

آئی جوانی سر پہ میرے

تیرے پہ کیا کروں جوانی

بے رحم۔

آجا نہ چھولے میری چنڑی

صنم کجھ نہ بولوں تجھے

میری قسم۔

چنڑی۔۔۔۔۔۔۔۔چنڑی۔۔۔۔

چنڑی۔۔۔۔۔۔۔۔چنڑی۔۔۔

۔۔۔۔۔چنڑی۔۔۔۔۔۔۔۔

ماہا نے ڈانس کرنے وقت انجانے میں اپنا ہاتھ عین زرجان کے سینے پہ دل کے مقام پہ رکھا تھا اور اپنے قدم اس کی طرف بڑھائے تو زرجان نے آہستہ سے اپنے قدم پیچھے کی طرف لیے۔

گانا ختم ہوتے ہی ماہا فورن سے اسٹیج سے اُتر گئ تھی زرجان ساکت سا گزرے پلوں کے زیر اثر تھا مگر فرزام اس کو نیچے لیں آیا تھا اسٹیج سے۔

آج تو بڑی سشمیتا بنی ہوئی تھی۔ماہا پانی پی رہی تھی جب ملیحہ پاس آتی شرارت سے بولی

بکواس نہیں کرو۔ماہا نے مصنوعی گھوری سے نواز کر کہا۔

افف اتنا غصہ ویسے میں نے بہت وقت بعد تمہاری ڈانس کرتا دیکھا تمہارا ڈریم تھا نہ پڑھائی کے ساتھ لنڈن میں بیسٹ ڈانسر بننے کا۔ملیحہ نے مسکراکر کہا

ہاں تھا۔ماہا سنجیدہ ہوکر بولی۔

ملیحہ اللہ کو مانو کیوں شرمندہ کرنے پہ تُلی ہو تمہاری جگہ یہ نہیں وہاں جاؤ اسٹیج پہ تاکہ لگے لڑکی میں کجھ شرم حیا ہے۔مہرین سخت لہجے میں ملیحہ سے بولی۔

شرم آئے تو شرماؤں نہ۔ملیحہ کوفت سے کہتی کھڑی ہوئی اُس کا رخ اب اسٹیج کی طرف تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میم ماہا تو آج بہت الگ نظر آرہی ہے۔احتشام حیرت سے بولا۔

کافی منفرد ان کے چہرے پہ سنجیدگی سے زیادہ یہ مسکرانا سوٹ کررہا ہے۔فرزام اس بات پہ متفق ہوتا بولا۔

ٹیچر کے ساتھ کون ڈانس کرتا ہے اور کون ایسے گھور گھور کر دیکھتا ہے۔عروہ زرجان سے بولی جو ان کے ساتھ ہوکر بھی نہیں تھا۔

لینگویج دیکھو اپنی۔زرجان نے ڈپٹ کر کہا اس کو اپنی سوچو میں عروہ کا خلل ڈالنا ایک آنکھ نہیں بھایا تھا۔

عروہ تم اپنی دوستوں کے پاس جاؤ۔فرزام نے نرمی سے کہا۔

بٹ بھائی۔عروہ نے کجھ کہنا چاہا پر زرجان وہاں سے چلاگیا تو وہ خاموش ہوگئ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *