Ishq Qaid Season 2 by Rimsha Hussain NovelR50563 Ishq Qaid Season 2 (Episode 23)
Rate this Novel
Ishq Qaid Season 2 (Episode 23)
Ishq Qaid Season 2 by Rimsha Hussain
کیا تم ملیحہ کو پسند کرتے ہو؟شاہ ویر نے مرجان کی ساری بات سن کر پوچھا
پتا نہیں بس دل کی حالت عجیب ہے میں مما کو پہلے انکار کرنا چاہتا تھا ڈیڈ سے بھی بات کرتا پر جانے کیوں ریان انکل سے بات کرے گے یہ سن کر میں انکار نہیں کرپایا۔مرجان نے اُلجھے ہوئے لہجے میں کہا۔
ہممم تو جناب کو محبت ہوگئ ہے۔شاہ ویر نے چھیڑنے والے انداز میں کہا۔
ویر اگر اُس کو پتا چل جائے گا میں نے ایک لڑکی کو دھوکہ دیا ہے تو کیا وہ میرے ساتھ رہنا پسند کرے گی؟مرجان نے سوال کیا
شادی کے بعد لڑکی اپنا سب کجھ شوہر کو مان لیتی ہے ایسے میں اگر اس کو پتا چل بھی گیا تو وہ ناراض ہوگی چیخے گی پھر کمپرومائز کرے گی ویسے بھی ہر انسان کا ماضی ہوتا ہے۔شاہ ویر نے آرام سے کہا
میں نہیں چاہتا ہم سے کوئی کمپرومائز کرنے والی زندگی گُزارے۔مرجان نے سنجیدگی سے کہا
تو پھر کوشش کرنا یہ بات اس کو پتا نہ لگے۔شاہ ویر نے کندھے اُچکاکر کہا۔
عمر بڑھ یوں ہی غلطی کرتے رہے غالب
دھول چہرے پہ تھی اور میں آئینہ صاف کرتے رہے






خیریت تو ہے یہ اتنا سب کجھ۔ریان نے حیرت سے شاہ میر کو دیکھا جو مسکراکر سارا سامان ملازم سے کہہ کر اندر کروا رہا تھا ملیحہ بھی سائیڈ پہ مٹھائیوں کے ٹوکرے اور دیگر سامان دیکھ رہی تھی زرجان کی بے چین نظرے یہاں وہاں ماہا کو تلاش کررہی تھی جو جانے کہاں تھی۔
بتاتا ہوں پہلے بیٹھنے تو دو۔شاہ میر نے مسکراکر کہا پھر سب ڈرائینگ روم کی طرف آئے۔
میں نے فون پہ بتایا تھا نہ ایک خاص مقصد کے لیے یہاں آنے والیں ہیں۔شاہ میر نے کجھ باتوں کے بعد ریان سے کہا۔
پہلے ماہا تو بلائے۔مہرماہ نے مہرین سے کہا۔
ماہا کے سر میں درد تھا وہ آرام کررہی ہے۔مہرین نے جھجھک کر بتایا۔
اچھا تو پھر رہنے دے۔مہرماہ نے عام انداز میں کہا
میر اب تم بات شروع کرو ورنہ مجھے بے چینی لگی رہے گی۔ریان نے کہا زرجان اپنی جگہ پہلو بدل کر رہ گیا ملیحہ کو بھی تجسس ہو کے جانے کیا بات ہوگی۔
ہم یہاں
واشروم کس طرف ہے مجھے جانا تھا وہان۔شاہ میر کی بات بیچ میں ہی تھی جب زرجان اپنی جگہ اٹھ کر بولا۔
میں لیکر چلتی ہوں۔ملیحہ نے مسکراکر کہا
نہیں آپ بتادے میں خود سے چلا جاٶں گا۔زرجان نے کہا
اوپر سیدھا جاکر رائٹ پہ جانا وہاں ولی کا روم ہے تم اُس کا واشروم یوز کرلوں۔ملیحہ نے بتایا تو زرجان بنا کسی پہ نظر ڈالے اوپر کی طرف گیا۔
ملیحہ تم ریفریشمنٹ کا بندوبست کرو۔مہرین نے ملیحہ سے کہا
ٹھیک ہے۔ملیحہ کہہ کر اپنا رخ کچن کی طرف کیا۔
زرجان نے کمرے کا دروازہ کھولا تو سامنے کا منظر دیکھ کر بے ساختہ اُس نے اپنی نظروں کا رخ دوسری طرف کیا۔
ماہا اپنا دکھتا سر دباتی شاور لینے کے لیے واشروم گئ تھی شاور سے فارغ ہوکر وہ باہر آئی تو گیلے بھورے بال آدھے چہرے پہ چپکے ہوئے تھے تو آدھے پشت پہ چہرے پہ پانی کی ننہی ننہی بوندوں کے قطرے بھی تھے جو اس کو دلکش بنارہے تھے وہ کسٹرڈ کلر کے ڈھیلی قمیض کے ساتھ ٹراٶزر میں ملبوس تھی ڈوپٹہ بیڈ پہ پڑا تھا وہ ڈریسنگ کی طرف بڑھی تھی جب دروازہ اٙن لاک ہونے پہ گردن موڑ کر دیکھا تو اسکی پیشانی پہ بل نمایاں ہوئے بیڈ سے ڈوپٹہ لیکر اس نے اپنے اطراف اوڑھا
یہ کیا طریقہ ہے کسی لڑکی کے کمرے میں آنے کا اور تم یہاں کیسے میرے کمرے میں کیوں آئے ہو۔ماہا غصے سے سرخ ہوتی درشتی سے بولی۔
زرجان کو ماہا کے ایسے رویئے پہ تکلیف ہوئی تھی وہ چاہتا تو جواب دے سکتا تھا پر ایک تو وہ اُس کی ٹیچر تھی دوسرا وہ اس کے سامنے خود کو کمزور پاتا تھا۔
سوری میں نہیں تھا جانتا یہ آپ کا کمرہ ہے میں ولی کا سمجھ کر آیا تھا۔زرجان نے نظریں نیچے کرکے صفائی دی جب کی دل بے اختیار ہوکر زور زور سے دھڑک رہا تھا جیسے سینا چیر کر باہر آجائے گا اُس نے ماہا کو جس روپ میں دیکھا تھا ڈوپٹے سے بے نیاز ایسا وہ کبھی خواب میں بھی نہیں سوچ سکتا تھا۔
اپ پتا چل گیا نہ۔ماہا نے کوئی لحاظ کیے بغیر کہا۔
آپ میرے ساتھ آرام سے بات بھی کرسکتی ہیں۔زرجان نے منہ سے شکوہ پھسلا
میرا تم سے ایسا کیا رشتہ ہے جو میں آرام سے باتیں کروں ہاں ایک رشتہ ہے یونی کی حدتک مزید کجھ نہیں۔ماہا نے دو ٹوک انداز میں کہا
کیا کوئی اور نہیں بن سکتا؟زرجان نے اپنی بلو آنکھوں کو ماہا کی بھوری آنکھوں پہ گاڑھ کر کہا۔
کیا مطلب تمہارا؟ماہا کو زرجان کا پُراسرار لہجہ سمجھ نہیں آیا۔
کجھ نہیں۔زرجان نہ میں سرہلاتا کمرے سے باہر چلاگیا۔
آپ یہاں کیوں کھڑی ہیں؟زرجان تیز قدموں سے ڈرائنگ روم کی طرف آیا تھا ملیحہ کو ہاتھ میں ٹرالی پکڑے ساکت دیکھا تو پوچھا ملیحہ ریفریشمنٹ کا سامان ٹرالی میں سیٹ کرتی اندر کی طرف گھسیٹ کر لیں جارہی تھی جب اندر سے آتی آواز سن کر اس کو لگا جیسے کسی نے اس کے قدموں کے نیچے سے زمین کھینچی لی ہو۔
میر میری تم سالوں پُرانی خواہش تھی کے میری بیٹی ہو تو میں اس کا رشتہ تمہاری بیٹے سے کرو یقین جانوں آج تم نے ماہا کا رشتہ مرجان کے لیے مانگ کر جیسے میری خواہش کو پورا کردیا۔ریان کی آواز خوشی سے بھرپور تھی ملیحہ بس یہ سوچنے میں تھی کہ مرجان کے والدین کو وہ کیوں نہیں دیکھی مرجان بنا دیکھے ماہا سے شادی پہ کیسے حامی بھرسکتا ہے وہ مانتی تھی ماہا خوبصورت ہے ہر کوئی اس کے ساتھ کی تمنا کرسکتا تھا پر وہ یہ بھی جانتی تھی مرجان ماہا سے نہیں ملا تھا۔مرجان اگر ماہا سے بنا دیکھے شادی کے لیے ہاں کرسکتا تھا تو محبت نہیں تو دوستی کی ہی خاطر اس سے شادی کرلیتا ملیحہ کو اپنا آپ مفلوج ہوتا محسوس ہوا تھا ابھی تو اُس نے کسی کو چاہا تھا کسی کے ساتھ کی تمنا کی تھی کوئی تھا جو اس کو حد سے سوا عزیر ہوگیا تھا جس کی مسکراہٹ اُس کو پسند تھی جس کے لیے دل نے خواہش تھی کے اُس کے چہرے پہ خوبصورت مسکراہٹ ہو جس کی وجہ وہ ہو۔
کبھی ایک خواب سا دیکھا تھا میں نے
کہ تم میرے ہو اور میرے لیے ہو
میں وہ بس یہ ٹرالی اندر لیں جارہی تھی۔ملیحہ اپنے سامنے زرجان کی آواز سن کر تزبز ہوکر بول کر اندر آئی اپنے باپ کا چمکتا چہرہ اِس بات کی گواہی تھا کہ وہ کتنا خوش ہے اِس نئے جڑنے والے رشتے سے ملیحہ کے چہرے پہ زخمی مسکراہٹ آگئ تھی تو کیا اُس کی محبت ملنے سے پہلے ہی روٹھ گئ تھی؟ملیحہ نے کرب سے اپنی آنکھیں بند کرلی۔
ڈیڈ میں گھر جارہا ہوں۔زرجان نے سنجیدگی انداز میں شاہ میر سے کہا
زر بیٹے کجھ لو تو سہی ایسے ہی جارہے ہو۔شاہ میر سے پہلے ریان نے زرجان سے کہا
شکریہ انکل پر مجھے ضروری کام آگیا ہے اِس لیے میرا جانا ضروری ہے۔زرجان نے کہا
ٹھیک ہے تمہاری مرضی۔شاہ میر نے اُس کا سنجیدہ چہرہ دیکھ کر اصرار نہیں کیا زرجان ایک منٹ دیر کیے بنا وہاں سے چلاگیا تھا۔
ایک تو مجھے اِس لڑکے کی سمجھ نہیں آتی۔مہرماہ نے زرجان کی پشت دیکھ کر کہا جس پہ سب مسکرادیئے۔






آپ لوگ چلتے تو زیادہ بہتر ہوتا۔مہرماہ نے ہانم بیگم اور حیدر خان کو دیکھ کر کہا
میرے تو گھٹنوں میں درد ہے پتا تو ہے تمہیں حیدر بھی بس اب زیادہ باہر نہیں جاتے تم دونوں تو گئے نہ ماشااللہ سے بات بھی بن گئ۔ہانم بیگم نے مسکراکر کہا
جی بات تو ہوگئ اب بس وہ ایک دفع ماہا سے بات کریں گے تو ہم شادی کی تاریخ طے کرے گے۔مہرماہ نے کہا اندر آتے مرجان نے ماہا نام حیرت سے مہرماہ کو دیکھا۔
اسلام علیکم!!!مرجان خود پہ قابو پاکر اندر آیا مگر وہ سمجھ نہیں پایا کے پوچھے کیسے وہ ملیحہ کا رشتہ لینے گئے تھے تو اس کی بہن ماہا کہاں سے آگئ جس کو اُس نے کبھی دیکھا بھی نہیں تھا۔
وعلیکم اسلام!!! رشتا پکا ہونے پہ منہ میٹھا کرلوں۔مہرماہ خوش سے چہک کر مرجان کے منہ کے پاس میٹھائی کا ٹکرا کیا جو مرجان نے کھالیا۔
مما آپ آج گئے تھے؟مرجان نے جان کر بھی پوچھا۔
بلکل اب بس وہ ماہا سے بات کرے پھر ہم تم دونوں کی شادی کروادے گے۔مہرماہ نے مسکراکر کہا۔مرجان کو جیسے اب سب سمجھ آگیا اُس کو خود پہ بے اختیار غصہ آیا اُس نے کیوں نہیں پوچھا کس بیٹی کا وہ کیسے بھول گیا وہاں دو لڑکیاں رہتی ہیں مرجان کو اپنا سر درد سے پھٹتا محسوس ہوا۔
میں چینج کر کرلوں۔مرجان کو وہاں مزید رکنا دو بہر لگا۔







تمہیں کیا مسئلا ہے پھر اگر ماہا میم تمہاری بھائی کی بیوی بنے گی تو۔فرزام نے زرجان کا سرخ چہرہ دیکھا تو استفسار کیا
پتا نہیں میں نہیں جانتا پر ان کی شادی کا سن کر جانے کیوں مجھے تکلیف ہورہی ہے جو میری سمجھ سے باہر ہے۔زرجان اضطراب کی حالت میں بالوں میں ہاتھ پھیر کر بولا
دیکھ زر مت بھول تمہارا اُس سے کیا رشتہ ہے دوسرا یہ وہ تم سے عمر میں بھی کافی بڑی ہیں مانا کہ وہ خوبصورت ہے پر تم ان کے بارے میں کجھ اور خیالات مت لانا۔فرزام نے جیسے اُس کے اندر کی بات جان لی۔
کیسے خیالات؟زرجان سمجھ نہیں پایا۔
اگر تم یہ سوچ رہے ہو وہ تمہاری ہوگی تو یہ تمہاری خوشفہمی ہے اُس سے زیادہ کجھ نہیں۔فرزام نے کہا زرجان حیرت سے اس کو دیکھنے لگا کیا وہ واقع ایسے چاہتا تھا؟زرجان نے خود سے پوچھا۔
خوشفہمی کیوں اگر ان کی شاد
زر خاموش ہوجا یہی۔فرزام نے فورن سے اُس کو ٹوکا زرجان کو اپنی حالت غیر ہوتی ہوئی لگی۔
خاموش کیوں کیا کمی ہے مجھ میں؟زرجان کا انداز سخت ہوگیا تھا
بات کمی یا بہتری کی نہیں ہے تم پاگل ہوگئے ہو کیا اپنے اور ان کے درمیان واضع فرق نظر نہیں آتا کیا۔فرزام نے اس کی عقل پہ ماتم کرکے کہا
مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔زرجان نے دو ٹوک کہا۔
بات صرف تمہاری نہیں ہے میم ماہا جس نیچر کی ہے تمہاری یہ خرافات سوچ اگر وہ جان لیں نہ تو ایک پل نہ لگائے تمہارا سر قلم کرنے میں۔فرزام نے دانت پیستے ہوئے کہا۔
وہ مان جائے گی تمہیں پتا ہے میرے والدین کے بیچ بھی عمر کا فرق تھا۔زرجان نے کہا
جانتا ہوں پر ان کی شادی میں دونوں کی رضامندی شامل تھی دوسرا یہ وہ کزنز تھے ماہا میم کبھی نہیں مانے گی۔فرزام نے جوابً کہا
وہ بھی مان جائے گی۔
عقل گھاس چڑھنے گئ ہے کیا تمہارے بھائی سے بات پکی ہے اُس کی۔فرزام کا بس نہیں چل رہا تھا زرجان کی بات پہ اپنے بال نوچ لیتا۔
مجھے فرق نہیں پڑتا ماہا کو بس میرا ہونا چاہیے۔زرجان گہری مسکراہٹ کے ساتھ بولا






ماہا تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔رات کے کھانے کے بعد ماہا اپنے کمرے میں جارہی تھی جب ریان کی بات پہ وہ ان کے ساتھ لاونج میں بیٹھ گئ۔
جی ڈیڈ کہے۔ماہا نے ملیحہ کو دیکھ جو اب یہاں سے جانے پہ تول رہی تھی ماہا کو آج ملیحہ کجھ ٹھیک نہیں لگی اُس کی سرخ آنکھیں رونے کی چُغلی کھارہی تھی وہ بعد پوچھنے کا سوچتی اپنے باپ کی طرف متوجہ ہوئی۔
میر آیا تھا اس نے تمہارا ہاتھ مانگا ہے اپنے بیٹے کے لیے۔ریان نے کہا ماہا کو اپنا آپ شل ہوتا محسوس ہوا گلے میں کانٹے چُھبتے محسوس ہوئے اُس نے تو اپنی شادی نام کے باب کا کب کا بند کردیا تھا۔
ڈیڈ۔ماہا کے لب پھڑپھڑائے۔
تم وقت لو سوچنے کا کوئی زور زبردستی نہیں۔ریان نے اس کی حالت سمجھ کر کہا ماہا نے ملیحہ کو ڈورنے والے انداز میں اپنے کمرے میں جاتا دیکھا پر ریان اپنے سالوں پُرانی خواہش پوری ہونے پہ اتنا خوش تھا کے دھیان نہیں دے پایا ماہا اب سمجھ گئ تھی ملیحہ کی ایسی حالت کیوں تھی وہ سب جانتی تھی پر اپنی محبت کے لیے کجھ کہا نہیں لبوں کو سل دیا تھا ماہا کو ملیحہ کی بزدلی پہ انتہا کا غصہ آیا
ماہا ملیحہ کے کمرے میں آئی تو اُس کو کھڑکی کے پاس کھڑا پایا ماہا چلتی ہوئی اس کے پاس آئی۔
یہاں اداس کیوں کھڑی ہو؟ماہا نے ملیحہ سے پوچھا جو اپنا رخ کھڑکی کی طرف کیے جانے کن سوچو میں گم تھی۔
میں کیوں اُداس ہونے لگی میں تو تمہارے لیے بہت خوش ہوں۔ملیحہ اپنا لہجہ ہشاش بشاش کیے بولی
میرے لیے خوش کس بات پہ ہو؟ماہا نے اس کا سرخ پڑتا چہرہ دیکھا جو اُس کے اندر کی کیفیت بیان کررہا تھا۔
اتنا اچھا ہمسفر جو ملنے والا ہے۔یہ بات ملیحہ نے کس دل سے کہی تھی یہ وہ بس خود جانتی تھی۔
اِدھر دیکھو میری طرف۔ماہا نے اُس کا رخ اپنی طرف کیا۔
تمہیں لگتا ہے میں تمہاری قبر پہ اپنا گھر بناٶں گی؟ماہا نے اس کے ماتھے پہ چپت لگاکر کہا
مطلب؟ملیحہ کو سمجھ نہیں آیا۔
دیکھو ملیحہ میں جانتی ہوں کبھی کبھی میں بہت تلخ ہوجاتی ہوں تمہارے ساتھ روڈ بیہیو کرتی ہوں اس کا مطلب یہ نہیں کے مجھے تم سے پیار نہیں ہم دونوں ساتھ اِس دنیا میں آئی ہیں مجھے تمہاری خوشی اپنی زندگی سے زیادہ عزیز ہے۔ماہا نے نرمی سے کہا
مطلب تم۔ملیحہ سے کجھ بولا نہیں گیا
بلکل میں کبھی اُس انسان سے شادی نہیں کروں گی جس کو تم چاہتی ہوں ویسے بھی میرا دور دور تک شادی کا کوئی ارادہ نہیں۔ماہا کا لہجہ سرد ہوگیا تھا۔
ماہا تم نہیں جانتی تم نے آج مجھے کتنی خوشی دی ہے۔ملیحہ خوشی سے چور لہجے میں بولی
میری دعا ہے تم ہمیشہ خوش رہو۔ماہا نے اس کو اپنے گلے لگاتی ہوئی بولی۔
اور میری خواہش ہے کے وہ انسان میرے روبرو ہو تاکہ میں اس کا گریبان پکڑوں جس نے تمہارے چہرے سے مسکراہٹ چھین لی ہے۔ملیحہ نفرت انگیز لیجے میں گویا ہوئی ماہا نے کوئی حواب نہیں دیا
ڈیڈ کو کیسے راضی کروں گی میرے لیے۔ماہا کو باہر جاتا دیکھ کر ملیحہ نے پوچھا
وہ میرا کام ہے تم خود کو ہر فکر سے آزاد کرو یہ بات سمجھ لو جو چیز تمہاری قسمت میں ہوگی وہ تم سے کوئی چھین نہیں سکتا دیر بدیر ملے گی تمہیں ہی اگر وہ چیز تمہاری قسمت میں نہ ہوئی تو ہزار بار حاصل ہونے کے بعد بھی تم لاحاصل ہی رہوگی۔ماہا نے سنجیدہ لہجے میں بہت کجھ باور کروایا جس کے بعد ملیحہ کجھ اور پوچھنے کے قابل نہیں رہی۔
