Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Qaid Season 2 (Episode 14)

Ishq Qaid Season 2 by Rimsha Hussain

شاہ میر فکرمند سا حیات کو دیکھ رہا تھا جو بھوکے پیٹ سوگئ تھی۔

کجھ کھایا بھی نہیں۔شاہ میر حیات کے ماتھے پہ بوسہ دیتا بولا اور اس پہ چادر ٹھیک کرتا خود سنگل صوفے کی طرف آکر بیٹھا۔

ماہ آپ نے ٹھیک نہیں کیا۔شاہ میر دو انگلیوں سے اپنی پیشانی سہلاتا ہوا بولا۔

کون؟دروازہ نوک ہونے پہ شاہ میر نے پوچھا

بات کرنی ہے۔مہرماہ نے کہا

فلحال میں بات نہیں کرسکتا۔شاہ میر بے رخی سے بولا

یہ آج کس انداز سے بات کررہے ہو تم؟مہرماہ کو شاہ میر کی بے رخی تکلیف پہچارہی تھی۔

آپ کس لحاظ سے بنا حیات کی بات سنے اس پہ ہاتھ اٹھاسکتی ہیں یہ بھی نہ سوچا آپ کے اِس عمل پہ چار سال کی بچی پہ کیا اثر ہوگا۔شاہ میر حیات کو سوتا ہوا دیکھ کر دھیمی مگر سخت لہجے میں بولا۔

چار سالہ بچی اپنے استاد سے بدتمیزی کرسکتی ہے شاہ تم بلاوجہ حیات کو فیور کررہے ہو آج میری تربیت پہ بات آئی تھی میں کیسے خاموش رہتی۔مہرماہ کو اب غصہ آیا اِس لیے تیز آواز میں بولی۔

باہر چلیں حیات سورہی ہے اس کی نیند ڈسٹرب ہوگی۔شاہ میر سنجیدگی سے کہتا روم سے باہر نکلا تو مہرماہ بھی سوتی ہوئی حیات پہ نظر ڈالتی باہر آئی۔

حیات نے استاد کے ساتھ کیا کیا کیوں کیا یہ میں اس کے جاگنے پہ پوچھ لوں گا پر پھر بھی میں یہی کہوں گا آپ کو حیات پہ ہاتھ نہیں اٹھانا چاہیے تھا۔شاہ میر باہر آتے ہی مہرماہ سے بولا باقی سے بھی ہال میں جمع ہوگئے تھے حیدر خان اور آیان کو مختصر سا ہانم بیگم نے بتادیا تھا۔

شاہ۔مہرماہ نے کجھ کہنا چاہا۔

مہرو واقع حیات بچی ہے اس کو تھپڑ مارنا ٹھیک نہیں تھا تم اور زیب بھی تو شرارتیں کرتے تھے تو کیا کبھی سارہ بھابی نے تم لوگوں پہ ہاتھ اٹھایا۔حیدر خان نے مہرماہ سے کہا تو مہرماہ سرجھکا کر نفی میں ہلایا۔

بچے شرارت کرتے ہیں ماں باپ کو چاہیے آرام سے ان کو سمجھائے یا ہلکی سی ڈانٹ ڈپٹ کریں پر مارنا ٹھیک نہیں ہوتا ایسے بچے سُدھرتے تو نہیں پر ڈھیٹ ضرور بن جاتے ہے جو کام زبان سے ہوجاتا ہے تو اس میں ہاتھ کو استعمال کرنے کی کیا ضرورت ایسے میں بچوں کے دماغ میں غلط تصورات پیدا ہوتے ہیں۔حیدر خان مزید بولے مہرماہ کو اپنا آپ زمین میں دھنستا محسوس ہوا پہلے شاہ میر کی بے رخی پھر اب باقی سب بھی اس کو قصوروار سمجھ رہے تھے کہی کہی اس کو بھی لگ رہا تھا وہ غلط ہے۔

میں حیات کو اِس لیے نہیں ٹوکتا کیونکہ اگر میں بات بات پہ اس کو ٹوکتا رہا تو وہ کوئی کام نہیں کرے گی اُس میں کانفڈنٹ کی کمی ہوجائے گی میں اپنی بیٹی کو بزدل نہیں بہادر بنانا چاہتا ہوں تاکہ وہ جب بڑی ہو تو عام لڑکیوں کی طرح ڈری سہی نہ ہو بلکہ وہ لوگوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کریں لڑکا اور ہو یا لڑکی اگر بچپن میں اگر وہ کجھ کریں گے تو ہم جب اس کو کہے گے نہ ایسا نہ کرو تو وہ ایسا نہیں کریں گے ہمیں لگے گا ہمارا بچہ فرمانبردار بن گیا ہے تو یہ سہی بھی ہے پر وہ اندر سے ڈرا ہوا ہی ہوتا ہے خود سے کبھی کجھ کرنے کی ہمت اس میں نہیں ہوگی پیدا کیونکہ جب اس کے اندر ہمت پیدا ہورہی تھی تو ہم والدین ٹوکتے رہتے ہیں ٹوکنا اس چیز پہ چاہیے جب وہ اخلاقیات سے باہر کا کام کریں یہ پلیٹ نہ اٹھانا یہ کِھلونا نہیں توڑنے یہان مت جانا وہاں مت جانا یہ مت کرنا وغیرہ وغیرہ یہ سب وہ چیزیں ہے جس میں کچی عمر کے بچوں کے اندر خوداعتمادی مار دیتی ہے میں حیات کو سمجھاؤں گا پوچھو گا بھی پر مجھے اتنا یقین ہے میری بیٹی شرارتی ہے پر بدتمیزی بداخلاق نہیں جو استاد سے ایسے پیش آئے۔شاہ میر ایک سانس میں کہتا وہاں رُکا نہیں تھا حیات کے کمرے میں چلاگیا تھا مہرماہ بُت بنی وہاں کھڑی رہ گئ اس کو سمجھ نہیں آیا کیسے وہ اپنی غلطی کا کفارہ ادا کریں جو وہ کر بیٹھی ہے اپنے غصے میں آکر اس نے حیات کو تو خود سے دور کردیا تھا پر شاہ میر کو بھی بدزن کردیا تھا۔

مہرو اِدھر بیٹھو۔ہانم بیگم نے پاس پڑے صوفے پہ اس کو بیٹھایا۔

میرا تمہیں کجھ کہنا یا حیدر،میر کی باتوں کا مقصد تمہیں شرمندہ کرنا نہیں بلکہ یہ احساس کروانا ہے کہ تم کبھی کبھی زیادتی کرجاتی ہو حیات کے معاملے میں شاید اِس لیے کیونکہ میر کی محبت اس کے آنے کے بعد بٹ چُکی ہے وہ حیات کو بھی اُتنا چاہتا ہے جتنا تمہیں پر تین سالوں میں تمہیں میر کی محبت اس کی توجہ کی اتنی عادت ہوگئ ہے کہ تم اس میں اپنی خود کی بیٹی کی شراکت نہیں برداشت کررہی مرجان کی پیدائش پہ میر کا بھی یہی حال تھا پر وہ بس تب چِڑتا جب تم میر کے سامنے اس کو پیار کرتی ورنہ مرجان سے کبھی میر غافل نہیں ہوا تھا وہ ہر رات مرجان کے رونے پہ تمہارے جاگنے سے پہلے جاگتا تھا میر کو اپنی نیند سے زیادہ تمہاری فکر ہوتی تھی ورنہ وہ سارا یونی کا تھکا ہارا آفس میں کام کرتا تھا اس کو بھی تو آرام چاہیے ہوتا تھا نہ پر وہ اپنا سکون تم میں اور مرجان میں دیکھتا تھا پھر جب حیات آئی تو اس کو اپنی بیٹی سے عشق ہوا جانتی ہو کیوں؟ہانم بیگم کہتی کہتی رُک کر مہرماہ کو دیکھ کر پوچھا تو مہرماہ نے بس نفی میں سر ہلایا۔

ایک تو وہ تمہاری جیسی ہے شکل وصورت میں دوسرا یہ کہ وہ تمہارے قریب نہیں آتی تھی جس سے میر کو وہ کبھی اپنی رقیب نہیں لگی تمہیں لگتا ہے حیات میر کے اِس لیے قریب ہے کیونکہ میر اس کو زیادہ توجہ اور پیار دیتا ہے تو ایسا نہیں حیات اِس لیے اس کے قریب ہوتی ہے کیونکہ تم نے حیات کو وہ توجہ نہیں دی جو مرجان کو دیتی تھی۔ہانم بیگم آرام سے بولی تو مہرماہ بس ان کو دیکھتی رہ گئ۔

وہ میری بھی اولاد ہے چچی جان میں کبھی نہ تو مرجان کو حیات پہ ترجیح دوں گی نہ حیات کو مرجان پہ وہ دونوں مجھے ایک جیسے عزیز ہیں۔مہرماہ نے فورن سے کہا تو ہانم بیگم مسکرا پڑی۔

بیشک مہرو پر تم کوشش کرنا حیات کو سمجھنے کی۔ہانم بیگم بس اتنا کہہ پائی۔

اگر آپ مانتی ہے کہ میں شراکت نہیں برداشت کر پارہی اپنی بیٹی کی تو بلاوجہ بھی نہیں ہے شاہ نے آج پہلی بار مجھ سے ایسے بات کی ہے جن آنکھوں میں میرے لیے چمک ہوتی تھی آج وہاں سرخ پن سردپن اور سپاٹ تاثرات تھے تھے وہ بھی حیات کی وجہ سے۔مہرماہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے ہانم بیگم کو وہ آج بچی لگی جو اپنا پسندیدہ کِھلونے کے چھن جانے کی وجہ سے رونا رو رہی ہے پر کہا بس یہ۔

ہر انسان کے دل میں دوسرے انسان کے لیے الگ الگ جگہ ہوتی ہے تم یہ سوچ رہی ہوکہ میر بیٹی کی وجہ سے بیوی سے پیار نہیں کرتا تو ایسا نہیں بیوی کا الگ مقام ہوتا ہے بیٹی کا الگ کوئی کسی کی جگہ نہیں لیں سکتا۔مہرماہ نے ان کی بات پہ بس اپنے آنسو صاف کیے

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

اٹھ گیا میرا بچہ۔شاہ میر شکر کا سانس بھرتا حیات سے بولا جو شام کے وقت سوئی تھی تو ابھی رات کے دو بجے اٹھی تھی اِس وقت میں شاہ میر بس جاگ کر حیات کے اٹھنے کا انتظار کررہا تھا۔

ڈیڈ بھوک۔حیات شاہ میر کی بات پہ منہ بناکر بولی تو شاہ میر مسکرادیا۔

میری جان کو بھوک لگی۔شاہ میر مسکراتا اس کے پیٹ میں گُدگُدی کرتا بولا تو حیات کِھل کِھلا اٹھی جس سے شاہ میر بھی جی اٹھا۔

آؤ آج باپ بیٹی مل کر کھانا پکائے گے۔شاہ میر حیات کو کندھے پہ اٹھاتا ہوا بولا۔

پر ڈیڈ مجھے تو کجھ بنانا نہیں آتا۔حیات نے پریشانی سے بتایا جس پہ شاہ میر آسودگی سے مسکرایا۔

میری حیات کونسا تمہارے ڈیڈ کو کجھ بنانا آتا ہے ہم کھانا گرم کرکے کھائے گے۔شاہ میر نے کہا تو حیات نے خوش ہوکر سرہلایا پھر دونوں کمرے سے نکل کر کچن کی جانب آئے مہرماہ جو دیر تک کمرے میں آنے کا انتظار کررہی تھی پر وہ نہیں آیا تو مرجان کو سُلانے کے بعد سیڑھیوں پہ بیٹھ کر حیات کے کمرے سے شاہ میر کے باہر نکلنے کا انتظار کررہی تھی اب جب دونوں کو کچن میں جاتا دیکھا تو وہ فورن سے ان کے پیچھے گئ۔

تم بیٹھو میں جب تک کھانا گرم کرو۔شاہ میر حیات کو کچن شیف پہ بیٹھاتا ہوا بولا۔

ڈیڈ جب تک مجھے چپس دے۔حیات نے فرمائش کی تو شاہ میر نے کچن میں سیٹ کیے سارے کبرڈز کھول کر چیک کیے پھر ایک کبرڈ میں سے جب چپس کا پیکٹ ملا تھا ان میں سے ایک لیز چپس اٹھا کر حیات کو دی۔

میں گرم کردیتی ہوں سالن پھر تازی روٹی بنالوں گی۔مہرماہ کچن میں آتی شاہ میر سے بولی جو فریج میں سے سالن نکال رہا تھا ساتھ میں اس نے کباب کی پلیٹ بھی اٹھا رکھی تھی

ضرورت نہیں میں کرلوں گا۔شاہ میر بنا اس کی طرف دیکھے بولا۔

شاہ ضد نہیں کرو حیات کو کیا تم اتنا ہیوی کھانا کھلاؤگے؟مہرماہ نے سمجھانا چاہا۔

آپ فکر نہیں کرے میں جانتا ہوں حیات کے لیے کیا ٹھیک ہے کیا نہیں۔شاہ میر گہری سانس بھرتا ہوا بولا۔

یہاں دیکھو۔مہرماہ نے شاہ میر کا بازوں پکڑ اس کا رخ اپنی طرف کرکے اس کے گال پہ ہاتھ رکھ کر کہا۔

کیا دیکھوں۔شاہ میر مہرماہ کو دیکھ کر بولا مگر اس کی سوجھی آنکھیں دیکھ کر وہ نظریں چُراگیا۔

میں جانتی ہوں میں نے غلطی کی ہے پر شاہ پلیز تم ایسے بات مت کرو مجھے نظرانداز نہیں کرو ورنہ میں مرجاؤں گی۔مہرماہ اپنا سر شاہ میر کے سینے پہ رکھتی روتی ہوئی بولی شاہ میر نے دُھل کر اس کا آخری جُملا سنا تھا۔

فضول باتیں مت کریں۔شاہ میر ایک قدم پیچھے ہوتا ہوا بولا مہرماہ نے شکوہ کرتی اس کی طرف دیکھا پر شاہ میر آج پتھر بنا کھڑا رہا۔مہرماہ کجھ پل اس کو دیکھتی رہی پھر کچن سے باہر نکلی گئ شاہ میر گہری سانس بھرتا خود کو کمپوز کرتا حیات کو دیکھا جو حیران سی تھی۔

حیات پاستا کھاؤ گی؟شاہ میر نے پوچھا تو حیات نے سر کو اثبات میں ہلایا تو شاہ میر نے سالن کباب واپس فریج میں رکھے اور پاستا جو مہرماہ نے مرجان کے لیے بنایا تھا وہ اٹھاکر حیات کو اپنی گود میں لیکر کمرے میں آیا۔

ڈیڈ آج ہم یہاں کیوں ہیں؟حیات نے شاہ میر سے پوچھا

کیونکہ یہ آپ کا کمرہ ہے۔شاہ میر نے مسکراکر کہا اور اس کو پاستا کِھلانے لگا۔

پر ہم تو آپ کے روم میں ہوتے ہیں۔حیات نے کہا

آج سے آپ اور میں یہاں ہوگے۔شاہ میر بتایا

مما اور مرجان برو؟حیات نے پوچھا

وہ دوسرے کمرے میں۔شاہ میر نے آرام سے کہا

آپ مما سے میری وجہ سے ناراض ہیں؟حیات نے پوچھا

نہیں آپ کے ڈیڈ آپ کی مما سے کبھی ناراض نہیں ہوسکتے۔شاہ میر تحمل سے جواب دیتا ہوا بولا۔

تو جب انہوں نے آپ کو ہگ کیا تو جواب میں آپ نے ہگ کیوں نہیں کیا۔حیات نے مزید پوچھا

حیات بُری بات اب آپ ہمارے پرسنل موومنٹس بھی دیکھے گی۔شاہ میر نرمی سے حیات کا کان پکڑتا مصنوعی رعب سے بولا جس پہ حیات ہنس پڑی۔

آپ میرے سامنے کریں گے تو میں دیکھوں گی نہ۔حیات نے دانتوں کی نمائش کرتے کہا تو شاہ میر بھی ہنس پڑا۔

اچھا میرا بیٹا اب مجھے ایک بات بتاؤ؟شاہ میر کھانے کِھلانے کے بعد حیات کو اپنی گود میں بیٹھاتا ہوا بولا۔

کونسی بات؟حیات سر اونچا کرتی بولی۔

ڈیڈ آپ کو سمجھاتا ہے نہ کہ بڑوں سے بدتمیزی نہیں کرتے۔شاہ میر نے کہا تو حیات نے سرہلایا

پھر پرنسپل نے مجھے کیوں کہا کہ آپ کی بیٹی نے اپنے استاد سے بدتمیزی کی تھی۔شاہ میر نے کہا۔

ڈیڈ میں نے ٹیچر سے روڈلی بات نہیں کی تھی انہوں جب مجھ سے وجہ پوچھی تو میں نے کہا سونی سے پوچھے کیونکہ شروعات اس نے کی تھی پر ٹیچر بولی میں جاہل ماں باپ کی جاہل اولاد ہوں مجھے ان کا کہا لفظ جاہل سمجھ تو نہیں آیا پر پوری کلاس ہنس رہی تھی تو میں سمجھ گئ یہ بُرا ورڈ ہے تو میں نے ان سے کہا میں ان کی شکایت ڈیڈ سے کروں گی تو وہ میرا ہاتھ پکڑ کر پرنسپل کی آفس لے گئ ان کو سب کجھ بتایا پر اپنا کہا جُملا جاہل نہیں۔حیات اپنا چہرہ موڑ کر شاہ میر کو دیکھتی بتانے لگی شاہ میر نے اپنے ہاتھوں کہ مٹھیاں زور سے بند کی تھی اس کو حیات کی ٹیچر پہ اشتعال آیا تھا جو اُس نے نکالنا بھی تھا۔

آپ کجھ مت سوچو۔شاہ میر حیات کے لیے خود کو نارمل کرتا بولا۔

ڈیڈ میرا ہوم ورک۔حیات کو رات کے تین بجے اپنا ہوم ورک یاد آیا۔

بیٹھو میں تمہارا بیگ لاتا ہوں۔شاہ میر نے حیات کی پیشانی پہ بوسہ دے کر کہا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

شاہ ناشتہ کرلوں۔مہرماہ نے شاہ میر سے کہا جو ابھی کمرے میں فریش ہونے کے لیے آیا تھا۔

بھوک نہیں۔شاہ میر وارڈروب سے اپنے لیے وائٹ شرٹ کے ساتھ بلیک کوٹ جینز پینٹ نکالتا ہوا بولا۔

شاہ پلیز۔مہرماہ نے اپنا سر شاہ میر کی پشت پہ ٹکایا وہ اپنی انا اپنا سب کجھ پشت پہ ڈالیں اس کو منارہی تھی مگر شاہ میر ماننے کا نام ہی نہیں لیں رہا تھا اور مہرماہ کو شاہ میر کی ناراضگی برداشت نہیں ہورہی تھی اپنے سینے پہ مہرماہ کا ہاتھ محسوس کرکے شاہ میر کے دل نے ایک بیٹ مس کی تھی پر وہ مہرماہ کے سامنے کمزور نہیں پڑنا چاہتا تھا۔

مجھے آفس کے لیے دیر ہورہی ہے۔شاہ میر مہرماہ سے دور ہوتا سنجیدگی سے بول کر واشروم کی طرف بڑھا شاہ میر کا ایسا انداز دیکھ کر ایک آنسو مہرماہ کی آنکھ سے گِرکر قالین میں جذب ہوا۔

کسی کو خاص کرکے

بہت عام کردینا

کسی سے پہروں باتیں

اور صبح سے شام کردینا

کسی کو بھولنا ایسے

کہ جانتے نہ تھے

عجیب ہے محبت کا

خود انجام کردینا

مما تسمے بند نہیں ہورہے۔سات سالہ مرجان اسکول یونیفارم پہنے مہرماہ کے پاس آتا بولا

میں باندھ دیتی ہوں۔مہرماہ چہرہ صاف کرتی مرجان کو دیکھ کر بولی۔

تھوڑی دیر بعد شاہ میر باہر آیا تو مہرماہ مرجان کی بیگ میں ٹفن ڈال رہی تھی شاہ میر نے مرجان کو دیکھا تھا اس کی جانب آیا کل سے اس نے مرجان کو نہیں دیکھا تھا سارا وقت حیات کے کمرے میں ہونے کی وجہ سے۔

کیسے ہو۔شاہ میر نے مرجان کو گود میں لیا

میں ٹھیک آپ کل سے کہاں تھے؟مرجان اپنے ننہے بازوں شاہ میر کے کندھے پہ حائل کرتا ہوا بولا۔

ڈیڈ کل بزی تھے۔شاہ میر نے اس کی آنکھوں پہ بوسہ دے کر بتایا۔

اووہ۔مرجان نے منہ پہ ہاتھ رکھا تو شاہ میر نے مسکراکر اس کو صوفے پہ بیٹھایا خود آفس جانے کے لیے تیار ہونے لگے جب کی مہرماہ کو اپنا نظرانداز ہونا برداشت نہیں ہورہا تھا اِس لیے وہاں سے چلی گئ تھی۔

حیات !!!!

حیات!!!!

حیات۔شاہ میر ہال میں آتا حیات کو پُکارنے لگا

آئی ڈیڈی صبر۔حیات اپنا ننہا ایک ہاتھ میں بیگ جب کی دوسرا ننہا ہاتھ اپنے بالوں میں رکھ کر بھاگتی ہوئی آکر شاہ میر سے بولی تو سب مسکرادیئے۔

اِدھر آؤ پہلے۔ہانم بیگم نے حیات سے کہا جو شاہ میر کے پاس جارہی تھی۔

جی دادو اور کوئی حکم۔حیات ہانم بیگم کی گود میں بیٹھ کر بولی۔

بدمعاش۔ہانم بیگم نے اس کے ماتھے پہ چپت لگائی پھر اس کے بال سنوارنے لگی جو کندھوں تک تھے۔

مرجان گاڑی میں جاکر بیٹھو میں حیات کو لیکر آتا ہوں اسکول جانے کے لیے دیر ہوگئ ہے بہت۔مہرماہ نے شاہ میر کے پاس فریش جوس رکھا تھا شاہ میر اپنی جگہ سے اٹھ کر مرجان سے بولا جو آیان کے ساتھ بیٹھا تھا مہرماہ نے حسرت سے شاہ میر کو دیکھا تھا جو پل بھر میں اُس سے بیگانہ ہوگیا تھا۔

میں جاتا ہوں۔مرجان اپنا اسکول بیگ اٹھاتا بولا

آجاؤ میڈم حیات۔شاہ میر حیات کا بیگ پکڑ کر اس کو اپنی گود میں اٹھاکر بولا۔

حیات نے ناشتہ نہیں کیا۔مہرماہ نے ہمت جمع کرکے کہا وہ حیات کا سامنا نہیں کرپارہی تھی کل اپنی حرکت کی وجہ سے اِس لیے اس نے ملازمہ سے کہا حیات کو ناشتہ کروائے پر حیات نے نہیں کیا تھا۔

صالحہ بی۔شاہ میر ایک اچٹنی نظر مہرماہ پہ ڈالتا ملازمہ کو آواز دینے لگا۔

جی میر صاحب۔ملازمہ فورن سے آتی ہوئی بولی۔

حیات کے لیے جوس لیکر آئے اور دو بریڈ۔شاہ میر نے کہا۔

ڈیڈ بھوک نہیں۔حیات نے کہا

صبح کا ناشتہ ضروری ہوتا ہے۔شاہ میر نے اس کی ناک دباکر کہا۔

آپ نے کیا ہے؟کجھ سوچ کر حیات نے پوچھا۔

وہ دیکھو آگیا آپ کا ناشتہ۔شاہ میر اس کا دھیان دوسری طرف کرتا بولا جس میں کامیاب بھی ٹھیرا۔مہرماہ نے ہانم بیگم کو دیکھا جنہوں نے نظروں میں اس کو تسلی دی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

آپ حیات کی کلاس ٹیچر کو بلائے۔شاہ میر سنجیدہ تاثرات لیے پرنسپل کی آفس میں بیٹھ کر بولا جب کی ساتھ والی کرسی پہ حیات کو بیٹھایا ہوا تھا۔

جی میں ابھی بلواتی ہوں۔پرنسپل شاہ میر کے تاثرات دیکھ کر تھوک نگلتے ہوئے بولی۔

آپ نے بلایا۔حیات کی کلاس ٹیچر اسماء آفس میں آتی بولی مگر جب حیات کے ساتھ کھڑے لڑکے کو دیکھا تو ان کو اپنے آس پاس خطرے کی گھنٹی بجتی سنائی دی۔

حیات ذرہ بتانا کل آپ کی ٹیچر نے آپ سے کیا کہا تھا۔شاہ میر تیکھے چتونوں سے ٹیچر کو دیکھتا حیات سے کہا۔

ٹیچر نے کہا تھا جاہل ماں باپ کی جاہل اولاد حلانکہ میں نے کجھ کیا بھی نہیں تھا جسٹ اپنا دفاع کیا تھا۔حیات کانفڈنٹ ہوکر بولی پرنسپل اس کی بات پہ استہفامیہ نظروں سے اسماء کو دیکھا پر اس کے ماتھے پہ پسینہ دیکھ کر ساری حقیقت کا اندازہ ان کو ہوگیا جس سے وہ شرمندگی سے اپنا سرجھکا گئ۔

حیات اب آپ اپنی کلاس میں جاؤ۔شاہ میر نے کہا تو حیات فورن نے آفس سے باہر نکلی۔

ہم تو جاہل ہیں آپ کیا ہیں جو بچوں کے سامنے ایسی لینگویج استعمال کرتی ہیں آپ استاد ہیں آپ کا مقام قابلِ احترام ہے پر آپ کا کام بچوں کی اصلاح کرنا ہوتا ہے ناکہ ان کے دماغ میں گالیاں ڈالنا آپ کو شرم آنی چاہیے تھی چار سالہ بچی کو جاہل کہتے ہوئے ساتھ میں ان کے ماں باپ کی انسلٹ کرتے ہوئے بھی۔شاہ میر سرد لہجے میں بولا

چار سال کی آپ کی بیٹی ہے پر پانچ ماہ ہوئے ہیں اس کو یہاں داخلہ لیے ہوئے پر اس وقت میں ایک دن سکون سے نہیں گُزرا۔اسماء اپنے دفاع میں بولی

ایک استاد ہونے کی حیثت سے آپ کو کس نے یہ رائٹ دیا ہے کہ آپ میری بچی کو جاہل بولے اور پھر پرنسپل کے سامنے یہ کہے کے اس نے آپ کے ساتھ بدتمیزی کی ہے۔شاہ میر نے بات گھما پھیرا کرا وہی لایا جہاں سے ٹیچر اسماء بچنا چاہتی تھی۔

میں اپنی غلطی مانتی ہوں۔اسماء نے سرجھکاکر کہا۔

ماننی چاہیے بھی آپ کو پتا ہونا چاہیے بچوں کے سامنے کیا بات کرنی چاہیے کیا نہیں کونسا جُملا ان کو کہا جاسکتا ہے کونسا نہیں اگر آپ حیات سے تنگ تھی تو یہ بات آپ صاف صاف کہہ سکتی تھی پرنسپل سے کراچی میں بچوں کے اسکولوں کی کمی نہیں مگر آپ نے بس اپنی ایک اسٹوڈنٹ کو پرنسپل کے سامنے کیا جب کی جس نے شروعات کی حیات کو تنگ کرنے کی اس کا نام ہی نہیں لیا۔شاہ میر کا لہجہ برفیلا ہوگیا تھا۔

وہ میری بھانجی تھی جس کے بال حیات نے کاٹ دیئے۔اسماء کی بات پہ پرنسپل اپنا سر نفی میں ہلانے لگی جب کی شاہ میر کے چہرے پہ طنزیہ مسکراہٹ آگئ۔

مس آپ اپنے پرسنل اور پروفیشنل ایشوز کو الگ الگ رکھے اگر آپ کی بھانجی ہے تو بس گھر تک یہاں اسکولز میں اپنا پیار نچھاور کرنے کی ضرورت نہیں آپ کے لیے سب اسٹوڈنٹس برابر ہونے چاہیے اگر بچوں کے درمیان لڑائی ہوتی ہے تو آپ کا فرض ہے آپ دونوں بچوں کی باتیں سنے ایک طرفہ بات سن کر دوسرے بچے پہ غصہ کرنا سراسر ناانصافی ہوگی۔شاہ میر دو ٹوک انداز میں بولا جس سے اسماء کا سر شرم سے جھک گیا تھا۔

میں معزرت خواہ ہوں آپ سے ہماری وجہ سے آپ کی بیگم کو بھی شرمندہ ہونا پڑا۔پرنسپل صاحبہ نے کہا۔

آپ اپنے اسکول میں استاد رکھ رہی ہیں تو پہلے چیک کیا کریں ان کا رویہ بچوں کے ساتھ کیسا ہے ماں باپ اعتماد کرکے آپ کے پاس اسکول میں اپنے بچے بھیجتے ہیں کل آپ دونوں کی غلط بیانی کی وجہ سے ہمارے گھر کا ماحول خراب ہوا۔شاہ میر کہتا لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے نکل گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *