Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Qaid Season 2 (Episode 25)

Ishq Qaid Season 2 by Rimsha Hussain

اکیلی ہو؟ماہی ہوٹل کے باہر بینچ پہ بیٹھی تھی جب مرجان فاصلے پہ بیٹھ کر بولا۔

نہیں پچاس باڈی گارڈ میرے پیچھے کھڑے ہیں بیس میرے اگل اور بگل میں بیٹھے ہیں باقی بچے دس جو میرے لیے کھانے کا احتمام کرنے گئے ہیں۔ماہی بڑی سنجیدگی سے اس کی جانب دیکھ کر کہا مرجان ناچاہتے بھی ہنس پڑا

مذاق اچھا کرلیتی ہو۔مرجان نے کہا

پتا ہے مجھے۔ماہی ناک سکوڑ کر بولی

مجھے کجھ کہنا ہے تم سے۔مرجان نے کہا

کہو؟ماہی نے اجازت دی۔

مجھے تم سے محبت ہوگئ ہے۔مرجان نے دل پہ پتھر رکھ کر اِظہارِ محبت کیا۔

کیا کہا محبت ہوش میں تو ہو میاں جمعہ جمعہ آٹھ دن نہیں ہوئے اور تم محبت کے داعویدار بن کر آگئے۔ماہی کو مرجان کی دماغی حالت پہ شک گُزرا۔

محبت کا کیا ہے وہ اگر ہونی ہو تو دو گھڑی میں ہوجاتی ہے اگر نہ ہونی ہوتو پوری زندگی ایسے گُزرجاتی ہے۔مرجان اپنا غصہ دباکر بولا اُس کو سخت چڑ تھی ماہی کے ایٹیٹیوڈ سے جس کو وہ اب توڑ کر انا کی تسکین چاہتا تھا۔

اچھا اس فلسفے کو میں نہیں مانتی۔ماہی اپنی جگہ سے کھڑی ہوتی ہوئی بولی۔

کہاں جارہی ہو میری بات کا جواب تو دو۔مرجان اس کے سامنے آتا ہوا بولا۔

دیکھو بھائی

بھائی تو مت کہو۔مرجان نے بیچ میں ٹوکا

اچھا دیکھو مرجان ابھی ہماری عمر پیار محبت کی نہیں اِس لیے صبر کرو کیا پتا آگے جاکر تمہیں کسی سے سچ مچ میں محبت ہو۔ماہی نے سمجھانے والے انداز میں کہا

ہم دونوں بالغ ہے۔مرجان نے دانت پیسے۔

میں یہاں بڑی مشکل سے اجازت لیکر آئی ہوں صرف اور صرف گھومنے ناکہ عشق معشوقی کرنے اگر میرے گھر میں کسی کو پتا چل گیا نہ تو میں رہ جاؤں گی بس اپنے گھر تک جو میں نہیں چاہتی کیونکہ مجھے اپنی آزادی بہت پیاری ہے۔ماہی اُس کی باتوں میں آئے بغیر بولی

تو میں کیا کہہ رہا ہوں بس اپنی محبت کا اظہار تم بس اُس کا اچھا سا رسپانس دو۔مرجان نے کہا

کیا رسپانس دوں میرے رسپانس دینے سے زیادہ سے زیادہ کیا ہوگا۔ماہی نے بازوں سینے پہ باندھ کر استفسار کیا

یہ ہوگا کے میں پاکستان اپنے والدین سے بات کروں گا۔مرجان نے کہا

نا بابا نا میں ابھی پڑھنا چاہتی ہوں کیونکہ مجھے سب سے زیادہ اپنی پڑھائی سے محبت ہے۔ماہی نے کانوں کو ہاتھ لگاکر کہا مرجان بس اِس ڈھیٹ ہڈی کو دیکھتا رہ گیا جس کے چہرے پہ اپنے لیے اظہار محبت پہ تھوڑی بھی شرم حیا یا زرہ جو سرخ پن نظر آیا ہو جو عام طور پہ ہر لڑکی کے چہرے پہ رنگ بکھر جاتے ہیں۔

تو پڑھ لینا میں یا میری فیملی کونسا منع کرے گی۔مرجان کا بس نہیں چل رہا تھا سامنے کھڑی لڑکی کو شوٹ کردیتا۔

مجھے ڈبل ایم بی اے کرنا ہے۔ماہی نے مسکراہٹ دانتوں تلے دبائے کہا مرجان خود کو بس صبر کی تلقین کرتا رہ گیا۔

💕
💕
💕
💕
💕

یہ سلسلہ ایک ماہ تک چلتا رہا ماہی جہاں جہاں جاتی مرجان اس کے پیچھے پیچھے وہاں آجاتا پھر اپنی محبت کا اظہار کردیتا جس پہ اس کی فرینڈز ہاں کرنے کو بولی پر ماہی کو اپنی چھٹی حس ہمیشہ خبردار کرتی رہتی جس سے اُس کو مرجان کی کسی بات پہ بھی نزاکت نہیں لگتی

مگر کب تک وہ مرجان کو انکار کرتی یا ٹالتی اُس کا دل بھی پِگھل رہا تھا جس سے وہ سہی غلط کا فرق کرنا بھول رہی تھی اُس کو مرجان کی باتیں سچ لگنے لگی تھی اُس کا اظہار محبت سننا اچھا لگتا تھا لاشعوری طور پہ اس کو مرجان کا انتظار رہتا تھا آج بھی کجھ ایسا ہی تھا وہ واک پہ نکلی تھی مگر سوچے مرجان کے ارد گرد تھی تبھی وہ اُس کے سامنے آیا۔

مرجان تم۔ماہی نے حیرت کا اظہار کیا جب کی دل کو کہیں سکون ملا تھا۔

تم چاہوں مر ہٹا کر بس جان کہہ سکتی ہو۔مرجان نے آنکھ ونک کرتے کہا جس پہ ماہی کا چہرہ بلش کرنے لگا ماہی کے چہرے پہ خوبصورت رنگ دیکھ کر ایک پل کو مرجان کا دل کیا قدم واپس لیں لے اُس کا دل کیا سامنے کھڑے وجود کو توڑنے سے بہتر ہے وہ یہاں سے لوٹ جائے پر بس ایک پل کے لیے دوسرے پل وہ اپنے خول میں واپس آگیا۔

زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہیں۔ماہی نے مصنوعی گھوری سے نواز کر کہا۔

اچھا نہیں ہوتا تم سے ایک بات کرنی تھی۔مرجان نے کہا۔

کیا بات؟ماہی نے پوچھا۔

میں ایک ویک بعد پاکستان واپس جارہا ہوں۔مرجان کی بات ماہی کے لیے کسی دھماکے سے کم نہ لگی۔

مجھے کیوں بتارہے ہو۔ماہی نے خود کو کمپوز کرتے ہوئے کہا۔

کیونکہ میں چاہتا ہوں اب مجھے میری محبت کا جواب محبت سے ملنا چاہیے۔مرجان اُس کے روبرو ہوکر بولا۔ماہی نے نظریں چُرالی۔

ماہی میں جانتا ہوں تم مجھے پہ یقین نہیں کر پارہی پر تم بھی مجھے چاہنے لگی

ایسا کجھ نہیں۔ماہی نے اس کی بات بیچ میں اچک لی۔

ایسا ہی ہے تم بس ماننا نہیں چاہتی اِس سے پہلے تمہیں پچھتانا پڑے میں کل شام ایک ایڈریس سینڈ کروں گا وہاں آجانا میری محبت کا جواب دینا اگر نہیں تو دوسرے دن تیار رہنا میری موت کی خبر سننے کے لیے۔مرجان اتنا کہہ کر وہاں سے چلاگیا۔ماہی ساکت سی اس کو جاتا دیکھنے اس کو سمجھ نہیں آیا وہ کیا کرے اگر وہ کل نہیں گئ تو کیا سچ میں؟اِس سے آگے ماہی سوچنے لگی تو کپکپا اٹھی۔

“دل کہہ رہا ہے* تجھ پہ بھروسہ کروں*

مگر

حالات کہہ رہے* ہیں سب فریب ہیں*۔۔۔

💕
💕
💕
💕
💕

ماہی زیادہ مت سوچو ہاں کہہ دو وہ سچا ہے ورنہ کون اتنا خوار ہوتا ہے کسی کے پیچھے۔فروزین نے کمرے میں پریشانی سے چکر لگاتی ماہی سے بولی۔

تمہاری بات ٹھیک پر ڈیڈ کو پتا چل گیا پھر کیا ہوگا۔ماہی نے کہا

تم کونسا کورٹ میریج کررہی ہو بس اظہار ہی کرنا ہے دوسرا یہ ان کو بتائے گا کون ان کو الہام ہونے سے تو رہا ویسے بھی ان کے مطابق تم دبئ میں ہو ناکہ یورپ میں۔فروزین نے جیسے ہر مسئلے کا حل دیا۔

ماہی تمہارا دل کیا کہتا ہے؟مانوی نے سنجیدگی سے پوچھا

پتا نہیں میرا دل تو صبح سے گھبراہٹ کا شکار ہے۔ماہی نے بتایا

یہ سب اُس لیے کیونکہ تمہیں ڈر ہے اس کے دور جانے کا۔فروزین نے دور کی کوڈی اُچھالی۔

میں جاؤں گی پھر جو ہوگا اللہ مالک ہے۔ماہی ایک نتیجے پہ پہنچ کر بولی۔

یہ ہوئی نہ بات۔فروزین نے خوشی سے نعرہ لگاکر کہا۔

شام کے وقت ماہی اپنی فرینڈز کے ساتھ مرجان کی بھیجی ہوئی لوکیشن پہ موجود تھی مرجان نے اپنے ساتھ ان کو بھی لانے کا کہا تھا جو بات اُس کو عجیب لگی پر یہاں آکر اُس کو مزید حیرانگی بھی ہوئی کیونکہ یہاں لوگوں کا ہجوم تھا اکٹھا تھا سب کپلز کی صورت میں کھڑے آپس میں باتیں کررہے تھے تو کوئی ڈانس کرنے میں مگن تھا ایسا معلوم ہورہا تھا جیسے کسی نے پارٹی پہ انوائٹ کیا ہو ماہی کو سمجھ نہیں آیا مرجان اگر اس کا جواب سننا چاہتا ہے تو اتنے لوگوں کو کیوں جمع کیا ہوا ہے۔

یہ مرجان کو تم سے اظہارِ محبت کا جواب سننا ہے یا قومی خطاب کروانا ہے جو اتنے لوگوں کو انوائٹ کیا ہے۔مانوی سے رہا نہیں گیا تو کہہ ڈالا

میں بھی وہی سوچ رہی تھی عام طور پہ تو لڑکے یہی چاہتے ہیں کہ ڈسٹربنس نہ ہو کسی کی آرام سے ایک دوسرے کی سنے سنائے پر یہ مرجان تو اپنے انوکھے نام کی طرح کام بھی انوکھا کررہا ہے۔فروزین نے بھی تعجب سے کہا ماہی کا دھیان سامنے آتے مرجان کی طرف تھا جو مسکراتا ان کی طرف آرہا تھا۔

مجھے یقین تھا تم ضرور آؤں گی۔مرجان فاتحانہ لہجے میں بولا۔

ہماری مہربانی ہے ورنہ یہ نہ آتی۔فروزین نے ہنس کر کہا۔

جو بھی آئی تو سہی نہ۔مرجان نے کہا

یہ اتنے لوگ کیوں؟ماہی نے پوچھا۔

میں چاہتا ہوں تم اِن سب کے سامنے کہوں تمہیں میری محبت قبول ہے اور مجھے بھی تم چاہتی ہو۔مرجان نے وجہ بتائی

پر کل تم نے ایسا تو کجھ نہیں کہا تھا۔ماہی نے کہا۔

سرپرائز۔مرجان ہاتھ کھڑے کیے بولا

ماہی ریڈی رہو۔مانوی نے اُس کے کان میں سرگوشی کرنے والے انداز میں کہا۔

کم۔مرجان مسکراتا اس کو اپنے ساتھ لے آتا سب کے درمیان کھڑا ہوا تھا نعمان وہاں آکر گلاب کا پھول اُس کو تھام کر جاچُکا تھا۔

کِس چیز کی انتظار ہے جو کہنا کہہ دو۔مرجان نے مسکراکر کہا

مرجان مجھے آکورڈ فیل ہورہا ہے۔ماہی نے گہری سانس بھر کر کہا

کجھ اور مت سوچو بس یہ محسوس کرو کے یہاں میں اور تم ہے دوسرا کوئی نہیں۔مرجان نے اُس کی مشکل آسان کی۔

دس از فار یو۔ماہی نے نعمان کا دیا پھول مرجان کی طرف بڑھا کر کہا مرجان کے چہرے کے تاثرات یکدم بدلے اُس نے دو انگلیوں سے پھول کو تھام لیا ماہی کو مرجان کی یہ حرکت ناگوار گُزری پر نظرانداز کرگئ کیونکہ اب سب کی توجہ کا مرکز وہ دونوں تھے۔

کجھ ٹائم پہلے تم نے اپنا محبت کا اظہار کیا تھا آج میں اُس کا جواب دینا چاہتی ہوں۔ماہی نے سوکھے لبوں پہ زبان پِھیر کر کہا دل سے بار بار آواز آرہی تھی لوٹ جائے پر وہ اُس کی آواز اٙن سنی کرتی مرجان کے سامنے گھٹنوں کے بِل بیٹھ گئ۔مانوی اور فروزین نے داد دیتی نظروں سے اُس کو دیکھا تھا مرجان نے ماہی کے خوبصورت سِراپے سے نظریں چُرالی تھی جو فل بلیک کلر کے ٹاپ اور جینز میں تھی بھورے بال کُھلے ہوئے تھے چہرہ بنا کسی میک اپ کے بھی چمک رہا تھا مرجان کا دل بے ایمان ہونے کو تھا۔

تم نے کل کہا تھا یو لوٙ می میں کہہ رہی ہوں وِل یو میری می۔ماہی نے اپنی بھوری آنکھوں سے اُس کی جانب دیکھ کر کہا مرجان دو قدم پیچھے ہوا۔

گائیز کیا تم سب لوگوں میں سے کوئی یہ بتاسکتا ہے آج کونسی تاریخ ہے۔مرجان بانہیں کھول کر ان سب کی طرف دیکھ کر بولا ماہی نے ناسمجھی سے اُس کی طرف دیکھا جو اُس کو نظرانداز کررہا تھا۔جب کی سب لوگ اب زوردار آواز میں دو اپریل دو اپریل کہہ کر چیخ رہے تھے۔

سو مس واٹ ایور۔مرجان چہرے پہ شیطانی مسکراہٹ سجاکر ماہی کی طرف آیا جو سمجھنے کی کوشش میں تھی۔

کل فرسٹ اپریل تھا اگر میں نے ایسا کجھ کہہ بھی دیا تو تم نے سیریسلی نہیں لینا چاہیے تھا۔مرجان نے اجنبی نظروں سے اس کی طرف دیکھ کر بولا مرجان کی بات پہ ماہی سکتے میں چلی گئ تھی اس کو اپنے آس پاس دھماکے ہوتے محسوس ہورہے تھے۔

کیا بکواس ہے یہ۔مانوی مرجان پہ زور سے چلائی۔

شانت شانت۔مرجان کانوں پہ ہاتھ رکھ کر دل جلانے والی مسکراہٹ سجاکر بولا مانوی کا بس نہیں چل رہا تھا وہ مرجان کا حشر نشر کردیتی۔

آپ لوگ بتائے اپریل میں تو یہ عام بات ہے نہ۔مرجان نے پھر زوردار آواز میں کہا تو سب اس کی بات سے متفق ہوئے۔ماہی لڑکھڑا کر سیدھی ہوئی تھی اُس کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا مرجان اتنے سارے لوگوں کے سامنے تزلیل کرے گا آخر اس کا قصور کیا تھا جو سب کے سامنے اُس کی عزت دوکوڑی کہ کررہا تھا ماہی نے ساکت نظروں سے آس پاس دیکھا جہاں سب اس کو تمسخرانہ نظروں سے دیکھ رہے تھے تو کِن کی نظروں میں اس کے لیے افسوس تو کجھ جانے کیا بول رہے تھے ماہی کا دل چاہا زمین پھٹے اور اُس میں سما جائے۔

اتنی گھٹیا حرکت کی وجہ جان سکتی ہوں؟ماہی نے کاٹ دار لہجے میں کہا مرجان نے اچانک ماہی کی آواز پہ اس کو دیکھا جس کی نظروں میں جانے کیا تھا جو اُس کا دل لرز اٹھا تھا۔

یہ میرا بدلا تھا ڈیئر ماہی جو تم نے ہزاروں لوگوں کے درمیان مجھے ہرا کر سب کے سامنے شرمندہ کیا تھا۔مرجان چلتا ہوا ماہی کے کان کے پاس آتا بولا ماہی کو افسوس ہوا جو ایک ہار کی وجہ سے اتنا گِرگیا تھا۔

میری ذات آدھی رہ گئ

کسی کا کھیل پورا ہوا۔

تم مرد ہوتے ہی گھٹیا ہو۔ماہی نے چیخ کر کہا۔

ماہی چلو یہاں سے۔فروزین اس کا بازوں پکڑ کر بولی۔

چھوڑو مجھے یہ کمینہ ہوتا کون ہے میرا تماشا بنانے والا میں اِسے جان سے ماردوں گی۔ماہی آپے سے باہر ہوتی ہوئی بولی بھوری آنکھیں میں لال ڈورے نظر آنے لگے تھے عقیل نے افسوس سے اپنی دوست کو دیکھا کتنا منع کیا تھا اُس نے پر وہ تو نعمان کی باتوں میں ایسا آیا کے بس

تم کون ہوتی تھی سب کے سامنے مجھے چِڑانے والی۔مرجان نے بھی اس کے انداز میں کہا

اگر ہارنے سے اتنا ڈر لگتا ہے تو سہی سے تیاری کرلیتے نہ آتا کجھ ہے نہیں بعد میں بدلا بدلا کرتے پِھرتے ہیں۔ماہی اپنا بازوں فروزین سے چھڑواتی مرجان کے چہرے پہ تھوک کر بولی مانوی نے حیرت سے اپنے منہ پہ ہاتھ رکھا مرجان غصہ سے لال ہوتا اس کو مارنے کی طرف بڑھا پر عقیل بیچ میں آگیا۔

جان ہوش سے کام لو۔

یہ دو ٹکے کی لڑکی میرے منہ پہ تھوک گئ اور تم کہہ رہے ہو میں ہوش میں آوٴں۔مرجان ہذیاتی انداز میں چیخا ماہی کے اندر چین پڑگیا تھا مرجان کو ایسے دیکھ کر۔

جو تم نے میرے ساتھ آج کیا ہے نہ میرے دل کے ساتھ تم نے کِھیلا ہے ایک دن یہی کجھ تمہارے سامنے آئے گا تمہاری زندگی سے سکون چلا جائے گا تم سکون کی تلاش کروگے پر تب تک نہیں ملے گا جب تک میں معاف نہ کرودں۔ماہی نے سرد سپاٹ انداز میں کہا تھا۔

بھول ہے تمہاری۔مرجان نفرت انگیز نظروں سے اس کو گھور کر بولا۔

حقیقت ہے۔ماہی نے کہا۔

ماہی تم چلو اب۔مانوی سامنے آتی بولی ماہی کی شعلہ برساتی نظریں مرجان پہ تھی۔فروزین جیسے تیسے کرتی ماہی کو اپنے ساتھ لیں گئ۔مرجان بھی سب کی نظروں سے خائف ہوتا وہاں رُکا نہیں تھا اس کو یہ بات پاگل کرنے کے در پہ تھی کے ایک لڑکی نے پھر سے اس کو زلیل کررکھا تھا۔مرجان فلحال اپنے ماں باپ کی تربیت بُھلائے اپنی انا میں تھا۔

زہر سے زیادہ زہریلے ہوتے ہیں

وہ لوگ جو اپنا بناکر چھوڑ جاتے ہیں۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

تمہیں پتا ہے گھر میں ہمارے مطلق کیا کھچڑی پٙک رہی ہے؟حیات آج شاہ ویر کے ساتھ کیفے آئی تھی جب باتوں ہی باتوں میں اُس نے کافی پیتے شاہ ویر سے پوچھا

ہمارے رشتے کی بات کررہی ہو۔شاہ ویر نے پوچھا۔

ہاں وہی۔حیات نے منہ بگاڑ کر کہا

تمہیں کوئی احتراز ہے کیا؟شاہ ویر کسی خدشے کے تحت پوچھنے لگا۔

میں ڈیڈ کو انکار نہیں کرپائی پر میں چاہتی ہوں تم اپنی طرف سے انکار کردو۔حیات نے کہنیاں میز پہ ٹکائے شاہ ویر سے رازدانہ انداز میں کہا شاہ ویر کا چہرہ فق ہوا تھا حیات کی بات پہ۔

کیوں؟شاہ ویر کجھ دیر بعد یہی بول پایا۔

تم وکیل ہوں تمہیں کوئی بہتر مل جائے گی مجھ سے۔حیات سیدھی ہوکر بولی۔

میں تم سے بہتر جانتا ہوں کے میرے لیے کون بہتر ہے اور نہیں۔شاہ ویر لفظ چٙبا کر بولا

اتنا روڈ کیوں ہورہے ہو۔حیات کو اس کا ایسے بات کرنا ایک آنکھ نہیں بھایا۔

کیونکہ مس حیات میر میں محبت کرتا ہوں تم سے میرے کہنے پہ یہ رشتہ ہورہا ہے اور اب تم مجھ سے کہہ رہی ہو میں انکار کروں کیا میں اتنا بیوقوف نظر آتا ہوں جو اپنی محبت کو کسی اور کے لیے چھوڑو گا۔شاہ ویر سخت انداز میں بولا دوسری طرف حیات گنگ سی ہوگئ تھی اُس کے اظہار پہ۔

تم نے بتایا تو نہیں کبھی ایسا کجھ پھر یوں اچانک۔حیات جزبز ہوکر بولی شاہ ویر جو تنے ہوئے تاثرات اس کو دیکھ رہا تھا حیات کی بات سن کر چہرے پہ مسکراہٹ آگئ تھی۔

کوئی غزل سناکر کیا کرنا

یوں بات بڑھا کر کیا کرنا

تم میرے تھے تم میرے ہو

دنیا کو بتاکر کیا کرنا

شاہ ویز نے شعر پڑھا حیات کا چہرہ خفت سے لال ہوا تھا اُس کے لیے شاہ ویر کا یہ روپ نیا تھا جس سے وہ پزل ہورہی تھی وہ کوشش کے باوجود بھی شاہ ویر کی جذبے لوٹاتی نظروں کا سامنا نہیں کرپارہی تھی۔

کیا اب بھی تمہیں اعتراض ہے؟شاہ ویر نے پوچھا۔

ویر

حیات پلیز میری محبت کو سمجھو میرے لیے تم آتی جاتی سانس کی طرح ضروری ہو اگر تم نے انکار کیا تو میں زندہ نہیں رہوں گا۔حیات کجھ کہنا چاہتی تھی پر شاہ ویر بیچ میں ٹوک کر بولا۔

یہ کیا پاگل پن ہے۔حیات جھنجھلا کر بولی

پاگلپن نہیں میری محبت ہے۔شاہ ویر خوبصورت مسکراہٹ کے ساتھ بولا۔

میں جینا حرام کردوں گا تمہارا۔حیات نے دھمکی دیتے ہوئے کہا۔

شوق سے۔شاہ ویر مزے سے بولا۔

زندگی جہنم بنادوں گی۔حیات نے ایک اور کوشش کی۔

دوسرے جہاں میں جنت میں ساتھ جائے گے۔شاہ ویر کی مسکراہٹ چہرے پہ برقرار تھی۔

میں نے بہت خرچہ کروانا ہے تم سے۔حیات نے سوچ سوچ کر کہا۔

میں جاب بھی تو تمہارے لیے کررہا ہوں۔شاہ ویر کو اب ہنسی آرہی تھی۔

افففف۔حیات تھک ہار کر اپنا سر میز سے ٹیک دیا شاہ ویر ٹھوری پہ ہاتھ رکھتا دلچسپی سے حیات کو دیکھنے لگا۔

کب لیکر آوٴگے بارات؟حیات نے ویسے ہی پوچھا تو شاہ ویر گردن جھکا کر ہنس پڑا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

ہر شام سے تیرا اظہار کیا

کرتے ہیں

ہر خواب میں تیرا دیدار کیا

کرتے ہیں

دیوانے ہی تو ہیں تمہارے

جو ہر وقت/۔

تیرے ملنے کا انتظار کیا

کرتے ہیں

زرجان کو جیسے پتا چلا آج ماہا یونیوسٹی نہیں آئی تب سے وہ بے چین سا ہوگیا تھا ماہا کو ہر روز دیکھنے کی اُس کو عادت ہوگئ تھی اس کا بس نہیں چلتا تھا وہ ماہا کو اپنے پاس بیٹھاکر رکھے پر وہ بس ایسا چاہ سکتا تھا کرنا اس کے اختیار میں نہیں تھا۔

کیا ہوا؟فرزام نے اس کو گراؤنڈ میں اکیلا بیٹھا دیکھا تو کہا۔

وہ نہیں آئے گی آج میں کیا کروں مجھے ان کو دیکھنا ہے۔زرجان نے بتایا

ایک تو مجھے تمہاری سمجھ نہیں دل لگانے کے لیے ٹیچر ہی ملی تھی۔فرزام اس کی بات پہ پھٹ پڑا۔

فضول مت بولو میں پہلے ہی بہت پریشان ہوں۔زرجان نے ڈپٹ کر کہا

ایک دن نہیں دیکھوگے تو مر نہیں جانا تمہیں۔فرزام نے آرام سے کہا۔

کل ہفتہ پھر اِتوار ہے۔زرجان نے پریشانی سے کہا

بچوں جیسا ری ایکٹ نہیں کرو زر جو تم چاہتے ہو ویسا ممکن نہیں۔فرزام نے پتھر سے سر پھوڑا

ناممکن بھی نہیں وہ میری ہے تم دیکھنا میں ان کو اپنا بنا کر رہوں گا۔زرجان شدت پسندی سے گویا ہوا۔

ایک یہ محبت کرنے والوں کی سب سے بڑی غلط فہمی یہی ہوتی ہے کے وہ جس کو چاہتا ہے اُس کو لگتا ہے وہ انسا اُسی کا اسی کے لیے بنا ہے۔فرزام سر جھٹکتا بولا۔

کیونکہ وہ انسان جانتا ہے جس اللہ نے اُس انسان کی محبت دل میں ڈالی ہے وہ اللہ اُس انسان مقدر میں بھی دے گا۔زرجان پرسکون مسکراہٹ کے ساتھ بولا۔

میں یہی مشورہ دوگا اپنے قدم واپس لیں میم ماہا کبھی تمہاری نہیں بنے گی۔فرزام نے کہا

اگر تمہیں زندہ رہنا ہے تو اپنی بکواس بند کرو۔زرجان فرزام کا گریبان پکڑکر کہتا تھکا دے کر وہاں سے نکل گیا فرزام نے افسوس سے اس کو جاتا دیکھا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

آج جلدی آگئے۔مہرماہ نے زرجان کو تیزی سے کمرے میں جاتا دیکھا تو کہا

کلاسس نہیں تھی۔زرجان کہتا سیڑھیاں چڑھنے لگا۔

اچھا اب آگئے ہو تو ایک کام کرو۔مہرماہ نے کہا۔

مما میرے سر میں درد ہے بعد میں۔زرجان نے التجا کی۔

اوہو شاہ نے کہاں پھسادیا۔مہرماہ بڑبڑائی جو زرجان نے باآسانی سن لیا۔

کیا کہہ دیا انہوں نے؟زرجان نے پوچھا۔

یہ فائل ریان کو دینی ہے وہ آفس نہیں گیا آج شاہ نے کہا اِس میں اس کے سنگنیچر ضروری ہے۔مہرماہ نے بیزار شکل بنائے کہا تو زرجان کی آنکھوں میں چمک آئی۔

میں چلاجاتا ہوں ان کے پاس۔زرجان فورن نیچے آتا بولا۔

تمہارے تو سر میں درد تھا۔مہرماہ نے تعجب سے کہا۔

ہاں نہ تو میں نہیں چاہتا آپ کو بھی ہو اِس لیے میں جاتا ہوں۔زرجان نے مہرماہ کے ہاتھ سے فائل لیکر کہا۔

شاہ تو اب اتنے کام سے وہاں نہیں جاسکتا مرجان کا وہاں جانا سہی لگتا بھی نہیں ابھی منگنی جو ہوئی ہے دوسرا شاہ نہ تو ڈرائیور سے یہ کام کہتا ہے نہ اپنے اسٹاف میں کسی کو۔مہرماہ رلیکس ہوتی ہوئی بولی۔

میں ہوں نہ میں جارہا ہوں۔زرجان کا بس نہیں چل رہا تھا اُڑ کر وہاں پہ پہنچ جاتا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

تم پھر سے اب اور زیادہ اُداس رہنے لگی ہو آج تو یونی سے بھی آف کیا۔ملیحہ نے ماہا کے پاس بیٹھ کر کہا

ابھی میرے پاس تمہاری کسی بات کا جواب نہیں۔ماہا نے بے تاثر لہجے میں کہا۔

ماہا پریشانیاں بتانے سے کم ہوجاتی ہیں۔ملیحہ نے اس کے شانے پہ ہاتھ رکھ کر کہا۔

میں پریشان نہیں ہوں۔ماہا نے فورن سے کہا

منگنی کے دن سے گم سم دیکھ رہی ہوں۔

کیا وہ تمہیں چاہتا ہے جس سے تمہاری شادی ہونے والی ہے؟ماہا نے اس کی بات نظرانداز کرکے پوچھا۔

ہاں اس لیے تم شادی ہورہی ہے۔ملیحہ مسکراکر بولی۔

حیرت ہے۔ماہا طنزیہ لہجے میں بولی۔

کیا ہوا۔ملیحہ کو اس کا لہجہ عجیب لگا۔

باہر بیل ہورہی ہے۔ماہا نے کہا

میں جاکر دیکھتی ہوں۔ملیحہ بیڈ سے اٹھتی بولی۔

باہر آئی تو زرجان ہاتھ میں فائل لیے کھڑا تھا۔

اسلام علیکم!زرجان نے سلام کیا۔

وعلیکم اسلام!اندر چلو۔ملیحہ نے مسکراکر کہا

انکل ہیں گھر پہ؟زرجان یہاں وہاں نظر گُھماتا بولا

اسٹڈی میں ہے تم مل لو میں تب تک تمہارے لیے کجھ کھانے پینے کا بندوبست کرتی ہوں۔ملیحہ نے کہا

اس کی کوئی ضرورت نہیں میں بس فائل سائن کروانے آیا تھا۔زرجان نے انکار کرتے ہوئے کہا جب کی نظریں ماہا کو دیکھنے کی تمنا کررہی تھی۔

جوس لیکر آتی ہوں وہ تو پی لینا۔ملیحہ کہتی کچن کی طرف گئ زرجان بھی منہ بناتا اسٹڈی کی طرف جانے لگا۔

او سوری۔زرجان سر جھکاکر جا ہی رہا تھا جب سامنے آتی ماہا سے اُس کا ٹکر ہوتے ہوتے بچا۔

کوئی بات نہیں۔ماہا سنجیدگی سے کہتی پاس سے گُزر گئ زرجان جو ماہا کو دیکھنے پہ خوش ہو رہا تھا اُس کی سرخ آنکھیں دیکھ کر پریشانی نے آگھیرا۔

آپ ٹھیک ہے؟زرجان ماہا کے پاس آکر بولا جو شاید کچن کی طرف جارہی تھی۔

ہاں مجھے کیا ہونا ہے؟ماہا نے اُلٹا اُس سے سوال کیا تو زرجان گِڑبڑا گیا۔

آج آپ یونی نہیں آئی تھی اور آپ کی آنکھیں بھی سرخ تھی اِس لیے پوچھا۔زرجان نے کہا

میں ٹھیک ہوں تم وہ کرو جو کرنے آئے ہو۔ماہا سپاٹ انداز میں بولی۔

وہی تو کررہا ہوں۔زرجان بڑبڑاتا دوبارہ سے اپنا رخ اسٹڈی کی جانب کرگیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *