Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Qaid Season 2 (Episode 04)

Ishq Qaid Season 2 by Rimsha Hussain

کیا کررہی ہو تم؟ مہرماہ گھر واپس آئی تو مسکراکر پری سے پوچھا۔

وہ بھابھی حور آپ کی شادی ہے نہ تو میں آن لائن ڈریسز دیکھ رہی ہوں۔ پری نے بتایا۔

شاپنگ تو مجھے بھی کرنی ہے پر آن لائن نہیں مال سے۔ مہرماہ نے سر پہ ہاتھ مار کر کہا۔

جلدی کرلیں پھر شادی کے دن قریب ہیں۔ پری نے مسکراکر کہا۔

ہاں میں شاہ سے کہتی ہوں اگر وہ ساتھ چلا تو ٹھیک ورنہ مونا کے ساتھ شاپنگ کرلوں گی۔ مہرماہ اٹھتی ہوئی بولی۔

میر کمرے میں ہے۔پری نے بتایا۔

آج یونی سے جلدی آگیا۔ مہرماہ کو حیرت ہوئی

ہمم اور اب کمرے میں ہے جانے کیا کررہا ہے۔پری نے مزید کہا۔

میں جاکر دیکھتی ہوں۔ مہرماہ کہتی اپنے اور شاہ میر کے مشترکہ کمرے کی طرف آئی۔ مہرماہ اندر آئی تو شاہ میر کو کھڑی کے پاس کسی سے بات کرتا ہوں دیکھا تو بیڈ پہ آکر بیٹھ گئ اور شاہ میر کو کال پہ بات کرتا دیکھنے لگی

ریان تمہیں ایک ہفتہ نہیں ہوا لنڈن گئے اور اب تم نے شادی بھی کرلی مجھے بتانا تک گوارا نہیں کیا۔ شاہ میر کا لہجہ سخت تھا۔

یار میر میں کیا بتاتا تمہیں جب کی میں خود ابھی تک شاک میں ہوں ڈیڈ نے زبردستی اپنے دوست کی بیٹی میرے سر پہ تھوپی ہے۔دوسری طرف ریان کی مسکین بھری آواز آئی۔

تو کیا تم پہلے اس کو نہیں جانتے تھے؟ شاہ میر نے پوچھا

جانتا تھا پر اتنا بھی نہیں جیسے یہ کہ اس کا نام مہرین ہے اور وہ لنڈن کی یونی میں لیکچرار ہے۔ ریان نے صاف گوئی سے کہا۔

تمہیں کوئی پسند بھی تو نہیں تھی پھر اچھا ہے انکل کی پسند سے ہوگئ ہے شادی۔ شاہ میر اب آرام سے بولا مہرماہ بہت غور سے اس کو باتیں کرتا سن رہی تھی شاہ میر جو کھڑکی کے سامنے کھڑا ریان سے بات کررہا تھا مہرماہ کو دیکھا تو اس کی طرف آیا اور بیڈ پہ آکر مہرماہ کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا جب کی موبائل فون کان کے پاس ہی تھا مہرماہ مسکراتی اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگی۔

ہاں پر انسان کی اپنی بھی کوئی پسند ہوتی ہے کوئی آئیڈیل ہوتا ہے میرا تو فلحال شادی کا کوئی ارادہ بھی نہیں تھا۔ ریان نے کہا۔

اچھا اب فضول باتیں نہیں کرو شادی کرلی ہے تو اس کو سچے دل سے نبھانا بھی۔شاہ میر نے ٹوک کر کہا۔

نبھانا تو پڑے گا میں نے کب انکار کیا۔ ریان ہنس کر بولا۔

ٹھیک ہے اب میں کال رکھتا ہوں۔ شاہ میر مہرماہ کو دیکھ کر بولا۔

بائے۔ ریان نے کہا تو شاہ میر نے کال کاٹ دی۔

ریان کتنا عجیب نام ہے۔ شاہ میر نے فون دور کیا تو مہرماہ نے کہا۔

عجیب نہیں ہے جنت کے دروازے کا نام ہے۔ شاہ میر نے مہرماہ کے بالوں کی لٹوں میں اپنی انگلی گھماکر بولا۔

جنت کے دروازے کا نام۔ مہرماہ پرسوچ لہجے میں بولی پھر اچانک یاد آیا تو کہا۔

ہاں پتا ہے جنت کے آٹھ دروازے ہوتیں ہیں ایک کا نام ریان ہوتا ہے جس میں بس روزے دار ہی داخل ہوسکتے ہیں۔مہرماہ نے کہا تو شاہ میر نے اپنا سرہلایا۔

کل مجھے تم نے شاپنگ پہ لیں جانا ہے۔ مہرماہ نے کہا۔

کہیں تو آج لیں چلوں۔ شاہ میر نے کہا۔

آج تو بہت دیر ہوگئ ہے کل صبح چلیں گے۔ مہرماہ نے کہا۔

جیسے آپ کی مرضی۔شاہ میر نے کہا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

کیا واقع باجی چالیس ہزار سیلری ہے آپ کی۔ ثانیہ جاب سے واپس آکر اپنی سیلری کا بتایا تو ہانیہ نے حیرت سے کہا۔

ماشااللہ کہو۔ زبیدہ بیگم نے ٹوکا۔

ہاں اگر میں ٹھیک سے کام کروں گی تو زیادہ بھی ہوسکتی ہے۔ ثانیہ نے مسکراکر کہا۔

پھر ڈن ہوا آپ اپنی پہلی سیلری ملتے ہی مجھے میری مرضی کی شاپنگ کروائے گی۔ہانیہ نے چہکتے ہوئے کہا

اوکے ڈن۔ ثانیہ نے کہا۔

میں مغرب کی نماز پڑھ لوں۔ زبیدہ بیگم اٹھتی ہوئی بولی۔

باجی آپ کے فون پہ صبح مہرو باجی کی کال آئی تھی۔ ہانیہ نے بتایا۔

مہرو کی کال میں آج جلدی گئ تھی تو فون لیکر جانا ہی بھول گئ تھی۔ ثانیہ سر پہ ہاتھ مارتی ہوئی کمرے میں جانے لگی۔

بات کرلے ان سے بہت خفا تھیں آپ سے آپ ان کی شادی پہ جو نہیں گئ تھی۔ ہانیہ نے اس کو جاتا ہوا دیکھا تو بتایا۔

میں منالوں گی۔ ثانیہ کہتی کمرے میں آکر اپنا فون اٹھاکر مہرو کا نمبر ڈائل کیا مگر بہت بار کرنے پہ کوئی رسپانس نہیں ملا تو اس نے کال کرنا چھوڑ دیا اور بیڈ پہ بیٹھ گئ۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

مہرماہ دوسرے دن شاہ میر کے ساتھ مال آئی تھی شاپنگ کرنے کے لیے وہ شاہ میر کو جینز شاپ میں اپنے لیے شاپنگ کرنے کا کہتی خود لیڈیز ڈریسر کی جانب آئی تھی۔ مہرماہ نے سیل گرلز سے مایوں، مہندی، نکاح،اور ولیمے کے مطابق ڈریسز دیکھانے کا کہا تو سیلز گرلز مسکراتی کپڑوں کی لیٹسٹ کلیکشن اس کو دیکھانے لگی پہلے مہرماہ نے ولیمے کی ڈریس لینے کا سوچا پر اس کو سمجھ نہیں آیا کہ کونسا ڈریس لیں کیونکہ اس کو سب اچھے لگ رہے تھے۔

ایسا کریں آپ ایک یہ ڈریس پیک کردیں۔مہرماہ نے ایک پیلے رنگ کی قمیض اور پاجامہ سیلز گرل کو پیک کرنے کا کہا جس کے گلے پہ پیلے پھولوں کا خوبصورت کام کیا گیا تھا ڈوپٹہ جب کی اس کا گرین تھا جس کہ اطراف موتی لٹک رہے تھے۔ مہرماہ نے بس ایک ڈریس ہی سلیکٹ کیا تھا جب شاہ میر اس کے پاس آیا۔

تم نے کرلی شاپنگ۔مہرماہ نے حیرت سے پوچھا۔

جی پر آپ نے ابھی تک نہیں کی۔ شاہ میر نے مسکراکر کہا۔

کجھ سمجھ ہی نہیں آرہا۔ مہرماہ نے منہ بسورتے ہوئے کہا۔

آپ کپڑے خریدنے وقت سوچا نہ کریں میں نے آپ کو پہلے ہی کہا تھا آپ جو بھی پہنے گی اچھی ہی لگے گی۔ شاہ میر نے اپنی بلو آنکھوں میں چمک لیے مہرماہ سے کہا تو مہرماہ کا چہرہ بلش کرنے لگا کیونکہ پاس کھڑی سیلز گرلز ان کو معنی خیز نظروں سے دیکھ رہی تھی۔

شاہ ہم گھر پہ نہیں ہے۔ مہرماہ نے۔ اس کو احساس کروانا چاہا۔

آپ مہندی کے لیے یہ ڈریس پہنے گی۔ شاہ میر نے ایک براٶن میکسی کی طرف اشارہ کیے کہا مہرماہ نے دیکھا تو اس کو بھی بہت پسند آئی کیونکہ میکسی کافی سمپل سی تھی گول گلے۔ والی جس کے ساتھ سفید رنگ کی موتیوں کی مالا تھا۔

شادی کے لیے یہ۔شاہ میر تھوڑا آگے جاتا ایک ڈریس لیکر مہرماہ کے پاس آیا جو کی چاکلیٹی کلر کا لہنگا تھا جس پہ سیم کلر کی کڑھائی کی گئ تھی۔

ولیمے لے لیے آپ یہ پہنے گی۔ شاہ میر نے خود ہی مہرماہ کی شاپنگ کی مہرماہ ستائش نظروں سے شاہ میر کے بتائے گئے ڈریسز دیکھ رہی تھی جب کی کجھ سیلز گرلز بھی اپنا کام بھولائے شاہ میر کو دیکھ رہی تھی۔

فراق ٹھیک رہے گا؟مہرماہ نے گولڈن کلر کا فراق دیکھا تو شاہ میر سے کنفرم کرنا چاہا۔

ہاں آپ پہنے گی تو اِس فراق کی قیمت بڑھ جائے گی۔ شاہ میر نے اپنی مسکراہٹ ضبط کیا مہرماہ کے سرخ پڑتے گالوں کو دیکھ کر کہا۔

ہاٶ رومانٹک۔ایک سیلز گرل شاہ میر کی بات سنتی اپنے منہ پہ ہاتھ رکھتی بولی تو مہرماہ نے گھور کر شاہ میر کے ہاتھ سے وہ فراق لیا اور سب ڈریسز سیلز گرل کو پیک کرنے کا کہا۔

اب جوتوں کی خریداری کرنی ہے۔ مہرماہ اور شاہ میر ڈریسز خریدنے کے بعد باہر آئے تو مہرماہ نے کہا۔

چار ڈریسز خریدنے میں دو پہر لگادی آپ نے اب میچنگ جوتوں میں شام کردیں گی پھر میچنگ جیولری میں رات لگادی دیں گی۔ شاہ میر نے مہرماہ کو چھیڑنے نے کی خاطر کہا ورنہ اس کو مزہ آرہا تھا مہرماہ کے ساتھ شاپنگ کرنے میں کیونکہ مہرماہ کے ساتھ باہر آنا اس کا پہلا تجربہ تھا اُس سے پہلے شادی کی شاپنگ سب عورتوں نے کی تھی جس میں شاہ میر کا کوئی عمل دخل نہیں تھا بس اس نے شادی کا جوڑا مہرماہ کے لیے خود خرید کر ہانم بیگم کو دیا تھا کہ وہ مہرماہ کو دیں۔

ابھی تو پہلی بار شاپنگ کرانے آئے ہو اور ایسے بول رہے ہو پوری زندگی کیا کروگے؟مہرماہ نے شاہ میر کی بات پہ اس کے بازوں پہ چٹکی کاٹ کر کہا جس پہ شاہ میر بُلبُلا اٹھا۔

کتنی ظالم ہیں آپ۔ شاہ میر ایک ہاتھ میں بیگز پکڑتا دوسرے ہاتھ سے اپنا بازوں سہلاتا ہوا بولا

زیادہ لگی کیا؟مہرماہ فکرمند ہوئی۔

نہیں میں تو مزاق کررہا تھا۔ شاہ میر بولا تو مہرماہ نے اب کی اور زور سے اس کے بازوں پہ چٹکی کاٹی جس پہ شاہ میر اب کی ضبط کرتا رہ گیا کیونکہ مہرماہ نے دوبارہ بھی وہی چٹکی کاٹی تھی۔ مہرماہ شاہ میر کے ساتھ مل کر میچنگ سینڈلز لیے پھر وہ دونوں جیولر کے پاس گئے جہاں مہرماہ نے اپنی ڈریسز سے میچنگ سمپل سی جیولری لی جو کہ شاہ میر کی پسند کی تھیں ساری شاپنگ ختم ہونے کے بعد شاہ میر کاٶنٹر کی جانب آتا بل پے کرنا اس کے بعد شاہ میر مہرماہ کو فوڈ کارنر میں جانا کا کہتا خود باہر اپنی گاڑی کے پاس آیا اور سارے بیگز گاڑی میں رکھ کر گاڑی کا دروازہ لاک کرتا خود بھی فوڈ کارنر کی جانب آیا جہاں مہرماہ اس کا انتظار کررہی تھی۔

آرڈر کیا آپ نے؟ شاہ میر کرسی مہرماہ کے پاس کرتا اس پہ بیٹھ کر مہرماہ سے سوال کیا۔

ہاں کرلیا ہے میں نے چچی کو میسج بھی کردیا کہ رات کے کھانے پہ ہمارا ویٹ نہ کریں۔ مہرماہ نے بتایا۔

میں نے تو پہلے ہی کہا تھا رات ہوجائے گی ہوگئ نہ رات۔ شاہ میر نے مسکراکر کہا۔

جی جی آپ تو بہت بڑے نجومی ہیں۔ مہرماہ نے شاہ میر پہ میٹھا طنزیہ کیا جو شاہ میر نے ہنس کر قبول کیا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

شاہ زیب اپنے کمرے کی بالکنی کے پاس کھڑا تھا جب کی دماغ پورا اس کا ثانیہ کے بارے میں سوچنے میں لگا ہوا تھا۔

شاہ زیب کنٹرول کنٹرول۔ شاہ زیب سرجھٹکتا گہری سانس لیکر خود سے بولا۔

میں کیوں اس کے بارے میں سوچ رہا ہوں مانتا ہوں پیاری اور معصوم تھی پر اس کا مطلب یہ تو نہیں میں اس کو یاد کرنے لگ پڑوں۔ شاہ زیب نے خود کو باور کروایا۔

اففف میں پاگل ہوجاٶں گا۔شاہ زیب نے اپنا ہاتھ زور سے اپنے سر پہ مارا اور صوفے پہ بیٹھ گیا

میں نے غلطی کردی اس کو اپنی اسسٹنٹ بناکر اب ہرپل میری نظروں کے سامنے رہے گی تو میں کیسے اس کے خیالوں سے چھٹکارا حاصل کروں گا۔ شاہ زیب اب کی فکرمند ہوا۔

یااللہ میں کہاں پیار کے چکر میں پڑگیا اچھا خاصا خوشحال تو تھا اپنی زندگی میں یہ پیار نامی بلا کیوں میرے پیچھے پڑگئ۔ شاہ زیب اچانک کہتا چونک اٹھا۔

پیار؟ شاہ زیب نے خود سے سوال کیا۔

اچھا مزاق ہے میں کونسا اس کو جانتا ہوں یا باتیں ہوئی ہیں جو مجھے اس سے پیار ہوجائے گا۔ شاہ زیب نے خود کی بات رد کی۔

پر پیار تو ایک لمحے میں ہوجاتا ہے۔ شاہ زیب کے اندر سے آواز آئی۔

ہاں تو ہوتا ہوگا میں شاہ زیب ہوں اور شاہ زیب سکندر کو کوئی زِیر نہیں کرسکتا وہ چھٹانگ بھر کی لڑکی تو بلکل نہیں۔ شاہ زیب کی آنکھوں کے سامنے ثانیہ کا خوبصورت نازک سراپا آیا تو اس نے خود کو یقین دلانا چاہا پر دل نے کب کسی کی سنی ہے جو اب شاہ زیب کی سنتا۔

ثانیہ افتخار

ثانیہ شاہ زیب۔ گڈ ساٶنڈ۔ شاہ زیب اتنا کہتے مسکرانے لگا۔

میر کی طرح میں بھی مجنوں بن گیا تو؟ شاہ زیب کو اب ایک اور فکر لاحق ہوئی۔

میر کو سائیڈ پہ کرتا ہوں اور بس اپنے بارے میں سوچتا ہوں ویسے بھی ہر ایک کے پیار کرنے کا اپنا طریقہ ہوتا ہے۔ شاہ زیب مسکراتا اپنے ہاتھ سر کے پیچھے لیں جاکر صوفے پہ رکھیں اور اپنا سر ان پہ ٹکاتا مسکراتی نظروں سے آسمان کی جانب دیکھنے لگا۔

بہت گہرے خیالوں میں

محبت کے حوالوں میں

تمہارا نام آجانا

مجھے اچھا سا لگتا ہے۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

مہرماہ حور کے مایوں میں جانے کے لیے تیار ہورہی تھی جب شاہ میر کمرے میں اندر داخل ہوا مہرماہ کی اس پہ نظر پڑی وہ مسکرائی۔

آگئے تم اب جلدی سے تیار ہوجاٶ پہلے ہی بہت دیر ہوگئ ہے چچی جان والے سب تیار ہیں۔مہرماہ عجلت میں کہتی وارڈروب کی جانب بڑھی تاکہ شاہ میر کے کپڑے نکال سکے۔ جب کی شاہ میر مہرماہ کو دیکھنے میں مگن تھا جو مایوں کے پیلے جوڑے میں بہت خوبصورت لگ رہی تھی جس کا ڈوپٹہ فلحال بیڈ پہ پڑا ہوا تھا چہرے پہ ہلکا سا میک اپ اور آنکھوں میں آئی لائنر کی لکیر کھینچی ہوئی تھی جب کی ہونٹوں پہ ڈارک ریڈ کلر کی لپ اسٹک لگائی ہوئی تھی شاہ میر کی آنکھیں مسلسل مہرماہ کے چہرے کا طواف کررہی تھی جب کی دل زور سے دھڑک تھا مہرماہ کو ایسے دیکھتے ہوئے۔

میں تمہارا ڈریس استری کرکے وارڈروب کے ہینگر میں لٹکادیا تھا۔مہرماہ نے پیلے کلر کُرتا شاہ میر کی طرف بڑھائے کہا شاہ میر مہرماہ کی آواز سن کر ہوش میں آتا کپڑے لیکر بیڈ پہ رکھے اور خود مہرماہ کی طرف آیا جو دوبارہ ڈریسنگ ٹیبل کی جانب جارہی تھی شاہ میر نے مہرماہ کی کلائی پکڑکے کر اپنے روبرو کیا۔

شاہ کیا کررہے ہو لیٹ ہورہا ہے ہمیں۔مہرماہ نے جھنجھلا کر شاہ میر سے کہا۔

آپ بہت خوبصورت لگ رہی ہیں۔ شاہ میر مہرماہ کے چہرے پہ آتی آوارہ لٹوں کو کان کے پیچھے کرتا ہوا بولا۔

جانتی ہوں۔ مہرماہ نے اِتراکر کہا۔

اور کیا جانتی ہیں آپ؟ شاہ میر نے دلچسپی سے مہرماہ کا خوبصورت چہرہ دیکھ کر پوچھا

یہی کے اب تم مجھے اپنی باتوں میں لگاکر وقت کا ضائع کرنے کا ارادہ رکھتے ہو۔ مہرماہ نے اپنا ہاتھ چھڑواکر شاہ میر کو بازوں سے پکڑ کر واشرروم کی جانب دھکیلتے ہوئے کہا۔

یار ماہ آپ تو ظالم ہیں مجھے تو ابھی آپ کو جی بھر کے دیکھنا تھا۔ شاہ میر نے منہ بناکر کہا جس پہ مہرماہ نے اپنی مسکراہٹ دبائی۔

تمہارا جی کبھی نہیں بھرسکتا اِس لیے اب جو میں کہہ رہی ہو وہ کرو۔ مہرماہ بیڈ سے شاہ میر کے کپڑے اٹھاکر اس کے ہاتھوں میں تھماکر بولی۔

اففف۔شاہ میر اتنا کہہ کر واشروم میں بند ہوگیا مہرماہ شاہ میر کی حالت انجوائے کرتی خود اپنے کام میں لگ گئ۔

مہرو بھابھی امی کہہ رہی ہیں ہم لوگ جارہے ہیں آپ اور میر تیار ہوکر آجانا ان کو بار بار پھپھو کا فون آرہا ہے اس لیے ہم جارہے ہیں۔مہرماہ اپنے بالوں کا اسٹائل بنارہی تھی جب پری دروازہ نوک کرتی اندر داخل ہوتی ہوئی بولی۔

ٹھیک ہے شاہ تیار ہوجائے ہم بھی آتے ہیں پھر۔ مہرماہ نے مسکراکر کہا تو پری سرہلاتی باہر نکل گئ۔

شاہ میر واشروم سے نکلا تو مہرماہ تیار سی موبائل میں مگن تھی۔

آپ ہوگئ تیار۔ شاہ میر اپنے گیلے بالوں میں ہاتھ پھیرتا ہوا بولا۔

جی کب کی پر یہاں تو سسٹم ہی اُلٹا ہے کہاں شوہر تیار سا اپنی بیوی کہ تیار ہونے کے انتظار میں ہوتا ہے اور ایک میں ہوں جو تیار ہوکر اپنے شوہر کے انتظار میں ہوں۔ شاہ میر کے پوچھنے پہ مہرماہ جل کے بولی۔

رلیکس میری جان۔ شاہ میر نے مہرماہ کو تپایا جب کی مہرماہ شاہ میر کے میری جان کہنے پہ بس گھور کر رہ گئ۔

مجھے یونی میں دیر ہوگئ تھی آج بہت کام تھا وہاں ورنہ اُلٹا سسٹم نہیں ہوتا۔ شاہ میر نے وضاحت دی۔

ٹھیک ہے پر اب جلدی کرو سب نکل گئے ہیں۔مہرماہ نے کہا۔

اچھی بات ہے پھر تو ہم آرام سے اکیلے جائے گیں۔ شاہ میر مہرماہ کی بات پہ خوش ہوا۔

شاہ اب میں تم کیا کہوں۔ مہرماہ اتنا کہتی خاموش ہوگئ جس پہ شاہ میر مسکراتا اپنے کُرتے کے کف اُپر کرنے لگا اپنے بال سیٹ کرنے کے بعد شاہ میر نے اپنے ہاتھ میں گھڑی پہنی پھر خود پہ پرفیوم چھڑکنے کے بعد خود کا جائزہ لینے لگا۔

اوسم۔ شاہ میر خود کی تعریف کہتا مہرماہ کے پاس آیا۔

میں ریڈی ہوں چلیں۔ شاہ میر نے مہرماہ سے کہا جس پہ مہرماہ نے شاہ میر کو دیکھا پھر دل میں ماشااللہ کہتی اٹھ کھڑی ہوئی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

کیا ہوا اُداس بُلبُل؟ سالار نے شاہ زیب سے پوچھا جو حور کہ مایوں کے فنکشن میں کونے پہ رکھی ٹیبل پہ خاموش بیٹھا ہوا تھا حور کے مایوں کی رسم گھر کے باہر لان میں کی گئ تھی جہاں مہمانوں کے بیٹھنے کا بہت اچھے سے انتظام کیا تھا پورا لان لائٹس کی روشنیوں سے جگمگارہا تھا مایوں کی رسم لڑکا لڑکی ایک ساتھ تھی۔

کجھ نہیں۔شاہ زیب نے بُلبُل نام پہ بنا کوئی تاثر دیئے کہا۔

کجھ تو ہوا ہے ورنہ جہاں شاہ زیب سکندر ہو وہاں خاموشی بھی ہو ایسا تو ناممکنات میں سے ہے۔ سالار نے مشکوک نظروں سے اس کی جانب دیکھ کر کہا۔

بات ہوتی تو ضرور بتاتا۔ شاہ زیب نے کہا۔

توں تم نہیں بتانے والے؟ سالار نے کنفرم کرنا چاہا شاہ زیب نے سالار کو دیکھا پھر گہری سانس بھر کر اس کو بتانے کا سوچا۔

مجھے لگ رہا ہے کہ مجھے محبت ہوگئ ہے۔ شاہ زیب اتنا کہہ کر چپ ہوا پر دوسری طرف سالار کی طرف سے نو رسپانس جان کر اس نے ٹیری نظر سے اس کو دیکھا جو بس اس کو تک رہا تھا۔

میں نے کجھ کہا۔ شاہ زیب نے دانت پیستے ہوئے کہا۔

اچھا مذاق تھا۔ سالار سر جھٹکتا ہوا بولا۔

مجھے دیکھ کر تمہیں لگ رہا ہے کہ میں مذاق کررہا ہوں؟ شاہ زیب نے اپنے چہرے کی طرف اشارہ کیے کہا جہاں بہت سنجیدگی تھی۔

لگ تو نہیں رہا۔ سالار اپنی ٹھوری پہ ہاتھ رکھتا شاہ زیب کے چہرے کو بغور دیکھتا ہوا بولا جس پہ شاہ زیب کو تپ چڑھی اور اس نے ایک مُکہ سالار کے بازوں پہ دیں مارا جس سے سالار ہنس پڑا۔

اچھا زیب اگر تم سیریس ہوتو یہ بھی بتادو کہ کون ہے وہ خوشنصیب جس نے تمہارا دل اپنے قبضے میں کرلیا۔ سالار نے پوچھا

جب اس کا نام میرے نام سے جڑ جائے گا نہ حلال طریقے سے اور ہمیشہ کے لیے پھر تمہیں پتا چل جائے گا وہ کون ہے۔ شاہ زیب تصور میں ثانیہ کو یاد کرتا ہوا بولا۔

واہ جی واہ اب تم نام بھی نہیں بتارہے۔ سالار کو شاہ زیب کی بات پہ کافی حیرت ہوئی اس کا شاہ زیب آج بہت بدلا بدلا ہوا سا لگ رہا تھا۔

ہاں کیونکہ محبت کی پہلی شرط عزت کرنا اور دوسری شرط اعتبار کرنا ہوتا ہے اس لیے میں ان اس کا نام نہیں لیں رہا میں نہیں چاہتا بنا کسی جائز رشتے کے میں اس کا نام تمہارے سامنے یا کسی اور کے نام لوں کیونکہ جن سے محبت کی۔ جاتی ہے اس کا نام ایسے ہی نہیں لیا جاتا۔ شاہ زیب کھوئے ہوئے انداز میں کہا۔

بدلے بدلے سرکار نظر آرہے ہیں۔سالار شاہ زیب کی بات کا بُرا مانے بنا مسکراکر اس کو چھیڑنے لگا جس پہ شاہ زیب بھی مسکرادیا۔

لو اگیا میر اور مہرو بھی آگئ۔ سالار نے اینٹرس کی طرف دیکھ کر شاہ زیب سے کہا تو شاہ زیب بھی اس کی طرف دیکھنے لگا جہاں شاہ میر کے ساتھ مہرماہ مسکراتی ہوئی آرہی تھی مہرماہ کو اتنا خوش دیکھ کر شاہ زیب کے اندر سکون کی لہر ڈورگئ۔

چلتے ہیں پھر ہم بھی اسٹیج کی طرف۔ شاہ زیب اٹھتا ہوا سالار سے بولا تو سالار بھی اُٹھ کھڑا ہوا پھر دونوں مل کر لان میں سیٹ کیے اسٹیج کی طرف گئے جہاں چہرے پہ ڈوپٹہ اوڑھے حور سرجھکاکر بیٹھی ہوئی تھی اور پاس کھڑی عورتیں رسم کررہی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *