Ishq Qaid Season 2 by Rimsha Hussain NovelR50563 Ishq Qaid Season 2 (Episode 24)
Rate this Novel
Ishq Qaid Season 2 (Episode 24)
Ishq Qaid Season 2 by Rimsha Hussain
ماں کا فون آیا ماں!!!!!!!
کا فون آیا تیری ماں
کا فون آیا!!!!!!!
میری ماں کا فون آیا
سب کی ماں کا فون
آیا ماں!!!!!!!؟؟؟
یہ کیا بدلحاظی ہے؟ماہا سفید بورڈ پہ ان کو سمجھارہی تھی جب پوری خاموش کلاس میں ہلچل مچ گئ گانے کی آواز سن کر سب کھی کھی کرنے لگے ماہا نے زور سے بلیک مارکر ڈائیس پہ مارا سامنے پوری کلاس میں موت کا سناٹا چھایا گیا کسی کو معلوم نہیں ہوسکا یہ کس کی فون میں گانا چل رہا تھا سوائے احتشام اور فرزام کا جن کا چہرہ ہنسی ضبط کرنے کے چکر میں لال بھبھو ہوگیا تھا زرجان اچانک سے اپنی فون پہ آتی کال سن کر ہڑبڑا گیا تھا وہ آج اپنا فون سائلنٹ پہ کرنا بھول گیا تھا جس سے اب بُری طرح پھس چُکا تھا ظلم تو یہ تھا نہ جلدی میں اس کا ٹچ ریڈ بٹن پہ لگ کر کال بند کرپارہا تھا نہ ہی فون سائلنٹ پہ ہورہا تھا۔
جس کی فون میں یہ آواز ہے وہ کھڑا ہوجائے۔ماہا نے درشت لہجے میں کہا زرجان لب دانتوں تلے دباتا اٹھ کھڑا ہوا مہرماہ کی آج آتی کال نے اُس کو بُری طرح پھسا چُکی تھی وہ جو ماہا کو ایمپریس کرنے کے چکروں میں تھا اُس کا اثر اُلٹا ہورہا تھا فرسٹ ڈے سے ہی اس کا امیج ماہا کے سامنے کجھ خاص نہیں تھا۔
کلاس سے باہر جائے۔ماہا نے ایک تیکھی نظر زرجان پہ ڈال کر سخت لہجے میں کہا باقی سب حیرانی سے زرجان کو دیکھ رہے تھے کیونکہ ایسا پہلے نہیں ہوا تھا کہ بیچ کلاس میں کوئی استاد اس کو باہر جانے کا کہے سب پروفسرز کا زرجان فیورٹ تھا۔
میں اپنا فون سائلنٹ پہ کرنا بھول گیا تھا۔زرجان نے وضاحت کرنا چاہی۔
میں نے کہا کلاس سے باہر جائے یہ سب میں اپنی کلاس کے وقت برداشت نہیں کروں گی۔ماہا بنا اس کے چہرے پہ موجود شرمندگی کا اثر لیے بولی۔
زرجان کجھ دیر تک ماہا کا چہرہ دیکھتا رہا پھر اپنا بیگ ہاتھ میں لیے لمبے لمبے ڈگ بھرتا کلاس سے باہر نکل گیا زرجان کے جانے کے بعد کلاس میں سوگواریت جیسی کیفیت چھاگئ تھی ماہا سر جھٹکتی دوبارہ سے مارکر اپنے ہاتھ لیں چُکی تھی۔
تم یہاں یہ تو تمہاری کلاس کا وقت ہے نہ؟عروہ نے کیفے ٹیریا میں زرجان کو خاموش بیٹھا دیکھ کر پاس والی کرسی پہ بیٹھتی پوچھنے لگی۔
میرا دماغ خراب کرنے آئی ہو تو جاسکتی ہو۔زرجان نے اپنی لال انگار ہوتی آنکھوں سے عروہ کو گھور کر دیکھ کر کہا ایک پل کو عروہ کا سانس سینے میں اٹک گیا تھا مگر جلد ہی خود کو کمپوز کرتی بولی۔
میں کیوں تمہارا دماغ خراب کروں گی میں جسٹ ایک بات پوچھی تم نہیں بتانے چاہتے تو کوئی بات نہیں۔زرجان عروہ کی بات پہ کوئی رسپانس نہیں دیا تب تک احتشام اور فرزام بھی وہاں آچکے تھے۔
میم نے آج ویسے زیادتی کی تمہارے ساتھ۔احتشام بیٹھتے ہی بولا۔
کجھ ہوا کیا کلاس میں؟عروہ نے پوچھا احتشام نے مختصر بتایا۔
تم نے ایسکیوز کرنا چاہا تو ان کو تمہاری بات سننی چاہیے تھی ورنہ تم نے کبھی کسی سے معافی مانگی تو نہیں۔عروہ نے کہا
زر خاموش کیوں ہو؟فرزام کو زرجان کی چپ سے وحشت محسوس ہونے لگی۔
ایسے ہی میں ابھی اکیلا رہنا چاہتا ہوں۔زرجان اپنی جگہ سے اٹھتا بولا اس کا اِرادہ اب یونی کی بیک سائیڈ پہ جانے کا تھا پر گراؤنڈ سے گُزرتے ہوئے اس کی نظر ماہا کے ساتھ چلتے پروفسر منان پہ پڑی تو آنکھوں میں مرچیں پڑنے لگی جو ہنس ہنس کر ماہا کو کیا بتارہے تھے پروفیسر منان تیس سال کے خوش شکل آدمی تھے جو آج کل ماہا کے پیچھے رہتے تھے یہ بات پہلے اُس نے بس سنی تھی مگر آج دیکھ بھی لیا تھا ماہا کی نظر بھی اچانک سے زرجان پہ پڑی تھی کو شکوہ کرتی نظروں سے اُس کی جانب دیکھ پلٹ گیا تھا ماہا زرجان کے اِس طرح دیکھنے پہ کتنی دیر تک کنفیوز ہوتی رہ گئ۔







اسلام علیکم!!مرجان آفس سے آتا گاڑی سے باہر نکلا ہی تھا جب ملیحہ نے مسکراکر سلام کیا۔
وعلیکم اسلام!!!مرجان نے نظریں چُراکر جواب دیا۔
کیسے ہو؟ملیحہ نے ہمقدم ہوتے ہوئے خیریت دریافت کی۔
ٹھیک تم کیسی ہو؟مرجان نے جواب دینے کے ساتھ میں پوچھا
میں بلکل ٹھیک تم نے کبھی کوئی کال میسج نہیں کیا ورنہ تو بڑا مجھے دوست کہہ رہے تھے اپنے دوستوں سے اِس طرح لاپرواہ کون رہتا ہے۔ملیحہ نے شکوہ کیا۔
سوری بس وہ مصروفیت زیادہ تھی اِس وجہ سے ورنہ میں لاپرواہ نہیں ہوتا۔مرجان نے وضاحت کی باتوں کے درمیان وہ لان کی طرف آگئے تھے۔
تم نے بنا ماہا کو جانے دیکھے اُس سے شادی کے لیے حامی کیسے بھرلی۔ملیحہ نے وہ سوال کیا جس سے وہ بچنا چاہ رہا تھا۔
مجھے نہیں تھا پتا مما تمہاری بہن کا ہاتھ میرے لیے مانگے گی۔مرجان نے صاف گوئی سے کہا۔
تو تم کیا سمجھے تھے۔ملیحہ کو گونا سکون ملا تھا۔
مجھے لگا وہ تمہارے لیے آرہے ہیں۔مرجان نے بلا جھجھک کہا ملیحہ کو مرجان کی اِتنی صاف گوئی کی امید نہیں تھی وہ مرجان کے اتنے کھلے اعتراف پہ پزل ہوئی تھی۔
میرے لیے کیوں؟ملیحہ نے مزید سننا چاہا
کیا تمہیں اعتراض ہوتا اگر مما تمہاری شادی مجھ سے کرواتی تو۔مرجان اب کی اُس کے روبرو کھڑا ہوتا پوچھنے لگا مرجان کے اِس طرح سامنے آنے پہ ملیحہ فورن سے دو قدم پیچھے ہوئی تھی ملیحہ کی حرکت پہ مرجان مسکرائے بنا نہ رہ سکا۔
بات تو ماہا اور تمہاری ہورہی ہے نہ۔ملیحہ نے جواب دینے سے بچنا چاہا۔
تو میں چاہتا ہوں تم اپنی اور میری بات کرو تاکہ میں کوئی ری ایکشن لوں۔مرجان نے مسکراکر کہا۔
تمہیں کوئی ری ایکشن لینے کی ضرورت نہیں۔ملیحہ مرجان کی بات سن کر سرشار ہوکر بولی
کیوں؟مرجان ناسمجھی سے بولا۔
کیونکہ ماہا خود اِس رشتے کے حق میں نہیں وہ جلد ہی ڈیڈ سے بات کریں گی۔ملیحہ نے بتایا مرجانا بس سرہلاتا اُس کو لیکر اندر کی طرف بڑھا۔






ڈیڈ میں اندر آجاؤں؟ماہا ریان کے کمرے کا دروازہ نوک کرتی ان سے اجازت چاہی۔
ہاں آجاؤں۔ریان جو آفس کا کام کررہا تھا ماہا کو دیکھ کر مسکراکر کہا ماہا چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی سینٹر صوفے پہ ٹک گئ۔
کیا بات ہے ماہا پریشان لگ رہی ہو۔ریان نے ماہا کو الجھن میں دیکھ کر کہا۔
ڈیڈ میں اِس رشتے سے راضی نہیں۔ماہا نے گہری سانس بھرکر کہا ریان کا چمکتا چہرہ بُجھ گیا تھا ماہا کی بات سن کر ماہا کو ملال نے آ گھیرا پر وہ مجبور تھی۔
ایک بار مرجان سے مل لوں وہ بہت اچھا لڑکا ہے تمہیں پسند آئے گا۔ریان نے اس کو راضی کرنا چاہا ماہا اپنے ڈوپٹہ کا کونا زور سے مٹھی میں جکڑا۔
ڈیڈ ملیحہ اُس کو پسند کرتی ہے آپ پلیز اس کے بارے میں سوچے۔ماہا نے نام لینے سے گریز برتا
یہ تم سے کس نے کہا۔ریان کو حیرت ہوئی۔
ملیحہ نے خود آپ کو تو ہماری خوشی عزیز ہوتی ہے نہ تو آپ بات کریں انکل میر سے۔ماہا نے سنجیدگی سے کہا
پر انہوں نے بہت چاہت سے تمہارا ہاتھ مانگا ہے۔
ڈیڈ آپ کو ملیحہ کی بھی چاہت دیکھنی چاہیے آپ کو لگتا ہے میں ایسے انسان سے شادی کروں گی جس کو میری بہن چاہتی ہو۔ماہا نے ریان کی بات پہ کہا۔
دیکھتا ہوں میں۔ریان حقیقتً پریشان ہوگیا تھا ماہا اپنی بات کہہ کر باہر چلی گئ تھی۔







تم میری روح کی آواز ہو
تم بہت خاص ہو
جستجو میں تھی تمنا کب سے
اِک خوشبو میں لپیٹا راز ہو
تم بہت خاص ہو
تیری ہر بات پہ دل دھڑک جاتا ہے
تم میری ذات کا آغاز ہو
تم بہت خاص ہو
تمہارے لفظ میری سوچ میں سمائے ہیں
روح کا دلفریب ساز ہو
تم بہت خاص ہو
ایک حقیقت بھرا مجاز ہو
تم بہت خاص ہو♡
زر کھانے پہ کیوں نہیں آئے تم؟مہرماہ زرجان کے کمرے کی لائٹ آن کیے زرجان سے بولی جو اوندھے منہ بیڈ پہ لیٹا ہوا تھا۔
بھوک نہیں تھی۔زرجان نے جواب دیا
بینڈج چینج نہیں کی کیا۔مہرماہ نے زرجان کا ہاتھ دیکھ کر استفسار کیا
اب قدرے بہتر ہے ہاتھ۔زرجان گہری سانس لیکر بولا
کسی بات پہ پریشان ہو؟مہرماہ نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیر کر کہا۔
نہیں۔زرجان نے یک لفظی جواب دیا
تو پھر منہ کیوں بنا ہوا ہے تمہارا۔مہرماہ مطمئن نہیں ہوئی۔
مما ریان انکل والوں کی طرف سے کیا جواب ملا تھا۔زرجان مہرماہ کی بات نظرانداز کرتا پوچھنے لگا۔
وہ تو راضی ہے بس ماہا سے بات کرنی تھی اب تک تو کر بھی لی ہوگی شاہ کو بتائے گے تو پتا چل جائے گا۔ مہرماہ نے جواب دیا
اگر وہ انکار کرے تو۔
انکار کیوں کرے گی مرجان میں کیا کمی ہے۔مہرماہ کو اپنے بیٹے کی بات پسند نہیں آئی۔
آپ بس امیجن کرے۔زرجان نے اپنی بات پہ زور دیا۔
میں کیوں فضول میں یہ سب سوچو انشااللہ ماہا حامی بھرے گی۔مہرماہ زرجان کی بے قراری سے لاپرواہ اپنی دُھن میں بولی زرجان نے زور سے لب بھینج لیے






پریشان ہو؟شاہ میر نے آج ایک ضروری میٹینگ میں ریان کی غیر دماغی حالت محسوس کی تو میٹنگ ختم ہوتے ہی پوچھا
شرمندہ ہوں سمجھ نہیں آرہا تم سے کیسے کہوں۔ریان نے کہا
شرمندہ کی کیا بات یہ سب تم پہ سوٹ نہیں کرتا آرام سے بتادو جو بات ہے۔شاہ میر نے کہا
ماہا رشتے سے راضی نہیں اس کا کہنا ہے ملیحہ مرجان کو پسند کرتی ہے۔ریان نے کہتے شاہ میر کو دیکھا جس کے تاثرات نارمل تھے۔
تمہیں بُرا نہیں لگا؟ریان نے پوچھا
بلکل نہیں اِس میں برا لگنے والی کیا بات زندگی بچوں نے گُزارنی ہے ہمیں ان کی رائے کو اہمیت دینی چاہیے اگر ماہا نہیں تو ملیحہ ہی اِس میں کوئی بڑی بات نہیں بس ماہ کو ماہا پسند آئی تھی پر میں اس سے بات کروں گا تو وہ سمجھ جائے گی۔شاہ میر نے مسکراکر کہا ریان کی اٹکی سانس بحال ہوئی۔
ٹھیک ہے تم بات کرو پھر میں شادی کی تاریخ طے کریں گے۔ریان نے کہا
بلکل کیونکہ ماہ کا بس نہیں چل رہا وہ مرجان کا ابھی نکاح پڑھوا لیں۔شاہ میر نے ہنس کر کہا
ماؤں کو فکر ہوتی ہے اب دیکھنا مرجان کے بعد ان کو حیات اور زر کی فکر لاحق ہوگی۔ریان نے مسکراکر کہا۔
حیات کے لیے تو کسی بہتر کے انتظار میں ہوں دوسرا زر تو وہ ابھی چھوٹا ہے پانچ چھ سال رہتے ہیں ابھی پھر دیکھتے ہیں۔شاہ میر نے کہا
اچھا اب پراجیکٹ کے بارے میں ڈسکس کرلیں۔ریان نے کہا تو شاہ میر نے سر کو جنبش دی۔







حیات کی شادی کا کیا سوچا ہے؟سارہ بیگم نے مہرماہ سے پوچھا جو آج ان سے ملنے آئی تھی شاہ زیب اور ثانیہ سے تو بات انہوں نے کرلی تھی اِس لیے آج مہرماہ کو دیکھ کر اُس سے باتوں ہی باتوں میں شاہ ویر کا کہنے والی تھی۔
میں نے کیا سوچنا ہے امی جان شاہ نے حیات کی ذمیداری لی ہے کہتا ہے کسی بہتر کے انتظار میں ہے۔مہرماہ نے مسکراکر بتایا
تو کیا اس کو اپنے آس پاس بہتر نظر نہیں آتا۔
مطلب؟مہرماہ کو ان کا جُملا سمجھ نہیں آیا
مطلب یہ ویر اور حیات کے بارے میں کیا خیال ہے۔سارہ بیگم نے اپنی بات کہہ کر مہرماہ کو دیکھا جو گنگ سے ان کی طرف دیکھ رہی تھی۔
ویر اور حیات؟مہرماہ نے جیسے تصدیق چاہی۔
ہاں کیوں کوئی مسئلا ہے؟سارہ بیگم کو مہرماہ کا اتنا حیرت زدہ ہونا سمجھ نہیں آیا۔
نہیں امی جا مسئلا تو کوئی نہیں دراصل ان دونوں کی طرف دھیان نہیں گیا نہ تو بس۔مہرماہ کو خوش ہوئی تھی سارہ بیگم کی بات سن کر پر یہ بھی سچ تھا اس نے کبھی ان دونوں کا نہیں سوچا تھا مگر جب آج سوچ رہی تھی تو بہت اچھا لگ رہا تھا۔
پھر کیا کہتی ہو؟سارہ بیگم اب مطمئن سی ہوکر بولی۔
میں شاہ سے بات کروں گی پھر آپ کو ساری بات کال پہ بتادوں گی۔مہرماہ نے جواب دیا۔
آج ہی کرلینا لڑکا بڑا بے صبر ہے۔سارہ بیگم نے کہا۔
کیا ویر نے خود آپ سے حیات کا کہا ہے؟مہرماہ نے کُریدہ۔
ہاں اس نے ہی تو کہا۔سارہ بیگم نے بتایا
میں آج ہی کروں گی لگے ہاتھ حیات کے فرض سے بھی سبکدوش ہوجائے گے۔مہرماہ نے پرسوچ انداز میں کہا۔





بھائی آپ اِس رشتے سے خوش ہیں جہاں مما ڈیڈ کررہے ہیں؟زرجان نے اپنا لہجہ سرسری کرکے مرجان سے پوچھا۔
ہاں۔ملیحہ کا خیال آتے ہی مرجان نے مسکراکر کہا زرجان کو اپنا دل جلتا محسوس ہوا۔
آپ کو ماہا کہاں ملی میرا مطلب میم ماہا سے آپ کی ملاقات کب کیسے ہوئی۔زرجان نے دوسرا سوال کیا۔
میری اُس سے ملاقات نہیں ہوئی خیر وہ مجھ سے شادی کرنے میں انٹرسٹڈ نہیں۔مرجان نے آرام سے کہا ایک پل کو زرجان کی آنکھوں میں چمک آئی تھی۔
تو آپ کی خوشی کی وجہ یہ ہے کے آپ کی شادی وہاں نہیں ہوگی۔زرجان کو مرجان کا پہلا جواب یاد آیا تو پوچھا۔
وہاں ہوگی پر اُس سے نہیں ہوگی۔مرجان نے کہا زرجان کو فلحال مرجان یا کسی کی بھی پہلیوں میں دلچسپی نہیں تھی وہ بس اپنے مطلب کی بات جاننا چاہتا تھا۔
صاف صاف بات کریں نہ۔زرجان نے چڑ کر کہا۔
مائے ڈیئر برادر تم فلحال یہ فلم دیکھو باقی سب تمہیں سمجھ آجائے گا۔مرجان نے مسکراکر میز سے ریموٹ اٹھاکر زرجان کو دیکر کہا خود وہ ٹیوی لاوٴنج سے نکلتا چلاگیا زرجان کتنی دیر مرجان کی بات کا مطلب اخذ کرنے لگا پر سمجھ نہیں پایا وہ بس اُس میں مطمئن ہوگیا ماہا مرجان میں دلچسپی نہیں رکھتی اُس کے علاوہ پھر مرجان کس سے شادی کرتا ہے یہ بات جاننے میں زرجان کو دلچسپی نہیں تھی وہ جو بہت دنوں سے سننا چاہتا آج سن چُکا تھا جس پہ اس کے دل کو قرار آیا تھا زرجان کے چہرے پہ مسکراہٹ آگئ تھی زرجان خود بھی اٹھتا گُنگناتا کمرے کی جانب گیا۔
دل کو قرار آیا
پہلی پہلی بار آیا





شاہ مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے۔مہرماہ نے شاہ میر کو کمرے میں آتا دیکھا تو کہا۔
مجھے بھی آپ سے بات کرنی ہے۔شاہ میر ڈریسنگ ٹیبل پہ گھڑی اُتارتا بولا۔
اچھا تو پہلے تم کہو۔مہرماہ نے کہا
نہیں پہلے آپ کہے۔شاہ میر نے کہا
شاہ اب بتادو کیا بات ہے مجھے صبر نہیں ہو رہا اپنی کہنے کی بے صبری ہے۔مہرماہ نے نروٹھے پن سے کہا۔
میری آج آفس میں ریان سے بات ہوئی
تو کیا روز نہیں ہوتی۔مہرماہ شاہ میر کی بات بیچ میں کاٹ کر بولی۔
ہوتی ہے پر آج اس نے ماہا کا جواب بتایا۔شاہ میر نے گہری سانس بھر کر کہا
اچھا پھر مان گئ ہوگی ماہا۔مہرماہ خوش ہوکر کہا شاہ میر نے نظر چراگیا جانتا تھا جو بات وہ بتائے گا مہرماہ کو دُکھ ہوگا۔
ماہا فلحال شادی نہیں کرنا چاہتی۔
کوئی بات نہیں ابھی ہم نکاح کردے گا رخصتی پھر ایک دو سال بعد۔مہرماہ نے آرام سے کہا
ملیحہ مرجان کو پسند کرتی ہے ہمیں مرجان اور اس کے بارے میں سوچنا چاہیے۔شاہ میر نے کہا مہرماہ کی خوشی مانند پڑی۔
ملیحہ بھی پسند ہے مجھے پر میں ماہا
ماہ ہمیں بچوں کی خوشی کے بارے میں سوچنا چاہیے میں جانتا ہوں آپ کو ماہا پسند تھی پر کیا پتا مرجان بھی ملیحہ کو پسند کرتا ہو بس ہمارے لیے اُس نے ماہا کے لیے ہاں کی ہو۔مہرماہ کجھ کہنا چاہ رہی تھی جب شاہ میر بیچ میں بولا۔
مرجان سے میں نے پوچھا تھا اُس نے تو کبھی نہیں بتایا۔مہرماہ نے کہا
پتا نہیں پر میں امی ڈیڈ سے بات کروں آپ منگنی کی رسم کر آئیے گا پھر شادی کی تاریخ طے۔شاہ میر نے مہرماہ کا دھیان دوسری طرف کرنا چاہا۔
ٹھیک ہے۔مہرماہ نے کہا
آپ بھی کوئی بات کرنے والی تھی۔شاہ میر کو یاد آیا تو کہا
میں آج امی کی طرف گئ تھی تو انہوں نے حیات کے بارے میں بات کی۔مہرماہ نے بتایا
اچھا کیا بات کی؟شاہ میر نے جاننا چاہا
ویر اور حیات کی شادی مطلب یہ کے وہ حیات کا رشتہ مانگنا چاہتے ہیں ویر کے لیے۔مہرماہ نے شاہ میر کا چہرہ دیکھ کر بتانا شروع کیا پر وہ اندازہ نہیں لگا پائی شاہ میر کو یہ بات پسند آئی یا نہیں۔
آپ کو لگتا ہے ویر حیات کے لیے ٹھیک رہے گا یا حیات ویر کے لئے راضی ہوگی۔شاہ میر مہرماہ سے پوچھا
بلکل ویر حیات کے لیے پرفیکٹ لائف پارٹنر ثابت ہوگا میرے بھتیجے میں کیا کمی ہے جو حیات راضی نہیں ہوگی۔مہرماہ نے تیز آواز میں کہا
آرام سے میں نے ایسے ہی بات کی۔شاہ میر نے مسکراکر کہا۔
حیات سے اُس کی رضامندی جان لوں پھر دیکھتے ہیں اس کا کیا جواب ہے۔شاہ میر نے پھر کہا۔
شاہ تم نے اس کو کنونس کرنا ہے اگر وہ نخرے کریں تو میں بتارہی ہوں حیات کی شادی ویر سے ہی ہوگی۔مہرماہ نے اٹل انداز میں کہا۔
ماہ شادی کے لیے دونوں طرف سے باہم رضامندی ہونی چاہیے اگر حیات نہیں مانیں گی تو میں یا آپ اس کو فورس نہیں کرے گے۔شاہ میر نے مہرماہ کو سمجھاتے ہوئے کہا
تمہیں ایسے کیوں لگتا ہے حیات نہیں مانے گی۔
کیونکہ وہ دونوں فرینڈز ہیں۔شاہ میر کندھے اُچکاتا بولا۔
اپنے اندازے نہیں لگاؤ اگر لگارہے ہو تو اچھے اچھے لگاؤ۔مہرماہ نے گھور کر کہا تو شاہ میر ہنس دیا۔







یار زر توں نے ایک بات نوٹ کی ہے پروفیسر منان آج کل زیادہ ہی میم ماہا کے ساتھ پائے جاتے ہیں۔وہ تینوں لائبریری میں تھے وہاں جب احتشام نے ماہا کو منان کے ساتھ آتا دیکھا تو کہا زرجان نے کتاب سے نظر ہٹاکر دیکھا تو ماہا سنجیدہ چہرہ لیے ان کی کوئی بات سن رہی تھی زرجان کے برداشت کرنے سے باہر تھا تبھی ایک خیال اُس کے دماغ میں کوندا جس پہ اُس کے چہرے پہ شیطانی مسکراہٹ آئی تھی۔
میں آتا ہوں۔زرجان اپنی ایک کتاب اٹھاتا ہوا بولا۔
کدھر؟فرزام نے پوچھا۔
اِدھر۔زرجان نے سامنے کی طرف اشارہ کیا کہا جہاں ماہا اور منان بیٹھے تھے فرزام نفی میں سرہلاتا رہ گیا پر احتشام سمجھ نہیں پایا۔
اسلام علیکم !!!زرجان ان کے پاس کھڑا ہوتا بولا
یس زرجان کوئی کام تھا۔پروفیسر منان نے سامنے زرجان کو کھڑا دیکھ کر پوچھا
جی پر آپ سے نہیں میم ماہا سے۔زرجان نے مسکراکر کہا
ابھی تو وہ بزی ہیں بعد میں آجانا۔پروفیسر منان نے کہا
سوری سر وہ تیس منٹ بعد ہماری کلاس ہے میرا ابھی سمجھنا ضروری ہے۔زرجان نے چہرے پہ معصومیت سجاکر کہا
تو کلاس میں پوچھ لینا۔پروفیسر منان کو اِس وقت زرجان کی مداخلت بلکل پسند نہیں آئی تھی کتنے اصرار کے بعد وہ ماہا کو اپنے ساتھ لائبریری آنے پہ راضی کربیٹھے تھے پر بیچ میں زرجان آگیا۔
بیٹھو اور بتاؤ کیا مسئلا ہے۔ماہا نے پہلی بار گفتگو میں حصہ لیا ساتھ میں زرجان کو کرسی پہ بیٹھنے کا بھی کہا زرجان فٹ سے بیٹھ گیا
وہ کل آپ جو پڑھا رہی تھی اُس چیپٹر کی مجھے کجھ سمجھ نہیں آئی اس کے بارے میں ڈسکشن کرنی تھی۔زرجان نے کہا
زرجان کلاس میں دھیان دیتے تو سمجھ آجاتا نہ۔پروفیسر منان نے بمشکل اپنا لہجہ نارمل رکھتے ہوئے کہا زرجان کو بہت ہنسی آئی ان کا تپا تپا چہرہ دیکھ کر۔
ضرور پر میم نے مجھے کلاس سے بے دخل کرلیا تھا۔زرجان ماہا کی طرف دیکھ کر بولا ماہا نے گھور کر اُس کو دیکھا پھر کتاب اپنی جانب کھسکائی۔
کیا سمجھ نہیں آرہا۔ماہا نے پوچھا تو زرجان نے بتایا ماہا نے آرام سے اس کو سمجھاتی گئ جو زرجان پہلے سے ہی جانتا تھا پر وہ ایسے ری ایکٹ کرنے لگا جیسے وہ سمجھ نہیں پارہا ہو مقصد بس اس کو پروفیسر منان سے دور رکھنا تھا۔پروفیسر منان پہلے تو دیکھتے رہے مگر جب ان دونوں کو دھیان کتاب پہ دیکھا تو صبر کا گھونٹ بھر کر وہاں سے اٹھ کھڑے ہوئے۔زرجان رلیکس سا ماہا کو دیکھنے لگا جو اس کو سمجھانے میں محو تھی زرجان کی نظر ماہا کے گال پہ پڑی جہاں بات کرتے وقت اُس کا ڈمپل ہلکا سا شو ہورہا تھا زرجان کا دل ڈوب کر اُبھرا تھا۔
اب ٹھیک ہے آگئ سمجھ؟ماہا نے زرجان کو دیکھ کر کہا جو مگن انداز میں اُس کو نہارنے میں مصروف تھا۔
زرجان!!!!!ماہا نے اب کی زور سے اُس کا نام لیا زرجان ہڑبڑا کر سیدھا ہوا۔
جی میم سوری۔زرجان خجل ہوتا بولا۔
سمجھ آیا کجھ یا نہیں؟ماہا نے سنجیدگی سے پوچھا
آگیا آپ کا شکریہ۔زرجان نے مسکراکر کہا
ٹھیک ہے میری کلاس کا ٹائم ہوگیا ہے تیس منٹ تو تم نے سمجھنے میں لگادیئے۔ماہا کھڑی ہوتی ہوئی بولی
بس وقت گُزرنے کا پتا نہیں چلا۔زرجان بالوں میں ہاتھ پھیر کر بولا اُس کے رگ رگ میں سکون کی لہر ڈورگئ تھی یہ تیس منٹ اُس کی زندگی کے خوبصورت لمحے تھے جو اُس نے ماہا کے ساتھ گُزارے تھے چاہے جیسے بھی پھر۔
مجھے تو دیر ہوگئ نہ۔ماہا عجلت میں کہتی لائبریری سے باہر چلی گئ زرجان مسکراتا اس کو دیکھنے لگا۔
تجھ سے گفتگو دیر تک چلے
اِس لیے تیری ہر بات سے اختلاف کیا







حیات کمرے میں بیٹھی ڈرامہ دیکھ رہی تھی ساتھ میں پاپ کارن منہ میں ڈال رہی تھی دروازہ نوک ہونے پہ جب شاہ میر اور مہرماہ کو ایک ساتھ اپنے کمرے میں آتا دیکھا تو فورن سیدھی ہوکر بیڈ سے اُٹھی۔
اللہ خیر۔حیات نے دل پہ ہاتھ رکھ کر کہا شاہ میر اُس کی اداکاری پہ ہنس دیا مہرماہ نفی میں سرہلاتی مسکرادی۔۔
بات کرنی تھی سوچا آجائے۔شاہ میر نے کہا
ڈیڈ بیٹھے تو سہی پھر باتیں ہوتی رہے گی۔حیات نے بیڈ پہ چادر سائیڈ پہ کرکے بیڈ شیٹ درست کرکے ایسے کہا جیسے شاہ میر پہلی دفع یہاں آیا ہو۔
کیا حشر کر ڈالا ہے کمرے کا۔مہرماہ نے تاسف سے کہا۔
اچھا ہے نہ۔حیات ڈھیٹ پن سے مسکراکر بولی
حیات بیٹھو بات کرنی ہے۔ماں بیٹی میں بحث ہونے سے پہلے شاہ میر نے کہا
جی ڈیڈ کیا ہے بات ہے جو آپ بارڈی گارڈ کے ساتھ آئے۔حیات نے پہلے سنجیدگی سے پھر مہرماہ کو دیکھ کر شرارت بھرے لہجے میں کہا
ویر کا رشتہ ہے تمہارے لیے تمہاری بڑی ماں چاہتی ہیں تم ان کے گھر کی بیٹی بنو۔شاہ میر نے اپنی بات شروع کی۔
رشتہ ویر کا میرے لیے ویر اپنا شاہ ویر۔حیات کو یقین نہیں آیا جیسے۔
کیا پانچ چھ اور شاہ ویر ہیں کیا یہاں؟مہرماہ نے اس کی ایسے ری ایکشن پہ سوال کیا۔
نہیں وہ
تمہیں کوئی اعتراض ہے ویر سے شادی کرنے پہ تم بلاجھجھک بتا سکتی ہو تمہیں فیصلہ کا پورا اختیار ہے۔شاہ میر نے اس کو الجھتا دیکھ کر نرمی سے بولا۔
شادی کرنا ضروری ہے کیا؟حیات سر کُھجاتی بولی۔
ضروری کا تو نہیں پتا پر سنت ضرور ہے۔شاہ میر حیات کو اپنا ساتھ لگائے بولا۔
ڈیڈ مجھے آپ کے کسی فیصلے پہ کوئی اعتراض نہیں۔حیات کی بات پہ شاہ میر کے چہرے پہ مسکراہٹ آگئ وہی مہرماہ بھی طمانیت سے مسکرا پڑی۔





آج مہرماہ،ہانم بیگم،سارہ بیگم،ہانیہ،اور حیات ریان کے یہاں منگنی کی رسم کرنے آئی تھی ملیحہ سرشار سی اپنے کمرے میں بیٹھی اپنی تیاری کو فائنل ٹچ دے رہی تھی پاس ماہا کھڑی اُس کا ڈوپٹہ سیٹ کررہی تھی۔ملیحہ نے گلابی کلر کا خوبصورت گھیردار فراق پہنا تھا جس کے باریک سفید موتیاں کو جھرمٹ تھا بالوں کو اُس نے کھلا چھوڑ رکھا تھا چہرے پہ نفاست سے کیے میک اپ اور گلابی کلر کی لپ اسٹک لگائے ملیحہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی جس کو چاہا اُس کو پانے کی خوشی نے اس کے چہرے پہ الگ رونق دی تھی۔
ماشااللہ میری بہن بہت پیاری لگ رہی ہے۔ماہا نے ملیحہ کا ماتھا چومتے ہوئے کہا۔
ویسے اگر مرجان خود آتا مطلب ہال میں انگیجمنٹ کی رسم ہوتی تو زیادہ مزہ آتا پر خیر۔ملیحہ نے حسرت بھرے لہجے میں کہا
آج کوئی بہت خوبصورت لگ رہا ہے۔حیات کمرے میں آتی ملیحہ کو دیکھ کر بولی جو اب بھر بھر کر اپنی کلائیوں میں چوڑیاں پہن رہی تھی۔حیات خود آج لائٹ گلابی کلر کی ڈھیلی شرٹ ٹراؤزر پہنے بالوں کی پونی ایک سائیڈ پہ کیے وہ بھی پیاری لگ رہی تھی میک اپ کے نام پہ اُس نے بس گلابی لپ گلوس لگایا تھا۔
شکریہ جناب۔ملیحہ نے سر کو جنبش دے کر ادب سے کہا
آپ تیار نہیں ہوئی؟حیات نے ماہا سے پوچھا جو سادہ حلیے میں تھی براؤن لمبی قمیض کے ساتھ سفید پاجاما پہن رکھا تھا جب کی بھورے بال جوڑے میں قید تھے پر وہ اپنے لاپرواہ حلیے میں بھی بہت دلکش لگ رہی تھی۔
سب آپس میں ہی تو ہے تیار کیا ہونا۔ماہا نے سرسری سا جواب دے کر میک اپ کا سامان سمیٹا۔
تمہاری تیاری ہوگئ ہے تو چلے باہر انگھوٹی کی رسم ہونی ہے۔حیات نے ملیحہ سے کہا۔
چلتے ہیں پھر میں پکچرز بناؤں گی۔ملیحہ احتیاط سے کھڑی ہوتی ہوئی بولی۔
پھر بھائی کو بھی تو بھیجنی ہے۔حیات نے شرارت سے کہا۔
ماہا سب سامان سیٹ کرنے کے بعد باہر جانے والی تھی جب موبائل کی رنگٹون نے اس کا دھیان اپنی طرف کیا۔ماہا نے یہاں وہاں دیکھنا چاہا تو سائیڈ ٹیبل پہ ملیحہ کا فون بج رہا تھا۔
اففف ملی جانے کب عقل آئے۔ماہا بڑبڑاتی فون ہاتھ میں لیا تو اسکرین پہ آنے والی ہستی کی کال پہ تصویر دیکھ کر اُس کو چار سو چالیس کا جھٹکا لگا تھا موبائل بے ساختہ اس کے ہاتھ سے گِر کر نیچے ماربل پہ پڑا جب کی ماہا کی آنکھیں پتھرا سی گئ تھی اُس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا تقدیر اُس کے ساتھ ایسا مذاق بھی کرے گی ماہا شل ہوتے وجود کے ساتھ گِرنے والی تھی پر جلدی سے میز پہ ہاتھ رکھ کر خود کو سہارا دیا۔
