Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Qaid Season 2 (Episode 02)

Ishq Qaid Season 2 by Rimsha Hussain

مہرماہ فجر کی نماز پڑھنے کے بعد دوبارہ سے سوگئ تھی اس نے چہرہ موڑ کر شاہ میر کی جانب کیا جو دنیا جہاں کی معصومیت چہرے پہ سجائے اس کے قریب لیٹا ہوا تھا جب کی اس کا ایک ہاتھ مہرماہ کے اُپر تھا مہرماہ نے مسکراکر احتیاط سے شاہ میر کا ہاتھ اپنے اُپر سے ہٹایا اور بیڈ سے نیچے اُتر کر وارڈروب کی جانب آکر ایک ڈریس نکال کر واشروم کی جانب گئ واشروم کے دروازے کہ بند ہونے کی آواز سے شاہ میر کی آنکھ بھی کُھل گئ۔

آج جلدی اٹھ گئے۔ دس منٹ بعد مہرماہ بالوں میں تولیہ لپیٹ کر آئی تو شاہ میر کو دیکھ کر بولی۔

میں تو ہر روز آپ کے ساتھ اٹھتا ہوں بس سونے کا ڈرامہ کرتا ہوں۔ شاہ میر نے گہری نظروں سے مہرماہ کی طرف دیکھ کر کہا جو ریڈ کلر کے نیٹ فراق کے ساتھ ریڈ چوریدار پاجامہ پہنے بہت خوبصورت لگ رہی تھی چہرے پہ پانی کی بوندیں اب بھی ٹپک رہی تھی جس سے مہرماہ شاہ میر کو مزید خوبصورت لگی۔

اچھا تو فریش ہوجاٶ۔مہرماہ تولیے سے بالوں کو آزاد کرتی ہوئی بولی۔

ہمم جاتا ہوں۔ شاہ میر نے کہا۔

میں تمہارے لیے کپڑے نکال دیتی ہوں۔ شاہ میر بیڈ سے اٹھا تو مہرماہ نے کہا۔

ٹھیک ہے۔ شاہ میر جواب دیتا مہرماہ کے ہاتھ سے تولیہ لیکر واشروم کی طرف جانے لگا۔

شاہ تولیہ تو دوسرا یوز کرو۔ مہرماہ نے تاسف سے کہا۔

میاں بیوی ہیں ہم یوز کرسکتے ہیں۔شاہ میر آنکھ ونک کرتا ہوا بولا اور واشروم کا دروازہ بند کرگیا۔

میرا وہ مطلب نہیں تھا۔ مہرماہ سرخ چہرے لیے واشروم کے دروازے کو گھور کر بولی۔

میرا تو وہی مطلب تھا جو آپ سمجھی۔ شاہ میر نے واشروم سے ہی جواب دیا جس پہ مہرماہ پیر پٹختی وارڈروب سے شاہ میر کے کپڑے نکالنے لگی۔

پندرہ منٹ بعد شاہ میر جینز پینٹ کے ساتھ بلیک کلر کی بنیان پہنے باہر آیا اور ڈریسنگ ٹیبل کے پاس آکر مہرماہ کے پیچھے کھڑا ہوا۔ مہرماہ جو میک اپ کو آخری ٹچ دے رہی تھی اپنے پیچھے شاہ میر کو کھڑا ہوتا دیکھ کر اس کی نظر شاہ میر کے مضبوط بازوں پہ پڑی جو بنیان کے سلیولیس ہونے کی وجہ صاف ظاہر ہورہے تھے۔

میک اپ کی کیا ضرورت ہے آپ کو۔ شاہ میر بیڈ سے اپنی شرٹ اٹھاکر پہن کر مہرماہ سے بولا۔

نہ کرتی تو چچی جان نے کہنا تھا تیار کیوں نہیں ہوتی تم نئ نئ شادی ہے تمہاری حلانکہ دو ماہ سے زیادہ وقت ہونے کو ہے۔ مہرماہ نے جواب دیا۔

تو آپ ان سے کہا کریں میرے شاہ کو میرا میک اپ کرنا پسند نہیں میں اس کو ایسے ہی بہت پسند ہوں۔ شاہ میر چلتا ہوا مہرماہ کو پیچھے سے حصار میں لیتا ہوا بولا۔

شاہ میں فلحال تمہاری طرح بے باک نہیں ہوئی۔ مہرماہ نے مرر سے شاہ میر کو گھور کر کہا۔

تو ہوجائے۔شاہ میر عقیدت بھرا لمس اس کے کاندھے پہ چھوڑ کر اس سے الگ ہوتا ہوا بولا۔

میں باہر جارہی ہوں تم بھی آجانا۔ مہرماہ اپنا ڈوپٹہ پہنتی شاہ میر سے کہنے لگی۔

نہیں آج ہم ساتھ نیچے جائے گے۔ شاہ میر بولا۔

اچھا تو یہ سہی ہے۔ مہرماہ نے سرہلایا تو شاہ میر مسکراتا اپنے بال سیٹ کرنے لگا اس کے بعد ڈیجیٹل واچ اپنی کلائی میں پہن کر پرفیوم کی بوتل اٹھائی پرفیوم خود پہ اسپرے کرنے کے بعد شاہ میر مہرماہ کے پاس آیا جو اس کے انتظار میں تھی۔

چلیں؟ شاہ میر نے۔ پوچھا۔

ایسے۔ مہرماہ نے شاہ نے شاہ میر کا جائزہ لینے کے بعد اس کے پیروں کی جانب اشارہ کیا جہاں وہ سادہ سی سلپر پہنے ہوئے تھا۔

اوو۔ شاہ میر نے اپنے ماتھے پہ ہاتھ مار کر کہا تو مہرماہ ہنس پڑی شاہ میر بھی مسکراتا ریک کے پاس آکر اپنے شوز نکالنے لگا۔

ایک کی لیس میں باندھ دیتی ہوں۔ مہرماہ نے شاہ میر کو ایک شوز کی لیس باندھتے دیکھا تو دوسرے شوز کی جانب دیکھ کر کہتی لیس میں ہاتھ رکھنے لگی جو شاہ میر نے فورن سے پکڑ لیا تھا اور گھور کر مہرماہ کو دیکھا جو ناسمجھی سے اس کی جانب دیکھ رہی تھی۔

کیوں کیا ہوا؟ مہرماہ نے آخر پوچھ لیا۔

آپ میرے شوز پہ ہاتھ نہ رکھیں ہاں دل پہ رکھ سکتی ہیں۔ شاہ میر نے سنجیدگی سے کہا۔

یہ کیا بات ہوئی شاہ بس لیس ہی تو باندھنی ہے۔ مہرماہ نے کہا۔

جو بھی پر آپ میرے قدموں کو چھوے یہ مجھے گوارا نہیں۔شاہ میر کا لہجہ ہنوز سنجیدہ تھا۔

کجھ نہیں ہوتا ویسے بھی تم کونسا اپنے پیروں میں پروا رہے ہو میں خود اپنی مرضی سے کرنا چاہتی ہوں۔ مہرماہ نے ایک بار پھر کہا۔

ماہ میں آپ سے محبت نہیں عشق کرتا ہوں اور میرا عشق مجھے اجازت نہیں دیتا کہ آپ کے ہاتھ میرے پیروں میں ہو تھوڑی ہی وقت کے لیے کیونکہ میرے دل میں آپ کا مقام سے سے اونچا ہے میں امید کروں گا آپ دوبارہ ایسا کرکے یا کہہ کر میرے عشق کی توہین نہیں کریں گی۔ شاہ میر گھمیر آواز میں کہتا اپنا ماتھا مہرماہ کے ماتھے سے ٹکایا جب کی مہرماہ ساکت سی شاہ میر کے لفظوں کے سحر میں کھوئی ہوئی تھی کیا کجھ محسوس نہیں ہوا تھا اس کو شاہ میر کے لہجے میں مان، عزت، عقیدت ، عشق، اور سب سے زیادہ شدت پسندی۔

شاہ میں نے ایسے ہی کہا تھا مجھے کیا پتا تھا تمہیں بُرا لگ جائے گا۔ مہرماہ نے اپنا چہرہ شاہ میر کے چہرے کے سامنے کرتے ہوئے کہا

مجھے کبھی بھی آپ کی بات کا بُرا نہیں لگ سکتا پر میں کبھی یہ بھی نہیں چاہوں کے آپ ایسا کجھ دوبارہ کہے۔ شاہ میر اس کے ماتھے پہ شدت بھرا لمس چھوڑ کر بولا۔

اچھا اب جلدی سے شوز کی لیس باندھو۔ مہرماہ شاہ میر کی شدت پسندی سے گھبراکر اٹھتی ہوئی بولی۔

لیں باندھ لی اب چلیں۔ شاہ میر اٹھتا مسکراکر اپنا ہاتھ مہرماہ کے کرتے ہوئے بولا۔

جی چلو۔ مہرماہ نے اپنا ہاتھ شاہ میر کی چوڑی ہتھیلی پہ رکھ کر کہا پھر وہ دونوں ساتھ نیچے آئے جہاں حیدر خان ہانم بیگم پری اور آیان پہلے ہی موجود تھے۔

اسلام علیکم! مہرماہ نے سلام میں پہل کی۔

وعلیکم اسلام کتنے پیارے لگ رہے ہو ساتھ میں۔ہانم بیگم دونوں کی بلائے لیتی ہوئی بولی۔

شکریہ امی جان۔ شاہ میر ہانم بیگم کو اپنے ساتھ لگائے بولا۔

چچی جان میں سوچ رہی تھی اب دودھ میں ہاتھ دھونے کی رسم ہوجانی چاہیے میری۔ مہرماہ نے ناشتہ کی ٹیبل پہ شاہ میر کو ناشتہ سرو کرتے ہوئے ہانم بیگم سے کہا۔

ہوجائے گی رسم ویسے بھی تمہارا اپنا گھر ہے اور کام کرنے کے لیے ملازم ہیں نہ۔ ہانم بیگم مہرماہ کی بات پہ مسکراتی ہوئی بولی۔

آپ پہلی ساس ہوگی جو اپنی بہو کے گھر کے کاموں میں اُلجھانے کے بچائے ان کو بچا رہی ہیں۔پری نے آملیٹ کھاتے ہوئے شریر لہجے میں کہا جس پہ سب مسکرادیئے۔

ہاں تو ہر ساس ایسا کرتی ہوگی جس کے پاس مہرو جیسی بہو ہوگی۔ ہانم بیگم محبت پاش نظروں سے مہرماہ کو دیکھ کر بولی مہرماہ ان سب کی محبت پہ دیکھ کر دل میں اللہ کے شکرگزار ہوئی۔

چچی جان وہ سب تو ٹھیک پر پھر بھی دیکھے اب تو میری مہندی کا رنگ بھی ہلکا ہوگیا ہے۔ مہرماہ نے اپنے ہاتھ ان کے سامنے کرتے ہوئے کہا جہاں ابھی بھی مہندی کا گہرا رنگ چمک رہا تھا۔

بھابھی آپ نے اپنی شادی کے لیے کہاں سے مہندی لی تھی میری مہندی کا رنگ تو کب سے اُُتر بھی گیا۔ پری نے اپنے ہاتھوں کی جانب دیکھ کر مہرماہ سے کہا۔

ایک کمپنی کی مہندی تھی بس فرق یہ ہے کہ مہرماہ کے ہاتھوں میں رنگ اتنا گہرا اس لیے کیونکہ میر اس کو بہت چاہتا ہے۔ ہانم بیگم کی بات پہ جہاں خاموش بیٹھے شاہ میر کی آنکھوں میں چمک آئی تھی وہی ہانم بیگم کی سب کے سامنے کہی بات پہ مہرماہ جزبز ہوگئ تھی۔

تم ناشتہ کرو چُپ چاپ۔ مہرماہ نے شاہ میر شریر نظریں خود پہ محسوس کیے رعب سے کہا جس سے شاہ میر اس کی بات مانتا ناشتے کی پلیٹ اپنے قریب کی۔

مہرو ایسا کرنا تم کل دودوہ میں کل ہاتھ دوھ لینا میٹھے میں کھیر بنانا ایسے میں تمہاری خواہش پوری ہوجائے گی۔ ہانم بیگم نے مہرماہ سے کہا جو بوائل انڈے کے چھلکے نکال رہی تھی۔

اوکے چچی جان۔ مہرماہ نے مسکراکر کہا۔مہرماہ کانٹے کی مدد سے انڈہ کھانے لگی تو شاہ میر نے بھی ایک کانٹا اٹھا کر مہرماہ کے ہاتھ میں پکڑی پلیٹ سے انڈہ کھانے لگا جس پہ مہرماہ نے کوئی ری ایکشن نہیں دیا کیونکہ جانتی تھی جب تک شاہ میر اس کا چھوٹا جوس یا کھانا نہیں کھا پی لیتا اس کو چین نہیں آنا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

میں تمہیں بہت مس کروں گا۔ شاہ میر ریان کو ایئرپورٹ سی آف کرنے آیا تھا جب ریان شاہ میر کے گلے لگتے ہوئے بولا۔

جب مس کرو تو آجانا فون سے رابطہ تو ہوتا رہے گا۔ شاہ میر نے مسکراکر اس کی پیٹھ سہلاکر کہا۔

وہ تو ہوگی پر تم مجھے سب سے پہلے بتاٶ گے۔ریان نے ویسے ہی بولا۔

کیا سب سے پہلے؟شاہ میر کو سمجھ نہیں آیا۔

جب گڈ نیوز ملے بھابھی کو اور تمہیں بچے کی تو وہ۔ ریان نے شاہ میر کی عقل پہ ماتم کرتے ہوئے کہا۔

ہاں ضرور۔شاہ میر گہری مسکراہٹ سے بولا۔

اچھا اب دور ہٹ لوگ مشکوک نظروں سے ہمیں دیکھ رہے ہیں۔شاہ میر نے ریان کو خود سے الگ ہوتا نہیں دیکھا تو کہا۔

بڑے کمینے ہوگئے ہو شادی کے بعد۔ ریان شاہ میر کی بات کا مطلب سمجھتے ہوئے اس کے کندھے پہ مکہ مار کر بولا جواب میں شاہ میر نے زوردار قہقہ لگایا۔

اللہ تمہاری مسکراہٹ ہمیشہ سلامت رکھیں۔ریان محبت سے شاہ میر کو مسکراکر دیکھ کر دل میں دعا دیتے ہوئے بولا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

شاہ میر گھر آیا تو اس کو پتا چلا مہرماہ اپنے ماں باپ کے گھر گئ ہے شاہ میر بنا ایک منٹ ضائع کیے اپنے قدم واپس باہر لیے اور سکندر خان کی طرف آیا شاہ میر جیسے ہی ہال میں داخل ہوا تو سب سے پہلے اس کی نظر شاہ زیب پہ پڑی تو وہ مسکراتا اس کی طرف آیا جو پوری طرح اپنے سیل فون میں pubg کھیلنے میں مگن تھا شاہ زین بزنس مین بن کر بھی اِس گیم کی جان نہیں چھوڑی تھی۔

کیا ہورہا ہے سالے صاحب؟ شاہ میر شاہ زیب کے برابر بیٹھ کر بولا شاہ زیب اس کے سالے کہنے پہ ایسے دیکھنے لگا جیسے شاہ میر کوئی خلائی مخلوق ہو۔

ؓمہروووو۔شاہ زین شاہ میر کو جواب دیئے بنا مہرماہ کے نام کو کھینچ کر تیز آواز میں اس کو پکارنے لگا شاہ میر حیرت سے شاہ زیب کو دیکھنے لگا اس کو سمجھ نہیں آیا اچانک شاہ زیب کو کونسے کیڑے نے کاٹ لیا۔

کیا ہے زیب کیوں گلا پھاڑ کر چلا رہے ہو؟ مہرماہ اس کے پاس آکر کوفت سے بولی۔

بتاتا ہوں تم تو میری عزت کبھی نہیں کی پر اب تمہارا تم سے چار سال چھوٹا شوہر بھی مجھے گالی دیں رہا ہے۔ شاہ زین نے دانت پیستے ہوئے کہا شاہ میر کی بلو آنکھیں شاہ زین کی گالی کہنے پہ پھیل گئ وہ سوچنے لگا کب اس نے شاہ زین کو گالی دی مہرماہ نے ناسمجھی سے شاہ میر کو دیکھا جس پہ شاہ میر جھٹ سے اپنا سر نفی میں ہلانے لگا۔

کیا بول رہے ہو زیب؟ مہرماہ نے پوچھا۔

میر نے مجھے سالا کہا۔ شاہ زین نے شاہ میر کی شکایت لگائی مہرماہ نے شاک میں شاہ میر کی جانب دیکھا جو اُس کے اِس طرح دیکھنے پہ گڑبڑا گیا تھا۔

زیب تم سے تین سال بڑا ہے۔ مہرماہ نے جیسے شاہ میر کو یاد دلایا۔

ماہ قسم سے میں زیب بھائی کو گالی نہیں دی اور نہ میرا ایسا کوئی ارادہ تھا میں تو بس آپ کے رشتے کے لحاظ سے سالے صاحب بولا مجھے کیا پتا تھا شاہ زیب بھائی یہ مطلب نکالیں گے۔ شاہ میر نے ایک ہی سانس میں مہرماہ کو وضاحت دی۔

تو ایسا کہنا تھا نہ جیجا جی۔ شاہ زیب اب اس کی بات سمجھتا مسکراکر زور سے اس کی پیٹھ پہ ہاتھ مار کر بولا جس پہ شاہ میر ضبط کرتا رہ گیا۔

زیب جانے کب تمہیں عقل آئے گی۔ مہرماہ شاہ زین کے بال بگاڑتی وہاں سے نو دو گیارہ ہوگئ۔

جب تمہیں مجھ جیسے ہینڈسم ڈیشنگ بھائی کی قدر ہوگی۔ شاہ زیب نے پیچھے سے ہانگ لگائی۔

ایک گیم ہوجائے ساتھ۔شاہ میر نے شاہ زیب سے کہا۔

میں بچوں سے نہیں کھیلتا۔ شاہ زیب اپنی پہلی ہار یاد کرتا شاہ میر سے بولا دوسری طرف شاہ میر نے شاہ زیب کو ایسے دیکھا جیسے اس کی بات پہ بہت محفوظ ہوا۔

کھیلنی چاہیے بھی نہیں اگر خود سے چھوٹے عمر کے لوگ جیت جائے تو بہت انسلٹ فیل ہوتی اگر اپنی عمر کا کوئی کھیلے بھی تو اپنی ہار انسان جیسے تیسے برداشت کرہی لیتا ہے۔ شاہ میر اپنی موبائل میں دیکھتا شاہ زیب سے بولا جو اس کی بات پہ اچھا خاصا تپ گیا تھا۔

ضرور یہ بات تمہیں کسی پروفیسر نے بتائی ہوگی۔ شاہ زیب نے ٹھنڈے ٹھار طنزیہ کیا۔

ہر بات پروفیسر نہیں بتاتے کجھ باتیں انسان اپنے دماغ سے بھی کرلیتا ہے۔ شاہ میر نے مسکراکر کہا۔

ارے میر تم یہاں ہو میں اندر تمہارا انتظار کررہی تھی۔ سارہ بیگم نے مسکراکر شاہ میر سے کہا۔

اسلام علیکم چچی جان میں وہ بس ماہ کو لینے آیا تھا۔ شاہ میر اپنی جگہ سے اٹھتا ادب سے سارہ بیگم کو مخاطب ہوا۔

مہرو ابھی تو آئی اور ساتھ میں گھر ہونے کی باوجود بھی تم دونوں نے بہت دِنوں بعد چکر لگایا اس لیے رات کا کھانا کھاتے جانا۔ سارہ بیگم اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتی ہوئی بولی

ہم نے تو یہ بھی سوچا تھا دو تین دن مہرو یہاں رہے گی۔ شاہ زیب نے شاہ میر کی دُکھتی رگ پہ ہاتھ رکھا جس سے شاہ میر تڑپ اٹھا تھا

دو تین دن یہاں کیوں پاس ہی گھر ہے جب آپ کا دل کریں آپ ان سے ملنے آجانا اور جب ماہ کا دل کریں گا میں ان کو یہاں لیں آٶں گا۔ شاہ میر جلدی سے بولا اس کا کہاں برداشت تھی مہرماہ سے چند منٹ کی بھی دور یونیورسٹی میں بھی وہ ایک ایک منٹ گِن کر گُزارتا تھا۔

میر شادی کے بعد لڑکیاں اپنے ماں باپ کے گھر رہنے آتی ہیں اور شادی کے دوسرے دن رہنا تو رسم ہوتی ہے پر تم نے ضد کی تھی جس پہ ہم نے بھی کوئی بحث نہیں کی تھی۔ سارہ بیگم نے کہا۔

ماہ سے بات کی آپ نے؟ شاہ میر نے پوچھا۔

ہاں اس کو تو کوئی اعتراض نہیں۔سارہ بیگم کی بات پہ شاہ میر کا منہ لٹک گیا شاہ زیب کا بس نہیں چل رہا تھا وہ زور زور سے قہقہ لگاتا شاہ میر کی اُڑی رنگت دیکھ کر پر سارہ بیگم کی وجہ سے خاموش بیٹھا تھا۔

میں چلتا ہوں پھر ماہ سے ایک دفع بات کرلوں۔ شاہ میر نے کہا۔

ابھی کیوں رات کا کھانا کھاکر جانا۔ سارہ بیگم نے دوبارہ کہا۔

چچی جان کل میرا ٹیسٹ ہے اس کی تیاری کرنی ہے۔ شاہ میر نے بہانا بنایا اور مہرماہ کے کمرے کی طرف جانے لگا۔

بچہ ہے بلکل مہرو کے معاملے میں۔سارہ بیگم شاہ میر کی پشت دیکھتی ہوئی بڑبڑائی۔

شاہ میر مہرماہ کے کمرے کا دروازہ کھول کر اندر آیا تو مہرماہ کو الماری کے پاس کھڑا دیکھا جہاں وہ اپنے کجھ ڈریسز نکال رہی تھی شاہ میر اندر آیا اور دروازے کو لاک کیا۔

تم یہاں۔مہرماہ دروازہ لوک ہونے پہ چونک کر مڑ کر دیکھا۔

آج آپ یہاں رہنے والی ہیں۔ شاہ میر بیڈ پہ بیٹھ کر بولا۔

ہاں امی جان اور زیب بار بار اصرار کررہے تھے میرا اپنا بھی دل تھا یہاں رہنے کا اِس لیے۔مہرماہ نے مسکراکر بتایا۔

سہی۔ شاہ میر بس اتنا بولا مہرماہ الماری سے ایک شاپر نکالتی بُکس ریک کے پاس آکر اپنی پسندیدہ ناولز اُس میں ڈالنے لگی شاہ میر بہت دھیان سے اس کی حرکتیں ملاحظہ کررہا تھا۔

رات رہنے کی کیا ضرورت میں جب یونی جاتا ہوں تو تب آپ یہاں آجانا۔ شاہ میر کجھ دیر بعد بولا۔

شاہ ایک رات کی ہی تو بات ہے۔ مہرماہ بیڈ پہ اس کے پاس آکر بولی۔

مجھ سے رہا نہیں جائے گا۔ شاہ میر اپنا سر مہرماہ کے سینے پہ رکھتا بولا۔

تو تم بھی یہاں رہ لو۔ مہرماہ نے آسان سا حل پیش کیا۔

ایسے اچھا نہیں لگتا۔ شاہ میر زور سے مہرماہ کو خود میں بھینچ کر بولا۔

میں اب انکار کروں گی تو ان کو اچھا نہیں لگے گا۔ مہرماہ گہری سانس لیتی ہوئی بولی ورنہ جتنا حصار شاہ میر نے تنگ کیا تھا مہرماہ کو اپنا سانس رُکتا ہوا محسوس ہورہا تھا۔

ٹھیک ہے پھر میں چلتا ہوں۔ شاہ میر مہرماہ سے دور ہوتا ہوا بولا۔

اتنی جلدی کیوں ابھی تو آئے ہو۔ مہرماہ نے سوال کیا

نہیں بس کجھ کام یاد آگیا ہے۔ شاہ میر کہتا دروازے کا لاک کھولتا باہر نکل گیا۔

ناراض ہوگیا شاہ تو۔ مہرماہ پریشانی سے خود سے بولی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

شاہ میر بے چینی سے کمرے میں یہاں وہاں چکر لگا رہا تھا دل کے ہاتھوں مجبور تھا اس کو تھوڑے ہی وقت میں مہرماہ کی شدت سے یاد آرہی تھی۔

میر ڈنر تیار ہے باہر آجاٶ کھانا ٹھنڈا ہوجائے گا۔ شاہ میر ایسے ہی بے چین کھڑا تھا جب پری کمرے میں آتی ہوئی بولی۔

آپی مجھے بھوک نہیں۔شاہ میر نے کہا۔

دن میں بھی کجھ نہیں کھایا تھا طبیعت تو ٹھیک ہے نہ۔ پری فکرمند ہوئی۔

جی طبیعت بلکل ٹھیک ہے بس بھوک نہیں۔شاہ میر نے کہا۔

اچھا بھوک لگے تو مجھے جگادینا میں کھانا گرم کرکے دیں دوں گی۔ پری نے مسکراکر کہا جس پہ شاہ میر نے اپنا سرہلایا تو پری کمرے سے باہر چلی گئ۔ شاہ میر سینٹر صوفے پہ بیٹھ کر آنکھیں موند گیا پر آنکھوں سے نیند کوسو دور تھی یہی حال دوسری طرف مہرماہ کا تھا اس کو بھی ایک پل سکون محسوس نہیں ہورہا تھا

کہیں پر بھی رہیں ہم اور تم پھر محبت ہے

تمہیں ہم یاد آئیں گے ہمیں تم یاد آٶ گے

بار بار شاہ میر کا اُداس چہرہ آنکھوں کے سامنے آرہا تھا مہرماہ ایک فیصلہ کرتی اٹھی اور شاہ زیب کے کمرے کی طرف آئی مہرماہ نے دروازہ نوک کیا تو شاہ زیب جو فائل اسٹڈی کررہا تھا دروازے کہ پاس آکر دروازہ کھولا۔

تم یہاں نیند نہیں آرہی کیا؟ شاہ زیب تعجب سے مہرماہ کو دیکھ کر بولا۔

ہاں وہ میں گھر واپس جارہی ہوں امی ابا سوگئے ہوگے سوچا تمہیں بتادوں۔ مہرماہ نے کہا تو شاہ زیب نے ہاتھ میں پہنی گھڑی میں وقت دیکھا جو رات کے بارہ بجنے کا اندیشہ بتارہی تھی۔

کیوں مہرو صبح چلی جانا ویسے بھی رات کے بارہ بجنے والے ہیں سب سوگئے ہوگے۔ شاہ زیب نے سمجھانا چاہا۔

شاہ جاگ رہا ہوگا میں اس کو میسج کردوں گی تو وہ دروازہ کھول دے گا۔ مہرماہ نے کہا۔

وہ کیوں اِس وقت اُلوو کی طرح جاگ رہا ہوگا۔ شاہ زیب نے پوچھا۔

تم کیوں اُلوو کی طرح جاگ رہے ہو؟ مہرماہ نے گھور کر کہا۔

مجھے تو آفس کا کام کرنا ہوتا ہے۔ شاہ زیب فخریہ انداز میں بولا۔

تو شاہ کو بھی یونی کا کام کرنا ہوتا ہے۔ مہرماہ دوبدو بولی۔

توبہ ہے چلو میں چھوڑ آتا ہوں۔ شاہ زیب آگے آتا ہوا بولا۔

قریب ہی گھر ہے میں چلی جاتی ہوں تمہیں ویسے ہی بتانے آئی تھی۔ مہرماہ نے کہا۔

میں چل رہا ہوں نہ۔ شاہ زیب نے کہا تو مہرماہ نے مزید بحث نہیں کی۔

تم میر کو اتنا چاہنے لگی ہو کہ ایک دن بھی اس کے بنا گُزارا نہیں ہوتا۔شاہ زیب اس کے ساتھ چلتا ہوا بولا

پتا نہیں بس شاہ اتنا چاہتا ہے کہ اس کے بنا رہنے کو دل نہیں کرتا۔ مہرماہ سینے پہ بازوں باندھتے ہوئے کھوئے ہوئے انداز میں بولی۔

محبت انسان کو سچ میں پاگل بنادیتی ہے ایسا پہلے سنا تھا تمہیں دیکھ کر یقین ہوگیا جس نے مہرو نان سیریس گرل کو بھی مشرقی لڑکی بنادیا ہے جس کو سب سے پہلے اپنے شوہر کی خوشی کا احساس ہوتا ہے۔ شاہ زیب مسکراتا مہرماہ کے سر پہ چپت لگاتا ہوا بولا تو مہرماہ مسکرادی۔

شکریہ یہاں تک آنے کا۔ مہرماہ گیٹ تک آتے ہوئے شاہ زیب سے کہا مہرماہ گیٹ عبور کرگئ تو شاہ زیب نے اپنے قدم واپسی کے لیے بڑھائے۔ مہرماہ گیٹ سے لان کروس کرکے ہال کے مین گیٹ کے باہر کھڑی ہوتی شاہ میر کا نمبر ڈائل کرنے لگی۔

شاہ میر آنکھیں بند کیے صوفے پہ پہلے والی پوزیشن میں بیٹھا ہوا تھا جب اس کا موبائل فون بجنے لگا شاہ میر نے جھٹ سے اپنی آنکھیں کھولی اور اٹھ کر سائیڈ ٹیبل پہ پڑا اپنا موبائل اٹھایا یہ ایک مخصوص رنگ دی جو شاہ میر نے مہرماہ کے نمبر پہ لگائی تھی۔

ماہ۔ شاہ میر نے کال اٹھا کر بے چینی سے اس کا نام لیا۔

ابھی تک جاگ رہے ہو؟مہرماہ نے جان بوجھ کر سوال کیا۔

ہاں کیونکہ اِس وقت لیجنڈ جاگتے ہیں۔شاہ میر مہرماہ کی آواز سن کر سکون سے اپنی آنکھیں بند کرکے کھول کر کہا۔

اِس وقت لیجنڈ نہیں اُلوو جاگتے ہیں۔مہرماہ جو کجھ اور سننا چاہتی تھی شاہ میر کے جواب پہ جل بھن کر بولی جس پہ شاہ میر نے اپنے لب دانتوں تلے دباکر اپنی مسکراہٹ دبائی۔

بات تو سچ کہی آپ نے۔ شاہ میر مسکراکر بولا۔

میں باہر کھڑی ہوں آکر دروازہ کھولو۔ مہرماہ نے کہہ کر کال کٹ کردی شاہ میر تیز قدموں سے کمرے سے نکلتا باہر آکر دروازہ کھولا جہاں مہرماہ کھڑی اس کو مسکراکر دیکھ رہی تھی شاہ میر گہری سانس لیتا دروازے سے ٹیک لگا گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *