Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Qaid Season 2 (Episode 15)

Ishq Qaid Season 2 by Rimsha Hussain

دن ہفتوں میں اور ہفتے ایک مہینے میں گزرگیا تھا پر شاہ میر کی مہرماہ سے ناراضگی جوں کی توں برقرار تھی مہرماہ نے بہت کوشش کی تھی شاہ میر کو منانے کی پر شاہ میر نے شاید قسم اٹھائی تھی جانے کونسے بدلے لیں رہا تھا اس سے جو نہ نظر بھر کر اس کو دیکھتا نہ ہی اس کی کسی بات کا ٹھیک سے جواب دیتا اس کی بنائی چیز کو ہاتھ نہ لگاتا جب کی پہلے وہ اس کو چھوٹا کھانا نہ کھاتا تو اس کا دن نہ گزرتا مہرماہ شاہ میر کی لاتعلقی سے بہت ڈس ہارٹ ہوئی تھی اُس نے کھانے پینے پہ دھیان دینا ختم کردیا تھا ہانم بیگم اگر زور زبردستی کرتی تو ٹھیک ورنہ اس کو پانی پینے کا ہوش نہ رہتا شاہ میر جو بظاہر تو وہ خود کو مہرماہ سے لاتعلق ظاہر کرتا مگر در حقیقت وہ ایک پل لے لیے بھی مہرماہ سے غافل نہیں ہوا تھا وہ بس مہرماہ کو اس کی غلطی کا احساس کروانا چاہتا تھا اگر مہرماہ بے سکون تھی تو شاہ میر خود اپنے رویئے پہ خود پہ لعنت بھیجتا یہ ایک ماہ اس نے مہرماہ سے دور رہ کر کیسے گزارا یہ بس وہ ہی جانتا تھا۔

شاہ میں جارہی ہوں۔مہرماہ سنجیدہ آواز میں شاہ میر سے بولی وہ جو کال پہ بات کررہا تھا تعجب سے مہرماہ کو دیکھنے لگا جس کا گورا رنگ پیلا زرد ہوگیا تھا آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے نمایاں ہورہے تھے شاہ میر کا دل ڈوب کے ابھرا تھا مہرماہ کی حالت دیکھ کر جو اس کی وجہ سے ہوا تھی شاہ میر نے شرمندہ ہوکر اپنی نظروں کا رخ بدلا تھا وہ کیسے مہرماہ کو تکلیف دے سکتا تھا جب کی وہ اُس سے پہلے مرنا پسند کرتا جب کی مہرماہ کے ہونٹوں پہ درد بھری مسکراہٹ آگئ تھی اس کو شاہ میر کا نظر پھیرنا بے رخی لگا تھا۔

امی کے پاس جارہی ہوں جب تمہاری ناراضگی ختم ہوجائے یا میری ضرورت ہو تو لینے آجانا میرا یہاں کیا کام بچوں کو ویسے بھی تم دیکھتے ہو حیات کو میرے پاس آنے نہیں دیتے میرا وجود اب تمہارے لیے حقیر سا ہے۔شاہ میر نے تڑپ کے اس کو دیکھا تھا پر مہرماہ دور خلا میں جانے کیا تلاش کررہی تھی۔

میں نے کہی پڑھا تھا پسندیدہ چیز مل جائے تو اس کی قدر کم ہوجاتی ہے شاید تمہیں بھی احساس ہوگیا ہے کہ تم بڑی عمر کی لڑکی کے ساتھ اپنی زندگی نہیں گزارسکتے۔شاہ میر بے چین سا نفی میں سرہلانے لگا اس کو زرہ اندازہ نہیں تھا مہرماہ اس سے اِس قدر بدگمان ہوجائے گی۔

شاہ میں جارہی ہوں بس ایک دفع تمہیں محسوس کرنا چاہتی ہوں۔مہرماہ اتنا کہتی شاہ میر کے گلے لگ گئ شاہ میر ساکت سا مہرماہ کو اپنے قریب محسوس کررہا تھا اس کو اپنی شرٹ پہ گیلاپن محسوس ہورہا تھا شاہ میر نے بے ساختہ مہرماہ کے گرد اپنا مضبوط حصار قائم کیا اور زور سے خود میں بھینچ لیا۔

ماہ مجھے معاف کردیں میں بس آپ کو بتانا چاہتا تھا کہ حیات ہماری زندگی میں اللہ تعالیٰ کا خوبصورت انعام ہے اس نے آپ کی جگہ نہیں لی میں آپ کو ویسے ہی عشق کرتا ہوں یہ ایک ماہ میں نے کیسے گزارا ہے آپ اندازہ نہیں لگاسکتی پر میں تھک گیا ہوں آپ سے دور رہ رہ کر۔شاہ میر مہرماہ کے بال سہلاتا بول رہا تھا مگر دوسری طرف خاموشی تھی شاہ میر کو عجیب لگا اس نے نرمی سے حصار ڈھیلا کیا اور مہرماہ کا چہرہ سامنے کیا مہرماہ کی بند آنکھیں دیکھ کر شاہ میر کا رنگ فق ہوا تھا۔

ماہ۔

ماہ کیا ہوا آپ کو؟شاہ میر گھبراکر مہرماہ کے گال تھپتپاکر بولا مگر مہرماہ کی آنکھیں بند ہی رہی۔شاہ میر مزید بنا دیر کیے مہرماہ کا وجود بانہوں میں بھرتا گھر کے اندر جانے کے بجائے ہوسپٹل جانے کا سوچا تھا مہرماہ کو احتیاط سے فرنٹ سیٹ پہ بیٹھا کر اس کا سر سیٹ پہ رکھا اور سیٹ بلیٹ باندھ کر جلدی سے ڈرائیونگ سیٹ پہ بیٹھا اور اگینشن میں چابی گھماکر گاڑی مین روڈ پہ ڈالی۔

ہوسپٹل پہنچ کر مہرماہ کو اسٹریچر پہ لیٹاکر وارڈ میں لیں جایا گیا شاہ میر بالوں میں ہاتھ پھیرتا یہاں وہاں ٹہلنے لگا۔

یااللہ ماہ کو ٹھیک کریئے گا۔شاہ میر چہرے پہ ہاتھ پھیرتے دعائیہ انداز میں بولا جب کی دل کے دھڑکن کی آواز کانوں میں پڑتی محسوس ہورہی تھی۔

ڈاکٹر ماہ کیسی ہے۔بیس منٹ بعد ڈاکٹر باہر آئی تو شاہ میر جلدی سے ان تک پہنچ کر بولا۔

مسٹر شاہ میر خان آپ کی وائف بہت کمزور ہے اِس حالت میں تو آپ بہت کیئر کرتے ہیں پھر اِس بار کیا ہوا۔ڈاکٹر شاہ میر سے افسوس زدہ لہجے میں بولی۔

صاف صاف بات کریں۔شاہ میر سمجھ تو گیا تھا مگر کنفرم کرنے کی خاطر پوچھا۔

آپ کی مسسز دو ماہ سے ایکسپٹ کررہی ہیں پر ان کو کمزوری ہے اگر ایسا ہی رہا تھا تو بچے کی جان کو خطرہ ہوسکتا ہے۔ڈاکٹر نے کہا تو شاہ میر کا وجود حیرت کے جھٹکوں میں آگیا اس کی ماہ ایسے مراحل میں گزر رہی تھی اور اس کو پتا بھی نہیں چلا تھا۔

میں مل سکتا ہوں؟شاہ میر بس یہی بول پایا۔

شیور۔ڈاکٹر کہتی وہاں سے گزر گئ شاہ میر بھی ہمت جمع کرتا وارڈ کے اندر داخل ہوا جہاں مہرماہ بے حرکت خاموش بیٹھی ہوئی تھی شاہ میر کو یاد آیا مرجان اور حیات کی خبر ملتے وقت مہرماہ کے چہرے پہ کتنے دھنک کے رنگ تھے اور اِس بار اس کا چہرہ بے رونق سا تھا شاہ میر کو خود پہ بے انتہا غصہ آیا۔

ماہ۔شاہ میر نے اس کا ہاتھ تھاما جس میں گلوکوز کی ڈرب لگی ہوئی تھی۔

بات مت کرو۔مہرماہ نے بیدردی سے اپنا ہاتھ کھینچا۔

سوری۔شاہ میر نے اپنے دونوں ہاتھ کانوں پہ رکھ کر کیوٹ سی شکل بناتا بولا مگر مہرماہ نے دھیان نہیں دیا۔

ماہ ہمارا تیسرا بچہ آنے والا ہے اب کیا تم اس کی آمد پہ ناراض رہے گی؟شاہ میر مہرماہ کے قریب آتا بولا۔

خوش ہو تم؟مہرماہ نے پوچھا

ہاں؟شاہ میر نے بنا دیر کیے بولا۔

پہلے تو کہتے تھے بچے نہیں چاہیے۔مہرماہ نے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا۔

تب مجھے نہیں تھا نہ پتا کہ بچوں سے ہمارا رشتہ خوبصورت ہوگا اور پہلے سے زیادہ مضبوط بھی۔شاہ میر اس کے چہرے پہ ہاتھ رکھتا بولا۔

اگر بیٹی ہوئی تو۔مہرماہ پھر بولی

تو اچھی بات ہوگی۔شاہ میر گہری مسکراہٹ سے بولا تو مہرماہ نے ایک مکہ اس کے شانے پہ جڑدیا۔

کیا ہوا۔شاہ میر کو سمجھ نہیں آیا۔

ایک بیٹی کافی ہے دوسری ہوگی تو میں تمہیں نظر ہی نہیں آٶں گی بیٹا چاہیے مجھے۔مہرماہ کو شاہ میر کی بات پہ پتنگے ہی لگ گئے شاہ میر مہرماہ کا لال بھبھو چہرہ دیکھ کر زور سے ہنسنے لگا۔

میری اتنی مجال کہ میں آپ جیسی خوبصورت بیوی کو نہ دیکھوں۔شاہ میر اپنی بات کے احتتام پہ مہرماہ کے گال پہ بوسہ دینے والا جب مہرماہ نے اس کے ہونٹوں پہ ہاتھ رکھ دیا شاہ میر نے اپنی دائیں آئبرو اُوپر کرکے جیسے وجہ پوچھی۔

ایک مہینہ تم نے مجھے خود سے دور کیا اب میری باری تم میرے قریب نہیں آوٴگے جب تک میں نہ چاہوں۔مہرماہ نے آرام سے کہا۔

آپ اتنی بڑی زیادتی نہیں کرسکتی میرے ساتھ۔شاہ میر مہرماہ کے خطرناک ارادے جان کر احتجاج کرتا ہوا بولا۔

تم جو ایک منٹ میرے بغیر نہیں رہ سکتے تھے پر ایک ماہ گُزار لیا تو کیا میں نہیں کرسکتی میں ضرور کروں گی۔مہرماہ نے شیطانی مسکراہٹ کے ساتھ کہا شاہ میر زندگی میں پہلی بار مہرماہ کی مسکراہٹ بُری لگی تھی۔

دیکھتا ہوں کیسے کرتی ہیں آپ۔شاہ میر سرہلاتا ہوا بولا جب کی مہرماہ لب دانتوں تلے دبائے شاہ میر کی حالت سے لطف اندروز ہورہی تھی۔

ویسے ایک بات تو بتائے؟کجھ دیر خاموشی کے بعد شاہ میر نے کہا

کونسی بات؟مہرماہ جو آنکھیں بند کرکے سونے کی تیاری کررہی تھی شاہ میر کی بات سن کر بولی۔

وہ جو آپ لان میں کہہ رہی تھی وہ آپ کے دل کی باتیں تھی یا کسی ناول کا سین تھی۔یہ کہتے ہوئے شاہ میر نے بڑی مشکل سے اپنے امڈ آنے والے قہقہ کا گلا گھونٹا تھا پہلے تو نہیں پر اب جب مہرماہ کی ایموشنل باتیں یاد آئی تو اس کو ہنسی آرہی تھی زندگی میں پہلی بار جو مہرماہ نے ایسے بات کی تھی اُس سے۔

بہت ہی کوئی ڈیش انسان ہو تم۔مہرماہ شاہ میر کے سینے پہ مُکے برساتی ہوئی بولی شاہ میر مسلسل ہنستا اس کے مُکے برداشت کرتا رہا پھر ایک ہاتھ سے اس کے دونوں ہاتھ قید دوسرا ہاتھ اس کی کمر پہ رکھ کر اپنے قریب کیا۔

میں تو اور بھی کجھ کہنے والا تھا۔شاہ میر نے کہا۔

کیا؟مہرماہ نے مُنہ پُھلاکر کہا۔

اتنے منہ تو حیات بھی نہیں بناتی جتنے آپ بناتی ہے۔شاہ میر مہرماہ کی ناک سے اپنی ناک مس کرتا ہوا بولا۔

میں نے کیا کہا تھا دور رہنا۔مہرماہ نے گھور کر کہا۔

اور میں نے بھی کجھ کہا تھا۔شاہ میر نے بھی اُسی انداز میں کہا

یہ چھوڑو وہ بات کرو جو کہنا چاہتے تھے۔مہرماہ سرجھٹک کر بولی۔

آپ کہہ تو ایسے رہی تھی کہ میں امی کی طرف جارہی ہوں جیسے چچی جان کا گھر ہمارے گھر سے کتنی دور ہو اور میں آپ تک پہنچ نہیں سکتا۔شاہ میر کی بات جو مہرماہ غور سے سن رہی تھی اس کو اپنا مذاق اُڑاتا دیکھا تو ضبط کرتی رہ گئ پر شاہ میر بنا اس کے غصے کا نوٹس لیے قہقہہ لگارہا تھا۔

بدتمیز ۔مہرماہ گھور کر بولی۔

آئی لو یو ماہ سچی بہت کیوٹ لگتی ہیں آپ غصے میں بس اِس لیے آپ کو چڑارہا تھا ورنہ میری کیا مجال جو آپ کی شان میں گستاخی کروں۔شاہ میر سر جھکاکر بڑے موٶدب انداز میں کہا تو مہرماہ کے چہرے پہ خوبصورت مسکراہٹ نے احاطہ کیا اپنی ساری ناراضگی بُھلائے شاہ میر کے کندھے پہ اپنا سر ٹکادیا شاہ میر بھی شکر کا سانس بھرتا مہرماہ کے گرد اپنا حصار باندھا۔

میری روح کی طلب ہوتم

بے شک سب سے الگ ہوتم

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

اب تمہیں اپنا پہلے سے زیادہ خیال رکھنا ہے۔سارہ بیگم مہرماہ کو اپنے ساتھ لگائے بولی آج پھر حیدر خان کے یہاں رونق لگی ہوئی تھی پچھلی بار کی طرح اِس بار بھی حیدر خان نے بکروں کا صدقہ دیا تھا۔

ڈیڈ مما کو کیا ہوا ہے۔حیات ہاتھ میں گڑیا لیکر شاہ کے پاس آتی بولی۔

مما کو تو کجھ نہیں ہوا بس وہ آپ کو چھوٹا بے بی دے گی۔شاہ میر حیات کے بھرے ہوئے گال کھینچتا ہوا بولا۔

بے بی گرل یا بے بی بوائے؟مرجان نے پوچھا

مجھے تو حیات جیسی بے بی گرل چاہیے پر تمہاری مما کو تمہاری طرح بیٹا چاہیے۔شاہ میر نے حیات کو گود میں بیٹھا کر کہا۔

اووو تو مطلب ہمارا بھائی آئے گا۔مرجان پرجوش ہوکر بولا۔

زیادہ نجومی بننے کی ضرورت نہیں۔شاہ میر تپ کے بولا حیات کھی کھی کرنے لگی مرجان کو دیکھ کر۔

ڈیڈ ہوتا تو وہی ہے نہ جو مما چاہتی ہیں۔مرجان نے اپنے عقل مطابق کہا اس کی آواز اتنی تیز تھی کے ڈرائینگ روم میں بیٹھے سب فرد نے سنی جس پہ سب نے قہقہقہ لگائے مہرماہ کا چہرہ جو پہلے ہی لال ہوا پڑا تھا اب مزید سرخ انار ہوگیا تھا۔شاہ میر محبت سے مہرماہ کے چہرے پہ آتے جاتے رنگ دیکھ رہا تھا جو ہمیشہ اس کے لیے آتے تھے۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

شاہ میر کمرے میں دیوار پہ اپنی مہرماہ اور مرجان کی تصویر دیکھ رہا تھا یہ وہ تصویر تھی جو آیان نے ہال میں ان کے نیند میں لی تھی پھر جب ان کی شادی کی دوسری سالگرہ پہ تحفہ دیا تھا لارج پکچر بناکر مہرماہ اِس تصویر کو دیکھ کر حد سے زیادہ خوش ہوئی تھی شاہ میر کو بھی پسند آئی تھی اور اپنے کمرے میں لگالی تھی بعد میں پروفائل پِک بناکر اپنے والٹ میں بھی رکھ لی تھی۔

خوبصورت ہے نہ جب بھی دیکھو نظر ہٹانے کو دل نہیں کرتا۔مہرماہ شاہ میر کے بازوں پہ سر ٹکاتی ہوئی بولی۔

خوبصورت تو ہے اب اللہ کے کرم سے ہماری فیملی میں ایک فرد کا اضافہ ہوگا۔شاہ میر نے کہا تو مہرماہ مسکرادی۔

میں نے اس کا نام بھی سوچ لیا ہے لڑکے کا بھی اور اگر تمہاری خواہش مطابق لڑکی ہوئی تو اس کا بھی۔مہرماہ نے مسکراکر بتایا تو شاہ میر نے تھوک نگلا تھا اس کے دماغ میں بس یہی خیال آیا تھا کہ اِس بار بھی مرجان کی طرح عجیب نام نہ رکھیں کوئی پر مہرماہ سے کجھ کہہ کر اپنی شامت نہیں لانی تھی اِس لیے چُپ رہا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

کجھ سال بعد !!!

خان مینشن آج رنگ برنگی لائٹس سے جگمگارہا تھا پورے گھر کو خوبصورت طریقے سے سجایا گیا تھا بڑے قمقموں سے لان چمک رہا تھا کیونکہ آج شاہ میر اور مہرماہ کے چھوٹے بیٹے زرجان کی اٹھارویں سالگرہ تھی جس وجہ سے پورا لان مہمانوں کی آمد سے بھرا پڑا تھا سامنے اسٹیج بنایا ہوا تھا جہاں خوبصورت سی ٹیبل پہ گلاب کی پنکھڑیاں تھی اور اس کے بیچ بڑا کیک رکھا ہوا تھا جس میں زرجان کا نام لکھا ہوا تھا مرجان کی بات سچ ہوئی تھی وہی ہوا تھا جو مہرماہ چاہتی تھی مہرماہ نے ایک اور خوبصورت بیٹے کو جنم دیا تھا جس کا نام اس نے زرجان رکھا تھا۔زرجان نہ تو مرجان کی طرح روندو تھا اور نہ ہی حیات کی طرح شرارتی وہ موڈی بندہ تھا شاہ میر کی طرح کم ہی بات کرتا تھا شکل وصورت تو مہرماہ کی تھی مگر عادات بلکل شاہ میر کے جیسی تھی اور آنکھوں کا رنگ بھی شاہ میر کی آنکھوں کے رنگ جیسا بلو تھا۔مرجان اب پچیس سال کا چھ فٹ چار انچ سے نکلتا قد وجاہت سے بھرپور مرد بن گیا تھا سفید کشادہ چمکتی پیشانی گول مٹول سی آنکھیں جن کو وہ مہرماہ کی طرح بات بات پہ گھماتا تھا کھڑی مغرور تیکھی ناک عنابی لب جن پہ ہمیشہ نرم مسکراہٹ ہوتی تھی جب کی چہرے پہ نیو لُک کی بیئرڈ تھی بیشک وہ خوبصورت کا منہ بولتا ثبوت تھا لڑکیاں اس کی ایک نظر کو ترستی تھی زرجان بھی اپنی چھوٹی عمر میں ہی کم خوبصورت نہیں تھا پر اس کے ماتھے پہ ہمیشہ بل نمایاں رہتے تھے جس سے لوگ اس سے بات کرتے وقت ڈرتے تھے حلانکہ وہ کم گوؤ تھا۔حیات کی بات کرے تو وہ ویسے ہی تھی شرارتی سی بائیس سال کی خوبصورت لڑکی بن گئ تھی پر وہ شاہ میر کے لیے ابھی بھی ڈیڈ کی ڈول ہی تھی بلو آنکھیں جن میں ہر وقت چمک ہی ہوتی تھی بھرے بھرے سرخ گال تیکھی ستوان ناک اور گلابی ہونٹ جہاں ہر وقت شرارتی مسکراہٹ ہوتی تھی اس کی شرارت سے اگر کوئی بچہ ہوا تھا تو وہ تھا زرجان حیات بھلے اس سے چار سال بڑی تھی پر اس کی سب پہ چلتی سوائے زرجان پہ کیونکہ زرجان اس کی شرارت پہ مرجان کی طرح چپ نہیں رہتا تھا بلکہ جواب دیتا تھا پانچ سال کی عمر میں ہی زرجان نے اپنی نو سالہ بہن سے کہا تھا ہر عمل کا رد عمل دینا زرجان میر کو آتا ہے جس سے حیات نے توبہ کرلی تھی کیونکہ زرجان اگر اس کی شرارت کا جواب دیتا تھا تو نشانہ اس کی پسندیدہ چیزیں ہی ہوتی تھی۔

شاہ زیب اور ثانیہ کا ایک ہی بیٹا تھا شاہ ویر جو وکالت کے چوتھے سال میں تھا شاہ ویر کی شرارتیں بھی اپنی طرف سے عروج پہ تھی اس کی اور حیات کی بہت گہری دوستی تھی پر شاہ ویر کو اپنی کزن سے ون سائیڈڈ لو تھا پر کبھی کہنے کی ہمت نہیں ہوئی اس کی ہمیشہ چلتی زبان کو حیات کے سامنے جانے کیوں زنگ لگ جاتا تھا مرجان اور شاہ ویر کی وجاہت میں اکیس بیس کا فرق تھا قد میں وہ دونوں برابر ہی تھی پر مرجان کا فوکس بزنس میں تھا جب کی حیات کو ڈاکٹر بننا تھا جب کی زرجان فلحال کالج کے سکنڈ ایئر میں تھا۔

سالار اور پری کی بیٹی پریسہ کو بزنس وومن بننا تھا تاکہ اپنے باپ کا بزنس میں ساتھ دے سکے اور اس کو کبھی یہ محسوس نہ ہو کہ اس کے پاس بیٹا کیوں نہیں۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

اب بس بھی کریں۔شاہ میر نے مہرماہ سے کہا جس نے آج مہرون کلر کی ڈیسنٹ ساڑی پہن رکھی ہلکی سی جیولری جس میں بس سونے کے ٹاپس اور گلے میں نازک سی چین تھی بالوں کا جوڑا بنا رکھا تھا جب کی چہرہ ہر مصنوعی آرائش سے پاک تھا جس سے وہ بہت گارجیئس لگ رہی تھی اِن سالوں میں شاہ میر کے عشق میں کمی نہیں آئی تھی وہ پہلے کی طرح اپنی ماہ کو چاہتا تھا جس سے مہرماہ اپنی عمر سے کم ہی بڑی لگتی تھی شاہ میر بھی گزرتے وقت کے ساتھ گریس فل ہوگیا تھا اس نے آج بلیک کلر کا تھری پیس پہن رکھا تھا بالوں کو اس نے ہمیشہ کی طرح جیل سے سیٹ کیا ہوا تھا ہاتھ میں مہنگی گھڑی پہنے وہ فل تیار تھا بس مہرماہ کے انتظار میں تھا جو مرر کے سامنے بار بار اپنی ساڑی کا پلو ٹھیک کررہی تھی۔

شاہ میں اچھی تو لگ رہی ہوں نہ؟مہرماہ نے پریشانی سے شاہ میر سے پوچھا۔

اچھی آپ میری نظروں سے خود کو دیکھے تو آپ کو اپنے علاوہ ہر کوئی بدصورت لگے۔شاہ میر گھمبیر آواز میں بولا تو مہرماہ پوچھ کے پچھتائی۔

اپنے بچوں کی خبر لیں تیار ہوئے کہ نہیں مہمان آگئے ہیں سب۔مہرماہ نے کہا

پہلے بچوں کی ماں کی تو خبر لوں۔شاہ میر مہرماہ کو کمر سے تھامتا ہوا بولا۔

شرم کرو شاہ کجھ بچے بڑے ہوگئے ہیں اب۔مہرماہ نے شاہ میر کو آنکھیں دیکھائی۔

ماہ پلیز۔شاہ اتنا کہتا اس کے ماتھے پہ بوسہ دینے والا تھا جب دھڑام سے دروازہ کھول کر حیات اندر داخل ہوئی شاہ میر فورن سے مہرماہ سے دور ہوا۔

ڈیڈ میں کیسی لگ رہی ہوں؟حیات وائٹ کلر کا فراق پہنے گول گول گھوم کر شاہ میر سے پوچھنے لگی بالوں میں وائٹ ہیئربینڈ تھا چہرہ پہ مناسب میک اپ کیے اور ہونٹوں پہ ڈارک ریڈ لپ اسٹک لگائے حیات انتہا کی خوبصورت لگ رہی تھی۔

بہت خوبصورت۔شاہ میر مسکراکر بولا۔

مما سے بھی زیادہ؟حیات نے کان کی لو کھجاکر پوچھا مہرماہ تو اس کے بنا دروازہ نوک کیے آنے پہ خفا تھی مگر اس کی بات سن کر تپ گئ۔

دونوں ایک دوسرے کو مات دے رہے ہو۔شاہ میر اس کی شرارت سمجھتا چلاکی سے بولا جو کہ کجھ غلط نہ تھا۔

بہت کلیور ہیں آپ۔حیات منہ بناکر بولی۔

حیات دیکھو مرجان اور زرجان تیار ہوئے کے نہیں۔مہرماہ نے کہا

وہی بتانے آئی تھی دونوں نیچے آپ دونوں کا ویٹ کررہے ہیں۔حیات نے سر پہ ہاتھ مار کر کہا۔

اچھا چلو پھر۔مہرماہ نے کہا تو حیات چلی گئ شاہ میر نے اپنا بازوں آگے کیا تو مہرماہ نے مسکراکر اس کا بازوں تھام لیا پھر دونوں باہر جانے لیے نکلے جہاں ان کے بچے انتظار میں تھے

واہ آپ تو چھاگئے۔مرجان شاہ میر اور مہرماہ کو آتا دیکھا تو کہا۔

وہ تو تب سے چھاگئے تھے جب پیدا ہوئے تھے۔شاہ میر گردن اکڑا کر بولا تو مہرماہ نے آنکھیں گھمائی مرجان نے دونوں آئبروز اُوپر کی جب کی حیات نے داد دیتی نظروں سے اپنے باپ کو دیکھا۔

میرا بیٹا کیوں چپ ہے؟مہرماہ زرجان کے بال بگاڑتی بولی جو لاتعلق سا بیٹھا تھا۔

یہ بولتا کب ہے۔حیات بڑبڑاہٹ میں بولی۔

مما میرے فرینڈز باہر ویٹ کررہے ہیں اور میں یہاں ہوں۔زرجان خفگی سے بولا۔

چلتے ہیں باہر پہلے یہ تو بتاؤ گفٹ کیا چاہیے۔شاہ میر نے مسکراکر پوچھا

مجھے بھی گفٹ چاہیے ڈیڈ۔حیات زرجان سے پہلے بولی۔

سالگرہ زر کی ہے۔مہرماہ نے دانت پیستے ہوئے کہا۔

ڈیڈ مجھے اجازت چاہیے تھی۔زرجان نے سنجیدہ ہوکر شاہ میر سے کہا

کسی اجازت دیکھو زر اگر شادی کرنا چاہتے ہو تو یہ خیال اپنے دماغ سے نکل دو ابھی تمہاری عمر ہی کیا ہے بس اٹھارہ سال اِس عمر میں تو بچوں کو شادی کی ڈفینیشن بھی نہیں معلوم ہوتی یہ بھی تو سوچو بڑا بھائی کنوارہ بیٹھا ہے تم اپنی شادی کا کیسے سوچ سکتے ہے لوگ کیا کہیں گے۔حیات زرجان کی بات سن کر ایک سانس میں بولی زرجان نے کوفت سے سرجھٹکا مرجان اپنی ماں کا تپا چہرہ دیکھ کر مسکراہٹ ضبط کرتا چہرہ جھکا گیا تھا شاہ میر آگے بڑھ کر حیات کی پیٹھ سہلا رہا تھا جو اب گہرے سانس بھر رہی تھی۔

ڈیڈ میرے فرینڈز نے مری ٹرپ پہ جانے کا سوچا ہے ایک مہینے کے لیے مجھے بھی جانا ہے۔زرجان نے کہا۔

تمہارے فرینڈز پنکھے سے لٹک کر خودکشی کرنے کا سوچے گے تو کیا تم بھی ایسا کروگے۔حیات نے پھر بیچ میں مداخلت کی۔

آپی پلیز مجھے سکون سے بات کرنے دے۔زرجان تنگ آکر بولا۔

زر ایک مہینہ کیوں دو تین دن تک ٹھیک تھا۔شاہ میر نے کہا۔زرجان نے کجھ کہنا چاہا پر مرجان اِس بار بولا

کیک کٹنے کا وقت ہوگیا ہے ہمیں باہر چلنا چاہیے دادو اور بڑے ابا جان خفا ہوگے۔

ابھی چلو پھر بات کرتے ہیں۔مہرماہ نے نرمی سے کہا تو زرجان نے سرہلایا۔

وہ تو لان میں آئے تو ہانم بیگم نے شاہ میر کو اچھی خاصی جھاڑ پلائی کے اتنی دیر کیوں لگائی جب کی مہرماہ اپنی جان بچاتی مہمانوں سے ملنے میں مصروف ہوگئ تھی وہ تینوں بھی اپنے اپنے فرینڈز کے گروپ کی طرف بڑھ گئے تھے۔

تم تو بہت ہینڈسم لگ رہے ہو۔زرجان کے دوست کی بہن عروہ زرجان سے بولی جس پہ اس نے کوئی رسپانس نہیں کیا۔

اسٹیج کی طرف آجاؤ کیک کٹ کرنے کا وقت آگیا ہے۔شاہ ویر زرجان کے کندھے پہ ہاتھ رکھ بولا شاہ ویر آج بلیو شرٹ کے ساتھ وائٹ شرٹ پہنے ہوئے تھا بالوں کو اس نے ایک سائیڈ کا اسٹائل دیا تھا ہاتھوں میں قیمتی گھڑی پہنے بہت ڈیشنگ اور اٹریکٹو لگ رہا تھا کافی لڑکیوں کی نظریں اس پہ ٹکی ہوئی تھی مگر وہ جس کی نظر کا منتظر تھا وہ اپنے آپ میں مگن تھی۔

زرجان اسٹیج پہ آیا تو اپنے ایک سائیڈ پہ مہرماہ کو کھڑا کیا تو دوسری سائیڈ پہ زرجان کو باقی سب بھی اسٹیج پہ آگئے تھے۔سب کی تالیوں کے درمیان زرجان نے کیک کٹ کیا اس نے ایک چھوٹا سا پیس کٹ کرکے شاہ میر طرف بڑھایا تو شاہ میر نے ہمیشہ کی طرح پہلے مہرماہ کی طرف اشارہ کیا جس پہ زرجان کے چہرے پہ آج کے دن پہلی بار مسکراہٹ آئی تھی زرجان نے سب سے پہلے مہرماہ کو کیک کِھلایا جس سے مہرماہ نے مسکراکر اس کے بال بگاڑے تو زرجان شاہ میر کے پاس گیا پھر حیدر خان، ہانم بیگم، سکندر خان،سارہ بیگم شاہ زیب ثانیہ سالار پری آیان،اور اس کی بیگم ثانیہ کی بہن ہانیہ کے پاس آیا آیان کی پڑھائی کے فورن بعد ہی ہانم بیگم نے اس کی شادی کروادی تھی جس سے آیان کے دو بچے تھے ایک بیٹا دوسری بیٹی بیٹا منہاج جو سولہ سال کا تھا دوسری بیٹی منت جو کی چودہ سال کی تھی اور وہ شاہ میر کو حیات کی طرح عزیز تھی۔ان سب کو کیک کِھلانے کے بعد زرجان مرجان کے پاس آیا پھر شاہ ویر اس کے بعد حیات کے پاس جس کو اس نے سب مہمانوں کے سامنے کیک کھلایا کم اور چہرے پہ لگایا زیادہ یہ اس کا بدلا تھا جو اس کے اور شاہ میر کے بیچ میں حیات نے مداخلت کی تھی اس کا۔حیات مہرماہ کی نظروں میں چھپی تنبیہہ دیکھ کر بس دانت پیستی رہ گئ ورنہ اس کا بس نہیں چل رہا تھا ٹیبل پہ پڑا بچا سارا کیک زرجان کے اُوپر گِرادیتی۔ زرجان اپنی کاروائی سے مطمئن ہوتا پریسہ کے پاس آیا جو اس کو بہت عزیز تھی پریسہ کو بھی اپنا یہ چھوٹا کزن بے حد عزیز تھا۔

ہیپی برتھ ڈے زر ہمیشہ خوش رہو وہ ہر چیز تمہیں مل جس کی تم تمنا کرو۔پریسہ نے مسکراکر اس کو دعا دی تو زرجان سر نیچے کرکے ہنس پڑا۔

آپی اتنی دعائیں تو بڑے اباجان بڑی امی دادو نے نہیں کی جتنی آپ کررہی ہیں۔زرجان نے کہا تو پریسہ نے مصنوعی گھوری سے نوازا جس پہ زرجان آنکھ ونک کرتا اب اپنے دوستوں کی جانب آیا تھا کیونکہ فیملی سے تو وہ فارغ ہوگیا تھا۔تھوڑی دیر بعد کھانے کا دور شروع ہوا تو سب مہمان اپنی اپنی نشت پہ بیٹھ کر کھانا کھانے کی طرف مصروف ہوگئے۔

تمہارا کیوں منہ پُھلا ہوا ہے؟شاہ ویر کو حیات کے ساتھ بات کرنے کا موقع ملا تو وہ فورن چلا آیا جہاں حیات کونے پہ سیٹ کی ایک جگہ پپ تھی جہاں ٹیبل کے درمیان دو چیئر تھی شاہ ویر ایک پہ بیٹھ کر حیات کو دیکھنے لگا جس نے اپنا چہرہ واش کرلیا تھا۔

مجھے کتنے مہمانوں کے سامنے سبکی محسوس کی زر کی وجہ سے۔حیات منہ بناتی ہوئی بولی

تو تمہیں کون کہتا ہے اس سے پنگا لو ضرور تم نے کجھ کیا ہوگا جس کا جواب زر نے بڑھ کر دیا ہوگا۔شاہ ویر آرام سے بولا کیونکہ وہ اس کی رگ رگ سے واقف تھا۔

بڑی بہن ہوں انسان لحاظ ہی کرلیتا ہے۔حیات اس کی بات پہ ہڑبڑاکر بولی

تم تو بڑا کرتی مرجان کا لحاظ۔شاہ ویر منہ بناکر بڑبڑایا۔

کجھ کہا؟حیات نے مشکوک نظروں سے دیکھ کر پوچھا تو شاہ ویر کا گلا خشک ہوا تھا تو وہ اُس سے دو سال بڑا مگر دونوں کے درمیان بے تکلفی تھی دوستی کی وجہ سے جس وجہ سے مہرماہ کے لاکھ کہنے پہ بھی وہ شاہ ویر کو بھائی نہیں کہتی تھی شاہ ویر بھی بے حد مطمئن تھا کہ اچھا ہوا بھائی کے دم چھلے سے تو بچہ ہوا ہوں۔

میں کہہ رہا تھا یہاں اکیلے بیٹھنے کا کوئی فائدہ نہیں میرے ساتھ چلو ویسے بھی زر نے کونسا تم سے سوری کرنا ہے۔شاہ ویر بات بدل کر بولا۔

ہاں تو میں کونسا اس کے سوری کے انتظار میں ہوں۔حیات کھڑی ہوکر جی کڑا کر بولی جس پہ شاہ ویر نے مسکراہٹ دبائی۔

تم دونوں کیوں اُداس ہو۔زرجان اپنے دوستوں کو سی آف کرکے اندر کی طرف جارہا تھا جب منہاج اور منت اُداس بیٹھے نظر آئے تو ان کی طرف آیا سب مہمان اب آہستہ آہستہ اپنے گھروں کو لوٹ رہے تھے۔

آپ نے ہمیں کیک کیوں نہیں کِھلایا؟منت نے منہ پھلاکر کہا تو زرجان ساری ماجرا سمجھ گیا

کیونکہ آپ دونوں وہاں نہیں تھے۔زرجان نے خود کو بے قصور کیا

میں سمجھارہا ہوں یہی بات پر جب یہ سمجھے۔منہاج اکتاہٹ بھرے لہجے میں بولا۔

اچھا اب تم اندر چلو میں آئسکریم دیتا ہوں وہ تمہیں کیک سے زیادہ پسند آئے گی۔زرجان نے اس کو بہلایا تو منت خوش ہوگئ۔

پر امی کو پتا چل گیا تو؟منہاج نے خدشہ ظاہر کیا۔

تو کجھ نہیں ہوگا۔زرجان کہتا منت کو اٹھنے کا اشارہ کرنے لگا تو وہ اٹھ کھڑی ہوئی ان دونوں کو جاتا دیکھ کر منہاج بھی ان کے ساتھ گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *