Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Qaid Season 2 (Episode 06)

Ishq Qaid Season 2 by Rimsha Hussain

میر تم یہاں؟حیدر خان اپنے آفس میں فائل ریڈ کررہے تھے جب شاہ میر کو اندر آتا دیکھا تو حیرت کا اظہار کیا کیونکہ انہوں نے جب سے اپنا بزنس لنڈن سے یہاں پاکستان میں وائنڈ اپ کیا تھا شاہ میر ایک مرتبہ بھی نہیں آیا تھا۔

جی ڈیڈ وہ میں چاہتا ہوں کہ یونی کے بعد یہاں آپ کے آفس آیا کروں ایز امپلوئے کی طرح۔ شاہ میر بیٹھتے ہوئے کہا۔

امپلوئے کیوں تم یہاں کے سی ای او ہو۔ حیدر خان حیرت سے پوچھنے لگے۔

میری پڑھائی پوری نہیں ہوئی اِس لیے پہلے میں یہاں سیکھنا چاہتا ہوں۔ شاہ میر نے وجہ بتائی

وہ سب تو ٹھیک پر تمہاری پڑھائی متاثر ہوجائے گی یونی کے بعد آفس کا کام کروگے تو۔ حیدر خان فکرمند ہوئے۔

متاثر نہیں ہوگی میں ہینڈل کرلوں گا۔ شاہ میر نے ان کو مطمئن کرنا چاہا۔

پر یوں اچانک تمہارے دماغ میں خیال کیسے آیا؟ حیدر خان نے جاننا چاہا۔

میں ماہ کا خرچہ خود اٹھانا چاہتا ہوں یہاں باقیوں کی طرح آپ مجھے سیلری دیا کریں گے۔ شاہ میر نے کہا تو حیدر خان نے تعجب سے اس کو دیکھا۔

میر اول تو یہ بات تمہاری غلط ہے دوسرا یہ کہ تمہاری پاکٹ منی اتنی ضرور ہے کہ تم آرام سے مہرو کا خرچہ اٹھا سکتے ہو پر اِس کی تو کوئی ضرورت نہیں ہم ہیں تو سہی۔ حیدر خان نے کہا

میں سمجھ سکتا ہوں آپ کی بات پر میں اپنی زندگی میں سیٹل ہونا چاہتا ہوں میں ماہ کو اپنی پاکٹ منی سے ان کی ضروریات پوری نہیں کرنا چاہتا بلکہ اپنی محنت سے ان کو ہر آسائش دینا چاہتا ہوں۔ شاہ میر نے دو ٹوک انداز میں کہا۔

مہرو یا کسی اور نے کجھ کہا ہے کیا تم سے؟ حیدر خان نے اندازہ لگایا۔

نہیں ماہ نے تو کجھ نہیں کہا میں خود کہہ رہا ہوں۔ شاہ میر نے کہا

پھر بھی ایک بار سوچ لینا ایسے میں تم مہرو کو ٹائم نہیں دے سکوگے اس لیے میں تو یہی چاہوں گا ابھی تم اپنا پورا فوکس اسٹڈی پہ دو آفس کا کیا ہے بعد میں تو تمہیں ہی دیکھنا ہے۔ حیدر خان نے ایک اور کوشش کی اس کو سمجھانے کی۔

آپ فکر نہیں کریں میں سب ہینڈل کرلوں گا۔ شاہ میر اپنی بات پہ قائم تھا اِس لیے حیدر خان نے مزید کوئی بحث نہیں کی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

تم آگئے میں نے تمہاری کال نہیں کاٹی تھی۔ شاہ میر کمرے میں آیا تو مہرماہ جو عصر کی نماز پڑھ کر جائے نماز اٹھارہی تھی شاہ میر کو دیکھ کر مسکراکر کہا۔

ضدی جو ہیں۔ شاہ میر نے ایک نظر مہرماہ کے حجاب میں لپیٹے چہرے کو دیکھا پر اپنی کتابیں روم میں رکھے اسٹڈی ٹیبل پہ رکھ کر کہا۔

ضدی کہاں خیر تم آج لیٹ گھر آئے ہو صبح گئے بھی جلدی تھے؟ مہرماہ نے پوچھا۔

ہاں بس کام تھا کجھ۔ شاہ میر نے بتایا۔

تم فریش ہوجاٶ میں تب تک کھانا لیکر آتی ہوں تمہارے انتظار میں،میں نے بھی کجھ نہیں کھایا۔ مہرماہ نے کہا۔

آپ کو کھانا کھالینا چاہیے تھا۔ شاہ میر کو افسوس ہوا یہ جان کر کہ مہرماہ اس کی وجہ سے بھوکی تھی۔

تمہارے ساتھ کھاتی ہوں مجھے کیا پتا تھا تم لیٹ آنے والے ہو۔مہرماہ اپنا ڈوپٹہ حجاب کی صورت میں کُھول کر جواب دیا۔

آپ لیں آئے کھانا۔ شاہ میر نے کہا تو مہرماہ کمرے سے باہر نکل گئ جب کی شاہ میر نے اپنا رخ واشروم کی جانب کیا۔

مہرو تم کچن میں کجھ چاہیے تھا؟ مہرماہ کچن میں آئی تو ہانم بیگم جو ملازم سے اپنے لیے چائے کا کہنے آئی تھی اس کو دیکھ کر بولی

جی چچی جان کھانا گرم کرنے آئی تھی اپنے اور شاہ کے لیے۔ مہرماہ نے بتاکر فریج کھولا اور اُس میں سے سالن اور بریانی کی پلیٹ نکالی اس کو پتا تھا شاہ میر کو بریانی پسند ہوتی ہے

میر اب آیا ہے گھر صبح بھی بنا ناشتہ کیے گھر سے نکل گیا تھا رات میں بھی بس چند نوالے ہی کھائے تھے۔ ہانم بیگم نے کہا۔

جی اِس لیے میں نے دو پہر کو شاہ کے لیے بریانی بنائی تھی۔ مہرماہ نے مسکراکر کہا تو ہانم بیگم مسکراتی اس کے سر پہ ہاتھ پھیرتی باہر نکل گئ مہرماہ کھانے گرم کرنے کے بعد ٹرے میں سیٹ کیا پھر کمرے میں آئی جہاں شاہ میر کتاب پڑھنے میں مگن تھا شاہ میر کہ گیلے بال دیکھ کر اس کو پتا چل گیا کہ وہ ابھی نہاکر بیٹھا ہے۔

کھانا کھالوں۔ مہرماہ نے ٹیبل پہ ٹرے رکھ کر شاہ میر کو آوازدی اور ٹیبل پہ کھانا ٹھیک سے رکھنے لگی۔

بریانی آپ نے بنائی ہے؟ شاہ میر نے پوچھا

بلکل۔ مہرماہ نے جواب دیا تو شاہ میر مہرماہ کے ساتھ بیٹھ گیا۔

ایک بات پوچھو آپ سے؟ مہرماہ شاہ میر کی پلیٹ میں سالن ڈال رہی تھی جب شاہ میر نے کہا۔

ہاں پوچھو اجازت کیوں لیں رہے ہو۔ مہرماہ اپنے لیے روٹی کا نوالہ توڑتی ہوئی بولی۔

کل رات میرا آپ کا ہاتھ پکڑنا آپ کو چھونا بُرا لگا تھا کیا؟ شاہ میر کہ اندر جو کل رات سے بات کھائے جارہی تھی آخر زبان پہ آگئ تھی جب کی شاہ میر کی بات پہ مہرماہ کہ گلے میں نوالہ اٹک گیا تھا جس سے اس کو کھانسی آگئ تھی شاہ میر مہرماہ کا لال چہرہ دیکھ کر جلدی سے پانی کا گلاس اس کے ہونٹوں کے پاس کیا۔

آپ ٹھیک ہیں؟ شاہ میر پریشان کن لہجے میں بولا ساتھ ہی مہرماہ کی پیٹھ بھی سہلارہا تھا

تمہیں ایسا کیوں لگا شاہ کہ مجھے برا لگا۔ مہرماہ کی حالت کجھ ٹھیک ہوئی تو پوچھا

آپ کے چہرے پہ ناگواری کے تاثرات آگئے تھے۔ یہ کہتے ہوئے شاہ میر کی آنکھوں میں مرچیں چُھبنے لگی تھی۔

ایسا نہیں تھا کہ مجھے بُرا لگا تھا پر وہاں سب تھے تمہاری حرکت پہ ہرکوئی ہماری طرف دیکھ رہا تھا اِس لیے مجھے ٹھیک نہیں لگا ورنہ تمہارا میرا ہاتھ پکڑنا مجھے چھونا کیوں بُرا لگے گا۔ مہرماہ نے شاہ میر کے گال پہ ہاتھ رکھ کر وضاحت کی۔ شاہ میر نے اپنا ہاتھ مہرماہ کے ہاتھ پہ رکھا جو اس کے گال پہ تھا پھر کہا۔

پکا یہی بات ہے؟

بلکل یہی بات ہے۔ مہرماہ نے مسکراکر کہا۔

تو کیا یہ بات تھی جس سے تم کل رات پریشان تھے یا آج عجیب بیہیو کررہے تھے؟ مہرماہ نے پوچھا تو شاہ میر نے سر کو اثبات میں ہلایا جس سے مہرماہ اس کو دیکھتی رہ گئ۔

آپ کو کیا پتا میرا کیا حال ہوا تھا یہ دیکھ کر کہ آپ کے چہرے پہ ناگواری آگئ ہے۔ شاہ میر نوالہ بناکر مہرماہ کے ہونٹوں کے پاس کرتا ہوا بولا۔

پوچھ بھی سکتے تھے اپنے اندازے لگانے کی کیا ضرورت تھی۔ مہرماہ نے نوالہ منہ میں ڈالتے ہوئے کہا۔

ابھی تو پوچھ لیا نہ۔ شاہ میر نے کہا۔

اچھا اب خود بھی بریانی نوش کرو میں خود کھالوں گی۔ شاہ میر نے دوسرا نوالہ مہرماہ کی طرف بڑھایا تو مہرماہ نے ٹوک کر کہا جس پہ شاہ میر نے چمچے میں بریانی ڈالی اور مہرماہ کے پاس کیا۔

آدھا آپ کھائیں باقی میں کھاٶں گا۔ شاہ میر نے کہا تو مہرماہ نے تھوڑی بریانی کھائی پھر شاہ میر نے خود چمچہ اپنے منہ کے پاس کیا۔

میں ٹرے کچن میں رکھ کر آتی ہوں۔ کھانے سے فارغ ہونے کے بعد مہرماہ نے کہا اور باہر نکل گئ

آپ کو کجھ بتانا ہے مجھے۔مہرماہ واپس آئی تو شاہ میر نے اس کا ہاتھ پکڑکر اپنے قریب بیٹھا کر کہا۔

کیا بتانا ہے؟ مہرماہ نے پوچھا۔

میں نے یونی کے بعد ڈیڈ کے آفس جانے کا سوچا ہے۔ شاہ میر نے کہہ کر مہرماہ کے تاثرات دیکھے جو نارمل تھے۔

یہ تو اچھا سوچا تم نے چچا جان بھی تھک جاتے ہوگے اکیلے آفس کا کام سنبھالتے سنبھالتے اچھا ہے تم ان کے ساتھ ہوگے تو ان کو مدد مل جائے گی۔ مہرماہ کو شاہ میر کی بات پسند آئی تو کہا۔

آپ کو بُرا نہیں لگا؟

بُرا کیوں لگے گا یہ تو اچھی بات ہے کہ تمہیں تمہاری ذمیداریوں کا خیال ہے۔ مہرماہ نے جواب دیا۔

آپ کو بس میرا احساس نہیں۔شاہ میر منہ کے زاویے بگاڑتا اس کے سینے پہ سر رکھ کر کہا۔

تمہارا احساس ہے کیوں نہیں ہوگا احساس۔ مہرماہ شاہ میر کے بچوں والا انداز دیکھ کر اس کے گلے میں بانہیں ڈال کر مسکراکر بولی۔

میں مصروف ہوجاٶں شاید آپ کو وقت نہ دے سکوں۔ شاہ میر مہرماہ کی کمر پہ اپنا حصار مضبوط کرتا ہوا بولا۔

میں جانتی ہوں شاہ جتنا بھی مصروف ہو اپنی ماہ کے لیے وقت نکال ہی سکتا ہے۔ مہرماہ نے کہا تو شاہ میر کی بلو آنکھوں میں چمک اُتر آئی تھی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

ثانیہ جیسے ہی پریزیٹیشن دے کر فارغ ہوئی تو پورا کانفرنس روم تالیوں کی آواز سے گونج اٹھا تھا۔ثانیہ سب پہ ایک نظر ڈال کر شاہ زیب کی طرف دیکھا جو اُس کے دیکھنے پہ انگھوٹے کی مدد سے شاباشی دیں رہا تھا جس کو دیکھ کر ثانیہ کی صبح سے اٹکی سانس بحال ہوئی یہ اتنے سارے لوگوں کے درمیان اُس کی پہلی پریزیٹیشن تھی جو اللہ کے حکم اور شاہ زیب کی مدد سے بہت اچھی ہوگئ تھی۔

مسٹر شاہ زیب آپ نے جو سیمپل ہمیں دیکھائے پھر یہ پریزیٹیشن دیکھ کر ہم آپ کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا چاہے گے کیونکہ آج کل مارکیٹ میں آپ کا بہت نام بھی ہے۔ مسٹر شوکت علی نے کہا تو شاہ زیب کے چہرے پہ فاتحانہ مسکراہٹ آئی تھی کیونکہ یہاں کراچی کہ بہت مشہور بزنس مین بھی تھے پر یہ پراجیکٹ شاہ زیب کو ملا تھا جو کے شاہ زیب کے لیے کامیابی کی نوید اور باعثِ فخر کی بات تھی شاہ زیب نے ایک مسکراتی نظر ثانیہ پہ ڈالی پھر مسٹر شوکت علی سے ہاتھ ملایا۔

امید ہے آپ کے ساتھ کام کرنے کا وقت اچھا گزرے گا۔ شوکت علی نے کہا تو شاہ زیب نے اپنے سر کو خم دیا پھر سب باری باری کانفرنس روم سے باہر نکلے تو ثانیہ بھی فائلز سمیٹنے لگی۔

مبارک ہو مس ثانیہ افتخار۔شاہ زیب نے گہری مسکراہٹ کے ساتھ کہا تو ثانیہ کے ہاتھ ایک پل کو لرزے تھے پر دوسرے ہی پل وہ خود کو کمپوز کرتی شاہ زیب کی جانب دیکھنے لگی۔

آپ کو بھی یہ سب آپ کی وجہ سے ہی ممکن ہوا تھا اگر آپ صبح میری مدد نہ کرتے تو شاید میں ابھی اتنے اچھے طریقے سے بول نہ پاتی۔ ثانیہ نے کہا۔

انسان کو اپنی قابلیت پہ یقین ہونا چاہیے پھر ہر ناممکن چیز کو ممکن ہونے میں وقت نہیں لگتا اگر آج آپ ٹھیک سے کجھ بول نہ پاتی تو میرا اچھا خاصا نقصان ہوجاتا۔ شاہ زیب نے اب کی سنجیدگی سے کہا

میں کوشش کروں گی آپ کو میری طرف سے کبھی کوئی شکایت نہ ہو۔ ثانیہ اپنی انگلیاں مڑورتی شاہ زیب سے بولی جس سے شاہ زیب کے چہرے پہ دوبارہ گہری مسکراہٹ نے بسیرا کیا تھا۔

میرے گھر جانے کا وقت ہوگیا ہے۔ ثانیہ نے اپنے سیل فون پہ وقت دیکھ کر کہا۔

اگر آپ کو بُرا نہ لگے تو میں آپ کو گھر تک ڈراپ کرسکتا ہوں۔ شاہ زیب نے کہا۔

نہیں سر اس کی کوئی ضرورت نہیں میں خود چلی جاٶں گی۔ ثانیہ نے جلدی سے کہا۔

نہیں آج میں آپ کو ڈراپ کردیتا ہوں آپ کو مجھے پہ یقین ہونا چاہیے۔ شاہ زیب اس کی بات پہ بولا۔

ایسی بات نہیں سر مجھے آپ پہ یقین ہے۔ ثانیہ جلدی سے بولی۔

واقع آپ کو مجھے پہ یقین ہے؟شاہ زیب ایک قدم ثانیہ کی جانب بڑھاتا بولا تو ثانیہ گڑبڑاگئ تھی۔

جی سر آپ میرے بوس ہیں۔ثانیہ ایک قدم دور ہوتی ہوئی بولی۔

ٹھیک ہے پھر اپنا سامان لیکر پارکنگ کی طرف آجانا میں انتظار کررہا ہوں۔ شاہ زیب حکیمہ لہحے میں کہتا باہر نکل گیا جب کی ثانیہ شاہ زیب کے آج کے رویے پہ سوچ میں پڑگئ کیونکہ پہلے شاہ زیب نے ہمیشہ کام کی حدتک بات کی تھی اور اب اُس کا بار بار مسکراکر بات کرنا اس کی سمجھ سے بالاتر تھا کافی دیر کھڑی رہنے کے بعد وہ اپنا سر جھٹکتی سامان لینے چلی گئ

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

دو دن بعد !

مہرماہ تیار ہوگئ بیٹا؟ ہانم بیگم مہرماہ کے کمرے میں آکر بولی آج ان کو حور کی مہندی پہ جانا تھا جب کی شاہ میر نے صاف انکار کردیا تھا کہ وہ وہاں نہیں جائے گا کیونکہ وہ مایوں والی بات بھولا نہیں تھا جس پہ ہانم بیگم نے بہت سمجھایا پر شاہ میر نہیں مانا مہرماہ نے بھی کجھ نہیں کہا کیونکہ جب سے شاہ میر نے آفس جانا شروع کردیا تھا وہ تھک جاتا تھا اِس لیے مہرماہ نے سوچا وہ گھر پہ آرام کریں شادی کے دن وہ اُس کو مناکر لیں آئے گی۔

جی چچی جان بس سینڈل پہن لوں۔ مہرماہ نے کہا اس نے آج براوٴن میکسی پہن رکھی تھی جو اس کے پیروں تک تھی براٶن اس کی گوری رنگت پہ کِھل اٹھا تھا بالوں کا اس نے جوڑا بنارکھا تھا چہرے پہ آج اس نے میک اپ نہیں کیا تھا بس آنکھوں پہ مسکارا لگایا ہوا تھا اور گلابی ہونٹوں پہ سرخ رنگ کی لپ اسٹک وہ اپنی اتنی سی تیاری میں بہت خوبصورت لگ رہی تھی جس سے ہانم بیگم کی بھی نظر اُس پہ ٹک گئ تھی ان کو آج سمجھ آیا تھا کہ ان کا بیٹا کیوں مہرماہ کے پیچھے دیوانہ ہوا پِھرتا ہے

ماشااللہ بہت خوبصورت لگ رہی ہوں میک اپ کرتی تو قیامت دھاڑتی۔ ہانم بیگم کی بات پہ مہرماہ کا چہرہ سرخ ہوگیا تھا تبھی شاہ میر بھی اندر ہوا مہرماہ پہ جب اس کی نظر پڑی تو کتنے ہی پل ساکت سا اس کے خوبصورت چہرے کو دیکھے گیا ہانم بیگم ایک مسکراتی نظر ان دونوں پہ ڈال کر چلی گئ۔

شاہ ایسے کیوں دیکھ رہے تھے چچی جان سامنے تھی۔ ہانم بیگم کہ جانے کے بعد مہرماہ تپتے گالوں کے ساتھ شاہ میر کے پاس آکر اس کے کندھے پہ چپت لگاکر کہا جس پہ شاہ میر ہوش میں آتا مہرماہ کو کمر سے پکڑتا اپنے قریب کرگیا۔

تو آپ کی غلطی ہے نہ کون کہتا ہے اتنا خوبصورت لگے۔ شاہ میر مہرماہ کے گال پہ اپنے ہاتھ کی پشت پھیرتا ہوا بولا۔

شاہ سُدھر جاٶ۔مہرماہ نے گھورنا چاہا پر شاہ میر کی آنکھوں میں چمک دیکھ کر نظریں جھکانے میں مجبور ہوگئ۔

آپ سدھارلیں۔ شاہ میر نے مہرماہ کا چہرہ ٹھوری سے پکڑ کر اوپر کیے کہا۔

چھوڑو مجھے نیچے جانا ہے۔ مہرماہ شاہ میر کا ہاتھ اپنی کمر سے ہٹانا چاہا پر شاہ میر نے دوسرا بازوں بھی مہرماہ کے گرد لپیٹا۔

شاہ پلیز۔ مہرماہ نے منت کی شاہ میر نے کوئی جواب نہیں دیا بس دیوانہ وار مہرماہ کو دیکھتا رہا تھک ہار کر مہرماہ نے اپنے بازوں شاہ میر کے کندھوں پہ حائل کیے شاہ میر کی کشادہ پیشانی پہ بوسہ دیا۔

اب خوش اب اجازت دو کہ میں جاٶں۔ مہرماہ نے اپنا چہرہ شاہ میر کے سامنے کیے کہا جس پہ شاہ میر مسکراتا مہرماہ کے گال پہ شدت بھرا بوسہ دیں کر اس سے الگ ہوا پر مہرماہ کے گال پہ نشان ہوگیا تھا جس سے وہ بے خبر شاہ میر کے چھوڑنے پہ شکر کا سانس لیں رہی تھی

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

تمہیں اگر میر ہی پسند تھا تو مجھے بتادیتی۔ مہرماہ مہندی ہاتھ میں لیے جارہی تھی جب شہیر سامنے آتا ہوا بولا۔

یہ باتیں پُرانی ہوگئ ہے اِس لیے آپ یہ ذکر کرنا چھوڑ دیں۔ مہرماہ نے سنجیدگی سے کہا جب کی نظر آپس پاس کی طرف تھی وہ نہیں چاہتی تھی کسی کی نظر ان دونوں پہ پڑے۔

میر تو یہاں نہیں پھر کس کو تلاش کررہی ہو؟ شہیر نے پوچھا

کسی کو نہیں۔مہرماہ اتنا کہہ کر جانے لگی جب شہیر دوبارہ سامنے آیا جس پہ مہرماہ نے آنکھیں بند کرکے کھول کر جیسے ضبط کیا۔

شہیر بھائی سامنے سے ہٹ جائے۔ مہرماہ نے کہا

یہ تمہارے گال پہ نشان کیسا ہے۔ شہیر اس کی بات نظرانداز کرتا بولا تو مہرماہ ناسمجھی سے اس کی طرف دیکھنے لگی تو شہیر اپنی جیب سے موبائل نکالتا کیمرہ آن کرکے اسکرین مہرماہ کے سامنے کی مہرماہ کی جب نظر اپنے گال پہ پڑی تو اس کا چہرہ خون چھلکانے کی حدتک لال ہوگیا تھا وہ بنا کجھ کہے تیزی سے گزر گئ شہیر کی نظروں نے دور تک اس کا پیچھا کیا تھا۔

پری اپنے لہنگے کو سنبھالتی مہرماہ کو تلاش کررہی تھی جب اس کی نظر سالار پہ پڑی جو نیوی شلوار قمیض ملبوس فون پہ کسی سے بات کرنے میں مصروف تھا۔

سالار بھائی۔پری نے ہاتھ ہلاکر سالار کو آواز دی تو سالار نے پری کو دیکھا جو قندھاری کلر کے لہنگے میں کُھلے بالوں کے ساتھ سچ مچ میں کوئی پری لگ رہی تھی سالار کتنی دیر تک بے مقصد اس کو دیکھتا رہا پر پری کے سامنے ہاٹھ ہلانے پہ وہ چونک اٹھا پر پری نے جب اپنا ہاتھ نیچے کیا تو اس کی کلائیوں میں پہنی چوڑیوں کی آواز کسی ساز کی طرح چاروں طرف گونج اٹھی۔

کیا ہوا آپ کو؟ پری نے پوچھا

کجھ نہیں تمہیں کجھ کہنا تھا کیا؟ سالار نے کہا۔

جی وہ میں پوچھنا چاہ رہی تھی آپ نے مہرو بھابھی کو دیکھا ہے؟ پری نے چہرے پہ آتے بال اپنی نازک ہاتھوں سے پیچھے کرتی ہوئی بولی۔

مہرو کو تو میں نے بہت بار دیکھا ہے۔ سالار پری کے چہرے سے نظر چُراتا ہوا بولا۔

میں ابھی کا پوچھ رہی تھی۔ پری نے کہا

ابھی تو وہ شاید گھر کے اندر ہو۔ سالار نے کہا تو پری سرہلاتی اندر کی طرف جانے لگی سالار اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا اس کو جاتا دیکھتا رہا۔

خیر تو ہے کیوں پاگلوں کی طرح اکیلے اکیلے مسکرارہے ہو۔ شاہ زیب نے سالار کو مسکراتا دیکھا تو اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھتا ہوا بولا

کجھ نہیں بس ایسے ہی۔ سالار نے ٹالا۔

کجھ تو ہے۔ شاہ زیب مشکوک ہوا۔

کجھ نہیں بس کجھ یاد آگیا تو مسکرادیا۔ سالار نے وضاحت کی

ایسا کیا یاد آگیا زرہ مجھے بھی تو پتا چلیں۔ شاہ زیب سینے پہ بازوں باندھ کر پوچھنے لگا

یہی کہ ہنستے رہا کرو ہنسنا صحت کے لیے بہت مفید ہے۔ سالار دانتوں کی نمائش کرتا ہوا بولا تو شاہ زیب نے بائیں آئبرو اوپر کر اس کو دیکھا

دھیان سے کہیں ہنستے ہنستے لگ جائے نہ رستے۔شاہ زیب نے کہا تو سالار کے دانت فورن اندر ہوئے تھے۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

باجی کیا سوچ رہی ہیں؟ہانیہ نے ثانیہ سے پوچھا جو بیڈ پہ چائے کا کپ پکڑے کھوئی ہوئی بیٹھی تھی۔

کجھ نہیں۔ثانیہ نے مسکراکر جواب دیا۔

اچھا تو چپ کیوں ہیں؟ ہانیہ نے دوسرا سوال کیا۔

ایسے ہی بس یاد آرہا تھا کہ کیسے ہم پریشان تھے گھر کے حالت سے ہر مہینے فکر لگی رہتی تھی کہ کب پئسے جمع ہو اور ہم مکان مالک کو دیں۔ ثانیہ نے کہا۔

ہمم بس اللہ کی مہربانی ہے جنہوں نے ساتھ دیا جب ہمیں ان کی ضرورت تھی ورنہ پریشان تو میں بھی ہوجاتی تھی جب پہلی تاریخ کو ان کو کرایہ ادا نہیں ہوتا تھا تو گھر خالی کرنے کی دھمکی دیتے تھے تو۔ ہانیہ نے افسوس کہا

اللہ ہی تو ہے جب کوئی ساتھ نہیں ہوتا تو ہمارے ساتھ کھڑا ہوجاتا ہے پھر وسیلہ چاہے وہ جس کو بھی بنائے۔ثانیہ گہری سانس لیکر بولی

بلکل جیسے ہمارا وسیلہ انہوں نے آپ کے بوس کو بنایا اگر آپ کو اسسٹنٹ کی جاب نہ ملتی تو آج ہم اتنے پرسکون نہ ہوتے۔ ہانیہ نے کہا تو ثانیہ کی آنکھوں کے سامنے شاہ زیب کا مسکراتا عکس لہرایا۔

واقع ان سے مل کر مجھے معلوم ہوا کہ سب لوگ ایک جیسے نہیں ہوتے۔ ثانیہ کھوئے ہوئے انداز میں کہا۔

اچھا اب سوجائے۔ ہانیہ بیڈ پہ لیٹ کر بولی

سوتی ہوں۔ ثانیہ نے کہا اور ہاتھ میں پکڑے ٹھنڈے چائے کے کپ کو دیکھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *