Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Qaid Season 2 (Episode 05)

Ishq Qaid Season 2 by Rimsha Hussain

کیسی ہو؟ مہرماہ حور کے پاس بیٹھ کر بولی

ٹھیک تم کسی ہو؟ حور نے۔ آہستہ آواز میں بتاکر پوچھا۔

میں الحمداللہ۔مہرماہ نے مسکراکر کہا۔

کیا حال ہے بھئ۔ سالار اور شاہ زیب شاہ میر کے دائیں بائیں کھڑے ہوتے ہوئے پوچھنے لگے شاہ میر جو مہرماہ کی مسکراہٹ دیکھ رہا تھا سالار کی آواز پہ چونک اٹھا۔

ٹھیک آپ سنائے۔ شاہ میر سالار کے گلے ملتا ہوا بولا۔

ہم بھی ٹھیک۔ سالار نے جواب دیا پھر شاہ میر شاہ زیب سے ملنے لگا۔

آپ کیسے ہیں۔شاہ میر نے شاہ زیب سے پوچھا تو اس کے کجھ بولنے سے پہلے ہی سالار نے کہا۔

زیب کو مشورہ چاہیے تم سے۔ سالار کی بات پہ شاہ زیب نے اُلجھن زدہ نظروں سے۔ سالار کو دیکھا جس کی آنکھوں میں شرارت ناچ رہی تھی۔

مجھ سے مشورہ وہ بھی شاہ زیب بھائی کو چاہیے۔ شاہ میر حیرانکن لہجے میں بولا۔

ہمم بلکل۔ سالار نے کہا تو شاہ زیب نے اس کو آنکھیں دیکھائی جو جانے کیا بکواس کرنے والا تھا۔

کس بارے میں مشورہ۔ شاہ میر اب پوری طرح سالار کی طرف متوجہ ہوگیا تھا۔

صاحبِ عقلمند ہو تو مشورہ دیجئے

احتیاط سے عشق کرون، یا عشق سے احتیاط

مشورہ آپ کو چاہیے یا انہیں؟سالار شعر پڑھ کر چپ ہوا تو شاہ میر شاہ زیب کی طرف اشارہ کیے بولا جب کی شاہ زیب کا بس نہیں چل رہا تھا سالار کو شوٹ کردیتا جو اس کے راز کو پانچ منٹ بھی اپنے پاس نہیں رکھ پایا تھا۔

تم بس مشورہ دو۔ سالار نے بڑے ادب سے کہا۔

احتیاط سے عشق کریں کیونکہ عشق سے احتیاط نہیں ہوتا یہ تو بس جب ہونا ہوتا ہے ہوجاتا ہے پھر ان کے علاوہ ہر انسان سے اُلجھن ہوتی ہے۔ شاہ میر مہرماہ کی طرف دیکھ کر بولا جو اپنے ہاتھوں میں اب سفید کلر کے گجرے پہن رہی تھی جو بڑے سے تھال میں رکھے ہوئے تھے۔

بات تو بہت اچھی کی تم نے ہو تو سب سے چھوٹے پر کبھی کبھی عقل میں سب کو مات دے جاتے ہو۔ سالار شاہ میر کی بات پہ تالیاں بجاتا ہوا بولا شاہ زیب بس شاہ میر کو دیکھ رہا تھا جس کی بلو آنکھیں چمک رہی تھی شاہ زیب کو یہ چمک عجیب لگتی تھی جو بس مہرماہ کی موجودگی میں ہی شاہ میر کی آنکھوں میں ہوتی تھی یا پھر جب مہرماہ کا ذکر ہوتا۔

عقل کا تعلق عمر سے نہیں سوچ اور دماغ سے ہوتا ہے۔ شاہ میر سالار کے کندھے پہ ہاتھ رکھتا بول کر مہرماہ کے پاس جانے لگا شاہ میر کی بات سالار کو سمجھ نہیں آئی پر شاہ زیب نے بڑی مشکل سے امڈنے آنے۔ والے قہقہہ کا گلا گھونٹا تھا۔

یہ میر کیا کہہ گیا مطلب کیا تھا اِس بات کا؟ سالار نے شاہ زیب سے پوچھا۔

کجھ نہیں،شاہ زیب نے ٹالا۔

ویسے سالار جو میر ہے یہ بے عزتی بہت عزت سے کرجاتا ہے۔ شاہ زیب کجھ دیر خاموش ہونے کے بعد کہتا نو دو گیارہ ہوگیا سالار کو پہلے سمجھ نہیں آیا مگر جب آیا تو اس نے گھور کر شاہ میر کو دیکھا جو مہرماہ سے کوئی بات کررہا تھا۔

یہ کل کا بچہ مجھے کم عقل کہہ گیا تھا۔ سالار خود سے بڑبڑاتا وہاں سے نکلتا دوسری سمت جانے لگا۔

آآآہ۔ سالار جو خود سے بڑبڑاتا جانے لگا تھا سامنے سے آتی پری کو نہیں دیکھ پایا جس سے پری جو ہاتھوں میں پھولوں کا تھال لیے جارہی تھی سالار سے ٹکڑ لگنے کی وجہ سے وہ دھڑام گِرنے والی تھی پر سالار نے اس کو تو گِرنے سے بچایا پر پھولوں کو نہیں جو اب نیچے گِرکر اپنی حالت پہ افسوس کررہے تھے۔

تم تھیک ہوں؟سالار پری کی اتنی چیخ پہ پوچھنے لگا۔

جی سالار بھائی میں ٹھیک ہوں پر آپ نے پھولوں کا ہاتھ گرادیا۔ پری نے پریشانی سے کہا۔

سوری میرا دھیان نہیں تھا۔ سالار نیچے بیٹھ کر پری سے بولا اور ساتھ ہی تھال میں پھول ڈالنے لگا۔

میرا بھی پورا دھیان اِن پھولوں کو دیکھنے میں تھا۔ پری بھی نیچے بیٹھ کر سالار سے بولی۔

اِس لیے تو ٹکر ہوگئ۔ سالار نے مسکراکر کہا۔

شکریہ۔ پری نے سالار کے ہاتھوں سے تھال لیکر کہا جس میں اب سالار نے ترتیب سے پھول رکھے ہوئے تھے۔

شکریہ کی کیا بات سالار اٹھتا ہوا بولا تو پری مسکراکر سرہلاتی پاس سے گزر گئ۔

ماہ اب ہمیں گھر چلنا چاہیے۔ کافی دیر بیٹھنے کے بعد شاہ میر نے مہرماہ سے کہا

کیا ہوگیا ہے شاہ ہمیں رات تک یہی رہنا ہے۔ مہرماہ نے بتایا۔

شام تو ہوگئ ہے۔ شاہ میر ہاتھ میں بندھی گھڑی پہ وقت دیکھتا ہوا بولا۔

میر کیا بات ہے جلدی کیوں مچارہے ہو تمہاری کزن کی رسم کا فنکشن ہے چپ چاپ بیٹھے رہو ایسے بچوں کی طرح ضد نہیں کرو۔ مہرماہ کے بجائے اِس بار ہانم بیگم شاہ میر کو آنکھیں دیکھاتی ہوئی بولی جس سے شاہ میر کو ناچاتے ہوئے بھی چُپ ہونا پڑا۔

کھانا لگ گیا ہے چلیں۔ کجھ دیر بعد آیان ان کے پاس آتا ہوا بتانے لگا۔

کھانا تو ہم نے گھر پہ کھانا تھا۔ شاہ میر نے کہا تو مہرماہ کا دل کیا اپنا ماتھا پیٹ لیں۔

شاہ ہم ہی نہیں سب مہمان یہاں کھانا کھائیں گے۔ مہرماہ نے شاہ میر کا ہاتھ پکڑتے ہوئے سب کی طرف اشارہ کیے بتانے لگی جو سب اب ٹیبل پہ بیٹھے کھانے سے لطف اندروز ہورہے تھے۔

میر اگر تم ان کمفرٹیبل ہو تو اندر کھانا کھاسکتے ہو۔ نادیہ بیگم جو حور کو اپنے کمرے میں چھوڑنے کے لیے آرہی تھی شاہ میر کو اِس طرح ری ایکٹ کرتا دیکھا تو نرمی سے کہا جب کی ہانم بیگم خوامخواہ شرمندہ ہوگئ تھی۔

نہیں پھپھو میں یہاں کھالوں بس ماہ سے ایسے ہی پوچھا۔ شاہ میر نے سہولت سے انکار کیا ورنہ دل تو یہی چاہ تھا اُس کا مہرماہ کے ساتھ اکیلے کھانا کھانے کا نادیہ بیگم شاہ میر کی بات پہ مسکرائی اور حور کو لیکر چلی گئ جب کی مہرماہ شاہ میر کو لیکر پاس پڑی میز کی طرف آئی جس کا اطراف کرسیوں کی قطار تھی جہاں ہانم بیگم سارہ بیگم حمیرا بیگم شاہ زیب سالار پری آیان بیٹھے ہوئے تھے۔ مہرماہ وہاں سے کے پاس آکر بیٹھی تو شاہ میر بھی اس کے برابر والی کرسی گھسیٹ کر بیٹھا مہرماہ کو بیٹھتے دیکھ حمیرا کا منہ بن گیا تھا جس کا نوٹس بس شاہ زیب نے لیا تھا۔

نہاری کھاٶ کراچی کی فیمس ڈس میں اِس کا شمار ہوتا ہے۔ مہرماہ پہلے شاہ میر کی پلیٹ میں کھانا سرو کرتی ہوئی بولی۔

اوکے۔ شاہ میر نے مسکراکر کہا مہرماہ شاہ میر کو کھانا سرو کرتی اپنے کھانے کی طرف متوجہ ہوئی جب شہیر ان کے پاس آیا۔

اسلام علیکم۔ شہیر مہرماہ کے سامنے والی کرسی پہ بیٹھ کر سب کو سلام کیا جس کا جواب سب نے دیا تھا سوائے شاہ میر کے اُس کا موڈ پل بھر میں خراب ہوگیا تھا شہیر کو دیکھ کر دوسرا اس کو مہرماہ کے سامنے والی کرسی پہ بیٹھا دیکھ کر تو اس کے تن بدن میں آگ لگ گئ تھی۔

شاہ ٹھیک سے کھانے پہ دھیان دو بس صبح ناشتہ ہی کیا تھا تم نے۔ مہرماہ شاہ میر کو کھانے کی پلیٹ کو بس گھورتا پایا تو ڈانٹ کر کہا جس پہ سب کھانے کھاتے ہوئے مسکرادیئے تھے اس کی شاہ میر کے لیے فکر دیکھ کر۔

رائس پاس کیجئے گا مجھے۔شاہ میر نے بس اتنا کہا مہرماہ شاہ میر کی بات سنتی بریانی کی پلیٹ اٹھانے ہی والی تھی جب شاہ میر اچانک سے اس کا بڑھتا ہوا ہاتھ پکڑ لیا کیونکہ شہیر نے بس بریانی کی طرف ہاتھ بڑھایا تھا ایسے میں اگر مہرماہ کا اور شہیر کا ہاتھ ایک دوسرے سے مس ہوسکتا تھا پر شاہ میر فورن سے مہرماہ کے ہاتھ کو اپنی گرفت میں لے چُکا تھا۔

شاہ؟ سب کے سامنے شاہ میر کی یہ حرکت مہرماہ کو پسند نہیں آئی شاہ میر نے مہرماہ کے چہرے پہ ناپسندیدگی کے تاثرات دیکھے تو اس کا ہاتھ چھوڑ دیا پھر بنا کجھ کہے وہاں سے اٹھ گیا سب نے پریشانی سے اس کو جاتا دیکھا۔

میر کو کیا ہوگیا؟ ہانم بیگم شاہ میر کو بیچ کھانے پہ اٹھتا دیکھا تو مہرماہ سے پوچھا جو خود حیرت میں تھی جب کے سالار سمجھ گیس تھا شاہ میر کو پھر جیلسی کا دورہ پڑا ہے

پتا نہیں چچی جان میں جاکر دیکھتی ہوں۔ مہرماہ کہہ کر جانے لگی پر ہانم بیگم نے روک دیا۔

جانے دو کھانا تم پورا کرو اپنا ایسے کھانے کو بیچ میں نہیں چھوڑا کرتے۔ ان کی بات پہ مہرماہ بیٹھ گئ پر کھانے پہ اس کا دل اچاٹ ہوگیا تھا۔

شروع شروع کے چونچلے ہیں بس ورنہ مرد کب تک خود سے چار سال بڑی بیوی کو برداشت کریں گا۔ حمیرا بیگم کو مہرماہ کو شاہ میر کے ساتھ مطمئن دیکھ کر اچھا نہیں لگا تو زہر اُگلا جس پہ مہرماہ کے دل میں پھانس چبی تھی اس نے بنا کجھ کہے پانی کا گلاس اٹھاکر پینے لگی۔

آپ کو بتانے کی ضرورت نہیں آپ اپنے کھانے پہ دھیان دیں ناکہ ہماری پرسنل لائیف پہ۔ شاہ میر جو اپنا موبائل ٹیبل پہ بھول گیا تھا وہ لینے کے لیے آیا تھا جب اس کے کانوں پہ حمیرا بیگم کی آواز پڑی تو سخت انداز میں بولا۔

میر میری ماں سے تھمیز سے بات کرو۔ شہیر ناگوار لہجے میں بولا۔

آپ یہ بات اپنی ماں کو بھی سمجھادیں میری بیوی سے تھمیز سے بات کریں یا کریں ہی نہ۔ شاہ میر مہرماہ کا ہاتھ پکڑتا اس کو اپنے برابر کھڑا کیے شہیر سے زیادہ ناگوار لہجے میں بولا سب بس ان کو دیکھتے رہ گئے۔

شاہ چپ کرو۔ مہرماہ نے شاہ میر سے کہا جس پہ شاہ میر نے اس کو جس طرح دیکھا مہرماہ اپنا سرجھکانے پہ مجبور ہوگئ۔

تو غلط کیا کہا میں نے جو آگ لگ گئ ہے تمہیں۔ حمیرا بیگم باز نہیں آئی۔

لاکھ پڑھ لکھ لیں آپ حرکتیں اور عادات تو جاہلوں کی طرح ہی ہیں۔شاہ میر نے افسوس کرنے والے انداز میں کہتے مہرماہ کو اپنے سے ساتھ لیکر باہر جانے والے رستے کی طرف جانا لگا مہرماہ بنا کجھ کہے اس کے ہمقدم ہوئی باقی سے تعجب سے ان کو جاتا دیکھ رہے تھے۔

لنڈن میں یہ تربیت کی تھی تم نے؟ حمیرا بیگم نے اب ہانم بیگم کو نشان بنایا۔

حمیرا پلیز یہ جاہل عورتوں کی طرح طعنے بازی کرنا بند کرو۔ہانم بیگم ہاتھ کھڑا کیے کہتی وہاں سے اٹھ کھڑی ہوئی ان کو اٹھتا دیکھ کر پری اور آیان بھی اٹھ کھڑے ہوئے۔

میری بیٹی بہت خوش تھی اس کو مایوس کرکے تم نے اچھا نہیں کیا۔ سارہ بیگم ہانم بیگم کے جانے کے بعد حمیرا بیگم سے کہا۔

آپ لوگوں نے تو جیسے بہت اچھا کیا تھا۔ حمیرا بیگم طنزیہ بولی۔

قسمت میں ایسے ہی لکھا ہوا تھا اِس لیے آپ پُرانی باتیں دل پہ لیکر نہ بیٹھے کیونکہ اِس میں نقصان آپ کا ہی ہوگا دوسروں کا کجھ نہیں ہوگا۔ شاہ زیب اپنے ہاتھ صاف کرتا حمیرا بیگم سے بول کر کھڑا ہوا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

تمہارا رویہ بہت بُرا تھا آج۔ وہ دونوں گھر آگئے تو مہرماہ نے شاہ میر سے کہا جو ابھی کپڑے چینج کیے واشروم سے نکلا تھا۔

آپ کو کوئی بھی کجھ کہے جو غلط ہوگا تو میرا رویہ ایسا ہی ہوگا چاہے پھر سامنے جو بھی ہو۔ شاہ میر تیز آواز میں بولا اور ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ شاہ میر مہرماہ کے سامنے سخت ہوا تھا۔

خود پہ کنٹرول کرنا سیکھو شاہ اب یہ طعنے تو مجھے ملتے رہے گیں تم کب تک لوگوں سے تلخ ہوتے رہوگے۔ مہرماہ نے اس کو سمجھانا چاہا۔

نہیں ہوتا مجھے کنٹرول اور رہی بات کب تک تو سنے جب تک لوگ فضول بکواس کرتے رہے گیں میں ان کا منہ بند کرسکتا ہوں اتنی ہمت تو ہے مجھ میں۔شاہ میر مہرماہ کو بازوں سے پکڑتا شدت بھرے لہجے میں گویا ہوا جس پہ مہرماہ کو اس بس دیکھتی رہ گئ۔

میں کھانا لاتی ہوں تمہارے لیے۔ مہرماہ نے بات بدلنے میں بہتری جانی۔

بھوک نہیں مجھے۔شاہ میر مہرماہ سے الگ ہوتا بیڈ کی جانب آتا بولا۔

بھوکے پیٹ سویا نہیں کرتے۔ مہرماہ نے بتانا ضروری سمجھا۔

آج جو ہوا اس سے میرا پیٹ بھرا ہوا ہے۔ شاہ میر شہیر کو سوچتا جل کے بولا۔

کیا مطلب اِس بات کا؟ مہرماہ کو سمجھ نہیں آیا۔

کجھ نہیں لائیٹ آف کردیں کل مجھے یونی جلدی جانا ہے۔ شاہ میر آنکھوں پہ بازوں ٹکاتا ہوا بولا مہرماہ بنا کجھ کہے لائیٹ آف کرتی بیڈ کی دوسری طرف آکر خود بھی سونے کے لیے لیٹ گئ۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

کل جس طرح میر نے مہرو کو ڈیفینڈ کیا سچی میرا دل خوش ہوگیا پہلے جو ایک خلش تھی یہ سوچ کرکہ ہم نے مہرو کی شادی چھوٹے سے لڑکے سے کرواکر زیادتی تو نہیں کردی پر کل سے وہ خلش ختم ہوگئ۔صبح ناشتے کی ٹیبل پہ سارہ بیگم پرسکون سی مسکراہٹ کہ ساتھ بولی۔

اچھا شوہر وہی ہوتا ہے جو بیوی کے لیے آواز اٹھائے اور اس کا سر کبھی جھکنے نہیں دیں مگر میر کو بدتمیزی نہیں کرنی چاہیے تھی حمیرا بہن سے۔ سکندر خان نے کہا۔

بابا جان وہ باتیں ہی ایسے کررہی تھی کہ آپ ہوتے تو آپ کو بھی غصہ آجاتا میر کی تو بات ہی الگ ہے وہ کہاں برداشت کرتا ہے مہرو کے بارے میں کجھ اس کو مذاق میں اگر میں ہی کجھ کہہ دوں تو دو دنوں تک تو مجھے گھور کر دیکھتا ہے۔ شاہ زیب بریڈ میں جیم لگاتا ہلکے پھلکے لہجے میں بولا

یہ تو ہے۔سارہ بیگم شاہ زیب کی بات پہ متفق ہوتی ہوئی بولی۔

اچھا امی جان بابا جان میں چلتا ہوں آفس جانے کے لیے۔ شاہ زیب ناشتے سے فارغ ہوتا چیئر سے اپنا کوٹ اٹھاتا ہوا بولا۔

ٹھیک ہے خدا حافظ۔سکندر خان اور سارہ بیگم ایک ساتھ بولیں۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

کھڑکی سے آتی سورج کی روشنی کی وجہ سے مہرماہ کی آنکھ کُھلی اس نے کسمساکر آنکھیں کھولی تو خود کو بیڈ پہ اکیلا پایا۔

شاہ کدھر گیا؟ مہرماہ حیرت سے خود سے سوال کرنے لگی شادی کے بعد ایسا پہلی بار ہوا تھا جب وہ صبح اٹھی ہو اور بیڈ پہ شاہ میر سویا ہوا نہ ہو مہرماہ نے لحاف خود سے ہٹاکر کر بیڈ سے اٹھی اور واشروم کے دروازے کی طرف آئی۔

شاہ تم اندر ہو؟ مہرماہ نے واشروم کا دروازے نوک کرکے پوچھا پر واشروم کے درواز کو ہاتھ لگتے ہی وہ چرر کی آواز سے کھل گیا

شاید جاگنگ پہ گیا ہو۔ مہرماہ اندازہ لگاتی فریش ہونے کے لیے واشروم میں چلی گئ۔

دس منٹ بعد واشروم سے باہر آئی تب بھی شاہ میر کمرے میں نہیں تھا تو اس نے بالوں سے تولیہ نکال کر ڈوپٹہ سر پہ اوڑھا پھر کمرے سے باہر نکل کر سیڑھیوں کے پاس آکر ریکنگ پہ ہاتھ رکھ کر تھوڑا سا جھک کر نیچے ہال کی طرد نظر گھمائی جہاں سب تھے پر شاہ میر نہیں تھا مہرماہ یہ دیکھ کر اپنے کب کچلے پھر کمرے میں آکر فون اٹھا کر شاہ میر کا نمبر ڈائل کیا۔

شاہ کدھر ہوتم؟ شاہ میر نے جیسے ہی کال اٹھائی مہرماہ نے سوال داغا۔

میں یونیورسٹی میں ہوں ضروری کلاس تھی میری۔ شاہ میر نے سامنے گراؤنڈ کی جانب دیکھ کر کہا جہاں اکا دکا ہی اسٹوڈنٹ آئے ہوئے تھے۔

تو مجھے جگادیتے میں ناشتہ بنادیتی تمہارے لیے۔ مہرماہ شاہ میر کی بات سن کر بولی

آپ سوئی ہوئی تھی میں نے اپنی خاطر آپ کو جگانا مناسب نہیں سمجھا۔شاہ میر نے سنجیدہ سے کہا۔

یہ کیا بات ہوئی۔مہرماہ کو شاہ میر کی بات عجیب لگی۔

میں بعد میں بات کرتا ہوں ابھی کلاس کا ٹائم ہوگیا ہے۔ شاہ میر نے کہا۔

ٹھیک ہے کاٹو پھر کال۔ مہرماہ نے کہا۔

میں کیوں کاٹو آپ کٹ کریں کال۔ شاہ میر نے جواب دیا۔

کلاس تمہاری ہے بات تمہیں نہیں کرنی تو تم کال کاٹو نہ میں کیوں کروں بند کال۔ مہرماہ نے آرام سے کہا۔

کال آپ نے کی تھی تو بند بھی آپ کریں میں کیوں کروں۔شاہ میر خفگی سے بولا۔

کیونکہ مجھے تو بات کرنی ہے تم سے۔ مہرماہ نے وجہ بتائی

گھر آکر بات ہوگی۔ شاہ میر نے کہا

اوکے۔مہرماہ نے بس اتنا کہا۔

جی کاٹیں اب کال مجھے اپنے ڈپارٹمنٹ کی جانب جانا ہے۔ شاہ میر نے پھر کہا۔

تو میں نے کونسا روک رکھا ہے ویسے بھی میری کال کاٹنے سے تمہارے ڈپارٹمنٹ جانے کا کیا تعلق۔مہرماہ نے مسکراہٹ ضبط کرتے ہوئے کہا۔

مجھے تنگ کرنا بند کریں۔شاہ میر نے گہری سانس بھر کر کہا۔

تم تنگ ہونا بند کرو۔ مہرماہ نے بھی ویسے ہی کہا۔

ماہ۔ شاہ میر اتنا کہہ چپ ہوا۔

شاہ۔ مہرماہ نے پیار سے اس کا نام لیا۔

آپ نہیں کریں گی بند کال؟شاہ میر نے سنجیدگی سے پوچھا۔

نہیں تمہارے کیا مسئلہ ہے کال کاٹنے میں۔مہرماہ نے پوچھا

آپ جانتی ہیں میں آپ کی کال نہیں کاٹتا یہ کام آپ ہی کرتی ہیں۔شاہ میر نے ناراض لہجے میں کہا۔

تو اِس بار میں بھی نہیں کررہی بند۔ مہرماہ اٹل لہجے میں گویا ہوئی۔

ٹھیک ہے پھر لگی رہیں آپ کال پہ میں تو اپنے ڈپارٹمنٹ جارہا ہوں۔ شاہ میر اتنا کہہ کر ایسے ہی موبائل کو اپنی جیپ میں رکھ دیا کال کاٹے بغیر۔

اگر تمہارے ضد ہے تو میری بھی ضد میں بھی کال نہیں کاٹوں گی۔ پانچ منٹ تک شاہ میر کی کوئی آواز نہیں آئی پر کال چلتی ہوئی دیکھی تو مہرماہ خود سے بڑبڑاتی فون کو بیڈ پہ رکھ دیا کال اس نے بھی نہیں کاٹی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

مس ثانیہ افتخار میرے کیبن میں آئے۔ شاہ زیب نے انٹرکام پہ ثانیہ سے کہہ کر کال کٹ کی۔

سر می آئ کمن؟ ثانیہ کیبن کا دروازہ نوک کرتی ہوئی بولی۔

یس کمن۔ شاہ زیب نے سنجیدگی سے کہا تو ثانیہ اندر آئی۔

میں نے آپ کو ایک پریزیٹیشن تیار کرنے کو کہا تھا اس کا کیا بنا؟شاہ زیب نے بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے سوال کیا۔

سر میں نے اس کی پروپرلی تیاری کرلی ہے۔ ثانیہ نے بتایا۔

ہمم گڈ آپ کو کانفڈنٹ کے ساتھ کانفرنس روم میں پریزیٹیشن دینی ہے بنا کسی پہ دھیان دیئے اور ہچکچائے کیونکہ ہمارے لیے اِس پراجیکٹ کا ملنا بہت ضروری ہے۔ شاہ زیب نے اس کو ہاتھوں کو دیکھ کر کہا جن کو وہ ثانیہ آپس میں مڑور رہی تھی ثانیہ کی حرکت پہ شاہ زیب سمجھ گیا تھا کہ وہ کنفیوز ہے اِس لیے اس کو سمجھانے کی خاطر کہا۔

جی سر میں سب سہی کرلوں گی۔ ثانیہ نے کہا۔

آپ ایک بار میرے سامنے پریزیٹیشن دیں تاکہ اگر کوئی غلطی ہو تو میں آپ کو بتادوں کیونکہ کانفرنس روم میں غلطی کی گنجائش نہیں ہوتی۔ شاہ زیب نے کہا تو ثانیہ کو حیرت کا جھٹکا لگا۔

جی۔ ثانیہ حیرت سے بولی۔

کوئی پروبلم؟شاہ زیب نے آئبرو اُوپر کر پوچھا تو ثانیہ نے جھٹ سے سر نفی میں ہلایا جس پہ شاہ زیب مسکرایا شاہ زیب کو مسکراتا دیکھ کر ثانیہ نے اپنی نظریں جھکادی تھی شاہ زیب کی ایک بیٹ مس ہوئی تھی ثانیہ کی اِس حرکت پہ

آئے پھر۔ شاہ زیب اپنی جگہ سے اٹھتا ہوا بولا۔

کہاں؟ ثانیہ نے پوچھا۔

میٹنگ چار بجے ہے ابھی تین گھنٹے ہیں اِس لیے آپ میرے ساتھ کانفرنس روم میں چل کر پریزیٹیشن دیں گی تاکہ آپ کا اعتماد بحال ہو پھر جب آپ دوبارہ وہاں دیں گی تو آپ کو ڈر نہیں لگے گا آپ کو بس یہی لگے گا کہ وہاں بس آپ خود ہے یا بس میں ہوں جو آپ کو پریزیٹیشن کرتا دیکھ رہا ہے۔شاہ زیب نے بتایا۔ پھر دونوں کیبن سے باہر نکلے تو سالار ان کے سامنے آگیا جو شاہ زیب کے پاس ہی آرہا تھا۔

کہاں کی سواری ہے؟ سالار ایک نظر چادر میں چھپی ثانیہ کو دیکھ کر شاہ زیب سے بولا۔

مس ثانیہ افتخار آپ جائے میں آتا ہوں۔ شاہ زیب نے ثانیہ سے کہا تو ثانیہ سر کو جنبش دیتی وہاں سے چلی گئ اس کے جانے بعد شاہ زیب نے سالار کو ساری بات بتائی۔

واقع میں تمہیں پراجیکٹ حاصل کرنے کے لیے کررہے ہو یا اُس کو پُراعتماد بنانا چاہتے ہو؟ شاہ زیب کی ساری بات سن کر سالار نے شرارتی نظروں سے اس کی جانب دیکھ کر کہا۔

دونوں۔ شاہ زیب نے کان کی لو کو کھجاکر بتایا۔

ایک وجہ ہے اور وہ ہے کہ تم اُس لڑکی کے اندر کانفڈنٹ پیدا کرنا چاہتے ہو اگر پروجیکٹ کا ملنا تمہارے لیے ضروری ہوتا تو تمہیں پریزٹیشن تیار کرنا کا اس کو نہ کہتے اور نہ ہی اتنے لوگوں کے درمیان اپنے اس کو امپلوئے کو کھڑا کرتے جس کو آئے ایک مہینہ بھی نہیں ہوا بلکہ اپنے مینجر سے کہتے جو پہلے بھی بہت سی میٹینگز میں تمہارے ساتھ ہوا کرتا تھا۔ سالار نے کہا تو شاہ زیب بس اس کو دیکھتا رہ گیا جس نے پوری کہانی خود بنالی تھی۔

پراجیکٹ بھی میرے لیے ضروری ہے میں نے بہت وقت سے اس کو حاصل کرنے کے لیے جتن کیے ہے پہلے یہ سب کام مینجر محمود کرتا تھا پر بہت سارے اور کام بھی ہوتے ہیں جس کے لیے میں نے پرسنل اسسٹنٹ کو بھی ہائیر کردیا اپنے لیے۔ شاہ زیب نے کہا تو سالار نے سرہلانے پہ اکتفا کیا شاہ زیب نے اس کو دیکھا پر اپنے قدم کانفرنس روم کی طرف بڑھائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *