Ishq Qaid Season 2 by Rimsha Hussain NovelR50563 Ishq Qaid Season 2 (Episode 10)
Rate this Novel
Ishq Qaid Season 2 (Episode 10)
Ishq Qaid Season 2 by Rimsha Hussain
آج بارات کا دن تھا جس وجہ سے ہانم بیگم پریشانی سے یہاں وہاں چکر لگاتی ملازموں کو ہدایت کررہی تھی کیونکہ بارات کی تقریب اب ان کے گھر میں منعقد کی گئ تھی جس وجہ سے ڈیکوریشن کا کام بھی وہ دیکھ رہی تھی مہرماہ اپنے کمرے میں تھی شاہ میر لان میں لائٹس وغیرہ کا کام دیکھ رہا تھا جب کی آیان کرسیاں سیٹ کروارہا تھا حیدر خان بھی اپنی بڑی اور اکلوتی بیٹی کی شادی پہ سارے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں رہے تھے یہ پھول اِس سائیڈ پہ لگانے ہیں آپ نے۔ شاہ میر نے کام کرتے آدمیوں سے کہتا جیب سے اپنا موبائل نکالا اور مہرماہ کا نمبر پریس کیا۔
ہیلو ماہ آپ کمرے میں ہی ہیں نہ کجھ چاہیے تو بتادے۔ مہرماہ کے کال اٹھاتے ہی شاہ میر نے کہا۔
یہ ٹوکرہ اندر لے جانا ہے۔ شاہ میر جو مہرماہ کی بات سننے والا تھا ایک لڑکے کو مٹھائی کا ٹوکرا دیکھا تو جھنجھلاکر کہا دوسری طرف مہرماہ کے چہرے پہ مسکراہٹ آگئ تھی۔
میں کمرے میں ہی ہوں اور جو تم نے میری جاسوسی کے لیے بیٹھا ہے اس کی کڑی نظریں مجھ پہ ہی ہیں۔مہرماہ نے منہ بسورکر کہا تو مسکراہٹ شاہ میر کے چہرے پہ آگئ کیونکہ اس نے صبح سے ثانیہ کی بہن ہانیہ کو سائے کی طرح مہرماہ کے ساتھ رہنے کا حکم دیا تھا جو ہانیہ نے خوشدلی سے قبول بھی کیا تھا جس پہ شاہ میر نے اس کو ڈھیر سارے چاکلیٹس اور چپس دی تھی۔
اچھی بات ہے میں بھی آتا ہوں بس تھوڑا کام ختم ہوجائے۔شاہ میر نے کہا۔
ٹھیک ہے کام پہ دھیان دو۔ مہرماہ نے کہا پھر کال بند کی پتا جو تھا شاہ میر نے کرنی نہیں تھی بند۔
باجی مہرو یہ کھائیں۔ہانیہ نے ڈرائے فروٹ کی پلیٹ مہرماہ کے سامنے کی۔
کھا کھا کر بھینس تو ہوگئ ہوں اب کیا ہاتھی بن جاٶ۔مہرماہ منہ بناکر بولی۔
بھینس توبہ کریں اتنی پیاری ڈول ہیں آپ۔ ہانیہ مہرماہ کے سرخ بھرے گال کھینچ کر بولی۔
دل رکھنے کی باتیں ہیں۔مہرماہ نے شاعرانہ انداز میں کہا تو ہانیہ ہنس پڑی پر فروٹ کھلانے سے باز نہیں شاہ میر کا جو حکم تھا۔






بارات کے بعد سب اپنے کمرے میں سونے کے لیے چلے گئے تھے شاہ میر بھی مہرماہ کو اپنے کمرے میں لاکر کھانا کھلانے کے بعد دوائی دیکر سونے کا کہتا خود اپنے یونی کا کام کرنے لگا جو بہت رہ گیا تھا پر ابھی مہرماہ کو اپنی طبیعت خراب ہوتی محسوس ہورہی تھی ایک بے چینی سی تھی جو اس کو بے سکون کررہی تھی مہرماہ نے شاہ میر کو دیکھا جو اسٹڈی کے پاس بیٹھا پڑھنے میں محو تھا اس نے کپڑے بھی نہیں بدلے تھے بارات والے ڈریس میں تھا۔
شاہ۔ مہرماہ کو تکلیف بڑھتی ہوئی لگی تو اس نے شاہ میر کو آواز دی تو وہ فورن مہرماہ کے پاس آیا۔
ماہ آپ ٹھیک ہیں۔ شاہ میر کے چہرے کی ہوائیاں اُڑنے لگی مہرماہ کا فق ہوتا چہرہ دیکھ کر۔
پ پین ہو ہور ہورہا ہے۔ مہرماہ پیٹ پہ ہاتھ رکھتی کراہ کے بولی۔
ہم ابھی ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں۔شاہ میر جلدی سے وارڈوب سے مہرماہ کی شال نکال کر اس کو پہناکر بولا جب کی مہرماہ درد سے دوہری ہوگئ تھی۔
چچی جان کو بلاٶ۔مہرماہ نے شاہ میر کے پہنے کُرتے کو مٹھیوں میں جکڑ کر کہا۔
بلاتا ہوں ابھی آپ چلیں۔ شاہ میر مہرماہ کو بانہوں اٹھاتا ہوا بولا اس کا دماغ کام کرنا بند ہوگیا تھا مہرماہ کو تکلیف میں دیکھ کر اس کا بس نہیں چل رہا تھا وہ مہرماہ کی ساری تکلیف اپنے حصے میں ڈالتا۔شاہ میر مہرماہ کو گاڑی کی بیک سیٹ پہ آرام سے لیٹاتا حیدر خان کے نمبر پہ ایک میسج چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ پہ آکر گاڑی کا ہارن زور سے بجاکر باہر کھڑے چوکیدار کو گیٹ کُھولنے کا کہا گیٹ کے کُھلتے ہی شاہ میر گاڑی زن سے بھگاگیا۔
اللہ خیر یہ میر کی گاڑی کے ہارن کی آواز تھی نہ۔ ہانم بیگم جو لیٹنے والی تھی ہارن کی آواز سن کر بولی حیدر خان جو شاہ میر کا میسج پڑھ رہے تھے جلدی سے اٹھ کھڑے ہوئے۔
ہوسپٹل کے لیے نکلنا ہے مہرو کی طبیعت بگڑ گئ ہے۔ حیدر خان پریشانی سے بولے۔
ٙتو میر اکیلا اس کو لیکر چلاگیا بیوقوفی کی حد ہے۔ ہانم بیگم اٹھتی ہوئی بولی
باتیں کرنے کا وقت نہیں جلدی چلیں۔ حیدر خان نے کہا اور دونوں ہوسپٹل کے لیے نکل گئے میسج پہ شاہ میر نے بتادیا تھا کہ وہ مہرماہ کو پاس والے ہوسپٹل لے جارہا ہے۔







ثانیہ شاہ زیب کے کمرے میں بیٹھی کمرے کا جائزہ لیں رہی تھی جو بہت خوبصورت اور عمدہ طریقے سے سیٹ کیا گیا تھا کمرے کا تھیم بلیو کلر کا تھا جہائزی سائیز بیڈ صوفے ڈرینسگ ٹیبل اسٹڈی اور کتابوں کا ریک بھی بلیو تھیم کا تھا ثانیہ ابھی یہ سب دیکھنے میں مگن تھی جب دروازہ کھلنے کی آواز میں اس کا حلق تک خشک ہوگیا تھا اتنا وقت شاہ زیب کے آفس میں کام کرتے وقت وہ شاہ زیب کے پرفیوم کی خوشبو سے آشنا ہو ہی گئ تھی شاہ زیب چلتا ہوا ثانیہ کے پاس بیٹھ گیا جو سکڑ سمیٹ گئ تھی شاہ زیب مسکراتا ثانیہ کو دیکھنے لگا جو لائٹ ریڈ کلر کے لہنگے میں مناسب میک اپ کے ساتھ معمول سے ہٹ کر حد سے زیادہ خوبصورت لگ رہی تھی شاہ زیب پہلی دفع ثانیہ کو اتنا تیار دیکھا تھا ورنہ تو وہ ہمیشہ سادہ سے حلیے میں بھی اس کا دل دھڑکا دیتی تھی مگر آج وہ فل تیار ہوکر اس کی سیج سجاکر بیٹھی تھی شاہ زیب نے ثانیہ کا ٹھنڈا پڑتا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا اور اس کو سہلانے لگا ثانیہ شاہ زیب کی حرکت پہ جزبز ہوگئ تھی
کیسی ہو؟ شاہ زیب نے پوچھا جس پہ ثانیہ کو حیرت ہوئی مگر وہ قابو پاگئ۔
ٹ ٹھیک۔ ثانیہ نے جواب دیا
مجھ سے نہیں پوچھو گی؟ شاہ زیب نے مسکراکر کہا۔
آپ کیسے ہیں؟ ثانیہ نے فورن سے پوچھا تو شاہ زیب کی ہنسی نکل گئ ثانیہ خجل ہوتی اپنا جھکا سر مزید جھکادیا۔
میں تو بہت خوش ہوں کیونکہ مجھے تم جو ملی ہو۔ شاہ زیب اس کے ہاتھ کی پشت پہ اپنا لمس چھوڑ کر بولا ثانیہ کا دل زور سے دھڑکا اٹھا شاہ زیب کا پہلا لمس محسوس کرکے اس کے وجود کانپ اٹھا تھا۔
کیا آپ کو مجھ سے محبت ہے؟ ثانیہ نے جاننا چاہا کیونکہ شاہ زیب نے اظہار محبت نہیں کیا تھا اور عام لڑکیوں کی طرح اس کے دل نے بھی خواہش کی تھی کے اس کا ہمسفر اس سے اظہارِ محبت کریں۔
نکاح کے بعد پوچھنے کی گنجائش تو نہیں پر اگر تم اظہار چاہتی ہو تو ہاں مجھے بہت محبت ہے تم سے جب میں نے پہلی دفع تمہیں اپنے کیبن میں دیکھا تھا تب سے ہی میرے دل کو بھا گئ تھی پر میں نے یہ بات ماننے میں وقت لگایا تھا۔ شاہ زیب نے مسکراکر اس کے کانوں میں رس گھولا جس پہ ثانیہ کے چہرے پہ شرمگین مسکراہٹ آگئ تھی شاہ زیب نے دلچسپی سے اس کے چہرے پہ اپنے نام کے رنگ دیکھے تھے۔










کیسی ہے مہرو؟حیدر خان ہانم بیگم ہوسپٹل داخل ہوئے تو شاہ میر سے پوچھنے لگے جو سرخ آنکھوں اور بکھرے حلیے سمیت روم کے باہر چکر لگا رہا تھا جہاں مہرماہ کو اسٹریچر پہ لیں گئے تھے شاہ میر کی آنکھوں کے سامنے بار بار مہرماہ کا تکلیف زدہ چہرہ آرہا تھا جس سے اس کا دل ڈوب کر اُبھر رہا تھا۔
آپ آپریشن ہوگا۔ شاہ میر بالوں میں ہاتھ پھیرتا ہوا بولا
آپریشن کیوں مہرو کی حالت تو ٹھیک تھی اور ڈاکٹر عنایہ نے کہا تھا اس کی نارمل ڈیلیوری ہوگی پھر یہ آپریشن۔ہانم بیگم پریشانی سے بولی۔
امی ماہ کی طبعیت بگڑ گئ تھی شاید انہوں نے ایسا کجھ کھالیا تھا جو پریگنسی میں نہیں تھا کھانا ورنہ ڈیلیوری دو دن بعد ہوتی۔ شاہ میر یہاں وہاں چکر لگاتا عجیب انداز میں بولا اس کو رہ رہ کر خود پہ غصہ آرہا تھا کہ اس نے کہاں کوتاہی کی مہرماہ کے معاملے میں جو اس کی یہ حالت ہوگئ تھی
اللہ خیر کریں گا ہمت کرو۔حیدر خان نے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے کہا جس کی بس رونے کی کثر رہ گئ تھی۔
ماہ کو پین ہورہا تھا بہت۔ شاہ میر نے بتایا
اب نہیں ہورہا ہوگا ڈاکٹر نے انجیکشن لگایا ہوگا نیند کا تاکہ اس کو آرام ملے۔ ہانم بیگم نے اس کو تسلی کروائی ورنہ شاہ میر کا حال دیکھ کر ان کو مہرماہ سے زیادہ شاہ میر کی فکر ہورہی تھی۔
میں سکندر بھائی کو بتادو۔ حیدر خان موبائل ہاتھ میں لیکر سائیڈ پہ ہوئے ہانم بیگم پاس پڑی بینچ پہ بیٹھ گئ۔
ڈاکٹر ابھی تک باہر کیوں نہیں آئی۔ شاہ میر ہانم بیگم سے پوچھنے لگا بیس منٹ ہوگئے تھے پر کمرے کا دروازہ نہیں کُھولا تھا اِس لیے شاہ میر کو گھبراہٹ ہورہی تھی۔
میر شانت رہو مہرو ٹھیک ہوگی۔ہانم بیگم بولی جو ٹہلنے میں لگا ہوا تھا۔
اتنا وقت ہوگیا ہے کجھ بتا ہی دیں۔شاہ میر تیز آواز میں بولا
میر کنٹرول کرو خود پہ ڈاکٹرز کو اپنا کام کرنے دو بچے کی پیدائش میں وقت تو لگے گا نہ۔ حیدر خان نے شاہ میر سے کہا جس پہ شاہ میر نے اپنا سرجھٹکا۔
حیدر مہرو کہاں ہیں؟سکندر خان سارہ بیگم کے۔ ساتھ آتے ہوئے بولے۔
آپریشن چل رہا ہے۔ حیدر خان نے بتایا۔
آپریشن۔ سارہ بیگم پریشان سی بولی۔
بھابھی بس دعا کریں خیر ہو بچے کی طرف بھی اور مہرو کی طرف بھی۔ حیدر خان نے کہا ان کی بات پہ شاہ میر مسجد کی جانب چلاگیا کیونکہ یہاں رہ کر اس کو بے چین ہی رہنا تھا اس لیے سکون اور مہرماہ کی سلامتی کے لیے اس نے اپنا رخ مسجد کی جانب کرنے کا سوچا
زیب کو ہم نے انفارم نہیں کیا۔ سارہ بیگم بیٹھتی ہوئی بولی
سہی کیا بچے تھک گئے ہوگے کل آجائے گے۔ ہانم بیگم نے کہا۔
آپ ولیمہ کجھ وقت کے لیے پوس پون کردے۔ حیدر خان نے سکندر خان سے کہا جس پہ انہوں نے سر کو جنبش دی۔








ثانیہ میں ہوسپٹل جارہا ہوں۔ شاہ زیب نے ثانیہ کو جاگتا ہوا دیکھا تو بتایا
ہوسپٹل خیریت؟ثانیہ نے تعجب سے پوچھا
ہاں مہرو کی طبیعت رات میں خراب ہوگئ تھی مجھے اب بتایا ہے انہوں نے۔ شاہ زیب گاڑی کی چابی اپنا سیل فون اٹھاتا ہوا بتانے لگا۔
میں بھی چلوں گی آپ کے ساتھ۔ثانیہ اٹھتے ہوئے بولی اب تو اس کا مہرماہ کے ساتھ دو رشتے تھے وہ کیسے اس کو ایسے وقت میں اکیلا چھوڑتی۔
اِس حال میں؟شاہ زیب نے پوچھا کیونکہ ابھی جاگنے کی وجہ سے ثانیہ کے بال بکھرے ہوئے تھے نائٹ سوٹ بھی شکن زدہ ہوگیا تھا۔
میں جلدی فریش ہوجاتی ہوں۔ ثانیہ نے لب دانتوں کے بیچ دباکر کہا۔
جلدی کرنا۔ شاہ زیب نے گھڑی پہ وقت دیکھ کر کہا ثانیہ سر ہلاتی واشروم کی طرف بھاگی۔








ساری رات شاہ میر نے کس ضبط سے گُزاری یہ بس وہ جانتا کیونکہ رات میں ڈاکٹر نے کہا کہ آپریشن فجر کے وقت ہوگی ابھی مہرماہ پہ بیہوشی کی دوا اثر نہیں کررہی شاہ میر ان کی بات سن کر بس ان کو دیکھتا رہ گیا تھا۔
میر بیٹا آرام دو اپنی ٹانگوں کو۔ سکندر خان نے شاہ میر سے کہا جس نے پوری رات نہ خود کو چین دیا تھا نہ اپنی ٹانگوں کو سارا وقت اس نے روم کے باہر چکرا لگانے میں گزارا تھا۔
ماہ کی خبر مل جائے آرام خودبخود مل جائے گا۔ شاہ میر بنا ان کی طرف دیکھ کر بولا اِس وقت اس کی کیا حالت تھی یہ وہ خود اچھے سے جانتا تھا۔
کجھ کھالوں۔ہانم بیگم نے سینڈوچ اس کی طرف بڑھایا جو ابھی حیدر خان ان سب کے لئے لائے تھے۔
امی پلیز فلحال مجھے کجھ نہ کہے۔ شاہ میر منت بھرے لہجے میں بولا تو پھر کسی میں ہمت نہیں ہوئی کے کجھ کہے اس کو۔
اسلام علیکم۔ شاہ زیب کوریڈور میں آتا ان کو سلام کیا ساتھ میں ثانیہ بھی تھی
وعلیکم اسلام۔ سب نے سلام کا جواب دیا
کیسی کنڈیشن ہے مہرو کی؟ شاہ زیب شاہ میر پہ نظر ڈالتا ان سے پوچھنے لگا اس سے پہلے کوئی جواب دیتا بچے کی آواز پہ سب اس کی جانب متوجہ ہوئے
یااللہ تیرا شکر۔ ہانم بیگم اور سارہ بیگم بے اختیار بولی تو سکندر خان اور حیدر خان نے بھی مسکراکر ایک دوسرے کو دیکھا شاہ میر کے دل کو کجھ قرار آیا۔
مبارک ہو بیٹا ہوا ہے۔ نرس کمرے سے باہر آتی مسکراکر بولی شاہ زیب جلدی سے ان کے ہاتھ سے بچہ لیا جو گلابی کمبل میں لپیٹا ہوا باقی سب شاہ زیب کی جلدبازی پہ گھور کر رہ گئے
میری وائف کیسی ہے؟ شاہ میر بچے پہ نظر ڈالیں بغیر مہرماہ کے لیے فکرمند ہوا۔
وہ بلکل ٹھیک ہے پر ابھی ہوش میں نہیں۔نرس نے جواب دیا۔
میر یہ تو بلکل تمہارا عکس ہے۔ ہانم بیگم خوبصورت بچے کو دیکھتی ہوئی بولی جو دودہ جیسی رنگت نین نقش میں بلکل شاہ میر کی کاپی تھا۔
چچی جان ابھی تو دس منٹ کا بھی بچہ نہیں ہوا اور آپ نے میر کے جیسا کردیا اللہ نے کریں وہ اُس جیسا سڑا ہوا ہو یہ تو میری اور مہرو کی طرح ہنس مکھ ہوگا۔ شاہ زیب بچے کی ننہی سی پیشانی چومتا ہوا بولا سارہ بیگم نے شاہ زیب کے کندھے پہ چپت لگائی۔
میر بھی اپنی پیدائش وقت ایسا تھا تبھی میں نے کہا۔ ہانم بیگم نے کہا
آنکھیں بند ہیں وہ کھلے تو آنکھوں کا رنگ پتا چلیں کیسا ہے۔ ثانیہ نے اس کی بند آنکھوں کو دیکھ کر کہا۔
میر اپنے بچے کو گود میں تو اٹھاٶ۔سارہ بیگم نے شاہ میر سے کہا جس کی نظریں بند دروازے پہ تھی سب لوگوں نے بچے کو پیار کیا سوائے شاہ میر کے۔
ماہ اور میں ایک ساتھ دیکھے گے۔ شاہ میر نے جواب دیا تو سب نے ایک دوسرے کو دیکھا۔
روم میں شفٹ ہونے کے بعد آپ اپنی بیگم سے مل سکتے ہیں۔ڈاکٹر شاہ میر کے پاس آتی بولی
کب شفٹ کریں گے؟ شاہ میر نے بے قراری سے پوچھا۔
بس کجھ دیر بعد۔ ڈاکٹر نے جواب دیا۔








ماہ اب بس کردیں۔ شاہ میر اکتاہٹ بھرے لہجے میں مہرماہ سے کہا جو کبھی اپنے بچے کے ننہے ہاتھ چوم رہی تھی تو کبھی اس کا چہرہ مہرماہ کو جیسے ہی ہوش آیا تو سب باری باری ملنے آئے پرائیویٹ روم ہونے کی وجہ سے بس ایک ایک ہی مل سکتا تھا پر یہاں پہلے سکندر خان سارہ بیگم مہرماہ سے مل کر ڈھیر ساری دعائیں دی اور پیار کیا پھر حیدر خان ہانم بیگم آئی جو اپنی خوشی کا اظہار کیا اور اس کو بہت ساری ہدایتیں کی پھر آخر میں شاہ زیب ثانیہ کے ہمراہ داخل ہوا جس سے مہرماہ ناراض تھی اِس لیے بس اس نے ثانیہ سے بات کی۔جب کی اتنے سارے وقت میں شاہ میر شکرانے کے نفل ادا کرنے کے غرض سے مسجد میں تھا پر جب وہ مہرماہ کے پاس آکر اپنی ساری بے چینی بے قراری بتانا چاہتا پر اس کے ارمان ہی رہ گئے کیونکہ مہرماہ پوری طرح اپنے بچے میں گم تھی شاہ میر کے لیے چہرے پہ نو لفٹ کا بورڈ تھا۔
شاہ یہ دیکھو ہمارا بچہ کتنا پیارا ہے اِس کی آنکھیں دیکھو بلکل میری آنکھوں کی طرح ہے۔ مہرماہ خوشی سے چور لہجے میں شاہ میر سے بولی اور اپنے بچے کی گول مٹول آنکھیں دیکھ کر ان کی آنکھوں پہ بوسہ دیا۔
ماہ اب اگر ایک اور بوسہ دیا نہ تو میں نے اِس کو باہر پھینکنا ہے۔ شاہ میر مٹھیاں بھینچتا گھور کر اپنے بچے کو دیکھا جیسے اپنا نہ ہو کسی اور کا ہو جب کی مہرماہ تو شاک میں شاہ میر کو دیکھنے لگی اور ساتھ میں اپنے بچے پہ گرفت مضبوط کی شاہ میر پہ کوئی بھروسہ نہیں تھا جو جیلسی میں آکر ایسا کر گزرتا۔
شاہ تمہارا دل نہیں کانپا یہ کہتے ہوئے۔مہرماہ نے تاسف سے شاہ میر کو دیکھ کر کہا
کانپنے کا پتا نہیں میرے دل میں شعلے ضرور بھڑک رہے ہیں یہ دیکھ کر کہ آپ مجھ سے زیادہ اِس ایک انچ کے بچے کو توجہ دیے رہی ہیں۔شاہ میر نے سنجیدگی سے کہا
تمہارا کوئی حال نہیں۔مہرماہ نے نفی میں سرہلاکر کہا اور مسکراکر اپنے بیٹے کو دیکھا جو آنکھیں کھول کر ان کو بڑی بڑی کرتا کبھی اسے تو کبھی شاہ میر کو دیکھتا آخر اب شاہ میر کو بھی خیال آگیا اِس لیے مہرماہ سے لیکر اپنی گود میں اٹھایا۔
کتنا ہلکہ ہے۔ شاہ میر کو سکون محسوس ہوا اپنی اولاد کو کا لمس ہاتھوں میں محسوس کیا تو۔
تم خوامخواہ جیلس ہورہے تھے۔ مہرماہ نے مسکراکر کہا
وہ تو میں اِس لیے ہوا کیونکہ آپ نے اتنے وقت میں مجھے پیار نہیں کیا جتنا اِس کو کیا۔ شاہ میر نے کہا اور بچے کی پیشانی پہ اپنا لمس چھوڑا جس پہ وہ مسکرایا
آآ شاہ یہ مسکرایا۔ مہرماہ خوش ہوکر بولی
اپنے باپ کا بوسہ پسند آیا اِس کو۔ شاہ میر ہنس کر بولا تو مہرماہ نے شاہ میر کو دیکھا جو دو دن پُرانے جوڑے میں ملبوس تھا بال بکھرے ہوئے تھے آنکھیں پہ سرخ سوجھی ہوئے تھی جو نیند نہ لینے کی وجہ سے تھی۔ مہرماہ کو شاہ میر پہ ترس اور پیار دونوں آیا جو اس کی وجہ سے خود سے بے نیاز بیٹھا تھا۔









ماشااللہ کتنا پیارا بچہ ہے تمہارا۔ حور مسکراکر مہرماہ کے بیٹے کو اپنی گود میں لیکر بولی
نام کیا سوچا ہے۔ حور نے پوچھا۔
مرجان میر۔ مہرماہ نے چہکتے ہوئے بتایا۔
مرجان تو لڑکیوں کا نام ہوتا ہے۔ شاہ میر جو گھر فریش ہونے گیا تھا اب واپس آیا تو مہرماہ کی بات سن کر اپنے کان کی لو کھجاکر بولا جس پہ حور نے اپنی ہنسی ضبط کی۔
لڑکوں کا بھی ہوتا ہے۔ مہرماہ نے خونخوار نظروں سے شاہ میر کو دیکھا جو سٹپٹاکر یہاں وہاں دیکھ رہا تھا۔
ڈسچارج کب ملے گا تمہیں ؟حور نے پوچھا
دو تین لگے گیں۔ مہرماہ نے بتایا
عقیقہ رکھوگی نہ۔ حور نے پوچھا
سنت ہے ضرور رکھے گے۔ مہرماہ نے کہا
مرجان کو مجھے دو۔ شاہ میر کو اپنے بیٹے کو مرجان کہنے پہ جانے کیوں ہنسی آرہی تھی پر خود پہ جبر کیے اس کو کنٹرول کرگیا۔
شاہ باقی سب کہاں ہیں؟مہرماہ نے حور کے جانے کے بعد شاہ میر سے پوچھا جو سوئے ہوئے مرجان کو اب بی بی کاٹ میں لیٹا رہا تھا۔
میں نے سب کو گھر بھیج دیا تاکہ آرام کریں دو دنوں سے یہاں تھے جب کی چچی جان تو آپ کے ساتھ ہونا چاہتی تھی پر میں نے کہا ابھی آپ گھر جاکر آرام کریں۔ شاہ میر مہرماہ کے پاس آتا ہوا بتانے لگا۔
تم بھی تو بے سکون ہو اور سوتے بھی نہیں۔مہرماہ فکرمند ہوتی ہوئی بولی۔
میرا سکون آپ ہیں۔شاہ میر مہرماہ کا ہاتھ چومتا ہوا بولا جہاں ڈرپ کا نشان تھا۔
یہاں بیٹھو۔ مہرماہ نے اشارے سے بیڈ کی دوسری سائیڈ پہ آنے کا کہا
آپ کے ٹانکے کُھل نہ جائے۔شاہ میر نے خدشہ بیان کیا کیونکہ روم میں سنگل بیڈ تھا۔
کجھ نہیں ہوتا۔ مہرماہ نے کہا تو شاہ میر مہرماہ کے سرہانے آیا۔
ہمارا خیال رکھنے کے لیے تمہارا ٹھیک ہونا بھی ضروری ہے میں دیکھ رہی ہوں تم بلکل خود سے لاپرواہ ہوگئے ہو اگر ایسا رہا تو بیمار ہوجاٶگے پھر میرا اور مرجان کا خیال کون رکھے گا میری اپنی ایسی حالت نہیں جو تمہاری خدمت کرسکوں۔مہرماہ شاہ میر کی طرف چہرہ کیے آہستہ آہستہ بولنے لگی۔
آپ کیا چاہتی ہیں؟شاہ میر مہرماہ کے گال پھر ماتھے پہ پیار کرتا ہوا بولا۔
یہ میرا کندھا ہے اِس پہ اپنا سر رکھ کر آنکھیں بند کرو۔ مہرماہ نے کہا تو شاہ میر سیدھا ہوکر بیٹھا پھر مہرماہ کا سر اپنے بازوں پہ رکھا جب کی خود اس نے بیڈ سے ٹیک لگالی مہرماہ حیران سی شاہ میر کی کاروائی دیکھ رہی تھی
آپ کا نازک کندھا درد کرجاتا اس لیے میں ایسے آرام کروں گا۔ شاہ میر نے کہا تو مہرماہ کے چہرے پہ تبسم کِھلا اس نے ایسے ہی اپنی آنکھیں بندکرلی تو شاہ میر نے بھی آنکھیں موندلی تین دنوں کی بے آرامی اور پاس اپنے عشق کی موجودگی میں وہ جلد ہی نیند کی وادیوں میں اُترگیا۔
