Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Qaid Season 2 (Episode 01)

Ishq Qaid Season 2 by Rimsha Hussain

شاہ اٹھ جاٶ یونی کے لیے تم نے پہلے ہی بہت دیر کردی ہے۔ مہرماہ نے بیڈ پہ سوئے ہوئے شاہ میر کو جھنجور کر کہا جس کو آدھے گھنٹے سے اٹھانے کی کوشش کررہی تھی پر شاہ میر شاید گدھے گھوڑوں سے شرط لگاکر سویا تھا جو اٹھنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ شاہ میر اور مہرماہ کی شادی کو دو ماہ ہوگئے تھے اِس بار شاہ میر کی بات سب نے مان لی تھی کیونکہ ہانم بیگم اور حیدر خان نہیں چاہتے تھے کہ اب شاہ میر دوبارہ اپنی جان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں اور نہ ہی اب سکندر خان نے کوئی مخالف کی تھی شاہ میر اپنے بچپن کے عشق پانے کے بعد حد سے زیاد خوش تھا وہ اب تک بے یقین تھا کے اس کو اُس کی ماہ مل گئ تھی وہ ہر روز اللہ کے سامنے کھڑا ہوتا شکرادا کرتا تھا۔

میری عمر کی لڑکیاں اپنے بچوں کو اٹھاکر اسکول بھیجتی ہیں اور ایک میں ہو جو صبح صبح اپنے شوہر نامراد سے مغزماری کررہی ہوں کہ جناب اٹھ جائے اور یونیورسٹی کو اپنا دیدار کرائے اففف خود سے چھوٹا شوہر کسی کو نہ ملے۔ مہرماہ شاہ میر کو اٹھتا نہ دیکھ کر خود سے بڑبڑائی اس کی بڑبڑاہت سن کر شاہ میر نے بامشکل اپنی مسکراہٹ چھپائی تھی کیونکہ وہ جاگ تو کب کا گیا تھا اب مہرماہ کو تنگ کرنے کی خاطر سونے کا بہانا کیے ہوئے تھا۔

اِس میں غلطی آپ کی ہے کیا ضرورت تھی دنیا میں جلدی آنے کی میرا انتظار کرتی پھر آتی نہ۔ شاہ میر کی بات پہ مہرماہ نے گھور کر اس کی جانب دیکھا جو اب بیڈ کراٶن سے ٹیک لگائے اپنی بلو آنکھوں میں چمک لیے اس کو دیکھ رہا تھا

تم جاگ رہے تھے پھر مجھے کیوں بیوقوف بنایا میں پاگل تمہیں آوازیں دیئے جارہی ہوں۔

آپ اٹھاتی اِس انداز سے ہیں کے دل کرتا ہے بس سوتے رہو اور آپ اٹھنے کا کہتی رہیں۔شاہ میر نے وجہ بتائی

اچھا اگر تمہارا رومانس ہوگیا ہو تو جلدی سے تیار ہوکر باہر ناشتہ کرنے آٶ چچی جان کیا سوچتی ہوگی کہ وقت کی قدر ہی نہیں ابھی سے میرا یہ حال ہے تم تو بلکل بچے ہو ہمارے بچے جانے کیسے ہوگے۔ مہرماہ اپنی گول مٹول آنکھیں گھماتی ہوئی بولی تو شاہ میر کو اتنی پیاری لگی کہ اپنی نظروں کا زاویہ بدل گیا کہ کہیں اُس کی ہی نظر نہ لگ جائے۔

بچے بھی ہوجائے گے اور انشااللہ بہت معصوم ہوگے تنگ آپ کو بلکل نہیں کریں گے کیونکہ میں ان کو آپ کے پاس آنے ہی نہیں دوں گا۔ شاہ میر نے شوخ انداز میں کہا جب کی مہرماہ کے چہرے کی رنگت پل بھر میں سرخ انار ہوئی تھی شاہ میر نے بڑی محبت سے مہرماہ کے چہرے کے آتے جاتے رنگ دیکھے تھے۔

بہت باتیں بنانی آگئ ہیں میں باہر جارہی ہوں تم بھی جلدی سے تیار ہوکر آٶ۔ مہرماہ شاہ میر کی نظروں سے بچنے کی خاطر بولی اور جلدی سے دروازے کی جانب بڑہی مہرماہ کی حرکت پہ شاہ میر کا زوردار قہقہ گونجا تھا جو مہرماہ کے کانوں پہ پڑا تو اس کے چہرے پہ بھی مسکراہٹ آگئ تھی سیڑھیوں سے مسکراتی ہوئی مہرماہ کو جب ہانم بیگم نے دیکھا تو ماشااللہ کہا۔

میر نہیں آیا؟ حیدر خان اخبار کو سائیڈ پہ کیے مہرماہ سے بولے۔

بس آنے والا ہے تیار ہورہا ہے یونیورسٹی کی لیے۔ مہرماہ نے جواب دیا۔

سہی ورنہ نیو ایڈمیشن لی ہے اس نے اور چھٹیاں بہت کرلی ہیں۔ ہانم بیگم بیٹھتی ہوئی بولی۔

امی جان بھوک لگی ہے ناشتہ کروادے پھر مجھے کالج کے لیے بھی نکلنا ہے۔ اٹھارہ سالا آیان نے کہا۔

بھائی کو تو آنے دو اپنے۔حیدر صاحب نے کہا تبھی فریش ہوتا شاہ میر سیڑھیاں اُترتا نیچے ان کی جانب آیا۔

اسلام علیکم۔ شاہ میر نے سب کو سلام کیا۔

وعلیکم اسلام برخودار پڑھائی پوری کرنے سے پہلے اگر شادی کر ہی لی ہے تو اب دونوں ہی ذمیداریاں پوری کرو ساتھ ساتھ وقت کا بھی خیال کرو۔ حیدر صاحب نے سلام کا جواب دیتے ہوئے سمجھایا۔

ڈیڈ پلیز ماہ کے سامنے تو ایسے نہ بولیں۔ شاہ میر نے منہ بناکر کہا جس پہ سب نے اپنی مسکراہٹ چھپائی۔

اچھا اب ناشتہ کی ٹیبل پہ چلو۔ ہانم بیگم اٹھتی ہوئی بولی تو سب ڈائینگ ہال میں آئے۔

بھابھی بریڈ تو پاس کیجئے گا۔ آیان نے مہرماہ سے کہا کیونکہ بریڈ اس کے سامنے پڑا تھا مہرماہ بریڈ اٹھا کر آیان کو دینے والی تھی جب اس سے پہلے ہی شاہ میر نے اپنے ہاتھ میں اٹھاکر۔ آیان کو بریڈ پکڑائی سب کے سامنے شاہ میر اِس حرکت پہ مہرماہ خجل ہوئی تھی۔

ماہ کو کجھ مت بولو میں ان کے پاس ہی بیٹھا مجھ سے کہنا دوبارہ۔شاہ میر نے سنجیدگی سے کہا جس پہ۔ آیان نے سر کو ہاں میں جنبش دی

شاہ۔مہرماہ نے شاہ میر کو ٹوکا۔

میں نے تو ایسے ہی کہا تاکہ آپ ڈسٹرب نہ ہو۔ شاہ میر نے اپنی طرف سے دلیل دی حیدر خان مسکراکر شاہ میر کا چمکتا چہرہ دیکھ رہے تھے شاہ میر کی آنکھوں میں جو الگ سی چمک تھی وہ ان کو اِس بار اور زیادہ محسوس ہوئی جب انہوں نے پہلی بار مہرماہ کے ذکر پہ شاہ میر کی آنکھوں میں دیکھی تھی۔

نہیں ہوتی میں ڈسٹرب تم آرام سے اپنا ناشتہ کرو پہلے ہی یونیورسٹی جانے میں تم نے پہلی کلاس مس کردی ہے اور اب اتنے آرام سے ناشتہ کررہے ہو۔ مہرماہ نے کجھ رعب سے کہا۔

اچھا اب جلدی فینش کرتا ہوں ناشتہ۔ شاہ میر بچوں کے انداز میں بول کر مہرماہ کا بچا ہوا جوس پینے لگا جس پہ مہرماہ صبر کے گھونٹ بھر کر رہ گئ پری نے جب دیکھا تو اس نے ہوٹنگ کی۔

پری ناشتہ پہ دھیان دو۔ مہرماہ نے اب پری کو آنکھیں دیکھائی۔

امی جان اور ڈیڈ میں چلتا ہوں۔ آیان اپنا ناشتہ کرکے بیگ کاندھے پہ ڈال کر ان دونوں سے بولا۔

اوکے خدا حافظ۔حیدر خان اور ہانم بیگم نے ایک آواز میں کہا۔

خدا حافظ بھائی آپی اور بھابھی۔ آیان باقی سب سے کہتا باہر کی جانب بڑھا۔

مجھے تم اپنی دوست کے گھر چھوڑ آنا چچی سے اجازت میں نے لی ہے۔ شاہ میر کو باہر جاتا دیکھ کر مہرماہ چادر پہنتی اس کے پاس آکر بولی جب کی ایک ہاتھ میں اس نے اپنا پرس اٹھایا ہوا تھا۔

ضرور مطلب ہونی جانے کا سفر خوبصورت گُزرے گا۔ شاہ میر مہرماہ کی بات پہ خوش ہوتا ہوا بولا۔

پاگل ہو بلکل۔ مہرماہ نے اس کے سر پہ چپت لگائی شاہ میر مسکراتا مہرماہ کے لیے فرنٹ سیٹ کا ڈور کھولنے لگا مہرماہ بیٹھ گئ تو شاہ میر نے مہرماہ کی پہنی چادر جو بڑی ہونے کی۔ وجہ سے لٹک رہی تھی اس کو اندر کیا پھر دروازہ بند کرتا ڈرائیونگ سیٹ پہ آیا۔

کوئی اچھا سا سونگ تو ضرور ہوگا۔ مہرماہ نے شاہ میر سے کہا جس نے گاڑی سٹارٹ کردی تھی۔

ہاں ہیں میں آپ کو اپنا فیورٹ سونگ سناتا ہوں۔ شاہ میر مسکراتا گاڑی میں موجود پلے میوزک آن کیا۔

اِس قدر تم سے ہمیں پیار ہوگیا

حد سے زیادہ حد کے پار ہوگیا۔

شاہ میر کے میوزک آن ہوتے ہی گاڑی میں تُلسی کُمار اور درشن راول کے گانے کی آواز گونجنے لگی شاہ میر نے ایک مسکراتی نظر مہرماہ پہ ڈالی جو بہت غور سے گانا سن رہی تھی۔

اِس قدر تم سے ہمیں پیار ہوگیا

حد سے زیادہ حد کے پار ہوگیا

دل تیری چاہتوں میں گزرنے لگے

دل کہے ہر گھڑی تمہیں ملنے چلے

گانے کی اِس لائن پہ شاہ میر کو اپنا بچپن یاد آیا جب وہ بہانے ڈھونڈتا تھا مہرماہ کے پاس جانے کا اس سے بات کرنے کا اس سے ملنے کا یہ سب سوچتے ہی ایک خوبصورت احساس نہ اس کو آ گھیرا۔

پہلوں میں ہر پل بیٹھے رہیں

ڈوب رہیں اِن آنکھوں میں

اِس قدر تم سے ہمیں پیار ہوگیا

حد سے زیادہ حد کے پار ہوگیا

مہرماہ گانا سنتے کھوگئ تھی اس کو یاد تھا جب پہلی بار شاہ میر اس کے پاس آیا تھا تو اس کو شاہ میر کی بلو آنکھیں بہت پسند آئی تھی پر اس کو وہ ہمیشہ بچہ سمجھتی تھی اس نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ وہ کبھی شاہ میر سے اتنا پیار کریں گی یا شاہ میر اس کو اتنا چاہے گا مہرماہ نے مسکراکر چہرہ شاہ میر کی طرف دیکھا جو مسکراتا ڈرائیونگ کررہا تھا۔

ہمیں عشق ہے تیری یادوں سے

ہمیں عشق ہے تیری باتوں سے

تیرے نیند میں آتے خواب سے

تیرے ساتھ ہوئی ملاقاتوں سے۔

شاہ میر نے مہرماہ کو مسکراتا محسوس کیا تو ایک ہاتھ سے ڈرائیونگ کرنے لگا اور دوسرا ہاتھ مہرماہ کے سامنے کیا جس پہ مہرماہ اس کا مطلب سمجھتی مسکراکر اپنا ہاتھ شاہ میر کے ہاتھ میں دیا جس پہ شاہ میر کے۔ آنکھوں کی چمک مزید بڑھ گئ تھی۔

مجھے عشق ہے تیرے چھونے

مجھے عشق ہے تیرا ہونے سے

تیرے ہاتھ میں اپنے ہاتھ سے

تیرے ساتھ کٹے دن راتوں سے

مہرماہ نے شاہ میر کے ہاتھ میں قید اپنے ہاتھ کو کجھ اُپر کیے ہنس پڑی تو شاہ میر بھی مسکرادیا۔

چہرے کو تیرے دیکھا کریں

چہرے کو تیرے دیکھا کریں

لیکے تمہیں اِن بانہوں میں

اِس قدر تم سے ہمیں پیار ہوگیا

حد سے زیادہ حد کے پار ہوگیا

یہاں سے اب لیفٹ جانا۔ کجھ دیر بعد جب گانا بند ہوگیا تو مہرماہ نے شاہ میر کو اپنی دوست مونا کے گھر کا ایڈریس سمجھایا۔

اوکے۔ شاہ میر نے کہتے ہی موڑ کاٹا۔

آگئ آپ کی منزل۔ شاہ میر مونا کے گھر کے باہر گاڑی کو بریک لگاکر مہرماہ سے بولا۔

ہمم اوکے اب تم سیدھا اپنی یونی جانا۔ مہرماہ اپنی چادر ٹھیک کرتی ہوئی بولی۔

اور کدھر جانا ہے میں نے۔ شاہ میر بُرا مان کر بولا اور ساتھ ہی اپنی طرف کا ڈور کھوکر جلدی سے مہرماہ کی طرف آکر اس کے لیے دروازہ کھولا پھر ادب سے کھڑا ہوگیا۔

ایسے کھڑے ہو لوگ کہیں گے اتنے ہینڈسم لڑکے کو اپنا ڈرائیور بنایا ہوا ہے۔ مہرماہ نے شاہ میر کا گال کھینچ کر کہا۔

ماہ نہ کیا کریں۔ شاہ میر اپنے گال پہ ہاتھ رکھ کر خفگی سے بولا۔

ہاہاہاہا شاہ بلکل بارہ سال والے شاہ لگ رہے ہو۔ مہرماہ شاہ میر کے سرخ ہوتی رنگت دیکھ کر زور سے قہقہ لگاکر بولی کیونکہ شاہ میر آج بھی مہرماہ کی اِس حرکت پہ لڑکیوں کی طرح شرما جاتا تھا۔

آپ بھی نہ حد کرتی ہیں۔شاہ میر ایک طرف کھڑا ہوتا ہوا بولا۔

اچھا اب منہ مت پُھلاٶ میں اندر جارہی ہوں تم بھی یونی کا راستہ پکڑو۔ مہرماہ نے اب کی سنجیدگی سے کہہ کر جانے لگی تو شاہ میر نے اس کی نازک کلائی اپنی گرفت میں لی۔ مہرماہ نے سوالیہ نظروں سے شاہ میر کو دیکھنے لگی شاہ میر بنا کجھے کہے قریب آکر اس کے ماتھے پہ عقیدت بھرا لمس چھوڑا جس پہ مہرماہ نے آنکھیں بند کرلی دل کے دھڑکنے کی آواز کانوں تک آتی محسوس ہوئی۔

خدا حافظ۔مہرماہ جلدی سے شاہ میر سے کجھ فاصلے پہ کھڑی ہوتی ہوئی بولی شاہ میر کو مہرماہ کی حرکت پسند نہیں اس کو اپنے اور مہرماہ کے درمیان یہ فاصلہ بلکل بُرا لگا مہرماہ مونا کے گھر کی مین گیٹ کی جانب بڑھی اور پلٹ کر شاہ میر کو دیکھا جو اس کو ہی دیکھ رہا تھا مہرماہ شاہ میر پہ ایک مسکراتی نظر ڈال کر گیٹ کے اندر داخل ہوگئ تھی شاہ میر تک تب کھڑا رہا جب تک مہرماہ آنکھوں سے اوجھل نہیں ہوئی اس کے بعد وہ بھی گاڑی میں بیٹھتا اپنے راستے کی طرف گامزن ہوا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

ویسے اگر حور سے زین شادی کرنا چاہتا ہے تو اِس میں کوئی قباحت نہیں حور بھی زین کو پسند کرتی ہے۔ سکندر خان نے سارہ بیگم سے کہا جو کافی پریشان معلوم ہورہی تھی۔

بات قباحت کی نہیں آپ خود سوچے پہلے نادیہ کو حور اور زیب کے رشتے پہ کوئی اعتراض نہیں تھا ہم جب باقاعدہ رشتہ لیکر گئے تب بھی سب ٹھیک تھا ہم نے زیب سے بھی اس رضامندی جانی جس پہ وہ راضی تھا اب اگر یہ رشتہ زیب سے نہیں زین سے ہوگا تو زیب کے دماغ پہ کیا اثر پرے گا۔ سارہ بیگم نے ان کا دھیان زیب کی جانب کیا۔

زیب کو حور میں دلچسپی نہیں تھی وہ بس ہمارے وجہ سے مان گیا تھا کیونکہ تم مہرو کی طرف سے پریشان تھی وہ اپنی طرف سے تمہیں پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا۔سکندر خان نے کہا۔

اچھا پر یہ نادیہ کی نند بھی حد کرتی ہے جب دل کرتا ہے رشتہ جوڑ لیتی ہے اور جب دل چاہتا ہے ختم کردیتی ہے ورنہ آپ خود سوچے حور اور زین کا رشتہ تو پہلے ہوچکا تھا نہ مہرو اور شہیر کی بات بعد میں ہوئی ایسے میں اگر مہرو کی شادی شہیر سے نہ ہوسکی تو اِس میں انہوں نے حور کا اور زین کا رشتہ کیوں ختم کردیا تھا اور اب پھر سے جوڑنا چاہتی ہیں یہ کوئی مذاق کی بات تو نہیں۔سارہ بیگم سخت ہوئی تھی۔

اللہ کے ہر کام میں کوئی نہ کوئی مصلحت ہوتی ہے پر ہم انسان وہ سمجھ نہیں پاتے زیب لڑکا ہے تم شادی کے معاملے میں اس کی پرواہ مت کرو اُس کو اگر کوئی پسند آئی یا تمہیں تو زیب کے فرض سے بھی ہم سبکدوش ہوجائے گے تم بس اللہ سے اچھی امید رکھو۔ سکندر خان نے ان کا غصہ ٹھنڈا کرنا چاہا جس میں سارہ بیگم نے سرہلانے پہ اکتفا کیا۔

کیا باتیں ہورہی ہیں میرے بغیر۔شاہ زیب اپنے آفس جانے کے لیے تیار ہوتا باہر آکر مسکراکر ان سے پوچھنے لگا۔

بس تمہارے ماں کو تمہاری شادی کی جلدی ہے۔ سکندر خان نے بتایا۔

گڈ امی جان لگی رہیں۔ شاہ زیب شوخ لہجے میں بولا سارہ بیگم نے گھور کر شاہ زیب کو دیکھا جو ان کی بات کو مذاق میں لے رہا تھا۔

تمہاری نظر میں کوئی لڑکی ہے تو بتادو ورنہ تمہارے ماں نے پریشان ہوکر اپنے بال سفید کردینے ہیں۔سکندر خان نے شرارت سے سارہ بیگم کی طرف دیکھ کر شاہ زیب سے بولے۔

میری نظر میں کہاں کوئی میں تو بہت معصوم سا بندہ ہوں میں کیوں بھلا لڑکیوں کو اپنی نظر میں رکھوں گا۔ شاہ زیب نے اپنی شرافت کے قصے بتانے شروع کیے۔

لڑکیوں کو نظر میں رکھنے کی ضرورت ہے بھی نہیں بس ایک لڑکی بہت ہوگی تمہارے لیے۔ سارہ بیگم نے جتاتے لہجے میں کہا۔

ہاں بیشک امی جان میں کونسا چار شادیاں کرکے بچے پیدا کرکے کرکیٹ ٹیم بنانی ہے۔شاہ زیب دانتوں کی نمائش کرتا ہوا بولا جس پہ سارہ بیگم نے اپنا سر پکڑلیا پر سکندر خان ہنس پڑے۔

سہی تو کہہ رہا ہے میرا بیٹا۔ سکندر خان نے شاہ زیب کا دفاع کیا جس پہ شاہ زیب کی گردن اکڑگئ۔

اب تمہیں آفس جانے چاہیے۔سارہ بیگم نے شاہ زیب کو آنکھیں دیکھاتے ہوئے کہا۔

جارہا ہوں میں آفس اور میں بتادوں میں نے کوئی شادی وادی نہیں کرنی میری بیوی کے سامنے بھی آپ نے ایسے آنکھیں دیکھانی ہے پھر کیا ایمپریشن پڑے گا میری بیوی کے سامنے میرا۔ شاہ زیب منہ کے زاویے بگاڑتا ہوا بولا۔

اففف شاہ زیب مہرو کی کم عقلی اب تم میں ٹرانسفر ہوگئ ہے۔ سارہ بیگم کوفت سے بولی۔

بیگم تھوڑا ہاتھ ہلکا رکھو میری مہرو جیسی سمجھدار بیٹی پوری خاندان میں نہیں ہوگی۔ سکندر خان نے اب فورن سے مہرماہ کی طرفداری کی۔

جی جی آپ کی بیٹی نے اپنی سمجھداری کے بل بوتے پہ تو کشمیر آزاد کروانہ ہے۔ سکندر خان کی بات پہ شاہ زیب منہ بسور کر بڑبڑایا۔

میں نہیں کہتی کجھ ۔سارہ بیگم غصے سے کہتی وہاں سے چلی گئ۔

کرلیا ناراض میری ماں کو اب مناتے رہیے گا۔ شاہ زیب مزے سے کہتا باہر کی طرف لپکا حیدر خان بھی مسکراتے سارہ بیگم کو منانے چلے گئے۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

مزے ہیں تمہارے یار ایک تو خود سے چار سال چھوٹا اُپر سے اتنا خوبصورت شوہر کسی کسی کو ہی ملتا ہے۔ مونا نے مہرماہ کے سیل فون میں اس کی اور شاہ میر کی تصویریں دیکھ کر رشک بھرے لہجے میں کہا۔

پتا نہیں پر شاہ کی طرح چاہنے والا مرد کسی کسی کو ہی ملتا ہے جو دیکھتا بھی مجھے ایسے ہے جیسے میں اس کے لیے کوئی معجزہ ہوں۔مہرماہ نے کھوئے ہوئے لہجے میں کہا۔

یہ تو ہے اور دیکھے بھی کیوں نہ آخر کو اُس کو ملی بھی اتنی مشکل سے ہو۔ مونا نے مہرماہ کے پاس بیٹھ کر کہا۔

تمہیں پتا ہے مونا شہیر کو دیکھ کر مجھے لگتا تھا کہ میں اس کو چاہتی ہوں پر جب میں نے آٹھ سال بعد شاہ کو دیکھا تھا نہ اس کی مضبوط شخصیت دیکھ کر میں کافی ایمپریس ہوئی تھی کہ جس کو میں بچہ سمجھتی تھی وہ اتنا بڑا ہوگیا ہے کہ میں اس کے سامنے چھوٹی لگتی ہوں پر جب اس نے اظہارِ محبت کیا تھا نہ تو میرا دل ڈر گیا تھا یہ سوچ کر کے لوگ کیا کہیں گے کہ میں نے اپنے منگیتر کے ہوتے ہوئے بھی کم عمر لڑکے کو اپنی جانب راغب کرلیا تھا بس یہ سوچتے ہی مجھے شاہ غلط لگنے لگا تھا پر جب پھر میرا نکاح کا دن آیا شاہ کی دل دُھلانے والی باتیں سن کر میں چاہ کر بھی اپنے دل کو روک نہیں پائی۔ مہرماہ نے آہستہ آہستہ اپنے دل کا حال مونا کو بتانے لگی۔

اپنے شاہ کو بتایا ہے حالِ دل کا راز مونا نے اپنا کندھا مہرماہ کے کندھے سے ٹکرا کر چھیڑنے والے انداز میں کہا جس پہ مہرماہ مسکرادی۔

شاہ جو ہروقت اپنی محبت کا اظہار کرتا رہتا ہے مجھے موقع ہی نہیں ملتا کہ میں بھی کجھ کہوں۔ مہرماہ نے کہا۔

ہاٶ کیوٹ۔ مونا نے مہرماہ کے سرخ گالوں کو دیکھ کر کہا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

ہائے شاہ میر کین آئے سِٹ ہیر؟ شاہ میر کلاس میں بیٹھا نوٹس بنارہا تھا جب اُس کی کلاس فیلو ثنا پاس آکر بولی شاہ میر نے ایک نظر اپنے برابر والی جگہ کو دیکھا پھر دوسری پوری کلاس میں جہاں اور بھی سیٹس بیٹھنے کے لیے خالی تھی۔

شیور۔ شاہ میر سنجیدگی سے کہتا اپنا سامان اُٹھاتا دوسری سیٹ پہ آیا ثنا جو شاہ میر کے ساتھ بیٹھنا چاہتی اس کو دوسری سیٹ پہ جاتا دیکھ کر منہ کے زاویے بنائے۔

ہم ساتھ بھی بیٹھ سکتے تھے۔ ثنا شاہ میر کے سر پہ نازل ہوتی ہوئی بولی۔

ایکسکیوز می مجھے کوئی شوق نہیں آپ کے ساتھ بیٹھنے کا اِس لیے بڑائے مہربانی دوبارہ یہ بات نہ کہنا۔ شاہ میر سخت لہجے میں بولا جس سے پاس بیٹھے اسٹوڈنٹس ان کی طرف متوجہ ہوئے۔

تم میری انسلٹ کررہے ہو۔ خود پہ سب کی نظریں محسوس کرتی ثنا تیز آواز میں بولی۔

میں نہیں آپ خود کی انسلٹ خود کررہی ہیں۔شاہ میر آرام سے بولا تو ثنا تن فن کرتی اپنی جگہ پہ آ بیٹھی اس کو اپنے پر پورے کلاس کی تمسخرانہ نظریں محسوس ہورہی تھی جس سے اس کو وجود جل رہا تھا دوسری طرف شاہ میر ہر چیز سے بے نیاز نوٹس بنانے کے بعد اپ رجسٹر پہ مہرماہ کا اسکیچ بنانے میں مگن تھا۔

شاہ میر کلاسس لینے کے بعد لابی کی جانب تھا جب اس کا فون بجنے لگا اس نے جیب سے موبائل نکال کر دیکھا تو ریان کالنگ لکھا آرہا تھا شاہ میر مسکراتا کال اٹینڈ کرگیا۔

اسلام علیکم۔ شاہ میر نے سلام کرنے میں پہل کی۔

وعلیکم اسلام میرے یار دلدار اگر آپ کے پاس چند منٹ کی فراغت ہے تو اپنے دوست سے ملنے آجاٶ ریسٹورنٹ کا نام میں میسج پہ بتادوں گا بس تم آنے کی حامی بھرو۔ ریان شاہ میر کی آواز سن کر نان سٹاپ بولنا شروع ہوچکا تھا شاہ میر نے کوفت سے فون کان سے ہٹاکر پھر دوبارہ کان کے پاس کی۔

کتنا فضول بولتے ہو تم۔ شاہ میر نے تاسف سے کہا۔

تم جو نہیں بولتے تو سوچا میں بول لوں کیا پتا اِس بہانے تم بھی بولنا شروع کردو۔ ریان اس کی بات ہوا میں اُڑاتا ہوا بولا۔

میں آتا ہوں ریسٹورنٹ تم نام ٹیکسٹ کردینا۔ شاہ میر ریان کی مزید فضول باتیں سننے کے بجائے سیدھا کی بات پہ آیا۔

ٹھیک ہے جلدی آنا۔ ریان خوش ہوتا ہوا بولا جس پہ شاہ میر پہلی بار مسکرایا کیونکہ ریان چاہے نان سیریس لڑکا تھا مگر پھر بھی اس کا بیسٹ فرینڈ تھا لنڈن میں رہنے کے باوجود بھی شاہ میر نے بس ایک ہی دوست بنایا اور یہاں بھی کالج میں اس نے ہر ایک سے بس مختصر اور کام کی بات کے علاوہ کوئی اور بات نہیں کرتا تھا جس سے وہ تھوڑے ہی وقت میں یونی میں اٹیٹیوڈ بوئے کے نام سے مشہور ہوگیا تھا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

آج جو بھی میٹینگز ہیں مجھے ان سب کی ڈیٹیلز چاہیے۔ شاہ زیب اپنے کیبن میں بیٹھا انٹر کام پہ مینجر سے بولا۔

سر یہ سب فائلز۔دو منٹ بعد مینجر شاہ زیب کے کیبن میں حاضر ہوا۔

ہمم میں نے تمہیں ایک کام کہا تھا۔ شاہ زیب فائلز پہ نظر گھماتا ہوا بولا۔

جی سر یاد ہے آپ نے پرسنل اسسٹنٹ کا کہا تھا میں نے ایڈ دیں دیا ہے پرسو سب کے انٹرویوز لیں گے۔ مینجر نے کہا تو شاہ زیب نے سر کو خم دیا۔

اوکے محمود تم اب جاسکتے ہو۔ شاہ زیب نے سر جھکائے کھڑے مینجر سے کہا تو وہ سرہلاتا ہوا کیبن سے نکل گیا شاہ زیب سب فائلز دیکھنے کے بعد لیپ ٹاپ کھول بیٹھا تبھی کیبن کا دروازہ نوک ہوا شاہ زیب نے سر اٹھا کر دیکھا تو سالار کھڑا تھا۔

بڑی دیر کردی مہرباں آتے آتے۔ شاہ زیب اپنے چیئر کو ہلکا سا گھماتا سالار سے بولا۔

بس ہمت نہیں تھی۔ سالار نے کہا۔

اوو ناٹ اگین۔ سالار کی بات کا مطلب سمجھتا شاہ زیب بیزار ہوا۔

زیب ہم تیار تھے پھپھو سے سارے رابطے ختم بھی کردیئے تھے پر یوں اچانک پھر زین آگیا تو سارا معاملہ بدل گیا حور کا نام بھی بہت وقت تک زین سے جڑا تھا اور تمہیں اندازہ ہوگا لڑکیاں منگنی کے بعد اس لڑکے کے ساتھ اپنے خواب سجا بیٹھتی ہیں حور کا بھی کجھ ایسا حال ہے وہ زین سے محبت کرتی ہے دوسرا یہ کہ تم سے سال بڑی ہے۔ سالار نے دھیمی لہجے میں کہا اس کو کسی نے کجھ کہا تو نہیں پر پھر بھی وہ شرمندہ ہورہا تھا۔

سالار میں سب جانتا ہوں اور میں کونسا حور سے طوفانی قسم کی محبت کرتا ہوں حور ہمیشہ میرے لیے مہرو کی طرح رہی ہے میں نے اگر شادی کے لیے حامی بھری تھی تو مہرو کی وجہ سے امی جان پریشان تھی اور پھپھو نادیہ بھی حور کے معاملے میں پریشان رہتی تھی میر کی مہرو سے محبت نے بہت سے مسائل پیدا کردیئے تھے خاندان کے بیچ اُس وقت ایک بس مجھے یہی حل لگا حور سے شادی کرلوں رہی بات مہرو کی تو وہ میر کی اس وقت ہوگئ تھی جب میر کے ایکسیڈنٹ کی خبر سنی تھی۔ شاہ زیب نے اس کی ساری شرمندگی ختم کرنی چاہی۔

سہی پر مسائل کا زمیدار تم میر کو نہ دو کیونکہ وہ معصوم ہے یہ سب بس پھپھو کی وجہ ہوا ہے۔ سالار نے شاہ میر کا دفاع کیا۔

ایک میرے علاوہ پوری دنیا کے لوگ معصوم ہے۔ سالار کی بات پہ شاہ زیب جل بھن کر بولا اس کی شکل دیکھ کر سالار کی ہنسی چھوٹ گئ۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

ابھی تک کجھ آرڈر نہیں کیا؟ شاہ میر ریسٹورنٹ میں داخل ہوتا ریان کی ٹیبل کے پاس آکر بولا جو ریسٹورنٹ کے کونے کے پاس تھی اور سامنے گلاس وال ڈور تھا جس سے باہر کی منظر صاف دیکھا جاسکتا تھا۔

تمہارا انتظار کررہا تھا کہ تم آکر آرڈر دوگے آخر کو شادی کی ٹریٹ بھی تو دینی ہے مجھے۔ریان شاہ میر سے گلے ملتا ہوا بولا۔

دو ماہ میں پانچ دفع ٹریٹ دے چُکا ہوں۔ شاہ میر نے طنزیہ کا تیر چلایا۔

تو کونسا شادی کرکے مجھ پہ احسان کیا ہے اب اگر شادی کرلی ہے تو ٹریٹ بھی دو۔ ریان بنا اس کے طنزیہ کا اثرلیے کہا شاہ میر نفی میں سر کو جنبش دیتا اشارے سے ویٹر کو اپنے پاس آنے کا کہا ویٹر مینیو کارڈ لے آیا تو شاہ میر سے پہلے ریان نے اچک لیا شاہ میر بس ریان کو دیکھتا رہ گیا۔

دو چکن رول ون کباب کوفتہ ایک بریانی کی پلیٹ ملائی ٹِکا شورمہ رول اور مینگو جوس۔ ریان طوطے کی طرح فر فر ویٹر سے اپنا آرڈر لکھوارہا تھا شاہ میر جو وال گلاس سے باہر کا منظر دیکھ رہا تھا ریان کے کھانے کی چیزوں کا نام سن کر ہونک زدہ ہوکر اس کا چہرہ دیکھنا لگا جو ابھی بھی شاید یاد کررہا تھا کہ اور کیا منگوانا ہے۔

میرے لیے بس یہی میر تم اپنا آرڈر دو۔ ریان کو کجھ یاد نہ آیا تو شاہ میر سے کہا۔

یہ ابھی بھی بس ہے۔ شاہ میر نے طنزیہ پوچھا۔

ہاں نہ ابھی تو میں نے پیزا برگر پاستا نہیں منگوایا۔ ریان نے اہم معلومات دی۔

سر آپ اپنا آرڈر بتائے۔ دونوں کو بحث کرتا دیکھ کر ویٹر نے اپنی موجودگی کا احساس کروایا۔

میرے لیے بس ایک کپ کافی۔ شاہ میر نے سنجیدگی سے کہا۔

کھانے کے لیے نہیں کہا کجھ۔ ریان نے تعجب سے پوچھا۔

مجھے ماہ کے ساتھ لنچ کرنا ہے۔ شاہ میر نے آرام سے جواب دیا جس پہ ریان نے شریر نظروں سے اس کی جانب دیکھا جس پہ شاہ میر نے اپنی آنکھیں گُھمائی۔

میری ہفتے بعد لنڈن کی فلائٹ ہے۔ ریان نے شاہ میر سے کہا تبھی دو ویٹرز ان کا آرڈر ٹیبل پہ سیٹ کرنے لگے۔

ٹائم بتادینا سی آف کرنے آجاٶں۔شاہ میر نے کافی کا کپ پکڑتے ہوئے کہا۔

کتنے بے مروت ہو یار یہ بھی نہیں پوچھا کہ کیوں جارہے ہو اچانک سے۔ ریان نے چکن رول کا پیس منہ میں ڈال کر شاہ میر سے کہا۔

یہ کیوں پوچھو کہ کیوں جارہے ہو جب کے میں جانتا ہوں تم وہاں کے رہائشی ہو۔ شاہ میر نے آرام سے کافی کا گھونٹ بھر کر کہا۔

یہ بھی ہے۔ ریان نے گردن ہلائی تو شاہ میر مسکرایا۔

پھر کب آٶ گے پاکستان؟شاہ میر نے ریان کو مگن انداز میں کھاتا دیکھا تو پوچھا۔

پتا نہیں کیونکہ وہاں ڈیڈ کے اپنی کمپنی اسٹابلیش کی ہے جس کا زمہ میرے سر پہ ڈالا ہے ورنہ تم تو جانتے ہو تمہارے یہاں شفٹ ہونے کے بعد میرا بھی دل کررہا تھا پاکستان رہنے کا۔ ریان نے کجھ اُداس ہوکر کہا۔

اچھا تم کوشش کرنا یہاں سیٹل ہونے کی۔ شاہ میر نے بس اتنا کہا۔

ضرور اور میں لنڈن میں رہ کر بھی اپنے بچوں کی پرورش پاکستانی ٹریڈشن کے مطابق کروں گا۔ ریان نے مزے سے بتایا۔

پہلے شادی کے لیے لڑکی تو تلاش کرلو پھر بچوں کی پرورش بھی کردینا۔ شاہ میر نے گھور کر کہا

شادی بھی ہوجائے گی کونسا بڑی بات ہے یا شادی کرنا مشکل ہے بس میریج فارم میں سائن ہی تو کرنا ہوتا ہے۔ریان اب ملائی ٹِکا کھاتے ہوئے بولا۔

جی بلکل لنڈن میں تو یہی ہوتا ہے ورنہ یہاں تو ماہ کو پورے سات مایوں میں بیٹھایا تھا میں نے تب ان سے بات کرسکتا تھا اور نہ ہی مل سکتا تھا سخت پہرے تھے ان پہ شاہ زیب بھائی کے۔ شاہ میر پورانی باتیں یاد کرتا ہوا بولا

ہاں تیرے سالے صاحب نے جانے کونسے بدلے نکالیں ہے تم سے۔ریان ہنس کر بولا۔

سالے صاحب مطلب؟ شاہ میر کو سمجھ نہیں آیا۔

بیوی کا بھائی سالا ہوتا ہے اور بہن کو سالی کہتے ہیں۔ریان نے اس کی معلومات میں اضافہ کیا۔

بڑا عجیب نام ہے۔ شاہ میر کہتا کافی کا آخری گھونٹ پینے لگا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

مہرماہ بیڈ پہ بیٹھی ناول پڑھ رہی تھی جب شاہ میر واشروم سے ڈھیلی شرٹ کے ساتھ ٹراٶزر پہنتا باہر نکلا شاہ میر تولیہ صوفے پہ رکھتا مہرماہ کو دیکھنے لگا جو بلیک نائٹ سوٹ پہنے کھلے بالوں کے ساتھ ناول پڑھنے میں مگن تھی بالوں کی آوارہ لٹیں اس کہ گالوں پہ جھول رہی تھی جس سے لاپرواہ مہرماہ کا سارا دھیان ناول کی جانب دیکھا۔

جو میں چاہتا ہوں وہ توجہ تو مجھ سے زیادہ اِس ناول کی کتاب کو حاصل ہے۔ شاہ میر گھور کر مہرماہ کے ہاتھوں میں موجود باول کی کتاب کو دیکھا شاہ میر کو مزید مہرماہ کا دھیان خود پہ نا پاکر برداشت نہیں ہوا تو بیڈ پہ چڑھ کر اپنا سر مہرماہ کی گود میں رکھ دیا مہرماہ نے ایک نظر شاہ میر پہ ڈالی پھر دوبارہ ناول پڑھنے لگی۔

سونے کا اِرادہ نہیں کیا آپ کا؟ شاہ میر مہرماہ کے گالوں پہ پڑتے بال اس کے کان کے پیچھے کرتا ہوا پوچھنے لگا۔

بس تھوڑی بچی ہے وہ پڑھ لوں پھر سوتی ہوں۔ مہرماہ نے جواب دیا۔ شاہ میر یک ٹک مہرماہ کو دیکھنے میں مگن ہوگیا۔

شاہ سوجاٶ۔خود پہ شاہ میر کی نظروں کی تپش محسوس کرتی مہرماہ نے اس کی آنکھوں پہ اپنا ہاتھ رکھ کر کہا کیونکہ شاہ میر کی نظروں سے اس کا دھیان ناول سے ہٹ رہا تھا۔

آپ سوجائے پھر۔ شاہ میر اپنی آنکھوں سے مہرماہ کا ہاتھ اپنی آنکھوں سے ہٹاکر اپنے سینے پہ دل کہ مقام پہ رکھ کر بولا

بہت ضدی ہو۔ مہرماہ نے ناول سائیڈ ٹیبل پہ رکھ کر شاہ میر سے کہا جس پہ شاہ میر کے چہرے پہ مسکراہٹ آگئ۔

آپ اگر میرے علاوہ اِس بے جان چیز کو اہمیت دیگی تو میں ضد پہ تو آٶں گا نہ۔شاہ میر نے جواب دیا۔

تمہارا کوئی جواب نہیں۔مہرماہ نفی میں سرہلاتی اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگی جس سے شاہ میر نے سکون سے اپنی آنکھیں بند کرلی مہرماہ غور سے شاہ میر کے چہرے کے نقوش دیکھنے لگی شاہ میر کی بلو آنکھیں اِس وقت بند تھی سپید سفید رنگت پہ ہلکی سی بیئرڈ اس کے چہرے کو وجیہہ بنارہی تھی کشادہ چمکتی پیشانی پہ اِس وقت بال بکھرے ہوئے تھے جو کجھ گیلے بھی تھے مہرماہ سے رہا نہیں گیا تو جھک کر اس کی پیشانی پہ اپنے لب رکھیں۔شاہ میر جو آنکھیں بند کیے مہرماہ کے ہاتھ کا لمس اپنے بالوں پہ محسوس کررہا تھا مہرماہ کو اپنی پیشانی پہ جھکا دیکھا تو اپنی آنکھیں کھول کر مہرماہ کو دیکھا جس کے گالوں کا رنگ گلابی سے لال ہوگیا تھا شاہ میر کی بلو آنکھوں میں چمک آئی تھی جس کو دیکھ کر مہرماہ کا دل زور سے دھڑکا تھا شاہ میر نے مہرماہ کے ہاتھ کو کلائی سے پکڑ کر جھٹکا دیا جو اس کے بالوں میں تھا اچانک جھٹکا لگنے کی وجہ سے مہرماہ شاہ میر کے اُپر گِری تھی۔

شاہ۔ مہرماہ نے شاہ میر کو گھورا جواب میں شاہ میر مسکراہٹ دباتا اس کے گالوں پہ بوسہ دینے لگا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

شاہ زیب ناشتے کی ٹیبل پہ بیٹھا ضروری ای میلز چیک کررہا تھا جب سارہ بیگم نے کجھ تصاویر اس کے سامنے کی۔

یہ کیا ہے امی جان؟ شاہ زیب بنا نظر ڈالیں پوچھنے لگا۔

خاندان میں تمہاری عمر کی کوئی لڑکی نہیں یہ ہمارے جاننے والے خاندان سے دور ان کے ساتھ بس ہمارے بزنس ٹرمز ہیں ان کی بیٹیاں بہت باشعور اور اعلیٰ تعلیم آفتا ہیں تم کوئی لڑکی اپنے لیے پسند کرو تاکہ میں بات آگے کروں۔ سارہ بیگم نے کہا شاہ زیب نے رحم کرتی نظروں سے سکندر خان کو دیکھا جو نو لفٹ کا سائن دیں کر پراٹھا کھانے میں لگ گئے تھے۔ شاہ زیب نے تھکن زدہ سانس ہوا میں خارج کی۔

مجھے تو سب پسند ہیں آپ ان کے سب کے والدین سے بات کریں۔ شاہ زیب نے معصوم شکل بناکر سارہ بیگم سے کہا۔

زیب ہروقت مذاق نہیں کیا جاتا یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے اِس لیے تم بھی سنجیدگی سے اپنی شادی کا سوچو میر تم سے تین سال چھوٹا ہے پر دیکھو کیسے شادی کرلی۔ سارہ بیگم نے شاہ زیب کی اچھی خاصی کلاس لی

میر کا بس چلتا تو وہ اپنی بارہ سال کی عمر میں شادی کرکے بیٹھ جاتا مگر افسوس تب اس کو کسی نے شادی نکاح کا نہیں بتایا تھا۔ شاہ زیب شاہ میر کے نام پہ بولا سکندر صاحب کا قہقہ بے ساختہ تھا شاہ زیب کی بات پہ۔

مذاق مت اُڑاٶ اُس کا۔ سارہ بیگم نے آنکھیں دیکھائی۔

مذاق کہاں اُڑا رہا ہوں جنرل بات کررہا ہوں اب دیکھو انسان پڑھائی پوری کرنے کے بعد اپنے آپ کو سیٹل کرتا ہے بزنس میں پھر جاکر وہ شادی کرتا ہے مگر یہاں تو گنگا ہی اُلٹی تھی مسٹر شاہ میر حیدر خان نے اکیس سال کی عمر میں اپنی پڑھائی چھوڑ کر شادی کرنے کا شوشہ چھوڑا اِس ڈر سے کہ کہیں اس کی ماہ کسی اور کا چاند نہ ہوجائے دوسری حیرت مجھے اِس بات پہ ہے کہ شادی کے ایک ماہ بعد جناب نے MBA میں ایڈمیشن لے لیا۔ شاہ زیب جوس پیتا ساتھ میں بول بھی رہا تھا۔

برخودرا اگر ایسا ہے تو آپ تو اپنی پڑھائی پوری کردی ہے اور بزنس بھی سیٹل کردیا ہے پھر آپ نے اب بھی شادی کرنے کا نہیں سوچا۔ سکندر خان نے توپوں کا رخ دوبارہ سے شاہ زیب کی جانب کیا جو شاہ زیب بڑی مہارت سے خود کو بچاتا شاہ میر کا ذکر کرگیا تھا۔

میں کونسا بوڑھا ہورہا ہوں چوبیس کا ہوں کرلوں گا شادی ابھی بیچلر لائیف گُزارنا چاہتا ہوں۔ شاہ زیب دانتوں کی نمائش کرتا ہوا بولا جس پہ سارہ بیگم ہمیشہ کی طرح سر پکڑ کہ بیٹھ گئ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *