Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Qaid Season 2 (Episode 12)

Ishq Qaid Season 2 by Rimsha Hussain

ولیمے کی تقریب شروع ہوچکی تھی ہرکوئی اسٹیج پہ ان کی طرف آتا مل کر نیچے اُتر جاتا سالار اور پری مسکراکر کوئی بات کررہے تھے شاہ زیب اپنے کسی جاننے کے۔ ساتھ بات کررہا تھا پر ثانیہ کے لیے یہ سب نیا تھا جس وجہ سے وہ کنفیوز ہوگئ تھی کیونکہ زبیدہ بیگم نیچے سارہ بیگم،نادیہ بیگم، ہانم بیگم، کے ہمراہ بیٹھی ہوئی تھی اور ہانیہ پورے ہال میں چکر لگانے میں مگن تھی ایسے میں اس کے دل نے شدت سے مہرماہ کے آنے کی دعا کی تھی۔

کیا ہوا کس کو تلاش کررہی ہو؟ شاہ زیب مسکراکر ثانیہ سے پوچھنے لگا جو گولڈن کلر کے بھاری لہنگے میں ملبوس تھی جس کا ڈوپٹہ باریک سا سر پہ ٹکا ہوا تھا چہرے پہ مناسب میک اپ میں وہ کسی اپسرا کو مات دینے کی حدتک خوبصورت لگ رہی تھی پر چہرے پہ اضطراب کی کیفیت تھی جو شاہ زیب اس کے ڈارک لپ اسٹک سے سجے ہونٹوں کو دیکھ کر جان گیا جن کو وہ بار بار کچل رہی تھی شاہ زیب خود گولڈن کلر کی شیروانی میں ملبوس تھا بالوں کا اس نے پف کا اسٹائل دیا تھا چہرے پہ عجیب سی چمک تھی جس سے وہ بہت سمارٹ اور ہینڈسم لگ رہا تھا ہرکوئی ان کی جوڑی کی تعریف کررہا تھا وہ ایک دوسرے کے سنگ لگ ہی اتنے پیارے رہے تھے۔

مہرو نہیں آئی اب تک۔ ثانیہ نے مدھم آواز میں کہا۔

وہ دیکھوں۔شاہ زیب نے انٹرنس کی طرف اشارہ کرکے کہا جہاں شاہ میر مہرماہ مرجان کے ساتھ سیم ڈریسنگ کیے اندر آرہے تھے۔

کتنے پیارے لگ رہے ہیں نہ؟ ثانیہ نے مسکراکر کہا اب سب لوگوں کی نظریں ان پہ ٹک گئ تھی جو مسکراکر آپس میں کسی بات پہ بحث کررہے تھے شاہ میر کے کندھے پہ مرجان سر رکھ کر۔ سویا ہوا تھا جب کی مہرماہ اپنی میکسی سنبھالتی کجھ کہہ رہی تھی اس سے۔

ہاں ایک دوسرے کو مکمل کرتے ہیں یہ دونوں۔ شاہ زیب مسکراکر اس کی بات پہ اتفاق کرتا بولا۔

مبارک ہو۔ مہرماہ اسٹیج پہ ان چاروں کے پاس آتی ہوئی بولی۔

مل گئ توفیق اپنے بھائی کے ولیمے میں سب سے آخر میں آنے کی۔ شاہ زیب نے میٹھا سا طنزیہ کیا۔

مرجان تیار ہونے نہیں دیں رہا تھا۔ مہرماہ نے وجہ بتائی

مرجان یا مرجان کا باپ۔ شاہ زیب شاہ میر کو دیکھ کر بولا جو پری کے پاس بیٹھا تھا۔

مرجان۔ مہرماہ نے دانت پیستے ہوئے کہا

دیر خود کرو نام دو ماہ کے بیٹے کو دو۔ شاہ زیب سرجھٹک کر بولا جس سے مہرماہ بس اس کو دیکھتی رہ گئ۔

آپی آپ خوش تو ہیں نہ؟ شاہ میر نے پری سے پوچھا جو مرجان کو پیار کررہی تھی۔

ہاں سالار میرا بہت خیال رکھتے ہیں۔پری نے مسکراکر اپنے چھوٹے بھائی کو دیکھ کر بتایا۔

اللہ آپ کو ایسے ہی خوش رکھے۔ شاہ میر نے دعا دی

آمین۔ پری نے فورن سے کہا

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

شاہ میر تھوڑی دیر پہلے ہی سویا تھا جب اس کو مرجان کے رونے کی آواز آئی شاہ میر نے فورن سے آنکھیں کھولی اور بیڈ کی دوسری سائیڈ پہ دیکھا جہاں مہرماہ گہری نیند میں تھی شاہ میر مہرماہ کی نیند خراب ہونے کے ڈر سے آہستہ سے اٹھا اور اپنا فون اٹھا کر اس کی ٹارچ آن کی پھر کارٹ کی طرف آیا جہاں مرجان رونے کا شغل فرمارہا تھا شاہ میر نے اس کو اٹھایا اور دبے پاؤں کمرے سے نکل کر باہر لان میں آیا۔

کیوں رو رہا ہے میرا بیٹا۔شاہ میر مرجان کو ہوا میں چھوڑتا پھر کیچ کرکے پوچھنے لگا اگر مہرماہ یہ منظر دیکھتی تو یقیناً غش کھاکر گِرپڑتی۔

افف کہیں اِس کو بھوک تو نہیں لگی۔شاہ میر خود سے بڑبڑاتا مرجان کو اپنے سینے سے لگاتا کچن میں آیا اور فریج سے دودہ نکال کر اس کو اُبالنے لگا پھر اس کو فیڈر میں ڈالتا کجھ ٹائم کے لیے فریج میں رکھا تب تک مرجان کو لیے یہان وہاں کچن میں ٹہلنے لگا۔

ماہ ایسے ہی دودھ بناتی ہوگی نہ مرجان کا۔تین منٹ بعد شاہ میر فیڈر ہاتھ میں لیتا خود سے سوال کرنے لگا کیونکہ اس کو یہ تو پتا تھا بچے کو دودھ دینے سے پہلے اس کو اُبالا جاتا پر پھر سیدھا پلاتے ہیں یا کجھ اور بھی یہ اس کو نہیں تھا پتا جب اس نے دودہ فیڈر میں ڈالا تھا تب وہ تھوڑا گرم تھا اِس وجہ سے شاہ میر نے فریج میں رکھا تھا شاہ میر سر جھتکتا فیڈر مرجان کے منہ میں ڈالا جس سے مرجان چپ ہوتا فیڈر پینے لگا۔

اووہ ماہ کے مرجان کو بھوک لگی تھی۔شاہ میر مرجان کو مگن انداز میں دودہ پیتا دیکھ کر اس کے ماتھا پہ بوسہ دیتے بولا جس سے مرجان نے اپنی آنکھیں کھول کر بند کی شاہ میر تو فدا ہی ہوگیا تھا اپنے بیٹے کی حرکت پہ پھر اس کو لیکر وہ ہال میں ڈبل صوفے پہ ٹیک لگاتا بیٹھ گیا کہ مرجان دودہ پیتا سوجائے تو وہ اندر کمرے میں جائے وہ نہیں چاہتا تھا کہ مہرماہ کی سکون بھری نیند ڈسٹرب ہو اِس لیے مرجان کو اپنے سینے پہ لیٹاتا اس کی ننہی پیٹھ سہلانے لگا جس سے سکون محسوس کرتا مرجان آنکھیں بند کرگیا تھا اور شاہ میر کو بھی وہی نیند آگئ تھی۔

مہرماہ نے نیند میں کروٹ بدلی تو اس کو بیڈ کی دوسری جگہ خالی محسوس ہوئی اس نے ہاتھ یہاں وہاں رکھ کر شاہ میر کو محسوس کرنا چاہا پر وہ نہیں تھا مہرماہ نے آنکھیں کھول کر مسلی پھر سائیڈ ٹیبل کا لیمپ آن کیا تو کمرہ روشنی میں نہاگیا اس نے دیکھا تو بیڈ پہ وہ اکیلی تھی یکایک اس نے نظر گھماکر کارٹ کی طرف دیکھا جہاں مرجان بھی نہیں تھا مہرماہ نے لحاف خود سے پڑے کیا اور ننگے پاؤں کمرے سے باہر آکر سیڑھیوں کی ریکنگ پہ دیکھا جہاں ہال کا ایک بلب آن تھا جس سے وہ آرام سے شاہ میر کو صوفے کی پشت سے ٹیکا لگاتا نیند میں دیکھا اور اس کے سینے پہ لیٹے پرسکون مرجان کو جس کے منہ میں فیڈر تھا مرجان سات ماہ کا ہوگیا تھا جس سے مہرماہ اس کو اپنے دودھ کے ساتھ ساتھ باہر کا دودھ بھی پلاتی تھی مہرماہ نے مسکراکر ان دونوں کو دیکھا مہرماہ کو یہ منظر حد سے زیادہ خوبصورت لگا مہرماہ مسکراکر کمرے کی طرف آئی اور وہاں سے ایک چادر اٹھاکر وہ ہال میں آئی پہلے اس نے مرجان کے منہ سے فیڈر نکالا تاکہ اس کا سانس بند نہ ہو پھر دونوں کے اُوپر اچھے سے چادر ڈال کر خود وہ شاہ میر کی دوسری سائیڈ پہ آکر بیٹھ کر اپنے اوپر چادر لی اور مسکراکر شاہ میر کے کندھے پہ اپنا سر رکھ کر سونے کے لیے آنکھیں بند کرگئ اگر اس کا جان سے پیارا شوہر اور بیٹا یہاں تھا تو اس کو اکیلے کمرے میں نیند کیسے آتی جلد ہی مہرماہ بھی ان دونوں کی طرح نیند کی وادیوں میں کھوگئ۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

آیان اپنی آنکھیں مسلتا سیڑھیاں اُتر رہا تھا جب اس کی نظر شاہ میر مہرماہ اور مرجان پہ پڑی جو آرام سے صوفے پہ بے آرام ہونے کے بجائے سکون سے نیند میں تھے مہرماہ کا سر شاہ میر کے کندھے پہ تھا اور مرجان شاہ میر کے سینے پہ جب کی اب شاہ میر کا سر مہرماہ کے سر پہ تھا آیان نے مسکراکر یہ خوبصورت منظر دیکھا پر کجھ سوچ کر وہ اپنے کمرے کی طرف بھاگا وہاں سے اپنا موبائل اٹھاکر اس نے جلدی سے کیمرہ آن کی اور مختلف پوز سے یہ منظر اپنے فون میں محفوظ کیا اپنی کاروائی سے وہ مطمئن ہوتا ان لوگوں کی طرف آیا اور آہستہ سے شاہ میر کو آواز دی۔

بھائی۔آیان نے دو تین بار آواز دی پر شاہ میر ٹس سے مس تو نہیں ہوا پر مرجان نے بھاں بھاں کرکے رونا ضرور سٹارٹ کردیا تھا جس سے آیان نے ڈور لگاکر بھاگنے میں عافیت جانی

مرجان کے رونے کی آواز سے شاہ میر نے مندی مندی آنکھیں کھول کر سیدھا ہوا تو اس کی نظر قریب مہرماہ پہ پڑی جو آرام سے اس کا بازوں اپنی مٹھیوں میں جکڑے سوئی تھی مہرماہ کو دیکھ کر شاہ میر کی بلو آنکھوں میں چمک آگئ تھی اس کو نہیں تھا پتا مہرماہ کب آئی پر اس کو اپنے پاس دیکھ کر شاہ میر نے ہمیشہ کی طرح سکون محسوس کیا تھا۔ شاہ میر نے مہرماہ کے ماتھے پہ بوسہ دیا اور مرجان کو دیکھا جس کا چہرہ آنسوؤ سے بھیگ گیا تھا

رونے میں تو تمہارا مقابلہ اسٹار پلس کی ہیروئن بھی نہ کرپائے۔شاہ میر کوفت سے بڑبڑایا جس سے مہرماہ کی بھی آنکھ کھلی۔

مجھے دو رات کو تم نے اپنا سکون خراب کیا تھا۔مہرماہ اپنی حالت درست کرتی مرجان کو شاہ میر سے لیا۔

کیونکہ پھر آپ کا سکون نیند یہ روندو خراب کردیتا۔شاہ میر اٹھتا ہوا بولا۔

میرے بچے سے جانے کیا پرخاش ہے تمہیں۔مہرماہ نے گھور کر شاہ میر سے کہا

جب دیکھو چپکا رہتا ہے آپ کے ساتھ۔شاہ میر نے ڈبل گھوری سے مرجان کو نوازا جو اپنے ننہے ہاتھ مہرماہ کے چہرے پہ پھیر رہا تھا۔

جاکر یونی کے لیے تیار ہوجاؤ۔مہرماہ نے نفی میں سرہلاتے ہوئے کہا شاہ میر دوبارہ مہرماہ کے ماتھے پہ پیار کرتا مرجان کے گال پہ بوسہ سیڑھیوں کی جانب گیا مہرماہ مسکراکر گردن موڑ کر شاہ میر کو دیکھا جو سیڑھیاں عبور کرگیا تھا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

ثانیہ میری ٹائی نہیں مل رہی۔ شاہ زیب نیچے آتا ثانیہ کہ پاس آتا جھنجھلا کر بولا۔

وہی تو تھی میں دیکھ کر آتی ہوں۔ ثانیہ جو سارہ بیگم کے ساتھ کچن میں جانے والی تھی شاہ زیب کی بات سن کر بولی۔

جلدی کرو پلیز میری ضروری میٹنگ ہے آج۔ شاہ زیب آتا دوبارہ اندر کی جانب جانے لگا۔

یہ تو ہے۔ ثانیہ کبرڈ میں سے بلیک کلر کی ٹائی نکال کر شاہ زیب کے سامنے کی آج شاہ زیب بلیک کلر کے پینٹ کورٹ میں ملبوس تھا اِس لیے ثانیہ نے بلیک ٹائی اس کے سامنے کی

اچھا باندھو اب۔ شاہ زیب نے کہا تو ثانیہ شاہ زیب کے گلے میں ٹائی ڈالر اس میں گرہ لگانے لگی۔

مجھے کب دوگی۔ ثانیہ ٹائی باندھ کر جانے لگی تھی جب شاہ زیب اس کا ہاتھ پکڑ کر بھاری آوا میں بولا۔

سب کجھ تو دے دیا اب اور کیا چاہیے۔ ثانیہ نے پوچھا تو شاہ زیب مسکراتا اس کان کے پاس جھک کر بولا

مجھے بے بی چاہیے۔

امی بولا رہی ہیں شاید۔ ثانیہ شاہ زیب کی بات پہ سرخ ٹماٹر ہوتی ہوئی بولی سارہ بیگم کے بہت بار کہنے پہ وہ اب انہیں آنٹی کے بجائے امی کہتی تھی۔

پہلے ان کے بیٹے کو تو جواب دو۔ شاہ زیب بضد ہوا۔

آپ کی تو ضروری میٹینگ تھی نہ۔ ثانیہ نے اس کا دھیان دوسری طرف کرنا چاہا۔

یہ بھی ضروری بات ہے۔ شاہ زیب نے کہا

جب اللہ نے چاہا تو ہوجائے کا بچہ بھی میں کیا کہہ سکتی ہوں۔شاہ زیب کو ایک بات پہ ڈٹا دیکھ کر اس نے گہری سانس لیکر کہا۔

اچھا۔شاہ زیب نے بس اتنا کہا اور بیڈ سے اپنی فائل اٹھانے لگا ثانیہ نے حیرت سے شاہ زیب کا ٹھنڈا ری ایکشن دیکھا تھا اس کو سمجھ نہیں آیا کہ اچانک شاہ زیب کو بچے کی خواہش کیسے ہوئی پر اس کو کجھ سمجھ نہیں آئی تبھی شاہ زیب کو باہر جاتا دیکھا تو وہ بھی اس کی تلقید میں باہر آگئ۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

مہرماہ واشروم میں نہا رہی تھی جب کی شاہ میر بیڈ پہ بیٹھا مرجان سے کھیلنے میں مگن تھا جب اس کا سیل فون بجا شاہ میر نے دیکھا تو ریان کی کال تھی اِس لیے جلدی کال اٹھائی ساتھ میں مرجان کو بیڈ سے نیچے اُتارا جس پہ وہ کِھل کھلاتا نیچے فرش پہ اپنے ڈھیر سارے کھلونوں کی جانب آیا وہ اب چل تو نہیں سکتا تھا پر رینگتا ضرور تھا جس وجہ سے شاہ میر اکثر اس کو چلانے کی بھی کوشش کرتا تھا تاکہ وہ جلد چلنا سیکھ جائے۔

کیسے ہو ریان؟ شاہ میر نے پوچھا

میں تو بہت خوشششش۔ ریان نے الفاظ کھینچ کر ادا کیے۔

اچھا وجہ؟ شاہ میر اس کے لہجے میں خوش محسوس کرتا متجسس ہوا۔

اللہ کے حکم سے مہرین نے آج دو بیٹیوں کو جنم دیا ہے اور میر میں ان کو اپنی گود میں اٹھانے کے بعد کتنی خوشی محسوس کررہا تھا تمہیں بتا نہیں سکتا۔ ریان نے گہری سانس بھر کر بتایا جس پہ شاہ میر بھی خوش ہوا اولاد کا پہلی بار لمس محسوس کرکے کیسا لگتا ہے یہ تو وہ اچھے سے جانتا شاہ میر نے ایک نظر مرجان پہ ڈالی جو سب کھلونوں کو اوپر نیچے کررہا تھا پھر ریان کی کال پہ متوجہ ہوا۔

بہت مبارک ہو اللہ نے اپنہ رحمت سے نوازا ہے تمہیں۔شاہ میر نے کہا

ہاں۔ ریان نے بس اتنا کہا خوشی کے مارے اس کی آنکھوں میں نمی اُتر آئی تھی۔

بھابھی مہرین کیسی ہیں۔ شاہ میر نے پوچھا

وہ بھی بلکل خوش ہے جڑواں بچے ہیں کا اس کو پتا تھا دونوں بیٹیاں ہیں یہ سن کر وہ بھی بہت خوش ہوئی ہے۔ ریان نے بتایا۔

پھر تو دونوں کو پہچاننے میں مشکل ہوتی ہوگی نہ۔ شاہ میر نے پوچھا

نہیں نہیں جڑواں ہیں پر سیم شکل نہیں ہیں۔ ریان شاہ میر کی بات سمجھتا ہوا بولا

اوو تصویر ضرور سینڈ کرنا مجھے۔شاہ میر نے وارن کیا۔

وہ تو میں نے کردی ہیں تم نے دیکھی نہیں۔ریان نے مسکراکر کہا تبھی اپنی طرف ڈاکٹر کو آتا دیکھا تو شاہ میر سے بولا۔

میر ابھی میں ہوسپٹل ہوں پھر بعد میں بات کرتے ہیں۔

ٹھیک ہے۔شاہ میر کہتا رابطہ متفق کیا۔

کیا بات ہے؟ مہرماہ واشروم سے نکلی تو شاہ میر مسکراتا دیکھا تو پوچھا۔

میرا دوست ہے نہ اس کے یہاں دو جڑواں بیٹیوں کی پیدائش ہوئی ہے۔ شاہ میر نے بتایا۔

ماشااللہ یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ مہرماہ نے مسکراکر کہا۔

ہے تو سہی۔ شاہ میر بس اتنا بولا

اِس نیچے کیوں اُتارا میں نے کجھ پہلے ہی تو نہلایاں تھا۔ مہرماہ کی نظر جب مرجان پہ پڑی تو تاسف سے شاہ میر کو دیکھ کر کہا جو اب ریان کی سینڈ کی بچیوں کی تصویریں دیکھ رہا تھا۔

نیچے رہے گا تو چلنا سیکھے گا ورنہ تو بس آپ کے ساتھ چپکا رہے گا۔ شاہ میر نے آرام سے کہا پر مہرماہ مرجان کو اٹھاتی شاہ میر کی گود پہ رکھا جس پہ شاہ میر بس ٹھنڈی آہ بھر کر رہ گیا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

چار سال بعد!

ان سب کی زندگیوں میں چار سال کا وقت گزرگیا تھا پر اِن چار سالوں میں کجھ نہیں بدلا تھا اگر کجھ تھا تو یہ کے شاہ میر جو دوسرے بچے سے پناہ مانگتا تھا اب وہ بیٹے کے ساتھ ساتھ ایک بیٹی کا باپ تھا مرجان کے دو سال ہونے کے بعد ہی اللہ نے پھر سے اس کی بچے کی نعمت سے نوازا تھا جس پہ شاہ میر نے پہلے سے زیادہ مہرماہ کو خیال رکھا تھا اور ساتھ میں مرجان کو بھی اس نے دیکھنا ہوتا باقی سے تو مرجان کو اٹھاتے بہلاتے پر رات میں وہ تو یا مہرماہ کی سنتا یا شاہ میر کی ان کے علاوہ کسی اور کی نہیں۔شاہ میر کو اپنی ایک سالہ بیٹی حیات سے بے انتہا محبت تھی مہرماہ کے بعد اگر اس کی آنکھوں میں چمک آتی تھی تو وہ حیات تھی جب وہ مسکراتی تو شاہ میر بھی مسکرا پڑتا اگر وہ تھوڑا روتی تو شاہ میر پورا گھر سر پہ اٹھالیتا حیات پوری طرح مہرماہ کی طرح تھی اس کے بالوں کا رنگ اس کے نین نقش اس کے مسکرانے کا طریقہ سب کجھ بس ایک آنکھیں تھی جو اس نے شاہ میر سے لی تھی ورنہ وہ ایک سال کی عمر میں ہی مہرماہ کا عکس تھی جب کی مرجان شاہ میر کا جس طرح شاہ میر کو مرجان اپنا رقیب لگتا ہے ویسے ہی اب حیات مہرماہ کو اپنا رقیب لگنے لگی ہے مہرماہ کو جو شاہ میر کی حرکتیں عجیب لگتی تھی انجانے میں وہ خود ایسے کام کردیتی مہرماہ کو یہ بات برداشت نہیں ہوتی تھی کہ اس کے علاوہ شاہ میر کی بلو آنکھوں میں چمک آئے۔ جب کی شاہ میر اب بھی ویسے ہی مہرماہ سے عشق کرتا تھا یا یوں کہے جائے کے اس سے زیادہ پر اب مصروفیت کی وجہ سے مہرماہ کو لگتا تھا شاہ میر ویسے نہیں چاہتا شاہ میر اپنی پڑھائی کے بعد حیدر خان کے۔ ساتھ آفس جاتا تھا اس کے بعد بچوں اور مہرماہ کو وہ جتنا وقت دے سکتا تھا وہ دیتا تھا۔

دوسری طرف شاہ زیب اور ثانیہ کا تین سالہ کا بیٹا تھا شاہ ویر جس کو سب ویر کہتے تھے سکندر خان کی اپنے پوتے میں جان تھی جو شاہ زیب کی طرح شرارتی تھا ثانیہ کا سر چکراجاتا اس کی شرارتوں سے پر وہ بھی ڈھیٹ ہڈی تھا شاہ زیب اپنی زندگی میں خوش تھا کیونکہ شاہ ویر کے بعد اس کی فیملی مکمل ہوچکی تھی شاہ ویر گورے رنگ کا خوبصورت بچہ تھا جس کے کجھ نین نقش شاہ زیب سے ملتے تو کجھ ثانیہ کے پر آنکھوں کا رنگ اس کا سب الگ تھا شاہ ویر کی آنکھوں کا رنگ گولڈن شڈڈ تھا مہرماہ کو اپنے بھتیجے سے تو پیار بہت تھا پر اس کی شاہ ویر کی آنکھیں بہت پسند تھی۔

سالار اور پری کی ایک بیٹی تھی پریسہ جو پری کی طرح معصوم تھی سیدھی سادھی بھولی سی وہ دیکھنے میں سالار کی طرح تھی پر آنکھیں اس کی بھی الگ تھی جس کا رنگ لائٹ براؤن تھا پریسہ کی پیدائش میں پیچیدگیاں تھی جس وجہ سے ڈاکٹرز نے کہا تھا پری پھر دوبارہ کبھی ماں نہیں بن سکتی جس پہ سالار نے کوئی ری ایکٹ نہیں کیا تھا اس کے لیے یہی بہت تھا کہ اللہ نے اپنی رحمت سے نوازا تھا اس کو اپنی بیٹی سے بہت پیار تھا بیٹے کی خواہش اس نے کبھی نہیں کی اگر دل میں ہوتی تو دفنا دیتا وہ پری کو احساسِ کمتری کا شکار نہیں ہوتے دیکھنا چاہتا تھا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

ڈیڈ کی ڈول نے کیا حال بنا رکھا ہے اپنا۔شاہ میر آفس سے گھر لوٹا تو اس کی نظر فرش پہ رینگتی حیات پہ پڑی جس کا چہرہ چاکلیٹ سے بھرا ہوا تھا شاہ میر مسکراتا اس کو اپنی بانہوں میں اٹھایا۔

دید مردان۔

شاہ میر ہنس پڑا حیات کی بات سن کر جو کہنا چاہتی تھی مرجان نے کی ہے حیات کی پیدائش پہ شاہ میر نے مہرماہ سے کہا تھا ہم اپنی بیٹی کا نام مرجان رکھتے ہیں تم بیٹے کا کوئی اور نام سوچو ہر مہرماہ نے شاہ میر کی ایک نہیں سنی اُس سے پہلے مہرماہ اپنی بیٹی کا نام لڑکوں والا رکھتی شاہ میر نے اس کا نام حیات میر رکھ لیا تھا جو سب کو بہت پسند آیا تھا

ڈیڈ آپ آگئے۔چار سالہ مرجان اپنے ہاتھ میں بھالوں لاتا ہوا بولا۔

ہاں جی میں آگیا۔شاہ میر نے مرجان کو بھی اپنی بانہوں میں اٹھاتا کہا اب شاہ میر کے ایک بازوں پہ حیات تو دوسری طرف مرجان تھا شاہ میر ان کو لیے کمرے میں آیا جہاں مہرماہ ان کا پھیلایا ہوا گند صاف کررہی تھی چہرے پہ غصے کے تاثرات صاف نمایاں تھے جس سے شاہ میر کو بچوں کے ساتھ ساتھ اپنی شامت پہ دیکھائی تھی۔

تم نے مما کو تنگ کیا ہے۔شاہ میر نے مرجان سے پوچھا جس پہ وہ فورن نفی میں سر کو جنبش دیتا حیات کی طرف اشارہ کرنے لگا شاہ میر نے گردن موڑ کر چھوٹی آنکھیں کیے حیات کو دیکھا جو اپنے دو دانتوں کی نمائش کررہی تھی مطلب اس کو اپنا جرم قبول تھا کہ یہ گند اس کا پھیلایا ہوا ہے شاہ میر اپنی بیٹی کی ڈھٹائی پہ مسکرایا۔

آگِئے تم اور حیات کو تو میری نظروں سے دور کرو غضب خدا کا ہے ایک پائونڈ کی مشکل ہے اور میرا جینا دوبہر کردیا ہے۔مہرماہ تیزی سے سامان یہان وہاں ترتیب دیتی شاہ میر کو بولی جو اپنی حیات کے لیے ایک پائونڈ کا لفظ سن کر حیرت میں غلطان تھا۔

ماہ پلیز میری حیات کو ایسے مت بولوں۔شاہ میر حیات کا چہرہ چومتا مہرماہ سے بولا جس پہ مہرماہ کو مزید تاؤ آیا۔

یہ آپ کی حیات چھوٹا پیک بڑا دھماکہ ہے کمرے کا حشر دیکھو کیا کردیا ہے کیا میں بس سارا دن کمرہ سیٹ کرتی رہوں گی ہمارا کمر الگ خراب کیا ہے اور مرجان کا الگ اس کے تو کھلونے ہی توڑ کر رکھ دیئے ہیں بس ایک بھالوں سلامت ہیں۔مہرماہ نے مرجان کے ہاتھ میں بھالوں دیکھ کر تیز آواز میں حیات کی شکایت لگائی۔

حیات اگر اتنی محنت کی تھی تو بھالوں پہ بھی کردیتی۔شاہ میر نے مرجان کو نیچے اُتار کر حیات سے بولا جیسے اس کو بہت افسوس ہوا تھا کہ حیات نے مرجان کا بھالوں بھی کیوں چھوڑا جس پہ حیات نے بھی منہ بناکر افسوس کا اظہار کیا۔

شاہ۔مہرماہ نے غصے سے شاہ میر کی جانب تکیہ مارا جو شاہ میر نے ایک ہاتھ سے کیچ کرلیا تھا مرجان تو بھاں بھاں کرتا رونا شروع کرچکا تھا اس کو تو اب پتا چلا تھا اس کی بہن نے اس کے کِھلونوں کے ساتھ کیا کاروائی کی ہے۔

سنبھالوں اپنے روندو پُتر کو ہم تو چلیں۔شاہ میر نے ایک نظر روتے ہوئے مرجان کو دیکھا جو چار سال کا ہوکر بھی زور زور سے روتا تھا شاہ میر مہرماہ کی طرف فلائنگ کس اُچھالتا حیات کو لیے روم سے باہر چلاگیا۔

نا میرا بچہ مما نئے کِھلونے لیکر دے گی۔مہرماہ مرجان کو اپنے ساتھ لگائے کہا۔

حیات گندی۔مرجان بھاں بھاں کرتا ہوا بولا

مرجان حیات بہن ہے اور بہن کے بارے میں ایسا نہیں کہتے۔مہرماہ نے اس کے روئی جیسے گال صاف کرتے پیار سے سمجھایا۔

وہ ہر بار ایسا کرتی۔مرجان نے شکایت کی۔

شاہ نے بگاڑا ہے اس کو بجائے سمجھانے کے اس کو اور شے دیتا جس سے وہ ایک سال میں ہی اتنی ڈھیٹ ہوگئ ہے اللہ جانے آگے میرا کیا ہوگا۔مہرماہ کو آگے کی فکر لگ گئ۔

مما میں جاؤں۔مرجان نے مہرماہ سے کہا

کدھر؟مہرماہ نے پوچھا۔

ویر کے پاس۔مرجان نے بتایا۔

ٹھیک ہے گارڈ کو کہنا چھوڑ آئے۔مہرماہ نے کہا۔

حیات چاچوں کے پاس آؤ۔آیان نے شاہ میر کی گود میں بیٹھی حیات سے کہا جو شاہ میر کے کانوں میں اپنی توتلی زیان میں جانے کیا کہہ رہی تھی اور شاہ میر بھی بڑی دلجمعی کے ساتھ اس کی باتیں سن رہا تھا جیسے اِس سے زیادہ ضروری کام اور ہو ہی نہ۔

ن نہ۔حیات نے آیان کو زبان دیکھائی جس سے شاہ میر کا جاندار قہقہ گونجا حیدر خان بھی مسکرا اٹھے ان کو اپنی شرارتی پوتی عزیز تھی شرارت کرنے میں ان کو بھی نہیں بخشتی تھی آیان کو منہ حیرت سے کُھل گیا۔

بھائی آپ کی بیٹی بڑی کوئی بے وفا ہے۔آیان نے منہ بناکر کہا۔

خبردار جو میری حیات کو کجھ کہا تو۔شاہ میر نے آیان کو آنکھیں دیکھائی۔

یاہوں۔حیات نے خوشی سے نعرہ لگایا۔

بس یہی کام رہ گیا تھا وہ بھی کردیا۔مہرماہ حیات کا فیڈر لاتی تاسف سے بولی۔

کیوں میری بیٹی کو سناتی رہتی ہو ہر وقت۔شاہ میر نے شکوہ کیا۔

بیٹی کم گُنڈی زیادہ ہے۔مہرماہ نے کہتے ہی فیڈر حیات کی جانب بڑھایا۔

دید۔مہرماہ نے فیڈر دینا چاہا تو حیات نے شاہ میر کی طرف اشارہ کیا جس پہ مہرماہ کو غصہ آیا

لوں پکڑو دو اپنی لاڈلی کو۔مہرماہ شاہ میر کے ہاتھ میں فیڈر دیتی تن فن کرتی وہاں سے چلی گئ۔

میری بیٹی کو میرے ہاتھ سے فیڈر پینا ہے۔شاہ میر نے مسکراکر حیات کے منہ میں فیڈر ڈالا تو وہ مگن انداز میں سر کو دائیں بائیں گھماتی دودہ پینے لگی۔

میر واقع حیات بہت شرارتی ہوگئ ہے مہرو کو تنگ بھی بہت کرتی ہے جس سے اس کا غصہ کرنا جائز ہے۔ہانم بیگم ان کے ساتھ بیٹھتی ہوئی بولی۔

امی جان بچی ہے اب اگر مستیاں نہیں کرے گی تو کب کریں گی۔شاہ میر نے محبت سے حیات کی طرف دیکھ کر بولا۔

سہی کہتی مہرو تمہاری ڈھیل کا نتیجہ ہے۔حیات دودہ منہ میں ڈالے پاس بیٹھی ہانم بیگم کے کپڑوں میں گِرایا تو ہانم بیگم بڑبڑاتی وہاں سے اٹھی حیات بولتی بھلے ٹھیک سے نہ تھی پر سمجھتی سب ضرور تھی اِس لیے اُس نے یہ حرکت کی تھی شاہ میر نے لب دانتوں تلے دبائے

حیات میری جان مستی اپنے طرف پر بڑوں سے ایسے نہیں کرتے۔شاہ میر نے سمجھایا تو حیات فیڈر میں ڈالے اس کے سینے پہ اپنا سر رکھ گئی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *