Ishq Qaid Season 2 by Rimsha Hussain NovelR50563 Ishq Qaid Season 2 (Episode 30)
Rate this Novel
Ishq Qaid Season 2 (Episode 30)
Ishq Qaid Season 2 by Rimsha Hussain
مجھے آپ سے کجھ بات کرنی تھی۔زرجان ماہا کے سامنے آتا بولا۔
ہمم بولوں۔ماہا نے اجازت دی۔
وہ مجھے آپ سے کہنا تھا
ماہا تم یہاں ہو میں نے کہا تھا آج میری کلاس کے اسٹوڈنٹس کو پڑھانا ہے۔زرجان کی بات بیچ میں ہی تھی جب مہرین ماہا کے پاس آتی بولی۔
میں بس جارہی تھی پر زرجان کو شاید کوئی کام تھا۔ماہا نے جواب دیا۔
پہلے تم جاؤ۔مہرین نے زرجان پہ نظر ڈالیں بنا کہا۔
میری بات ضروری ہے۔زرجان نے فورن سے کہا وہ آج سوچ کر آیا تھا ماہا کو اپنے دل کی بات بتادے گا اِس لیے سیدھا وہ یہاں آگیا تھا وہ کہہ بھی دیتا پر مہرین کی آمد میں اس کی بات پوری نہ ہوسکی۔
ضروری فلحال ماہا کا ابھی فزکس ڈپارٹمنٹ میں جانا ہے۔مہرین نے سنجیدگی سے کہا ماہا اپنا پرس اٹھاتی چلی گئ تو مہرین زرجان کی طرف متوجہ ہوئی۔
تم میرے آفس آنا بات کرنی ہے۔مہرین نے کہا تو زرجان نے سرہلایا۔
جی کہے۔زرجان نے کہا۔
تم نے میر بھائی سے جو کہا انہوں نے ریان سے کہا ریان تو اپنی دوستی کے آگے مجبور ہے پر میں یا ماہا نہیں اِس لیے بہتر ہے تم اپنی پڑھائی پہ دھیان دو ناکہ عشق معشوقی کے چکر میں پڑوں میری بیٹی نہ ٹین ایجر ہے اور نہ تمہاری عمر کی اور نہ ہی ایسے شوق ہیں اُس کے۔مہرین سخت لہجے میں کہا تاکہ زرجان اپنی بات سے پیچھے ہٹ جائے کیونکہ ریان نے اُس سے بول چال بند کر رکھی تھی جس کا قصوروار وہ شاہ میر اور زرجان کو سمجھ رہی تھی۔
میرا دھیان پڑھائی پہ ہے دوسری بات یہ کے میں ماہا سے بہت محبت کرتا ہوں اور آپ سے یہ امید رکھتا ہوں کے آپ ہمارے درمیان نہیں آئے گی۔زرجان نے کہا
تمہارے اور ماہا کے درمیان۔مہرین اتنا کہہ کر ہنس پڑی۔زرجان کو ان کا ہنسنا پسند نہیں آیا۔
زرجان چھ سال بڑی ہے وہ تم سے کل صاف لفظوں میں اُس نے کہہ دیا تھا وہ تم سے شادی کرنے کا سوچا بھی کیسے ریان نے۔مہرین کی بات پہ زرجان ساکت ہوا تھا اس کو لگ رہا تھا اس کا دل بند ہوجائے گا مگر ستم یہ تھا اس کی سانسیں چل رہی تھی اتنا کجھ سننے کے باوجود بھی۔
ماہا اتنی بے وقوف نہیں جو خود سے چھوٹے امیچور لڑکے کو اپنا لائف پارٹنر بنائے گی اِس لیے جتنا ہوسکے اُتنی جلدی یہ بات سمجھ لو۔مہرین زرجان کا دل لہولہان کرتی خاموش ہوگئ تھی۔





ریان نے کوئی جواب دیا۔مہرماہ نے سپاٹ انداز میں شاہ میر سے پوچھا۔
ابھی تو کوئی بات نہیں ہوئی۔شاہ میر نے جواب دیا۔
کہے گا تو وہی جس کا مجھے ڈر ہے۔مہرماہ نے کہا۔
اتنا نیگیٹو کب سے سوچنے لگی آپ۔شاہ میر کو افسوس ہوا۔
مجھے نہیں پتا پر شاہ زر کو بڑھاوا دے کر تم نے اچھا نہیں کیا۔مہرماہ شاہ میر کو دیکھ کر کہا۔
سہی یا غلط یہ تو نہیں پتا پر میں زر کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتا تھا اُس کی کوئی ناجائز خواہش نہیں جو ہم اُس کا ساتھ نہ دے۔شاہ میر نے کہا
پیار کیا بھی تو کِس سے۔مہرماہ طنزیہ مسکرائی
محبت نہ پوچھ کر ہوتی ہے نہ بتاکر۔شاہ میر نے مسکراکر کہا
دماغ خراب ہے تم باپ بیٹے کا۔مہرماہ اکتاکر بولی۔




ماہا فری ہو تو میری بات سننا۔ماہا لاونج میں تھی جب ریان سنجیدگی سے کہتا اسٹڈی روم کی طرف گیا ماہا نے ایک نظر پاس بیٹھی مہرین پہ ڈالی پھر اُٹھ کر اسٹڈی روم کی طرف آئی۔
جی ڈیڈ بولیں۔ماہا نے کہا
تمہارے لیے ایک رشتہ آیا سوچا تمہیں بتادوں اِس بار میں انکار نہیں سنوں گا بیٹی کا پہلا رشتہ آئے تو اُس کو ٹھکرایا نہیں کرتے پر خیر وہ تمہاری بہن کا نصیب تھا میں چاہوں گا اِس بار تم میری زبان کا پاس رکھو اور رشتے کے لیے حامی بھرو۔ریان نے اپنی بات شروع کی۔
میں شادی نہیں کرنا چاہتی۔ماہا نے سنجیدگی سے کہا
شادی سنت ہے اِس لیے کوئی بحث نہیں ہوگی جوان بیٹی کو بلاوجہ گھر پہ رکھنے سے اللہ کی طرف سے گُناہ نازل ہوتا ہے بیٹی کے بالغ ہوتے ہی اُس کے نکاح کا حکم ہے۔ریان نے اپنی بات پہ وزن قائم کیا تاکہ ماہا کوئی اور بہانا نہ کریں۔
کون ہے جس کا میرے لیے رشتہ آیا ہے؟ماہا نے پوچھا کے شاید اب کوئی دوسرا ہو۔
شاہ میر کا بیٹا زرجان میر۔ریان نے کہا
ڈیڈ پلیز اب آپ مجھے شرم آرہی ہے یہ سوچ کر کے آپ میری شادی میری کم عمر لڑکے سے کرنا چاہتے ہیں۔ماہا نے ریان کے سامنے ہاتھ جوڑ کر کہا۔
ہمارے نبی کریم ﷺ بھی حضرت بیبی خدیجة الکبرا سے 15 سال چھوٹے تھے۔ریان نے بتایا
ڈیڈ وہ اللہ کے رسول تھے آپ مجھے اِس طرح راضی نہیں کرسکتے زرجان میر آخری لڑکا تو نہیں۔ماہا نے تھک ہار کر کہا دل میں ہزار بار اللہ سے معافی بھی مانگ لی۔
تمہاری نظر میں کوئی اور ہے تو بتادو ورنہ زرجان تمہاری عمر کا لگتا ہے۔ریان نے کندھے اُچکاکر کہا
مجھے کجھ دن کا وقت دے۔ماہا نے گہری سانس لیکر کر کہا اب اس کو اپنے لیے لڑکا بھی تو ڈھونڈنا تھا نہ۔
تین دن ہے تمہارے پاس اِن تین دنوں میں اگر تم نے خود کسی لڑکے کا انتخاب نہیں کیا تو چوتھے دن تمہارے ہاتھ کی اُنگلی میں زرجان میر کے نام کی انگھوٹی ہوگی۔ریان نے فیصلہ سنایا۔
تین مہینے کا وقت دیتے آپ یہ تین دنوں میں کیسے میں۔ماہا ریان کی بات پہ بوکھلاکر بولی۔
تین دن بہت ہے اب تم سوجاؤ رات بہت ہوگئ ہے۔ریان ہاتھ میں کتاب تھام کر بولا ماہا بس ریان کو دیکھتی رہ گئ جس نے آرام سے اُس کا سکون غارت کردیا تھا۔






کجھ شامیں زندگی کی
ایسی بھی ہوتی ہے
جہاں
رفتہ رفتہ سورج نہیں
ہم خود غروب ہوجاتے ہیں
زرجان اپنے کمرے کی بالکنی کی ریکنگ پہ کہنیاں ٹکائے دور آسمان میں خلاؤں کو گھور رہا تھا مہرین کی باتیں اُس کے دماغ میں کسی ہتھوڑے کی طرح لگ رہی تھی۔
کیا اب محبت انسان عمر دیکھ کر کریں؟زرجان بس سوچ سکا وہ جان نہ سکا اگر کبھی کسی کو محبت ہوتی ہے تو کوئی اور اُس انسان کو ٹھکرانے میں کبھی اسٹیٹس کبھی رنگت کبھی ذات وغیرہ کو بیچ میں کیوں لگاتے ہیں محبت تو ایک پاکیزہ جذبہ ہے جو بنا کسی غرض کے دل میں اُترتا ہے پھر کوئی کیوں نہیں سمجھتا۔
کیا میں نے لاحاصل کی تمنا کی ہے۔یہ سوچ آتے ہی زرجان کا وجود کانپ اُٹھا۔
اللہ ہر چیز پہ قادر ہے سب کجھ اُس کے کُن کی محتاج ہے لوگ کیا کہتے ہیں کیا کرتے ہیں یہ ضروری نہیں،ضروری تو یہ جاننا ہے اللہ کیا چاہتا ہے اُس نے کیا لکھا ہے اُس کو راضی کیسے کرنا ہے اللہ تو غفور الرحیم ہے جو انسان کے ایک آنسو پہ اُس کے سارے گناہ ساری خطائے معاف کردیتا ہے تو پھر کیسے ممکن ہے کے وہ اللہ سے ماہا مانگے گا اور وہ مایوس کریں گا۔زرجان کے چہرے پہ پرسکون لہر ڈورگئ۔
اب میں کسی سے کجھ نہیں کہوں گا اب میں بس اللہ سے دعا مانگوں گا اگر اللہ نے ان کو میری قسمت میں ڈال دیا تو کوئی کجھ نہیں کرسکتا کیونکہ جب تک اللہ نہ چاہے کوئی کجھ نہیں کرسکتا تو بس میں اب کسی اور باتوں میں آکر خود کو مایوس یا ناامید نہیں ہوگا بلکہ اللہ کے سامنے گِرگراؤں گا تو وہ میری ضرور سنے گا اب بس بہت ہوا۔زرجان خود سے عزم کرتا بالکنی سے نکلتا کمرے میں آیا پھر کمرے سے نکلتا اپنا رخ باہر مسجد کی جانب کیا۔
پہنچ گئ ہے دعائیں عرش پہ
تم اب بس میرے ہونے کا انتظار کرو۔






ماہا پریشان سی اپنے کمرے میں ٹہل رہی تھی ریان کے فیصلے نے اُس کو حقیقتاً پریشان کردیا تھا اُس کو سمجھ نہیں آرہا تھا اب زرجان نامی بلا سے کیسے خود کی جان چُھڑائے۔
زرجان سے بات کروں ظاہر ہے کوئی مرد کبھی نہیں چاہے گا اُس کی شادی بڑی عمر لڑکی سے ہو۔ماہا کے دماغ میں اچانک سے ایک خیال کوندہ۔
کل یونی میں بات کرتی ہوں اللہ بہتر کریں گا انشااللہ۔ماہا اپنی سوچ سے مطمئن ہوتی لیٹ کر سونے کی کوشش کرنے لگی جب اُس کا فون وائبریٹ ہوا اسکرین پہ دیکھا تو کوئی انون نمبر تھا۔
رات کو انون نمبر پہ کال۔ماہا نے اُلجھ کر خود سے سوال کیا پھر کجھ سوچ کر کال اٹینڈ کرلی کے شاید ضروری ہو۔
ماہی میں مرجان بات کررہا ہوں۔اسپیکر پہ اُبھرتی آواز سن کر اُس کی آنکھوں میں خون اُتر آیا ماہا نے زور سے اپنی آنکھیں بند کرکے خود کو رلیکس کیا۔
میں ماہا ہوں اور جیجا جی خیر تو ہے یہ کونسا وقت ہے اپنی سالی کو فون کرنے کا۔ماہا نے طنز انداز میں کہا دوسری طرف گھر کے لان میں بیٹھا مرجان گہری سانس بھرتا رہ گیا کتنے دنوں سے وہ ماہا سے بات کرکے معافی مانگنا چاہتا تھا تاکہ یہ چیپٹر کلوز ہوجائے ملیحہ یا گھر میں کسی اور کو کجھ پتا نہ چلیں پر آفس کی مصروفیت کی وجہ سے اُس کو وقت نہیں مل پایا تھا آج جب کام سے کجھ فارغ ہوا تو ملیحہ کے سونے کے بعد وہ لان میں آتا ماہا سے بات کرنے کا سوچا اِس بیچ میں وہ ٹائم کیا ہوا یہ بات فراموش کرچکا تھا۔
تم سے معافی مانگنا چاہتا ہوں پلیز مجھے معاف کردوں میں بہت شرمندہ ہوں پلیز مجھے معاف کرکے شرمندگی کے عذاب سے بچالوں.مرجان کا لہجہ منت بھرا تھا جس کو محسوس کرکے ماہا کو لگا جیسے کسی نے ٹھنڈی پھوار اس کے وجود میں ڈورگئ ہو۔
یہ کوئی وقت نہیں کسی لڑکی کو کال کرنا خاص طور پہ اپنی سالی کو اگر تمہیں کوئی بات کرنی ہو تو گھر آجایا کرو۔ماہا اپنی کہہ کر کال کٹ کرگئ مرجان فون کان سے ہٹاتا اسکرین کو دیکھتا رہا۔
تم سے بہت حساب نکلتے ہیں ایسے کیسے اتنی جلدی معاف کردوں۔ماہا سیدھی لیٹ کر چت کو گھورتی مرجان کے تصور سے مخاطب ہوئی۔




زر کہاں ہوتا ہے آجکل ناشتے پہ آج بھی نہیں آیا۔حیدر خان ڈائینگ ٹیبل پہ زرجان کی غیرموجودگی دیکھ کر بولے۔
میں آرہا ہوں دادا جان۔کسی کے کجھ کہنے سے پہلے ہی زرجان وہاں آتا بولا تو مسکرادیئے۔
یونی کے لیے آج اتنا تیار ہوئے ہو خیر تو ہے؟مرجان نے زرجان کو جائزہ لیتے ہوئے پوچھا
روز تو ایسے ہی ہوتا ہوں آپ نے آج غور کیا ہے۔زرجان سب کی نظریں خود پہ محسوس کرتا بولا
سہی کہہ رہا ہے بس لگتا ہے ڈریسنگ چینج کرلی ہے۔ہانیہ نے بھی اپنا حصہ ڈالا زرجان نے روز معمول سے ہٹ کر آج ٹی شرٹ کے بجائے گریں کلر کی شرٹ کے ساتھ وائٹ پینٹ میں تھا جو اُس پہ بہت جچ رہے تھے۔
باتیں ختم کرو ناشتے پہ دھیان دو۔مہرماہ فریش جوس کا جگ ٹیبل پہ رکھتی بولی۔
تمہیں کجھ چاہیے؟مرجان نے ملیحہ سے پوچھا جس نے نفی میں سرہلایا۔
میں چلتا ہوں اب یونی کے لیے۔زرجان اپنی جگہ سے کھڑا ہوتا بولا۔




ماہا اپنی کلاس کی طرف جارہی تھی جب اُس کی نظر پروفیسر منان پہ پڑی تو اُس کا منان کا شادی کی بات کرنا بھی یاد آئی۔
اسلام علیکم!!!!ماہا پروفیسر منان کے ساتھ چلتی ہوئی سلام کرنے لگی۔
وعلیکم اسلام!!!کیسی ہیں مس ماہا۔پروفیسر منان نے خوشدلی سے پوچھا
میں ٹھیک اگر آپ کے پاس وقت ہو تو کیا چالیس منٹ بعد آپ میرے آفس آسکتے ہیں کجھ بات کرنی تھی۔ماہا نے کجھ سوچ کر کہا۔
جی جی ضرور۔پروفیسر منان نے جلدی سے کہا تو ماہا اپنے ڈپارٹمنٹ کی جانب گئ۔
ماہا کلاس میں آکر سب سے پہلے ان کا چیک کیا گیا ٹیسٹ بڑھانے لگی ہر ایک اسٹوڈنٹ کی سیٹ پہ جاکر وہ ان کا ٹیسٹ رکھتی گئ زرجان بس اس کے اپنی طرف آنے کا انتظار کرنے لگا جب ماہا اس کی سیٹ کے پاس آئی تو ٹیسٹ رکھ کر ایکسیلینٹ بولی تب اُس کی نظریں نیچے ہی تھی زرجان کے چہرے پہ مسکراہٹ آئی اُس نے ٹیسٹ کھولا تو فل مارکس تھے۔
آج ماہا نے کلاس میں جلدی سے خود کو فارغ کیا وہ جلد از جلد اِس معاملے کو ختم کرنا چاہتی تھی اِس لیے زرجان کے بجائے اُس نے منان سے بات کرنے کا سوچا۔
سوری میں نے شاید دیر کردی۔ماہا آفس آئی تو پروفیسر منان پہلے سے بیٹھا ہوا تھا جس وجہ سے اُس نے کہا
آپ نے دیر نہیں میں جلدی آیا کیونکہ مجھے صبر نہ ہوسکا آپ کیا بات کرنا چاہتی ہوگی۔پروفیسر منان نے مسکراکر کہا ماہا نے پہلی دفع منان پہ غور کیا جو بتیس سال کا خوش شکل تھا سب سے بڑی بات وہ نرم مزاج کا مالک تھا اُس نے شادی تو ویسے بھی کرنی تھی تو منان میں اُس کو بُرائی نظر نہیں آئی چھ سال چھوٹے لڑکے سے شادی کرنے سے اچھا تھا وہ خود سے پانچ سال بڑے آدمی سے شادی کرتی۔
آپ کو یاد ہے ایک دفع آپ نے مجھ سے شادی کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ماہا نے بات کا آغاز کیا۔
بلکل یاد ہے۔پروفیسر منان نے کہا
کیا آپ ابھی بھی اُس بات پہ قائم ہیں؟
میں سمجھا نہیں۔
اگر میں آپ سے کہوں آپ اپنے گھروالوں کو میرے گھر رشتہ لینے کے لیے بھیجے تو آپ کا کیا جواب ہوگا۔ماہا نے اپنے بات پہ دیکھا منان کے چہرے پہ پہلے حیرانی پھر مسکراہٹ آگئ تھی۔
کب بھیجنا ہے۔پروفیسر منان نے بنا کوئی سوال کیے مدعے کی بات پہ آیا۔
اِس اِتوار کو۔ماہا نے بتایا۔





تمہیں پتا ہے آج میں بہت خوش ہوں اتنے وقت بعد ہم یوں باہر آئے ہیں۔ملیحہ نے چہک کر مرجان سے کہا جس نے آج آفس سے آف لیکر ملیحہ کو لنچ کروانے ریسٹورنٹ لایا تھا
اِس لیے تو لایا اپنی مصروفیت میں تم سے بہت لاپرواہ ہوگیا تھا۔مرجان نے ٹیبل پہ رکھا ملیحہ کے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھ کر کہا
کھانا آرڈر کریں۔ملیحہ نے کہا تو مرجان نے سر کو جنبش دیتے ویٹر کو اِشارہ کیا۔
تمہاری بہن ہے اُس کی شادی کا کیا پلان ہے؟کھانا آرڈر کرنے کے بعد مرجان نے پوچھا
پتا نہیں ماہا اپنی مرضی کی مالک ہے۔ملیحہ نے کندھے اُچکاکر کہا۔
اُس کا کوئی نِک نیم ہے۔مرجان نے سرسری انداز اپناتے پوچھا
ہاں نِک نیم ماہی تھا اُس کا اور میرا ملی مگر پھر ماہا کو ماہی نام سے نفرت ہونے لگی تو بس سب اُس کو ماہا ہی بُلانے لگے۔جس انداز میں مرجان نے پوچھا ملیحہ نے بھی ویسے ہی جواب دیا جس کو سن کر مرجان میں مزید ہمت نہیں ہوئی کے کجھ اور پوچھے۔





تم میرے برتھ ڈے پہ آؤ گے نہ کل؟عروہ نے امید بھری نظروں سے زرجان کو دیکھ کر پوچھا۔
کل میری اپنی مصروفیت ہے کوشش کروں گا آنے کی۔زرجان نے جواب دیا تو عروہ کا چہرہ بوجھ سا گیا۔
پریشان کیوں ہوتی ہو یہ نا بھی آئے میں تو ضرور آؤں گا۔احتشام نے مزے سے بتایا۔
تمہارا کیوں آج کل موڈ خراب ہوتا ہے؟فرزام نے زرجان سے پوچھا
نہیں کجھ نہیں بس میں اب چلتا ہوں۔زرجان کھڑا ہوتا بولا
ابھی تو ہم نے کافی تک نہیں پی۔عروہ ناراض ہوکر بولی۔
عروہ پلیز۔زرجان ایک نظر اُس پہ ڈالتا وہاں سے چلاگیا تو عروہ بھی اٹھ گئ۔
عروہ کو سمجھاؤ فرزام زر کبھی اس کو قبول نہیں کرے گا وہ بس تمہاری وجہ سے تھوڑا بہت بات کرلیتا ہے ورنہ نہیں۔دونوں کے جانے کے بعد احتشام نے فرزام سے کہا
وہ بہن ہے میری بہت دفع سمجھایا ہے پر میری سنتی ہی نہیں میرا دل اس کے لیے ڈرا رہتا ہے اگر اُس کو پتا لگ گیا کے زرجان کسی اور کو چاہتا ہے تو جانے کیا کرڈلیں خود کے ساتھ۔فرزام پریشان لہجے میں بولا
یہ بات تو ہے زر جب میم ماہا کے ساتھ ڈانس کررہا تھا عروہ تو میم ماہا کو بھی کھاجانے والی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔احتشام کی بات پہ فرزام خاموش رہا اُس نے یہ نہیں کہا وپ ڈانس کرنے پہ نہیں زرجان کی آنکھوں میں جو چمک ماہا کو دیکھ کر آئی تھی اُس وجہ سے عروہ ایسی نظروں سے ماہا کو دیکھ رہی تھی۔





موم آج کجھ گیسٹ آنے والے ہیں آپ ریفریشمنٹ اچھا سا کیجئے گا۔ماہا صبح صادق ہوتے ہی کچن میں آکر مہرین سے بولی جو ناشتہ بنارہی تھی۔
کونسے گیسٹ؟مہرین مصروف بھرے انداز میں بولی
آئے گے تو پتا لگ جائے گا آپ بس تیاری کرلیجئے گا۔ماہا نے فروٹ باسکٹ سے ایپل اُٹھا کر کہا۔
ٹھیک ہے۔مہرین نے بحث کیے بنا کہا تو ماہا باہر لاونج میں آکر اپنا سیل فون اُٹھاکر ایک نمبر ڈائل کرنے لگی جو دوسری بیل پہ ریسیو کرلیا گیا تھا۔
آگیا خیال کے تمہاری کوئی بہن بھی ہے۔دوسری طرف کال اٹھاتے ہی طنزیہ کیا گیا تھا۔
سوری بس کجھ کام تھا۔ماہا نے لب دانتوں تلے دبائے کہا
جی جی ایک تم مصروف ہم سب تو ویلے ہیں نہ۔ملیحہ نے ایک اور طنزیہ کیا۔
تم خود بھی تو گھر نہیں آئی۔ماہا نے اپنا بچاؤ کرنا چاہا۔
تمہارے تو پاؤں میں چھالے پڑگئے ہیں میرے گھر آتے آتے۔ملیحہ نے پھر میٹھا طنزیہ کیا۔
کیا ہے یار کیوں صبح صبح انگارے نکل رہے ہیں تمہاری زبان سے۔ماہا آخر تنگ آکر بولی۔
کجھ نہیں تم بتاؤ یہ صبح صبح میری یاد کیسے آگئ۔ملیحہ بیڈ پہ بیٹھ کر پوچھنے لگی۔
آج ہمارے طرف آجاؤ میرے گیسٹ آرہے ہیں تمہارا آنا لازمی ہے بہن جو ہو۔ماہا نے وجہ بتائی
کوئی خاص گیسٹ ہیں کیا؟ملیحہ نے پوچھا
ہممم۔ماہا نے بس اتنا کہا تو ملیحہ نے آنے پہ حامی بھر کر رابطہ منتفق کیا۔






مہرماہ آج حیات سے ملنے گئ تھی اُس سے واپس آکر وہ بیٹھی ہی تھی جب ملیحہ پاس آئی اور اُس سے بولی۔
میں آج موم کی طرف جارہی تھی سوچا آپ کو بتادوں۔
اچھا کس ٹائم؟مہرماہ نے مسکراکر پوچھا
بس تیار ہوکر ڈرائیور کے ساتھ۔ملیحہ نے بتایا
ڈرائیور کیوں مرجان کو کال کرکے آنے کا کہو پھر اُس کے ساتھ چلی جانا۔مہرماہ نے مشورہ دیا۔
ان کو کال کی تھی پر ان کی کو ضروری کا تھا جس وجہ سے صبح کو ہی گھر سے باہر چلے گئے تھے۔ملیحہ نے وجہ بتائی۔
تم تیار ہوجاؤ زر چھوڑ آئے گا تمہیں۔مہرماہ نے کہا تو ملیحہ نے سر کو جنبش دی اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئ۔مہرماہ بھی اٹھ کر زرجان کے کمرے میں گئ جو اتوار ہونے کی وجہ سے ابھی تک نیند کے مزے لوٹ رہا تھا۔
تم جاگ رہے ہو۔مہرماہ کمرے میں آئی تو زرجان کو ڈریسنگ کے سامنے بال بناتے دیکھ کر کہا
جی آپ کہے تو دوبارہ سوجاتا ہوں۔زرجان نے شرارت سے کہا۔
اب ایسا بھی نہیں کہا میں نے باہر جارہے ہو تو ابھی رک جاؤ اپنی بھابھی کو اُس کی ماں کے گھر چھوڑ آؤ مرجان بزی ہے ڈرائیور کے ساتھ جانا سہی نہیں۔مہرماہ نے کہا
اوکے۔زرجان نے بس اتنا کہا اور خود پہ پرفیوم اسپرے کرنے لگا مہرماہ ایک نظر زرجان کی تیاری پہ ڈال کر باہر نکل گئ۔
آپ ریڈی ہیں تو چلیں۔زرجان باہر آکر ملیحہ سے بولا۔
ہاں چلو۔ملیحہ نے مسکراکر کہا تو زرجان باہر آتا پورچ سے گاڑی نکالنے لگا۔
زرجان اور ملیحہ جیسے ہی ریان کے گھر کے پاس پہنچے تو ایک اور گاڑی ان کے ساتھ رکی۔
زرجان نے پہلے اُس گاڑی سے منان کو نکلتا دیکھا تو اُس کا ماتھا ٹھٹکا پھر پچھلی سیٹ سے ایک مرد اور خاتون کو دیکھ کر زرجان گاڑی سے باہر نکلا۔
ارے زرجان تم یہاں؟پروفیسر منان نے زرجان کو دیکھ کر حیرانی کا اظہار کیا۔
اسلام علیکم!!!زرجان نے پہلے سلام کیا تو پروفیسر منان خجل ہوتا جواب دینے لگا۔
میں یہاں بھابھی کو ڈراپ کرنے آیا تھا پر آپ یہاں کیسے۔زرجان اپنے دھڑکتے دل کی آواز نظرانداز کرتا سوال کرنے لگا۔
پتا چل جائے گا ابھی اندر چلیں۔پروفیسر منان کے فادر لیاقت صاحب نے مسکراکر کہا۔
تو کیا آپ ماہا کے گیسٹ ہیں؟ملیحہ جو اب تک خاموش تھی پوچھنے لگی ماہا کے نام پہ زرجان نے زور سے اپنی مٹھیاں بند کی۔
جی بلکل اب اندر چلیں۔پروفیسر منان نے کہا جس پہ ملیحہ نے مسکراکر سر کو جنبش دی۔
زر تم بھی اندر چلو۔ملیحہ نے بت بنے زرجان سے کہا۔زرجان انکار کرنے والا تھا مگر پھر کجھ سوچ کر اندر کی طرف آیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈیڈ آپ نے کہا تھا اگر میں کوئی اچھا سا لڑکا آپ کے سامنے کھڑا کروں تو آپ میری بات مان لیں گے باہر ڈرائینگ روم میں میرے لیے رشتے کی بات کرنے آئے ہیں آپ پلیز آکر اُن سے مل لیں۔ماہا ریان کے کمرے میں آتی بولنے لگی جسے سن کر ریان کے ساتھ ساتھ مہرین بھی حیرت سے اُس کو دیکھنے لگی۔
کون ہے وہ لوگ ایسے ہی تو نہیں میں تمہارا رشتہ طے کرسکتا۔ریان کرخت آواز میں بولا۔
آپ ملے گے تو سارے خدشات دور ہوجائے گے۔ماہا کہتی کمرے سے باہر نکل گئ۔
تمہیں پتا تھا یہ۔ریان نے سنجیدہ سے مہرین سے پوچھا جو باہر جانے والی تھی۔
مہمان آنے والے ہیں یہ پتا تھا کیوں آرہے ہیں یہ ابھی پتا چلا۔مہرین نے جواب دیا ریان پریشانی سے چہرہ پہ ہاتھ پھیرنے لگا۔
دوست سے وفاداری کرنا اچھی بات ہے ان سے محبت کرنا بھی اچھی بات ہے مگر دوستی میں وفاداری اور محبت میں انسان کو اتنا بھی آگے نہیں جانا چاہیے کے اپنی سگی اولاد سے زیادہ دوست کی فکر ہو۔مہرین نے ریان کا پریشان چہرہ دیکھ کر کہا۔
کیا مطلب ہوا تمہاری اِس بات سے؟ریان جو پہلے پریشان تھا مہرین کی بات اُس کو سمجھ نہیں آئی۔
ماہا جہاں چاہتی ہے اُس کی شادی کروانا زرجان بہت چھوٹا ہے اِس لیے ان دونوں کو ساتھ دیکھنے کی سوچ ختم کردو۔مہرین نے کہا
ماہا یہ بس ضد میں کررہی ہے کل تک تو ایسا کجھ نہیں تھا اب جانے کسے اُٹھالائی ہے۔ریان اپنی پیشانی مسلتا بولا۔
میں باہر جارہی ہوں تم بھی اپنا چہرہ ٹھیک کرتے آجانا ان کو ایسا نہ لگے کے تمہیں زبردستی بیٹھایا گیا ہے۔مہرین اپنا ڈوپٹہ ٹھیک کرتی کمرے سے نکل گئ جب کی ریان بس اس کی پشت کو گھورتا رہا۔
پروفیسر منان آپ۔مہرین ڈرائینگ روم میں آئی تو اُس کا حیرت کا شدید جھٹکا لگا اور کہی اچھا بھی لگا۔
جی سوچا آپ کو سرپرائز کروں۔پروفیسر منان نے مسکراکر کہا زرجان کو اُس کی مسکراہٹ اتنی بُری لگی جس کی کوئی حد نہ تھی۔
اسلام علیکم!!!ریان ڈرائینگ روم میں آتا رسمی سلام دعا کرنے لگا اس کو آتا دیکھ کر مہرین کچن کی طرف چلی گئ ملیحہ بھی مدد کروانے کے غرض سے اس کے پیچھے گئ۔
زر تم کھڑے کیوں ہو بیٹھو۔ریان نے زرجان کی سرخ ہوتی آنکھیں منان پہ جمی دیکھی تو اُس کا دھیان دوسری طرف کرنا چاہا مگر زرجان جواب دیئے بنا ویسے ہی بیٹھ گیا ریان کو زرجان کو دیکھ کر بہت دُکھ ہورہا تھا مگر وہ جن نظروں سے منان کو دیکھ رہا تھا اُس پہ ہنسی بھی آرہی تھی جس کو وہ بڑی مشکل سے کنٹرول کیے ہوئے تھا۔
اِس تکلف کی کیا ضرورت تھی۔پروفیسر منان کی والدہ مریم بیگم بولی۔
تکلف کیسا آپ ہمارے مہمان ہیں اتنا تو بنتا ہے۔مہرین نے آرام سے کہا۔
نو تھینکس۔مہرین نے کھانے کے لوازمات زرجان کی طرف جیسے ہی بڑھائے زرجان نے ہاتھ اُٹھا کر روخے لہجے میں انکار کیا۔جس پہ مہرین چہرے پہ زبردستی مسکراہٹ سجائے ریان کے ساتھ بیٹھ گئ۔
تم ٹھیک ہو۔ملیحہ نے زرجان کا لال ہوتا چہرہ دیکھ کر فکرمندی سے پوچھا۔
پتا نہیں۔زرجان نے خود پہ ضبط کیے بس یہ بول پایا.
اپنی بیٹی کو تو بلائے۔مریم بیگم نرمی سے مسکراکر بولی۔
یہ ان کی بیٹی ہے۔کسی دوسرے کے بولنے سے پہلے زرجان نے ملیحہ کی جانب اشارہ کرکے کہا
جی جی ماشااللہ میں جانتی ہوں پر دوسری بیٹی کی بات کررہی تھی۔مریم بیگم نے کہا تو زرجان بس ہونہہ کرتا رہ گیا۔
میں لیکر آتی ہوں۔ملیحہ مہرین کے اِشارے پہ کھڑی ہوتی بولی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماہا مرر کے سامنے اپنا خوبصورت عکس دیکھ رہی تھی اُس نے ابھی نیٹ کا بلیک فراق پہنا ہوا تھا جس سے اُس کی گوری رنگت دمک رہی تھی بھورے بالوں کو چوٹی بنائی تھی جب کی میک اپ کے نام پہ اپنے گلابی نازک ہونٹوں پہ بس بام لگایا تھا ماہا نے ڈوپٹہ اُٹھا کر سر پہ جمایا تبھی ملیحہ اندر آکر اس کو دیکھ کر ماشااللہ بولی جس پہ ماہا مسکرادی اُس کو اپنی خوبصورتی سے اچھے سے علم تھا۔
کیا پیار ویار کیا چکر ہے ورنہ باہر بیٹھا شخص تم جیسی خوبصورت لڑکی ڈیزرو نہیں کرتا۔ملیحہ نے شرارت سے ماہا کو پیچھے سے گلے لگاکر کہا۔
ایسا تو کجھ نہیں رہی بات خوبصورتی کی تو آخر میں اِس نے ختم ہوجانا ہے پھر اپنے چہرے اپنی خوبصورتی پہ کیا ناز کرنا جو کجھ وقت کے لیے آپ کے پاس موجود ہے ۔ماہا نے گہری سانس بھر کر کہا۔
یہ بات تو ٹھیک کی تم نے پر پھر بھی اب تمہیں دیکھ کر یہ خیال میرے دماغ میں آرہا ہے کے کاش زرجان کجھ سال پہلے پیدا ہوجاتا تو تم دونوں کی شادی کروادیتی زرجان ہے بھی بلا کا ہینڈسم اُپر سے اُس کی بلو آئیز۔مہرین کی بات پہ ماہا کے مسکراتے لب سیکڑ گئے۔
بولنے سے پہلے سوچ لیا کرو۔ماہا نے سخت انداز میں کہا
کجھ غلط بھی تو نہیں کہا۔ملیحہ اس کا غصہ کسی خاطے میں لائے بنا بولی۔
کوئی کام تھا جو یہاں آئی ہو باہر مہمانوں کو چھوڑ کر۔ماہا نے پوچھا جس پہ مہرین نے سر پہ ہاتھ مار کر اپنی عقل پہ ماتم کیا۔
میں تو تمہیں لینے آئی تھی پر باتوں میں بھول گئ۔ملیحہ نے کہا
تو اب چلو۔ماہا نے گھور کر کہا تو ملیحہ نے سرہلایا۔
وہ دونوں باہر آئی تو زرجان کی نظر بلیک بیوٹی بنی ماہا پہ ٹھیرگئ مگر جلد ہی اُس نے اپنی نظروں کا رخ بدل دیا۔
ہمارے پاس بیٹھو۔مریم بیگم نے اپنی طرف آنے کا کہا تو ماہا ان کے ساتھ بیٹھ گئ۔
ماشااللہ تم تو بہت خوبصورت ہو۔مریم بیگم ماہا کے چہرے پہ ہاتھ پِھیرکر کہا زرجان کی برداشت ختم ہورہی تھی اِس لیے بنا کسی پہ ایک نظر ڈالے وہاں سے باہر نکلتا گیا سب اس کے اِس طرح جانے سے تعجب سے دیکھنے لگے۔
زرجان باہر آتا گہرے گہری سانس بھرتا خود پہ پرسکون کرنے لگا مگر سکون شاید اب اس کی زندگی میں نہیں تھا زرجان نے ہاتھ کی مٹھی بناکر زور سے مکہ اپنی گاڑی پہ مارا ایک نہیں دو نہیں بار بار وہ یہ عمل دوہرانے لگا جس سے اس کا ہاتھ سرخ ہوگیا تھا مگر پرواہ کسے تھی اس کو بس اپنے اندر جنون کو دبانا تھا جو آج ساری حدیں پار کرنے کا کررہا تھا۔
میرے لیے میری محبت میرے عشق سے زیادہ ان کی رضامندی اہم تھی اگر میں اپنا سوچتا تو جب ان کا نکاح کسی اور سے ہورہا تھا میں زبردستی بھی کرسکتا تھا پر تب شاید وہ مجھ سے اِتنی محبت نہ کرتی جتنی اب کرتی ہیں محبت کی بنیاد جس طرح عزت،اعتبار ہے اسی طرح محبت کا دوسرا نام قربانی ہے میں نے ماہ سے رقیب کے ڈر سے محبت کرنا نہیں چھوڑی بلکہ میں نے اپنے اللہ پہ چھوڑ دیا ان سے دعا مانگی اور اللہ نے مجھے مایوس نہیں کیا۔
زرجان کے دماغ میں شاہ میر کی بتائی بات گونجی تو اُس نے اپنا سر اُٹھا کر نیلے آسمان کی جانب کیا کب اُس کی آنکھوں میں نمی پھر آنسو بہہ کر ڈارھی میں جذب ہوا زرجان کو پتا نہیں چلا۔
یااللہ آپ اپنے بندھوں سے ستر ماؤں سے زیادہ چاہتے ہیں آپ کہتے ہیں ہم آپ سے مدد مانگے آپ سے دعا مانگیں آپ ہماری دعائیں سنے گے اور قبول کرے گے تو یااللہ پلیز میرے دل کی بھی التجا پوری کیجئے گا یا مجھے اپنے پاس بلالیجیئے گا مگر ماہا کے بغیر مجھے زندہ مت رکھئیے گا جس طرح آپ نے ڈیڈ کو کبھی مایوس نہیں کیا پلیز مجھے بھی مت کرنا آپ تو ہر ایک انسان کی باتیں اور دعائیں سنتے ہیں میری بھی سن لیں۔زرجان آسمان کو دیکھتا اپنے رب سے مخاطب تھا۔
