Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Qaid Season 2 (Episode 11)

Ishq Qaid Season 2 by Rimsha Hussain

مہرماہ کو ہسپتال سے ڈسچارج مل گیا تھا جس سے آج وہ سب کے ساتھ گھر واپس آئی تھی جہاں پری آیان اس کے ویلکم کے لیے کھڑے تھے۔

ویلکم بیک ٹو ہوم بھابھی۔ پری مہرماہ کے پاس آتی بولی شاہ میر اس کے پیچھے کھڑا تھا اور مرجان اس کی بانہوں میں تھا۔

شکریہ۔ مہرماہ نے مسکراکر کہا

ہم نے بہت اچھے سے کمرہ سیٹ کیا ہے۔ آیان نے پرجوش ہوکر بتایا

وہ تو ہم نے کیا تھا۔ مہرماہ نے کہا

ہم نے الگ روم تیار کیا ہے۔ پری نے بتایا۔

مہرو اندر چل کر بیٹھو زیادہ کھڑے رہنا ٹھیک نہیں۔ہانم بیگم مہرماہ سے کہا جس پہ وہ سرہلاتی اندر آئی۔

بھائی یہ مجھے دے۔ آیان نے شاہ میر سے مرجان لینا چاہا

خیال سے سویا ہوا ہے اٹھ گیا تو ماہ کو تنگ کرے گا۔ شاہ میر مرجان آیان کے حوالے کرتا ہوا بولا۔

بے فکر رہے میں اپنے بھتیجے کو کمرے میں لیں جارہا ہوں۔ آیان نے کہا تو شاہ میر اندر آکر اپنے کمرے میں گیا۔

تم بھی کمرے میں جاکر آرام کرتی شام میں ویسے بھی مہمانوں نے آنا ہے۔ ہانم بیگم نے مہرماہ سے کہا جو صوفے پہ پشت ٹکائے بیٹھی ہوئی تھی۔

کونسے مہمان؟مہرماہ نے پوچھا

نادیہ کی فیملی اور بھابھی سارہ یہ سب۔ ہانم بیگم نے بتایا۔

امی تو ابھی گھر گئ ہیں۔ مہرماہ نے بتایا۔

ہاں پر تم آرام کرو میر سے بھی کہو کے یونی جانے پہ دھیان دے۔ ہانم بیگم نے کہا تو مہرماہ نے اثبات میں سرہلایا۔

میں بھی باپ بننے والا ہوں۔ ریان نے فون پہ شاہ میر کو بتایا۔۔

ماشااللہ مبارک ہو۔ شاہ میر نے مسکراکر کہا

خیر مبارک تمہارے بیٹے کی تصویر دیکھی میں نے بہت پیارا ہے۔ ریان نے بتایا

امی کہتی ہیں میرے جیسا ہے پر آنکھیں ماہ پہ ہیں۔

ہاں بس دل تمہارے جیسے نہ ہو اس کا۔ شاہ میر کی بات سن کر ریان شرارت سے بولا

اِس بات سے تمہارا کیا مطلب؟شاہ میر کو سمجھ نہیں آیا

اگر دل تمہاری طرح ہوگا تو اس کا بھی خود سے بڑی عمر پہ آئے گا اب ہر ایک کی قسمت میں محبت کا ملنا نہیں ہوتا نہ تم خوش قسمت نکلے ضروری تو نہیں تمہارا بیٹا بھی اِس معاملے میں خوش قسمت ثابت ہو پر مجھ سے زیادہ تم بہتر جانتے ہو بھابھی مہرماہ تمہیں آسانی سے نہیں ملی بہت تڑپے تھے تم اُس کے لیے۔ ریان نے سادہ لہجے میں کہا پر جانے کیوں شاہ میر کو اُس کی کہی بات پہ چُپ لگ گئ تھی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

بہت حسین لگ رہی ہو۔ شاہ زیب نے ثانیہ کو پیچھے حصار میں لیتے ہوئے کہا۔

شکریہ۔ ثانیہ نے نظریں جھکاکر کہا۔

میری سفارش کرو نہ مہرو سے۔ شاہ زیب نے کہا

کونسی سفارش؟ثانیہ اپنا چہرہ شاہ زیب کی طرف کیے پوچھا

کہ مجھے معاف کرے۔ شاہ زیب نے مسکین شکل بنائے کہا

یہ تو آپ بہن بھائی کا معاملہ ہے خود ہینڈل کریں۔ ثانیہ نے ہڑی جھنڈی دیکھائی۔

تم بھی کجھ کرو۔ شاہ زیب نے مسکراکر کہا

میں کیا کرسکتی ہوں۔ ثانیہ نے کہا

میرے لیے تازہ دم چائے بناکر آؤ۔شاہ زیب نے کہا تو ثانیہ بدمزہ ہوئی۔

مجھے لگا جانے کیا کہیں گے۔ ثانیہ دور ہوتی ہوئی بولی۔

رومانٹک بات ضرور کرتا پر ابھی ہمیں مہرو کی طرف جانا ہے۔ شاہ زیب آنکھ ونک کرتا بولا جس پہ ثانیہ جلدی کمرے سے نکل گئ شاہ زیب اس کی پُھرتی دیکھ کر مسکراتا واش روم کی جانب گیا۔

ارے ثانیہ بیٹا کچن کی طرف کیوں جارہی ہوں کجھ چاہیے تھا تو ملازمہ سے کہہ دیتی۔ سارہ بیگم نے ثانیہ کو کچن میں جاتا دیکھا تو کہا

آنٹی وہ شاہ زیب کے لیے تازہ دم میرا مطلب چائے بنانے جارہی ہوں۔ ثانیہ ہڑبڑاکر بولی۔

زیب تو ہے ہی نکما پر بیٹا تمہیں تو پتا ہے نہ شادی کے بعد جب تک دولہن دودہ میں ہاتھ نہ ڈالیں پھر جب تک وہ میٹھا نہ بنالیں کچن میں کام نہیں کرتی۔ سارہ بیگم نے کہا تو ثانیہ نے اپنا سرجھکادیا۔

آنٹی شادی کو دو ہفتے ہوگئے ہیں میں بنالوں گی۔ ثانیہ نے کہا

پہلے تو مجھے آنٹی نہیں بلکہ زیب مہرو کی طرح امی کہنا دوسرا یہ کے کیا ہوا دو ہفتے ہوگئے ہیں ولیمہ تو نہیں ہوا نہ اور نہ دودہ میں ہاتھ ڈالنے کی رسم اِس لیے کچن کے آس پاس بھی نہ گزرے زیب کو میں سمجھادیتی ہوں فلحال تم سے کوئی فرمائش نہ کریں۔ سارہ بیگم نے پیار سے کہا تو ثانیہ مسکرادی

پر چائے۔ ثانیہ کو چائے کا خیال آیا

میں ملازمہ سے کہہ دیتی ہوں تم بس تیاری کرو مہرو کی طرف جانا ہے۔ سارہ بیگم نے کہا تو ثانیہ واپس کمرے کی طرف آئی۔

چائے نہیں لائی کیا؟ شاہ زیب جو ڈریسنگ کے سامنے بالوں میں جیل لگارہا تھا ثانیہ کو خالی ہاتھ آتا دیکھا تو پوچھا

آنٹی نے کہا ابھی میں کام نہیں کرسکتی آپ کے لئے چائے وہ ملازمہ کے ہاتھوں بھیج دیگی۔ ثانیہ اپنے ہاتھوں کی انگلیاں چٹخاتے ہوئے بولی

ٹھیک پر اِس میں اتنا نروس کیوں ہورہی ہو۔ شاہ زیب چلتا ہوا اس کے پاس آیا اور اس کے ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھوں میں لیے

وہ شادی کے بعد آپ نے پہلی بار کوئی کام کہا تھا اور میں۔ ثانیہ اتنا کہتی چپ ہوگئ۔

تو میری معصوم بیگم اِس میں تمہارا تو قصور نہیں مجھے دھیان میں رکھنا چاہیے تھا کہ ابھی تم نئی نویلی دلہن ہو۔ شاہ زیب ثانیہ کی ٹھوری پکڑ کر اس کو ہلتا شرارت سے بولا تو ثانیہ ہنس پڑی۔

آپ بہت اچھے ہیں۔ ثانیہ نے کہا تو شاہ زیب نے اپنے دل پہ ہاتھ رکھتے گِرنے کی ایکٹنگ کی تو ثانیہ گھبراگئ۔

کیا ہوا؟ ثانیہ کو سمجھ نہیں آیا اچانک شاہ زیب کو کیا ہوگیا۔

ہارٹ اٹیک آرہا تھا پر رُک گیا اس کو پتا چل گیا شاید کہ میں ابھی چالیس سال کا نہیں ہوا۔ شاہ زیب نے بڑی سنجیدگی سے کہا جب کی آنکھوں میں شرارت صاف ظاہر تھی جو ثانیہ سمجھ نہیں پارہی تھی۔

ایسی بات کیوں کہہ رہے ہیں۔ ثانیہ پریشان ہوگئ

اور کیا کہوں میری بیگم نے پہلی دفع میری تعریف کیے ہے مجھے اپنے کانوں پہ یقین نہیں آرہا۔ شاہ زیب نے آنکھ ونک کرتے ثانیہ کو اپنے قریب کیے کہا

آپ نے تو مجھے ڈرا ہی دیا تھا۔ ثانیہ نے اپنا سر شاہ زیب کے بازون پہ ٹکاکر کہا تو شاہ زیب مسکرادیا۔

کبھی تم بھی اظہارِ محبت کرلیا کرو۔ شاہ زیب کی انوکھی فرمائش پہ ثانیہ خود میں سمیٹ گئ شاہ زیب اس کی شرماہٹ محسوس کرتا نفی میں سرہلانے لگا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

لنڈن !

کیا سوچ رہے ہو؟ مہرین کافی کا کپ ریان کو دیتے ہوئے پوچھنے لگی اور پاس ہی بیٹھ گئ۔

یہی کے اللہ نے مجھے کتنی خوبصورت بیوی دی ہے اور پیار کرنے والی جو میرے بغیر ایک پل نہیں رہ سکتی۔ ریان کافی کا کپ پکڑتے شرارت سے بولا جس پہ مہرین نے اس کو گھور کر دیکھا۔

کبھی تو سنجیدہ ہولیا کرو۔ مہرین نے اس کے بازوں پہ مُکہ مارکر کہا۔

سنجیدہ ہی ہوں بس تم محسوس نہیں کرتی۔ ریان شوخ ہوا۔

ریان۔ مہرین نے تنبیہہ کی۔

اچھا اچھا نہیں کہتا یہ بتاؤ میرا بے بی کیسا ہے؟ریان مسکراکر اس کے پیٹ پہ ہاتھ رکھتا ہوا بولا

بے بی نہیں بے بیز۔مہرین نے تصدیق کی تو ریان کی آنکھوں میں ناسمجھی کے تاثرات اُبھرے۔

ڈاکٹر کے پاس گئ اس نے کہا ٹوئنز بے بی ہیں۔مہرین نے بتایا تو ریان کا چہرہ خوشی سے کِھل اٹھا۔

کیا واقع۔ریان نے پوچھا

بلکل۔مہرین نے اس کے گال پہ ہاتھ رکھ کر کہا وہ جانتی تھی ریان کو بچے کتنے پسند ہیں۔

مجھے یقین نہیں ہورہا۔ ریان ابھی بھی شاک میں تھا جس پہ مہرین نے اس کے بازوں پہ زور سے چٹکی کاٹی۔

آ آ یہ کیا تھا۔ ریان اپنا بازوں سہلاکر چیخ کہ بولا

یقین دلانا چاہتی تھی میں تو بس۔ مہرین نے معصومیت سے کہا۔

معاف کرو ایسے ہی آگیا یقین۔ ریان خشمگین نظروں سے اس کو دیکھ کر بولا جس پہ مہرین ہنس پڑی۔

مہرین میں کجھ اور بھی سوچ رہا تھا۔ ریان مہرین کو اپنے بازوں کے حصار میں لیتا ہوا بولا

کیا سوچ رہے ہو؟ مہرین نے جاننا چاہا۔

تمہیں پتا ہے نہ میر کے یہاں بیٹا ہوا ہے۔ ریان نے اس کے بالوں میں انگلیان چلاتا ہوا بولا

ہاں بچے کی تصویریں بھی تو دیکھائی تھی بہت کیوٹ تھا۔ مہرین نے مسکراکر کہا

اگر ہمارے یہاں ایک بیٹی ہوئی نہ تو ہم اس کی شادی میر کے بیٹے سے کروائے گے۔ ریان نے مزے سے فیوچر کا پلان بتایا جس پہ مہرین فورن سے سیدھی ہوکر بیٹھی۔

ریان ہوش میں تو ہو ہم یہاں لنڈن اور وہ پاکستان میں ہیں۔ مہرین کو ریان کی عقل پہ شک گزرا۔

تو کیا ہم نے بعد میں ویسے بھی پاکستان میں سیٹل ہونا ہے میں نے بتایا ہوا نہ میرا دل نہیں لگتا اب یہاں میر کے بنا۔ ریان دوبارہ مہرین کو اپنے قریب کیے بولا۔

ریان جو بھی پر بچہ ہوا ہی نہیں تم اول ہی ایسی باتیں کررہے ہو۔ مہرین پریشان ہوکر بولی

ہوجائے گا بچہ میں نے بس اپنے دل کی بات کی۔ ریان نے کہا

شادی وغیرہ کا فیصلہ ہم اپنے بچوں پہ چھوڑ دے گے جہاں وہ چاہے گے وہاں ہم اپنی مرضی ان پہ نہیں تھوپے گے ویسے بھی آج کے زمانے میں لوگ اپنی مرضی چلاتے ہیں تمہیں لگتا ہے وہ بیس سال بعد ہماری بات مانے گے ہر ایک کا اپنا نظریہ ہوتا ہے ہمارے بچے لنڈن میں زندگی گُزارے گے جہاں انسان خودمختار ہوتا ہے۔ مہرین نے ہر ایک پہلو سے ریان کو روشناس کروایا اور ریان سمجھ بھی گیا تھا کیونکہ مہرین کے بات کرنے کا طریقہ ہی ایسا تھا آخر کو وہ ایک لکچرار تھی اپنی بات دوسروں کے دماغ میں بیٹھانا اس کو خوب آتا تھا۔

کہہ تو تم ٹھیک رہی ہو خیر میں نے تو ایسے ہی کہا۔ ریان نے کہا جس پہ مہرین شکر کا سانس خارج کرتی ریان کے سینے پہ اپنا سر رکھ لیا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

یار مہرو پلیز مان بھی جاؤ جانتا ہوں مجھے تمہیں بتانا چاہیے تھا پر میں کیا کرتا موقع ہی نہیں ملا۔شاہ زیب ایک اور کوشش کی مہرماہ کو منانے کی جس نے اِس بار پوری طرح سے بات بند کررکھی تھی جس سے شاہ زیب پریشان ہوگیا تھا۔

بات مت کرو تم۔مہرماہ نے ناراض لہجے میں کہا تبھی شاہ میر کمرے کا دروازہ کھول کر اندر آیا تو شاہ زیب کو شرارت سوجھی

مہرو میں جانتا ہوں تم خفا ہو کیونکہ تم سب سے زیادہ مجھ سے پیار کرتی ہو اور میرا تم سے بات چھپانا تکلیف پہچارہا ہے پر میری بات بھی تو سمجھو۔ مہرماہ نے عجیب نظروں سے شاہ زیب کی بدلتی ٹون محسوس کی کہاں وہ پہلے منت کررہا تھا اور اب ایسے بات کررہا تھا۔

ماہ سب سے زیادہ مجھے چاہتی ہے۔ شاہ میر شاہ زیب کی بات پہ تپ اٹھا تھا۔

تم تو کل کی پیداوار ہو میری بہن کا اور میرا ساتھ تو بچپن کا ہے۔ شاہ زیب نے جلے پہ نمک کا کام کیا بھلا وہ کیسے اس کی عمر پہ چوٹ نہ کرتا آخر کو شاہ میر کی دُکھتی رگ تھی خود کے بارے میں چھوٹا لفظ سننا۔

شاہ زیب بھائی پلیز۔ شاہ میر مٹھیان بھینچ کر بولا جب کی مہرماہ نے اپنا سرپکڑ لیا۔

کیا پلیز۔شاہ زیب نے چڑانے والی مسکراہٹ لبوں پہ سجاکر کہا

صرف تین سال چھوٹا ہوں جب کی ہائیٹ اور وزن میں آپ کے برابر ہوں۔ شاہ میر نے اپنے کسرتی بازوں اور چوڑے سینے کی نمائش کرتے کہا مہرماہ کو شاہ میر اِس وقت سچ مچ میں بچہ لگا اس نے مسکراکر سر کو نفی میں ہلایا۔

جو بھی پر عمر چھپائے نہیں چھپتی تم نے خود کو بڑے لگنے کے لیے ڈولے چھولے تو بنالئے پر چہرے سے چھوٹے ہی لگتے ہو۔ شاہ زیب نے مسکراکر کہا۔

چپ کرو اور باہر چلو تم دونوں۔مہرماہ نے تنگ آکر کہا

میں مرجان کو تو اٹھالوں۔ شاہ زیب کارٹ کی طرف آکر بولا۔

چلیں ماہ۔ شاہ میر ایک نظر گھور کر شاہ زیب کو دیکھا پھر مہرماہ کو اٹھنے میں مدد دیتے ہوئے کہا۔

اٹھاکر لیں چلو اپنی ماہ کو ویسے تو بڑے بول بولتے ہو مجھے عشق ہے ماہ سے اب جب اس کے ٹانکے کُھلے ہیں تو یہ بول رہے ہو۔شاہ زیب نے پھر شاہ میر کو چھیڑا۔

میں خود چل سکتی ہوں۔ مہرماہ نے شاہ زیب کو دیکھ کر دانت پیستے ہوئے کہا

شیور ماہ۔ شاہ میر کو شاہ زیب کی بات پہ غصہ آنے کے بجائے مہرماہ کی فکر ہوئی

ہاں شاہ۔ مہرماہ نے تسلی آمیز لہجے میں کہا تو شاہ میر نے اس کا ہاتھ تھام لیا شاہ زیب مسکراتا مرجان کو لیکر باہر چلاگیا۔

کتنی کمزور ہوگئ ہو تم۔ سارہ بیگم مہرماہ کو دیکھتی ہوئی بولی۔

ٹھیک تو ہوں۔ مہرماہ ان کی فکر پہ مسکرائی۔

کھانے پہ توجہ زیادہ دو اب بچے کی دیکھ بھال بھی تو کرنی ہوتی ہے۔ سارہ بیگم نے کہا تبھی مرجان رونے لگا۔

شاہ تم مرجان کو تو زیب سے لو۔ مہرماہ نے شاہ میر سے کہا۔

مہرو عقل کرو ایک بچے کی ماں بن گئ ہو پر شوہر کے آداب نہیں سیکھے۔ سارہ بیگم پل بھر میں سخت ہوئی۔

میں نے کیا کردیا۔ مہرماہ کو سمجھ نہیں آیا۔

میر بھلے چار سال چھوٹا ہے پر شوہر ہے تمہارا اِس لیے تم نہیں آپ کہا کرو۔ سارہ بیگم نے کہا تو سب مسکرا پڑے پر مہرماہ کو ان کی بات پسند نہیں آئی۔

چچی جان میں نے خود ماہ سے کہا مجھے اچھا نہیں لگتا وہ مجھے آپ کہے عجیب غیروں والی فیلنگ آتی ہیں۔ شاہ میر مہرماہ کو خاموش دیکھا تو اس کا دفاع کیا۔

تو تم بھی آپ نہیں تم کہا کرو نہ۔ شاہ زیب نے اپنی ٹانگ بیچ میں لانا ضروری سمجھا۔

میں جو بھی کہوں آپ کو اُس سے کیا۔ شاہ میر کو غصہ آیا۔

میر تہمیز سے زیب بڑا ہے تم سے۔ حیدر خان کو سکندر خان کی موجودگی میں شرمندگی محسوس ہوئی شاہ میر رویہ دیکھ کر جب کی شاہ زیب گردن فخر سے تن گئ جیسے جانے کونسا تیر مار لیا ہو۔

میں اندر جارہا ہوں۔ شاہ میر سنجیدگی سے کہتا مرجان کو لیے اوپر کی جانب بڑھنے لگا

مرجان کو تو مجھے دیتے۔ شاہ زیب نے پیچھے ہانک لگائی جس کو شاہ میر نظرانداز کرگیا مہرماہ پریشان ہوگئ تھی شاہ میر ایسے جاتا دیکھ کر۔

زیب مت تنگ کیا کرو میر کو۔ سکندر خان نے ٹوکا۔

بابا جان مجھے مزہ آتا ہے۔ شاہ زیب دانتوں کی نمائش کرتا ہوا بولا تو سب کے سر نفی میں ہلنے لگے۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

زیب کی مزاق کرتا ہے تم سے بُرا مت مانا کرو۔ مہرماہ نے شاہ میر کے پاس آکر کہا جو لکھنے میں مصروف تھا پاس ہی کارٹ میں مرجان سویا ہوا تھا۔

میں جانتا ہوں ماہ بس ان کی بات کبھی اچھی نہیں لگتی جب وہ آپ پہ بلاوجہ حق جماتے ہیں تو۔ شاہ میر نے سنجیدگی سے کہا۔

بھائی ہے میرا اور اس کا حق بلاوجہ نہیں۔مہرماہ کو شاہ میر کی یہ بات پسند نہیں آئی تو کہا۔

سب کی پرواہ ہے پر میری جانے کب ہوگی۔ شاہ میر کا موڈ بُری طرح آف ہوچکا تھا

تمہیں ایسے کیوں لگتا ہے مجھے تمہاری پرواہ نہیں۔مہرماہ شاہ میر کی چیئر کو اپنی طرف کیے اس کی گود میں بیٹھتی ہوئی پوچھنے لگی جب کی شاہ میر مہرماہ کی حرکت پہ دنگ رہ گیا جو اپنے بازوں اس کے کندھوں پہ حائل کیے اس کے جواب کی طلبگار تھی۔

م می میرا ک کل ض ضروری لیکچر ہ ہے ا اُس کی تیار کرنی ہے۔ شاہ میر اٹکتے اٹکتے اپنی بات مکمل کی مہرماہ کو ہنسی آرہی تھی شاہ میر کا چہرہ دیکھ کر جہاں ہوائیاں اُڑ رہی تھی۔

شاہ اب جب میں پرواہ کررہی ہوں تو تم بہانے بنارہے ہو مجھ سے دور ہونے کے۔ مہرماہ نے نروٹھے پن سے کہا۔

ایسا نہیں میں کبھی آپ سے دور جانے کا سوچ نہیں سکتا آپ بہانے بنانے کی بات کررہی ہیں۔ شاہ میر۔ سنجیدہ ہوکر بولا۔

تو کیا یہ لیکچر مجھ سے زیادہ ضروری ہے۔ مہرماہ نے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر پوچھا

آپ سے زیادہ ضروری تو میری خود کی جان بھی نہیں۔شاہ میر مہرماہ کی کمر پہ گرفت مضبوط کرتا ہوا بولا۔

شاہ ہاتھ ہلکا رکھو۔ مہرماہ کو شاہ میر کی مضبوط پکڑ پر تکلیف ہوئی تو کہا۔

سو سوری ماہ۔ شاہ میر جلدی سے بولا

کوئی بات نہیں۔مہرماہ نے اپنی پیشانی شاہ میر کی پیشانی سے جیسے ہی جوڑی تو مرجان کی بھاں بھاں رونے کی آواز آئی جس سے مہرماہ فورن سے شاہ میر سے الگ ہوکر کارٹ کی جانب گئ شاہ میر نے خونخوار نظروں سے مرجان کو دیکھا جس سے اچھا خاصا موڈ اس کا خراب کردیا تھا۔

کیا ہوا میرا شونا بے بی۔ مہرماہ آہستہ آہستہ روم میں چکر لگاتی مرجان کو چپ کرانے لگی جو بُری طرح رونے میں مصروف تھا۔

ماہ یہ آپ امی کو دے آئے۔ شاہ میر دس منٹ سے مرجان کو روتا دیکھا تو تپ کے کہا

شاہ کیا ہوگیا ہے بچہ ہے روئے گا تو سہی نہ۔ مہرماہ مرجان کی پیٹھ سہلاتی ہوئی بولی

اتنے وقت بعد ہمیں اپنے لیے باتیں کرنا کا وقت ملا تھا۔ شاہ میر نے کہا

تو شاہ کیا ہوا ہمیشہ ساتھ ہی تو ہوتے ہیں مرجان کو بھی تو وقت چاہیے نہ۔ مہرماہ آرام سے بولی

میں باہر اسٹڈی کی طرف جارہا ہوں آپ دے اِس کو وقت۔ شاہ میر سنجیدگی سے کہتا اپنی کتابیں سمیٹنے لگا۔ مہرماہ بے بس ہوکر اس کو جاتا دیکھا ایک طرف شوہر تو دوسری طرف ایک ماہ کا بیٹا تھا جن کے درمیان وہ بُری طرح سے پس کے رہ گئ تھی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

آج سالار پری، شاہ زیب ثانیہ کا ولیمہ تھا جب کی مرجان کا عقیقہ بھی تھا ولیمے کے لیے ہال بُک کیا گیا تھا جہاں مہمانوں کی آمد جاری تھی آہستہ آہستہ سارا ہال مہمانوں سے بھرگیا تھا جب کی پری اور ثانیہ ابھی تک میک اپ روم میں تیار ہورہی تھی مہرماہ گھر میں تھی اس کو شاہ میر کے ساتھ ہال میں جانا تھا کیونکہ مرجان کی وجہ سے اس کو تیار ہونے میں وقت لگ گیا تھا اس نے ولیمے کے لحاظ سے لائٹ بلیو کلر کی میکسی پہن رکھی تھی بالوں کا خوبصورت سا جوڑا بنایا ہوا تھا جب کی چہرہ میک اپ سے پاک تھا کانوں میں سمپل سے ایئر رنگز پہن رکھے تھے اور گلے میں چین جو کی شاہ میر کی طرف سے رونمائی کا تحفہ تھا دیکھنے میں جتنی سادہ تھی پر تھی وہ اُتنی ہی مہنگی کیونکہ وہ بس دیکھنے میں سمپل سا لُک دے رہی تھی پر ہاتھوں میں جب لیا جائے تو بھاری تھی مہرماہ نے اس کو سنبھال کر رکھا تھا ایک اپنے ولیمے کے دن پہنی تھی دوسرا آج اس نے آج پہنی تھی ہاتھوں میں اس نے سفید موتیوں والا بریسلیٹ پہنا تھا جس میں اس کی نازک کلائی بہت دلکش لگ رہی تھی۔ مہرماہ نے مسکراکر خود پہ ایک نظر ڈالی بلاشبہ وہ سادگی میں بھی غضب دھاڑ رہی تھی۔

ماہ ایک دن آپ میری جان لیں لیگی۔ مہرماہ خود کو دیکھنے میں مصروف تھی جب شاہ میر پیچھے سے اس کو ہگ کرتا ہوا بولا جس پہ مہرماہ نے اس کو زور سے کہنی ماری

فضول مت بولا کرو۔ مہرماہ نے مرر سے شاہ میر کو گھورا جس نے آج بلیو کلر کا کُرتا پہنا ہوا تھا جس سے وہ بہت ڈیشنگ لگ رہا تھا اپنے سلکی گھنے بالوں کو اس نے جیل سے سیٹ کیا تھا چہرے پہ نفاست سے سیٹ کی بیئرڈ تھی جو اس کو باوقار بنارہی تھی اور مضبوط کلائی میں رولیکس کی گھڑی پہن رکھی تھی جب کی پیروں میں پیشاوری چپل پہنی ہوئی تھی۔

حد سے زیادہ بے حد خوبصورت لگ رہی ہیں۔شاہ میر مہرماہ کو اپنے طرف کیے بولا

تم بھی بہت پیارے لگ رہے ہو۔ مہرماہ نے اس کا گال کھینچ کر کہا تو شاہ میر ہنس پڑا۔

آپ کا مرجان اور میرا رقیب کہاں ہیں۔ شاہ میر نے پوچھا اس کو اپنا بیٹا رقیب لگتا تھا کیونکہ وہ جب جب مہرماہ کے ساتھ وقت گُزارتا تو وہ رونا شروع کردیتا ورنہ سارا وقت سوتا رہتا جس سے شاہ میر کو اچھی خاصی تپ لگتی پر مہرماہ ہنس کر اس کی حالت انجوائے کرتی تھی۔

ہمارا بیٹا اپنے چاچوں کے پاس ہے میں نے اس کو بھی بلیو کلر کا کُرتا پہنایا ہے۔ مہرماہ نے مسکراکر کہا۔

ہاں اس ڈیڑھ انچ کو بھی شلوار قمیض پہنائے پیمپر میں تو وہ پورا آتا نہیں آپ ایسی ڈریسنگ کرکے اور اس کو اور غائب کردے۔ شاہ میر مہرماہ کی بات سن کر بولا کیونکہ مرجان کافی کمزور تھا جس سے جب جب مہرماہ اس کو پیمپر پہناتی وہ اُتر جاتا تھا جس سے مہرماہ تو پریشان پر شاہ میر کی ہنسی نکل جاتی تھی مرجان کی پتلی ٹانگیں دیکھ کر جو اس کے وزن سے زیادہ کم اور چھوٹی تھی۔

یہ کیا تم پہلے اس کو ایک انچ اب ڈیڑھ کا کہتے ہو بیٹا ہے وہ تمہارا اور تمہاری معلومات کے لیے

عرض ہے کہ ڈائپر میرے بیٹے کو اب فٹ آجاتا ہے۔ مہرماہ نے اِتراکر بتایا

جی دیکھا تھا میں نے کیسے آپ نے پِن لگانی چاہی تھی پر پھر آپ کو خیال آیا کہ پن اس کو چُب بھی سکتی ہیں اِس لیے آپ نے اپنا ارادہ ترک کردیا۔ شاہ میر نے مسکراہٹ دباکر کہا جس پہ مہرماہ یہاں وہان دیکھنے لگی کیونکہ وہ چاہتی تھی ایسا کریں ورنہ اس کا سارا دھیان مرجان کی طرف جاتا پر پنز کو دیکھ کر اس کو وہم ہوا کہ بچہ ہے اگر اس کی ملائم نازک اسکن پہ چُب جاتا تو۔

باتیں مت کرو ہال کی طرف جانے کی تیار کرو دیر ہورہی ہے۔ مہرماہ نے بات بدلنے میں عافیت جانی۔

جو حکم آپ کا۔ شاہ میر سینے پہ بازوں رکھتا سرجھکا کر بولا تو مہرماہ ہنس پڑی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *