Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Qaid Season 2 (Episode 26)

Ishq Qaid Season 2 by Rimsha Hussain

مرجان ملیحہ اور شاہ ویر حیات کی شادی ایک ساتھ ہونا پائی تھی خان مینشن اور سکندر مینشن سے ریان کی طرف سے بھی شادیوں کی تیاریاں زور شور سے شروع تھی پر اِس بیچ ماہا کی ملاقات ایک دفع بھی مرجان سے نہیں ہوئی تھی شادیوں کے دن جیسے قریب آرہے تھے مہرماہ کی حالت اُتنی بُری ہورہی تھی کیونکہ اُس کی طرف سے افراد کی شادیاں جس نے سہی معنوں اُس کو تھکادیا تھا ہر روز بازار کے چکر مہمانوں کی لسٹ بنانا سب کی سپورٹ خاص طور پہ شاہ میر کی سپورٹ ہونے کے باوجود بھی مہرماہ تنگ آکر رہ جاتی۔

حیات تیار ہوجاؤ مہرین آئی گی اس کے ساتھ شاپنگ پہ جانا ہے مجھے بھی ملیحہ کا ریسپشن کا جوڑا بھی لینا ہے اس لیے ساتھ جائے گے جانا تو تمہیں ثانیہ کے ساتھ تھا پر آج اس کے سر میں درد ہے۔مہرماہ حیات کے کمرے میں آتی جلدی جلدی بولنے لگی۔

پر مما پھر کبھی جائے گے نہ سچی اِس مہینے بہت شاپنگ مال کے دیدار کا شرف حاصل کیا ہے۔حیات نے سُستی دیکھائی۔

حیات فضول مت بولوں دو دن بعد مایوں میں بیٹھنا ہے تمہیں اِس لیے چُپ چاپ جو کہہ رہی ہو وہ کرو۔مہرماہ نے اس کی بات پہ تپ کر کہا۔

آپ لیں آئیے گا اپنی طرف سے کیونکہ میں واقع آرام کرنا چاہتی ہوں۔حیات نے مسکین سی شکل بناکر کہا۔

حیات مہرین دس منٹ میں پہنچ جائے گی فٹافٹ تیار ہوجاؤ۔مہرماہ اس کی بات پہ کان دھڑے بنا بولی تو حیات تلملا اُٹھی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

مس ماہا مجھے آپ سے کجھ بات کرنا تھی۔ماہا اپنے آفس کی طرف جارہی تھی جب پروفیسر منان نے مسکراکر کہا۔

جی کہے۔ماہا نے سنجیدگی سے کہا۔

کیفے ٹیریا چلتے ہیں۔پروفیسر منان نے کہا

اوکے پر جلدی کرئیے گا میری کلاس کا وقت ہورہا ہے۔ماہا نے پروفیسر منان کے ساتھ چلتے ہوئے کہا۔

زر وہ دیکھے۔زرجان کیفے ٹیریا میں بیٹھا تھا جب احتشام نے اس کی کمر پہ ٹھوکا مار کر سامنے دیکھنے کا کہا زرجان نے ماہا کو پھر پروفیسر منان کے ساتھ دیکھا تو آنکھوں کے ساتھ ساتھ دل بھی جل بیٹھا۔

تم ایسے ہی دل جلے بنے رہنا اور اُن کو کوئی اور لیں جائے گا۔فرزام نے زرجان کے ہاتھوں کو دیکھ کر کہا جو زرجان نے ضبط کرنے کی خاطر زور سے بند کر رکھی تھی۔

تمہارا بکواس کرنا ضروری ہوتا ہے کیا۔زرجان نے گھور کر کہا۔

جی کہے کیا بات ہے۔ماہا نے بیٹھتے ہی پوچھا۔

دیکھے مس ماہا میں صاف اور سیدھی بات کرنے کا قائل ہوں گھما پھیرا کر بات کرنا مجھے پسند نہیں۔پروفیسر منان نے تھمید باندھی۔زرجان کی آگ برساتی نظریں پروفیسر منان پہ تھی دور ہوتے بھی زرجان کو آج پروفیسر سے خطرہ محسوس ہورہا تھا۔

پروفیسر منان تو تمہارا فیورٹ استاد ہے ان کو کیوں ایسے دیکھ رہے ہو کیا پسند کرنے کا حق صرف تمہارا ہے۔فرزام نے پھر زرجان کو چھیڑا احتشام وہاں سے اٹھ کر جاچُکا تھا۔

ماہا ریان کو پسند کرنے کا حق صرف زرجان میر کو ہے اُس کے علاوہ کسی کا نہیں۔زرجان نے وحشت بھرے لہجے میں کہتے فرزام کی بولتی بند کردی۔

مجھے بھی صاف اور سیدھی باتیں سننا پسند ہے اس لیے آپ تھمید باندھنے کے بجائے اصل بات پہ آئے۔ماہا نے اپنی کلائی میں بندھی گھڑی پہ وقت دیکھ کر سنجیدگی سے کہا۔

میں آتا ہوں۔زرجان اپنی جگہ سے کھڑا ہوتا ہوا بولا۔

زر پاگل مت بنو تمہارا وہاں جانا وہ بھی جب میم منان سر کے ساتھ ہو تو اسٹوڈنٹس کو شک میں مبتلا کرسکتا ہے اس لیے خود پہ کنٹرول کرو خاص طور پہ اپنی نظروں کو۔فرزام نے زرجان کا ہاتھ پکڑ کر سنجیدگی سے کہا۔

مجھے کسی کی پرواہ نہیں پر ہاں مجھے ماہا کی عزت سب سے زیادہ عزیز ہے میں ان کے پاس نہیں جارہا بس سامنے والی ٹیبل پہ بیٹھوں گا تاکہ پتا چلے وہ کیا بات کررہے ہیں۔زرجان نے اپنا ہاتھ چھڑواکر ایک ٹیبل کی جانب اشارہ کیا جو خالی تھی۔

اچھی بات ہے یہی باتیں مجھے آپ میں بہت پسند ہے۔زرجان پاس سے گزرا تو پروفیسر منان کی آواز کانوں پہ پڑی جس پہ جلتا کڑھتا ٹیبل کی طرف آکر کتاب کھول کر خود کو ایسے ظاہر کیا جیسے وہ پڑھ رہا ہو۔

میں آپ سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔زرجان کے ساتھ ساتھ ماہا بھی اپنی جگہ گنگ سی ہوگئ زرجان کو اپنا آپ ضبط کرنا مشکل لگا۔

ایسکیوز می۔ماہا نے تصدیق چاہی۔

آپ نے سہی سنا۔پروفیسر نے کہا زرجان نے ماہا کی طرف دیکھا جس کے سرخ گال مزید سرخ ہوگئے تھے ماہا کے تاثرات دیکھ کر زرجان کو کجھ سکون ہوا پر وہ دل کو شدت سے اس کے جواب کا انتظار تھا۔

دیکھے مسٹر منان میں آپ کی دل سے عزت کرتی ہوں دوسرا یہ آپ یہاں کے پروفیسر ہے میں یہاں بطور ٹیچر ہوں تو مجھے وہی رہنے دے یہ شادی وغیرہ آپ کسی اور سے کریں۔ماہا نے بڑی مشکل سے خود پہ ضبط کیے کہا زرجان کے چہرے پہ خوبصورت مسکراہٹ آگئ تھی۔

آخر کیوں مجھے کیا بُرائی ہے ایک نہ ایک دن تو آپ کو کرنی ہے نہ تو پھر میں کیوں نہیں۔پروفیسر منان کی بات پہ زرجان دانت کچکچاکر رہ گیا۔

اچھا خاصا رقیب بن گئے ہیں یہ تو۔زرجان بڑبڑاہٹ میں بولا۔

آپ کو کس نے کہا مجھے شادی کرنی ہے میں اپنی زندگی میں پرسکون ہوں یہ میری زندگی اللہ کے سوا میرے اختیار میں ہے جس پہ بس میری حاکمت ہے میں کسی اور کو اپنی زندگی میں انوالو کرکے خود کو کسی کا پابند نہیں کروگی۔ماہا کے جواب پہ زرجان بے چین ہوا۔

ایسا کیوں کہہ رہی ہیں ایسا تو نہیں ہوتا کیا آپ کسی اور کو پسند کرتی ہیں یا آپ کو محبت میں ناکامی ملی ہے۔ماہا کا دل کیا پروفیسر منان کی بات پہ ان کا منہ توڑ دے زرجان کا رنگ پل فق ہوا تھا دل نے تیز رفتار پکڑلی تھی۔

یہی سمجھ لیں میرا ایک تجربہ کافی ہے امید ہے آپ یہ بات دوبارہ نہیں کرے گے۔ماہا اٹھ کر سنجیدہ سپاٹ انداز میں بولی جہاں پروفیسر منان کو مایوسی ہوئی تھی وہی زرجان کو لگ رہا تھا وہ دوبارہ سانس نہیں لے پائے گا۔.

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

آپ تو پہلے سے زیادہ پیاری ہوگئ ہیں۔شاہ میر مہرماہ کے پیچھے کھڑا ہوتا بولا جو مرر کے سامنے کھڑی ہاتھوں میں لوشن لگارہی تھی۔

سدھرنا نہیں تم نے۔مہرماہ اپنی خفت مٹانے کے لیے شاہ میر کو گھور کر بولی۔

ہاہاہا آپ تو آج بھی بلش کرتی ہیں۔شاہ میر ہنستا اس کے گال کھینچ گیا۔

شاہ دور رہو۔مہرماہ نے اب کی التجا کی۔

اچھا اچھا۔شاہ میر مسکراتا بیڈ پہ بیٹھ گیا۔

شاہ میں نے اپنی طرف سے شاپنگ کرلی ہے اب تم اور مرجان آفس سے آف لیکر اپنی شاپنگ کرلوں۔مہرماہ نے شاہ میر سے کہا جو موبائل میں مصروف ہوچکا تھا۔

کرلوں گا مرجان بھی کرلیں گا۔شاہ میر نے کہا

کل۔مہرماہ نے یاد کروایا۔

اوکے ڈن۔

💕
💕
💕
💕

ماہا فری ہو نہ بھی ہو تو جو کام کررہی ہو وہ رہنے دو۔ملیحہ ماہا کے کمرے میں آتی بولی

سوری میں ضروری لیکچر تیار کر رہی ہوں۔ماہا نے سنجیدگی سے جواب دیا

ماہا یار پلیز کل میرا مایوں ہے مجھے پھر باہر نہیں جانے دے گے آج میرے ساتھ تم مال میں چلو تم نے اپنی شاپنگ بھی تو کرنی ہے نہ۔ملیحہ نے منت کرنے والے انداز میں کہا

ملیحہ ہر بات پہ ضد نہیں کیا کرو میں بزی ہو۔ماہا نے ٹوکا

تم بھی ہر وقت بزی نہیں رہا کرو کبھی اپنی بہن کو وقت بھی دے دیا کرو۔ملیحہ دوبدو بولی۔

کیا کرنا ہے تم بازار جاکر؟ماہا نے پوچھا جانتی تھی جب تک ملیحہ اپنی بات نہیں منوائے گی کام بھی نہیں کرنے دے گی۔

مجھے جیولر کے پاس جانا ہے ایک سیٹ میں نے بنوانے کا کہا تھا پھر کجھ ضرورت کی چیزیں ہیں۔ملیحہ نے پرجوش ہوکر کہا۔

چلو۔ماہا اٹھتی ہوئی بولی

ایسے۔ملیحہ حیرت سے بولی

کیوں کیا پروبلم ہے۔ماہا کو تعجب ہوا

میری بہن مانا تم خوبصورت ہو سادگی میں بھی اپنی مثال آپ ہو پر ہم شاپنگ پہ جارہے ہیں ڈریس چینج کرو ہاتھ منہ دھولو میں یقین کے ساتھ کہہ سکتی ہوں فجر کے بعد تم نے چہرہ نہیں دھویا۔ملیحہ نے کمر پہ ہاتھ رکھ کر کہا۔

مال جارہے ہیں ریڈ کارپیٹ پہ جلواہ بکھیرنے نہیں جو میں تیار ہوتی پھیرو۔ماہا کوفت سے کہتی کبرڈ سے اپنی چادر نکالی۔

سہی کہتے ہیں اللہ جب حسن دیتا ہے تو نزاکت آجاتی ہے خوبصورت اور گوری لڑکیوں کے مزے ہیں جیسے بھی رہے پیاری لگتی ہیں۔ملیحہ ڈرامائی انداز میں بولی جس پہ ماہا نے کوئی جواب نہیں دیا۔

ملیحہ اور ماہا کراچی کے سب سے بڑے مال میں آئی تھی ملیحہ سب سے پہلے ماہا کو جیولر کے پاس لے گئ تاکہ اپنا سیٹ لیں سکے سیٹ لینے کے بعد ماہا لیڈیز ڈریسز کے سینٹر گئ تاکہ اپنے لیے کجھ لیں جو کی اس نے شاپنگ نہیں کی تھی۔۔۔

شاہ میر بھی زرجان کے ساتھ شاپنگ مال آیا تھا جہاں وہ دونوں تھی مرجان مصروفیت کی وجہ سے نا آسکا کہ وہ بعد میں بھی لیں سکتا ہے شاہ میر خود جیولر کے پاس گیا تھا مہرماہ کا حکم تھا کے آتے وقت جیولر سے اس کے آرڈر کی جیولری لیں آئے زرجان نے ماہا اور ملیحہ کو دیکھ لیا تھا پر وہ ان کے پاس جانے کے بجائے اپنے لیے شرٹس دیکھنے لگا ماہا کی کہی پرفیسر منان سے بات زرجان اُداس رہنے لگا تھا۔

یہ سوٹ بہت اچھا لگے گا تم پہ۔ملیحہ نے سیٹ کیے ہینگرز میں سے ایک ملٹی کلر کا شرارہ ماہا کی طرف بڑھا کر کہا جس پہ بہت بھاری اور عمدہ کام کیا گیا تھا۔

شادی میری نہیں تمہاری ہے اور میں ویسے بھی اتنی ہیوی ڈریسنگ نہیں کرتی۔ماہا نے اکتاہٹ بھری نظروں سے ڈریس دیکھ کر کہا

اففف تمہارا کوئی جواب نہیں۔ملیحہ نے سرجھٹکا۔ایک خیال کے آتے ہی ماہا دوسری سائیڈ پہ گئ وہاں کھڑی سیلز گرل سے کہا

مجھے پیلے کلر کا ایک سمپل ڈریس اور تین لہنگے مختلف ڈیزائن اور کلرز کے دیکھائے۔

ابھی تو کہا ہیوی ڈریسنگ نہیں کرتی۔ملیحہ نے اس کی نقل اُتار کر کہا

موڈ چینج ہوگیا۔ماہا نے آرام سے کہا ملیحہ بس اس کو دیکھتی رہ گئ۔

زرجان بیگ ہاتھ میں لیے جیولر کی شاپ پہ آیا جہاں ابھی شاہ میر موجود دیکھا زرجان بیزار سی نظر شاپ پہ پھیر رہا تھا جب اس کی نظر سفید موتیوں کے نفیس بریسلیٹ پہ پڑی۔زرجان نے ایک چور نظر شاہ میر پہ ڈالی پھر ہیلپر سے اس بریسلیٹ پیک کرنے کا کہا۔

ڈیڈ آپ فری ہوگئے؟زرجان نے پوچھا

ہمم بل پے ہوگیا ہے بس میں اپنے لیے کوئی ڈریس دیکھو شادی ہو تو ماہ میرے لیے کپڑے دیکھتی ہے اِس بات تو انہوں نے بھی ہڑی جھنڈی دیکھائی۔شاہ میر منہ بناکر بولا تو زرجان ہنس پڑا۔

آپ کو مما میں سب سے زیادہ اچھی بات کیا لگتی ہے؟زرجان نے پوچھا

ان کا مسکرانا۔شاہ میر بنا تاخیر کیے بولا۔

آپ کو مما سے پیار کیوں ہوا؟زرجان نے دوسرا سوال کیا۔

پیار بتاکر نہیں ہوتا۔شاہ میر نے جواب دیا۔

پیار کو پانا ضروری ہوتا ہے؟زرجان نے سوال کیا

ضروری تو نہیں ہوتا۔شاہ میر نے کہا اور سیل بوائے کو کجھ کہا جس پہ وہ سرہلاتا گیا۔

پر جن سے محبت ہو ان کے بغیر رہا بھی تو نہیں جاتا نہ۔زرجان نے الجھے انداز میں کہا

ہاں پر محبت میں ہمیشہ اپنا نہیں دوسروں کا بھی سوچنا ہوتا ہے اسپیشلی جس سے آپ محبت کرتے ہو ہر محبت منزل محبت کو حاصل کرنا نہیں ہوتی ہاں اگر آپ کو محبت ہوجاتی ہے پھر آپ نکاح کی خواہش کرتے ہیں تو اللہ ضروری اس کی خواہش کو پورا کرتا ہے۔شاہ میر نے سنجیدگی سے جواب دیا۔

اگر آپ کو مما نہ ملتی تو۔زرجان نے شاہ میر کا چہرہ دیکھ کر کہا جو آج بھی مہرماہ کے الگ ہونے کے خیال سے ہی فق ہوجاتا دل عجیب انداز میں دھڑک جاتا تھا۔

تو میں زندہ نہ رہتا۔شاہ میر کی بات پہ زرجان کو سمجھ نہیں آیا کیا بولے

مما راضی تھی جب آپ کی شادی ہوئی تھی تو۔زرجان نے ایک اور سوال داغا اب شاہ میر کو ٹھٹکا محسوس ہوا عموماً زرجان کبھی بھی اتنی باتیں نہیں کرتا تھا اور آج سوال پوچھ رہا تھا وہ پیار محبت کے بارے میں مگر شاہ میر اپنا وہم سمجھ کر جواب دینے لگا۔

بلکل میرے لیے میری محبت میرے عشق سے زیادہ ان کی رضامندی اہم تھی اگر میں اپنا سوچتا تو جب ان کا نکاح کسی اور سے ہورہا تھا میں زبردستی بھی کرسکتا تھا پر تب شاید وہ مجھ سے اِتنی محبت نہ کرتی جتنی اب کرتی ہیں محبت کی بنیاد جس طرح عزت،اعتبار ہے اسی طرح محبت کا دوسرا نام قربانی ہے میں نے ماہ سے رقیب کے ڈر سے محبت کرنا نہیں چھوڑی بلکہ میں نے اپنے اللہ پہ چھوڑ دیا ان سے دعا مانگی اور اللہ نے مجھے مایوس نہیں کیا۔شاہ میر گہری مسکراہٹ سے بولا۔

اگر ہم کسی سے محبت کرے پر سامنے والا نہ کرتا ہو یا ہماری محبت کی قدر نہ کرے تو کیا کیا جائے۔زرجان نے پوچھا۔

پہلی بات اگر آپ کسی سے محبت کرے تو جواب میں محبت نہ مانگے محبت ایک خودساختہ جذبہ ہے ہم کسی کو مجبور نہیں کرسکتے کے وہ آپ سے پیار کریں دوسرا یہ کے اگر قدر نہ کریں تو اس میں ایک فرمان ہے حضرت علی کا

حضرت علیؓ فرماتا ہے!!

کسی کو تم دل سے چاہو

اور وہ تمہاری قدر نہ کریں

تو یہ اُس کی بدقسمتی ہے تمہاری نہیں ۔

زرجان شاہ میر کے چُپ ہونے کے بعد بولنا چاہتا تھا پھر شاہ میر نے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا

بہت کرلیے سوال اب وہ کریں جو کرنے آئے ہیں۔شاہ میر نے کہا زرجان نے بس سر کو جنبش دی۔

ہے تم یہاں۔ملیحہ اور ماہا شاپنگ کے بعد مال کے پاس ریسٹورنٹ کی طرف جانے والی تھی جب ملیحہ نے زرجان کو دیکھ کر کہا ماہا نے کوئی خاص رسپانس نہیں دیا

جی ڈیڈ کے ساتھ آیا تھا۔زرجان ایک گہری نظر ماہا کو دیکھ کر ملیحہ سے بولا زرجان کی نظریں اور تو کسی نے نہیں پر سامنے آتے شاہ میر نے ضرور نوٹ کی تھی۔

اسلام علیکم انکل!!!شاہ میر کو آتا دیکھ کر دونوں نے سلام کیا۔

وعلیکم اسلام!! کرلی شاپنگ۔شاہ میر نے سلام کا جواب دے کر مسکراکر پوچھا۔

جی انکل بس اب ریسٹورنٹ جارہے تھے آپ بھی ہمیں جوائن کرے۔ملیحہ نے مسکراکر کہا۔

ہاں کیوں نہیں ضرور۔شاہ میر کے کجھ کہنے سے پہلے زرجان بول پڑا۔

چلیں پھر۔شاہ میر ایک نظر زرجان پہ ڈال کر بولا پھر سب ریسٹورنٹ کی طرف آئے۔

پہلے آپ آرڈر کریں۔ملیحہ نے مینیو کارڈ شاہ میر کی طرف بڑھایا۔

میرے لیے بس ایک فریش جوس۔ماہا نے پاس کھڑے ویٹر سے کہا۔

اور میرے لیے ملک شیک۔زرجان نے بھی اپنا آرڈر بتایا ملیحہ مینیو کارڈ دیکھنے میں بزی تھی۔

آرڈر دینے کے بعد زرجان فرصت سے ماہا کو دیکھنے لگا جو اردگرد کا جائزہ لینے میں خود کو مصروف ظاہر کررہی تھی۔

زر سب ٹھیک ہے نہ؟شاہ میر نے مسلسل اس کی نظریں ماہا پہ جمی دیکھی تو کان کے پاس کہا زرجان گڑبڑا کر اپنا دھیان ملک شیک پینے پہ لگاکر آہستہ آواز میں کہا۔

یس ڈیڈ سب ٹھیک ہے۔شاہ میر نے زرجان کی بات پہ گہری سانس لی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

حیات سونے کے لیے لیٹی ہی تھی جب اس کے فون پہ میسج کی بپ ہوئی حیات نے سائیڈ ٹیبل سے اپنا فون لیا تو شاہ ویر کا میسج تھا۔

جاگ رہی ہو؟

آسمان کی سیر پہ نکلی ہوں۔حیات نے شاہ ویر کا میسج پڑھ کر مسکراہٹ دباکر رپلائے کیا۔دوسری طرف شاہ ویر کو ایسے ہی کسی جواب کی توقع تھی۔

اکیلے اکیلے مجھے بتایا ہوتا ساتھ میں چلتے۔شاہ ویر نے ہنس کر میسج سینڈ کیا۔

اِس وقت میسج کیوں کیا ہے؟حیات سر جھٹکتی پوچھنے لگی کیونکہ اس کو نیند آرہی تھی شاہ ویر سے بات کرنے کے بعد وہ سوجاتی۔

تم سے بات کرنی تھی۔شاہ ویر نے بتایا۔

کونسی بات جلدی کرو مجھے سونا ہے۔

کل مایوں پہ جب تیار ہوجاؤ تو اپنی تصویریں سینڈ کرنا۔شاہ ویر نے میسج بھیجا۔

کس خوشی میں؟حیات کے چہرے پہ مسکراہٹ آئی تھی پر شاہ ویر کو چھیڑنا ضروری سمجھا۔

تمہارا مجازی خدا بننے کی خوشی میں۔شاہ ویر کے پاس جواب موجود تھا۔

دیکھوں گی سوچوں گی پھر بھیجوں گی۔حیات کا میسج پڑھ کر شاہ ویر نے دانت پیسے۔

نہ دیکھنا ہے نہ سوچنا ہے بس سینڈ کرنا ہے۔

اچھا اچھا کل کی کل دیکھے گے ابھی گُڈ نائٹ۔حیات نے بمشکل اپنی بند ہوتی آنکھوں کو کھول کر میسج سینڈ کیا شاہ ویر بھی سمجھ گیا تھا وہ تھکی ہوئی ہے اِس لیے بحث نہیں کی

اوکے گُڈ نائٹ اپنے ڈریم میں مجھ دیکھنا نا بھولنا۔شاہ ویر کا میسج پڑھ کر اس نے تکیہ منہ پہ رکھ کر مسکراکر آنکھیں موندلی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

مایوں کی رسم سب نے الگ الگ کرنے کا فیصلا کیا تھا سب سے بڑا مرجان تھا اِس لیے پہلے مہرماہ نے ملیحہ کی طرف جانا تھا پھر واپس سب خان مینشن جانا تھا جہاں پھر ثانیہ نے حیات کو مایوں میں بیٹھنا تھا ملیحہ نے پیلے رنگ کی پٹیالا شلوار قمیض پہن رکھی تھی مایوں کے حساب سے پھولوں کے گجروں کے ساتھ پھولوں کے ہی زیور تھے بالوں کو چوٹی میں قید کیا تھا چہرہ میک اپ سے پاک تھا مگر چہرے پہ مسورکن مسکراہٹ تھی جس سے وہ بہت دلکش لگ رہی تھی۔

ماہا پیلے اور گرین امتزاج کے شلوار قمیض پہنے بالوں کی چوٹیاں بنائی ہوئی تھی گرین ڈوپٹہ ایک شانے پہ ٹکا ہوا تھا میک اپ کے نام پہ بس لب گلوس لگایا ہوا تھا جب کی ہاتھ چوڑیوں سے بھرے ہوئے تھے جو بھی اس کو دیکھتا ماشااللہ کہے بنا نہ رہ پاتا وہ لگ ہی اتنی خوبصورت رہی تھی۔مایوں کی رسم گھر کے لان میں کی گئ تھی پورے لان کو رنگ برنگی لائٹس اور پھولوں سے سجایا گیا تھا ایک طرف جھولا تھا جہاں ملیحہ سر جھکا کر بیٹھی ہوئی تھی مہمانوں کی آمد رفت جاری تھی۔

ماہا تم کچن سے پھولوں کا تھال تو لے آوٴ۔مہرین نے ماہا کو اکیلا کھڑا دیکھا تو کہا۔

جی موم لاتی ہوں۔ماہا نے سامنے خوشی سے جگمگاتا ملیحہ کا چہرہ دیکھ کر کہا

خود کی نظر ضرور اُتارنا۔مہرین اس کے گال پہ ہاتھ رکھ کر کہتی چلی گئ ان کے جانے کے بعد ماہا کے چہرے پہ طنزیہ مسکراہٹ آگئ تھی۔

زر تم کہا ہو؟مہرماہ سائیڈ پہ آتی کال پہ زرجان سے بولی۔

مما میں تو گھر پہ ہوں۔زرجان منہ بناتا بولا اُس کا بڑا دل تھا وہاں آکر ماہا کو تیار ہوتا دیکھنے کا مگر مہرماہ نے یہ کہہ کر چُپ کروایا تھا کہ وہاں لڑکوں کا کوئی کام نہیں جس سے وہ بس اب اپنے کمرے میں بیٹھا جل کڑھ رہا تھا۔

میرے کمرے میں ایک شاپنگ بیگ ہے وہ لیکر یہاں آوٴ فورن۔مہرماہ کی عجلت بھری آواز سن کر زرجان فورن سیدھا ہوکر بیٹھا چہرے پہ مسکراہٹ آنکھوں میں الوہی چمک اُبھری تھی

میں ابھی آیا میرا مطلب ابھی لیکر آتا ہوں۔زرجان اپنی خوشی پہ قابوں پاتا فورن سے کہا

کیا ہوا پریشان ہو؟مہرین مہرماہ کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر پوچھا۔

نہیں اب ٹھیک ہوں جلدی جلدی میں ملیحہ کی چادر لانا بھول گئ تھی زر سے کہا ہے وہ بیگ لاتا ہوگا۔مہرماہ نے رلیکس ہوکر بتایا۔

اچھا سہی تب تک ہم رسم کرلیں۔مہرین نے کہا تو مہرماہ نے سرہلایا۔

ماہا اگر زر آئے تو اس سے بیگ لینا اندر تو وہ نہیں آسکتا لڑکیوں کا فنکشن ہے۔مہرین نے ملیحہ کے پاس بیٹھی ماہا سے کہا ماہا نے بس سرہلانے پہ اکتفا کیا۔

پانچ منٹ بعد مہرماہ کو زرجان کا میسج آیا تو ماہا سے کہا جس پہ ماہا اپنا ڈوپٹہ سہی کرتی باہر آئی۔

زرجان ہاتھ میں بیگ پکڑے بیزار سا کھڑا پر جب ماہا کو آتا دیکھا تو اپنی جگہ ساکت ہوگیا تھا آنکھیں اس کے چہرے سے ہٹنے پہ انکاری ہوگئ تھی زرجان کو اپنا آپ سنبھالنا مشکل ہوگیا تھا اس کو سمجھ نہیں آتا تھا وہ کیوں ماہا کو دیکھ کر بے بس ہوجاتا تھا کیوں وہ جب بھی اس کو دیکھتا تو دل خواہش کرتا کے وقت تھم جائے کیوں اس کو اپنے اور ماہا کے درمیان چھ سالوں کا فرق نظر نہیں آتا تھا۔

بیگ۔ماہا اس کی نظروں سے بے نیاز نظریں جھکاکر بیگ کی طرف اِشارہ کیا زرجان کی نظر ماہا کی جھکی پلکوں پہ ٹھیر گئ تھی۔

بیگ۔ماہا نے اِس دفع گھورا کر کہا زرجان بڑی مشکل سے اپنی نظریں ہٹاتا بیگ ماہا کی طرف بڑھایا۔

آپ بہت پیاری لگ رہی ہیں۔ماہا گھر کے اندر جارہی تھی جب اپنے پیچھے زرجان کی آواز سنی زرجان دل کے ہاتھوں مجبور ہوتا بول تو لیا تھا اب بالوں میں ہاتھ پھیرتا آس پاس دیکھ رہا تھا دل شدت سے ماہا کے ری ایکشن کا منتظر تھا وہ جانتا تھا اس کے لیے اچھا نہیں ہوگا مگر جو لفظ اُس نے ماہا کے منہ سے سنا وہ اس کی توقع کے برعکس تھا۔

شکریہ۔ماہا کہہ کر اندر جاچُکی تھی۔مگر زرجان اسٹل سا وہی کھڑا ہوگیا تھا ماہا کے ایک چھوٹے لفظ نے اُس کو خوشفہمی میں مبتلا کردیا تھا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

حیات فل پیلے کلر کے فراق کے ساتھ گرین ڈوپٹے میں ملبوس انتہا کی خوبصورت لگ رہی تھی بال کُھلے ہوئے تھے چہرے پہ مناسب سا میک اپ کیے وہ اپنی تصویریں لینے میں مگن تھی اس کی حرکتیں دیکھ کر ثانیہ اور ہانیہ مسکرارہی تھی مگر مہرماہ دانت پیستی اس کو گھور رہی تھی جس کو اپنے مایوں میں ہونے کا لحاظ تک نہیں تھا۔

حیات ساری فوٹوگرافی آج کرنی ہے کیا؟مہرماہ نے طنزیہ کیا۔

نو مما بس آج کی کرنی ہے اب ہر روز تو مایوں میں نہیں بیٹھوں گی نہ۔حیات دانتوں کی نمائش کرتی ہوئی بولی۔

مہرو چچی آپ کو میر چاچوں بلا رہے ہیں۔مہرماہ حیات سے کجھ کہتی اُس سے پہلے منت نے آکر کہا تو مہرماہ اپنی جگہ سے اٹھ کر باہر نکلی۔

کمرے میں آئی تو شاہ میر کو وارڈروب سے سارے کپڑے نکالتے ہوئے پایا۔

شاہ کیا ہوگیا ہے اتنا گند کیوں پھیلایا ہوا ہے۔مہرماہ نے تعجب سے پوچھا۔

ماہ اچھا ہوا آپ آگئ مجھے میری فائل نہیں مل رہی آپ دیکھ کر دے اہم میٹنگ میں جانا ہے۔شاہ میر مہرماہ کو دیکھ کر شکر کا سانس بھرتا ہوا بولا۔

پچاس سے اُپر کے ہوگئے ہو مگر مجال ہو جو عقل آئی ہو۔مہرماہ تاسف سے شاہ میر کو دیکھتی سائیڈ ٹیبل کا دراوز کھول کر اُس میں گرین کلر کی فائل نکالی شاہ میر نے دیکھا تو کھسیانا ہوگیا کیونکہ کل رات اُس نے ہی یہاں رکھی تھی اور اب تلاش وہ وارڈروب میں کر رہا تھا۔

ہر بات میں عمر یاد نہ کروایا کرے اینڈ تھینکس فار دس۔شاہ میر مہرماہ کے گال پہ بوسہ دیتا فائل کی طرف اشارہ کرکے کہا مہرماہ نے ایک مکہ شاہ میر کے بازوں پہ مارا جس پہ شاہ میر ڈھیٹ ہوکر ہنس پڑا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *