Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Qaid Season 2 (Episode 22)

Ishq Qaid Season 2 by Rimsha Hussain

محبت ایک ایسی خواہش ہے

جو باقی تمام خواہشوں کو کھاجاتی ہے

کیا مرجان کو میری محبت محسوس نہیں ہوتی۔ملیحہ نے خود سے سوال کیا۔

محبت تو ایک پھول کی طرح ہوتی ہے جس کی مہک چار سوں پھیل جاتی ہے پھر ایسا کیسے ممکن ہے کے مرجان کو میری آنکھوں میں اپنے لیے جذبات سے ناواقف ہو یا وہ جان بوجھ کر نظرانداز کررہا ہے۔ملیحہ خود سے تانے مانے جوڑنے لگی پر اصل بات وہ سمجھ نہیں پارہی تھی۔

پر ایسا وہ کیوں کرے گا مجھے میں کوئی کمی تو نہیں یا وہ کسی اور میں دلچسپی رکھتا ہے۔یہ سوچ آتے ہی ملیحہ کا دل انہونی کے احساس سے دھڑکا۔

میں بات کرکے دیکھ لوں گی ایسا نہ ہو کے بعد میں سوائے پچھتاوے کے میرے پاس کجھ نہ ہو۔ملیحہ نے خود سے عہد کیا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

زر اندر آتے۔مہرین گاڑی سے اُتر کر زرجان سے بولی۔

نہیں آنٹی پھر کبھی۔زرجان نے ماہا کو دیکھ کر جواب دیا۔

پانی وغیرہ پی لیتے ایسے مجھے اچھا نہیں لگے گا۔مہرین نے پھر سے کہا۔

موم اصرار کررہی ہیں تو مان لوں ان کی بات۔زرجان انکار کرنے والا تھا پر ماہا کے کہنے پہ اُس کے پاس جیسے انکار کرنے کا جواز نہیں بچا تھا نجانے کیوں وہ ماہا کی بات پہ انکار نہ کرسکا۔

پانی پینے میں کوئی قباحت نہیں۔زرجان نے مسکراکر کہا ماہا اندر چلی گئ تھی زرجان مہرین کے ساتھ اندر آیا۔

یہ لوں۔ماہا نے پانی کا گلاس اس کی جانب بڑھایا تو زرجان مسرور سا ہوگیا تھا۔

شکریہ۔زرجان نے گلاس تھام کر کہا ماہا بنا کوئی جواب دیئے وہاں سے چلی گئ۔

آنٹی آپ کے گھر میں کوئی ہیلپر نہیں؟زرجان نے پوچھا

نہیں بیٹا میں نے خود نہیں رکھا لنڈن میں سارا کام میں خود ہی کرتی تھی یہاں آکر ریان نے بہت کہا پر میں نے سارا کام خود کرنے کو ترجیح دی۔مہرین نے مسکراکر جواب دیا

آپ جاب کے ساتھ یہ سب کیسے ہینڈل کرلیتی ہیں؟زرجان نے دوسرا سوال کیا۔

اتنا کام نہیں ہوتا بس کھانا پکانا گھر کی صفائی کرنا تو ہوتی ہے ملیحہ کھانا بناتی ہے کیوں اس کو شوق ہے باقی میں صفائی ستھرائی پہ دھیان دیتی ہوں۔مہرین نے آرام سے جواب دیا۔

اور ماہا میم؟زرجان نے جھجھک کر پوچھا

ماہا کو بس پڑھنے کا شوق ہوتا ہے تو وہ بس وہی کرتی ہے۔مہرین نے ہنس کر بتایا تو زرجان مسکرادیا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

شاہ مجھے تمہارے دوست کی بیٹی ماہا بہت پسند آئی۔مہرماہ نے لیپ ٹاپ پہ مصروف شاہ میر سے کہا۔

ریان کے سب بچے بہت اچھے ہیں اُس نے بہت اچھی تربیت کی ہے۔شاہ میر نے اپنی نظریں لیپ ٹاپ کی اسکرین پہ مرکوز کیے جواب دیا۔

ہاں وہ تو ہے پر ماہا مجھے اور لحاظ سے پسند آئی ہے۔مہرماہ دل کی بات زبان پہ لائی۔

اور کس لحاظ سے؟شاہ میر نے پوچھا

اِس کو تو پڑے کرو پھر میں بتاتی ہوں۔مہرماہ نے شاہ میر کی گود سے لیپ ٹاپ اٹھاکر دور کرکے کہا شاہ میر نے اپنے ہاتھ کھڑے کرلیے۔

ماہا ہمارے مرجان کے لیے کیسے رہے گی مرجان کی بھی عمر ہوگئ ہے شادی کی ہمیں اب مزید دیر نہیں کرنی چاہیے۔مہرماہ نے کہا

میں بات کرتا ہوں ریان سے۔شاہ میر مہرماہ کی خواہش جان کر خوش ہوتا ہوا بولا۔

میں اندر آسکتا ہوں۔زرجان نے دروازہ نوک کیے کہا۔

پوچھ کیوں رہے ہو۔مہرماہ نے مسکراکر کہا زرجان بھی مسکراتا اندر آیا۔

کیا باتیں ہورہی تھی۔زرجان صوفے پہ بیٹھتا بولا

بس تمہاری ماں کو اب بس مرجان اور حیات کی شادی کی پڑی ہے۔شاہ میر نے جواب دیا۔

ڈیٹس گریٹ تو مما آپ نے اپنے لیے بہو اور داماد تلاش کیا۔زرجان نے مسکراکر پوچھا۔

داماد کو تلاش کرنا تو تمہارے باپ کا کام ہے پر بہو میں نے تلاش کرلی ہے۔مہرماہ نے مزے سے بتایا۔

اچھا کون؟زرجان نے دلچسپی سے پوچھا۔

ماہا مہرین کی بیٹی مرجان کے ساتھ بہت اچھی لگے گی۔مہرماہ نے بتایا تو زرجان کے مسکراتے لب فورن سے سمٹ گئے تھے زرجان کو اپنا دل عجیب انداز سے دھڑکتا محسوس ہوا اپنے دل کی آواز سے گھبراتا زرجان اٹھ کھڑا ہوا۔

مجھے اب یاد آیا کل مجھے اپنا اسائمنٹ جمع کروانا ہے تو میں کمرے میں جارہا ہوں۔زرجان کہہ کر رُکا نہیں تھا مہرماہ پھر سے شاہ میر کی طرف متوجہ ہوئی۔

پھر ہم کب بات کریں ان سے رشتے کی؟مہرماہ نے بے صبری سے پوچھا۔

پہلے مرجان کی رائے لوں پھر ہم رشتہ لینے جائے گے۔شاہ میر نے کہا مہرماہ سمجھنے والے انداز میں سرہلایا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

مجھے گھبراہٹ کیوں ہورہی ہے؟زرجان گھر کے اندر بنے پول سائیڈ کے پاس آتا اپنے پیر پانی میں ڈالتا سوچنے لگا۔

شاید میرا وہم ہو۔زرجان سر جھٹک کر بولا مگر اندر ایک بے چینی سی دی جو اس کو سکون نہیں لینے دے رہی تھی۔

رہنے دیجئے آپ سے نہیں ہوگی یہ

محبت ہے کوئی یونیورسٹی کی اسائمنٹ نہیں

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

کیا میں یہ سمجھوں تم میرا پیچھا کررہے ہو؟ماہی نے اپنی فرینڈس کے ساتھ جس ہوٹل اسٹے کیا تھا وہاں باہر اُس نے مرجان کو کھڑا دیکھا تو پوچھا۔

نہیں یہ تو قسمت ہمیں بار بار ملا رہی ہے ورنہ میں کیوں کرنے لگا تمہارا پیچھا۔مرجان نے آرام سے اُس کو جواب دیا۔

ہوسکتا ہے پر میں بار بار ایسے اتفاق کو نہیں مانتی۔ماہی نے صاف گوئی کا مظاہرہ کیا۔

تو کیا میں یہ سمجھوں کے تم چاہتی ہو میں تمہارا پیچھا کروں؟مرجان نے ماہی کے پہلے والے انداز میں پوچھا۔

نہیں میں کیوں ایسا چاہوں گی۔ماہی نے چلتے ہوئے کہا

وہ تو تمہیں پتا ہوگا۔مرجان اس کے ساتھ ہمقدم ہوتا ہوا بولا

تم یہاں کے ہو؟ماہی نے بات کرنے کے غرض سے پوچھا

نہیں میں پاکستان کا ہوں۔مرجان نے مسکراکر کہا۔

تم کہاں رہتی ہو؟مرجان نے پوچھا

میں زمین پہ۔ماہی نے مزاقً کہا

ظاہر ہے وہ تو اب بھی ہو۔مرجان نے گھور کر کہا

نہیں اب تو میں صاف شفاف روڈ پہ ہوں۔ماہی نے معصومیت سے کہا۔

میرا ایک گیارہ سال کا بھائی ہے اُس کے قد میں اور تمہارے قد میں ذرہ فرق نہیں دونوں ایک جتنے ہوگے۔مرجان نے مسکراہٹ دباکر اُس کی چھوٹے قد پہ چوٹ کی۔

بوائز کے قد لڑکیوں کی نسبت بڑے ہی ہوتے ہیں ورنہ میں سترہ کی ہوں تمہارا اپنے گیارہ سال کے بھائی سے میرا موازنہ کرنا بنتا نہیں۔ماہی نے چڑ کر کہا۔

تم مان لو تمہارا قد چھوٹا ہے۔مرجان نے چہرہ اُس کی جانب موڑ کر کہا

میرے قد میری عمر کے لحاظ سے ٹھیک ٹھاک ہے ویسے بھی مجھے لمبی ٹانگوں والی لڑکیاں نہیں پسند۔ماہی نے آرام سے کہا۔

تمہارے پاس جو نہیں اِس لیے دوسروں کی بھی نہیں پسند۔مرجان کا انداز صاف مزاق اُڑانے والا تھا۔

لگتا ہے تم میری انسلٹ کررہے ہو اپنی ہار کا بدلا چُکانے کے لیے۔ماہی رُک کر اس کے سامنے کھڑی ہوتی ہوئی بولی۔

خوشفہمی ہے چھوٹی گرل ورنہ ایسا کجھ نہیں۔مرجان نے کہا ماہی نے مشکوک نظروں سے دیکھ کر کندے اُچکا دیئے

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

مرجان ایک بار سوچ لوں بات بڑی نہیں جو تم ایک معصوم لڑکی کے ساتھ ایسا کرو۔شاہ ویر نے کال پہ مرجان کی بات سن کر سنجیدگی سے کہا

تمہیں کجھ نہیں پتا میں کیا محسوس کررہا ہوں اِس لیے فضول میں مجھے لیکچر نہیں دو میں جانتا ہوں میں سہی کررہا ہوں۔مرجان نے سنجیدگی سے کہا

مرجان ایک ریس ہارنے کا یہ مطلب نہیں تم کسی بے گناہ کو دھوکہ دو اس کے دل سے کھیلوں ہار جیت قسمت کی بات ہے اگر کوئی ہارتا ہے تو اُس کا یہ مطلب نہیں کے وہ بدلا لیتا پِھیرے۔شاہ ویر کو غصہ آرہا تھا مرجان کی ہڈ دھرمی پر۔

مجھے تمہیں بتانا ہی نہیں چاہیے تھا۔مرجان بیزارگی ظاہر کرتا بولا

مرجان تم میرے کزن ہونے ساتھ ایک اچھے دوست بھی ہو اُس لحاظ سے میں بس اتنا کہوں گا یہ دنیا گول ہے یہاں آج جو تم کروگے کل کو وہی تمہارے پاس لوٹ آئے گا دھوکہ ایک قرض ہے جو تمہیں سود سمیت لوٹانا پڑے گا اِس لیے ایسا کجھ مت کرنا جس سے تمہیں پچھتاوا ہو پر تمہارے پاس کجھ نہ ہو۔شاہ ویر نے ایک اور کوشش کی۔

ابھی میرا تمہارا یہ فلسفانے باتیں سننے کا موڈ نہیں۔مرجان اتنا کہہ کر کال کاٹ گیا شاہ ویر کتنی موبائل اسکرین کو دیکھتا رہا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

یار ماہی مجھے لگتا ہے وہ مرجان تم میں انٹرسٹ لے رہا ہے۔فروزین نے پرسوچ انداز میں ماہی سے کہا جو ایک ہیڈ فون کان میں لگائے گانے سن رہی تھی۔

مجھے بھی یہی لگتا ہے۔پاپ کارن کھاتی مانوی جھٹ سے بولی

میرا نہیں خیال کونسا وہ مجھے جانتا ہے۔ماہی نے ان کی بات پہ کہا

محبت کرنے کے لیے ایک دوسرے کو جاننا ضروری نہیں ہوتا۔مانوی نے اُس کی عقل پہ جیسے ماتم کیا۔

پتا نہیں پر فرسٹ ڈے پہ مجھے جن نظروں سے وہ دیکھ رہا تھا آے ڈونٹ تھنک کہ وہ میرے لیے ایسے جذبات رکھ سکتا ہے۔ماہی کا دل مان نہیں رہا تھا۔

میری جان وہ اِس لیے کیونکہ تب وہ ہار گیا تھا جس کا اُس کو غصہ تھا بعد میں غصہ اُترا تو وہ سمجھ گیا پھر تم ہو بھی اتنی خوبصورت اِس لیے وہ خود کو تمہارے عشق میں گوڈے گوڈے ڈوبنے سے بچا نہیں پایا۔فروزین نے آنکھ ونک کرکے کہا ماہی نے گھور کر پاس پڑے تکیے اُس کی طرف اچھالے تھوڑی دیر بعد کمرے میں اُن تینوں کے قہقہقہ کی آواز گونجنے لگی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

خان مینشن میں آج سب بڑے اکٹھے جمع ہوئے تھے شاہ زیب بھی ثانیہ اور سارہ بیگم کے ہمراہ یہاں موجود تھا سالار بھی پری اور اپنی بیٹی پریسہ کے ساتھ آیا ہوا تھا ڈرائینگ روم سب کی موجودگی سے بھرا ہوا تھا ہر کوئی ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچ رہا تھا شاہ زیب کا پسندیدہ مشغلہ شاہ میر کو چِڑانا ہے جو وہ باخوشی آج بھی سرانجام دے رہا تھا۔

مرجان تم شادی کیوں نہیں کرتے تمہارے والدین کو لگتا ہے پرواہ نہیں پر میں ماموں ہوں مجھے تمہاری فکر ہے اگر لڑکی کا سین ہے تو بتادو میں آج ہی رشتہ لینے چلو۔شاہ زیب نے مسکراتی نظر شاہ میر پہ ڈال کر مرجان سے کہا جو سب کی موجودگی میں ایسی بات پہ خجل سا ہوگیا تھا

ماموں ایسی کوئی بات نہیں۔مرجان نے جلدی سے کہا تو پورا ڈرائینگ روم قہقہقہ سے گونج اُٹھا زرجان بس خاموش سا ہاتھ میں پانی کا گلاس پکڑے غیر معی نقطے کو گھور رہا تھا۔

زیب تم پریشان نہ ہو ہم نے مرجان کی شادی کا سوچ لیا ہے انشاءاللہ اِس سال ہوگی۔مہرماہ سب کو چائے سرو کرتی شاہ میر کے ساتھ بیٹھتی ہوئی بولی۔

کروالوں جلدی سے مرجان ویسے آپس کی بات ہے تم اپنے باپ پہ نہیں گئے۔شاہ زیب نے مرجان سے کہا جو اپنی شادی کی بات پہ شاک سا تھا زرجان کے اندر جو بے چینی تھی اُس کو اب مزید اضافہ ہوتا ہوا لگا۔

وہ کیسے بھائی ڈیڈ کی طرح نہیں؟حیات نے سوال داغا۔

میر جب مرجان کی عمر کا تھا تو تم تینوں اِس دنیا میں موجود تھے پر مرجان دیکھوں کنوارہ بیٹھا ہے۔شاہ زیب نے بڑی سنجیدگی سے کہا شاہ میر تو بس شاہ زیب کو دیکھتا رہ گیا۔

اُس لحاظ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ہانم بیگم فورن سے بولی۔

ویسے لڑکی کون ہے جو تم نے مرجان کے لیے تلاش کی ہے؟سارہ بیگم نے مہرماہ سے پوچھا زرجان کے ہاتھ میں موجود گلاس پہ گرفت مضبوط ہوئی تھی مرجان سب کو ایسکیوز کرتا باہر چلاگیا تھا اُس کے فون پہ کال آئی تو۔

ماہا مرجان کے ساتھ بہت اچھی لگے گی۔مہرماہ نے پرجوش ہوکر بتایا

سارہ بیگم پوچھنے والی تھی کون ماہا پر چھناک کی آواز سے سب کا دھیان زرجان کی طرف چلاگیا تھا جس کے ہاتھ گلاس ٹوٹنے پہ کانچ اس کے ہاتھ پہ چُھب گئے تھے مہرماہ شاہ میر سرعت سے زرجان کے پاس آئے۔

زر یہ کیسے ہوا حیات فورن سے میڈیکل باکس لاؤ۔مہرماہ پریشانی سے زرجان کا ہاتھ تھامتی حیات سے بولی جو خود پریشان کھڑی تھی باقی سب ساری صورتحال سمجھنے کی کوشش کررہے تھے۔ زرجان نے کسی کو کوئی جواب نہیں دیا بس اپنے ہاتھ میں بہتے خون کو دیکھتا رہا۔

اتنا زور سے کیوں پکڑا تھا گلاس ٹوٹ گیا نہ جانے کتنے کانچ اندر گئے ہوگے۔حیات زرجان کا ہاتھ تھامتی پائیوڈین لگاتی کہنے لگی۔

تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے نہ۔شاہ میر نے اس کو بے حس بے حرکت پایا تو سوال کیا۔

میں ٹھیک ہوں۔زرجان سپاٹ انداز میں بولا۔

ہاتھ کا تو کچومر بنادیا نہ۔حیات نے اس کے ہاتھ میں پٹی باندھتے خفگی سے کہا۔

حیات یہ وقت مذاق کا نہیں۔مہرماہ نے ٹوکا

کیا ہوا ہے؟مرجان واپس آیا تو سب کو زرجان کے اُپر جھکے پایا تو پوچھنے لگا۔

زر کے ہاتھ پہ چوٹ لگ گئ ہے۔ثانیہ نے بتایا۔

کیسے ہوا یہ؟مرجان نے زرجان سے پوچھا۔

لاپروائی سے ہوا ہے کونسا کوئی تم سے گلاس چھین رہا تھا جو ایسے پکڑ لیا تھا۔حیات نے تیز آواز میں کہا لہجے میں فکر صاف نمایاں تھی

اتنا گہرا کٹ نہیں بس معمولی ہے۔زرجان اپنا ہاتھ پٹی میں جکڑتا دیکھ کر بولا۔

زیادہ ہیرو مت بنو۔مرجان نے گھور کر کہا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

موم آج میں یونیورسٹی آپ کے ساتھ چلتی ہوں۔ماہا نے تیار کھڑی مہرین سے کہا۔

تمہارا فرسٹ لیکچر تو نو بجے ہوتا ہے نہ؟مہرین نے پوچھا

ہاں پر آج میں نے ایک ٹیسٹ لینی تھی جس وجہ سے جلدی جارہا ہوں۔ماہا نے وجہ بتائی۔

ٹھیک ہے چلو۔مہرین نے سر کو اثبات میں ہلاکر کہا۔

مجھے بھی میر کے انکل کے گھر ڈراپ کردے۔ملیحہ بھاگ کر ان کے پاس پہنچی۔

اتنی۔صبح صبح تمہارا وہاں کیا کام؟مہرین نے سنجیدگی سے پوچھا

حیات کے ساتھ باہر جانا تھا شاپنگ پہ۔ملیحہ نے بہانا بنایا۔

مجھ سے کہتی یا ماہا سے کہتی ان کو بار بار تکلف دینا ضروری ہے کیا۔مہرین کو بات پسند نہیں آئی۔

ہماری اچھی خاصی دوستی ہوئی ہے ویسے بھی فرینڈس آپس میں شاپنگ پہ جاتے ہیں۔ملیحہ پچھلی سیٹ کا ڈور کھول کر بولی۔

اچھا بیٹھو تم بھی۔مہرین سر جھٹک کر بولی

💕
💕
💕
💕
💕
💕

آج یونی سے چھٹی کرلوں پڑھائی تو ہوگی نہیں تم سے۔مہرماہ نے زرجان سے کہا کیونکہ اُس کو چوٹ بائیں ہاتھ پہ آئی تھی۔

میرا ہاتھ ٹھیک ہے یونی جانا ضروری بھی ہے۔زرجان نے ریسٹ واچ پہ وقت دیکھ کر کہا

خود کرتے ہو بلاوجہ چھٹیاں اب جب میں کہہ رہی ہوں تو ایسا کہہ رہے ہو۔مہرین نے نفی میں سرہلاتے ہوئے کہا

آج میرا ضروری ٹیسٹ ہے اگر نہیں گیا تو مارکس کٹ ہوجائے گی۔زرجان نے کہا

وائیوا ٹیسٹ ہے؟مہرماہ نے اُس کا پٹی میں چُھپا ہاتھ دیکھ کر پوچھا۔

نہیں۔زرجان نے جواب دیا

لکھوں گے کیسے پھر؟مہرماہ نے جاننا چاہا

کرلوں گا کجھ نہ کجھ آپ ٹینشن نہ لیں۔زرجان مہرماہ کے ماتھے پہ بوسہ دیکر بولا۔

گاڑی نکالوں۔زرجان باہر آتا ڈرائیور سے بولا ایک ہاتھ سے اگر بائیک چلاتا تو لازمی دیر ہوجاتی پر وہ دیر نہیں کرنا چاہتا تھا اِس لیے آج گاڑی پہ یونیورسٹی جانے کا سوچا۔

یونیورسٹی پہنچا تو سامنے فرزام احتشام کھڑت تھے۔

ہاتھ کو کیا ہوا؟احتشام کی نظر اس کے ہاتھ پہ پڑی تو پوچھا

کجھ نہیں چھوٹا سا کٹ تھا۔زرجان نے ٹالا

ٹیسٹ کیسے دوگے پھر؟فرزام پریشان ہوا

دے دوں گا۔زرجان اپنے ہاتھ کو دیکھ کر بولا

میم لگتا ہے فل تیار ہیں ٹیسٹ کے لیے۔احتشام دور دیکھتا ہوا بولا تو زرجان نے اُس کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا جہاں ماہا سفید شلوار قمیض کے ساتھ کالے رنگ کی چادر پہنے ہوئی تھی ہاتھوں میں پیپرز تھے جن کو ٹھیک کرتی وہ تیز تیز قدم اٹھاتی شاید لائبریری جارہی تھی۔

مجھے ایک بُک ایشو کروانا تھا تم لوگ کلاس میں چلو میں آتا ہوں۔زرجان نے ان دونوں کو دیکھ کر کہا

جلدی کرنا کلاس شروع ہونے میں دس منٹ ہے۔فرزام نے کہا زرجان سر کو جنبش دیتا لائبریری کی طرف آیا سامنے ہی ماہا اُس کو کوئی کتاب پڑھنے میں مصروف نظر آئی زرجان کتنے ہی پل بلاوجہ اُس کو دیکھتا رہا جو پوری طرح کتاب پڑھنے میں مگن تھی چادر سر سے اُتر چُکی تھی جس سے بال چہرے پہ گِررہے تھے زرجان کی نظروں کی ہی تپش دی جو وہ اپنا سر اٹھانے پہ مجبور ہوئی شاید وہ خود پہ کسی کی گہری نظریں محسوس کرچکی تھی۔

کوئی کام تھا؟ماہا نے زرجان کی نظریں محسوس کرکے سنجیدگی سے پوچھا۔

ن ن نہیں و وہ م میں ی یہاں کا کام س سے آ آیا ت تھا۔زرجان جو والہانہ نظروں سے ماہا کا چہرہ آنکھوں کے زریعے دل میں بسا رہا تھا اُس کے اچانک کیے سوال پہ اٹک اٹک کر بولا وہ سمجھ نہیں پارہا تھا کہ ماہا کے سامنے وہ اتنا بے اختیار کیوں ہوجاتا تھا کیوں جب وہ بات کرتا تھا تو الفاظ اس کا ساتھ نہیں دیتے تھے کیوں وہ جب اُس کو دیکھتا تھا تو آس پاس کا شور اس کو سنائی نہیں دیتا سب بلنک ہوکر بس ماہا کیوں نظر آتی تھی زرجان جتنا بھی سوچتا پر کجھ سمجھ میں نہیں آتا تھا۔

ہاتھ میں کیا ہوا ہے؟ماہا کی نظر ہاتھ پہ پڑی تو پوچھ بیٹھی ماہا کا اتنا پوچھنا تھا زرجان کو اپنے اندر سکون کی لہر ڈورتی محسوس ہوئی۔

کٹ لگا تھا۔زرجان نے جواب دیا آنکھوں میں چمک اُتر آئی تھی۔

کلاس کا ٹائم ہوگیا ہے۔مہرماہ ہاتھ میں بندھی واچ پہ ایک نظر ڈال کہتی لائبریری سے باہر چلی گئ زرجان دل مسوس کرتا رہ گیا اس کے دل نے ماہا کی اٹینشن چاہی تھی جو کہ ناممکن تھی زرجان اپنے دل کا تھتھپاتا کلاس کی طرف جانے لگا

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

ملیحہ اِس وقت حیات کے روم میں تھی جو شاور لیں رہی تھی تھوڑی دیر بعد دونوں کو مال جانے کے لیے نکلنا تھا پر ملیحہ بس مرجان سے بات کرنا چاہتی تھی جو اپنے آفس کے لیے نکل چُکا تھا یہ بات جیسے ہی اُس کو پتا چلی اس کو بہت افسوس ہوا۔

میں ہر وقت اُس کے انتظار میں

اور وہ مجھ سے اکتایا ہوا شخص!!!

سوری میں نے انتظار کروایا۔حیات واشروم سے باہر آتی ملیحہ سے معزرت کرتی بولی۔

سوری کی کوئی بات نہیں مجھے اتنا جلدی نہیں آنا چاہیے تھا۔ملیحہ کو اپنے یہاں آنے پہ افسوس ہوا جس کے لیے وہ یہاں آئی تھی وہ تو اپنے آپ میں مگن تھی بس ایک وہ تھی جو انجانے میں اُس سے امیدیں وابستہ کررہی تھی۔

اب ایسا بھی نہیں اِس ٹائم آنے کو تو میں نے ہی کہا تھا نہ۔حیات مرر کے سامنے کھڑتی ہوئی بولی۔

کہا تو تھا پر مجھے اب آکورڈ لگ رہا ہے۔ملیحہ نے کہا۔

فضول مت سوچو میں بس بال بنالوں پھر چلتے ہیں۔حیات نے مسکراکر سادہ لہجے میں کہا

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

ٹیسٹ کا ٹائم اوور ہونے کے بعد ماہا سب سے ٹیسٹ پیپرز لیں رہی تھی زرجان کی سیٹ سے اس نے پیپرز اٹھایا تو اُس نے افسوس سے اُس کی جانب دیکھا جس نے سارے وقت بامشکل بس ایک سوال کا جواب لکھا تھا۔

آپ میرے آفس آئے۔ماہا نے زرجان سے کہا جو اُس کو ایسے دیکھنے لگا جیسے ماہا نے جانے کیا کہہ دیا ہو۔

صدمے میں چلے گئے ہو کیا جاؤ نہ انہوں نے اپنے آفس میں بُلایا ہے۔ماہا جانے کب کی جاچُکی تھی پر زرجان اسٹل اپنی جگہ بیٹھا رہا تو مجبوراً احتشام کو ہوش میں لانا پڑا۔

ہاں میں جارہا ہوں۔زرجان جلدی سے اٹھا بھاگنے والے انداز میں کلاس سے باہر نکل گیا۔

زر آج کل عجیب نہیں ہوگیا۔احتشام نے فرزام سے کہا

لگ تو ایسا رہا ہے ماہا میم کی کلاس پہ تو اُس کی توجہ ہوتی ہی نہیں۔فرزام نے اتفاق کرتے کہا

وہ تو کسی کی بھی نہیں ہوتی سب ان کا لیکچر سنتے کم ان کو دیکھتے زیادہ ہے۔احتشام منہ کے زاویئے بگاڑتا بولا

یس کم اِن۔ماہا آفس میں بیٹھی تھی جب دروازے نوک ہونے پہ اُس نے کہا

آپ نے بُلایا تھا۔زرجان اندر آکر بولا

بیٹھو۔ماہا نے سنجیدگی سے بیٹھنے کا کہا۔

جو ٹیسٹ میں نے آج لیا اس کی تیاری تھی آپ کی؟ماہا نے پوچھا

جی میں نے کی تھی۔زرجان نے کہا

پھر یہ کیوں؟ماہا نے پیپرز اس کے سامنے کیا

لکھنے میں مسئلا ہورہا تھا دائیں ہاتھ سے مجھ سے لِکھا نہیں جاتا۔زرجان نے ماہا کے چہرہ پہ نظر ٹکاکر جواب دیا۔

ٹیسٹ کے بعد میں نے ویسے بھی وائیوا لینا تھا آپ کا آج لیتی ہوں ٹیسٹ تب آپ دیجئے گا جب ہاتھ بہتر ہو۔ماہا نے ہنوز سنجیدہ انداز میں کہا زرجان کے چہرے پہ مسکراہٹ آگئ تھی ماہا نے پہلی بار اُس کو اتنے قریب مسکراتا دیکھا تھا۔

آپ لیں سکتی ہیں میں تیار ہوں۔زرجان نے کہا تو ماہا نے سراثبات میں ہلایا۔

میں یہ اِس لیے کررہی ہوں کیونکہ مجھے پتا ہے آپ پڑھائی کے معاملے میں بہت سنجیدہ ہیں۔ماہا نے باور کرنے والے انداز میں کہا۔

میں نے کب کہا میری محبت میں کررہی ہیں۔زرجان یہ بس سوچ سکا۔

پہلا سوال؟

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

مرجان تم جانتے ہو نہ تمہاری ماہ فل موڈ میں تمہارے سر پہ سہرا سجانے کے لیے۔شاہ میر نے آفس میں بیٹھے مرجان سے کہا

جی ڈیڈ جانتا ہوں پر ابھی میں شادی نہیں کرنا چاہتا۔مرجان نے سنجیدگی سے کہا

ماہ بہت خوش ہے میں نہیں چاہوں گا کہ تم اپنی ضد پہ ان کی خوشی خراب کرو۔شاہ میر نے دو ٹوک انداز میں کہا مرجان نے شرمندگی سے اپنا سر جھکادیا

دیکھو اگر تمہیں کوئی پسند ہے تو بتادو مجھے یا ماہ کو کوئی مسئلا نہیں ہوگا۔شاہ میر نے کہا

بات یہ نہیں ڈیڈ کے مجھے کوئی پسند ہے میں بس ابھی شادی کے حق میں نہیں۔مرجان نے سنجیدگی سے جواب دیا پر یہ کہتے ہوئے اُس کے سامنے ملیحہ کا عکس لہریا وہ جان گیا تھا ملیحہ اس کے لیے جذبات رکھنے لگی ہے جس کا بڑھاوا وہ نہیں دینا چاہتا تھا کیونکہ جب وہ یہ جانے گی کے اُس نے ماضی میں کیا ہے تو ضرور نفرت کرے گی۔

تو بس تیار رہو میں بات کروں گا ریان سے بلکہ میں اور ماہ جائے گے ان کے گھر باقاعدہ ہاتھ مانگنے۔شاہ میر کی بات پہ مرجان ٹھٹک گیا اس کا سب سے پہلا دھیان ملیحہ کی طرف گیا۔

توں کیا مما میری اور ملیحہ؟مرجان بس سوچ سکا۔

کوئی اعتراض؟شاہ میر نے پوچھا مرجان کا سر خودبخود نفی میں ہلنے لگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *