Ishq Qaid Season 2 by Rimsha Hussain NovelR50563 Ishq Qaid Season 2 (Episode 21)
Rate this Novel
Ishq Qaid Season 2 (Episode 21)
Ishq Qaid Season 2 by Rimsha Hussain
بیٹا میں نے تم سے کہا تھا میر کی طرف چلنا ہے کتنے دن ہوگئے ہیں اِس بات کو ابھی تک تم نے وہاں جانے لیے نہیں کہا۔رات کے کھانے پہ سب مل بیٹھے تھے جب ریان نے ماہا سے کہا۔
ڈیڈ سوری پر اب جب آپ کہے گے میں آپ کے ساتھ چلوں گی۔ماہا نے ریان کے لہجے میں خفگی کا عنصر محسوس کرتے ہوئے جواب دیا۔
ٹھیک ہے تو میں بتاؤں گا پھر تمہیں کب چلنا ہے۔ریان مسکراکر بولا۔
میرا ہوگیا۔ماہا کھانے کی پلیٹ خود سے دور کرتی اٹھ کھڑی ہوئی۔
کمزور ہوگئ ہو اپنی ڈائیٹ پہ توجہ دو۔مہرین نے ٹوکا۔
موم جتنی نیڈ تھی اُتنا میں نے کھالیا۔ماہا نے آرام سے جواب دیا۔
میرا بھی ہوگیا۔ملیحہ بھی پلیٹ دور کھسکاتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی اُس کو جلدی تھی ماہا سے اپنی بات شیئر کرنے کی۔
ماہا اب میں بات کروں تم فری ہو؟ملیحہ ماہا کے پاس بیٹھتی بولی۔
ہممم بولوں کونسی ضروری بات ہے؟ماہا اُس کی طرف متوجہ ہوکر بولی
مجھے پیار ہوگیا ہے۔ملیحہ نے آنکھیں بند کرکے کہا۔
ہوش میں ہوتم؟ماہا سخت ہوئی
ہاں اِس میں ہوش میں نہ ہونے کی کیا بات ہے۔ملیحہ کو ماہا کا سخت ہونا سمجھ نہیں آیا۔
پیار کجھ نہیں ہوتا ملی یہ سب ایک فریب ہے جو انسان پیار کی آڑ میں کرتا ہے۔ماہا نے ملیحہ کا بازوں پکڑتے ہوئے کہا۔
ایسا نہیں ماہا ابھی پیار میری طرف سے ہے جس سے اُس کے جذبات فلحال میں اپنے لیے نہیں جانتی پر وہ بہت اچھا ہے۔ملیحہ نے نرمی سے کہا
ہونہہ اچھا ہے۔ماہا نے ہنکارا بھرا۔
میر انکل کا بیٹا ہے وہ بھلا ان کا بیٹا دھوکے باز ہوسکتا ہے کیا تم بھول گئ ہو جو باتیں ہمیں ڈیڈ بتاتے تھے ہم مہرو آنٹی کی قسمت پہ رشک کرتے تھے تو ماہا میر انکل کا بیٹا بھی اُن کے جیسے ہوگا نہ۔ملیحہ نے اس کی ٹھوڑی پہ ہاتھ رکھ کر کہا۔
نام کیا ہے اُس کا۔ماہا نے سنجیدگی سے پوچھا
مرجان نام ہے۔ملیحہ کے چہرے پہ مسکراہٹ آگئ تھی نام بتاتے وقت۔
باہر جاؤ مجھے سونا ہے۔ماہا سرد لہجے میں بولی
اچانک کیا ہوا تمہیں۔ملیحہ حیرانگی سے بولی اُس کو لگا نام کے بعد وہ مزید مرجان کے بارے میں پوچھے گی پر ماہا کا ایسا رویہ اُس کو حیرانی میں مبتلا کرگیا تھا۔
ملیحہ میری بات تمہیں ایک دفع میں سمجھ کیوں نہیں آتی میں نے کہا جاؤ تو مطلب جاؤ۔ماہا ملیحہ پہ چیختی ہوئی بولی ملیحہ کی آنکھیں نم ہوئی تھی پر وہ بنا کجھ کہے کمرے سے باہر نکل گئ۔ماہا نے بیڈ پہ پڑے کشن نیچے پھینک دیئے خود اپنا سر ہاتھوں میں گِرائے بیٹھتی چلی گئ۔
تیری تلخیوں میں اے زندگی
بہت ہی تلخ ہوچکے ہیں ہم
اتنا دکھ نہ دے زندگی
کہ تجھے جی بھی نا پائے ہم
تیری رنجشیوں میں اے زندگی
کہیں ہنسنا نا بھول جائیں ہم
تجھ سے بیزار ہوکر اے زندگی
خود سے روٹھ نا جائیں ہم
تجھے گُزارتے گُزارتے اے زندگی
کہیں خود ہی نا گزر جائے ہم








جان
جان
جان۔
یورپ کی سنسنان سڑک پہ اِس وقت زبردست قسم کی ریس چل رہی تھی ہر کوئی جان نامی شخص کا نعرہ لگاکر اُس کو ایپریشیٹ کررہا تھا
وہ اپنی جیت کے بے حد قریب اُس سے پہلے وہ سڑک پار کرکے فاتح ٹھیرتا کوئی پیچھے والا آکر جیت اپنے مقدر کے نام کرگیا تھا جہاں ہر وقت نعرے گونج رہے تھے اب ہر وقت سناٹا چھاگیا تھا کیونکہ ان میں سے کوئی نہیں جانتا تھا کے جیتنے والا شخص ہے کون؟
مرجان جس کو اپنے سب دوست مرجان کہتے تھے اُس نے اپنا ہاتھ زور سے ہیوی بائیک کے ہینڈل پہ مارا ایسا پہلی بار ہوا تھا کے ہار اُس کی مقدر میں آئی۔
مرجان نے اپنا ہیلمینٹ اُتار کر خونخوار نظروں سے دور کھڑی بلیو کلر کی ہیوی بائیک پہ مموجود ہستی کو دیکھا تھا جو بڑے شان سے بائیک سے اُتر کر اسٹیج کی طرف جاکر داد وصول کرنے کا ارادہ رکھتا تھا شاید۔پر مرجان کو حیرت کا شدید ترین جھٹکا تب لگا جب دور سڑک پہ بنی اسٹیج پہ موجود ہستی نے اپنے سر سے ہیلمینٹ اُتار تو اُس کے بھورے گھنے بال نظر آئے جو اب چہرہ دائیں بائیں کرکے ان کو سنوار رہی تھی لڑکوں کے ساتھ ساتھ لڑکیوں کے منہ بھی کُھل گئے تھے سامنے حد سے سوا خوبصورت لڑکی کو دیکھ کر جو مسکراکر اپنے ڈمپل کی نمائش کرتی وہاں موجود آدمی سے ٹرافی لے رہی تھی اُن سب میں سے ایک مرجان تھا جس کی نظریں نفرت سے شعلہ اُگل رہی تھی اُس کو یہ بات پاگل کرنے کے در پہ تھی کے وہ ایک لڑکی کے سامنے ہار گیا تھا۔
یہ کون اور کہاں سے آگئ۔مرجان کا دوست عقیل اس کے شانے پہ ہاتھ رکھتا بولا۔
ڈونٹ نو۔مرجان خود پہ ضبط کیے بولا۔
جو بھی پر لڑکی بہت مست ہے۔نعمان نے کہا
شٹ اپ۔مرجان نے بری طرح اُس کو گُھڑکا۔
مبارک باد نہیں دوگے۔وہ ہاتھ میں ٹرافی لاتی مرجان سے بولی۔مرجان نے نفرت سے سرجھٹکا
میرا نام ماہی ہے اینڈ میں آج کی وِنر ہوں سو مجھے کوئی افسوس نہیں اگر تم مجھے مبارکباد نہیں دوگے تو۔ماہی شانِ بے نیازی سے بولی تب تک خوش سے جگمگاتے چہرے کے ساتھ اُس کی باقی فرینڈس بھی آگئ تھی۔
مرجان آ واپس چلیں۔عقیل نے مرجان کا غصے سے تمتماتا چہرہ دیکھا تو کہا۔
ہاہاہا مرجان یہ کیسا نام ہوا بھلا۔ماہی زور سے ہنستی مذاق اُڑاتی ہوئی بولی
شٹ اپ یو سلی گرل۔مرجان دھاڑ کر بولا
اوو میں تو ڈر گئ۔ماہی ڈرنے کی اداکاری کرتی اپنی دوست کے ساتھ ہائے فائے کیا۔
ایڈیٹ۔مرجان غصے سے بڑبڑایا۔
سی یو سنو مرجان!!!!!!ماہی نے اُس کو جاتا دیکھا تو چِڑانے کے غرض سے مرجان نام کو کھینچ کر ادا کیا۔
بہت تیز لڑکی ہے۔عقیل مرجان کے پیچھے بائیک پہ بیٹھتا بولا۔
ہاہاہاہا۔لڑکے کی شکل دیکھنے والی تھی۔ماہی کی دوست فروزین ہنستے ہوئے بولی
اور نہیں تو آخر کو میں نے اُس کو جیت کے قریب لاکر ہرایا ہے۔۔ماہی مغرور لہجے میں بولی۔







آج تو مزہ ہی آگیا۔فروزین نے چہک کر کہا۔
ہاں نہ یہ اِن بوائز کو لگتا ہے بس وہ ہی ہر کام میں مہارت رکھتے ہیں۔مانوی ناک سکوڑ کر بولی۔
ہر بوائز کا تو نہیں پر ایشین مردوں کو یہ خوشفہمی ضرور لاحق ہوتی ہے۔فروزین نے اپنی بات کہی۔
گائز جو بھی ہے جیت میرے نام ہوئی ہے ہمیشہ کی طرح تو اب ہار ایشین مرد کی ہو یا مغربی مرد کی کوئی فرق نہیں پڑتا۔ماہی نے جواب میں کہا جو اب تک اپنے نیل پینٹ لگارہی تھی۔
بلکل تمہاری جیت لگتا ہے اُس لڑکے کی انا پہ کاری ضرب کی طرح ہے۔مانوی نے کہا۔
اِن مردوں کو اور کام ہی کیا ہے۔ماہی نخوت سے گویا ہوئی۔
میں تمہیں بتانا بھول گئ تھی تمہارے ڈیڈ کی کال آئی تھی۔فروزین اچانک سر پہ ہاتھ مار کر بولی۔
پہلے بتانا تھا نہ خیر میں کرتی ہوں کال ان کو۔ماہی نے فروزین کی بات سن کر کہا۔
اگر آنے کا کہے تو کہنا فلحال ہمارا ٹرپ لمبا ہے۔مانوی نے اُس کو ہدایت دی۔
ڈونٹ وری میں کرلوں گی ہینڈل۔ماہی نے آنکھ ونک کرتے کہا۔







یورپ میں آج صبح سے بارش تھی مرجان گلاس وال کے سامنے کھڑا باہر برستی بوندوں کو ٹپ ٹپ کرتا گِرتا دیکھ رہا تھا۔
موسم خراب ہونے کی وجہ سے راستے بلاک کیے گئے ہیں۔عقیل اُس کے ساتھ کھڑا ہوتا ہوا بولا۔
میرے دل میں آگ لگی ہوئی ہے۔مرجان نے دیوار پہ مکہ مار کر کہا۔
رلیکس جان اب تم اوور ری ایکٹ کررہے ہو ہار جیت زندگی کا حصہ ہے اگر آپ جیت پہ خوش ہوتے ہیں تو ہار کو اپنے سر پہ سوار کرنے سے بہتر ہے کہ اُس ہار سے کجھ سیکھ کر اگلی بار اچھے سے کام کریں۔عقیل نے دوست ہونے کے ناتے اُس کو سمجھانا چاہا۔
ریئلی عقی یہ سب اتنا آسان ہے تمہیں نہیں پتا ہر بار جب جیت مقدر ہو پھر اچانک سے ہار کا سامنا ہو تو کیا محسوس ہوتا ہے ایک چھوٹی سی لڑکی مجھ سے جیت گئ یہ بات میرے لیے ناقابلِ یقین ہے۔مرجان تنفر سے بولا۔
تم نے اپنی ہار کو انا کا مسئلا بنادیا ہے زیادہ کجھ نہیں۔عقیل نے کندھے اُچکاکر کہا
اگر انا ہے تو انا ہی سہی پر وہاں جب میرے نام کی پُکار کررہے تھے پھر جب ان کی نظروں میں اُس لڑکی کے لیے ستائش دیکھی تو میرا دل کہہ رہا تھا میں سب کجھ تہنس نہس کردوں۔
یہ تو کہی نہیں لکھا کے ہر جیت پہ تمہارا نام ہو ویسے بھی وہ لڑکی تھی اتنی خوبصورت لوگوں میں ستائش تب بھی آتی جب وہ ہار جاتی تو۔عقیل نے مرجان کی بات پہ آرام سے کہا۔
ویسے میرے پاس تمہارے لیے اچھا سا مشورہ ہے۔نعمان کب ان کے پاس کھڑا ہوا ان کو کوئی خبر نہیں ہوئی۔
کیسا مشورہ؟مرجان نے پوچھا۔
تم اپنی ہار کا بدلا اُس سے لو۔نعمان نے کہا
کیسا بدلا نعمان تم یہ جان کو کیا پٹیاں پڑھا رہے ہو یہ بس ایک حادثہ تھا نہ تو مرجان اس لڑکی کو جانتا ہے نہ ہی وہ لڑکی تو کیوں مرجان اُس بیچاری سے بنا بات کے بدلا لیں۔نعمان کی بات پہ عقیل نے بُری طرح سے اُس کو جہاڑ پلائی۔
میں نے تو جان کے بھلے کے لیے کہا ورنہ ہزاروں لوگوں کے سامنے اُس لڑکی کا غرور دیکھنے لائق تھا۔نعمان نے فل طریقے سے جلے پہ نمک چھڑکا اٹھارہ سال عمر کا مرجان،نعمان کی باتوں کو سن کر بہت کجھ سوچنے پہ مجبور ہوگیا تھا








ماہا کلاس میں سب اسٹوڈنٹ کو پڑھا رہی تھی زرجان کا سارا دھیان اُس کی آنکھوں پہ تھا جہاں بھوری آنکھوں میں لال ڈورے تھے۔ماہا گلابی رنگ کے فراق کے ساتھ گلابی ہی پاجامے میں ملبوس تھی سر پہ نیٹ کا ڈوپٹہ جو بار بار سر سے ڈھلک رہا تھا جس کو وہ بار بار سہی بھی کرتی کندھوں کے اطراف ہمیشہ کی طرح براؤن چادر تھی چہرہ روز کی طرح سنجیدہ تھا مگر آج زرجان کو وہ کجھ اُلجھی ہوئی سی اس کے سرخ گال اور بھینچے ہوئے گلابی ہونٹ اُس کے اضطراب میں ہونے کا بتارہے تھے جس سے وہ لیکچر میں بہت بار مسٹکس کرچُکی تھی سوائے زرجان کے یہ بات کسی نے نوٹ نہیں کی تھی۔زرجان کو ڈریسنگ کے لحاظ سے دو سال پہلے سے زیادہ مختلف لگی ورنہ وہ اُس میں اور کوئی تبدیلی زرجان کو نہیں ملی سوائے اُس کی ڈریسنگ سے۔
کتاب پہ دھیان دو اگر میم نے دیکھ لیا نہ تو لحاظ نہیں کرے گی اُس کو تمہارے ہائے مارکس ایمپریس نہیں کرسکتے جو ہر پروفیسرز کو کرتے ہیں ایمپریس۔فرزام نے زرجان کا دھیان کتاب کے بجائے ماہا پہ دیکھا تو کان کے پاس آتا ہوا بولا۔
مجھے پتا ہے وہ اتنی جلدی ایمپریس نہیں ہوتی۔زرجان نے آرام سے جواب دیا۔
کلاس بی کوائٹ۔ماہا نے سخت لہجے میں کہا ایک تو صبح سے اُس کے سر میں درد تھا اوپر سے کلاس میں ہلکی ہلکی باتوں کی آواز سن کر اُس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہورہا تھا۔
زرجان نے ایک نظر فرزام پہ ڈال کر سامنے دیکھنے لگا جہاں ماہا کے ہاتھ تیزی سے سفید بورڈ پہ چل رہے تھے۔
کل میں ایک ٹیسٹ لوں گی آپ سب تیاری کرلیجئیے گا۔کلاس ختم ہونے کے بعد ماہا نے جاتے وقت کہا۔
اِن کی طرح ٹیسٹ بھی سخت قسم کا ہوگا۔فرزام ماہا کے جانے کے بعد بولا۔
ساتھ میں خوبصورت بھی۔احتشام نے لقمہ دیا تو زرجان نے اپنے ہاتھ کی مٹھیاں زور سے بند کی۔
میں کیفے ٹیریا جا رہا ہوں آنا ہے تو آجانا۔زرجان ایک تیکھی نظر احتشام پہ ڈال کر کلاس روم سے باہر نکلا۔
زر اتنے پیار سے مجھے کیوں دیکھ کر گیا۔احتشام کو زرجان کا ایسا دیکھنا ہضم نہیں ہوا۔
ٹیچر ہیں وہ ہماری عمر میں بھی ہم سے بڑی ہے اُستاد ہونے کے لحاظ سے ہمیں ان کے بارے میں ایسے نہیں بولنا چاہیے شاید زر کو بھی یہ بات بُری لگی۔فرزام نے اپنے تئیں سمجھایا۔
لگتی تو نہیں بڑی پر کیا کرے ان کو دیکھنے کے بعد بندہ تعریف کیا بنا نہ رہ سکتا تعریف خودبخود منہ سے نکل آتی ہے۔احتشام آنکھ کا کونا دباکر بولا۔
کیفے ٹیریا چلو اب۔فرزام نفی میں سرہلاتا بولا







ملیحہ ٹی وی لاؤنج میں بیٹھی ڈرامہ دیکھنے میں مگن تھی جب باہر گاڑی کے ہارن کی آواز آئی تو وہ اچھل کر اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی وہ جان گئ تھی یہ مرجان کی گاڑی کا ہارن ہے یہ سوچ آتی ہی اس کے چہرے پہ مسکراہٹ آگئ ملیحہ نے جلدی سے باہر کی جانب ڈور لگائی۔
اسلام علیکم! ملیحہ نے وائٹ شرٹ کے ساتھ وائٹ پینٹ پہنے آنکھوں پہ سیاہ گاگلز چڑھائے مرجان کو گاڑی سے اُترتا کھڑا دیکھا تو فورن سے سلامی بھیجی جو آج معمول سے زیادہ ہینڈسم لگ رہا تھا یا بس اُس کو لگ رہا تھا کیونکہ محبت احساس ہی کجھ ایسا ہے جس سے عام انسان بھی بہت خاص ہوجاتا ہے۔
وعلیکم اسلام!مجھے ریان انکل نے بھیجا تھا اُن کی ایک فائل یہاں رہ گئ تھی ولی مصروف تھا تو میں آگیا کیونکہ فائل میں بہت ضروری ڈاکیومینٹس تھے۔مرجان نے سلام کا جواب دینے کے بعد اپنے یہاں آنے کی وجہ بتائی جس سے ملیحہ کی ساری خوشی اُڑن چھو ہوگئ تھی اُس کو خوشفہمی ہوگئ تھی کے شاید مرجان اُس سے ملنے آیا ہو پر یہاں تو بات ہی کجھ اور تھی۔
قرار دل کو سدا جس کے نام سے آیا
وہ آیا بھی تو کسی اور کام سے آیا
میں دیکھ کر دیتی ہوں آپ کو۔ملیحہ منہ کے زاویے بگاڑ کر کہتی اندر کی طرف چلی گئ۔مرجان تعجب سے اس کا انداز دیکھتا اس کے ساتھ اندر کی طرف بڑھا۔
ہائے ملی تمہاری خوشفہمیاں۔ریان اور مہرین کے مشترکہ کمرے میں آکر ملیحہ فائل یہاں وہاں تلاش کرنے کے ساتھ مسلسل بڑبڑا بھی رہی تھی
یہ رہی۔اسٹڈی ٹیبل پہ ریڈ کلر کی فائل دیکھی تو ملیحہ نے لپک کر اس کو اٹھایا۔
یہ لیں۔ملیحہ نے باہر آکر مرجان کی طرف فائل بڑھاکر کہا۔
تھینکس۔مرجان نے فائل تھام کر کہا۔
کیا تم مجھ سے خفا ہو کسی بات پہ؟مرجان واپسی کے لیے جارہا تھا مگر ملیحہ کا رویہ نوٹ کرکے وہ پوچھے بغیر نہ رہ سکا۔
کیا تمہیں فرق پڑتا ہے میرے خفا ہونے سے؟ملیحہ نے اُلٹا اُس سے سوال کیا۔
بلکل فرق پڑتا ہے۔مرجان نے ایک لمحے کی دیر کیے بنا کہا۔
ک کیو کیوں پڑتا ہے؟ملیحہ کا دل زور سے دھڑکا اُس نے دھڑکتے دل کے ساتھ پوچھا
کیونکہ ہماری اچھی خاصی دوستی ہوگئ ہے دوست خفا اچھے نہیں لگتے۔مرجان نے مسکراکر کہا۔
میں نہیں خفا۔ملیحہ نے دوست لفظ سن کر گہری سانس بھر کر کہا۔
پکی بات ہے؟مرجان کو جیسے یقین نہیں آیا۔
جی پکی بات ہے۔ملیحہ نے مسکراکر کہا تو مرجان بھی مسکرا پڑا۔








ماہی اپنی فرینڈس کے ساتھ ڈنر کرنے باہر آئی تھی جب اُس کا سامنے آتے شخص سے ٹکر ہوا۔
تم۔ماہی نے سر اٹھاکر سامنے مرجان کو کھڑا دیکھا تو کہا
ہاں میں کیوں۔مرجان ماہی کو دیکھ کر بدمزہ ہوکر بولا
نہیں ایسے ہی سوچا نہیں تھا تم سے ملاقات ہوگی پھر سے۔ماہی نے آرام سے جواب دیا تو مرجان کو نعمان کی کہی بات آئی تو چہرے پہ مسکراہٹ نے احاطہ کیا دوسری طرف ماہی تو اس کی خوبصورت مسکراہٹ دیکھ کر جیسے کھوگئ تھی۔
تم مسکراتے ہوئے اور بھی ڈیشنگ لگتے ہو بکوز یوئر سمائیل از سو اٹریکٹو اینڈ مسمرائزنگ۔ماہی چاہ کر بھی خود کو کہنے سے روک نہیں پائی۔
تو تم مانتی ہو میں ڈیشنگ پرسنائلٹی کا مالک ہوں۔مرجان نے اُس کی بات سن کر کہا۔
بلکل مجھ سے بیر تو تم نے پال رکھا ہے ورنہ میں تو بہت سویٹ ہوں۔ماہی نے اپنے دونوں ڈمپلز کی نمائش کرکے کہا مرجان کو اس کی مسکراہٹ دیکھ کر ماننے میں وقت نہیں لگا کے سامنے کھڑی لڑکی اپنی کم عمر میں ہی بہت حسین ہے۔
کیا تم حُسن پرست ہو؟مرجان کے اپنے پلان ترتیب دیتے سوال داغا۔
بلکل نہیں حُسن بھی پسند ہے پر ایسا نہیں کے میں بس خوبصورت لوگوں سے مُتاثر ہونے لگوں۔ماہی نے صاف گوئی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔
ماہی تم یہاں ہو کھانا کب کا ٹھنڈا ہوگیا۔فروزین باہر آکر ماہی کو کھڑا دیکھ کر کہا۔
میں آرہی تھی پر ان سے ملاقات ہوگئ ہے۔ماہی نے سامنے کھڑے مرجان کی طرف اشارہ کرکے بتایا۔
اوو نائس ٹو میٹ یو۔فروزین چہرے پہ مسکراہٹ سجاکر اپنا ہاتھ مرجان کے سامنے کیے کہا۔
سیم ہیئر۔مرجان نے مروتً کہا۔
تم اگر اکیلے ہو تو ہمیں جوائن کرسکتے ہو۔ماہی نے پیش کش کی۔
میں اپنے فرینڈس کے ساتھ ہوں تم لوگ انجوائے کرو۔مرجان نے سہولت سے انکار کیا۔







زر تم آگئے جاؤ جاکر مہمانوں کو سلام کرو۔زرجان گھر میں داخل ہوا تو مہرماہ جو کچن میں ریفریشمنٹ کا سامان دیکھنے جارہی تھی زرجان کو ہدایت کی۔
مما میں تھک گیا ہوں آئے نیڈ ریسٹ۔زرجان نے اپنے بازوں مہرماہ کے کندھوں پہ رکھ کر کہا
زر ایک منٹ نہیں لگے گا تمہیں سلام کرنے میں پھر چلے جانا اپنے کمرے میں۔مہرماہ نے گھور کر کہا۔
ممااااااا۔زرجام نے التجا کی۔
اچھا جاؤ۔مہرماہ اُس کے بازوں اپنے کندھوں سے ہٹاتی بولی
ماہا بیٹے تم نے تو کجھ لیا ہی نہیں کجھ کھاؤ تو سہی۔زرجان ڈرائینگ ہال سے گُزر رہا تھا جب ماہا نام پہ اُس کے قدم ٹھٹکے تھے زرجان ایڑھیوں کے بِل گھوم کر اپنے قدم ڈرائینگ ہال کی طرف کیے جہاں ہانم بیگم ہانیہ ایک صوفے پہ بیٹھی ہوئی تھی سامنے صوفے پہ ماہا مہرین کے ساتھ بیٹھی ماہا اِس وقت کالے رنگ کی کڑھائی والا کُرتا پہن رکھا تھا ساتھ میں سفید رنگ کا ٹراؤزر تھا جب کی ایک شانوں پہ سفید رنگ کا ڈوپٹہ اوڑ رکھا تھا بھورے بال کُھلے ہوئے تھے تھے چہرے کا رنگ کالے رنگ پہ کِھل اٹھا تھا زرجان نے بے ساختہ اندر آکر سلام کیا۔
محبوب کی طرف بڑھتے قدم انسان
چاہ کر بھی نہیں روک سکتا۔
اسلام علیکم! ماہا نے سر اٹھاکر زرجان کو دیکھا تو وہ حیرت نے آ گھیرا۔
یہ زرجان میر ہے شاہ میر بھائی کا چھوٹا بیٹا۔مہرین نے اُس کا حیرت زدہ چہرہ دیکھا تو کہا
آپ جانتی ہیں کیا زر کو؟ہانیہ نے پوچھا زرجان ماہا کو دیکھتا منہاج کے ساتھ بیٹھ گیا۔
جی میرا اسٹوڈنٹ ہے۔ماہا نے بس اتنا کہا۔
تمہیں تو آرام کرنا تھا۔مہرماہ ملازمہ کے ساتھ آئی تو زرجان کو دیکھ کر کہا۔
اِس کی ٹیچر موجود ہے آرام کیسے کرے گا۔زرجان اپنی ماں کی بات پہ سٹپٹاگیا تھا پر ہانیہ نے شوخ انداز میں کہا جس پہ سب مسکرادیئے سِوائے ماہا کے۔
میں بس چائے لوں گی۔ماہا نے مہرماہ سے کہا جو اس کے سامنے کباب کے ساتھ رول کی پلیٹ رکھ رہی تھی۔
بیٹا تکلف کیوں کررہی ہو تمہارا اپنا ہی گھر ہے۔مہرماہ نے نرمی سے کہا۔
تکلف کی بات نہیں میں یہ سب اتنا نہیں کھاتی۔ماہا نے جواب دیا۔
ماہا سہی کہہ رہی ہے یہ بہت ڈائٹ کونشیئس ہے۔مہرین نے مہرماہ کو دیکھ کر کہا۔
کھانے پینے پہ دھیان دیا کریں بہت کمزور ہیں آپ حیات کو دیکھ لو وہ تم سے دو تین سال چھوٹی ہوگی پر صحت میں تم سے بہتر ہے۔ہانم بیگم نے سمجھانے والے انداز میں کہا۔
جی کوشش کروں گی۔ماہا نے اتنا کہہ کر چائے کا گھونٹ بھرا۔
تو آپ یہ کھائیں۔مہرماہ نے مسکراہٹ دبائے کباب اس کے سامنے کیا ماہا کی شکل دیکھ کر زرجان کے چہرہ پہ مسکراہٹ آگئ تھی جس کو چُھپانے کے لیے اُس نے اپنا سر جھکادیا۔
شکریہ۔ماہا اب کی ان کا خلوص دیکھ کر انکار نہیں کرسکی۔
تمہارے لیے کافی کا کہا ہے آتی ہوگی۔مہرماہ نے زرجان سے کہا۔
اب ہم چلتے ہیں اجازت دے۔تھوڑی دیر بعد مہرین اٹھ کر بولی۔
اتنی جلدی کیوں ؟ہانیہ نے کہا
جلدی کہاں بہت دیر ہوگئ ہے۔مہرین نے کہا ماہا ولی کو میسج کرنے لگی تاکہ وہ اُن کو پِک کرنے آجائے۔
موم میں نے ولی کو میسج کیا ہے پر وہ ڈیڈ کے کام سے باہر ہے۔ماہا نے موبائل اسکرین کو دیکھ کر مہرین کو بتایا
کوئی بات نہیں کیب منگوالوں۔مہرین نے کہا
کیب کیوں ڈرائیور چھوڑ آئے گا۔مہرماہ نے کہا
شکریہ آنٹی پر اِس تکلف کی ضرورت نہیں۔ماہا نے میسج ٹائپ کرکے رسانیت سے کہا
مہرین تمہاری بیٹی تو ہم غیر سمجھ رہی ہے۔مہرماہ نے ناراض لہجے میں کہا
ایسا نہیں۔ماہا نے جلدی سے وضاحت کرنا چاہی
ڈرائیور کیوں زر ڈراپ کردے آپ لوگوں کو پھر۔ہانم بیگم نے مسکراکر کہا زرجان فورن سے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا ماہا نے عجیب نظروں سے اُس کی پُھرتی دیکھی زرجان یہاں وہاں دیکھتا خود کو لاتعلق ظاہر کرنے لگا۔
زر جاٶ اپنی آنٹی اور بہن کو گھر ڈراپ کردو۔مہرماہ نے زرجان سے کہا زرجان کے چہرے کے زاویئے (بہن)لفظ پہ ایسے ہوگئے تھے جیسے کڑوا بادام نگل لیا ہو۔
ٹیچر ہیں میری۔زرجان نے جتانے والے انداز میں کہا۔
یونی کی حدتک ورنہ تو حیات کی طرح تمہاری ماہا اور ملیحہ بھی بڑی بہن ہے۔مہرماہ نے مسکراکر کہا۔
میں باہر آپ کا ویٹ کررہا ہوں۔زرجان ڈرائینگ روم سے نکلتا بولا مہرین ماہا بھی سب سے ملتی باہر آئی زرجان کو پورچ میں جاتا دیکھا تو ماہا مہرین کو اِشارہ کرتی پورچ کی طرف جانے لگی وہاں آئی تو اُس کی نظر ہیوی بائیک پہ پڑی۔
اے میرے لمحہِ ناراض کہیں مل تو سہی
اِس زمانے سے الگ ہوکر گُزاوں تجھے۔
آپ کو بائیک پسند ہے؟ زرجان ماہا کے پاس آکر پوچھنے لگا جس کی بھوری آنکھوں میں بائیک کو دیکھ کر ستائش اُبھری تھی جو زرجان نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔
ہممم۔ماہا نے بس اتنا مہرین گاڑی کی پچھلی سیٹ پہ بیٹھ چُکی تھی ماہا بھی ڈور کھولنا چاہتی تھی پر زرجان کی آواز پہ حرکت کرتے ہاتھ تھمے تھے۔
آنٹی پچھلی سیٹ پہ بیٹھی ہیں آپ فرنٹ سیٹ پہ آجائے ورنہ مجھے اپنا آپ ڈرائیور محسوس ہوگا۔زرجان فرنٹ سیٹ کا دروازہ اِن لاک کیے بولا ماہا خاموشی سے فرنٹ سیٹ پہ بیٹھ گئ زرجان مسکراتے دروازہ بند کرکے گھوم کر ڈرائیونگ سیٹ پر آ بیٹھا۔
