Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Qaid Season 2 (Episode 18)

Ishq Qaid Season 2 by Rimsha Hussain

ڈیڈ آپ یہاں مجھے بُلا لیا ہوتا۔حیات جو بیڈ پہ لیٹی ہوئی تھی دروازہ نوک ہونے پہ شاہ میر کو آتا دیکھا تو سیدھی ہوکر بیٹھ کر بولی۔

کیوں جی میں اپنی ڈول کے پاس نہیں آسکتا؟شاہ میر مصنوعی غصہ دیکھاکر بولا تو حیات کے چہرے پہ ایک دن بعد مسکراہٹ آئی تھی۔

بلکل آسکتے ہیں۔حیات شاہ میر کے سینے سے لگتی ہوئی بولی۔

میرا بچہ کجھ پریشان ہے۔شاہ میر نرمی سے اس کے بال سہلا کر بولا۔

نہیں تو۔حیات نے خود پہ ضبط کیے کہا۔

توں پھر دو دن سے کمرے میں کیوں قیام پزیر ہے۔شاہ میر نے چھیڑا۔

ایسے ہی بس سوچا تھوڑا آرام کروں۔حیات نے بہانا بنایا پر شاہ میر مطمئن نہیں ہوا۔

حیات تم میرا دل ہو اِس لیے جو بھی بات ہو مجھے بلا جھجھک بتادیا کرو۔شاہ میر نے سنجیدگی سے کہا۔

ہائے یہ بات اگر آپ مما کے سامنے کرتے تو کیا بات ہوتی۔حیات نے شرارت سے کہا تو شاہ میر نے اُس کو گھورا۔

وہ میرے دل کی دھڑکن ہے اِس لیے تم زیادہ چالاکی مت دیکھانا۔شاہ میر نے وارن کیا۔

لیں جی کجھ بھی ہو پر آپ یہ بات ظاہر ضرور کردیتے ہیں کے مما آپ کو سب سے زیادہ عزیز ہے۔

بلکل کیونکہ ان کی وجہ سے ہی تو آپ یہاں ہو۔شاہ میر نے اعتراف کیا۔

کیا ڈیڈ دل رکھنے کے لیے ہی کہا ہوتا کہ نہیں میری حیات تم ماہ سے زیادہ مجھے عزیز ہو۔حیات منہ بناکر بولی۔

ڈرامے باز۔شاہ میر نے اس کے گال کھینچے

ڈیڈ دھڑکن نہ ہو تو دل کسی کام کا نہیں ہوتا سارا کام تو دھڑکن کا ہوتا ہے وہ اگر رُک جائے تو بس سب ختم۔حیات نے بڑی سنجیدگی سے کہا

میں نے تمہیں میڈیکل کی پڑھائی اِس لیے نہیں کروائی کے تم مجھے سائنس پڑھانے لگو۔شاہ میر اس کی بات پہ تپ کے بولا جس پہ حیات ہنسی سے لوٹ پھوٹ ہوئی۔تو شاہ میر نے کہا.

تمہارا کہا بھی سہی پر دل ہوتا ہے تبھی تو دھڑکن ہوتی ہے۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

بات ہوسکتی ہے۔مہرین نے ماہا کے کمرے میں آکر سنجیدگی سے کہا۔

شیور موم۔ماہا جو لکھنے میں مصروف تھی مہرین کی آواز سن کر رجسٹر بند کیا ساتھ میں آنکھوں میں پہنے گلاسس بھی اُتار کر سائیڈ ٹیبل پہ دراز میں رکھے۔

ریان ہمیں پاکستان لیکر جانا چاہتا ہے تمہاری وجہ سے رُکا ہوا ہے اپنی ضد چھوڑو ہمارے ساتھ چلو۔مہرین نے کہا تو ماہا کے چہرہ پہ اذیت بھری مسکراہٹ آئی۔

میں کس سے کہوں حال دیدہ نم کا

میرے دکھ سے آگاہ میری ماں بھی نہیں

تو آپ لوگ جائے میری وجہ سے کیوں رکے ہوئے ہیں۔ماہا نے سادہ لہجے میں کہا۔

پاگل ہو یہاں کس کے بھروسے پہ ہم تمہیں چھوڑ کر جائے۔مہرین سخت لہجے میں بولی۔

اللہ کے بھروسے۔ماہا نے کہا

وہ تو سہی ماہا پر تم بات کو سمجھو ریان نے ہماری وجہ سے اپنے آپ کو بھلا دیا ہے اُس کا دل تو سالوں سے پاکستان رہنے پہ تھا پر انکل نہیں مانے پھر جب ان کا پاکستان رہنے پہ آیا تو ریان تم تینوں کی وجہ سے نہیں گیا اب ہمیں بھی اُس کے لیے کجھ کرنا چاہیے نہ۔مہرین اب کی کجھ نرم ہوئی۔

آپ کی ہر بات سے میں اتفاق کرتی ہوں پر موم میں پاکستان ہمیشہ نہیں رہ سکتی۔ماہا اپنی بات پہ قائم رہی۔

ہمیشہ اپنے بارے میں نہیں سوچا جاتا زندگی میں کبھی کبھی اپنوں کی خوشیوں کے لیے بھی سوچنا ہوتا ہے۔مہرین نے پھر کہا۔

وقت چاہیے مجھے آپ لوگ جائے ایک دو ویک بعد میں آجاٶں گی۔ماہا نے نیم رضامندی دی۔

ساتھ چلنے میں کیا قباحت ہے؟

قباحت کوئی نہیں بس اکیلا رہنا چاہتی ہوں آپ بس میری اِس بات پہ ڈیڈ کو کنوِنس کریں میرا واعدہ ہے میں بھی آوٴں گی پھر۔ماہا ان کی بات پہ بولی تو مہرین نے سر کو اثبات میں ہلایا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

خیر ہے اپنے ہی آپ کیوں مسکرایا جارہا ہے؟مہرماہ ٹیرس پہ بیٹھے شاہ میر کو چائے کا کپ دیتی ہوئی مشکوک نظروں سے دیکھ کر بولی اور خود بھی پاس والی چیئر پہ بیٹھی صبح کا وقت کا تازی تازی ہوا جسم کو سرور بخش رہی تھی۔

خیر ہی ہے آپ کو پتا ہے ریان کا فون آیا تو بتارہا تھا جلدی ہی وہ یہاں آنے والا ہے۔شاہ میر نے مہرماہ کو دیکھ کر مسکراکر بتایا۔

یہ تو اچھی بات ہے۔مہرماہ نے شاہ میر کو خوش دیکھ کر کہا

ہاں نہ۔

شاہ۔مہرماہ نے پُکارا

جی۔فورن سے جواب حاضر ہوا۔

تم نے بس ایک دوست کیوں بنایا؟مہرماہ کے دماغ میں چلتا سوال زبان پہ آیا۔

ایسے ہی بس زیادہ لوگوں سے دوستی کرنے کا کیا فائدہ بس ایک حد تک ان سے بات کرنا ٹھیک ہے۔

حضرت علی کا فرمان ہے!

ہزار دوست بنانے سے اچھا ہے ایک ایسا دوست بناو جب ہزار ساتھ نہ بھی ہو تو ایک ہمیشہ ساتھ رہے۔

شاہ اتنا کہہ کر چائے کا گھونٹ پینے لگا،مہرماہ بس اس کو دیکھتی رہی۔

سہی کہا مطلب تمہیں بچپن سے ہی اندازہ تھا کے ریان تمہارا اچھا دوست ثابت ہوگا؟مہرماہ نے دوسرا سوال داغا۔

بلکل ہماری دوستی کی شروعات میں پٙہل اُس نے کی تھی ورنہ میں جس مزاج کا تھا بچے زیادہ تر مجھ سے ڈرتے تھے۔شاہ میر اتنا کہہ کر ہنس پڑا تو مہرماہ مسکرادی شاہ میر نے اپنی بات دوبارہ سے شروع کی۔

ریان بچپن میں بہت شرارتی ہوتا تھا ایک پل بھی سکون سے نہیں بیٹھتا تھا پڑھائی تو اُس کے ماں باپ نے زبردستی کروائی ورنہ اُس نے کتابوں کی شکل بھی نہیں دیکھنی تھی ایسے ہی پھر میری سنجیدگی دیکھ کر اُس نے پورے اِسکول کو چھور کر میری طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا جو میں نے پہلے تو نہیں بعد میں تھام دیا۔شاہ میر نے اپنی بات ختم کی۔

بہت گہری دوستی معلوم ہوتی ہے۔مہرماہ سرجھٹک کر کہتی چائے پینے لگی۔

ہماری محبت گہری ہے یہ تو کبھی نہیں کہا آپ نے۔شاہ میر کو تو جیسے موقع مل گیا۔

شاہ اِس عمر میں بھی تمہیں اظہارِ محبت سننا ہے۔مہرماہ کو شاہ میر کی بات پہ جیسے حیرت کا جھٹکا لگا۔

ہر بات پہ عمر کو بیچ میں نہ لایا کرے دوسرا محبت،اظہار،کی کوئی عمر نہیں ہوتی یہ چیزیں انسان کو ہر عمر میں چاہیے ہوتی ہے خاص طور پہ اُس اِنسان سے جسے آپ بہت چاہتے ہو۔شاہ میر نے سنجیدہ ہوکر کہا تو مہرماہ اپنا سر دائیں بائیں ہلانے لگی۔

ایک تو آپ پہ میری بات کا اثر نہیں ہوتا۔شاہ میر چائے کا کپ رکھتے بدمزہ ہوکر بولا مہرماہ کو شاہ میر کی شکل دیکھ کر ہنسی نکل گئ۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

بھائی مجھے ہوسپٹل چھوڑ آئیے گا۔حیات سیڑھیوں سے اُترتی مرجان سے بولی جو ہال میں بیٹھا ہوا تھا۔مرجان نے حیات کو دیکھا تو خود کو اُس کا مجرم سمجھنے لگا بے ساختہ اُس کی نظریں شرمندگی کے مارے جھک گئ تھی۔

بہن کو جواب تو دو۔شاہ میر جو آفس جانے کے لیے تیار تھا مرجان کو حیات کی بات کا جواب نہ دیتے دیکھا تو ٹوک کر بولا۔

سوری ڈیڈ،حیات میں بس تیار ہوکر آتا ہوں پھر چلتے ہیں۔مرجان شرمندہ ہوتا پہلے شاہ میر پھر حیات سے بولا تو وہ کندھے اُچکاکر زرجان کے برابر بیٹھ گئ جو فِری فائیر گیم کِھیل رہا تھا

تمہاری پڑھائی کیسی چل رہی ہے؟حیات نے پوچھا۔

ٹھیک۔زرجان نے مختصر جواب دیا۔

پڑھائی میں مدد چاہیے تو میں حاضر ہو۔حیات نے پیش کش کی تو شاہ میر مسکرایا پھر مہرماہ سے لیپ ٹاپ بیگ لیتا وہاں سے نکلتا باہر جانے لگا تو مہرماہ بھی اس کی تقلید میں چلنے لگی تاکہ باہر تک چھوڑ آئے۔

میں بزنس پڑھ رہا ہوں اور آپ میڈیکل کی اسٹوڈنٹ رہ چُکی ہے۔زرجان نے گیم کِھیلتے ہوئے جواب دیا۔

تو کیا ہوا میں حیات ہوں اور حیات کو سب آتا ہے۔حیات نے فرضی کالر اکڑائے۔

اور میں زرجان میر ہوں زرجان کو سب کرنا آتا ہے بنا کسی کی مدد کے۔زرجان نے دوبدو جواب دیا۔

ایک دن تو ایسا ہوگا نہ جو تم اکیلے نہیں کرسکوں گے کجھ کسی کا ساتھ ضرور ہوگا جس کی تمہیں چاہ ہوگی مدد کے لیے۔حیات نے بغور اُس کا چہرہ دیکھ کر کہا جو تھا تو اُس کے جیسے مگر عادات میں زمین آسمان کا فرق تھا

ایسا کبھی نہیں ہوگا۔زرجان گیم جیت کر اب رلیکس سا صوفے سے پشت ٹکاکر بولا۔

ایسا ہوگا کیونکہ ایسا ہر کسی کے ساتھ ہوتا ہے خاص طور پہ اُن لوگوں کے ساتھ جن کو لگتا ہے وہ اکیلے سب کجھ کرسکتے ہیں۔حیات نے اپنی بات پہ زور دیتے ہوئے کہا پر اِس بار زرجان نے کوئی جواب نہیں دیا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

اپنا خیال رکھنا اور کوشش کرنا جلدی آنے کی مجھے پریشانی لگی رہے گی تمہاری طرف سے۔ریان ماہا کو اپنے ساتھ لگائے مسلسل سمجھا رہا تھا آج ان کی پاکستان جانے کی فلائٹ تھی اور ماہا ان کو سی آف کرنے آئی تھی ریان تو ماہا کو ساتھ لے جانا چاہتا تھا پر مہرین نے اُس کو جیسے تیسے کرکے سمجھادیا تھا جِس سے ریان ناچاہتے ہوئے بھی ان کی بات مان گیا۔

آپ بے فکر رہے ڈیڈ میں اپنا ڈھیر سارا خیال رکھوں گی۔ماہا نے ان کو مطمئن کرنے کی خاطر کہا۔

آپی مجھے تو آپ بہت یاد آئے گی۔ولی ماہا کے گلے ملتے بولا تو وہ مسکرادی۔

میں بھی تمہیں یاد کروں گی۔ماہا نے اس کے بالوں میں ہاتھ پِھیر کر کہا۔

اچھا اب یہ سین ہوگیا تھا چلیں فلائٹ کا ٹائم ہوگیا ہے۔ملیحہ نے ان کو وقت کا احساس کروانا چاہا۔

کھانا باہر سے نہیں کھانا بیمار پڑجاتی ہوتم۔مہرین نے فکرمند ہوتے کہا تو ملیحہ گہری سانس بھر کر رہ گئ۔ماہا نے ایک نظر ملیحہ پہ ڈالی پھر کہا۔

میں سب آپ کے کہے مطابق کروں گی ابھی آپ لوگ جائے فلائٹ نہ مس ہوجائے مس ملیحہ بے چین ہوئی پڑی جیسے جانے کیا خزانہ ہے وہاں اُس کا۔آخر میں ماہا کا لہجہ طنزیہ ہوگیا جس سے ملیحہ نے نفی میں سرہلایا پھر وہ سب چلے گئے تو ماہا بھی گھر لوٹنے کے لیے وہاں سے چلی گئ۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

زر اپنے نوٹس تو دینا۔فرزام نے زرجان سے کہا۔

تمہارے اپنے کہاں ہیں۔؟زرجان نے نوٹس پکڑا کر سوال کیا۔

کل میری اور عروہ کی لڑائی ہوئی تھی تو اُس نے پھاڑ دیئے۔فرزام نے آرام سے بتایا۔

تم اور تمہاری بہن کی حرکتیں تو بلکل بچوں جیسے ہی ہیں۔ان کا دوست احتشام بولا تو فرزام ہنس دیا۔

بس کیا کریں اللہ نے بہن دی ہے تو بھگتنی پڑے گی۔فرزام معصوم شکل بنائے بولا

ویسے تم دونوں کو پتا ہے ہمارے بزنس ڈپارٹمنٹ کے سر بدل گئے ہیں۔احتشام کو اچانک یاد آیا تو کہا۔

کیا ہوگیا ہے ان کو جو بدل گئے ہیں؟زرجان کو اُس کی بات سمجھ نہیں آئی۔

ہوا کجھ نہیں بس سر جابر نے اپنا ٹرانسفر دوسری یونی کروایا ہے جس سے ہماری دو دن بزنس مینجمنٹ کی کلاس نہیں ہوگی۔احتشام نے بتایا۔

تو کیا کوئی نیا استاد ہوگا۔فرزام نے پوچھا۔

ہاں شاید۔احتشام نے کہا۔

اچھا اب کلاس کا وقت ہوگیا ہے اندر چلو سر جو ہوگا نیا دیکھا جائے گا۔زرجان اپنے ہاتھ کی گھڑی میں وقت دیکھتا ہوا بولا تو وہ دونوں اٹھ کھڑے ہوئے

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

شاہ میر مرجان اور حیات کے ساتھ ریان اور اس کی فیملی کو ریسیو کرنے آیا تھا جبھی وہ اُس کو آتے دیکھے تو شاہ میر مسکراکر ان کی طرف بڑھا۔

ویلکم بیک ٹو پاکستان۔شاہ میر ریان کے گلے ملتا خوشگوار لہجے میں بولا جب کی حیات مہرین اور ملیحہ سے ملنے لگی اور مرجان ولی سے۔

زرجان نہیں آیا؟

ماہا نہیں آئی کیا؟

شاہ میر اور ریان یک زبان ہوکر بولے تو باقی ان کو حیرت سے دیکھنے لگی شاہ میر نے ریان کو دیکھا پھر وہ دونوں بھی ہنس پڑے۔

ماہا ایک دو ہفتے بعد آجائے گی۔ریان نے بتایا۔

زر ریسیو کرنے آتا پر اُس کو اپنے فرینڈز کے ساتھ برتھ پارٹی میں جانا تھا تو میں نے اُس سے کہا نہیں۔شاہ میر نے زرجان کے نہ آنے کی وجہ بتائی۔

ابھی ہمارے گھر چلو۔شاہ میر نے ڈرائیور سے کہہ کر ان کا سارا سامان گاڑی کے اندر رکھنے کا کہہ کر ریان سے بولا۔

نہیں میر ہم نے تو گھر دیکھ لیا ہے وہاں جانا ہے سب تیاریاں کرکے آئے ہیں ہم۔ریان نے مسکراکر بتایا۔

کس ڈیفینس میں گھر لیا ہے؟شاہ میر نے پوچھا

تمہارے بغل والے علاقے میں ہی گھرلیا ہے۔ریان شاہ میر کے کندھے سے کندھا ٹکرا کر بولا تو شاہ میر نے گھور کر اُس کو دیکھا جس نے اِس عمر میں بھی شوخیاں نہیں کی تھی ختم جب بچے سارے اور مہرین نے مسکراکر ان دونوں کو دیکھا تھا۔

یہ تو اچھی بات ہے آنا جانا لگا رہے گا آپ ابھی نہیں چل رہے پر ہمارے گھر دعوت پہ تو آپ سب کو آنا ہی ہوگا۔مرجان نے پہلی بار ان کی گفتگو میں حصہ لیا۔

ضرور ایسے سنہرے موقعے ہم نہیں چھوڑتے۔ریان نے مرجان کے شانے پہ ہاتھ رکھ کر کہا۔

ڈیڈ گھر چلیں اتنا لمبا سفر کیا ہے تھکاوٹ ہورہی ہے۔ملیحہ نے سب کی توجہ اپنی جانب مبزول کروائی۔مرجان اُس کی آواز پہ ایک نظر اُس کو دیکھا پر دیکھ کر بے ساختہ ٹھٹک گیا اپنا وہم سمجھ کر مرجان نے اپنا دھیان دوسری طرف کرنا چاہا مگر ناکام رہا۔

آپ نے کونسا لمبے سفر میں پلین کو تھکا دے کر یہاں پہنچایا ہے۔ولی نے ملیحہ کو چھیڑا۔

ابھی مجھے میں انرجی نے بعد میں اِس کا جواب سود سمیت دوں گی۔سب کو ہنستا دیکھ کر ملیحہ نے دانت پیس کر دھمکی آمیز لہجے میں کہا تو ولی کو چپ لگ گئ۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

ویر کن سوچوں میں گم ہو۔سارہ بیگم شاہ ویر سے پوچھا جس کے سامنے کافی دیر چائے کا کپ ٹھنڈا ہوگیا تھا پر شاہ ویر کو احساس ہی نہیں ہوا تھا۔

دادو آپ سے ایک بات کرنی تھی۔شاہ ویر ان کی بات پہ چونکا پھر سنبھل کر بولا

کہو کیا بات ہے؟سارہ بیگم نے محبت سے پوچھا

آپ موم ڈیڈ سے کہے نہ کے وہ میری شادی کروادے۔شاہ ویر بنا لگی لپیٹی کے بولا تو سارہ بیگم حیرانکن تاثرات سے اُس کا چہرہ دیکھنے لگی ان کو لگا شاہ ویر مذاق کررہا ہے پر اس کے چہرے پہ سنجیدگی دیکھ کر وہ گہری سانس بھر کر رہ گئ۔

یہ تمہیں شادی کا خیال کہاں سے آیا تمہارے باپ کو تو میں لڑکیوں کی تصویریں تھماتی تھی تب بھی راضی نہیں ہوتا تھا۔سارہ بیگم نے شاہ ویر کا کان پکڑ کر استفسار کرنے لگی۔

دادو یار آپ کا بیٹا صابر تھا پر پوتہ نہیں۔شاہ ویر دانتوں کی نمائش کرتا بولا تو سارہ بیگم کجھ مشکوک ہوئی۔

لڑکی دیکھ رکھی ہے کیا؟سارہ بیگم نے سوال کیا۔شاہ ویر اُس سے پہلے نام لیتا مہرماہ اندر داخل ہوئی جسے دیکھ کر سارہ بیگم خوشی سے اٹھ کھڑی ہوئی کیونکہ گھر پاس ہونے کے باوجود بھی مہرماہ کم ہی گھر آتی تھی ان سے ملنے۔

کیسی ہیں امی جان؟مہرماہ مسکراکر ان سے مل کر پوچھنے لگی۔

میں ٹھیک تم کیسی ہو۔سارہ بیگم اس کاماتھا چومتی پوچھنے لگی۔

میں بھی فٹ۔مہرماہ نے جواب دے کر شاہ ویر کی طرف رخ کیا۔

تم یہاں کوئی کیس نہیں کیا آج؟مہرماہ نے شرارت سے پوچھا تو شاہ ویر مسکرادیا

پھپھو جان کیسس تو بہت ہے آخر کو آپ کا بھتیجا ایک قابل وکیل ہے وہ تو بس میں نے آج آف لیں رکھا ہے۔شاہ ویر بالوں میں ہاتھ پھیرتے بولا۔

اچھا کیا میں نے دیکھ لیا تم نے ورنہ تمہیں تو توفیق نہیں ہوتی اپنی اکلوتی پھپھو سے ملنے کی۔مہرماہ نے شکوہ کناں انداز میں کہا۔

میں تو ملنے آ ٹپکوں پر آپ کے شوہر نامدار ایسے دیکھتے ہیں جیسے میں نے ان سے قرض لے رکھا ہو۔شاہ ویر نے اپنا دامن صاف کیا۔

شاہ تو بس اِس لیے ایسا کرتا ہے کیونکہ تم اس کی موجودگی میں زیب کی طرح مجھ سے چپکتے ہو۔مہرماہ فورن سے شاہ میر کے حق میں بولی۔

میں تمہارے لیے کجھ کھانے کو لاتی ہوں۔سارہ بیگم اٹھتی ہوئی بولی۔

میں کجھ کھانے نہیں آئی آپ سے ملنے آئی ہوں۔مہرماہ نے ان کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا۔

پھر بھی۔سارہ بیگم اتنا بولی تھی کے مہرماہ بول پڑی۔

ثانیہ کہاں ہیں؟

موم تو ڈیڈ کے ساتھ ڈیٹ پہ گئ ہیں۔شاہ ویر موبائل کی طرف دیکھتا خود کو مصروف ظاہر کرتا بتانے لگا۔

شرم کرو ماں پاب کے بارے میں ایسے بات کرتے ہیں کیا۔سارہ بیگم نے اس کے بازوں پہ چپت لگائی جب کی مہرماہ ہنس رہی تھی۔

بازار جانا تھا اُس کو موسم بدل رہا ہے نہ تو میں نے زیب سے بھی کہا ساتھ جائے تاکہ وہ سکندر کے لیے بھی کجھ سامان لیں آئے وہ تو اب نہیں جاتے خریداری کرنے کے لیے۔سارہ بیگم نے جواب دیا تو مہرماہ نے سرہلانے پہ اکتفا کیا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

ریان اور مہرین،ملیحہ،ولی یہ سب آج خان مینشن میں تھے کیونکہ شاہ میر نے ان کو دعوت دی تھی جس سے اب وہ سب ڈرائینگ روم میں بیٹھے خوش گپوں میں مصروف تھے۔ایک طرف مرد اپنی باتوں میں گم تھے تو دوسری طرف ہانم بیگم،مہرماہ،مہرین،حیات،اور ملیحہ ایک دوسرے سے باتوں میں لگی ہوئی تھی اور ساتھ میں چائے اور کباب سے بھی لطف اندروز ہورہے تھے۔

میر تیرا یہ بیٹا تو سنجیدگی میں تم سے بھی دو ہاتھ آگے نکلا۔ریان نے زرجان کو دیکھ کر شاہ میر سے کہا جو اُس کی بات پہ شانے اچکا گیا تھا۔

سنجیدہ مزاج بلکل نہیں بس موڈی ہے۔حیدر خان نے زرجان کی پیٹھ تھپتھپاکر بولے۔

کونسی کلاس میں ہو تم؟ریان نے سوال کیا۔

بزنس کے سکنڈ ایئر میں۔زرجان نے بتایا۔

کس یونی میں کیونکہ یہاں کراچی کی ایک یونی میں مہرین نے جاب کے لیے اپلائے کیا ہے اور وہ بزنس مینجمنٹ کی ٹیچر کے بطور ہوگی لنڈن میں بھی وہ لیکچرار تھی اِس لیے وہ پڑھنا اور پڑھانا نہیں چھوڑ سکتی۔ریان نے مسکراکر کہا۔

خود تو تم نکمے میں ہو پر بیوی لائق فائق ملی ہے۔شاہ میر نے کہا تو ریان کا منہ اُتر گیا۔

ہمارے یونی میں بھی سر کی بدلی ہوگئ ہے تو شاید آپ کی وائف ہمیں ہی پڑھائے گی۔زرجان نے ان کا پہلے پوچھا ہوا سوال کا جواب دیا۔

یہ تو اچھی بات ہوئی۔ریان خوش ہوکر بولا۔

میں ذرہ یہ کال سن لوں۔ملیحہ نے اپنے فون پہ ماہا کی کال آتی دیکھی تو کہا اور اٹھ کر ڈرائینگ روم سے باہر گئ۔

اپس سوری۔ملیحہ کال پہ فارغ ہوتی آرہی تھی جب اُس کا سر سامنے آتے مرجان کے سینے سے لگا تو وہ بولی۔

کوئی بات نہیں مجھے دیکھنا چاہیے تھا۔مرجان آرام سے بولا۔

آپ یہاں؟میرا مطلب باقی سب تو ڈرائینگ روم میں ہیں۔مرجان نے اس کو خاموش دیکھ کر پوچھا۔

میری بہن کا فون آیا تھا اس سے بات کرنے یہاں آئی تھی۔مہرماہ نے لان کو چاروں طرف دیکھ کر بتایا۔

میں بھی یہاں کال سننے کے لیے آیا تھا۔مرجان نے مسکراکر بتایا تو ملیحہ اس کی مسکراہٹ دیکھ کر مسمرائز ہوئی تھی۔

کہاں کھوگئ آپ؟مرجان نے اُس کے سامنے چٹکی بجاکر ہوش میں لانے کی کوشش کی۔

آپ کی سمائیل بہت اٹریکٹو ہے۔ملیحہ نے بلاجھجھک ہوکر کہا تو مرجان کے مسکراتے لب فورن سمیٹے تھے اُس کو کسی کی یاد آگئ تھی۔

اور کسی کی یادیں،

کبھی نہیں چھوڑتی۔

تم مسکراتے ہوئے اور بھی ڈیشنگ لگتے ہو بکوز یوئر سمائیل از سو اٹریکٹو اینڈ مسمرائزنگ۔مرجان کے کانوں میں آواز گونجی تو ایک پھانس سینے پہ محسوس ہوئی۔

آپ کو بُرا لگا کیا؟ملیحہ نے اُس کو خاموش دیکھ کر اندازہ لگایا۔

نہیں بس کوئی یاد آیا تھا۔مرجان اس کی بھوری آنکھوں میں دیکھتا بولا۔

اندر چلتے ہیں باقی سب ویٹ کررہے ہوگے۔ملیحہ نے کہا پھر دونوں اندر کی طرف بڑھے۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

کبھی لگتا ہے پتھر بن

گئ

ہوں میں اور کبھی یوں

ہی

ٹوٹ کر رونے کو دل

کرتا ہے

اپنی غلطیوں پر۔

ماہا ہاتھ میں پکڑا کاغذ پہ لکھی اپنی تحریر پڑھ رہی تھی جب کی پاس ہی اس کی دوست مانوی بیٹھی تھی۔

بھول کیوں نہیں جاتی سوائے تکلیف کے ملا کیا ہے تمہیں جو اب بھی اپنی زندگی فضول میں ضائع کررہی ہو۔مانوی نے اس کے شانے پہ ہاتھ رکھ کر کہا۔

سوچ رہی ہوں موم ڈیڈ کے پاس چلی جاٶں ان کے بغیر یہاں دل نہیں لگ رہا ملی اور ولی بھی بہت یاد آرہے ہیں۔ماہا اس کی بات نظرانداز کرتی بولی۔

اچھی بات ہے ماحول، جگہ،مُلک بدلے گا تو بہتر محسوس کروں گی۔مانوی اس کی بات سن کر بولی۔

یہ سب تو بہت پہلے بھی بدلا تھا پر میرے اندر کا حال نہیں بدلا۔ماہا طنزیہ انداز میں بولی۔

ہر ایک انسان کا ماضی ہوتا ہے کسی کا اچھا تو کسی کا بُرا پر یہ ہم پہ منحصر ہوتا ہے کے ہم اپنے ماضی سے کجھ سیکھتے ہیں یا اُس کو اپنے سر پہ سوار کرلیتے ہیں سیکھنا اچھی بات ہے جب کی اگر سر پہ سوار کرے گے تو نقصان ہمارا اپنا ہوگا۔مانوی نے گہری سانس لیکر کہا۔

ماضی سے کوئی کیا سکھے گا بس لوگ حال میں ماضی کے ساتھ جی لیتے ہیں اپنی زندگی سے سمجھوتا کرلیتے ہیں پر میں چاہ کر بھی ویسا نہیں کرسکتی میں دل کا حال چہرے پہ چھوٹی مسکراہٹ سجاکر نہیں چھپاسکتی نہ تو میرے پاس ایسا آرٹ ہے اور نہ ہی میں دوغلی زندگی گُزارنا چاہتی ہوں۔ماہا نے اپنی بات کی۔

تم سے باتوں میں جیت نہیں سکتی اِس لیے تمہاری پیکنگ میں مدد کرواتی ہوں۔مانوی اٹھتی اس کے کمرے میں کبرڈ کے پاس کھڑی ہوتی ہوئی بولی۔

ابھی تو ٹِکٹ کنفرم نہیں ہوئی۔ماہا نے کہا۔

اُس میں کونسا دیر لگتی ہے۔مانوی نے اُس کی بات ہوا میں اُڑائی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *