Ishq Qaid Season 2 by Rimsha Hussain NovelR50563 Ishq Qaid Season 2 (Episode 28)
Rate this Novel
Ishq Qaid Season 2 (Episode 28)
Ishq Qaid Season 2 by Rimsha Hussain
ماہی۔مرجان ماہا کے پاس کھڑا ہوتا دھیمی آواز میں بولا ماہا جو موبائل میں مصروف تھی اپنے پاس مرجان کی آواز سن کر ایسے ظاہر کیا جسے سنا ہی نہ ہو۔
مجھے بات کرنی ہے تم سے۔مرجان نے پھر کہا
آپ مجھ سے بات کررہے ہیں۔ماہا نے سر اٹھایا کر اپنی طرف سے حیرت کا اظہار کیا۔
ہاں تم سے ماہی
ماہا نام ہے میرا ماہا ریان۔ماہا نے مرجان کی بات بیچ میں ٹوک کر بولی۔
تمہارا نام ماہی ہے۔مرجان اُلجھ کر کہا
ماہا ریان۔ماہا نے اپنی بات پہ زور دے کر کہا۔
اچھا جو بھی میں تم سے معافی مانگنا چاہتا ہوں۔مرجان نے کہا
جیجا جی معافی کس بات کی؟ماہا نے پوچھا
تم جانتی ہوں۔
میں کجھ نہیں جانتی۔ماہا نے دوبدو جواب میں کہا
اجنبی کی طرح کیوں بیہیو کررہی ہو جیسے تم مجھے جانتی ہی نہیں؟مرجان نے جھنجھلا کر کہا۔
کیونکہ میں واقع میں آپ کو نہیں جانتی۔ماہا نے کندھے اُچکاکر کہا۔
مجھے معاف کردو۔مرجان نے التجا کی وہ سمجھ گیا تھا وہ نفرت کی وجہ سے ایسے برتاؤ کررہی ہے۔
ایکسکیوز می۔ماہا کہہ کر وہان سے گزر گئ مرجان بس اس کو جاتا دیکھتا رہا وہ اتنا تو جانتا تھا جب ان دونوں کا سامنا ہوگا وہ اس کو بے رخی ضرور دیکھائے گی مگر وہ یہ نہیں جانتا تھا کے وہ سِرے سے ہی اُس کو پہچان نے سے انکاری ہوگی۔
اب کے مجھے کو دیکھ کر وہ دیکھتا رہ جائے گا
اِس قدر خود کو بدلیں گے خود کو وہ سوچتا رہ جائے گا








زرجان کمرے میں لیٹا آج کے فنکشن کی تصویریں دیکھ رہا تھا کجھ پکچرز پرسنلی اس نے اپنی فون میں ماہا کی لی تھی جس پہ اس نے گیلری میں پرائیویسی لگادی تھی اب وہ مسکراکر ایک پکچر کو سو سو بار زوم کرتا دیکھ رہا تھا پر دوسری پکچر پہ بھی یہی عمل کرتا۔
جاگ رہے ہو؟ شاہ میر زرجان کے کمرے میں آتا بولا شاہ میر کو آتا دیکھ کر زرجان نے اپنی فون کی اسکرین بند کی۔
ًڈیڈ آپ یہاں اِس وقت۔زرجان نے پریشانی سے پوچھا۔
ہاں حیات کے پاس تھا سوچا تمہیں دیکھتا چلوں۔شاہ میر نے کہا
حیات کے پاس؟
کل اُس کی رخصتی جو ہے۔شاہ میر اُداسی سے مسکراکر بولا۔
آپ بیٹھے۔زرجان نے بیڈ کی جانب اشارہ کرتے کہا۔
زر میری بات غور سے سننا۔شاہ میر کجھ دیر خاموشی کے بعد بولا۔
آپ بولیں۔
میں چاہتا ہوں تم ایم بی اے تین سال لنڈن میں کرو۔شاہ میر کی بات پہ زرجان کا رنگ پل بھر میں فق ہوا تھا تین سال لنڈن مطلب تین سال ماہا سے دوری جو زرجان ایک پل کے لیے بھی برداشت نہیں کرپاتا تھا۔
ڈیڈ یہ آپ کا کیا کہہ رہے ہیں۔زرجان کو اپنی آواز کھائی سے آتی ہوئی لگی۔
تم بھی تو یہی چاہتے تھے نہ پر مجھے ٹھیک نہیں لگا اِس لیے پر اب سوچ رہا ہوں تمہارے سمسٹر ختم ہوجائے پھر تم لنڈن جانے کی تیاری کرو۔شاہ میر نے وجہ بتائی۔
پر میں اب یہی رہنا چاہتا ہوں۔زرجان نے سنجیدگی سے کہا۔
پر میں اور ماہ تمہیں لنڈن بھیجنا چاہتے ہی۔
وجہ جان سکتا ہوں آپ مجھے اچانک کیوں بھیجنا چاہتے ہیں؟زرجان نے سوال کیا۔
تاکہ تمہارا دماغ بس پڑھائی کی حد تک ہو۔شاہ میر نے جواب دیا زرجان کو لنڈن بھیجنے کی ضد مہرماہ نے کی تھی جو شاہ میر ناچاہتے ہوئے بھی پوری کررہا تھا۔
اب کونسا سرکس میں ہوتا ہوں۔زرجان چڑ کر بولا اور ایسا پہلی بار ہوا تھا جو شاہ میر کے ساتھ ایسے بات کی تھی اُس نے۔
زر میں نے کب کہا ایسا میں بس جو چاہتا تھا وہ تمہیں بتادیا۔شاہ میر نے نرمی سے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر کہا۔
میں یہی سہی ہوں۔زرجان نے فورن سے کہا شاہ میر بس گہری سانس بھرتا رہ گیا۔








آج بارات کا دن تھا ہر کوئی اپنی تیاریوں میں مصروف ہوچکا تھا سب نے آج بھی ہوٹل جانا تھا جہاں ساری اریجمینٹ کی گئ تھی شاہ میر آیان کے ساتھ ہوٹل میں ساری ڈیکوریشن کا انتظام دیکھنے گئے تھے تاکہ کوئی کمی پیشی نہ ہوجائے۔
ماہا سارا سامان لے لیا ہے نہ؟مہرین نے عجلت میں ماہا سے پوچھا جو سوٹ کیس گھسیٹ کر آرہی تھی جو ملیحہ کا تھا۔
یس موم بس یہ سوٹ کیس آپ گاڑی میں رکھوادے بہت بھاری ہے۔ماہا نے کہا
میں رکھواتی ہوں تب تک تم ایک بار پھر ملیحہ کے کپڑے جیولری اور میچنگ کا ہر سامان دیکھ لو۔مہرین نے ہدایت کی۔
اوکے۔ماہا سرہلاتی اندر کی طرف بڑھی۔
کیا ہوا اُداس ہو؟ماہا اندر آئی تو ملیحہ کو گم سم پایا۔
جب تمہاری شادی ہوگی نہ تو تمہیں بھی اُداسی ہوگی۔ملیحہ نے کھوئے ہوئے انداز میں کہا۔
نہ کرو پھر شادی کونسا ہم زبردستی کروارہے ہیں شادی۔ماہا سر جھٹک کے بولی۔
میرا وہ مطلب نہیں تھا یہ وقت ہی ایسا ہوتا ہے جب لڑکیاں اپنے گھروالوں سے الگ ہوتی ہے تو وہ اُداس ہوجاتی ہے اپنے اندر اُس کو خالی پن سا محسوس ہوتا ہے۔ملیحہ نے ابھی کی کجھ تفصیل سے بتایا۔
چادر پہن لو پارلر جانا ہے۔ماہا اس کی بات سن کر بولی۔
ہممم۔ملیحہ نے بس اتنا کہا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شادی ہے تمہاری اور تم یہاں بیٹھے ہو ابھی تک۔شاہ ویر مرجان کے کمرے میں آتا بولا مرجان نے کوئی جواب نہیں دیا جس سے شاہ ویر کی عجیب لگا۔
سب ٹھیک ہے؟شاہ ویر پاس بیٹھ کر بولا مرجان نے شاہ ویر کو دیکھا جس کی فکرمند نظریں اس کے چہرے پہ جمی ہوئی تھی۔
ماہی کا پتا لگ گیا۔مرجان سپاٹ انداز میں بولا
واقع کہاں ہیں وہ تمہیں کیسے ملی؟شاہ ویر نے فورن سے پوچھا۔
ماہا ماہی ہے۔مرجان عجیب انداز میں مسکراتا بولا۔
ماہا ریان انکل کی بیٹی؟شاہ ویر نے تصدیق چاہی۔
ہمم۔مرجان مضطرب سا بولا
تم نے پھوپھا میر کے اکلوتے بیسٹ فرینڈ کی بیٹی کو چیٹ کیا تھا۔شاہ ویر کو یقین نہیں آرہا تھا۔
مجھے نام اب پتا چلا ہے اس کا باپ کا کیسے پتا چلتا۔مرجان اپنا سر ہاتھوں میں گِراکر بولا۔
ملیحہ کی بہن ہے وہ میری مانو تو اس کو سب سچ سچ بتادو ورنہ بعد میں مسئلا ہوجائے گا۔شاہ ویر نے سنجیدگی سے کہا
وہ عین نکاح کے وقت انکار کردے گی۔مرجان نے افسوس سے کہا
شادی کے بعد بھی تو پروبلمز ہوگی اچھا ہے رشتے کی شروعات سچائی سے ہو جہاں دونوں کے درمیان کوئی راز نہ ہو سب پیور ہو۔شاہ ویر نے پھر کہا
مجھے محبت ہے ملیحہ سے۔مرجان بے بسی سے بولا
ایسا ہی کجھ اس کی بہن سے کہا تھا۔شاہ ویر کا لہجہ ناچاہتے ہوئے بھی طنز ہوگیا۔
شادی کے کجھ عرصے بعد بتادوں گا پھر اس کے پاس میرے ساتھ رہنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہوگا۔مرجان شاہ ویر کی بات نظرانداز کرتا بولا۔
وہ راستہ کمپرومائزنگ کا ہوگا تم یہ چاہتے ہو وہ پوری زندگی تمہارے ساتھ سمجھوتہ کرے۔شاہ ویر نے تاسف سے اس کو دیکھ کر کہا
جہاں محبت ہو وہاں کمپرومائز کرنا پڑتا ہے۔مرجان نے کہا۔
کیا پتا اس سے پہلے ماہا ساری حقیقت سے پردہ اٹھالیں پھر۔
اگر اُس کو ایسا کرنا ہوتا تو کب کا کرچُکی ہوتی۔مرجان نے شاہ ویر کی بات پہ کہا
کیا پتا وہ سہی وقت آنے کا انتظار کررہی ہو۔شاہ ویر نے اندازہ لگایا۔
اب ایسا بھی نہیں ہوگا بس میں یہ چاہتا ہوں میں نے جو کیا وہ بات مما ڈیڈ یا گھر کے کسی بھی فرد کے سامنے لیک نہ ہو۔مرجان نے سپاٹ انداز میں کہا
باتیں چُھپائے نہیں چُھپتی ہر بھید وقت پہ کُھلتا ہے اِس لیے خود کو ہر طرح سے تیار رکھو۔شاہ ویر نے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر کہا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سب لوگ ہوٹل پہنچ گئے تھے مرجان اور شاہ ویر اسٹیج پہ بیٹھ کر اپنی اپنی دلہن کے آنے کا انتظار کررہے تھے۔مرجان رویل بلیو کلر کی شیروانی پہنی تھی جس پہ وہ ہمیشہ کی طرح سمارٹ اور ڈیشنگ لگ رہا تھا شاہ ویر نے ڈارک بلیو کلر کی شیروانی پہنی تھی جو اس پہ انتہا کی جچ رہی تھی اُپر سے اس کے چہرے کی چمک مزید اس کو خوبصورت بنارہی تھی۔
زرجان تم کہاں جارہے ہو؟عروہ اپنی میکسی سنبھالتی زرجان سے بولی جو کال پہ بات کرتا باہر کی طرف جارہا تھا زرجان نے آج وائٹ کلر کا کُرتا اور اس کے ساتھ بلیک کلر کی واسکوٹ پہن رکھی تھی جس سے وہ اپنی مثال آپ لگ رہا تھا بال ماتھے پہ بے ترتیب سے تھے۔
کام ہے۔زرجان نے خلافِ معمول نرمی سے جواب دیا۔
اچھا میں کیسی لگ رہی ہوں۔عروہ نے خوش ہوکر پوچھا جب کی اس کی بات سن کر زرجان نے اپنا سر اٹھایا تو اس کی نظر سامنے آتی ماہا پہ پڑی تو آنکھیں جھپکنا بھول گئ زرجان کی نظریں ماہا پہ ٹِک گئ تھی جو اسکن چولی کے ساتھ بلیو کلر کے لہنگے میں کسی اپسرہ کو بھی مات دے رہی تھی چہرے پہ ہلکہ سا میک اپ کیا ہوا تھا جب کی بال کھلے ہوئے تھے عروہ نے زرجان کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا تو جل بھن کر خاک ہوئی۔
زرجان موم کو کہیں دیکھا ہے تم نے مجھے یہ میٹھائی کا ڈبہ دینا تھا۔ماہا زرجان کے پاس آتی بولی جو یک ٹک اس کو دیکھ کر اپنی آنکھوں کو راحت پہنچا رہا تھا۔
زرجان۔ماہا نے پھر پوچھا تو وہ ہوش میں آیا عروہ اِس بیچ وہاں سے چلی گئ تھی۔
آنٹی مما اور مامی چچی یہ سب میک اپ روم میں ہیں۔زرجان نے بتایا۔
اچھا میں بھی جاتی ہوں تم یہ یو ایس پی ڈے جے کو دینا اِس میں سونگز ہیں اور دیکھنا کل کی طرح کجھ نہ ہو۔ماہا نے کہا تو زرجان نے مسکراکر سرہلایا پھر ایک خیال آتے ہی بول پڑا۔
آپ کا پارٹنر میں بنوں گا۔زرجان کی بات پہ ماہا نے عجیب نظروں سے دیکھا تو زرجان گِڑبڑاگیا
میرا مطلب تھا ڈانس پارٹنر۔زرجان نے وضاحت کی تو ماہا نے سرہلانے پہ اکتفا کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دونوں دلہنوں کو اسٹیج پہ بیٹھا دیا گیا تھا کجھ دیر میں نکاح بھی ہوگیا تھا ملیحہ ریان اب ملیحہ مرجان جب کی حیات میر اب حیات شاہ ویر بن چُکی تھی سب لوگ باری باری ان کو مبارکباد دیتے جارہے تھے جو شاہ ویر تو خوش اسلوبی سے وصول کررہا تھا مگر مرجان چاہ کر بھی خوش نہیں ہوپارہا تھا۔مرجان نے ایک نظر پاس بیٹھی ملیحہ پہ ڈالی جس نے ڈیپ ریڈ کلر کا لہنگا پہنا تھا پھر دوسری سامنے جہان ماہا آرہی تھی بیک گراؤنڈ میں گانا چل رہا تھا اب شاید ماہا نے ڈانس کرنا تھا کیونکہ اس کے پیچھے بہت ساری لڑکیاں بھی تھی۔
Ballay ballay ni dor panjaban di
Ho ballay ballay ni dor panjaban di
Ho jutti khal di marona nio chal di dor panjaban di
Ho jutti khal di marona nio chal di dor panjaban di
Ho ballay ballay!!!!
ماہا اسٹیج کے سامنے کھڑی ہوتی ڈانس کے اسٹیپ لینا شروع کرچکی تھی سب لوگ ستائش بھری نظروں سے اس کو دیکھ رہے تھے شاہ میر کی نظریں زرجان کی چمکتی آنکھوں پہ تھی مہرماہ بس پریشان ہو رہی تھی۔
Raat ki rangeeni dekho
Kiya rang lai hai
Hathon ki mehindi bhi jaise
Khil-khil aae hai
زرجان بنا کسی کی پرواہ کیے جان لُٹاتی نظروں سے ماہا کو دیکھ رہا تھا جس کی نظریں ڈانس کے اسٹیپ کرتے مرجان پہ تھی حیات اپنے چہرے سے گھونگھٹ ہٹاتی ماہا کا خوبصورت ڈانس دیکھ رہی تھی اُس کی حرکت پہ مہرماہ نے باقاعدہ اپنا سر پکڑ لیا تھا شاہ میر مسکراہٹ دباتا مہرماہ سے دور کھسک گیا تھا۔
Mastiyon nay aankh yun kholi
O..jhumti dhadhkan yahi boli
Balay balay ….
Ho ballay balay nache hai ye bawara jiya
Balay balay le jaega sanwara piya
Jale jale naino mai jaise pyaar ka diya
Ballay balay nache hai ye bawara jiya
Balay balay le jaega sanwara piya
زرجان اپنی واسکوٹ اُتارتا ماہا کے پاس آیا جو گول گول گھومتی ڈانس کے اسٹیپ لیں رہی تھی۔
Jee bhar k aaj naach le
Aaa saari raat nach le
Sharmana chod nach le
Naach le…oye oye !!
زرجان ماہا کے پیچھے کھڑا ہوگیا تھا جب اُس کا کندھا ماہا کے کندھے سے ٹکڑاگیا تھا جو ڈانس کرتے وقت ماہا نے محسوس نہیں کیا پر زرجان کے دل نے زور سے اسپیڈ پکڑ لی تھی۔
Chahnay laghe dil jisse ussi p addh jayee
Door na rahe yaar say aankh jab ladh jayee
Ho jaha bhi ho raasta ussi p mod jaayee
Koi pyaar ka rang sa badan mai chid jayee.
Khowab aankho mai sajayeega piya k sang re
Gin gin gin gin k ab din aae wo piya k sang–
O ballay ballay….
o ballay balay nache hai ye bawara jiya
Balay balay le jaega sanwara piya
Jale jale naino mai jaise pyaar ka diya
Ballay balay nache hai ye bawara jiya
Balay balay le jaega sanwara piya
زرجان اور ماہا اسٹیج پہ آتے اُن چاروں کو بھی اپنے ساتھ ڈانس کے لیے کھڑا کیا تھا گانا ختم ہوتے ہی باقی سب لوگوں نے زور شور سے تالیاں بجانا شروع کردی تھی۔
یہ لیں۔ماہا دور صوفے پہ تھکن زدہ ہوکر بیٹھی ہی تھی جب زرجان نے پانی کا گلاس اُس کے سامنے کیا۔
شکریہ۔ماہا نے گلاس پکڑ کر کہا۔
آپ ڈانس بہت اچھا کرتی ہیں۔زرجان فاصلے پہ بیٹھ کر بولا۔
تم بھی کم اچھا نہیں کرتے۔ماہا نے ایک سانس میں پانی کا گلاس خالی کرکے کہا۔
میں نے بس ایسے ہی۔زرجان اتنا کہتا کان کی لو کھجانے لگا جبھی منہاج ان کے پاس آکر بولا۔
زر بھائی رخصتی ہونے والی ہے آپ کو وہاں بلارہے ہیں۔منہاج کہہ کر چلاگیا تو وہ دونوں بھی اُٹھ کھڑے ہوئے۔
ملیحہ اور حیات کو قرآن کے سائے میں رخصت کردیا گیا تھا ملیحہ ریان کے گلے لگ کر خوب روئی جب کی حیات مہرماہ کے خوب ڈانٹنے پہ بھی ایک مصنوعی آنسو تک نہیں بھایا بس شاہ میر کے ساتھ لگ کر خوب ساری بات کی جو شاہ میر بڑی توجہ سے سن رہا تھا۔





شاہ ویر کمرے میں آیا تو حیات کو دیکھ کر ٹھنڈی سانس بھر کر رہ گیا جو اپنے شادی کے جوڑے میں ملبوس فروٹس کھانے میں مصروف تھی۔
اسلام علیکم!!!شاہ ویر بیڈ پہ بیٹھ کر بولا
وعلیکم اسلام!!حیات اتنا سلام کا جواب دیتی بیڈ سے نیچے لٹکتا اپنا ڈوپٹہ اُٹھا کر اوڑھا شاہ ویر حیرت سے اُس کی ساری کروائی ملاحظہ فرمارہا تھا جس نے اب اپنا چہرہ چُھپا لیا تھا۔
میری منہ دیکھائی۔حیات نے اپنا نازک ہاتھ اس کے سامنے کیا شاہ ویر مسکرادیا
تو ساری نوازش منہ دیکھائی کی وجہ سے تھی۔شاہ ویر نے کہا تو حیات نے اپنا سرہلایا۔
میں نے تو تمہارا خوبصورت چہرہ دیکھ لیا۔شاہ ویر حیات کا ہاتھ پکڑ کر وہاں اپنے لب رکھ کر بولا جس پہ حیات بوکھلاہٹ کا شکار ہوئی۔
دوبارہ نہیں دیکھنا کیا۔حیات خود کو کمپوز کرتی بولی۔
دیکھنا ہے نہ ہر لمحہ۔شاہ ویر نے اتنا کہہ کر ڈوپٹہ اس کے چہرے سے ہٹادیا۔
بہت پیاری لگ رہی ہو۔شاہ ویر نے عقیدت سے اس کے ماتھے پہ بوسہ دے کر کہا جس پہ حیات نے سکون سے اپنی آنکھیں بند کرکے اس کا لمس محسوس کیا۔
منہ دیکھائی۔حیات نے پھر کہا۔
یہ لو۔شاہ ویر نے اپنی جیب سے مخملی کیس نکال کر سامنے کیا حیات نے جھٹ سے پکڑ کر کُھولا تو اس میں خوبصورت سی رنگ تھی۔
اِٹس سو بیوٹیفل۔حیات نے انگھوٹی پکڑ کر کہا۔
پسند آئی۔شاہ ویر نے پوچھا
افکورس اگر ڈائمنڈ کی نہ ہوتی تو بھی۔حیات نے مسکراکر کہا۔
پہنادوں؟شاہ ویر نے اجازت چاہی تو حیات نے اپنا ہاتھ اس کے سامنے کیا جو شاہ ویر نے بڑی چاہت سے تھام لیا۔





تمہاری منہ دیکھائی۔مرجان نے ایک بوکس ملیحہ کی طرف بڑھا کر کہا۔
شکریہ۔ملیحہ نے بوکس سائیڈ پہ رکھ کر کہا۔
دیکھو گی نہیں کیا ہے اُس میں؟مرجان نے سوال کیا۔
دیکھتی ہوں۔ملیحہ نے اپنے سر سے ڈوپٹہ اُتار کر کہا۔
بہت اچھا ہے۔ملیحہ نے بوکس کھول کر کہا جس میں ہیرو کا جگمگاتا بریسلیٹ تھا۔
تم سے زیادہ نہیں۔مرجان نے اُس کے ہاتھ کی پشت پہ لب رکھ کر کہا۔
کوئی پریشانی ہے۔ملیحہ نے پوچھا اس کو مرجان کی مسکراہٹ مصنوعی لگی تو پوچھنے کا سوچا۔
ارے واہ ابھی سے سمجھنے لگی ہو۔مرجان نے شرارتً کہا۔
آپ بتائے نہ۔ملیحہ بضد ہوئی۔
دیکھو ملیحہ زندگی میں کبھی تمہیں لگے نہ پتا کوئی بات تو یہ سوچ کر مجھ سے ناراض نہ ہوجانا کے میں نے کیوں تم سے بات چھپائی بلکہ یہ سوچنا کے ایسی کیا بات تھی جو میں نے تمہیں نہیں بتائی۔مرجان ملیحہ کا حنائی والا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیکر کہا۔
مجھے یہ دونوں چیزیں سوچنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ملیحہ کی بات پہ مرجان نے ناسمجھی سے اس کو دیکھا۔
مجھے پتا ہے آپ کبھی ایسا وقت آنے ہی نہیں دے گے۔ملیحہ نے پُریقین انداز میں کہا تو مرجان نے افسردہ سانس خارج کی۔







مہرماہ واشروم سے چینج کرکے نکلی تو کمرہ خالی پایا وہ سمجھ گئ شاہ میر کہاں ہوگا اِس لیے تولیہ صوفے پہ رکھ کر کمرے سے باہر نکل کر حیات کے کمرے میں آئی جہاں شاہ میر خاموش سا کمرے کی ہر چیز کو چھوکر دیکھ رہا تھا۔
شاہ ابھی تک یہاں ہو سونا نہیں کیا۔مہرماہ نے شاہ میر کو افسردہ دیکھ کر کہا۔
نیند نہیں آرہی آپ جاکر سوجائے میں بعد میں آجاؤں گا۔شاہ میر آنکھوں کی نمی کو اندر دھکیلتا آرام سے بولا۔
شاہ تمہاری ڈول پاس والے گھر میں ہی تو ہے پھر یہ اُداسی کیوں؟مہرماہ نے اُس کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر کہا۔
باپ ہوں بیٹی شادی کے بعد پاس رہے یا قریب اس کی کمی تو محسوس ہوتی ہے نہ۔شاہ میر زبردستی مسکراکر بولا۔
شاہ تم حیات سے مجھ سے زیادہ چاہتے ہو۔مہرماہ نے نروٹھے پن سے کہا مقصد اس کا دھیان بٹانا تھا۔
ایسا نہیں آپ کا مقام الگ ہے حیات کا الگ وہ میری بیٹی ہے۔شاہ میر اس کے دونوں ہاتھ تھام کر کہا۔
مسکراؤ پھر۔مہرماہ نے کہا تو شاہ میر مسکرادیا۔
شاہ تم پریشان نہ ہو حیات کے بارے میں وہ اپنی نانو اور ماموں کے گھر میں ہے ویر بہت چاہتا ہے اُس کو۔مہرماہ نے شاہ میر کو رلیکس کرنے کی خاطر کہا۔
آپ کے کہنے پہ میں نے اِس رشتے کی حامی بھری ورنہ میرا ارادہ گھر داماد بنانے کا تھا۔شاہ میر نے مہرماہ کی معلومات میں اضافہ کیا جس پہ مہرماہ بس اس کو گھور سکی۔






ناشتہ تیار ہے؟مہرین نے ماہا سے پوچھا جو کتاب پڑھنے میں مگن تھی۔
جی میں نے سیٹ کرلیا ہے سب آپ جائے صبح کے نو بج رہے ہیں۔ماہا نے کہا
کیوں کیا تم نہیں چل رہی ہمارے ساتھ؟مہرین نے پوچھا۔
نہیں میرا کیا کام وہاں۔ماہا نے کندھے اُچکاکر کر کہا۔
بہن ہے وہ تمہاری ناشتہ لیکر جارہے ہیں ہم وہاں تمہارا آنا لازم ہے۔مہرین نے دو ٹوک کہا
آپ ڈیڈ اور ولی کے ساتھ جا تو رہی ہیں۔ماہا نے کوفت سے کہا
مجھے کجھ نہیں سننا دس منٹ ہے تمہارے پاس جلدی سے آجانا۔مہرین نے حکیمہ انداز میں کہا جس پہ ماہا کو ناچار اٹھنا ہی پڑا۔




زرجان نائٹ سوٹ پہنے بکھرے بالوں سمیت سیڑھیاں اُتر رہا تھا جب اُس کی نظر ہال میں بیٹھی ماہا پہ پڑی تو اُس نے ایک نظر خود کو دیکھا پھر اُپر واپسی کے لیے ڈور لگائی۔
مہرو اور میر صبح سویر ہی حیات کی طرف گئے ہوئے ہیں۔ہانم بیگم نے مہرین کو بتایا۔
اچھا ہم زرہ لیٹ ہوگئ۔مہرین نے کہا
آپ کو لیٹ نہیں ہوا میر کو جلدی تھی بس۔حیدر خان نے کہا تو سب مسکرادیئے۔
تم کیوں خاموش ہو؟ریان نے مرجان سے پوچھا
خاموش تو نہیں میں۔مرجان نے زبردستی مسکراہٹ چہرے پہ سجاکر کہا
منہ دیکھائی میں کیا ملا۔ماہا نے پوچھا تو ملیحہ نے مسکراکر اپنا ہاتھ اُس کے آگے کیا۔
نائیس۔ماہا نے بس اتنا کہا۔
اسلام علیکم!!!زرجان براوٴن ٹی شرٹ وائٹ جینز پینٹ پہنے ڈھیر پرفیوم لگائے ہشاش بشاش لہجے میں بولا۔
وعلیکم اسلام!!تمہارا چہرہ تو ایسے چمک رہا ہے جیسے شادی کی پہلی صبح مرجان کی نہیں تمہاری ہے۔ریان نے مرجان کی خاموشی پہ ٹونٹ کرکے زرجان کو بھی آڑے ہاتھوں لیا جس کے گیلے بال ماتھے پہ چپکے ہوئے تھے چہرہ اور آنکھوں کا رنگ ماہا کی موجودگی بھی چمک اُٹھا تھا۔
بھائی کی تو ہے نہ تو بس فلحال ان کی شادی پہ خوش ہوں اپنی باری جب آئے گی تو دیکھا جائے گا۔زرجان اپنے گیلے بالوں میں ہاتھ پھیرتا مسکراکر بولا۔
میں کیسے بھول گیا تم میر کی کاربن کاپی ہو۔ریان اس کی حاضر جوابی پہ کلس کر بولا
ڈیڈ بولتے ہیں میں مما پہ گیا ہوں بس آنکھیں اُن سے چُرائی ہے۔زرجان نے معصومیت سے کہا
ناشتہ ٹیبل پہ لگادیا ہے آجائے آپ سب لئے لوگ۔ہانیہ نے کہا تو سب اپنی اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑے ہوئے۔




کوئی مسئلا ہوا تو فورن سے مجھے بتانا اگر ویر تنگ کرے یا کوئی بات نہ مانے تو بھی پھر میں جانوں اور ویر۔شاہ میر نے اپنی سینے پہ سر ٹکائے بیٹھی حیات سے بولا جو مسکراکر اس کی باتیں سن رہی تھی۔
شاہ اب بس بھی کرو۔مہرماہ نے بیزار ہوکر کہا
مما یہ ہم دونوں باپ بیٹی کا پرسنل معاملہ ہے سو پلیز۔حیات نے زچ کرنے والی مسکراہٹ چہرے پہ سجاکر کہا تو مہرماہ کا منہ کُھل گیا اس نے شاہ میر کو دیکھا جو سر جھکائے اپنی مسکراہٹ دباکر رہا تھا مہرماہ کا دل کیا رونے لگ جائے مگر اپنی عمر کا سوچ کر ان کو نظرانداز کردیا۔
مما کا ناراض کردیا نہ۔شاہ میر نے آہستہ آواز میں حیات سے کہا
آپ منالیجیئے گا۔حیات نے آرام سے مشورہ دیا۔
وہ تو منالوں گا تم چل رہی ہو نہ ہمارے ساتھ ابھی۔شاہ میر نے پوچھا۔
جی بلکل مجھے زر سے بھی کام ہے۔حیات نے بتایا۔
تمہیں کوئی سامان لینا ہے تو لوں ریان کے بہت میسجز آچُکے ہیں۔شاہ میر نے اپنا موبائل دیکھ کر کہا۔
میں اپنا فون لوں کمرے سے بس۔حیات شاہ میر سے دور ہوتی بولی شاہ میر نے مہرماہ کو دیکھا جو ثانیہ سے بات کرتے خود کو مصروف ظاہر کررہی تھی۔
شاہ میر مہرماہ اور شاہ ویر حیات گھر آئے تو سب کو انتظار کرتا پایا۔
سوری دیر ہوگئ۔مہرماہ سب ملتی معذرت خواہ لہجے میں بولی۔
آپ آج اتنی چُپ کیوں ہیں؟زرجان سے رہا نہیں گیا تو پوچھ لیا وہ نوٹ کررہا تھا جب سے وہ نیچے آیا ہے ماہا نے ایک لفظ تک نہیں بولا۔
باتیں نہیں میرے پاس کرنے کے لیے۔ماہا جواب دیتی ملیحہ کے پاس چلی گئ جس پہ زرجان کا منہ اُترگیا۔
تمہارے چہرے پہ کیوں بارہ بجے ہوئے ہیں۔حیات زرجان کے پاس بیٹھتی آرام سے بولی۔
بارہ بجے یا تیرہ چودہ آپ کو کیا۔زرجان نے حیات کو دیکھ کر کہا۔
چار سال بڑی بہن ہوں مگر مجال ہے جو میری عزت ہو تمہاری نظر میں۔حیات بُرا مان کر بولی۔
اب ایسا بھی نہیں آپ خوامخواہ سیریس ہوگئ۔زرجان کو اپنے روڈ بیہیویر کا احساس ہوا تو فورن سے کہا۔
اگر ایسا نہیں تو میں جو کہوں گی وہ میں بات مانوں گے۔حیات دل میں خود کی اداکاری پہ شاباشی دیتی ہوئی بولی۔
میں کیسے بھول گیا جیسے آپ ڈیڈ کی ڈول ہے ویسے ہی مما کی نظر میں ڈرامہ کوئین ہے۔زرجان اپنا سر نفی میں ہلاتا ہوا بولا۔
زیادہ بنو مت کل ہمارا ولیمہ ہے تو میں چاہتی ہوں جیسے تم نے مہندی اور شادی کے دن ڈانس کیا تھا کل گانا گاوٴ میرے لیے۔حیات نے چہک کر کہا زرجان نے حیات کو ایسے دیکھا جیسے یقین کرنا چاہ رہا ہو اُس نے جو سنا وہ واقع سچ ہے۔
میں زرجان میر ہوں عاطف اسلم نہیں۔زرجان نے اپنی پہچان کروائی۔
پتا ہے مجھے عاطف اسلم کی تو ایک بات بھی تم میں نہیں پر میری بات مان لوں گانا گانا سچی میرا دل خوش ہوجائے گا۔حیات نے مسکین شکل بناکر کہا
مجھے نہیں آتا۔زرجان نے ہڑی جھنڈی دیکھائی۔
میری آنکھ سے بس ایک آنسو نکلے گا پھر تم ایک گانا تو کیا ڈیڈ تم سے پورا البم گانے کا کہے گے۔حیات نے اب کی دھمکی دی۔
کیا یار آپی مجھے نہیں گایا جاتا گانا۔زرجان جھنجھلاکر بولا
تمہاری آواز اچھی ہے پلیز میری خاطر ایک دفع گانا گانے میں کیا ہے دوسری بات یہ مجھے پتا ہے کبھی تمہیں کسی کام کے لیے میری ضرورت پڑے گی اِس لیے مجھ سے بناکر رکھو۔حیات نے لالچ دیتے ہوئے کہا
ٹھیک ہے۔زرجان نے احسان کرنے والے انداز میں کہا۔





شاہ تم کیسے بھی کرکے زر کو راضی کرو لنڈن جانے کے لیے۔مہرماہ نے سنجیدگی سے شاہ میر سے کہا
بات کی تھی میں نے پر وہ راضی نہیں اب میں زبردستی تو نہیں کرسکتا نہ۔شاہ میر نے جواب دیا۔
شاہ ایسا نہ ہو بعد میں پچھتانا پڑے۔مہرماہ نے پھر کہا
پچھتاوا کیسا ماہ نہ میں زر کے دل سے ماہا کی محبت نکال سکتا ہوں اور نہ ہی ایسا کرنا زر کے اختیار میں ہے۔شاہ میر بھی اب سنجیدہ ہوا
محبت نہیں ہے یہ بس اٹریکشن ہے جو زر کو ہوئی ہے ماہا کی خوبصورتی دیکھ کر جس سے وہ اپنے اور اُس کے درمیان چھ سال کو بھی فراموش کر بیٹھا ہے۔مہرماہ کی بات پہ شاہ میر کو افسوس ہوا۔
میں آج تک ایک بات نہیں سمجھ پایا کے کوئی کسی کو محبت کو پہلے یا وقت پہ کیوں نہیں سمجھ سکتا ہے کئ سال پہلے میری محبت بھی آپ سب کو میرا بچپنا لگا تھا اور اب زر کی محبت آپ کو اٹریکشن لگ رہی ہے ہم کسی کے دل کی حالت سے واقف نہیں ہوتے پر ہمیں دوسروں کی محبت کو سمجھنا اور اس کی قدر کرنی چاہیے ناکہ کبھی بچپنا کبھی وقت اٹریکشن کبھی نادانی تو کبھی کجھ تو کبھی کجھ میں باپ ہوں زر کا اگر وہ مجھ سے اِس معاملے میں بات کرے گا تو میری پوری سپورٹ ہوگی اُس کے ساتھ۔شاہ میر نے اٹل انداز میں کہا۔
میرے دل میں تمہارے لیے جذبات تھے شاہ پر ماہا سب سے الگ ہے وہ کبھی زر کو قبول نہیں کرے گی اِس لیے بار بار دھتکارنے سے اچھا ہے وہ ایک بار سہی معنوں میں دھتکار حاصل کرے۔مہرماہ اپنی بات پہ قائم رہی۔
آپ ایسا کیوں کہہ رہی ہیں محبت اتنا کمزور جذبہ نہیں وہ اپنا آپ منوالیتی ہے جیسے آپ کا دل پگھلا تھا ماہا کا دل بھی زر کے لیے پِگھل جائے گا۔شاہ میر نے مہرماہ کو بیڈ پہ بیٹھاکر سمجھانے والے انداز میں کہا۔
تم سب لوگوں نے قسم کھائی ہوئی ہے مجھے پریشان کرنے کی پر میں بتارہی ہوں میں زر کو دُکھی نہیں دیکھ سکتی۔مہرماہ نے سر ہاتھوں میں گِراکر کہا۔
پریشان نہیں ہو آپ وقت ابھی نہیں آیا جب آئے گا تو دیکھا جائے گا اللہ نے اگر زر کے دل میں محبت ڈالی ہے تو یقیناً ان کے ملنے کا بھی کوئی نہ کوئی سبب بنایا ہوگا۔شاہ میر پریقین ہوکر بولا مہرماہ خاموشی سے اُس کو سنتی رہی۔
