Ishq Qaid Season 2 by Rimsha Hussain NovelR50563 Ishq Qaid Season 2 (Episode 07)
Rate this Novel
Ishq Qaid Season 2 (Episode 07)
Ishq Qaid Season 2 by Rimsha Hussain
میں تو تھک گئ ہوں سونے جارہی ہوں۔ ہانم بیگم مہرماہ پری گھر آئے تو پری نے کہا۔
دیر بھی بہت ہوگئ ہے میں بھی آرام کروں گی۔ ہانم بیگم مسکراکر بولی۔
شاہ نے کھانا کھایا؟ مہرماہ نے پاس گزرتی ملازمہ سے پوچھا
نہیں وہ تو کمرے سے باہر نہیں آئے میں نے دروازہ نوک کیا تھا پر انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ملازمہ نے بتایا۔
اچھا میں دیکھتی ہوں۔ مہرماہ نے کہا۔
کھانا دیکر تم بھی آرام کرنا۔ہانم بیگم نے کہا تو مہرماہ نے سرہلایا مہرماہ کچن میں آئی تو اس کو اپنا سر گھومتا محسوس ہوا اس نے جلد ہی دیوار کا سہارا لیا تاکہ گر نہ سکے۔
افف میرا سر۔ مہرماہ نے اپنے چکراتے سر کو تھاما اور آہستہ سے چلتی فریج کی جانب آکر پانی کی بوتل نکالی پانی گلاس میں ڈال کر اس نے پیا تو کجھ سنبھلی۔
آرام کی۔ واقع ضرورت ہے مجھے۔مہرماہ خود سے کہتی جلدی سے شاہ میر کے لیے کھانا گرم کرنے لگی گرم کرنے کے بعد ٹرے میں سیٹ کیا پھر پانی کا گلاس بھر کر کمرے کی طرف آئی جہاں شاہ میر بیڈ پہ ڈھیر کتابوں کے بیچ بیٹھا تھا۔
بڑی دیر کردی آپ نے۔ شاہ میر نے رجسٹر پہ لکھتے ہوئے کہا۔
میں نے اتنا آہستہ سے دروازہ کھولا پھر بھی تمہیں پتا چل گیا۔ مہرماہ ٹرے ٹیبل پہ رکھتی ہوئی بولی۔
مجھے تو تبھی پتا چل گیا تھا جب آپ یہاں گھر میں آئی تھی۔ شاہ میر اس کی بات پہ مسکراکر بولا۔
اچھا اب یہ ڈائیلاگ بند کرو اور یہاں بیٹھو کھانا لائی ہوں تمہارے لیے۔ مہرماہ نے کہا تو شاہ میر اٹھتا ہوا آیا پھر مہرماہ کو دیکھا جو کھانا ٹیبل پہ لگارہی تھی ڈوپٹہ جھکنے کی وجہ سے ایک طرف ڈھلک گیا تھا بال بھی چہرے کے پڑرہے تھے شاہ میر مسکراتا بال پیچھے کرنے والے تھا پر اُس سے پہلے مہرماہ نے کان کے پیچھے کیے تو شاہ میر کی نظر مہرماہ کے گال پہ نشان پہ پڑی تو اس کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی اُس نے بازوں سے پکڑ کر مہرماہ کو اپنے روبرو کیا۔
شاہ پلیز ابھی فلحال میرا کوئی موڈ نہیں تمہارا بے وقت کا رومانس برداشت کرنے کا مجھے سونا ہے تمہیں کھانا سرو کرکے کیونکہ میں بہت تھک گئ ہوں۔ مہرماہ شاہ میر کی حرکت پہ بول ہی رہی تھی جب شاہ میر آگے آکر پہلے کی طرح شدت بھرا لمس مہرماہ کے دوسرے گال پہ چھوڑا تو مہرماہ نے زور سے مکے اس کے سینے پہ برسائے جس پہ شاہ میر ہنستا پیچھے ہوا۔
بہت بُرے ہوتم شاہ۔ مہرماہ اپنے دونوں گالوں پپ ہاتھ رکھ کر بولی۔
ایک پہ نشان تھا تو دوسرا مجھے شکوہ کرتی نظروں سے دیکھ رہا تھا اِس لیے میں نے سوچا اس کا شکوہ دور کردوں۔ شاہ میر نے آنکھ کا کونا دباکر کہا تو مہرماہ بس اس کو دیکھتی رہ گئ۔
کھانا کھاٶ۔مہرماہ اتنا کہہ بیڈ کی طرف جانے لگی جب شاہ میر نے ہاتھ پکڑکر روکا
آپ ساتھ کھائے ورنہ مجھ سے نہیں کھایا جائے گا۔ شاہ میر نے منہ بناکر کہا۔
شاہ میں بیٹھتی ہوں کھانا کھانے کی گنجائش نہیں میرا پیٹ پہلے ہی بھرا ہوا ہے۔ مہرماہ شاہ کی بات سمجھتی ہوئی صوفے پہ بیٹھتی ہوئی بولی۔
یہ ایک نوالہ۔شاہ میر نے روٹی کا نوالہ توڑ کر کہا
شاہ نہیں سچی میرا دل نہیں۔مہرماہ نے چہرہ موڑ لیا۔
میری خاطر۔شاہ نے ضد کی مہرماہ نے جیسے ہی نوالہ منہ میں ڈالا تو اس کو قے سے محسوس ہوا مہرماہ منہ پہ ہاتھ رکھتی جلدی سے واشروم کی جانب بھاگی شاہ میر پریشان ہوتا مہرماہ کے پیچھے گیا جو واش بیسن کے سامنے کھڑی منہ صاف کررہی تھی مہرماہ نڈھال ہوتی دیوار سے ٹیک لگائی۔
ماہ کیا ہوا آپ کی طبیعت ٹھیک ہے؟ شاہ میر مہرماہ کو اپنے ساتھ لگائے اس کی پیشانی چھوکر بولا۔
ہاں بس چکر آگیا وومیٹنگ جیسا فیل ہوا۔ مہرماہ سر پہ ہاتھ رکھتی ہوئی بولی جب کی شاہ میر پریشان سا مہرماہ کا زرد چہرہ دیکھ رہا تھا۔
سوری مجھے زبردستی آپ کو کھانا نہیں کھلانا چاہیے تھا۔ شاہ میر کو افسوس ہوا۔
نہیں چکر ویسے ہی آرہے تھے آرام کروں گی تو ٹھیک ہوجائے گا سر ویسے بھی تھکن کی وجہ ہوا ہے یہ سب۔ مہرماہ زبردستی مسکراکر بولی۔
ڈاکٹر کے پاس چلیں۔ شاہ میر نے کہا۔
نہیں شاہ میں ٹھیک ہوں۔ مہرماہ کہہ کر واشروم سے جانے لگی جب دوبارہ سر چکرایا وہ گِرنے والی تھی پر شاہ میر نے جلدی سے تھام لیا۔
کیا خاک ٹھیک ہیں آپ۔ شاہ میر غصے اور فکرمندی کی ملی جلی کیفیت میں کہتا مہرماہ کو اپنی بانہوں میں اُٹھایا کمرے میں آکر اس نے مہرماہ کو بیڈ پہ بیٹھایا اور آس پاس تکیہ سیٹ کیے۔
میں ڈاکٹر کو کال کرکے یہی بولا لیتا ہوں۔ شاہ میر اپنا سیل فون اٹھاکر بولا جس پہ مہرماہ نے کجھ نہیں کہا بس آنکھیں موند گئ۔
شاہ میر کال کرنے کے بعد بیڈ سے اپنی ساری کتابیں اٹھاکر اسٹڈی ٹیبل پہ رکھی پندرہ منٹ بعد ہانم بیگم پریشانی سی لیڈی ڈاکٹر کے ہمراہ کمرے میں داخل ہوئی۔
میر خیر تو ہے اتنی رات کو ڈاکٹر کو کیوں کال کی۔ ہانم بیگم نے پوچھا۔
امی بتاتا ہوں آپ ماہ کو دیکھے ان کی طبیعت کجھ خراب ہے وومیٹنگ اور چکر آرہے تھے ان کو۔ شاہ میر ہانم بیگم سے کہتا ڈاکٹر بختاور سے مخاطب ہوا جو اس کی بات سن کر مہرماہ کی طرف گئ جو نڈھال بیڈ پہ اب لیٹ گئ تھی۔
آپ لوگ کجھ دیر کے لیے باہر جائے تاکہ میں اِن کا چیک اپ کرسکوں۔ڈاکٹر بختاور نے کہا۔
میں یہی ہوں آپ چیک اپ کریں ماہ کا۔ شاہ میر بضد ہوا جس پہ ڈاکٹر نے ہانم بیگم کی طرف دیکھا۔
میر چلو کجھ منٹ کی ہی بات ہے۔ ہانم بیگم نے کہا تو شاہ میر نے مہرماہ کی طرف دیکھا پھر ناچاہتے ہوئے بھی کمرے سے باہر نکل گیا ان کے جانے کے بعد ڈاکٹر بختاور مہرماہ کا معائنہ کرنے لگی جب کی دوسری طرف شاہ میر بے چین سا دروازے کے باہر چکر کاٹنے میں لگا ہوا تھا۔
میر بس کردو مہرو ٹھیک ہوگی بس تھکاوٹ کی وجہ سے طبیعت خراب ہوئی ہوگی۔ ہانم بیگم نے تسلی دینی چاہی۔
یہ ڈاکٹر ابھی تک باہر کیوں نہیں آئی؟شاہ میر نے ان کی بات جیسے سنی ہی نہیں تھی۔
آجائے گی صبر کرو۔ ہانم بیگم نے کہا۔ کجھ دیر بعد ڈاکٹر بختاور باہر آئی۔
پریشانی کی کوئی بات نہیں ایسے کیسس میں وومیٹنگ اور سر کا چکرانا عام سی بات ہے۔ڈاکٹر بختاور کی بات پہ ہانم بیگم کے چہرے پہ مسکراہٹ آگئ تھی جب کی شاہ میر ناسمجھی سے ان کی طرف دیکھ رہا تھا۔ ۔
کیا مطلب آپ کا کونسا کیس ماہ کو کیا ہوا ہے؟ شاہ میر پریشان ہوا۔
آپ باپ بننے والے ہیں آپ کی مسسز امید سے ہیں۔ شاہ میر شاک سا ان کی بات پہ چہرہ تک رہا تھا اس کو یقین نہیں آرہا تھا جو اُس نے سنا وہ سچ تھا۔
مبارک ہو میر۔ ہانم بیگم کی بات پہ شاہ میر نے نے ان کو دیکھا پھر چہرے پہ ہاتھ پھیرا اس کی حالت سمجھ کر ڈاکٹر مسکراکر ہانم بیگم کو ہدایت دینے لگی پھر الوداع کہتی باہر گئ شاہ میر جلدی سے کمرے میں گیا ہانم بیگم ان دونوں کو اکیلا رہنے کا سوچتی حیدر خان کو یہ خبر سننانے کمرے میں گئ تاکہ کال کرسکے دراصل وہ بزنس کے سلسلے میں شہر سے باہر تھے۔ شاہ میر کمرے آیا تو مہرماہ کو مسکراتا دیکھا مہرماہ کی نظر شاہ میر پہ پڑی تو اس کا چہرہ گلاب کی طرح ہوگیا تھا شاہ میر چلتا مہرماہ کے پاس بیٹھ گیا۔
ماہ مجھے سمجھ نہیں آرہا میں اپنی خوشی کے بیان کروں۔ شاہ میر مہرماہ کے ہاتھوں کو تھامتا عجیب لہجے میں بولا۔مہرماہ نے کجھ نہیں کہا بس اس کو سنتی رہی۔
ماہ میں بہت خوش ہوں اتنا کے میں بتا نہیں سکتا۔ شاہ میر اچانک مہرماہ کو زور سے اپنا گلے لگاتا ہوا بولا جس پہ مہرماہ پرسکون سانس خارج کرتی شاہ میر کی پیٹھ پہ اپنے ہاتھ رکھے
ہمارا بچہ ہوگا ماہ ہمارے پیار کی نشانی جو ہمیں احساس دلوائے گا کہ وہ ہمارے لیے کیا ہے۔ شاہ میر مہرماہ کو خود میں بھینچ کر بولا
شاہ میں اب تک بے یقین ہوں کہ اللہ ہمیں اولاد کی نعمت سے نواز رہا ہے۔ مہرماہ نے مسکراکر کہا شاہ میر کی آنکھوں میں نمی آگئ تھی۔
آپ کو پتا ہے آپ میرے لیے اللہ کی طرف سے انمول تحفہ ہیں اور اب آپ مجھے ایک اور تحفے سے نواز نے والی ہیں اللہ کے حکم سے۔شاہ میر مہرماہ کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیکر بولا
چچی جان کو پتا ہے؟مہرماہ نے پوچھا۔
پتا ہے ڈیڈ کو بتانے گئ ہوگی۔شاہ میر نے اپنی ناک مہرماہ کی ناک سے رگڑ کر اس کی پیشانی سے اپنی پیشانی جوڑی۔
تمہارے خوشی کا اظہار کرنے کا طریقہ کافی انوکھا ہے۔مہرماہ نے مسکراکر کہا جب کی شاہ میر کی گرم سانسیں اس کہ چہرے کو جلسارہی تھی۔
میری زندگی میں ہرچیز انوکھی اور خوبصورت ہوگئ ہے جب سے آپ میری زندگی میں آئی ہیں۔شاہ میر اتنا کہہ کر مہرماہ کو اپنے مزید قریب کیا۔مہرماہ نے مسکراکر شاہ میر کے گرد اپنا حصار قائم کیا اور پرسکون ہوتی آنکھیں بند کرگئ۔














حیدر خان کے گھر میں خوشیوں کا سماں تھا سکندر خان اور سارہ بیگم کو بھی ننھے مہمان کی آمد کا پتا چلا تھا جس سے وہ سب بھی مہرماہ سے ملنے یہاں آئے تھے حیدر خان بھی اپنے گھر واپس آگئے تھے اور کالے بکروں کا صدقہ دے ڈالا تھا جب کی شاہ میر تو مہرماہ کے پاس سے ایک انچ بھی نہیں ہلا تھا یونی اور آفس جانا تو وہ بھول ہی چُکا تھا۔
مہرو اب تم نے بچوں کی طرح چھلانگے نہیں مارنے اپنا بہت سارا خیال رکھنا ہے اب تمہیں اپنے ساتھ ساتھ اپنے بچے کا بھی خیال رکھنا ہے اس لیے کوتاہی ہرگز مت کرنا۔ سارہ بیگم مہرماہ کو سمجھانے لگی باقی سب مسکراکر ان کو دیکھ رہے تھے۔
ہائے مہرو میری جان کب مجھے ماموں کہنے والا پرنس پرنسس آئے گے۔ شاہ زیب مہرماہ کے پاس آکر اس پہ سر پہ پیار کرتا ہوا بولا شاہ میر کو شاہ زیب کو مہرماہ کو میری جان کہنا کافی برا لگا اور رہی سہی کثر اس کے بوسے نے پوری کردی تھی۔
ماہ میری جان ہے آپ اپنی جان لانے کے لیے چچی جان سے بولے۔ شاہ میر جو مہرماہ کے پاس چیئر رکھے بیٹھا تھا اب اس کے سرہانے آکر مہرماہ کو اپنے ساتھ لگائے شاہ زیب کو گھورتا ہوا بولا شاہ میر کی حرکت پہ مہرماہ کا چہرہ خفت سے سرخ ہوگیا تھا باقی سب شاہ میر کی جیلسی دیکھ قہقہ لگارہے تھے۔
امی سن رہی ہے اب معاملہ غیرت کا ہے جلدی سے میری شادی کروائے مجھ سے تین سال چھوٹا لڑکا ترقی کرگیا ہے۔ شاہ زیب سارہ بیگم سے کہنے لگا مہرماہ اس کی فضول گوئی پہ پاس پڑا تکیہ اٹھاکر دے مارا۔
آرام سے ماہ۔ شاہ میر پریشان ہوا۔
کجھ نہیں ہوتا شاہ۔ مہرماہ نے اس کو رلیکس کیا۔
بیٹا یہ فروٹس کھاٶ۔ہانم بیگم فروٹ کی پلیٹ مہرماہ کے سامنے کی تو شاہ میر نے ان کے ہاتھ سے لی اور خود مہرماہ کو کھلانے لگا۔
میرے خیال سے ہمیں باہر جانا چاہیے۔ شاہ زیب نے کہا تو سبھی مسکراتے اٹھ کھڑے ہوئے۔
ہمیشہ خوش رہو۔ سکندر خان مہرماہ کے سرپہ ہاتھ رکھ کر بولے۔
شاہ گھروالوں کے سامنے تو خیال رکھا کرو۔ سب کے جانے کے بعد مہرماہ نے شاہ میر سے کہا
میں نے کیا کردیا۔ شاہ میر ایپل کا پیس مہرماہ کے ہونٹوں کے پاس کرتا ہوا بولا۔
یہ ایسی باتیں کیوں کی زیب سے؟۔ مہرماہ نے کہا
ماہ آپ یہ کھائے باقی سب کو چھوڑے۔ شاہ میر نے آرام سے کہا۔
کل ہم نے ہوسپٹل جانا ہے کجھ ٹیسٹ ہونے ہیں۔ مہرماہ نے شاہ میر سے کہا۔
جی مجھے یاد ہے۔ شاہ میر جوس کا گلاس مہرماہ کو پلاتے ہوئے بولا۔
بس شاہ میرا پیٹ بھرگیا۔ شاہ میر کو مزید فروٹ کاٹتا دیکھا تو مہرماہ نے کہا۔
اچھا بھوک لگے تو مجھے بتائیے گا۔ شاہ میر نے کہا۔
تم نے کجھ کھایا ہے؟ مہرماہ نے پوچھا
آپ میری فکر نہیں کریں مجھے کجھ کھانا ہوگا تو میں کھالوں گا۔شاہ میر مہرماہ کے اوپر لحاف ٹھیک کرتا ہوا بولا۔
شاہ مجھے باہر جانا ہے کل سے بند ہوں کمرے میں۔مہرماہ نے اکتاہٹ بھرے لہجے میں کہا۔
ابھی آپ آرام کریں باہر جانے کا سوچنا بند کریں۔ شاہ میر خود بھی بیڈ کہ دوسری سائیڈ آتا ہوا بولا۔
شاہ۔
ششش
مہرماہ نے کجھ کہنا چاہا پر شاہ میر نے اس کے ہونٹوں پہ انگلی رکھ کر اس کو خاموش کروایا
ابھی آپ کو آرام کی ضرورت ہے میں ہوں نہ آپ کے پاس اِس لیے باہر جانے کا نہ کہے۔ شاہ میر مہرماہ کا سر اپنے سینے پہ رکھتا اس کے بالوں میں انگلیاں چلانے لگا۔
ابھی تو فرسٹ منتھ ہے پریگنسی کا تو میرا یہ حال ہے آگے جاکر تو تم جانے کیا کروگے کتنی پابندی کروگے۔ مہرماہ شاہ میر کی شرٹ کے بٹنس میں ہاتھ پھیرتی ہوئی بولی۔
جتنی مجھے آپ کے لیے ٹھیک لگے گی میں اُتنی کروں گا۔ شاہ میر نے مسکراکر کہا تو مہرماہ نے اس کے سینے میں اپنا چہرہ چھپایا۔














آج چار دن سے شاہ زیب آفس نہیں گیا تھا پہلے حور کی شادی کی وجہ سے اس کو آفس سے آف کرنا پڑا کیونکہ سالار کو اس کی ضرورت تھی شادی کے ہزاروں کام ہوتے ہیں سالار اس کا دوست بھی تھا جس سے شاہ زیب نے اپنے کام پشت پہ ڈال دیئے تھے پھر مہرماہ کی طرف ملنے والی خوشخبری ملنے پہ اُس نے سارا دن مہرماہ کے پاس گُزارا تھا آخر اکلوتی اور ایک سال بڑی بہن تھی شاہ زیب کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہا تھا اپنے ماموں بننے کی خبر سن کے بعد پر جب ابھی جب وہ ہرکام سے فری ہوکر بیٹھا تھا تو شدت سے ثانیہ کی یاد آرہی تھی شاہ زیب ٹیرس پہ کھڑا آسمان میں چاند دیکھ رہا تھا جو پوری آب وتاب سے چمک رہا تھا۔
کبھی تم بھی نظر آٶ
صبح سے شام تک ہم کو
بہت سے لوگ ملتے ہیں
نگاہوں سے گزرتے ہیں
کوئی انداز تم جیسا
کوئی ہم نام تم جیسا
مگر تم ہی نہیں ملتے
بہت بے چین پِھرتے ہیں
بڑے بے تاب رہتے ہیں
دعا کو ہاتھ اٹھتے ہیں
دعا میں یہی کہتے ہیں
لگی ہے بھیڑ لوگوں کی
مگر اِس بھیڑ میں جاناں
کبھی تم بھی نظر آٶ
کبھی تم بھی نظر آٶ!!!!!
بس ایک آفس کا ذریعہ ہے ثانیہ کو دیکھنے کا اس سے بات کرنے کا؟ شاہ زیب چاند کو دیکھ کر خود سے ہم کلام ہوا۔
مجھے امی سے بات کرنی ہوگی پر اُس سے پہلے ثانیہ سے۔ شاہ زیب فیصلہ کرنے لگا۔ کیونکہ اب اس کو لگ رہا تھا وہ ثانیہ سے دور اب مزید نہیں رہ سکتا۔
اس کو کوئی اعتراض تو نہیں ہوگا نہ! شاہ زیب فکرمند ہوا اب ثانیہ کے جواب کا سوچ کر۔
ثانیہ کو کیا اعتراض ہوگا۔ شاہ زیب نے خود کو تسلی کروائی پھر دوبارہ چاند کی طرف دیکھا جو مسکراکر اس کو دیکھ کر شاہ زیب کے چہرے پہ مسکراہٹ آگئ
مت پوچھ میری جاگنے کی وجہ ائے چاند
تیرا ہی ہم شکل ہے جو مجھے سونے نہیں دیتا۔














مہرو یار کب تک ناراض رہوگی؟ثانیہ نے فون پہ مہرماہ سے کہا جو اس کا فون نہیں اٹھاتی تھی اور آج جب اٹھایا بھی تو لہجہ ناراضگی سے بھرپور تھا۔
ثانیہ مجھ سے یہ پوچھنا تو نہیں چاہیے تمہیں۔مہرماہ نے کہا آج اس نے جیسے تیسے کرکے شاہ میر کو یونیورسٹی جانے کے لیے بھیجا تھا شاہ میر جانا تو نہیں چاہتا تھا پر مہرماہ کی کسی بات پہ انکار کرنا بھی اس کے بس میں نہیں تھا اِس لیے ڈھیر ساری ہداہت مہرماہ کو دینے کے بعد وہ یونی گیا تھا تو مہرماہ کو وقت ملا تھا کسی سے بات کرنے کا ورنہ شاہ میر اس کو بیڈ سے اٹھنے بھی نہیں دیتا تھا۔
مہرو یار میری ماں کی طبیعت بہت خراب تھی اتنی پریشانیاں تھی گھر میں مجھے اپنا ہوش نہیں تھا میں تمہاری شادی پہ کیسے آتی۔ ثانیہ نے وجہ پیش کی اپنے نہ آنے کی۔
اچھا تو آج میرے گھر آجاٶ۔مہرماہ نے کہا۔
میں نے نوکری تلاش کی ہے دوسری اور ابھی میں وہاں ہوں۔ ثانیہ نے بتایا۔
اوو اچھی بات ہے پھر ایسا کرنا چھٹی کے دن آجانا۔مہرماہ نے کہا۔
ضرور تم کسی ہوں اور ہمارے جیجا کیسے ہیں۔ثانیہ نے پوچھا۔
میں بھی ٹھیک ہوں شاہ بھی ٹھیک ہے اور تمہارا بحانجہ بھی۔ آخری بات پہ مہرماہ نے اپنے لب لہجے کچلے۔
بحانجہ؟ ثانیہ حیران ہوئی پھر جیسے سمجھ آیا تو اس کی چیخ نکل گئ۔
کیا مہرو سچ۔
آہستہ کان کے پردے پھاڑوں گی کیا۔ مہرماہ نے فون کان سے کجھ دور کیا۔
چھوڑو یہ بتاٶ کب گڈ نیوز ملی تمہیں یہ۔ ثانیہ نے خوش ہوکر پوچھا۔
ہفتہ ہوگیا ہے ٹیسٹ بھی کروائی تھی ایک ماہ کی پریگنسی تھی۔ مہرماہ نے بتایا۔
ماشااللہ اللہ صحتمند اولاد اور نیک اولاد سے تمہیں نوازے۔ ثانیہ نے صدق دل سے دعادی تو مہرماہ نے آمین کہا۔













مہرو تمہیں اور شاہ کو اب نیچے والے کمرے میں شفٹ ہونا چاہیے جب تک بچہ نہیں آجاتا ایسی حالت میں تمہارا سیڑھیاں چڑھنا ٹھیک نہیں۔وہ سب اِس وقت لاونج میں تھے جب ہانم بیگم نے مہرماہ سے کہا۔
جی چچی جان۔ مہرماہ نے سرہلایا۔
آپ کمرہ تیار کروادے ہم آج ہی شفٹ ہوجائے گے۔ شاہ میر نے کہا۔
نہیں شاہ ابھی تو تیسرا مینتھ چل رہا ہے پانچ ماہ بعد یا چھ ماہ بعد شفٹ ہوجائے گیں۔ مہرماہ نے شاہ میر سے کہا۔
نہیں بیٹا ابھی سے ٹھیک رہے گا۔ اِس بار حیدر خان نے کہا۔
میں بہت پرجوش ہوں میں نے اپنے سب دوستوں کو بتادیا ہے اپنے چچوں بننے کا۔ آیان نے خوش ہوکر کہا تو سب مسکرادیئے۔
آج تو تم لوگ اپنے کمرے میں رہنا جب تک میں کمرہ اچھے سے تیار کروالوں۔ ہانم بیگم نے مہرماہ کو خاموش دیکھ کر کہا
جی امی جان ماہ چلیں آپ کی دوائی لینے کا وقت ہوگیا ہے۔ شاہ میر ہانم بیگم کو جواب دیتا مہرماہ کو مخاطب ہوکر بولا
بعد میں چلتے ہیں نہ ابھی سب ساتھ بیٹھے ہیں۔ مہرماہ نے ٹالا۔
میں یہاں دوائیں لے آتا ہوں ڈاکٹر نے کہا تھا وقت پہ کھانی ہے۔ شاہ میر کہتا سیڑھیوں کی جانب گیا۔
کتنا خیال ہے میر کو۔حیدر خان مسکراکر بولے۔جس پہ مہرماہ کے چہرے پہ خوبصورت مسکراہٹ آگئ تھی اُس سے زیادہ بھلا کون جانتا تھا کہ شاہ میر نے کیسے اس کو اپنی ہاتھ کا چھالا بناکر رکھا تھا
