Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Qaid Season 2 (Episode 03)

Ishq Qaid Season 2 by Rimsha Hussain

آج شاہ زیب کی آفس میں انٹرویو کا چوتھا دن تھا پر کوئی بھی شاہ زیب کے پرسنل اسسٹنٹ کے معیار پہ پورا نہیں اُتر رہا تھا شاہ زیب کا مینجر محمود سب سے انٹرویو لیں لیں کر آدھا ہوگیا تھا مگر شاہ زیب آرام سے سب کو ریجیکٹ کردیتا اِس لیے آج شاہ زیب نے خود انٹرویو لینے کا سوچا تھا۔

سر مے آئے کمن؟ شاہ زیب لیپ ٹاپ پہ انگلیاں چلارہا تھا جب کیبن کے دروازے پہ ناک ہوا۔

یس کمن۔ شاہ زیب نے جواب دیا تو ایک سٹائلش لڑکی ہیل کی ٹک ٹک کرتی اندر داخل ہوئی شاہ زیب نے ناگواری سے آنے والے لڑکی کو دیکھا جس کا پورا چہرہ میک اپ سے بھرا ہوا تھا۔

تشریف رکھیں۔ شاہ زیب نے کہا۔

شکریہ وہ لڑکی ایک ادا سے کہتی کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گئ۔

یہ میری سی وی ہے میرا نام اقرا رانا ہے۔ اقرا نے فائل شاہ زیب کی طرف رکھ کر کہا۔

میں نے کب کہا میری ہے۔ شاہ زیب بڑبڑاتا فائل کی جانب متوجہ ہوا جب کی اقرار اپنے بالوں کی لٹ کو گھماتی پرشوق نظروں سے شاہ زیب کو دیکھ رہی ہے۔

آپ نے بس بی آے کیا ہے۔شاہ زیب نے سی وی پہ نظر گھماتا ہوا بولا۔

پڑھائی کا کیا ہے آپ مجھے جاب پہ رکھ دیں یقین دلاتی ہوں آپ کو شکایت کا موقع نہیں ملے گا۔ اقرا نے آگے کو زرا جھک کر کہا۔

کوئی تجربہ ہے آپ کے پاس اِس جاب کا؟ شاہ زیب اس کی بات نظرانداز کرتا سوال کرنے لگا۔

آپ جاب پہ رکھ لیں گے تو تجربہ بھی ہوجائے گا ویسے بھی پرسنل سیکیٹری کا کام بہت آسان ہوتا ہے۔ اقرا آرام سے بولی۔

آپ جاسکتی ہے میں نے آپ کی قابلیت دیکھ لی۔شاہ زیب فائل ٹیبل پہ رکھتا سنجیدہ لہجے میں بولا۔

آپ نے ٹھیک سے میرا انٹرویو لیا ہی نہیں ایسے کیسے بنا جانے آپ مجھے جاب سے ریجیکٹ کرسکتے ہیں۔اقرا کے مسکراتے لب سیکڑ گئے تھے شاہ زیب کی بات پہ۔

جتنا لیا وہی کافی ہے اب آپ اپنی تشریف لیں جائے تاکہ دوسروں کو بھی موقع ملے۔ شاہ زیب نے دانت پہ دانت جماکر کہا۔

آپ کو مجھے ایک موقع دینا چاہیے۔ اقرا نے پھر سے کہا۔

آپ جاسکتی ہیں۔ شاہ زیب نے ضبط سے کہا تو اقرا ایک نظر پورے کیبن پہ ڈالتی باہر نکل گئ اُس کے جانے کے بعد شاہ زیب نے انٹرکام پہ مینجر کا نام ڈائل کیا۔

محمود صاحب اب اگر کوئی انٹرویو کے لیے بھیجے تو انسان ہو کوئی نمونہ یا آفت نہیں۔شاہ زیب نے کہہ کر انٹرکام زور سے کریڈل پہ پٹخہ۔ پانچ منٹ بعد دروازہ دوبارہ نوک ہوا۔

سر کیا میں اندر آسکتی ہوں۔ خوبصورت کوئل جیسی آواز سن کر شاہ زیب نے دیکھا تو کتنے ہی پل اس کی نظریں پری پیکر پہ ہٹنے سے انکار ہوئی جب کی دوسری طرف لڑکی کی پکڑ اپنے ہاتھ میں تھامی فائل پہ مضبوط ہوگئ تھی وہ سامنے والے کی نظروں سے خائف ہورہی تھی اس سب سے بے نیاز شاہ زیب یک ٹک اس کو دیکھنے میں مگن تھا پر لڑکی نے دوبارہ اس کو پُکارا تو شاہ زیب ہوش میں آیا۔

بیٹھ جائے۔شاہ زیب نے کالی چادر میں چھپے اس کے وجود کو دیکھ کر کہا۔

اپنی سی وی دیکھائے گی یا ایسے ہی بیٹھی رہے گی۔ شاہ زیب نے اس کو نظریں جھکائے بیٹھا دیکھا تو کہا جس پہ وہ شرمندہ ہوتی کانپتے ہاتھوں سے فائل ٹیبل پہ رکھ گئ۔

نام کیا ہے آپ کا؟ شاہ زیب نے ڈاکیومینٹس میں اس کا نام دیکھ کر جان بوجھ کر پوچھا۔

ثانیہ افتخار۔ثانیہ نے بتایا۔

اِس سے پہلے کہاں جاب کی ہے آپ نے؟ شاہ زیب فائل کے ورق گردانی کرتا پوچھنے لگا۔

ایک پرائیویٹ اسکول میں ٹیچنگ کرتی تھی پر چار ماہ پہلے اس کو چھوڑنا پڑا۔ ثانیہ کی اِس بات پہ شاہ زیب کے چہرے پہ مسکراہٹ آئی۔

اسکول کے علاوہ آپ نے کہیں جاب وغیرہ نہیں کی آپ کی سی وی تو بہت زبردست ہے آپ کو بہت آسانی سے کسی بھی کمپنی میں جاب مل سکتی تھی۔ شاہ زیب نے کہا۔

بڑی کمپنیوں میں جاب بھی سفارش سے ملتی ہے قابلیت کوئی نہیں دیکھتا اور نہ ہی ڈگریاں۔ثانیہ کا لہجہ تلخ ہوگیا تھا جو شاہ زیب نے صاف محسوس کیا تھا۔

ہر ایک کے یہاں سفارش نہیں چلتی کجھ لوگ قابلیت اور ڈگری بھی دیکھتے ہیں۔شاہ زیب نے کہا تو ثانیہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔

آپ پیر سے آفس جوائن کرسکتی کام آپ کو میرا مینجر سمجھا دیں گا۔ شاہ زیب نے فائل ثانیہ کی طرف بڑھاکر کہا جس سے ثانیہ کتنی پل بے یقین نظروں سے شاہ زیب کو دیکھتی رہی اس کو یقین نہیں آرہا تھا اُس جیسی مڈل کلاس لڑکی کو اتنی بڑی کمپنی میں جاب مل سکتی ہے وہ تو اخبار میں پرسنل اسسٹنٹ ایڈ دیکھ کر اپنی قسمت آزمانے آئی تھی ورنہ اس کو کہاں امید تھی کہ اس کو اتنی آسانی سے جاب مل سکتی ہے جب کی شاہ زیب کو اس کی حیرت سے پھیلی آنکھوں میں خود کو ڈوبتا محسوس کررہا تھا خود پہ ہزار دفع لعنت بھیج کر اس نے اپنی نظروں کا زاویہ ثانیہ کے چہرے سے ہٹایا۔

سر آپ سچ کہہ رہے ہیں؟ثانیہ کو یقین نہیں آیا تو براہ راست شاہ زیب سے پوچھا۔

جی آپ کو جوائنگ لیٹر مل جائے گا شاید تب آپ کو یقین آجائے۔شاہ زیب اس کی بات پہ مسکراکر بولا تو ثانیہ نے اپنا سرہلایا اور اٹھ کھڑی ہوئی۔

تھینک یو سر۔ ثانیہ اپنی چادر سر پہ درست کرتی ہوئی بولی۔

ویلکم۔ شاہ زیب نے سر کو خم دیں کر کہا۔

میں جاٶں سر؟ ثانیہ نے پوچھا

آپ بیٹھنا چاہتی ہیں تو بیٹھ سکتی ہیں نو ایشو۔ شاہ زیب مسکراہٹ دانتوں تلے دبائے بولا تو ثانیہ گڑبڑاگئ۔

میں جاتی ہوں سر۔ ثانیہ جلدی سے کہتی کیبن سے باہر نکل گئ اُس کی اتنی جلدبازی پہ شاہ زیب کتنی دیر تک ہنستا رہا پھر سر جھٹک کر اپنے کام میں مصروف ہوگیا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

اماں

اماں

ثانیہ اپنے گھر آکر زور زور سے اپنی ماں کو آوازیں لگانے لگی۔

کیا ہوا باجی؟ اتنی زور سے کیوں چلارہی ہیں کوئی کُتا تو پیچھے نہیں پڑگیا۔ ثانیہ کی چھوٹی بہن ہانیہ چھوٹے سے لاٶنج میں آکر ثانیہ سے کہا جس پہ ثانیہ نے مسکراکر اس کی جانب دیکھا۔

اِدھر آ۔ ثانیہ نے اس کو اپنی طرف آنے کا کہا تھا

تمہیں پتا ہے میں کہاں گئ تھی آج؟ ثانیہ نے خوشی سے پوچھا۔

انٹرویو کے لیے گئ تھی آپ کیا ہوا پھر؟ ہانیہ کو اچانک یاد آیا تو دوسرا سوال کیا۔

اماں کدھر ہے ان کو تو آنے دو پھر بتاتی ہوں۔ ثانیہ نے۔ اس کے گال کھینچ کر کہا۔

اماں نے تو چھت پہ کپڑے سوکھانے کے لیے گئ ہے۔ ہانیہ نے کہا۔

اماں کو کیوں بھیجا تم جاتی نہ پتا تو ہے ان مے گھٹنوں میں درد ہوتا ہے سیڑھیاں اُپر نیچے چڑھنا ان کے لیے مشکل ہوتا ہے۔ ثانیہ ہانیہ کی بات پہ اٹھتی ہوئی بولی اور چھت پہ جانے لگی

میں نے کہا تو تھا اماں کو پر انہوں نے کہا وہ خود جاکر ٹھیک سے کپڑے تار پہ لٹکائیں گی۔ ہانیہ نے اپنا دفاع کیا۔

اماں مجھے دیں یہ کپڑے آپ چارپائی پہ بیٹھے۔ چھت پہ آکر ثانیہ نے زبیدہ بیگم سے کہا جو کپڑے سوکھانے کے لیے تار پہ لٹکا رہی تھی۔

تم رہنے دو ابھی باہر سے آئی ہو تھک گئ ہوگی۔ زبیدہ بیگم نے اس کے گال پہ ہاتھ رکھ کر محبت سے کہا۔

اماں آپ بیٹھے کوئی نہیں تھکی میں۔ثانیہ نے ان کو چارپائی پہ بیٹھا کر کہا۔

بہت ضدی ہو۔ زبیدہ بیگم ہارمانتی ہوئی بولی۔

اماں آپ کو ایک خوشی کی بات بتانی ہے میں جب بتاٶ گی نہ آپ دونوں بھی خوش ہوجائے گی۔ ثانیہ نے چادر اُتار کر اپنی ماں اور ہانیہ کو دیکھ کر کہا۔

باجی پھر بتائے نہ مجھ سے انتظار نہیں ہورہا۔ ہانیہ نے بے تابی سے کہا۔

اماں میں جہاں آج انٹرویو پہ گئ تھی وہاں مجھے جاب مل گئ۔ ثانیہ نے خوشی سے چور لہجے میں بتایا۔

ماشااللہ۔ زبیدہ بیگم فورن بولی۔

واہ باجی سیلری کتنی ہے؟ ہانیہ نے پوچھا۔

سیلری تو میں نے نہیں پوچھی۔ ثانیہ پریشانی سے انگلی دانتوں کے بیچ رکھ کر بولی۔

تو کیا ہوا اب نوکری تو مل گئ نہ سیلری کا پتا بھی چل جائے گا۔ زبیدہ بیگم نے آرام سے کہا۔

ہاں پوچھو گی تو سہی اور اماں آپ کو میں بتا نہیں سکتی وہ کمپنی کتنی بڑی تھی مجھے تو امید ہی نہیں تھی کہ مجھے جاب مل سکتی ہے وہاں وہ بھی بنا کسی بڑے انسان کی سفارش کے بنا۔ ثانیہ نے اپنے دل کی بات کہی۔

بس اللہ کا کرم ہے جس نے امید سے بڑھ کردیا۔زبیدہ بیگم اس کی بات پہ مسکراکر بولی۔

یہ تو ہے اماں۔ثانیہ نے ان کی تائید کی۔

ثانیہ جہاں جاب کروگی وہاں کا ماحول تو اچھا تھا نہ اور تمہارا بوس وغیرہ۔زبیدہ بیگم کسی خدشے کے تحت پوچھنے لگی۔

اماں آج تو انٹرویو کا پہلا دن تھا میرا ایک دن میں کیسے اندازہ لگاسکتی ہوں پر جتنا وقت بھی میں وہاں تھی خود کو بے آرام محسوس نہیں کیا وہاں بہت سارے لوگ کام کرتے ہیں لڑکیاں بھی تو لڑکے بھی۔ ثانیہ نے بتایا۔

اور باجی آپ کے بوس ان کا تو آپ نے نہیں بتایا۔ ہانیہ جو غور سے اس کی باتیں سن رہی تھی وہ بولی۔

بوس بھی اچھے تھے میں نے سنا تھا وہاں کے چار دن سے وہاں انٹرویو لیں رہے تھے وہاں کے مینجر پر ریجیکٹ ان کا بوس کررہا تھا پر آج بوس نے انٹرویو لیا میں تو بہت ڈرگئ تھی کیونکہ مجھ سے پہلے ایک بہت کانفڈنٹ لڑکی گئ تھی مجھے لگا اگر اس کو نوکری پہ نہیں رکھا تو مجھے بھی نہیں رکھیں گے پر بوس کو میری سی وی پسند آئی اس لیے مجھے جاب مل گئ۔ ثانیہ نے ایک سانس میں کہہ سنایا۔

یہ نوکری تمہارے قسمت میں تھی تو کسی اور کو کیسے ملتی۔ زبیدہ بیگم نے کہا تو ثانیہ مسکرائی۔

اور باجی پلیز خود کو دوسروں سے کمتر مت سمجھا کریں۔ زبیدہ بیگم خاموش ہوئی تو ہانیہ نے کہا۔

انسان اب حقیقت سے رخ تو نہیں موڑ سکتا نہ۔ ثانیہ آخری جوڑا تار پہ لٹکاکر سادگی سے بولی۔

دنیا میں سے بڑا گناہ یہی ہے دوسروں کو خود سے کمتر سمجھنا پر دوسروں سے خود کو کمتر سمجھنا بھی اچھی بات نہیں بس اللہ جس حال میں بھی رکھیں اس کا شکر گزار ہونا چاہیے۔ زبیدہ بیگم نے کہا۔

جی اماں۔ ثانیہ سرجھکاکر بولی۔

اچھا اب جاکر شکرانے کے نفل ادا کرو اگر اللہ امید سے زیادہ چاہ سے زیادہ عطا کریں تو شکرادا کرنا تو بنتا ہے نہ۔ زبیدہ بیگم نرمی سے بولی۔

جی اماں میں بھی شکرانے کے نفل ہی پڑھنے جارہی تھی کمرے میں۔ثانیہ نے بتایا پھر وہ تینوں چھت سے اُتر گئ۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

میں آپ کے لیے کجھ لایا ہوں۔ شاہ میر کمرے میں آکر مہرماہ سے بولا۔

اچھا اور وہ کیا؟ مہرماہ متجسس ہوئی۔

یہاں بیٹھے۔ شاہ میر نے پاس پڑے صوفے پہ بیٹھایا اور ہاتھ میں پکڑی شاپرز کھولی۔

واہ گجرے تمہیں پتا ہے مجھے بہت پسند ہیں یہ۔ مہرماہ نے شاہ میر کو شاپرز سے گجرے نکالتا دیکھا تو خوشی سے بھرپور لہجے میں کہا۔

مجھے آپ کے بارے میں سب پتا ہے آپ کی پسند ناپسند ہر ایک بات کا۔ شاہ میر مسکراکر کہتا مہرماہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور اُس کی کلائی میں گجرے پہنانے لگا

محبت کے تحفوں میں وقت اور عزت کے بعد

گجرے سب سے انمول تحفہ ہے

شاہ میر لال پھولوں کے گجرے مہرماہ کی دونوں کلائی میں پہناکر باری باری وہاں پہ بوسہ دیا مہرماہ کی آنکھیں نم ہوگئ تھی اس کو سمجھ نہیں آتا تھا کہ شاہ میر اس کی کونسی نیکی کا پھل ہے۔

کیا ہوا آپ کو اچھا نہیں لگا۔ شاہ میر مہرماہ کی آنکھوں میں نمی محسوس کرتا فکرمندی سے پوچھنے لگا جس پہ مہرماہ مسکرائی اور اپنا سر شاہ میر کے چوڑے سینے پہ رکھا شاہ میر کو مہرماہ کی حرکت پہ خوشگوار حیرت ہوئی وہ مسکراتا مہرماہ کے گرد اپنا حصار قائم کرنے لگا

ضروری نہیں ہوتا شاہ کے اگر انسان کی آنکھوں میں نم آئے تو وہ اُداس ہو یا اس کو کوئی بات بری لگی ہے کبھی کبھی انسان اتنا زیادہ خوش ہوتا ہے نہ کے اس کی آنکھوں میں نمی اُتر آتی ہے۔ مہرماہ نے شاہ میر کے سینے پہ سر رکھے ویسے ہی کہا تو شاہ میر نے اپنے لب مہرماہ کے بالوں میں رکھے۔

شاہ تم مجھے اتنے کیوں چاہتے ہو؟ مہرماہ نے اپنا سر اٹھاکر شاہ میر سے پوچھا۔

وہ تو مجھے خود نہیں پتا میرے لیے تو عشق کا نام اور مطلب میری ماہ ہے۔ شاہ میر کندھے اُچکاکر بولا۔

میں تم سے چار سال بڑی ہوں۔ مہرماہ نے کہہ کر شاہ میر کے چہرے کے تاثرات دیکھنے چاہے جو پہلے جیسے ہی تھے۔

تو کیا ہوا محبت میں عمر کا کیا کام وہ تو انسان کی روح سے ہوتی نہ کہ وجود سے اِس لیے آپ مجھ سے بڑی ہو یا خوبصورت نہ بھی ہوتی میں نے آپ کو ہی چاہنا تھا کیونکہ میں اِس دنیا میں آیا ہی آپ سے عشق کرنے کے لیے ہوں۔ شاہ میر نے آخر میں مہرماہ کو دیکھ کر ایک آنکھ ونک کی تو مہرماہ نے اس کے بازوں پہ ایک ہلکا تھپڑ رسید کیا

بہت بولنے لگے ہوتم۔ مہرماہ نے اپنا مخصوص جُملا دوہرایا جس پہ شاہ میر اِس بار ہنس پڑا۔

آپ کو پتا ہے جو مرد زیادہ نہیں بولتے نہ وہ اپنی پسندیدہ عورت کے سامنے بہت بولتے ہیں اور آپ میری پسندیدہ عورت میرا عشق ہے اِس لیے آپ سے جتنی بھی باتیں کروں ختم ہی نہیں ہوتی اور نہ دل بھرتا ہے۔ شاہ میر کندھے اچکاکر بولا۔

دل بھرنا چاہیے بھی نہیں۔مہرماہ نے شاہ میر کے دل پہ ہاتھ رکھ کر کہا۔

بے فکر رہے نہیں بھرے گا۔شاہ میر مسکراکر کہتا مہرماہ کو اپنے قریب کرگیا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

ثانیہ کو جوائنگ لیٹر مل گیا تھا اور آج پیر کا دن تھا یعنی اس کی جاب کا پہلا دن جس کے لیے وہ خوش بھی تھی تو کجھ پریشان بھی پر وہ خود کو سنبھالتی آفس آگئ تھی جہاں پہچتے ہی اس کو بوس کے آفس جانے کا کہاگیا جس پہ ثانیہ اپنا دل مضبوط کرتی کیبن کے باہر کھڑی دروازہ نوک کرنے لگی۔

آجائے۔بھاری آواز سن کر اس کا دل اچھل کر حلق تک آگیا تھا۔

مس ثانیہ افتخار آئے بیٹھے۔ شاہ زیب نے لیپ ٹاپ پہ سے نظر اٹھائی تو اس کی نظر ثانیہ پہ پڑی جو آج بھی خود کو کالی چادر میں چھپائے ہوئے تھی اس کو دیکھ کر شاہ زیب کو عجیب سی خوشی محسوس ہوئی۔

شکریہ سر۔ ثانیہ بیٹھ کر بولی۔

تو آج جیسے کے آپ کا فرسٹ ڈے ہے تو میں آپ کا ویلکم کرتا ہوں امید ہے کہ آپ اپنا کام جلدی سیکھ جائے گی اور اپنی ذمیداری اچھے سے سنبھالیں گی۔ شاہ زیب نے ثانیہ سے کہہ کر تائید کرتی نظروں سے اس کی جانب دیکھا۔

جی سر میں پوری ایمانداری سے اپنا کام کروں گی آپ کو کوئی شکایت کا موقع نہیں ملے گا۔ ثانیہ نے جلدی سے کہا۔

گڈ تو اب ہم پہلے سیلری کی بات کرتے ہیں پھر کام کی بات پہ۔ شاہ زیب بات بڑھانے کے غرض سے بولا جس پہ ثانیہ نے بس سرہلانے پہ اکتفا کیا۔

ابھی آپ نیو ہے اور ہیں بھی میری اسسٹنٹ تو فلحال آپ کی سیلری چالیس ہزار ہوگی اگر آپ اپنا کام اچھے سے کریں گی تو سیلری بڑھنے کے چانس بھی موجود ہے۔چالیس ہزار سیلری کا سن کر ثانیہ کا وجود جھٹکوں کی زد میں آگیا تھا اس کو سمجھ نہیں آیا کہ وہ کیسا ری ایکٹ کریں بیشک اللہ نے اس کو بہت سی آزمائشوں کے بعد اب نواز رہا تھا کہاں وہ دس ہزار کی جاب اور اب کہاں چالیس ہزار مہانہ اِس سے تو ان کے گھر کے سارے مسائل حل ہوسکتے تھے ثانیہ کا دل بے اختیار چاہا کہ یہی پہ سجدہِ شکر ادا کریں۔

جی سر میں سمجھ گئ۔ بہت دیر بعد ثانیہ بس یہی بول پائی۔

ٹھیک میں میرے مینجر سے کہتا ہوں وہ آپ کو آپ کا کام بتائے گے اور آپ کو جس چیز کی سمجھ نہ آئے آپ ان سے پوچھ سکتی ہیں۔شاہ زیب نے کہا اور انٹرکام پہ ایک نمبر ڈائل کرنے لگا دوسری طرف تشکر کی حالت میں ثانیہ کی آنکھیں بار بار بھیگ رہی تھی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

یہ اتنی بڑی بات امی مجھے آپ اب بتارہی ہیں پہلے کیوں نہیں بتائی جب میں یہاں آتی جاتی تھی تو۔ مہرماہ کو جب سارہ بیگم نے حور اور شاہ زیب کی شادی نہ ہونے کا بتایا تو اُس نے ناراض بھرے لہجے میں کہا۔

تمہاری بھی نئی نئی شادی ہوئی تھی اس لیے سوچا تمہیں پریشان نہیں کیا جائے۔سارہ بیگم نے وجہ بتائی۔

تو کیا میں اب پریشان نہیں ہوئی یہ کارڈ دیکھ کر۔ مہرماہ نے ٹیبل پہ پڑا کارڈ ان کی جانب کرکے بتایا۔

آپ تو اب بھی نہ بتاتی اگر میں یہ کارڈ نہ دیکھ لیتی تو چچی جان کا کہنا تھا یہ بہت پہلے سے زین اور حور کی شادی کی تیاریاں ہورہی ہے۔ مہرماہ نے ہنوز ناراض لہجے میں کہا۔

مہرماہ اب چھوڑو ایسی باتیں جن کے کرنے سے کوئی فائدہ نہیں تم بس اپنا چہرہ ٹھیک کرو اور ہاں تم نے حور کی شادی پہ جانا ہے اور بلکل ویسے ہی رہنا بات کرنا ہے جیسے پہلے کیا کرتی تھی ویسے بھی زیب اور حور کا رشتہ کونسا زیادہ پرانہ تھا بس ہم بڑوں نے ایسے بات کی تھی جو اب ختم ہوگئ۔ سارہ بیگم نے مہرماہ کو سمجھایا۔

پھر بھی زیب کو تو بتانا چاہیے تھا مجھے میری شادی کیا ہوگئ آپ لوگوں نے تو پرایا ہی کردیاں مجھے۔ مہرماہ کی سوئی ابھی تک وہی اٹکی ہوئی تھی کے اس کو بتایا کیوں نہیں گیا۔

کسی کی اتنی ہمت کے میری بیٹی کو پرایا کریں۔ سکندر خان جو باہر سے آرہے تھے مہرماہ کی آخری بات سن کر پوچھنے لگے۔

رہنے دیں ابا جان آپ جان آپ بھی ان سے ملے ہوئے ہیں۔مہرماہ نے اپنی آنکھیں گھماکر کہا جس پہ سکندر خان کے چہرے پہ مسکراہٹ آگئ

شرم کرو باپ سے کوئی ایسے بات کرتا ہے۔ سارہ بیگم نے اس کے بازوں پہ تھپڑ مار کر کہا۔

امی جان میری شادی ہوگئ ہے اب آپ مجھے ایسے نہیں مارسکتی۔ مہرماہ نے یاد کروایا کہ وہ اب شادی شدہ ہے۔

عقل تو پھر بھی نہیں آئی۔ سارہ بیگم نے تاسف سے اس کی جانب دیکھ کر کہا۔

شاہ ہوتا تو میں دیکھتی آپ کیسے مجھے ایسے مارتی۔ مہرماہ کو کجھ اور نہ سوجھا تو ان کو شاہ میر کا ڈر دیا جس پہ سکندر خان کے اب سارہ بیگم بھی ہنس پڑی۔

دیکھ لیں بیٹیان شوہر کو اپنے ماں باپ کا ڈر دیتی ہیں اور ایک ہماری مہرو ہے جو ماں باپ کو شوہر کا ڈر دیں رہی ہے۔ سارہ بیگم نے سکندر خان سے کہا۔

مہرو ناراضگی ختم کرو بس ہمیں تمہیں پریشان نہیں کرنا چاہتے تھے۔ سکندر خان نے اب کی نرمی سے سمجھایا۔

اچھا آپ کہتے ہیں تو مان لیتی ہوں۔ مہرماہ نے مسکراکر کہا۔

بیگم جاکر ہمارے لیے کافی بنانے کا کہے کلثوم بی سے۔ سکندر خان نے سارہ بیگم کو مخاطب کیا۔

میں بناکر آتی ہوں۔ مہرماہ اپنی جگہ سے کھڑی ہوتی ہوئی بولی۔

کلثوم بی بنادیں گی۔ سارہ بیگم نے کہا۔

میں بھی اچھی بناتی ہوں کافی۔ مہرماہ کہہ کر کچن کی طرف بڑھ گئ سارہ بیگم بس اس کی پشت دیکھتی رہ گئ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *