Ishq Qaid Season 2 by Rimsha Hussain NovelR50563 Ishq Qaid Season 2 (Episode 13)
Rate this Novel
Ishq Qaid Season 2 (Episode 13)
Ishq Qaid Season 2 by Rimsha Hussain
ویر
ویر
ثانیہ ہاتھ میں دودہ کا گلاس لیے پورے گھر میں شاہ ویر کو تلاش کررہی تھی جو جانے کس کونے میں چُھپا بیٹھا تھا۔
اسلام علیکم !مرجان گھر میں اندر داخل ہوتا ہوا ثانیہ کو دیکھ کر سلام کیا یہ عادت مہرماہ نے اس میں ڈالی تھی کہ جب کی بڑوں سے ملو تو پہلے سلام کیا جاتا ہے۔
وعلیکم اسلام !کیسے ہو مرجان۔ثانیہ مسکراتی مرجان کو سلام کا جواب دیتی ہوئی بولی جب کی لاوٴنج میں ڈبل صوفے کے پاس چھپا شاہ ویر الرٹ ہوا تھا اور اپنا چھوٹا ہاتھ پیشانی پہ مارا۔
اِس کو ابھی آنا تھا۔شاہ ویر اپنی چھوٹی پیشانی پہ بل ڈالے خود سے بڑبڑایا۔
میں ٹھیک مامی جان ویر کہاں ہیں؟مرجان نے پوچھا
میں خود اُس نالائق کو ڈھونڈ رہی تھی۔ثانیہ پریشان سی بولی تبھی شاہ ویر اپنا سر اونچا کرتا ان کو دیکھنے لگا۔
وہ رہا ویر۔مرجان نے دیکھا تو فورن سے کہا جس سے ثانیہ نے اس کے ہاتھ کے تعاقب میں دیکھا جہاں شاہ ویر کھسیانا ہوکر کھڑا ہوگیا تھا۔
ویر اِدھر آؤ دودہ پیو۔ثانیہ نے جلدی سے کہا۔
موم مجھے نہیں پسند یہ دودہ میں اب بڑا ہوگیا ہوں۔شاہ ویر منہ بگاڑتا ہوا بولا۔
بڑے کے کجھ لگتے یہ فنش کرو۔ثانیہ نے گھور کر اس کو دودھ کا گلاس پکڑایا۔
مرجان تم بیٹھو میں تمہارا فیورٹ انار کا جوس لیکر آتی ہوں۔ثانیہ نے پیار سے مرجان سے کہا جس پہ وہ مسکراتا صوفے پہ بیٹھ گیا۔
تم نے موم کو کیوں بتایا یہ دیکھو اب مجھے یہ سارا پینا پڑے گا۔شاہ ویر نے مرجان سے ناراض لہجے میں کہا۔
تو پیوں نہ مما کہتی ہے دودہ سے طاقت آتی ہے۔مرجان نے سمجھایا
پر مجھے اِس کا ٹیسٹ نہیں پسند۔شاہ ویر نے وجہ بتائی۔
کجھ نہیں ہوتا پی لوں ویسے بھی مامی جان تمہارے دودہ میں بہت سارے بادام اور پستا ڈالتی ہیں تاکہ تمہیں پسند آئے۔مرجان نے پھر کہا تو شاہ ویر منہ کے الگ الگ زاویئے بناتا سارا گلاس دودہ کا خالی کرگیا۔
گڈ بوائے۔مرجان نے مسکراکر اس کے گال کھینچے جس پہ شاہ ویر مسکرایا۔










شاہ میر کمرے میں آیا اور سوئی ہوئی حیات کو خوبصورت سے گلابی کارٹ میں ڈالا جس میں اس نے لائٹس لگائی ہوئی تھی تاکہ حیات کو اگر رات میں جاگ ہو تو وہ اُس میں اپنے ہاتھ ڈال کر ساری لائٹس آن کریں جو اس کے ٹچ ہونے سے ہی جگمگا جاتی دوسرا ان میں شور ہوتا جس سے شاہ میر کو پتا لگ جاتا اس کے جاگنے کا کیونکہ حیات کو رونے کی عادت نہیں تھی رات میں جتنی بھی بھوک لگتی وہ کارٹ میں لیٹی رہتی اِس لیے شاہ میر نے یہ حل تراشا تھا۔شاہ میر نے حیات کو کارٹ میں ڈالا پھر مہرماہ کو دیکھا جو سنجیدہ تاثرات لیے بیڈ پہ پاؤں لٹکا کر بیٹھی ہوئی تھی۔شاہ میر چلتا ہوا اس کے برابر بیٹھا تو مہرماہ اٹھ کھڑی ہوئی اس سے پہلے وہ قدم آگے بڑھاتی شاہ میر نے اس کی کلائی پکڑ کر اپنی تھائی پہ بیٹھایا۔
اپنی لاڈلی کے پاس جاؤ۔مہرماہ نے سرد لہجے میں کہا جس پہ شاہ میر نے مسکراکر اس کا ناراض لہجہ دیکھا
آپ بھی تو میری لاڈلی ہیں۔شاہ میر نے اس کے گال پہ ہاتھ رکھ کر کہا۔
پہلے مجھے بھی یہ خوشفہمی تھی پر اللہ کا شکر اب دور ہوگئ ہے۔مہرماہ طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا تو شاہ میر کا دل تڑپ اٹھا تھا۔
ماہ کیا ہوگیا ہےکیوں ایسے بات کررہی ہیں۔شاہ میر پریشان ہوتا ہوا بولا۔
تھک گئے ہوگے آفس میں بہت کام ہوتا ہے شام کو گھر آئے ہو اور حیات کو سنبھال رہے تھے رات بہت ہوگئ ہے آرام کرو۔مہرماہ نے بنا اس کی طرف دیکھ کر کہا۔
یہ میرے سوال کا جواب نہیں۔شاہ میر مہرماہ کے چہرے اپنی طرف کیا مگر مہرماہ کی۔آنکھوں میں نمی دیکھ کر وہ بونچکار کہ رہ گیا۔
آپ رو رہی ہیں۔شاہ میر مہرماہ کی آنکھوں میں نمی صاف کرتا بولا۔
تم مجھے وقت نہیں دیتے صبح آفس چلے جاتے ہو سات بجے آتے ہو پھر حیات میں مصروف ہوجاتے ہو اِس میں ماہ تو کہیں نہیں ہوتی اب مجھے سچ میں پچھتاوا ہوتا ہے حیات کیوں اِس دنیا میں آئی تم سہی کہتے تھے ہمارے لیے مرجان ہی کافی تھا۔جلدبازی میں مہرماہ کیا کجھ کہہ گئ اس کو خود اندازہ نہیں ہوا احساس تب ہوا جب شاہ میر کی بلو آنکھوں میں خون اُتر آیا تھا۔
شاہ۔مہرماہ نے کجھ کہنا چاہا پر شاہ میر نے ہاتھ سے اِشارے سے روک لیا۔
مجھے نہیں تھا پتا ماہ کہ آپ اپنی بیٹی کے بارے میں ایسا سوچتی ہے اس کے پیدا ہونے پہ آپ کو افسوس ہوتا ہے یہ جانتے ہوئے بھی کے وہ میرے لیے یہ اہمیت رکھتی ہے۔شاہ میر کو مہرماہ کی بات نے بہت تکلیف پہچائی تھی حلانکہ مہرماہ جلدبازی میں کہہ گئ تھی ورنہ کون ماں اپنی اولاد کے بارے میں ایسے کہے گی وہ بس کجھ وقت سے شاہ میر کی روٹین سے تنگ آگئ تھی جس سے شاہ میر مرجان اور حیات کو تو وقت دے پاتا پر مہرماہ کو کبھی کبھی نہیں دے پاتا تھا۔
سوری شاہ پر میرا وہ مطلب نہیں تھا بس منہ سے نکل گیا۔مہرماہ کی آنکھوں میں بے ساختہ آنسو نکلے تھے جس سے شاہ میر کا دل فورن سے پگھلا تھا۔
ماہ میری غلطی ہے مجھے آپ کو وقت دینا چاہیے پر آپ ناراض نہ ہو میں کل آف لوں گا آفس سے پھر ہم باہر چلیں گے حیات کو ہم گھر پہ رہنے دے گے بس میں اور آپ ہوگے۔شاہ میر نے آرام سے سارا الزام خود پہ لیکر کہا
ٹھیک ہے مجھے شاپنگ مال بھی جانا ہے پھر ہم لنچ بھی باہر کریں گے آئسکریم پارلر بھی جائے گے۔مہرماہ خوش ہوتی سارا پلان ترتیب دیتی ہوئی بولی۔
بلکل میری جان۔شاہ میر مہرماہ کو خود سے لگائے بولا۔





شاہ میر حیات کو ہانم بیگم کے حوالے کرتا جیسے ہی گاڑی میں بیٹھا تو مہرماہ کی گود میں مرجان کو دیکھ کر اس کا موڈ بگڑا تھا۔
یہ یہاں کیا کررہا ہے۔شاہ میر نے مہرماہ سے پوچھا۔
بیٹا ہے تمہارا۔مہرماہ نے ایسے کہا جیسے شاہ میر جانتا نہ ہو۔
اوو واقع یہ میرا بیٹا ہے میں تو لاعلم تھا چار سالوں سے۔شاہ میر کو اچھی خاصی تپ چڑھی
شاہ ٹائم ویسٹ نہیں کرو مرجان کو مجھے اُس کی پسند کے کِھلونے لیکر دینے ہیں اب اس کا اسکول میں ایڈمیشن کروانا ہے تو اسکول کی چیزیں بھی لینی ہے۔مہرماہ نے گھور کر شاہ میر سے کہا جس پہ شاہ میر جو سیٹ بیلٹ باندھنے والا تھا اس کو ہٹاتا گاڑی کا درواز کھولنے لگا۔
اب تم کہاں جارہے ہو؟مہرماہ نے اس کا ارادہ جان کر پوچھا۔
حیات اور ویر کو لینے پھر آپی پری سے بھی کہوں گا کہ پریسہ کو تیار رکھے جاتے ہوئے اس کو ہم اپنے ساتھ لیکر جائے گے۔شاہ میر نے بڑی سنجیدگی سے کہا مرجان اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے کبھی مہرماہ کو تکتا تو کبھی شاہ میر کو۔
اچھا مذاق ہے پر کیا اور وقت نہیں ملا۔مہرماہ نے طنزیہ کہا۔
مذاق تو آپ میرے ساتھ کررہی ہیں کل شکوہ کررہی تھی کہ میں آپ کو وقت نہیں دیتا اور اب آپ کیا کررہی ہیں۔شاہ میر نے کہا۔
شاہ مرجان کے پاس ایک بھی کِھلونا نہیں جو تم نے لاسٹ ٹائم مرجان کو ریموٹ کنٹرولر کی گاڑی لیکر دی تھی نہ حیات نے اس کا ریموٹ واشروم کے ٹپ میں پھینک دیا تھا جب کی سیل نکال کر اپنی ڈول کے ریموٹ میں ڈالے جو تم نے مرجان کے وقت شاپنگ کی تھی تو ڈول لی تھی جو ریموٹ کنٹرولر تھی گاڑی کے سارے شیشے توڑ کر رکھ دیئے تھے۔مہرماہ نے صلح انداز میں مرجان کی دکھ بھری کہانی بیان کی شاہ میر نے مرجان کو دیکھا جو معصومیت سے اس کو دیکھ رہا تھا شاہ میر کے تاثرات یکدم ڈھیلے پڑے تھے
اب اِس کو پلاسٹک کے کِھلونے لیکر دے گے۔شاہ میر گاڑی پورچ سے نکالتا گیٹ سے پار کرتا مہرماہ سے بولا۔
تمہاری بیٹی نے ان کو بھی سلامت نہیں چھوڑنا میں نے ہی اب اور ٹھیک سے مرجان کی چیزیں سنبھال کے رکھنی ہے۔مہرماہ نے مرجان کے کالے سلکی بالوں میں ہاتھ پھیر کر کہا۔
بچہ نہیں ماشااللہ سے چار سال کا ہے خود خیال کریں نہ اپنی چیزوں کا پھر الزام حیات پہ ڈال دیتے ہو وہ تو بچی ہے جو دیکھے گی اس کو اپنے طریقے سے استعمال کرے گی۔شاہ میر نے بھرپور طریقے سے حیات کی حمایت کی جس پہ مہرماہ نے اپنا دھیان ونڈو کے پاس کیا۔
شیشہ بند کردے آپ کو فلو ہوجائے گا اور مرجان کا کیا ہی کہنا وہ تو ہے ہی نازک مزاج۔شاہ میر نے باہر سے آتی تیز ہوا محسوس کیے مہرماہ سے کہا
شاہ تم مرجان پہ طنزیہ نہیں کیا کرو۔مہرماہ برا مان کر بولی۔
بیٹا ہے میرا جو مرضی کہوں۔شاہ میر ایک ہاتھ سے ڈرائیو کرتا دوسرے ہاتھ سے مرجان کا گال کھینچ کر بولا جس پہ مہرماہ مسکرائی اور ونڈو کا شیشہ اوپر چڑھایا کیونکہ اس کو اپنی نہیں مرجان کی فکر تھی۔








ویر تم کیا پوری دنیا کے سونے کے بعد سوؤگے؟شاہ زیب تنگ آتا پاس لیٹے شاہ ویر سے بولا جو رات کے گیارہ بجے اس کو اپنے آج دیکھے ہوئے کارٹون کے بارے میں بتارہا تھا۔
ڈیڈ سنے تو آگے کیا ہوا۔شاہ ویر اپنا ننہا ہاتھ شاہ زیب کے چہرے پہ رکھ کر تجسس بھرے انداز میں بولا۔
میرا بیٹا اب سونے کی کوشش کرو۔شاہ زیب نے اس کو پچکارنا چاہا پر وہ یہ بھول گیا تھا وہ بھی اس کا ہی بیٹا تھا۔
نو ڈیڈ پہلے میری بات سنے۔شاہ ویر اٹل انداز میں بولا جس پہ شاہ زیب نے گہری سانس لی پر ثانیہ مسکراکر ان کو دیکھ رہی تھی۔
تم تو سوجاؤ نہ صبح جلدی اٹھتی ہو۔شاہ زیب نے شاہ ویر کے بالوں میں ہاتھ پھیر کر ثانیہ سے کہا۔
ویر سوجائے پھر سوتی ہوں۔ثانیہ نے سادہ لہجے میں کہا۔
آج کی تاریخ میں اِس کے سونے کے آثار لگ تو نہیں رہے۔شاہ زیب ٹھنڈی سانس خارج کرتا بولا۔
ویر اب سوجاؤ اچھے بچے ڈیڈ کو تنگ نہیں کرتے۔ثانیہ بیڈ کی دوسری سائیڈ آتی بولی جب کی شاہ ویر درمیان میں لیٹا ہوا تھا۔
جیسے مرجان نہیں کرتا؟ویر نے تصدیق چاہی۔
بلکل۔ثانیہ نے کہا تو ویر فورن سے اپنی آنکھوں کو بند کرگیا ثانیہ نے مسکراکر اس کے سینے پہ ہاتھ رکھا تو شاہ زیب نے اس کے ہاتھ پہ اپنا مضبوط ہاتھ رکھ دیا۔








تمہاری بیٹی ماہا تو کمزور ہوتی جارہی ہے اور بھی۔شاہ میر نے فکرمندی سے ریان سے کہا وہ لیپ ٹاپ پہ ویڈیو کال پہ ریان سے باتیں کررہا تھا ریان کی ایک سائیڈ پہ اس کی بیٹی ملیحہ تھی اور گود میں ریان کے دوسری بیٹی ماہا تھی جو ریان کے چہرے پہ اپنا ہاتھ رکھ رہی تھی۔
میر کیا کہوں میں خود ماہا کے لیے فکرمند ہوتا ہوں ایک سال کی تھی بیڈ سے نیچے گِرگئ تھی اس کے بعد اکثر بیمار رہنے لگی تھی جس سے ماہا کی گروتھ ٹھیک سے نہیں ہوئی ہے تو یہ دونوں جڑواں پر ملیحہ پھر بھی ماہا کے لحاظ سے ٹھیک ہے۔ریان پریشان ہوکر بولا۔
فکر نہیں کرو تین سال کی ہے ابھی آہستہ آہستہ ٹھیک ہوجائے گی پیاری ہے نہ بہت نظر لگ گئ ہوگی۔شاہ میر نے مسکراکر اس کو تسلی کروائی
پیاری تو تمہاری بیٹی بھی ہے۔ریان نے حیات کو دیکھ کر کہا جو شاہ میر کے پاس ہی تھی اور بار بار اپنے ننہے ہاتھ لیپ ٹاپ کی اسکرین پہ رکھ رہی تھی۔
میری بیٹی تو شرارتی بھی بہت ہے۔شاہ میر ہنس کے بولا۔
ماہا ملیحہ بھی کم نہیں۔ریان کانوں کو ہاتھ لگاتا ہوا بولا
تمہارا بیٹا کہاں ہے؟شاہ میر نے پوچھا کیونکہ اس کا ایک سال کا بیٹا بھی جس کا نام ولی تھا
مہرین کے ساتھ باہر گیا ہے۔ریان نے بتایا
ماہا جو ہے وہ ملیحہ سے قد میں چھوٹی ہوگی۔شاہ میر نے اسکرین پہ ماہا کو دیکھ کر کہا
ہاں ایک جتنی ہوتی پر ماہا کے ساتھ حادثہ پیش آیا جس وجہ سے وہ ایسے ہوگئ ہے ورنہ میری بیٹی ٹھیک ہے۔ریان ماہا کے سر پہ پیار کرتا ہوا بولا۔
علاج کروایا کرو۔شاہ میر نے کہا
یہاں کے بیسٹ ڈاکٹرز کو دیکھایا ہے۔ریان نے بتایا۔
پھر فکر نہیں کرو۔شاہ میر نے کہا تو ریان نے سرکو اثبات میں ہلایا۔







ویر چپ چاپ بیٹھو۔ثانیہ نے گھور کر شاہ ویر کو دیکھا وہ آج شاہ ویر کی ضد پہ حیدر خان کی طرف آئی تھی۔
مت ڈانٹو اِسے۔مہرماہ نے ٹوکا
حیات آؤ ہم لان میں چلیں۔شاہ ویر نے حیات سے کہا جو نقلی اسکوپ پہنے اب شاہ میر کا علاج کررہی تھی شاہ میر حیات کے لیے میڈیکل کی چیزیں لایا تھا وہ چاہتا تھا حیات بڑی ہوکر ڈاکٹر بنے اس لیے شاہ میر نے اِس بار اس کے کھلونے بھی ایسے لایا جس سے حیات بہت خوش تھی اپنے نئے کھلونے دیکھ کر۔
می دید علاد۔حیات شاہ میر کے ماتھے پہ اپنا چھوٹا ہاتھ رکھتی شاہ ویر سے بولی۔
پہلے چلنا تو سیکھو پھر اپنے ڈیڈ کا علاج بھی کرنا۔مہرماہ نے حیات سے کہا جس نے کوئی دھیان نہیں دیا۔
میری بیٹی مستقبل کی مشہور اور کامیاب ڈاکٹر بنے گی۔شاہ میر حیات کو اپنے ساتھ لگاکر کہا جس پہ حیات نے اپنا سر زور شور سے ہلایا
مریض تو مستقبل کی ڈاکٹر حیات میر سے پناہ مانگے گے۔آیان شاہ میر کی بات پہ بڑبڑایا
تم سے زیادہ ہوشیار ہے میری بیٹی۔شاہ میر کے کانوں سے آیان کی بڑبڑاہٹ منفی نہ رہ سکتی۔
میں مستقبل کا سوفٹ ویئر انجنیئر ہوں۔آیان جلدی سے بولا۔
بڑے تیر مار لینے ہے تمہیں ایپس بناکر۔شاہ میر نے اس کی بات پہ کہا جس پہ آیان دل مسوس کرتا رہ گیا۔










آپ ماں ہے اپنی بیٹی کو سمجھائے استاد سے کیسے پیش آیا جاتا ہے۔پرنسپل نے مہرماہ سے کہا جس کا چہرہ شرمندگی کے احساس سے سرخ ہوگیا تھا پاس ہی چار سالہ حیات کھڑی تھی۔
میم میری غلطی نہیں تھی۔حیات نے اپنا دفاع کرنا چاہا پر مہرماہ کی ایک گھوری سے اس کی چلتی زبان کو بریک لگی۔مہرماہ کو آج حیات کے اسکول سے فون آیا تھا جس میں پرنسپل نے اس کو آنے کا کہا حیات کو اسکول میں داخلہ لئے پانچ ماہ ہوئے تھے پر آئے دن حیات کی کوئی نہ کوئی شکایت محصول ہوتی پر پرنسپل ہمیشہ شاہ میر کو کال کرتی تھی پر آج اس کا نمبر بند تھا جس وجہ سے انہوں نے مہرماہ کو کال پہ یہاں آنے کا کہا یہاں آکر مہرماہ کو جو سننے میں ملا اُس میں وہ شرمندہ ہوکر رہ گئ تھی حیات نے اپنی ایک کلاس فیلو کے بال قینچی سے کاٹ دیئے تھے جب ٹیچر نے سخت لہجے میں پوچھا تو جواب میں کہنے لگی کہ اِس لڑکی سے پوچھو جس سے ٹیچر نے نجانے کیا کہا تو حیات شاہ میر کی دھمکیاں دینے لگی تو ٹیچر اس کا ہاتھ پکڑتی پرنسپل کے آفس میں لائی تھی اور سارا کجھ ان کے گوش گزار دیا۔
چلو تم گھر۔مہرماہ حیات کا ہاتھ پکڑتی باہر گاڑی میں بیٹھایا خود اس نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی۔
مما میری کوئی غلطی نہیں تھی۔حیات اپنے چوٹیوں کو آگے پیچھے کرتی وضاحت دینی چاہی پر مہرماہ کا کوئی موڈ نہیں تھا آج بات اس کی پرورش پہ آئی تھی جس وجہ سے وہ بہت غصے میں تھی مہرماہ ریش ڈرائیو کرتی گھر میں داخل ہوئی تھی حیات جلدی سے مہرماہ کے پیچھے لپکی۔
مما لیسن۔حیات نے مہرماہ کو آواز دی۔
ارے حیات تم اسکول سے اتنی جلدی آگئ۔ہانم بیگم حیرت سے استفسار کرنے لگی۔
دادو ٹیچر نے میری غلط شکایت مما سے لگائی جس وجہ سے مما مجھ سے ناراض ہے۔حیات نے مہرماہ کی طرف اشارہ کرکے بتایا جو چکر کاٹتی گہرے سانس لے رہی تھی۔
حیات اوپر جاؤ ورنہ میں بہت برا پیش آؤں گی۔مہرماہ نے کڑے تیوروں سے حیات کو دیکھا جو اپنی غلطی مان نہیں رہی تھی ورنہ شاہ میر کے سامنے بڑے فخر سے اپنا کارنامہ بتاتی تھی۔
مما مجھے کجھ بولنے کے موقع تو دے۔حیات نے اپنی ننہی ناک پھلاکر کہا۔
سنا نہیں تم نے میں کیا بکواس کررہی ہوں۔مہرماہ نے حیات کا نازک بازوں سختی سے دبوچ کر کہا ہانم بیگم اس کو ہٹانے والی تھی پر جو منظر انہوں نے دیکھا بے ساختہ ان کا ہاتھ دل پہ ہڑا۔
مما یو ہرٹ حیات یو آر ڈرٹی۔حیات اپنا بازوں آزاد کرنے کی کوشش کرتی مہرماہ سے بولی وہ جو پہلے ہی غصے میں تھی حیات کی بات پہ کھینچ کر زوردار تھپڑ اس کے نازک رخسار پہ جڑدیا تھا جس سے حیات اپنا توازن برقرار نہ رکھ پاکر فرش پہ گِرپری پڑی مگر یہ ہولناک منظر اندر آتے شاہ میر نے بھی دیکھ لیا تھا
مہرماہ!!!
شاہ میر نے دھاڑ کی آواز میں مہرماہ کا نام لیا تھا جس سے مہرماہ کا دل اچھل کر حلق تک آگیا تھا حیات جو اپنے گال پہ ہاتھ رکھ کر آنکھیں پھاڑ کر مہرماہ کو دیکھ رہی تھی اپنے باپ کی آواز سن کر وہ اٹھتی بھاگ کر شاہ میر کی ٹانگوں سے چپک گئ تھی شاہ میر حیات کو کانپتا دیکھ کر فورن سے اس کو اپنے بازوں میں اٹھایا تھا شاہ میر کی آنکھیں سرخ ہوگئ تھی حیات کی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو دیکھ کر حیات کبھی روتی نہیں تھی پر آج اس کو روتا دیکھ کر شاہ میر کو اپنا دل مٹھی میں جکڑتا محسوس ہوا تھا آج اس کی ضروری میٹنگ تھی جس وجہ سے اُس نے اپنا فون بند کررکھا تھا میٹنگ کے بعد جب اس نے اپنا فون آن کیا تو حیات کے اسکول سے کالز دیکھ کر کال بیک کی تھی جس سے وہ ساری بات جان گیا تھا اس لیے وہ گھر آکر حیات کو مہرماہ کے غصے سے بچانا چاہتا تھا اور خود اکیلے اس کو سمجھانے کا سوچا وہ جانتا تھا مہرماہ غصے میں ہوگی پر شاہ میر کو مہرماہ سے اتنے شدید عمل کی توقع نہیں تھی کے وہ اس کی نازک پھولوں جیسی بیٹی پہ ہاتھ اٹھائے گی۔
میرا بہادر بچہ روتے نہیں۔شاہ میر دیوانہ وار حیات کا چہرہ چومتا اس کو بہلانے لگا جو اب ہچکیاں لیکر رو رہی تھی مہرماہ کا سارا غصہ جھاگ کی مانند بیٹھ گیا تھا مہرماہ چلتی شاہ میر سے حیات کو لینا چاہا اس کو شدت سے اپنی غلطی کا احساس ہوا تھا کہ وہ غصے میں کیا کرگئی تھی جس سے وہ یہ بھی محسوس نہیں کرپائی کے آج زندگی میں پہلی بار اس کو ماہ کے بجائے مہرماہ کہا تھا دوسرا وہ زور سے اس پہ چیخا تھا اس کی تو ممتا تڑپ اٹھی تھی حیات کو روتا دیکھ کر پر اس کو حیرت کا شدید جھٹکا تب لگا جب وہ حیات کو اپنے پاس کرنا چاہا تو شاہ میر نے حیات کو پیچھے کردیا تھا۔
آج کے لیے اتنا کافی ہے آپ جو آج کیا نہ میں اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔شاہ میر حیات کا چہرہ صاف کرتا سرد لہجے میں مہرماہ سے بولا مہرماہ گنگ سی اپنے لیے شاہ میر کا سرد سپاٹ اندر نوٹ کررہی تھی اس کو کہاں عادت تھی شاہ میر کے ایسے رویئے کی۔
شاہ وہ آ
مہرماہ نے کجھ کہنا چاہا پر حیات پہلے ہی شروع ہوگئ اس کے اندر ڈر بیٹھ گیا تھا کے اگر وہ نہ بولی تو شاہ میر بھی اس کو مارے گا۔
ڈیڈ کلاس میں لڑکی نے میرے بالوں میں ببل چپکائی تھی۔حیات نے اپنی چوٹی شاہ میر کو دیکھائی جہاں چونگم چپکا ہوا تھا جو مہرماہ نے نہیں دیکھا تھا شاہ میر غور سے حیات کو دیکھنے لگا وہ جانتا تھا حیات جھوٹ نہیں بولتی تھی اگر کجھ کر بھی دیتی تو مان لیتی تھی۔
پھر میرے بچے نے کیا کیا۔شاہ میر نے بے حد نرمی سے پوچھا
ڈیڈ آپ نے بولا تھا نہ کلاس میں نو شرارت تو میں نے اس کی شرارت پہ دھیان نہیں دیا پھر اس نے میرا ہوم ورک والا پیج پھاڑ دیا میں نے اس لیے اس کے بال کاٹ دیئے ایک تو پہلے اس نے میرے بال خراب کردیئے دوسرا ہوم ورک بھی جس سے میں نے برداشت نہیں کیا۔یہ سنتے ہوئے مہرماہ کو حیات کہی سے بھی چار سال کی نہیں لگی۔
ڈیڈ کو اپنی ڈول پہ یقین ہے۔شاہ میر نے حیات کو اپنے ساتھ لگائے کہا۔
ڈیڈ مما ڈرٹی۔حیات نے پھر رونا سٹارٹ کیا اور اپنے گال کی طرف اشارہ کرکے بتایا جہاں سرخ نشان بن گیا تھا مہرماہ حیات کی بات پہ شاہ میر کی نظریں خود پہ محسوس کیے شرمندہ اور چور ہوکر رہ گئ تھی۔
یس مما ڈرٹی۔شاہ میر اس کے گال پہ بنے سرخ نشان پہ اپنے لب رکھتا حیات کی بات پہ اتفاق کیا مہرماہ کو نظرانداز کیے حیات کو اوپر لے جانے کے بجائے نیچے والے کمرے میں گیا جو اس نے حیات کے لیے سیٹ کیا تھا۔مہرماہ شاک میں بس ان کو جاتا دیکھتی رہی ہانم بیگم نے سر پکڑ صوفے پہ ڈھے گئ ایک جگہ یک ٹک دیکھنے کی وجہ سے مہرماہ کو اپنی آنکھیں پتھرائی ہوئی لگی۔
مہرو مرجان آنے والے ہے اس کے لیے پاستا بناؤ آتے ہی کھانے کا کہے گا تمہارے علاوہ کسی کے ہاتھ کا کھانا نہیں کھاتا۔ہانم بیگم خود ہی ہمت جمع کرتی مہرماہ سے مخاطب ہوئی جو ساکت کھڑی تھی۔
چچی جان کیا میں نے غلط کیا اگر بچے نافرمانی کریں گے تو ماں ہاتھ اٹھائے گی نہ تاکہ وہ مزید نہ بگڑے۔مہرماہ نے ہانم بیگم سے پوچھا۔
بعد میں بات کرتے ہیں ابھی میر غصے میں ہے تھوڑی دیر میں غصہ ٹھنڈا ہوجائے گا تو خود تمہارے پاس چلا آئے گا۔ہانم بیگم اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھتی ہوئی بولی۔
شاہ نے تو کبھی مذاق میں بھی سخت نظروں سے نہیں دیکھا پر آج تو اس کی آنکھیں میرے لیے شعلے بھڑکا رہی تھی۔مہرماہ کو شاہ میر کا سردپن یاد آیا تو روہانسی ہوکر بولی
کیونکہ وہ آج ماہ کا شاہ نہیں بلکہ حیات کا ڈیڈ تھا۔ہانم بیگم اتنا کہتی وہاں سے چلی گئ جب کی مہرماہ تنہا سی شاہ میر کا سوچنے لگی۔
