Ishq Qaid Season 2 by Rimsha Hussain NovelR50563 Ishq Qaid Season 2 (Episode 29)
Rate this Novel
Ishq Qaid Season 2 (Episode 29)
Ishq Qaid Season 2 by Rimsha Hussain
آج اُن چاروں کا ولیمہ تھا جو گھر کے لان میں ہی کیا گیا تھا باقی فنکشنز کی نسبت مہمانوں کو بھی کم انوائٹ کیا گیا تھا۔
مرجان ملیحہ نے سیم کلر کی ڈریسنگ کی تھی مرجان نے گولڈن کلر کی شیروانی پہنی تھی تو ملیحہ نے گولڈن کلر کی میکسی پہنی ہوئی تھی بالوں کا جوڑا بنایا ہوا تھا جس سے وہ بہت پیاری لگ رہی تھی۔
شاہ ویر اور حیات نے بھی سیم کلر کی ڈریسنگ کی تھی شاہ ویر نے براوٴن شیروانی پہنی تھی تو حیات نے براوٴن کلر کا لونگ فراق پہنا تھا۔
زرجان نے آج بلیک کلر کا شلوار قمیض پہنا تھا ساتھ میں کندھے پہ بلیک شال پہنی تھی جس وہ بہت باوقار لگ رہا تھا۔
ماہا نے سی گرین کلر کا سادہ سا فراق پہنا تھا جو گھٹنوں تک تھا بھورے بال کھلے ہوئے تھے چہرہ میک اپ سے پاک تھا مگر وہ اپنے سادہ حلیے میں بھی سبھی لڑکیوں کو مات دے رہی تھی۔
سیلفی ہوجائے ایک۔ماہا ملیحہ کے پاس جارہی تھی جب حیات نے اس کا ہاتھ تھام کر کہا ماہا نے سوچا انکار کردے مگر اس کی مسکراہٹ دیکھ کر انکار نہ کرسکی۔
زرجان اسٹیج سے دور تھا جب اُس کے موبائل پہ میسج ٹون بجی جیب سے موبائل نکال کر دیکھا تو حیات کا میسج تھا جس میں لیکھا تھا اپنی آواز کا سُر چاروں طرف پھیلادوں۔زرجان نے حیات کو دیکھا جو مسکراکر اُس کو دیکھ رہی تھی زرجان نے دوسری نظر دور چیئر پہ منت کے ساتھ بیٹھی ماہا کو دیکھا یکلخت اس کے دماغ میں ایک خیال آیا تو چہرے پہ مسکراہٹ آگئ۔
منہاج۔زرجان نے منہاج کو آواز لگائی۔
جی بھائی۔منہاج فورن پاس آتا بولا۔
تمہارے پاس گیٹار ہے نہ وہ لیکر آنا زرہ۔زرجان نے کہا۔
آپ گانا گائے گے؟منہاج نے اشتیاق سے پوچھا۔
ہمم زرجان نے بس اتنا کہا منہاج خوش ہوتا اندر کی طرف گیا زرجان بالوں میں ہاتھ پھیرتا اسٹیج پہ مائک کی طرف گیا۔
Yun he nh tujh p dil ye fida hai
Sab say to alahida Sab say juda hai
Yun he nh tujh p dil ye fida hai
Sab say to alahida Sab say juda hai
Na mumkin tumsa koi chihra mil pana
!!!!!!!!!
Dil mera chahe jab bhi to aae
Tujh say mai kah du wapas na jana
Banhu mai Teri sari shab jagu
Aankho say dekho subah ka aana!!
Dil mera chahe jab bhi to aae
Tujh say mai kah du wapas na jana
Banhu mai Teri sari shab jagu
Aankho say dekho subah ka aana!!
مہناج جیسے ہی گٹار لایا زرجان نے گانا گانا شروع کردیا تھا اچانک خوبصورت آواز سن کر سب کا دھیان سامنے اسٹیج پہ زرجان کی طرف گیا تھا جو اپنے ہر ایک لفظ پہ ماہا کو دیکھ رہا تھا ماہا نے خود پہ زرجان کی نظریں بخوبی محسوس کی تھی پر اُس نے اپنا وہم سمجھا تھا حیات گانا سن کر بُرا منہ بنالیا تھا اُس کو لگا تھا زرجان اُس کے لیے گائے گا مگر زرجان نے اپنی پسند کا گایا تھا۔
Milo ge kabhi Jo tum
Batain ge kia ho tum
Milo ab akelay raha jae na
Milo ge kabhi Jo tum
Batain ge kia ho tum
Milo ab akelay raha jae na
Bohat he zarori ho
Khatam sari douri ho
Koi fasla ab saha jae na
Muskhil hai dil ko bin teray samjhana!!!
Dil mera chahe jab bhi to aae
Tujh say mai kah du wapas na jana
Banhu mai Teri sari shab jagu
Aankho say dekho subah ka aana!!
Dil mera chahe jab bhi to aae
Tujh say mai kah du wapas na jana
Banhu mai Teri sari shab jagu
Aankho say dekho subah ka aana!!
زرجان نے اب کی یہ لائنز باقاعدہ ماہا کے پاس آکر گائی تھی جس ماہا بلاوجہ جزبز ہوکر رہ گئ تھی اُس کو سمجھ نہیں آرہا تھا واقع زرجان اس کو گانا سنا رہا تھا یا بس اُس کو لگ رہا تھا مگر جو بھی زرجان کا اس کے پاس گاتا دیکھ کر وہ بُری طرح کنفیوز ہوگئ تھی ایک تو گانے کے بول ایسے تھے دوسرا زرجان کی نظریں۔
Ajab dil ki halat ho
Jo teri ziyarat ho
Nazar ko nazara koi bhaee na
Ajab dil ki halat ho
Jo teri ziyarat ho
Nazar ko nazara koi bhaee na
Ye wo be qarari hai Jo darya si jaari hai
Tera ishq mojh ko baha jae na
Sahil ki tarha tou mojh ko bachana!!!!!
Dil mera chahe jab bhi to aae
Tujh say mai kah du wapas na jana
Banhu mai Teri sari shab jagu
Aankho say dekho subah ka aana!!
Dil mera chahe jab bhi to aae
Tujh say mai kah du wapas na jana
Banhu mai Teri sari shab jagu
Aankho say dekho subah ka aana!!!!!!
زرجان گانا گاتا اسٹیج پہ حیات کے پاس آیا اور اُس کا ہاتھ تھام کر اپنے ساتھ کھڑا کیا جس پہ حیات جو پہلے منہ بناکر بیٹھی تھی اُس کا چہرہ کِھل اُٹھا تھا دوسری طرف ماہا نے بھی سکون کا سانس لیا تھا پہلے زرجان کی حرکت پہ اس کے دل کی رفتار تیز ہوگئ تھی جو اب اپنی جگہ پہ آگئ تھی مہرماہ نے تیز نظروں سے شاہ میر کو دیکھا جس کا دھیان حیات اور زرجان کی طرف تھا۔
کیسا لگا؟زرجان نے حیات سے پوچھا
اچھا تھا پر تم وہ گانا گاتے نہ میرے لیے رب ہنستا ہوا رکھے تم کو۔حیات نے مسکراکر کہا
وہ مجھے نہیں تھا یاد اِس لیے یہ گایا۔زرجان نے کندھے اُچکاکر کہا
جو بھی پر مجھے اچھا لگا آخرکار پہلی میری بات کا مان رکھا۔حیات واپس اپنی جگہ پہ بیٹھتی بولی۔
آپ کے تو جتنے بھی کام کرو بعد میں آپ نے یہی کہنا ہوتا ہے پہلی بار میری بات کا مان رکھا۔زرجان کندھے اُچکاکر کہتا آخر میں اُس کی نقل اُتاری جس پہ حیات نے دانتوں کی نمائش کی۔







اپنی آوارہ نظروں کو قابوں میں رکھو۔زرجان کمرے میں بیٹھا ماہا کو سوچتا مسکرا رہا تھا جب مہرماہ دھڑام سے دروازہ کھول کر اندر آتی بولی جسے سن کر زرجان پریشان ہوتا کھڑا ہوا۔
رلیکس مما کیا ہوگیا ہے آپ کو۔زرجان نے آرام سے کہا یہ پہلی بار تھا جب مہرماہ نے اتنے سخت انداز میں بات کی تھی۔
میرا دماغ خراب ہوگیا ہے زر اگر تم سمجھ رہے ہو میں تمہارے معاملے میں بے خبر ہوں تو اِس بھول سے نکل آؤ کیونکہ میں سب جانتی ہوں۔مہرماہ نے سنجیدہ لہجے میں کہا
آپ صاف صاف بات کیوں نہیں کررہی۔زرجان اُلجھ کر بولا
ماہا کے بارے میں جو خرافات تم نے پال رکھی ہیں اس کو نکال دو کیونکہ جیسا تم چاہتے ہو ایسا بلکل نہیں ہوگا۔ماہا کے نام زرجان چونک کر مہرماہ کو دیکھنے لگا مگر مہرماہ کی آخرت بات پہ اُس کو لگا جیسے اس کا دل کسی نے مٹھی میں جکڑلیا ہو۔
اللہ نہ کریں ماں ہوکر کسی باتیں کررہی ہیں۔زرجان تڑپ کر بولا۔
ماں ہوں اِس لیے کہہ رہی ہوں ایسے راستے کا انتخاب مت کرو جس میں سوائے تکلیف کے کجھ نہ ہو۔مہرماہ نے اب نرمی سے کہا
تکلیفیں کیوں ہوگی اگر آپ سب جانتی ہیں تو میں بتادو میں ان کو بہت چاہنے لگا ہوں کب کیسے میں نہیں جانتا پر ان کے دور جانے کے خیال سے میرا دل لرز جاتا ہے آپ پلیز ایسا مت کہے۔زرجان مہرماہ کے ہاتھ تھام کر بولا۔
چھ سال بڑی ہے وہ تم سے تمہیں لگتا ہے وہ مان جائے گی اپنالیں گی تمہیں ریان مہرین یا شاہ مان بھی جائے نہ تو بھی ماہا نہیں مانے گی وہ مختلف ہے۔مہرین نے کہا۔
دیکھنے میں لگتا تو نہیں۔زرجان نے نقطہ نکالا۔
دیکھنے میں لگتا ہو یا نہیں سب کو پتا تو ہے نہ۔مہرماہ نے اس کا نقطہ رد کرتے کہا
میں نہیں جانتا مجھے وہ پسند ہے بس۔زرجان چہرہ دوسری طرف کرکے بولا
بات پسند تک ہی رہنے دو پھر پانے یا حاصل کرنے کی جستجو میں مت پڑنا بہت تکلیف ہوتی ہے اگر کوئی آپ کے سچے جذبات کو ٹھکرالیں۔مہرماہ کی آنکھیں نم ہوگئ تھی۔
آپ میری لیے دعا کریں وہ مجھے مل جائے کیونکہ میں اِس جستجو میں پڑچکا ہوں کے وہ ہمیشہ میری رہے میری بن جائے میرے نام کے ساتھ ان کا نام لیا جائے ان کو میری محبت پہ ایمان آجائے بیچ میں چھ سالوں کا فرق نظر نہ آئے میرے اندر موجود اپنے لیے وہ چاہت اور تڑپ دیکھے اگر آپ ایسا نہیں مانگ سکتی تو بس ایک دعا مانگ لیں میرے مرنے کی۔زرجان آخر میں بے رحمی سے بولا مہرماہ کا ہاتھ اپنے سینے پہ پڑا۔
چٹاخ۔
زرہ خیال نہیں آیا یہ بات کرتے وقت کل آئی لڑکی کی محبت بیس سال ماں کی محبت سے زیادہ عزیز ہوگئ۔مہرماہ نے تھپڑ اس کے گال پہ مارکر غصے سے کہا زرجان اپنے گال پہ ہاتھ رکھتا زمین کو گھور رہا تھا یہ اس کی زندگی کا پہلا تھپڑ تھا جو اُس کو پڑا تھا۔
آپ کی محبت کا کوئی نعم البدل نہیں مما پر ماہا کے بنا جینا بھی میرے لیے ممکن نہیں۔زرجان مہرماہ کے ہاتھ پہ عقیدت بھرا بوسہ دے کر کہا مہرماہ بس اُس کو دیکھتی رہی دروازے کے پار کھڑے شاہ میر نے ان کی ساری باتیں سن کر گہری سانس خارج کی تھی۔





آج یونی جاؤں گی کیا؟مہرین نے ماہا کو تیار ہوتا دیکھ کر پوچھا
جی موم ایک ہفتہ لیو ہوچکی ہے اب بس جوائن کرنا چاہتی ہوں۔ماہا نے جواب دیا۔
میں بھی کل سے آیا کروں گی۔مہرین نے سرہلاتے ہوئے کہا۔
اچھی بات ہے میں اب نکلتی ہوں۔ماہا چادر ٹھیک کرتی بولی
خدا حافظ۔مہرین نے کہا تو وہ بھی الواعدہ کہتی باہر کی جانب بڑھی۔




ویر ہم ہنی مون پہ کہاں جائے گے؟حیات نے لیپ ٹاپ پہ کام کرتے شاہ ویر سے بولی۔
حیات ابھی تو نہیں اگلے ماہ دیکھتے ہیں کہاں جانا ہے۔ شاہ ویر نے کہا
مجھے بڑی مشکل سے ہوسپٹل سے چھٹی ملی ہے ویر تو پلیز اس کو ویسٹ نہیں کرو۔حیات ناراض لہجے میں بولی۔
حیات میری بات کو سمجھو میرا بہت ضروری کیس ہے اِس لیے فلحال میرے پاس گھومنے پِھرنے کا وقت نہیں۔شاہ ویر نے گہری سانس لیکر اپنا مسئلا بتایا۔
جانے کیا سوچ کر میں تم سے شادی کرنے پہ راضی ہوگئ جس کے پاس اپنی نئ نویلی بیوی کے لیے وقت ہی نہیں۔حیات غصے سے کہتی کمرے سے باہر نکل گئ شاہ ویر نے اپنا سر پکڑلیا




ہماری شادی کو تین چار دن ہی ہوئے ہیں اور آپ آفس جارہے ہیں۔ملیحہ نے کوٹ مرجان کی طرف بڑھاکر کہا
بہت ضروری میٹنگز ہیں ورنہ نہیں جاتا۔مرجان نے اس کو کندھوں سے تھام کر نرمی سے کہا
کوئی اور کرتا آفس میں اور بھی تو بہت ورکرز ہوتے ہیں۔ملیحہ نے منہ پُھلاکر کہا جس پہ مرجان کو وہ بہت کیوٹ لگی۔
اتنی پیاری شکلیں تو مت بناؤ اب۔مرجان اس کے گال کھینچ کر کہا
آپ آج جائے پر کل ہم باہر جائے گے اور سارا دن انجوائے کرے گے۔ملیحہ نے حکیمہ انداز میں کہا
جو حکم پر ابھی اجازت دے مرجان نے معصوم شکل بنائے کہا
اجازت ہے پر کل وہی ہوگا جو میں چاہوں گی۔ملیحہ نے پھر سے کہا
بلکل وہی ہوگا۔مرجان نے مسکراکر کہا تو ملیحہ بھی مسکرادی۔





زرجان آج یونی نہیں گیا تھا سارا وقت وہ اپنے کمرے میں بند تھا مہرماہ نے بہت بار آوازیں دی مگر وہ نظرانداز کرگیا تھا اب بھی وہ بس یہی سوچے جارہا تھا ایسا کیا کریں جس سے گھروالوں کے ساتھ ساتھ ماہا بھی مان جائے پہلے اُس نے سوچا تھا اپنی ڈگری مکمل کرکے وہ شاہ میر سے بات کریں گا پر مہرماہ کی باتوں نے اُس کو پریشان کردیا تھا جس وجہ سے وہ اب دیر نہیں کرنا چاہتا تھا بس ایک ہی خیال آرہا تھا کے ماہا انکار کردے گی جو وہ برداشت نہیں کرپائے گا وہ ماہا کے بارے میں اتنا تو جان گیا تھا وہ اگر مرجان کو ٹھکرا سکتی ہے تو اس کو ٹھکرانے کے لیے تو بہت ساری وجوہات تھی جس نے زرجان کو بے چین کر ڈالا تھا ماہا کے سامنے اپنی محبت اعتراف وہ نہیں کرسکتا تھا وہ چاہتا تھا پہلے شادی ہوجائے پھر مگر اب اس کو لگ رہا تھا ماہا کو اپنے دل کی حالت سے آگاہ کردیں۔





کوئی بات ہے جس کی وجہ سے تم پریشان ہو؟ریان نے پیپر ویٹ کو گھماتے شاہ میر سے پوچھا۔
ہمم تم سے کجھ مانگوں تو کیا تم مجھے دوگے؟شاہ میر نے کہا
بلکل اگر میرے بس میں ہوا تو ضرور میرے پاس جو ہے وہ تمہارا ہی ہے۔ریان نے خوشدلی سے کہا
جو میں چاہتا ہوں وہ میرے بیٹے کی خوشی کے لیے ہے۔شاہ میر نے سنجیدگی سے کہا
اچھا ایسا کیا ہے میرے پاس؟ریان متجسس ہوا
میں ماہا کا ہاتھ مانگنا چاہتا ہوں زرجان کے لیے۔شاہ میر نے بغور ریان کے تاثرات دیکھ کر کہا
میر اگر بھول گئے ہو تو بتادو ماہا چھ سال بڑی ہے زر سے۔ریان کے چہرے کا رنگ پل بھر میں اُڑا تھا۔
جانتا ہوں تم جواب دو۔شاہ میر نے کہا
میں کیا کہہ سکتا ہوں ماہا کبھی راضی نہ ہو دوسرا یہ کیا زر راضی ہوگا۔ریان نے کہا
محبت کرتا ہے ماہا سے۔شاہ میر نے آرام سے جواب دیا
اپنے سے بڑی عمر کی لڑکی سے۔ریان کو یقین نہیں ہوا۔
میں نے بھی تو ماہ سے عشق کیا ہے۔شاہ میر نے جتانے والے انداز میں کہا
اوو ہاں جیتا جاگتا مثال میرے سامنے تو بیٹھا ہے۔ریان نے مذاقً کہا
ابھی میں سیریس ہو۔شاہ میر نے ٹوک کر کہا
میر مہرو بھابھی مان گئ تھی تبھی انکل آنٹی نے کوئی ایشو نہیں کیا پر ماہا وہ بلکل راضی نہیں ہوگی تم دونوں میں تو پھر بھی چار سال کا فرق تھا اب بات چھ سال کی ہے ماہا بہت ضدی ہے نا تو وہ ایموشنل ہوکر شادی پہ مانے گی نہ ہی کوئی اور تجربہ کام آئے گا۔ریان نے سنجیدہ لہجے میں کہا۔
تمہیں تو کوئی مسئلا نہیں نہ اور مہرین بھابھی تو اعتراض نہیں کرے گی نہ؟شاہ میر نے پوچھا۔
مجھے کیا مسئلا ہوگا زر تمہارا بیٹا ہے جس طرح تمہارے دل میں مہرو بھابھی کا مقام پہلے کی طرح ہے میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں زر کو بھی کبھی اپنے فیصلے پہ پچھتاوا نہیں ہوگا رہی بات مہرین کی تو اُس کے لیے میری بات حرفِ آخر ہے۔ریان نے مزے سے کہا تو شاہ میر مطمئن ہوا۔
ٹھیک ہے تو اب ماہا کو کنوینس کرو۔شاہ میر پرسکون ہوتا بولا جس پہ ریان نے سر کو جنبش دی۔




ریان گھر آیا تو مہرین اُس کو کچن سے باہر آتی نظر آئی۔
مہر کمرے میں آکر بات سننا زرہ۔ریان بڑی محبت سے کہتا کمرے کی طرف بڑھ گیا پیچھے مہرین حیرانکن نظروں سے ریان کو جاتا دیکھنے لگی۔
اللہ خیر کریں بڑے پھول نکلے رہے ہیں آج تو۔مہرین بڑبڑاتی کمرے میں داخلی ہوئی جہاں ریان کمرے میں چکر لگاتا ٹہل رہا تھا شاہ میر سے تو بڑے دھڑلے سے کہہ دیا تھا مہرین کی نظر میں اُس کی بات حرفِ آخر ہے مگر اب وہ سمجھ نہیں پارہا تھا مہرین سے بات کرے تو کیسے کریں۔
یہ میں مہرین سے مہر کب ہوئی؟مہرین نے سینے پہ بازوں باندھ کر پوچھا
ایسے ہی محبت سے کہا خیر بیٹھو ضروری بات کرنی ہے۔ریان نے مسکراکر کہا۔
کیا بات ہے۔مہرین صوفے پہ بیٹھ کر بولی
میری بات تحمل سے سننا جذباتی مت ہوجانا۔ریان نے کہا
میں کیوں جذباتی ہونے لگی تم بات کرو جلدی مجھے لنچ تیار کرنا ہے۔مہرین نے کوفت سے کہا
میر چاہتا ہے ہم ماہا کا ہاتھ زرجان کو دے۔ریان نے گہری سانس لیکر کہا مہرین نے بڑی مشکل سے اپنا چکراتا سر تھاما ریان کی بات پہ اس کا دماغ گھوم گیا تھا۔
ریان ہوش میں ہو تم ماہا کی عمر میں اور زرجان کی عمر میں بہت فرق ہے زرجان تو ابھی بچہ ہے جب کی ماہا میچور ہے وہ ہرگز نہیں مانے گی وہ تو کیا میں ہی اِس رشتے کے حق میں نہیں بلکل بے جوڑ رشتہ ہے تم تو اپنی دوستی میں اندھے ہی ہوگئے ہو جب کی الحمد اللہ میری آنکھیں ٹھیک ہے۔مہرین اپنی جگہ سے کھڑی ہوتی سخت لہجے میں بولی اُس کو زرہ اندازہ نہیں تھا ریان ایسا بھی چاہ سکتا ہے۔
مہرین میں نے پہلے ہی کہا تھا تحمل سے بات سننا۔ریان نے اس کو رلیکس کرنا چاہا پر مہرین ہتھے سے اُکھڑ گئ۔
ماہا میں کسی چیز کی کمی نہیں نہ خوبصورتی میں نہ ذہانت میں اور نہ ہی کسی اور چیز میں جو ہم اُس کا ہاتھ کم عمر لڑکے کو تھماکر ساری زندگی لوگوں کی باتیں سننے پہ مجبور کریں۔مہرین بنا ریان کی باتیں سن کر کہا۔
بات کمی کی نہیں ہے زرجان پیار کرنے لگا ہے ماہا سے اِس لیے شاہ میر نے یہ بات کی۔ریان کو لگا شاید اب وہ اُس کی بات سمجھے۔
زرجان کو میں کیا کہوں میر بھائی کا بیٹا ہے ورنہ اُس کو شرم آنی چاہیے تھی یہ سوچنے پہ بھی عمر کا نہیں تو اُس کے رتبے میں کا خیال کرتا ٹیچر ہے وہ اُس کی اور وہ ہے کے اُس سے شادی کے خواب دیکھ رہا ہے۔مہرین دانت چباکر بولی ریان کا دل کیا اپنا ماتھا پیٹ لیں ایک طرف جان سے عزیز دوست دوسری طرف مہرین جو فل دبنگ انداز میں تھی اُس کا ری ایکشن دیکھ کر اس کو ماہا کا خیال آیا کے اگر یہ بات اُس کو پتا چلی پھر تو جانے کیا ہوگا۔




شاہ میر ٹیرس پہ آیا تو غصے سے اپنی مٹھیان بھینچ لی اور زرجان کو دیکھا جو سگریٹ کے کش لگا رہا تھا شاہ میر لمبے لمبے ڈگ بھرتا زرجان کے پاس آکر اُس کے ہاتھ سے سگریٹ چھین نے والے انداز سے لیا زرجان جو اپنی سوچو میں گُم تھا اِس اچانک افتادہ پہ بوکھلا کر رہ گیا مگر جیسے ہی نظر شاہ میر پہ پڑی تو شرمندگی سے اپنا سر جھکادیا۔
وجہ جان سکتا ہوں اِس زہر کو کیوں منہ لگایا جارہا تھا میری اور ماہ کی تربیت میں کہاں کمی رہ گئ تھی جو آج یہ دن دیکھنے کو مل رہا ہے۔شاہ میر نے بمشکل خود پہ ضبط کیے سوال پوچھا ورنہ دل تو چاہ رہا تھا زرجان کا چہرہ تھپڑوں سے لال کردے۔
ڈیڈ وہ۔زرجان سے کجھ بولا نہیں گیا۔
کیا وہ بات مکمل کرو اپنی۔شاہ میر سخت لہجے میں کہا۔
ایسا ممکن نہیں کے مما نے آپ سے بات نہ کی ہو۔زرجان چہرہ جھکاکر بولا اُس میں ہمت نہیں تھی شاہ میر کو دیکھنے کی۔
سب جانتا ہوں میں اور ایسی بھی کیا بے چینی جو کجھ دن تم سے صبر نہ ہوسکا میں مرگیا
ڈیڈ پلیز۔زرجان شاہ میر کی بات بیچ میں کاٹ کر نم آواز میں بولا۔
گھر میں کس کے ہاتھ میں تم نے یہ مضر چیزیں دیکھی ہے ڈیڈ اپنی اِس عمر میں حوکا تک نہیں پیتے۔شاہ میر کو زرجان کی حرکت پہ تکلیف ہوئی تھی۔
آئیندہ نہیں ہوگا ایسا۔زرجان نے کہا
آئیندہ ایسا ہوا بھی تو آج میں زبان استعمال کررہا ہوں دوبارہ ہاتھ استعمال کروں گا۔شاہ میر وارن کرنے والے انداز میں کہا جس پہ زرجان کا جُھکا سر مزید جھک گیا۔
مما نے جیسا ری ایکشن دیا تھا میں ٹوٹ گیا تھا ڈیڈ سمجھ نہیں آرہا تھا کروں تو کیا کروں ہر دفع سپورٹ کرنے والی ماں جب زیادہ ضرورت پڑنے پہ سپورٹ نہ کریں تو اولاد کیا کریں۔زرجان ندامت بھرے لہجے میں بولا۔
میں نے ریان سے بات کی ہے انشااللہ مثبت جواب ملے گا۔شاہ میر گہری سانس بھر بولا شاہ میر کی بات پہ زرجان کتنے پل بے یقین سا شاہ میر کو دیکھتا رہا۔
سچ میں؟زرجان نے دھڑکتے دل کے ساتھ پوچھا جس پہ شاہ میر نے سرہلانے پہ اکتفا کیا زرجان کے لیے یہی کافی تھا جس پہ زرجان آگے آتا زور سے شاہ میر کے گلے لگا۔
کیا تاریخی پھر سے دوہرائی جائے گی۔مہرماہ ٹیرس کے داخلی دروازے پہ کھڑی ان دونوں کو دیکھتی سوچ سکی وہ سمجھ گئ تھی شاہ میر کیوں زرجان کو اتنا سپورٹ کررہا ہے کیونکہ وہ خود اِس فیض سے گُزر چکا ہے پر وہ یہ بھی جانتی تھی ماہا اپنے آپ میں رہنے والی لڑکی ہے وہ کبھی زرجان کی محبت نہیں سمجھے گی یہ وجہ تھی جس سے وہ زرجان کے خلاف تھی وہ نہیں چاہتی تھی بار بار ماہا زرجان کے جذبات کو دھتکارے۔






ماہا نوٹ کر رہی تھی آج ڈنر کے وقت خاموشی سی ہے ورنہ روز ریان اپنے آفس اور مہرین اپنی یونی کی باتیں کیا کرتی تھی ماہا نے ولی کو دیکھا جو بہت محویت سے کھانا کھارہا تھا اُس نے اپنا پاؤں ولی کے پاؤں پہ مارا تو ولی نے سراُٹھا کر اس کو دیکھا ماہا نے ریان اور مہرین کی طرف اشارہ کرکے پوچھا کے کجھ ہوا ہے کیا؟جس پہ ولی کندھے اُچکاکر ہاتھ کھڑے کرتا دوبارہ کھانے کی طرف متوجہ ہوا ماہا نے گھور کر اس کو دیکھا
موم کجھ ہوا ہے کیا؟کھانے کے بعد ماہا کچن میں آکر مہرین سے پوچھنے لگی۔۔
ہاں ہوا ہے۔مہرین برتن سینک پہ زور سے رکھتی بولی۔
کیا ہوا ہے؟ماہا نے پھر پوچھا
تمہارے باپ کا دماغ خراب ہوگیا۔مہرین جھلاکر بولی۔
صاف صاف بات کیوں نہیں کررہی آپ؟ماہا بیزار ہوئی۔
صاف صاف بات یہ ہے کے تمہارا باپ چاہتا ہے ہم زرجان کا رشتہ تمہارے لیے قبول کرلیں۔مہرین اس کے سامنے آتی بولی تو ماہا کی پیشانی شکن آلود ہوئی۔
کون زرجان؟ماہا کے دماغ سے زرجان بلکل غائب تھا دوسرا سب اُس کو زر کہتے تھے۔
تمہارا اسٹوڈنٹ زرجان میر۔مہرین نے دانت پیس کر کہا
واٹ۔ماہا شاک کی حالت میں بولی
میں نے صاف انکار کردیا ہے۔مہرین نے کہا
ڈیڈ ایسا سوچ بھی کیسے سکتے ہیں۔ماہا اب تک بے یقین تھی۔
میر بھائی نے بات کی ہوگی ان کو تو خیال نہیں آیا خود تو چار سال بڑی لڑکی سے شادی کرلی اب اپنے بیٹے کو بھی اُس نقشے پہ چلارہے ہیں۔مہرین نخوت سے بولی۔
میں بات کرتی ہوں ڈیڈ سے ان کو چاہیے تھا میر انکل کو انکار کردیتے ناکہ یہاں آپ سے بات کرتے۔ماہا غصے سے کہتی کچن سے جانے لگی پر مہرین سامنے آگئ۔
تم کیا بات کرو گی جو کہنا تھا میں نے کہہ دیا تمہارا باپ ہے وہ تم ایسے بات نہیں کرو ان سے۔مہرین نے رسانیت سے کہا
غصہ مجھے میر انکل پہ ہے وہ کیسے اپنے بیٹے کا رشتہ مانگ سکتے ہیں جو ابھی تک اپنی پڑھائی پوری نہیں کرسکا اگر ان کو بڑی عمر کی لڑکی سے کروانی ہے تو کوئی اور تلاش کریں میرے سر پہ یہ عذاب نہ ڈالیں انہوں نے زرہ اچھا نہیں کیا ڈیڈ کے دماغ میں یہ بات ڈال کر۔ماہا مہرین کو سناتی باہر نکل گئ مہرین نے تاسف سے اس کی پیٹھ کو دیکھا پھر اپنے کام میں لگ گئ۔





ناراض ہے میری جان۔شاہ ویر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی حیات کو اپنے حصار میں لیتا پوچھنے لگا۔
بات مت کرو تم۔حیات نے ناراض ہوکر کہا
کیس کی وجہ سے مصروف تھا اِس لیے تمہیں منا نہیں سکا۔شاہ ویر نے معصوم شکل بناکر بولا
تو اب کوئی اور مصروفیت تلاش کرو۔حیات نے دانت پیستے ہوئے کہا۔
حیات یار سوری۔شاہ ویر نے حیات کا رخ اپنی طرف کیے کہا
ایسے میں نہیں ماننے والی۔حیات نے چہرہ دوسری کیے کہا۔
پھر کیسے مانوں گی وہ سب کروں گا پر تم ناراض نہ رہو۔شاہ ویر اس کے گال پہ پیار کرتا بولا جس پہ حیات کی پلیکیں لرز گئ تھی۔
دور رہو تو بتاتی ہوں۔حیات نے شاہ ویر کو دور کرنا چاہا۔
ایسے ہی بتادو۔شاہ ویر نے مسکراکر کہا۔
مرغہ بنو تو میں مانوں۔حیات نے مسکراہٹ دباکر کہا جب کی شاہ ویر کی مسکراہٹ پل بھر میں غائب ہوئی تھی۔
شرم کرو حیات میں چھبیس سال کا مرد مرغہ بن کر اچھا لگوں گا۔شاہ ویر نے گھور کر کہا اُس کو زرہ توقع نہیں تھی حیات ایسا کجھ کہے گی پھر شاید وہ بھول گیا تھا سامنے والی لڑکی حیات تھی جس سے ہر چیز کی توقع کی جاسکتی تھی۔
تو میں نے کہا کیا چھبیس کے بنو اب جو کہا ہے وہ کرو ورنہ میں ڈیڈ کے پاس جارہی ہوں۔حیات نے شانِ بے نیازی سے کہا شاہ ویر اُس کی بات پہ تڑپ گیا تھا اِس لیے فورن سے اُس کی بات پہ عمل کرنے کا سوچا۔
پھر ناراضگی ختم کرلوں گی نہ؟شاہ ویر نے کنفرم کرنا چاہا۔
بلکل۔حیات نے زور سے سر کو جنبش دی تو مجبوراً شاہ ویر کو مرغہ بننا پڑا جسے دیکھ کر حیات ہنسی سے لوٹ پھوٹ ہوئی شاہ ویر کی سفید رنگت سرخ ہوگئ تھی جب حیات کو پیٹ پہ ہاتھ رکھ کر زور سے ہنستا دیکھا تو۔
