Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Qaid Season 2 (Episode 17)

Ishq Qaid Season 2 by Rimsha Hussain

ڈیڈ ملے بغیر چلے گئے۔حیات اُداس ہوکر بولی یہ بات وہ کل سے کئ مرتبہ دوہراچکی تھی۔

جلدی سے جانا پڑا ورنہ کالج آجاتے۔مہرماہ نے منت کے بالوں میں تیل کی مالش کرتے ہوئے بتایا پاس ہی ہانیہ بیٹھی تھی جو ہانم بیگم کے سر پہ مالش کررہی تھی۔

ہممم کتنے دنوں کا اسٹے ہے اُن کا؟حیات نے پوچھا۔

کال آئے گی تو پوچھو گی۔مہرماہ نے کہا۔

زر کا فون آیا تھا پہنچ گیا مری؟ہانم بیگم نے مہرماہ سے پوچھا۔

چچی جان کل کال کی تھی رات کا وقت تھا شاید سویا ہوا تھا اِس لیے رسپانس نہیں ملا اب اٹھے گا تو کرلیں گا کال بیک۔مہرماہ نے جواب دیا۔

سہی اس کو کہنا وہاں سردی بہت ہوتی ہے اپنا بہت سارا خیال رکھے سردی سے بچنے کے لیے گرم کپڑوں کا استعمال کرے۔ہانم بیگم نے کہا

چچی جان میں نے پیکنگ کرتے وقت کپڑے یہ رکھے تھے آپ فکر نہ کریں۔مہرماہ ان کی فکرمندی پہ مسکراکر بولی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

انہوں نے کہا تھا وہ اب پاکستان شفٹ ہونا چاہتے ہیں پر دیکھو زندگی نے ان کو مہلت ہی نہیں دی۔ریان دکھ سے کہا۔

اللہ نے ان کی زندگی اتنی لکھی تھی تم بس ان کی مغفرت کی دعا کرو۔شاہ میر نے حوصلہ دینے والے انداز میں کہا۔

کافی۔مہرین ٹرے میں کافی لیکر ان کے پاس رکھتی بولی۔

ماہا کسی ہے اب؟ریان نے آنکھیں صاف کرکے مہرین سے پوچھا۔

جب سے پتا چلا ہے پاگل سی ہوگئ ہے انکل کو گزرے چار دن ہوگئے ہیں پر وہ کمرے سے باہر ہی نہیں نکل رہی۔مہرین پریشانی سے بتانے لگی۔

میں گیا تھا پر آپی نے دروازہ نہیں کھولا۔ولی نے کہا۔

وہ اپنے گرینڈ فادر اور گرینڈ مدر سے بہت قریب تھی ان کی اچانک موت کا سن کر اس کو صدمہ لگا ہے اِس لیے فلحال اس کو اکیلا رہنے دو۔ریان نے سنجیدگی سے کہا۔

ملیحہ کہاں ہے؟شاہ میر کو ملیحہ کا خیال آیا تو پوچھا۔

کمرے میں قرآن پڑھ رہی ہے۔مہرین نے جواب دیا

ایک پارہ ماہا کو بھی دے رونے سے ان کی روح کو تکلیف ہوگی اِس لیے ماہا سے کہے ان کے لیے دعا کریں۔شاہ میر نے کہا تو مہرین نے سرہلایا۔

چار دن سے ٹھیک سے کجھ کھایا بھی نہیں۔ولی مایوسی سے کہتا اٹھ گیا۔

ریان اب تم پاکستان آنے کا سوچو بزنس آہستہ آہستہ یہاں سے وائنڈ اپ کرو۔شاہ میر نے ریان سے کہا جو سر ہاتھوں میں گِرائے بیٹھا تھا۔

دیکھتا ہوں فلحال تو اِن بچوں کو سنبھالنا ہے۔ریان نے کہا تو شاہ میر خاموش رہا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

یار زر بتاؤ نہ جس بزرگ کے لیے لڑکی سب سے لڑ رہی تھی وہ دیکھنے میں کیسی تھی اتنے دنوں سے پوچھ رہے ہیں پر تم بتا ہی نہیں رہے۔فرزان نے زرجان سے کہا جو موبائل میں گیم کھیل رہا تھا اس کی بات پہ باقی سب بھی زرجان کو دیکھنے لگے۔

چلتی پِھرتی قیامت تھی۔زرجان کے سامنے اس کا خوبصورت سِراپا آیا تو بے ساختہ اس کے منہ سے یہ الفاظ ادا ہوئے۔

اووو مطلب واقع کوئی بات تھی اُس میں اِس لیے تو زرجان میر تعریف کررہا ہے اس کی بات پہ سب نے ہوٹنگ کرکے کہا تو زرجان نے شانے اُچکادیئے۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

دو سال بعد !!!

وہ اپنی ارزاں ہوتی ذات کو سمیٹتے بس چلتی جارہی تھی اس کو نہیں تھا پتا وہ کہاں تھی اور اب کہاں جارہی تھی اس کے دماغ میں بس یہ بات گردش کررہی تھی کے آج اُس نے اپنے باپ کا مان توڑدیا تھا اس کے باپ نے جو اُس کو خودمختار اور سب سے نظرے ملنے کے قابل بنایا تھا آج اُس نے اپنے باپ کو جیسے نظریں جُھکانے پہ مجبور کردیا تھا۔

تم جیسی لڑکیاں ہوتی ہے جو پہلے پارسائی کا لِبادہ اُوڑھتی ہیں پھر چند جملے اور اٹینشن پہ پکے ہوئے پھلے کی طرح جھولی میں آ گِرتی ہے۔

اس کے کانوں میں زہریلے الفاظ گونجے تو اس نے اپنے کانوں پہ ہاتھ رکھ لیے تاکہ آوازیں آنا بند ہوجائے پر ایسا ممکن نہیں تھا آواز مسلسل آرہی تھی بیچ سڑک پہ اس کو اپنے اُوپر کسی کی تمسخر اُڑاتی نظریں محسوس ہورہی تھی تو کسی کی طنزیہ تو کسی کی ہمدردانہ نظریں کوئی اس کو دیکھ کر آپس میں چہ مگوئیاں کررہا تھا تو کوئی نفرت سے نگاہ پِھیر رہا تھا۔اپنے آپ سے جنگ لڑتی وہ لہراکر نیچے روڈ پہ گِر پڑی تھی شاید اُس میں اتنی ہمت نہیں تھی یہ سب برداشت کرنے کی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

زرجان اپنی ہیوی بائیک لیے یونیورسٹی میں انٹر ہوا جہاں سب لڑکیوں کی نظر اس پہ ٹھیرگئ تھی جس سے وہ لاتعلق بن کر اپنی بائیک سے اٹھا اور چابیاں ہاتھوں میں لیتا تو کبھی ہوا میں اچھال کر اپنی مٹھی میں جکڑتا اس کا رخ اپنے ڈپارٹمنٹ کی جانب تھا مگر سامنے اپنے دوست کی بہن آتا دیکھ کر اس کا موڈ بُری طرح خراب ہوا تھا۔

ہائے ہنی کیسے ہو؟عروہ نے ایک ادا سے بال جھٹک کر پوچھا جس پہ زرجان کے چہرے پہ ناگواری کے تاثرات نمایاں ہوئے تھے وہ اِس وقت بلیک کلر کی گول گلے والی ٹی شرٹ کے ساتھ وائٹ جینز پینٹ میں اپنی صحرانگیز پرسنلیٹی کے ساتھ ہر ایک کی نظر کا مرکز بنا ہوا تھا ایک ہاتھ کی کلائی میں ڈیجیٹل واچ پہنی ہوئی تھی تو دوسرے ہاتھ میں مختلف قسم کے بینڈز پہنے ہوئے تھے۔

تمہارے سامنے سہی سلامت تو کھڑا ہوا۔زرجان چہرے پہ سختی سموئے بولا۔

افففف ایک تو بلا کے ہینڈسم دوسرا یہ غصہ سچی جان نکال لیتے ہو۔عروہ ڈھیٹ پن سے مسکراکر اس کے وجیہہ خوبصورت چہرے کو دیکھ کے بولی جہاں مسکراہٹ کا نام ونشان نہیں ہوتا خوبصورت چمکتی پیشانی پہ بل نمایاں ہوتے تھے تیکھی کھڑی ناک عنابی ہونٹ جو آپس میں باہم پیوست تھے جو اس کے ضبط کی نشاندھی کررہے تھے۔عروہ کو وہ بس اپنے دوست فرزان کی وجہ سے برداشت کرتا تھا ورنہ اس کا بس چلتا تو وہ ایک منٹ نہ لگاتا اس کی عقل ٹھکانے لگانے میں۔

فضول گوئی ہوگئ ہے تو ہٹو۔زرجان اس کو تھکادینے والے انداز میں سائیڈ پہ کرتا اپنے راستے چل دیا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

اُس کی آنکھ کُھلی تو خود کو ہسپتال کے بیڈ پہ پایا چند پل تو وہ چھت کو گھورتی رہی پھر نظر چاروں طرف گھمائی مگر سامنے اسٹول پہ شاہ ویر کو بیٹھا دیکھ کر اپنی جگہ دنگ رہ گئ تھی جو چہرے پہ دنیا جہاں کی فکر سجائے اس کو دیکھ رہا تھا۔

حیات اب کیسا فیل کررہی ہو؟شاہ ویر اس کو ہوش میں آتا دیکھ کر فورن سے بولا وہ اپنے آفس جارہا تھا کیس کے سلسلے میں جب بیچ روڈ پہ اس کو ایک وجود بیہوش دیکھائی دیا تو وہ گاڑی سے اُتر کر آیا مگر سامنے گِری ہستی کو دیکھ کر وہ کتنے پل اپنی جگہ سے ہل نہیں پایا جہاں حیات ہوش وحواس سے بیگانہ بیہوش پڑی تھی شاہ ویر فورن سے حیات کا نازک وجود بانہوں میں بھرتے اس کو ہسپتال لایا تھا تقریباً پانچ گھنٹے بعد اُس کو ہوش آیا تھا ڈاکٹر کے مطابق حیات نے کسی بات کا صدمہ لیا تھا اور یہ بات شاہ ویر کو سمجھ نہیںہے آئی کے حیات کس بات کا صدمہ لے سکتی تھی۔

زندہ لاش کی مانند۔حیات آنکھیں میچ کے بولی تو شاہ ویر تڑپ کے اس کو دیکھنے لگا جس کی آنکھ سے آنسو نکل کر تکیے میں جذب ہورہے تھے۔

کیا بات ہے حیات ہم دوست ہیں مجھے نہیں بتاؤگی۔شاہ ویر نے تحمل سے پوچھا

میرا سب کجھ برباد ہوگیا ویر سب کجھ۔حیات دھاڑ مار کر روتی ہوئی بولی شاہ ویر کو سمجھ نہیں آرہا تھا زندہ دل حیات کو اچانک سے کیا ہوگیا تھا۔

کجھ برباد نہیں ہوا حیات ایسا مت سوچو۔

تمہیں نہیں پتا ویر تمہیں کجھ نہیں پتا۔حیات اپنا سرنفی میں ہلاتی ہوئی بولی۔

پھر بولوں کیا بات ہے یقین کرو حیات بات جو بھی ہوئی ہمارے درمیان رہے گی۔شاہ ویر پُریقین لہجے میں بولا تو حیات نے اس کی گولڈ شڈڈ آنکھوں میں دیکھا جس پہ وہ شاہ ویر پہ یقین کرنے پہ مان گئ۔

ویر میں جو کہوں گی تم اس پہ یقین تو ہوگا نہ مجھے غلط تو نہیں سمجھوگے؟حیات نے رنجیدہ آواز میں کہا تو شاہ ویر کو تشویش ہوئی کے اصل بات ہے کیا۔

حیات اپنی ساری سوچو کو جھٹک دو میں تمہیں کبھی غلط نہیں سمجھوگا اور پہلی بات مجھے تم پہ اعتبار ہے۔شاہ ویر نے اس کو مان بخشا تو حیات کی آنکھوں میں نمی اُتر آئی تھی۔

یار حیات ڈونٹ۔شاہ ویر بے بس ہوتا بولا اس کا دل چاہ رہا تھا خود اپنے ہاتھ کے پوروں سے اس کے آنسو صاف کرکے پر وہ اپنی حدودد سے واقف تھا اِس لیے ضبط کیے بیٹھا رہا۔

میرے کالج میں فیضان نامی لڑکا پڑھتا تھا۔حیات نے بتانا شروع کیا تو شاہ ویر کے سارے عضوو کان بن گئے تھے دل کی دھڑکن نے نے رفتار پکڑ لی تھی۔

فیضان کی ریپو پورے کالج میں بُری ہے ایک دفع ہم ایکسپریمنٹ کے لیے لائبریری میں تھے تو اُس پنج انسان نے وہاں بھی اپنا گھٹیا پن دیکھایا تھا ہماری کلاس فیلو تھی اس کو بار بار بہانے بہانے سے کبھی اس کا ہاتھ چھوتا تو کبھی کندھا ٹکراتا یہ بات میں نے نوٹ کی تھی پر میں بولی نہیں مگر کجھ دن بعد وہ لڑکی ڈین کی آفس پہنچ گئ فیضان کی شکایت لگانے جس پہ فیضان اپنی حرکت پہ مُکر گیا جب اس سے پوچھ تاچھ ہوئی تو اُس نے کہا کسی کو میرے سامنے لاؤ جو یہ بات کہے اس نے ایسا کرتے دیکھا ہے مجھے تمہارے ساتھ۔حیات بات کرتے کرتے سانس لینے کو رُکی۔

میں نے پورے کلاس کے سامنے فیضان کے روبرو آکر کہا کے میں نے اس کو دیکھا ہے ایک لڑکی کو نہیں جانے کتنی لڑکیوں کو حراس کرتے ہوئے تو وہ غصے سے آگ بگولہ ہوتا گالیاں بکنے لگا میں نے کوئی خاص توجہ نہیں دی آئے دن وہ مجھے بدلا لینے کی دھمکی دیتا رہتا تھا پر میرا ویسے بھی میڈیکل کا کجھ عرصہ تھا جو میں سکون سے پورا کرنا چاہتی تھی اِس لیے ڈیڈ کو نہیں بتایا۔حیات اتنا کہہ کر خاموش ہوئی پھر شاہ ویر کو دیکھا جو سنجیدہ تاثرات لیے اس کو دیکھ رہا تھا۔

اُس بے غیرت انسان نے کیا کیا جو تم ایسے رو رہی ہو۔شاہ ویر کا لہجہ حد سے زیادہ برفیلا تھا حیات کا گلا خشک ہوا تھا شاہ ویر کا ایسا انداز دیکھ کر پر وہ اپنی حالت پہ قابو پاتی گلاتر کیے بولی۔

ایک ماہ پہلے میری ڈگری پوری پوگئ تھی نہ میڈیکل کی ڈیڈ نے فائیو اسٹار ہوٹل میں میری خوشی کو سیلیبریٹ کیا تھا مجھے ڈاکٹر بنانا ان کا بچپن کا خواب تھا وہاں پہ فیضان نے میری کجھ پِک کلک کی تھی مجھے نہیں تھا وہ وہاں کیسے اور کیوں آیا ڈیڈ نے تو بس قریبی لوگوں کو انوائٹ کیا تھا اور سارا ہوٹل تو ڈیڈ نے بُک کروالیا تھا۔

حیات فار گاڈ سیک اصل بات پہ آؤ۔شاہ ویر نے پھر سے حیات کو چپ ہوتا دیکھا تو سامنے پڑی دوائیوں کو ہاتھ مارکر گِراکر طیش کے عالم میں دھاڑ کر بولا حیات سہم کر بیڈ پہ بیٹھ گئ۔

اُس نے میری اور اپنی پکچر ایڈیٹ کی جس میں،میں بہت قریب ہوں اُس کے۔حیات آنکھ میچ کر بولی جب کی آنسو کا سلسلہ پھر سے جاری ہوگیا تھا اور اس کے سرخ رخساروں پہ بہہ رہے تھے۔شاہ ویر ساکت سا حیات کو دیکھنے لگا جو پوری طرح بکھری ہوئی تھی۔

صبح میں اپنی فرینڈس کو ٹریٹ دینے والی تھی جب فیضان اپنے دوستوں کے ساتھ آیا اور ہمارے پاس آکر سب کے سامنے وہ پکچرز پیش کرکے میرے کردار کی مشکوک قرار دیا سب لوگ مجھے جن نظروں سے دیکھ رہے تھے میرے لیے وہ ڈوب مرنے کا مقام تھا اب جب وہ تصویریں کسی اور یا ڈیڈ کے پاس جائے گی تو کیا منہ دیکھاؤں گی ڈیڈ کو وہ کتنا ایمبریس ہوگے۔حیات روتے ہوئے بولی تو اچانک اس کی نظر شاہ ویر کے ہاتھوں پہ پڑی۔شاہ ویر حیات کی بات سن کر اپنے ہاتھوں کی مٹھیاں زور سے بھینچے کھڑا تھا جس سے اس کے گورے ہاتھوں کی سبز رگیں اُبھری پڑی تھی جو اُس کے اشتعال کا پتا دے رہی تھی حیات کا وجود ایک پل کو لرز اٹھا تھا۔

حیات کیا تمہیں میر ماموں اتنے کمزور لگتے ہی یا ہم اتنے گئے گُزرے ہیں کے ٹکے ٹکے کے لوگ ہماری عورتوں کو دھمکائے گے اور ہم بس تماشائی کا رول پلے کریں گے۔شاہ ویر نے کہا تو حیات کجھ نہ بولی وہ اُس کو کیا بتاتی اگر ایک لڑکی کے کردار پہ کوئی داغ آجاتا ہے تو وہ بے قصور ہوکر بھی قصوروار ٹھیرتی ہے اپنے ماں باپ پہ بوجھ بن جاتی ہے۔

حیات تمہارے آنسو اتنے بے مول نہیں جو تم اُن کو فضول میں ضائع کرو۔شاہ ویر نے اِس بار نرمی سے کہا۔

ڈیڈ کو بتاتی تو وہ فیضان کا وہ حال کرتے کے لوگ عبرت لیتے پر بات یہ ہے کے میں ان کو پریشانی میں نہیں ڈال سکتی۔حیات نے سنجیدہ لہجے میں کہا۔

اپنا حلیہ درست کرو ہم گھر جارہے ہیں۔شاہ ویر سنجیدہ لہجے میں بولا۔

مجھے میں ہمت نہیں گھروالوں کا سامنا کرنے کی۔حیات سرجھکاکر بولی۔

تم نے ایسا کجھ نہیں کیا جس میں تم گھروالوں کے سامنے شرم محسوس کرو اور دوسری بات اپنا سر ہمیشہ اونچا کیے رکھو۔شاہ ویر نے کہا تو حیات نے تشکرانہ نظروں سے اس کو دیکھا جس نے اس کو سنبھال لیا تھا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

مرجان نے اب شاہ میر کے ساتھ آفس جانا شروع کردیا تھا اس کو آفس جوائن کیے ایک سال ہوگیا تھا وہ ابھی ایک اہم میٹنگ سے فارغ ہوتا اپنے کیبن میں بیٹھا تھا جب دھڑام سے دروازہ کُھول کر شاہ ویر کیبن میں داخل ہوا تھا کیبن کا دروازہ ایسے کُھلنے پہ مرجان کی پیشانی شکن آلود ہوئی تھی مگر شاہ ویر کو دیکھ کر اس کے اعصاب کجھ ڈھیلے پڑے۔

خیر تو ہے اِیسے جلاد بن کر کیونکہ اینٹری ماری ہے۔مرجان اپنی جگہ سے اٹھتا شاہ ویر سے ملنے کے لیے آگے بڑھا پر شاہ ویر نے ایک زوردار مکہ اُس کے چہرے پہ مارا مُکہ اتنا زور کا تھا کہ مرجان کو اپنا جبڑا ٹوٹتا محسوس ہوا۔

کیا حرکت ہے یہ دوستی اپنی جگہ ایک سال بڑا ہوں میں تم سے۔مرجان اپنے چہرے کی سائیڈ پہ ہاتھ رکھتا شاہ ویر کو گھور کر دیکھ کر بولا جس کی آنکھیں آگ برسا رہی تھی۔شاہ ویر مرجان کی بات کا جواب دیا بنا دوسرا مکہ اس کے منہ پہ مارا تو مرجان تلملا اٹھا تیسری بار بھی اس نے مرجان پہ وار کرنا چاہا پر مرجان بیچ میں ہی روک دیا۔

منہ سے کجھ پھوٹوں گے بھی یا بس ہاتھوں کا استعمال کروگے۔مرجان نے کہا تو شاہ ویر نے نفرت سے سرجھٹکا اور کیبن میں چکر کاٹنے لگا مرجان عجیب نظروں سے اس کو دیکھتا اپنا چہرہ صاف کرنے لگا جب کی ایک گال بُری طرح سوجھ چُکا تھا۔

میں نے کہا تھا مرجان کسی کی بہن بیٹی کے ساتھ بُرا مت کرو یہ دنیا گول ہے جو تم آج کروگے وہی گھوم پِھرکر کل تمہارے پاس لوٹ آئے گا۔شاہ ویر کی آواز پوری کیبن میں گونجی تھی مرجان کا حرکت کرتا ہاتھ ایک لمحے کو رُکا تھا دل کی حالت عجیب ہوئی تھی۔

کیا کہنا چاہتے ہو تم؟مرجان خود پہ قابو کیے بولا۔

بچے نہیں تم بھول گئے تم سالوں پہلے تم نے کیا کیا تھا؟شاہ ویر اس کی بات سن کر طنزیہ انداز میں بولا۔

پُرانی بات کرنے کا کیا فائدہ بھول جاؤ۔مرجان نے کہا پر خود وہ ایک پل کے لیے بھی نہیں بھولا تھا۔

یہی تو المیہ ہے ہم انسانوں کا دوسروں کے ساتھ بُرا کرکے ہم بھول جاتے ہیں یہ نہیں سوچتے کے ہم سے اِس بات کا حساب لیا جائے گا ہم اگر کسی کے ساتھ بُرا کرتے ہیں نہ تو بھلے ہی ہم بھول جائے پر اللہ نہیں بھولتا وہ اُس چیز کا حساب ہم سے ضرور لیتا ہے اپنے بندوں کے ساتھ وہ ناانصافی کبھی نہیں کرتا اور نہ ان کے ساتھ زیادتی کرنے والے کو معاف کرتا ہے جب تک سامنے والا خود نہ کریں۔شاہ ویر نے ایک ایک لفظ پہ زور دے کر کہا۔

یہ آج تمہیں کہاں سے یہ بات یاد آئی ہے جو مجھے شرمندہ کرنے آگئے۔مرجان نے پانی کا گلاس لبوں پہ لگاکر پوچھا۔

یہ دنیا مکافاتِ عمل ہے مرجان جو کل تم نے کسی لڑکی سے ساتھ کیا تھا اُس سے زیادہ بُرا آج تمہاری بہن کے ساتھ ہوا ہے۔شاہ ویر کی بات پہ مرجان نے اس کا گریبان پکڑ لیا تھا۔

کیا بکواس کررہے ہو تم حیات کا کیا ذکر اِن سب میں۔مرجان غراکر بولا۔

تمہیں نہیں پتا آج وہ کس فیز سے گزری ہے اگر میں اس کو نہ سنبھالتا نہ تو کوئی بعید نہیں تھا وہ اپنے ساتھ کیا کر گزرتی۔شاہ ویر اس کا ہاتھ اپنے گریبان سے ہٹاتا بولا۔

صاف صاف بات کرو۔مرجان کا دل کسی انہونی کے احساس سے دھڑک اٹھا تھا شاہ ویر نے ایک نظر اس کو دیکھا پھر سارا کجھ بتادیا جس کو سنتے مرجان کا دل کیا اپنا قتل کردے اُس کی انجانے میں کی گئ غلطی کا خمیازہ اس کی بہن کو بھگتا نہ پڑرہا تھا اس کو اپنے وجود سے گھن آئی۔

حیات کجھ دنوں بعد ٹھیک ہوجائے گی پر ایک بات اس کے دماغ پہ نقش رہے گی جو آہستہ آہستہ مٹ جائے گی پر تم نے مرجان پیار کے نام پہ کسی کا دل ریزہ ریزہ کردیا تھا کسی کے کردار کی دھجیاں بکھیر دی تھی ایک پل کو نہ سوچا وہ کیا کرے گی کیسے خود کو سنبھالے گی۔شاہ ویر نے اپنے دل کا سارا غبار نکالا۔

میں امچیور لڑکا تھا دوستوں کے بہکاوے میں آگیا تھا۔مرجان شرمندگی کے احساس سے بس اتنا ہی بول پایا۔

وہ بھی کچی عمر کی لڑکی تھی لڑکیاں تو اور نادان ناسمجھ نازک مزاج کی ہوتی ہیں ان کو پھولوں طرح رکھا جاتا پر تم نے اس کا وجود کاٹوں سے لہولہان کردیا تھا پر تو اُس کی کوئی خبر ہی نہیں ملی۔شاہ ویر نے اُس کو اُس کا بھیانک روپ دیکھایا جس سے وہ خود سے نظریں ملانے کے قابل نہ رہا تھا پہلے جو پچھتاوا تھا اب زہر کی طرح اس کے جسم میں پھیل رہا تھا جو اب شاید معافی ملنے کے بعد ہی ختم ہونا تھا۔

کوئی آیت مل جائے ایسی

میں ورد کروں،اور توں مل جائے

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

زندہ ہونے کے لیے سانس،خوش رہنے کے لیے وجہ کا ہونا ضروری ہوتا ہے مگر بعض دفع یہ دونوں چیزیں ہو تو بھی انسان محسوس نہیں کرپاتا سانس تو آتی ہے اُس کو پر خود کو زندہ تصور نہیں کرپاتا،خوش ہونے کی وجہ ہو بھی تو بھی وہ وجہ اس کو خوش ہونے نہیں دیتی کیونکہ کبھی کبھی انسان ویسے نہیں ہوتا جیسے نظر آتا ہے اصل خوشی کا تعلق دل سے ہوتا ہے اگر دل خوش ہو تو چھوٹی وجہ بھی بڑی خوشی دے ڈالتی ہے مگر جب دل خوش نہ ہو تو بڑی وجہ تھوڑی خوشی بھی نہیں دے پاتی۔

کیوں پریشان کررکھا ہے سب کو؟ماہا اپنی سوچو میں غلطان تھی جب اس کی پانچ منٹ بڑی بہن دندناتی اس پہ سر پہ نازل ہوئی۔

میں نے کسی کو پریشان نہیں کیا۔ماہا بے تاثر لہجے میں کہتی راکنگ چیئر سے اُٹھ کر کتابوں کی ریکس کے پاس کھڑی ہوکر ترتیب شدہ کتابوں کو اور ترتیب سے رکھنے لگی خود کو بس مصروف ظاہر کرنا تھا۔

ماہا تم جانتی ہو ڈیڈ دو سالوں سے اپنے فرینڈ کے ساتھ مل کر اپنا بزنس پاکستان سیٹل کروارہے ہیں وہ اب پاکستان میں اپنی زندگی گُزارنا چاہتے ہیں تو تم کیوں رکاوٹ بن رہی ہو۔ملیحہ نے جھنجھلاکر اس کے خوبصورت چہرے کو دیکھ کر کہا جہاں ویرانی کے سوا کجھ نہیں تھا وہ دونوں تھی تو جڑواں پر ملیحہ قد کے لحاظ سے اس سے کجھ لمبی تھی چہرے کے نین نقش بھی بہت الگ تھے ملیحہ کی آنکھوں کا رنگ بھورا تھا پتلی ستوان ناک اور بھرے بھرے سرخ گال کی حامل پرکشش لڑکی تھی جب کی اُس کے برعکس ماہا گہری سفید رنگت کی مالک تھی آنکھوں کا رنگ اُس کا بھی بھورا تھا جہاں اب وہ عینک کا استعمال کرتی تھی تو مزید خوبصورت لگتی تھی اور سیم بالوں کا کلر بھی بھورا تھا ستوان ناک جہاں نوز پن پہنی ہوئی تھی سرخ انار جیسے گال جہاں گہرے ڈمپلز پڑتے تھے اور چھوٹے گلابی ہونٹ جب کی ٹھوری کے نیچے سائیڈ پہ اس کو تِل تھا۔وہ مناسب قد کی انتہا کی خوبصورت لڑکی تھی اُپر سے چہرے پہ ہر وقت سنجیدگی چھائی رہتی جو کی نئ تھی ورنہ وہ ملیحہ کی طرح شوخ مزاج چنچل سی لڑکی تھی پھر ریان کے زیادہ لاڈ پیار کی وجہ سے وہ مغرور اور خودسر بنا دیا تھا پر کجھ عرصے سے وہ بس اپنے آپ میں مگن رہتی تھی جس سے سب گھروالے پریشان رہتے تھے شروع شروع میں تو سب نے جاننے کی کوشش کی تھی پر ماہا نے کجھ بتایا نہیں تو اس کو اس کے حال پہ چھوڑ دیا تھا پر ملیحہ نے نہیں اُس نے تنگ کر رکھا اور ایک دن طیش میں آکر ماہا نے ساری کجھ بتادیا تھا جس پہ ملیحہ کو افسوس ہوا کہ اس نے کیوں ضد کرکے ماہا سے پوچھا کیونکہ بتانے کے بعد ماہا کی حالت بُری ہوگئ تھی۔ماہا ہر وقت پڑھتی رہتی تھی کبھی کوئی کتاب تو کبھی کوئی اُس کو پڑھنے کا بہت شوق تھا پر ملیحہ کو نہیں وہ لنڈن جیسے مُلک میں رہنے کے باوجوہ بھی بس ایف اے کیا تھا۔

میں رکاوٹ نہیں بن رہی۔ماہا نے فورن سے کہا

تمہیں کیا مسئلا ہے پاکستان جانے سے تم نہیں چل رہی اِس لیے ڈیڈ بھی نہیں جاپارہے وہ اکیلا تو نہیں چھوڑ سکتے تمہیں یہاں۔ملیحہ نے دانت پیس کر کہا

بچی نہیں میں اکیلے رہ سکتی ہوں۔ماہا نے دو ٹوک انداز اپنا کر کہا

ماہا ڈیڈ ہم میں سے سب سے زیادہ پیار تم سے کرتے ہیں اور تم اُن کے لیے امتحان بن رہی ہو۔ملیحہ نے اس کو ڈپٹ کر کہا۔

مجھے پڑھنا باہر جاؤ۔ماہا نے بغیر لحاظ کیے کہا

پانچ منٹ بڑی ہوں تم سے یہ عزت ہے میری تمہاری نظروں میں۔ملیحہ نے کمر پہ ہاتھ رکھ کر لڑاکا انداز میں کہا۔

اگر چاہتی ہو میں تمہارا ہاتھ پکڑ کر باہر دروازے کے پاس کرکے دروازہ تمہارے منہ پہ بند نہ کروں تو شرافت سے خود ہی چلی جاؤ۔ماہا نے بازوں سینے پہ باندہ کر کہا تو ملیحہ اس کو گھور کر دیکھتی کمرے سے باہر نکل گئ اس کے جانے کے بعد ماہا گِرنے کے انداز سے بیڈ پہ بیٹھ گئ۔

اور اب تنہائی میں راحت،

اور محفلوں میں اکتاہٹ سی ہوتی ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *