Ishq Qaid Season 2 by Rimsha Hussain NovelR50563 Ishq Qaid Season 2 (Episode 31)
Rate this Novel
Ishq Qaid Season 2 (Episode 31)
Ishq Qaid Season 2 by Rimsha Hussain
ہم ماہا کا رشتہ مانگنے آئے ہیں اپنے بیٹے منان کے لیے اگر آپ کی اجازت ہو تو انگھوٹی پہنالوں۔مریم بیگم نے مسکراکر مہرین سے کہا اُن کی بات پہ ریان جو لیاقت صاحب کی بات سن رہا تھا مہرین کو نہ کہنے کا اِشارہ کرنے لگا۔
کیوں نہیں اگر بچے یہ چاہتے ہیں تو ہمیں کیا اعتراض ہوسکتا ہے زندگی تو انہوں نے گُزارنی ہے۔مہرین ریان کو نظرانداز کرتی بولی تو مریم بیگم خوشی سے نہال ہوتی پرس میں سے ایک ڈبی نکال کر نفیس سی انگھوٹی ماہا کی انگلی میں پہنادی ماہا کے ہاتھ میں اپنے نام کی انگھوٹی دیکھ کر پروفیسر منان سرشار سا ہوگیا تھا۔
میں میٹھائی لیکر آتی ہوں۔ملیحہ جھٹ سے کچن کی طرف گئ سب اس کی جلدبازی پہ ہنس پڑے ماہا غور سے اپنے ہاتھ میں انگھوٹی کو دیکھنے لگی وہ تو بس ابھی رشتے کی بات چاہتی تھی مگر پروفیسر منان کی ماں بہت جلدباز معلوم ہوئی تھی جو منگنی کی رسم بھی ادا کرلی تھی۔







ماہا کے رشتے کی بات حیدر خان مینشن میں بھی ہوگئ تھی جس پہ سب خوش تھے سوائے تین لوگون کے۔شاہ میر اور مہرماہ جن کو زرجان کی فکر تھی تیسرا زرجان خود جو اب اپنی حالت سے بلکل لاپرواہ ہوگیا تھا یا یوں کہنا بہتر ہوگا کسی معجزے کے انتظار میں تھا۔
ریان کو شاہ میر کے سامنے بہت شرمندگی ہورہی تھی پر شاہ میر نے کوئی سوال نہیں اُٹھایا تھا وہ سمجھ سکتا تھا ماہا نہیں مانی ہوگی دوسری طرف اب منان کے گھروالوں کو شادی کی جلدی تھی جس پہ ریان نے کوئی اعتراض نہیں کیا تھا اُس نے کہا جب منگنی ہوگئ ہے تو شادی بھی ہوجائے تو اب سب شادی کی تیاریوں میں مصروف تھے ملیحہ اِس بیچ اپنے والدین کے گھر رہنے آئی تھی شاہ میر مہرماہ ایک دوسرے سے نظریں چُراتے پِھرتے تھے زرجان نے جو پہلے کم گو تھا اب جسے اُس نے بولنا بھول گیا تھا صبح کو باہر جاتا شام میں جب دل چاہتا آجاتا یا کبھی بس کمرے میں خود کو بند کرتا مہرماہ کا دل زرجان کی حالت دیکھ کر کٹ کے رہ جاتا شاہ میر نے فلحال اُس کو منع کیا تھا کے وہ زرجان سے کوئی بات نہ کریں اس کو وقت دے انشاللہ وہ ٹھیک ہوجائے گا شاہ میر کے کہنے پہ مہرماہ اُس کی بات مان گئ تھی زندگی اب عجیب دوہرائے پہ آگئ تھی سکندر خان یہ سب نوٹ کررہے تھے پر خاموش تھے جب کی ہانم بیگم کی طبعیت ٹھیک نہیں رہتی تھی جس سے وہ کجھ دوسرا سوچ نہیں پاتی تھی۔مرجان ماہا سے بات کرنے کی بہت بار کوشش کی پر ماہا ہمیشہ نو لفٹ کا بورڈ سامنے کرتی اب مرجان نے بھی خاموشی اختیار کرلی تھی شاہ ویر اور حیات گھومنے کے لیے سینگاپور گئے تھے ہر فکر پریشانی سے دور اپنی زندگی کے خوبصورت لمحات انجوائے کررہے تھے






یہ سیٹ کتنا پیارا ہے نہ۔ملیحہ نے ایک نیکلیسٹ باکس سے باہر نکال کر ستائش بھرے لہجے میں کہا۔
آنٹی نے کہا تھا ریسیپشن پہ پہننا ہے اُس کا جو ڈریس ہے اس پہ یہ میچنگ کرتا ہے۔ماہا نے ایک سرسری نظر اُس سیٹ پہ ڈال کر کہا۔
تم دونوں یہاں ہو باہر مریم آئی ہوئی ہے۔مہرین کمرے میں آکر اُن سے بولی
خیریت وہ کیوں آئی ہیں؟ملیحہ نے پوچھا ماہا جب کی سارا پھیلاوا سمیٹنے لگی۔
کیا مطلب کیوں ماہا کو لینے آئی ہے شادی میں دن کتنے بچے ہیں ماہا کے ساتھ جاکر شاپنگ کروانی ہے اس نے شادی کا جوڑا ابھی تک فائنل نہیں ہوا۔مہرین نے بتایا۔
وہ خود لیں آتی میرا جانا ضروری ہے کیا۔ماہا نے بیزار سی شکل بنائے کہا۔
بےوقوفوں والی بات مت کرو اور جلدی سے باہر آوٴ۔مہرین گھور کہتی باہر نکل گئ ماہا نے ملیحہ کو دیکھا جو کندھے اُچکاگئ تھی۔
اسلام علیکم!!ماہا باہر آکر سلام کرنے لگی۔
وعلیکم اسلام بیٹا اگر تیار ہو تو چلیں لیٹ ہورہا ہے۔مریم بیگم نے کہا
جی چلیں میں تیار ہوں۔ماہا نے کہا تو دونوں مہرین کو خُدا حافظ کہتی مال جانے کے لیے نکل گئ۔







تباہ ہوجاوں نشے میں
یہ عشق سے تو بہتر ہے
عروہ بہت چاہتی ہے تمہیں اُس کو قبول کرلوں دیکھنا اُس کی چاہت اور محبت دیکھ کر تمہیں ماہا یاد نہیں رہے گی۔فرزام ایک بھائی ہوتا اپنے دوست کے سامنے یہ کس دل سے کہہ رہا تھا بس وہ جانتا تھا پر اُس کو نہ تو اپنی بہن کی حالت دیکھی جارہی تھی اور نہ اب جان سے عزیز دوست کی۔
جس کو میں چاہتا ہوں وہ مجھے نہیں چاہتی اِس لیے مجھے کسی اور کی ضرورت نہیں۔زرجان سپاٹ انداز میں بولا۔
جس تم چاہوں وہ تمہیں نہ چاہے تو اس کو موقع ضرور دو اپنی زندگی میں جو تمہیں چاہتا ہے۔فرزام نے ایک اور کوشش کرنا چاہی۔
پلیز فرزام مجھے یہ سب نہ کہو میرے دل نے بس ماہا کو چاہا ہے اُس کے علاوہ میرا کسی اور کے بارے میں سوچنا بھی حرام ہے۔زرجان نے کہا
کجھ دنوں بعد شادی ہے اُس کی پروفیسر منان کے ساتھ ابھی تو تم سے بس دور ہے پھر وہ پروفسر منان کے دسترس میں آجائے گی پھر کیا کرو گے تم۔فرزام نے جیسے اُس کی دُکھتی رگ میں ہاتھ نہیں پیر رکھ ڈالا۔
وہ ہمیشہ میرے رہے گی میں نے اپنی دعا میں مانگا ہے ان کو پھر کیسے اللہ کسی اور کو اُن کا ساتھ دے گا۔زرجان عجیب انداز میں بولا۔
تم رہو اپنی خوابوں کی دُنیا میں کیونکہ حقیقت سے تم منہ موڑ بیٹھ کر اپنا خسارہ کررہے ہو اور کجھ نہیں۔فرزام نے غصے سے کہا۔
میں چلتا ہوں اب۔زرجان اپنی جگہ سے کھڑا ہوتا بولا۔
دیکھو زر محبت میں دوری انسان کو کس عذاب میں ڈالتی ہے یہ تم اچھے سے جانتے ہو تمہارا مجھ پہ احسان ہوگا اگر تم اِس عذاب سے میری بہن کو نکالو۔
جو میرے اختیار میں نہ ہو مجھے وہ کرنے پہ مت کہو تم میرے بہت اچھے دوست ہو میں نہیں چاہتا اِس میں ڈرار آئے میں ماہا سے عشق کرتا ہوں مجھے یقین ہے وہ میرے پاس آئے گی میرا عشق میری تمنا لاحاصل نہیں ایک سال سے میں ان کو چاہتا ہوں یہ زیادہ لمبا عرصہ نہیں پر میں نے اِس ایک سال میں جتنا اللہ سے ان کو مانگا ہے نہ اُس کا کوئی حساب نہیں میں جتنی دفع سانس لیتا ہوں نہ میری ہر ایک سانس ان کے ملنے کی دعا کرتی ہے پھر میں کیسے کسی دوسرا کا ہاتھ تھام لوں یہ سوچ کرکے وہ میری نہیں۔زرجان ایک سانس میں بولتا فرزام کو شاکڈ چھوڑتا وہاں سے جاچُکا تھا۔







آج ماہا کا مایوں تھا اِس وقت وہ گرین اور پیلے کلر کے امتزاج شلوار قمیض پہنے بلکل ایک نازک گُڑیا لگ رہی تھی ہاتھوں میں گجرے پہنے ہوئے تھے باقی سب زیور پہننے سے اس نے انکار کردیا تھا اِس وقت وہ لڑکیوں کے جھرمٹ میں الگ جھولے پہ بیٹھی ہوئی تھی جہاں اب رسم ادا ہورہی تھی۔
بہت خوبصورت لگ رہی ہو ماشااللہ سے۔مہرماہ نے اُس کے ماتھے پہ بوسہ دے کر کہا ماہا نے مسکراکر اس کی طرف دیکھا پر مہرماہ کی آنکھوں میں نمی دیکھ کر اُس کو حیرت ہوئی
آنٹی آپ کی طبیعت ٹھیک ہے؟ماہا نے فکرمند ہوکر پوچھا۔
ہاں کیوں؟مہرماہ کو اُس کا پوچھنا سمجھ نہیں آیا۔
بس ایسے ہی۔ماہا نے ٹالنے والے انداز میں کہا۔
ملیحہ کی بچی اب بس کرو یہ۔ملیحہ نے جیسے ہی ہلدی ماہا کے چہرے پہ لگائی تو ماہا نے دانت پیسے کیونکہ پہلے ہی اُس کے کپڑے خراب ہوگئے تھے۔
کیا ہے چپ کرو تم۔ملیحہ نے اُس کو آنکھیں دیکھائی۔
موم میں کمرے میں جانا چاہتی ہوں۔ماہا نے پاس گُزرتی مہرین سے کہا۔
اچھا میں لیں چلتی ہوں۔مہرین نے کہا
نہیں آپ مہمانوں کو دیکھے میں جاتی ہوں۔ماہا نے آرام سے کہا تو مہرین نے کجھ نہیں کہا اُس کو پہلے ہی بہت سارے کام تھے کرنے کے لیے۔
تم۔ماہا اپنے کمرے میں آئی تو زرجان کو دیکھ کر شدید حیران ہوئی۔
زرجان نے ماہا کو دیکھا جو مایوں کے ڈریس میں تھی چہرے پہ جگہ جگہ ہلدی لگی ہوئی تھی جس سے وہ بہت کیوٹ معصوم اور پیاری لگ رہی تھی زرجان کا کے جلتے دل اور پیاسی آنکھوں کو قرار سا آگیا تھا اُس نے ماہا کی بات کا جواب دیا بنا اُس کے پاس آتا کھڑا ہوا۔
آپ بہت پیاری لگ رہی ہیں۔
تم یہاں کیوں اور کیسے آئے۔!
آپ کو دیکھنے آیا تھا کھڑکی سے آیا ہوں۔زرجان نے اشارے سے بتاکر کہا تو ماہا کو زرجان کی دماغی حالت پہ شک گُزرا۔
مجھے کیوں دیکھنا تھا۔ماہا کو سمجھ نہیں آیا
آپ نے میرا پرپوزل کیون ریجیکٹ کیا کیا میں اتنا برا ہوں۔زرجان اُداس ہوکر بولا
کہیں سے پی کر آئے ہو کیا جو ایسی بہکی بہکی باتیں کررہے ہو۔ماہا کو زرجان کی سرخ ہوتی آنکھیں دیکھ کر شک گُزرا۔
نہیں اللہ کی قسم میں نے اُس کی حرام شے کو دیکھا بھی نہیں۔زرجان فورن سے اپنی بات کا یقین دلانے لگا۔
ٹھیک ہے قسم کیوں اُٹھارہے ہو میں نے بس ایسے پوچھا۔ماہا کو اس کا قسم اٹھانا عجیب لگا۔
آپ نے بتایا نہیں میرا پرپوزل کیوں ریجیکٹ کیا۔زرجان نے دوبارہ پوچھا۔
ریجیکٹ کی کوئی بات نہیں تم اپنی عمر پھر میری عمر دیکھو جواب مل جائے گا۔ماہا نے آرام سے کہا
کیا ہوا میری اور آپ کی عمر کو۔زرجان نے سنجیدگی سے کہا
تمہیں اتنا ناگوار گُزر رہا ہے تو میں بتادو ایسا کجھ نہیں نہ میں نے تمہیں ریجیکٹ کیا ہے اور نہ ایسا ارادہ تھا تم جس عمر پہ ہو اپنی پڑھائی پہ دھیان دو پھر شادی کرلینا اپنی عمر کی لڑکی سے۔ماہا نے آرام سے مشورہ دیا۔
میں یہاں اپنی اور آپ کی بات کررہا ہوں آپ کسی تیسرے کو درمیان میں نہ لائے آپ نے پروفیسر منان سے شادی کا فیصلہ کرنے وقت ایک بار بھی میرا نہیں سوچا۔زرجان کے منہ سے شکوہ نکلا۔
تم مجھے کنفیوز کررہے ہو تمہارے بارے میں مجھے کیا سوچنا تھا تمہیں تو میرا شکرگزار ہونا چاہیے کے تم اپنے سے بڑی عمر کی لڑکی سے شادی کرنے سے بچ گئے۔ماہا زرجان کے روبرو کھڑی ہوتی بولی۔
سیرسیلی آپ کو لگتا ہے میں شکرگزار ہوگا اِس۔بات پہ۔زرجان زخمی مسکراہٹ سے بولا
توں اور نہیں کیا۔ماہا جواب دیتی مرر کے سامنے کھڑی ہوئی۔
میں محبت کرتا ہوں آپ سے۔زرجان ماہا کے پیچھے کھڑا ہوتا بولا ماہا شاکڈ سی اُس کو دیکھنے لگی پھر شاکڈ کی جگہ غصے نے لیں لی۔
جانتے بھی ہو کیا بات کررہے ہو تم۔ماہا نے دانت پیستے ہوئے کہا زرجان کی بات پہ اُس کو کیا کجھ یاد نہیں آیا تھا۔
آپ ایک سال سے ہمیں پڑھاتی ہیں نہ تو کیا کبھی آپ نے میری آنکھوں اپنے لیے جذبات نہیں دیکھے کبھی پڑھنے کی کوشش نہیں کی۔زرجان نے سوال پہ سوال کیا۔
زرجان ابھی میرے کمرے سے نکلو ورنہ مجھ سے بُرا کوئی نہیں ہوگا۔ماہا نے ضبط کی حدود کو چھوتے زرجان سے کہا
آپ میری بات کا جواب دے پہلے۔زرجان بھی اپنے نام کا ایک تھا۔
چھ سال بڑی ہوں تم سے کجھ تو لحاظ کیا ہوتا ٹیچر بھی ہوں تمہاری اگر تم بھول گئے ہو تو۔
میں کجھ نہیں بھولا ٹیچر آپ میری یونی میں ہے۔زرجان نے جواب دیا
کمرے سے جارہے ہو یا نہیں۔ماہا نے سرد لہجے میں کہا
محبت عمر دیکھ کر نہیں ہوتی ابھی بھی دیر نہیں ہوئی پلیز میری محبت کو قبول کردے یقین کریں دنیا کی ساری خوشیاں آپ کے قدموں میں ڈھیر کردوں گا۔زرجان ماہا کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھتا کسی ہارے ہوئے جواری کی طرح بولا۔
گیٹ آوٴٹ۔ماہا نے تیز آواز میں کہا۔
میں آپ کے بغیر نہیں رہ سکتا ماہا میرے جذبات میں کوئی کھوٹ نہیں میں وعدہ کرتا ہوں آپ بس ایک دفع میرا ہاتھ تھام لیں میری وجہ سے کبھی آپ کو کوئی دُکھ نہیں پہنچے گا۔زرجان جانتا تھا ماہا اتنی آسانی سے اُس کا یقین نہیں کریں گی اِس لیے دوبارہ اپنی محبت کا اعتبار کروانا چاہا۔
میں جو کہا سننا نہیں تم نے۔ماہا چیخ پڑی زرجان ماہا کو زور سے سانس بھرتا دیکھا تو چہرے پہ پریشانی کے تاثرات نمایاں ہوئے زرجان سائیڈ ٹیبل پہ رکھا جگ میں سے پانی گلاس میں انڈیل کر ماہا کی طرف آیا۔
پانی پیئے۔زرجان فکرمند ہوتا بولا تو ماہا نے اس کا بڑھایا ہوا ہاتھ جھٹک دیا جس سے چھناک کی آواز سے گلاس ٹوک گیا۔
گو۔ماہا کے پھر سے کہنے پہ زرجان نے ایک بے بس نگاہ اُس پہ ڈال کر کھڑکی طرف گیا نیچے آس پاس نظر ڈال کر وہ جیسے آیا تھا ویسے چلاگیا اُس کے جانے کے بعد ماہا نے ڈریسنگ ٹیبل پہ رکھے ساری چیزوں کو نیچے گِرادیا اور خود فرش پہ سر ہاتھوں میں تھام کر بیٹھ گئ۔




شاہ میر مہرماہ لان میں چہل قدمی کررہے تھے جب شاہ میر نے مہرماہ سے کہا۔
زر یونی جاتا ہے اب؟
نہیں تم صبح آفس چلے جاتے ہو زر نے تو تب سے یونی جانا بند کیا ہوا ہے جب سے ماہا نے اپنی شادی کی وجہ سے یونی سے چھٹیاں لیں رکھی ہے بہت حرج ہوگیا ہے زر کا پڑھائی میں پر ایک وہ ہے جس کو پرواہ نہیں اپنے مستقبل تباہ کرنے کے در پہ ہے۔شاہ میر کے سوال پہ مہرماہ نے اپنے دل کا غبار نکالا۔
اُس کو یونی بھیجے ڈیڈ کو شک ہورہا ہے اب۔شاہ میر نے سنجیدگی سے کہا
جانتی ہوں وہ بہت غور سے زر کو دیکھتے ہیں۔مہرماہ نے پریشان ہوکر کہا۔
زر کو سمجھاؤ یہ زندگی ہے اور زندگی میں سب کجھ نہیں ملتا۔
وہ تمہارا بیٹا ہے تم سمجھے تھے جو وہ سمجھے گا۔مہرماہ نے نفی میں سرہلاتے ہوئے کہا
میں کرتا ہوں اُس سے بات۔شاہ میر کجھ سوچ کر بولا۔
صرف بات مت کرنا اُس کو ہر طریقے سے سمجھانا تاکہ عقل ٹھکانے پہ آئے۔مہرماہ نے کہا
آپ فکر نہیں کریں میں سب سنبھال لوں گا۔شاہ میر نے مسکراکر مہرماہ کو رلیکس کروانا چاہا۔





بارہ دن مایوں میں ویسے کون بیٹھتا ہے تمہاری ہونے والی ساس نے بڑا ظلم کیا ہے اپنی ساس کا بدلا تم سے لیں رہی ہے۔ملیحہ نے خاموش بیٹھی ماہا سے کہا جب کی ماہا سمجھ نہ پائی ملیحہ افسوس کررہی ہے یا مذاق اُڑا رہی ہے۔
پہلے تو لڑکیاں مہینہ بھر روپ آنے کے لیے مایوں میں بیٹھا کرتی تھی آج کل تو دو چار دن ہی مشکل سے ان کا مایوں میں گُزارا ہوتا ہے میرے وقت سے بھی تم واقف ہو۔ملیحہ نے پھر سے سلسلہ کلام جوڑا۔
خاموش رہو یا باہر نکلو۔ماہا نے بے زار لہجے میں کہا
ماہا سوچنے والی بات ہے ایک مہینہ ایک ڈریس ایک جگہ لڑکیوں کا گُزارا کیسے ہوتا ہوگا پھر جب ان کی شادی کا دن آتا ہوگا ان کے بال تو چڑیوں کا گھونسلہ بن جاتا ہوگا کتنے مشکل سے بالوں میں برش آتا ہوگا۔ملیحہ بنا ماہا کی بات پہ دھیان دیئے بولنے لگی تو ماہا بیڈ سے اٹھ کر اُس کا بازوں پکڑا۔
میرے سر میں پہلے ہی بہت درد ہے تم مزید مت دو۔ماہا اُس کو کمرے کے دروازے کے پاس کرتی دانت پیس کر بولی تو ملیحہ کا منہ کُھل گیا۔
مایوں میں بیٹھی لڑکیاں غصہ نہیں کرتی اور نہ ہی تیز آواز میں بولتی ہے۔ملیحہ نے اس کی معلومات اضافہ کیا۔
زیادہ تم میری بڑی اماں مت بنو۔ماہا دروازہ بند کرنے والی تھی پر درمیان میں ملیحہ نے اپنا ہاتھ رکھ دیا۔
میں نے تمہاری اور زر کی باتیں سن لی تھی۔ملیحہ کی بات پہ ماہا خاموشی سے اُس کو دیکھتی رہی۔
زر بہت اچھا لڑکا ہے تمہیں منان کے بجائے زر کا انتخاب کرنا چاہیے تھا۔ملیحہ نے سنجیدگی سے کہا۔
وہ ایک امیچور لڑکا ہے چھ سال مجھ سے چھوٹا بھی تم چاہتی ہوں میں ایسے لڑکے کا انتخاب کرتی تاکہ لوگ آتے جاتے میرا مذاق اُڑاتے کے میں نے اپنے سے کم عمر لڑکے سے شادی کی ہے۔ماہا کا دل کیا ملیحہ کی بات پہ ماتم کریں۔
وہ امیچور لڑکا تم سے محبت کرتا ہے اور محبت میں ظاہری شخصیت یا عمر سے فرق نہیں پڑتا رہی بات لوگوں کی تو ان کی تو خیر ہے ان کا کام بس باتیں بنانا ہے یہ ہماری زندگی ہے اپنی زندگی کا فیصلہ کرنے وقت ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہیے کے لوگ کیا کہے گے لوگ تو کسی بھی حال میں ہمیں خوش نہیں دیکھ سکتے بہتر کے کے ہم ان کے بارے میں سوچنا ختم کریں کیونکہ جتنے لوگ اُتنی زبانیں ہم نہ تو کسی کی زبان بند کرسکتے ہیں اور نہ کسی کی سوچ بدل سکتے ہیں یہ معاشرہ کسی کم سن لڑکی کی شادی تو بڑی عمر کے مرد سے کروادیتا ہے پر اگر لڑکی کجھ دن بھی لڑکے سے بڑی ہو تو اِس معاشرے کے لوگوں کے مُنہ کُھل جاتے ہیں۔ملیحہ نے بے حد سنجیدہ ہوکر اُس کو سمجھانا چاہا۔
میں یہاں کسی اور کے مایوں میں بیٹھی ہوں اور تم کسی دوسرے مرد کی سوچ میرے دماغ میں ڈال رہی ہوں۔ماہا کو کجھ اور نہ سوجھا تو یہ کہا۔
دیکھو ماہا میں تمہاری بہن ہوں جیسے تمہارے نزدیک میری خوشیاں ضروری ہیں اُسی طرح مجھے بھی زر کے علاوہ تمہیں کوئی خوش نہیں رکھ سکتا اگر تمہیں لگتا ہے کے منان تمہیں چاہتا ہے تو میں ایک بات بتادوں وہ تمہاری خوبصورتی کی وجہ سے شادی کا خواہشمند ہیں۔ملیحہ نے رسانیت سے کہا
زرجان بھی میری خوبصورتی کی وجہ سے اٹریک ہوا ہوگا۔ماہا نے طنزیہ کہا
وہ اگر تمہاری خوبصورت چہرے سے محبت کرتا تو بس اس کو افسوس ہوتا ناکہ تمہارا کسی اور کے ہونے کا سوچتے خود کو تڑپاتا یا اذیت دیتا مرد ایسے ہی نہیں روتا اگر کبھی تم مرد کی آنکھوں میں نمی دیکھو تو سمجھ جانا وجہ بڑی ہے۔ملیحہ نے مسکراکر کہا پر ماہا خاموش رہی وہ فلحال کجھ بھی سمجھنے کی حالت میں نہیں تھی پیار،محبت پہ یقین تو اُس کا بہت پہلے ہی اُٹھ گیا تھا۔
دوھوکہ ایک دیتا ہے
بھروسہ سب سے اٹھ جاتا ہے۔







زرجان بہت دنوں بعد آج یونی آگیا تھا پر اُس کا دماغ پڑھائی میں لگ نہیں رہا تھا اُس کی غیردماغی حالت ہر ایک نے نوٹ کی تھی ابھی بھی زرجان اپنی ایک کلاس مس کرتا سیڑھیوں کے پاس بیٹھا تھا جب عروہ ساتھ کجھ فاصلے پہ بیٹھ کر زرجان کو دیکھنے لگی جس کو شاید یہ تو محسوس نہیں ہوا کے کوئی اُس کے ساتھ بیٹھ چُکا ہے۔
کاش ایسا دن بھی آئے تم اتنی محویت سے مجھے سوچو۔عروہ نے مسکراکر زرجان سے کہا تو زرجان نے گردن موڑ کر خالی نظروں سے اُس کو دیکھا۔
میں ایک سیراب ہوں میرے تک آنے سے بہتر ہے تم اپنا راستہ بدل ڈالوں۔زرجان بے تاثر لہجے میں بولا۔
جنہیں راستوں سے عشق ہو
انہیں کیا پرواہ منزل کی۔
زرجان کی بات پہ عروہ نے اچھے بھلے شعر کا ستیاناس کیا۔
میں کسی اور کو چاہتا ہوں۔یہ سننے کے بعد عروہ کتنی دیر تک سناٹوں کی زد میں رہی آنکھیں پتھرا سی گئ تھی اُس کو تو لگتا تھا آج نہیں تو کل زرجان اُس کی محبت کو قبول کرلیں گا ابھی جیسا بھی رویہ رکھے بعد میں وہ آئے گا تو بس اُس کے پاس تو پھر یہ کیا کہہ رہا تھا اُس کے سامنے اُس کے ساتھ بیٹھ کر وہ کسی اور کی محبت کا دعویٰ کررہا تھا وہ کیسے کسی اور کی چاہت کرسکتا تھا۔
بہت بُرا مذاق تھا۔عروہ لڑکھڑاتی آواز میں بولی۔
میری زندگی کی خوبصورت حقیقت ہے۔زرجان کے چہرے پہ مسکراہٹ چھاگئ جب نظروں کے سامنے ماہا کا مسکراتا عکس نظر آیا۔
پانچ سال سے میں تمہارے پیچھے ہوں اور تم کیسے یہ کہہ سکتے ہو کے تمہیں کسی اور سے محبت ہے۔عروہ نے زرجان کو کھڑا ہوتا دیکھا تو خود بھی کھڑی ہوتی ہوئی بولی۔
میں نے نہیں کہا تھا اپنے کیے کی تم خود زمیدار ہو ہمیشہ سے کہا تھا میں نے مجھے تم میں دلچسپی نہیں۔زرجان نے ناگوار نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا۔
تمہیں مجھ سے شادی کرنی ہوگی زر ورنہ میں خودکشی کرلوں گی۔عروہ نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا۔
حرام موت مرنے ہے تو شوق سے مرو پر میں شادی نہیں کرسکتا۔زرجان کی بات پہ عروہ نے اس کا گریبان پکڑلیا۔
اپنی حد میں رہو یونی ہے یہ۔زرجان ایک جھٹکے میں اس کو خود سے پرے دھکیلتا بولا۔
تم اتنے بے رحم کیسے ہوسکتے ہو ترس نہیں آتا مجھے پہ۔عروہ کا چہرہ آنسو سے تر ہوگیا تھا اُس کی حالت قابلِ رحم تھی پر زرجان نظرانداز کرگیا۔
اپنی زندگی ضائع مت کرو کسی اچھے انسان کو تم ڈیزرو کرتی ہو۔زرجان کہتا سائیڈ سے گُزرگیا عروہ ساکت سی اپنی جگہ پہ جمی رہی اُس میں ذرہ ہمت نہیں تھی کے وہ ہل بھی پاتی۔
ٹوٹ کر چاہا تھا تمہیں،
تمہیں چاہ کر ٹوٹیں ہیں






اتنا وقت ہوگیا اب کال کی ہے۔مرجان شکوہ کناں انداز میں کہا۔
سوری مرجان وہ دراصل مصروف تھی ورنہ روز وقت پہ کال کرتی ہوں۔ملیحہ نے لب دانتوں تلے دبائے کہا۔
مجھے یاد آرہی ہے تمہاری کب آؤں گی؟مرجان نے بےچارگی سے کہا
جب ماہا کی شادی ہوجائے موم اکیلی ہوتی ہیں کام میں زیادہ نہیں تو تھوڑی مدد ہوجاتی ہے اُن کو میری طرف سے۔ملیحہ نے جواب دیا۔
اچھا اب دعا ہے جلدی سے یہ دن ختم ہوجائے۔مرجان کی بات پہ ملیحہ کی ہنسی چھوٹ گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ امیچور لڑکا تم سے محبت کرتا ہے۔
ماہا کمرے کی کھڑکی کے پاس کھڑی تھی کانوں میں کبھی زرجان کی آواز گونجتی تو کبھی ملیحہ کی جس سے اُس کو نیند نہیں آرہی تھی۔
ملیحہ کی بچی نے کیا فتور ڈال دیا میرے دماغ میں۔ماہا جھنجھلا کر کھڑکی کا دروازہ بند کرتی بیڈ کے پاس آئی۔
مجھے سوچنا نہیں ہے کسی اور کے بارے میں اگر میں نے منان کا انتخاب کیا ہے تو مجھے چاہیے اپنی سوچو میں بھی اُس کو شامل کرو ناکہ کسی اور کو۔ماہا نے خود کو باوار کروایاں اور سونے کے لیے لیٹ گئ۔





زرجان عشاء کی نماز پڑھتا سونے والا تھا جب اُس کے موبائل پہ میسج ٹون بجی زرجان نے ہاتھ بڑھاکر سیل فون اُٹھایا تو عروہ کا ایس ایم ایس تھا جسے دیکھ کر زرجان کے چہرے کے زاویے بگڑے مرے دل کے ساتھ اُس نے میسج اوپن کیا۔
وہ طلب نہ تھا عطا تھا،خواہش نہ تھا دعا تھا
وہ کبھی نہ جان سکے گا،وہ میرے لیے کیا تھا۔
زرجان نے آنکھیں چھوٹی کیے بار بار میسج کو پڑھا جانے کیوں اُس کو عجیب سا لگا مگر وہ اپنا سر جھٹکتا بیڈ پہ آرام سے لیٹ گیا۔
زرجان کو سوئے ہوئے ابھی کجھ ہی وقت ہوا تھا جب خاموش رات میں اس کے موبائل پہ آتی کال نے پورے کمرے ارتعاش پیدا کیا کال آتی بند ہوگئ تھی اب دوبارہ فون بجنے لگا تھا سوئے ہوئے وجود میں ہلکی سی جنبش ہوئی۔تیسری بیل پہ زرجان مکمل طور پہ نیند سے بیدار ہوا زرجان نے ہاتھ یہاں وہاں مار کر وہ تلاش کیا موبائل ہاتھ میں لیکر جب اسکرین پہ احتشام کی کال دیکھی تو سیدھا ہوتا کال پِک کی۔
زر کہاں ہے توں؟احتشام نے عجلت بھرے انداز میں پوچھا۔اُس کے سوال پہ زرجان نے فون کان سے ہٹاکر وقت دیکھا جو رات کے گیارہ بجے کا سندیسہ دے رہا تھا۔
ہر شریف مرد اِس وقت اپنے گھر پہ ہوتا ہے۔زرجان نے سائیڈ لیمپ آن کرتے جواب دیا۔
سیٹی ہوسپٹل آجا فورن سے۔احتشام کی بات پہ زرجان کا دل کسی انہونی کے احساس سے دھڑکا۔
سب خیریت تو ہے؟
اللہ کریں سب خیر کو عروہ نے اپنی کلائی کی نس کاٹ لی ہے۔احتشام نے بتایا تو زرجان کجھ بول نہ پایا۔
تمہیں مجھ سے شادی کرنی ہوگی زر ورنہ میں خودکشی کرلوں گی۔
عروہ کی کجھ دن پہلے کہی بات یاد آئی تو زرجان نے زور سے اپنی آنکھیں بند کرلی۔






چچی جان زر نے آپ کو کجھ بتایا تھا وہ کہاں جارہا ہے۔مہرماہ نے پریشان لہجے میں ہانم بیگم سے پوچھا صبح وہ زرجان کے کمرے میں گئ تو کمرہ خالی تھا بعد میں گارڈ سے معلوم ہوا کہ زرجان رات میں بہت تیزی سے کہی چلاگیا تھا تب سے مہرماہ پریشان تھی شاہ میر نے بہت بار کالز وغیرہ کی مگر وہ اپنا فون کمرے میں ہی بھول گیا تھا۔
مجھے بتاکر جاتا تو میں بتادیتی۔ہانم بیگم نے گہری سانس لیکر کہا۔
لاپرواہ ہوگیا ہے زر اتنا بچپن میں مجھے تنگ نہیں کیا جتنا اب ناک میں دم کرتا ہے۔مہرماہ کہتی کمرے سے باہر چلی گئ۔
کجھ پتا چلا؟مہرماہ نے شاہ میر کو ہاتھ میں موبائل پکڑے سوچ میں گم دیکھا تو پوچھا۔
ہممم اُس کے دوست سے میرا رابطہ ہوا زر کا دوست ہے نہ فرزام اُس کی بہن نے خودکشی کرنے کی کوشش کی ہے زر اُس کے ساتھ ہے۔شاہ میر نے گہری سانس بھر کہا تو مہرماہ نے منہ پہ ہاتھ رکھ دیا۔
اللہ اُس کو زندگی بخشے پر ایسا کیوں کیا اُس نے۔مہرماہ نے افسوس سے کہا۔
پتا نہیں اللہ بہتر جانتا ہے بس اللہ اُس پہ اپنا رحم فرمائے زندگی اللہ کی دی ہوئی نعمت ہے خودکشی کی سزا اتنی بھیانک ہے کے انسان سو دفع ضرور سوچے جانے ایسی کیا وجہ ہوگی۔شاہ میر نے رنجیدہ آواز میں کہا۔
اپنے والدین کا سوچ لیتی۔مہرماہ نے کہا۔
آپ کو چلنا ہے میں ایک دفع ہوسپٹل جاکر دیکھ آؤں۔شاہ میر نے مہرماہ سے پوچھا۔
میں بھی چلتی ہوں سمیرا(عروہ کی والدہ) سے میری اچھی بات چیت ہوتی ہے۔مہرماہ نے حامی بھرتے کہا۔





زرجان خاموش سا دیوار سے ٹیک لگائے کھڑا تھا سامنے بینچ پہ عروہ کی والدہ بیٹھی رونے میں مصروف تھی تھیں والد کا انتقال آج سے چند سال پہلے ہی ہوچُکا تھا وہ تینوں ہی بس ایک دوسرے کا سہارا تھے عروہ کی حرکت نے فرزام اور اُس کی والدہ کو توڑ کے رکھ دیا تھا ڈاکٹرز نے کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا تھا ان کا کہنا تھا مریض کو ہوسپٹل لانے میں کافی دیر کردی تھی جس میں اُس کے بچنے کے چانسس بہت کم تھے وہ بس کوشش ہی کرسکتے تھے باقی اللہ کی مرضی۔
زرجان عروہ کی حالت کا قصوروار خود کو سمجھ رہا تھا احساسِ شرمندگی اُس کو فرزام سے نظریں ملانے سے قطرا رہی تھی جب عروہ کی ماں کو روتا دیکھتا تو دل ڈوب مرنے کو چاہتا۔
اسلام علیکم!!!شاہ میر اور مہرماہ ایک ساتھ آتے سلام کیا مہرماہ سمیرا کے پاس بیٹھ گئ تسلی کروانے کے لیے جب کی شاہ میر فرزام کی طرف آیا جو بنا حرکت کیے ایک جگہ بیٹھا ہوا تھا۔
حوصلہ رکھو اللہ نے چاہا تو وہ بلکل ٹھیک ہوجائے گی۔شاہ میر کی بات پہ فرزام کے چہرے پہ عجیب سی مسکراہٹ آئی۔
حوصلہ ہے انکل اب بس ڈاکٹر کا انتظار ہے کے وہ آئے اور کہے سوری ہم آپ کے مریض کو بچا نہ پائے۔فرزام بے تاثر لہجے میں کہا
ایسی بات
شاہ میر کجھ کہنے والا تھا مگر سامنے نرس کے ساتھ ڈاکٹر کو آتا دیکھ کر خاموش ہوگیا۔
وی آر سوری زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے ہم آپ کے پیشنٹ کو بچا نہ پائے اللہ آپ سب کو صبر دے۔ڈاکٹر افسوس سےکہتا شاہ میر کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر چلاگیا جب کی ان کی بات نے سب کے پیروں سے زمین کھینچ لی تھی عروہ کی ماں دھاڑے مار مار کر رونے لگی شاہ میر نے فرزام کو دیکھا جو ابھی بھی ایک ہی پوزیشن میں بیٹھا ہوا تھا۔
فقط کجھ دنوں کی بات ہے
ہم آپ کو کبھی بھی کہیں بھی
میسر نہ ہوں گے۔
