Ishq Pr Zor Nahi By Abdul Ahad Butt NovelR50480 Ishq Pr Zor Nahi (Episode - 9)
Rate this Novel
Ishq Pr Zor Nahi (Episode - 9)
Ishq Pr Zor Nahi By Abdul Ahad Butt
یہ سنتے ہی کہ اس کا رشتہ جواد کے ساتھ کردیا گیا ہے٬٬٬___ زرمینے کا دل تھم سا گیا٬٬٬___ وہ وہاں سے اٹھ کر چلی گئی٬٬٬___
نائلہ نے اس کے چہرے پر چھائی ہوئی افسردگی دیکھ تو لی٬٬٬___ لیکن سب سے یہ کہہ دیا کہ ” لگتا ہے کہ ٬٬٬__ شرما گئی٬٬٬٬___”
امبر اٹھ کر اس کے پیچھے چلی گئی٬٬٬___
کمرے آئی تو اسے بیڈ پر بیٹھا ہوا پایا٬٬٬___
” زرمینے کین یو ایمیجن کہ تم میری بھابھی بنو گی٬٬٬___ مجھے تو بہت خوشی ہو رہی ہے٬٬٬___” امبر کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا٬٬٬___
” تم خوش ہو !! اور میں اداس !! ___” زرمینے نے اپنی افسردگی کا اظہار کیا٬٬٬___
” پر کیوں !! کیا تم اس رشتے سے خوش نہیں ہو؟؟ ٬٬٬___” اس نے اس سے سوال کیا٬٬٬___
” نہیں !! یہ بات تو تم اچھے طریقے سے جانتی ہو کہ میں نے ہمیشہ جواد کو اپنا بڑا بھائی مانا ہے اور بھائیوں سے بھی کیا کوئی شادی کرتا ہے کیا٬٬٬___”
زرمینے نے کہا٬٬٬___
” لیکن۔ بھائی نے تو ہمیشہ تمھیں چاہا ہے ٬٬٬__ میں نے ان کی آنکھوں میں تمھارے لیے پیار دیکھا ہے٬٬٬___” امبر نے جواد کی سائیڈ لینے کی کوشش کی٬٬٬٬٬___
” ہاں امبر میں اچھے طریقے سے جانتی ہوں کہ وہ مجھے پسند کرتے ہیں بلکہ انھوں نے تو مجھ سے بات بھی کی تھی٬٬٬٬___”
اس سے پہلے کہ وہ بات مکمل کرتی ٬٬٬___ امبر نے اسے خاموش کروایا اور کہا٬٬٬___
” واٹ !! بھائی نے تم سے بات کی اور تم نے انھیں منع کر دیا ایم آئی رائٹ٬٬٬___”
” ہاں پر مجھے ان سے شادی کسی بھی صورت نہیں کرنی٬٬٬___”
زرمینے نے اسے صاف صاف کہا٬٬٬___
” میرے خیال میں تمھیں اس بارے میں سوچنا چاہئیے ٬٬٬___ “
یہ کہہ کر امبر وہاں سے چلی گئی٬٬٬___
” سوچا ہے تو تب ہی تو کہہ رہی ہو میں٬٬٬____”
اس کے جانے کے بعد زرمینے نے خود سے کہا٬٬٬____
•°✓•°✓•°✓•°✓•°✓•°✓
وہ شیشے کے سامنے ہاتھ میں تیز دار چھری لیے کھڑی تھی٬٬٬٬___
” مجھے شہرام کے ساتھ ایسی زندگی نہیں جینی٬٬٬___ وہ صرف دھوکے باز ہے ٬٬٬___ اگر وہ مجھے دھوکا دے سکتا ہے تو وہ کسی کو بھی دھوکا دے سکتا ہے٬٬٬٬____”
وہ خود سے ہی باتیں کرنے میں مگن تھی٬٬٬___
اس وقت شہرام باہر سے گھر پہنچا ہی تھا ٬٬٬___ پر اسے پتہ نہ چلا٬٬٬___
اس نے چھری کو اپنی کلائی پر رکھا٬٬٬٬___
” جانتی ہوں خود کشی حرام ہے٬٬٬___ پر میری زندگی بھی حرام ہی ہے٬٬٬٬____”
اس نے چھری کو ایک ہی جھٹکے میں پیچھے کی طرف کھینچا اور پھر چھری اس کے ہاتھ سے نیچے گر گئی٬٬٬___
اور وہ حود بھی زمین پر گری٬٬”___ زمین پر اس کا خون پھیل گیا٬٬٬___
وہ اپنی آنکھیں بند کر گئی٬٬٬____
اتنی ہی دیر میں کمرے کا دروازہ کھلا اور شہرام نے کمرے میں داخل ہوتے ہی جو منظر دیکھا اس سے اس کی جان نکل گئی٬٬٬___
” شہزین !!! میری جان آنکھیں کھولو٬٬٬____”
وہ اس کے چہرے کو تھپتپھانے لگا٬٬٬____
شہرام نے شہزین کو اٹھایا اور گاڑی کی طرف بھاگا٬٬٬____
اس کی خالہ لاوئنچ میں ہی بیٹھی ہوئی تھی٬٬٬____
” شہرام !!!!!! کیا ہوا شہزین کو ؟؟؟؟ ٬٬٬___”
ساجدہ بیگم نے سوال کیا٬٬٬____
” شہزین نے اپنی نس کاٹ لی ہے٬٬٬٬____” یہ کہہ کر اس نے اسے گاڑی میں بٹھایا اور گاڑی ہسپتال کی طرف دوڑا دی٬٬٬____
” ڈاکٹر !!! ڈاکٹر !!! ” شہرام نے آتے ہی با آواز بلند کہا٬٬٬___
” کہاں مر گئے سب کے سب ڈاکٹر ٬٬٬___” وہ پھر ایک دفعہ بولا٬٬٬___ اتنی ہی دیر میں وہاں لیڈی ڈاکٹر آئیں اور انھوں نے شہزین کو فوراً آپریشن تھیٹر میں منتقل کرنے کا کہا٬٫٬٫___, اور خود بھی گئی٬٬٬٬____
شہرام وہی کھڑا رہا اور آپریشن تھیٹر کے سامنے چکر کاٹتا رہا٬٬٬___
اس کا دل تو کر رہا تھا کہ شہزین کی جان وہ خود لیں لے٬٬٬___ اس نے حرکت ہی ایسی کی تھی٬٬٬___
کچھ دیر بعد ٬٬___ ایک لیڈی ڈاکٹر باہر آئی اور اسے خوش خبری سنائی٬٬٬_____
” اب آپ کی وائف بالکل ٹھیک ہیں ٬٬٬___ آپ کچھ دیر تک انھیں گھر لے کر جاسکتے ہیں ٬٬٬____”
” جی ٹھیک ہے ڈاکٹر صاحب !! “
یہ سنتے ہی شہرام کے چہرے خوشی کی لہر ڈور گئی٬٬٬٬٬_____
•°✓•°✓•°✓•°✓•°✓•°✓
آج زاروان نے دوبارہ یونیورسٹی جوائن کی٬٬٬___
وہ دو سال بعد یونی آیا٬٬٬٬____ لیکن وہ بھی صرف کسی خاص مقصد کے ساتھ٬٬٬____
پہلے ہی دن اس نے ساری یونی کا جائزہ لیا ٬٬٬___ شائید کوئی سوراخ مل جائے٬٬٬__ پر ایسا کچھ بھی نہ ہوا٬٬٬____
آخر میں وہ اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا٬٬٬٬____
وہ موبائل میں اس قدر مگن تھا ٬٬٬___ اسے کسی کے آنے جانے کا پتہ نہ چل سکا٬٬٬___
چلتے چلتے اس کا کندھا کسی کے سر سے ٹکڑا گیا٬٬٬___ اور وہ پیچھے مڑا تو وہاں ایک خوبصورت سی لڑکی اپنا سر پکڑے کھڑی تھی٬٬٬____
” سو سوری !!! میم غلطی سے ہو گیا٬٬٬___ “
اس نے اس سے معافی بھی مانگ لی٬٬٬___
” اٹس آک غلطی میری ہی تھی٬٬٬___ دیکھ کر چلنا چاہئیے تھا مجھے٬٬٬____”
اس نے بھی اپنی غلطی تسلیم کی٬٬٬____
اور مسکرا کر وہاں سے چلی گئی ٬٬٬___
زاروان بھی پھر اپنی گاڑی کی طرف آگیا٬٬٬___ زندگی میں پہلی بار کسی لڑکی سے ٹکرایا تھا وہ٬٬٬____
•°✓•°✓•°✓•°✓•°✓•°✓
شہرام شہزین کا ہاتھ تھامے اسے گھر کے اندر لایا٬٬٬٬____
ساجدہ بیگم وہی کھڑی ان دونوں کا انتظار کر رہی تھی٬٬٬____ فون پر شہرام انھیں سب کچھ بتا تو چکا تھا٬٬٬___
لیکن پھر بھی انھیں اس کی فکر تھی٬٬٬___
” بیٹا !! اب کیسی طبعیت ہے تمھاری ٬٬٬____” جب وہ پاس آئی تو ساجدہ بیگم نے سوال کیا٬٬٬___
” خالہ !! بالکل ٹھیک ہے یہ آپ کو فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں کچھ دیر آرام کرنے کے بعد ٬٬٬__ ٹھیک ہو جائے گی٬٬٬____”
اس کے جواب دینے سے پہلے ہی شہرام نے ساجدہ بیگم کو جواب دیا٬٬٬____
شہزین نے کچھ کہنے کی بجائے ہلکہ سا مسکرا دیا٬٬٬____
وہ چل کر کمرے کی دہلیز پر پہنچی٬٬٬____ کمرے کا دروازہ کھولا تو سامنے جو زمین خون سے بھری ہوئی تھی وہاں ایک خون کا قطرہ نہ تھا٬٬٬____
” کیوں کیا تم نے ایسا ؟؟؟ ٬٬٬٬____” شہرام سرد لہجے میں بولا٬٬٬____
” میری زندگی !! میری مرضی ٬٬٬____” اس نے جواب دیا ٬٬٬٬____
” تمھاری زندگی !! اب صرف تمھاری نہیں ہے بھولو مت تمھارا ایک شوہر بھی ہے٬٬٬____ اور اگر تمھیں کچھ ہو جاتا تو میرا کیا ہوتا ؟؟؟تمھیں اندازہ ہے اس بات کا٬٬٬____”
شہرام نے اس کے بازو زور سے تھامے ہوئے تھے٬٬٬___ جس سے اس کے بازو میں درد ہو رہا تھا ٬٬٬____
” شوہر !! زبردستی مسلط کیے گئے ہو تم مجھ پر !! اور مجھے کچھ ہو بھی جاتا !! میں مر بھی جاتی تو تم تو دوسری شادی کر لیتے٬٬٬٬____”
اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور بولتی٬٬٬___
شہرام نے اس کے تیز رفتار چلتے لبوں پر اپنا ہاتھ رکھا٬٬٬___
“شششششش !!! کتنی دفعہ کہا ہے کہ یوں مرنے کی بات نہ کیا کرو٬٬٬____”
اس بات پر شہزین نے کندھے اور آچکائے اور بیڈ کی جانب بڑھی٬٬٬____
پر سر میں اچانک شدید درد ہونے کی وجہ سے لڑکھڑا گئی ٬٬٬___
شہرام اسے پکڑنے کے لیے آگے بڑھا پر شہزین نے اسے ہاتھ دیکھا کر وہی روکا اور بیڈ کا سہارا لے کر خود کو بچایا٬٬٬____
اس بات شہرام کو خوب غصہ آیا٬٬٬____ وہ پھر بیڈ کی جانب بڑھی٬٬٬___
پر شہرام نے ایک ہی جھٹکے سے اسے اپنے قریب کیا٬٬٬____
اب شہرام کا ایک ہاتھ اس کی کمر پر تھا اور ایک اس کے چہرے پر ٬٬٬____
اس کی اس حرکت پر غصہ شہزین کے منھ پر صاف دکھائی دے رہا تھا٬٬٬____
” ویسے تمھیں کسی نے بتایا نہیں کہ غصے میں بھی کتنی حسین لگتی ہو٬٬٬٬____” شہرام نے اس کے کان میں سرگوشی کی٬٬٬___
” نہیں !! پر آج تم نے بتا دیا نہ!! ٬٬٬___ ” وہ طنزیہ بولی٬٬٬___
” ہاں !! اب میرے علاؤہ کسی کے پاس یہ حق ہے بھی نہیں٬٬٬____”
اس نے اس کے چہرے سے بال ہٹائے اور اس کے قریب ہوا٬٬٬٬____
وہ اس کے اتنے قریب تھا کی اس کی سانسوں کو وہ اپنے چہرے پر محسوس کر پا رہی تھی٬٬٬____
شہزین نے اسے دھکا دے کر پیچھے کیا٬٬٬____
” مجھے نیند آرہی ہے٬٬٬____” یہ کہہ کر وہ بیڈ پر جا کر لیٹ گئی٬٬٬____
شہرام بھی بیڈ کی طرف بڑھا٬٬٬____
” ایک منٹ !! تم بیڈ پر سو گے٬٬٬____” شہزین اٹھ کر بیٹھی٬٬٬___
” ہاں تو اور کہا۔ں سو گا٬٬٬____”
” جی نہیں آپ صوفے پر سوئے گے٬٬٬___”
شہزین اس کی طرف ایک تکیہ اچھالا٬٬٬___ اسے پکڑ کر وہ صوفے پر جا کے لیٹ گیا٬٬٬___ اور اسے گھورنے لگا٬٬٬___ پر وہ سو گئی٬٬٬___
•°✓•°✓•°✓•°✓•°✓•°✓
” اسلام علیکم !! آنٹی ٬٬٫___” امبر نے نائلہ کی دوست نیلم کو آتا دیکھ کر کہا٬٬٬٬٬٬____
” وعلیکم السلام!! بیٹا امی کہاں ہیں؟؟؟ ٬٬٬٬____” نیلم نے پوچھا ٬٬٬____
” آنٹی وہ تو کمرے میں ہیں ٬٬___ آپ وہی چلی جائیں٬٬___ “
امبر نے جواب دیا٬٬٬___
“اچھا ٹھیک ہے٬٬٬__” یہ کہہ نیلم کمرے کی طرف بڑھی٬٬٬___
” ارے نیلم تم !! آج یہاں کیسے؟؟؟ ٬٬٬____”۔ نیلم نائلہ کے پاس آئی٬٬٬___
” ایک بہت بڑی آفر لے کر آئی ہوں تیرے لیے٬٬٬___” نیلم نے کہا٬٬٬___
” کیسی آفر ٬٬٬___” نائلہ لالچی کہی کی٬٬___
” ایک کڑوڑ کی آفر ہے٬٬٬___”
” کیا !! ایک کڑوڑ ٬٬٬٬___” نائلہ کو کافی حیرانگی ہوئی٬٬٬____
” ہاں ایک کڑوڑ ٬٬٬____ پر اس کے بدلے تجھے زرمینے دینی ہو گی٬٬٬____”
نیلم مدعے پر آئی٬٬٬____
” کیا!!! نابا با نا!! جواد زرمینے کو پسند کرتا ہے اور اس سے شادی کرنا چاہتا ہے٬٬٬___ میں اپنے بچے کا دل نہیں توڑ سکتی٬٬٬____”
نائلہ نے کہا٬٬٫___
” ارے نکمی !! اس سے کہی کہ وہ بھاگ اپنے عاشق کے ساتھ٬٬___ اور وہ جلد ٹھیک ہو جائیں گا ٬٬___ اور سوچ جائیداد بھی یہی رہے گی تیرے پاس اور اگر کل کو زرمینے جائیداد کی اک لوتی وارث ہونے کا حق جتائے تو ٬٬٬____ اور یہ ایک کڑوڑ والی آفرز روز روز نہیں آتی٬٬٬____”
نیلم نے نائلہ سے کہا٬٬٬____
اس بات پر نائلہ سوچ میں پڑ گئی٬٬٬____ کہ یہ بات بھی سہی ہے٬٬٬___
اور اس نے اپنے لالچ کی حد کر دی اور زرمینے کو بیچنے کا فیصلہ کیا٬٬٬٬____
پر وہ یہ نا جان پائی کہ باہر کھڑی امبر سب سن چکی تھی٬٬٬٬_____
