Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Pr Zor Nahi (Episode - 8)

Ishq Pr Zor Nahi By Abdul Ahad Butt

” جبار !! ت تم ن نے مجھے دھوکا کیوں دیا؟؟؟٬٬٬٬__” علی حیدر پریشانی کے عالم میں بولتا ہے٬٬٬__

” دھوکا !! نا نانا !! دھوکا نہیں بلکہ میں نے تو بدلہ لیا ہے اپنی بہن کا٬٬٬__ یاد تو ہوگی تجھے٬٬٬__” جبار کی یہ بات سنتے ہی اس کے پسینے چھوٹ گئے٬٬٬____ لیکن وہ کچھ سننے یہ کہنے کی حالت میں نہ تھا٬٬٬__ درد سے کراہتے ہوئے علی حیدر وہی بے ہوش ہو گیا٬٬٬__

” اٹھاؤ اسے !! اور لے کر چلو٬٬٬__” شہرام نے کہا٬٬٬٬__ ” جی سر !! ٬٬٬___”

اسے ہوش آئی تو کمرے میں صرف ایک لائٹ چل رہی تھی جو کہ اس کے سر کے بالکل اوپر تھی٬٬٬__

” یہ میں کہاں ہوں ؟؟؟٬٬٬___” اس نے ہاتھ پاؤں ہلانے چاہیں پر نہ کر پایا٬٬٬٬___ کیونکہ اس کا پورا جسم رسیوں سے جکڑا ہوا تھا٬٬٬__

شہرام اس کے سامنے آکر بیٹھا٬٬٬__ اور پھر بولا٬٬٬__

” جبار !! یہ مجھ سے زیادہ تیرا گنہگار ہے٬٬٬٬٬__ تو اسے اس کے انجام تک بھی تو ہی پہنچا٬٬٬٬__” شہرام نے اسے اپنی جگہ آنے کو کہا اور اسے تیز دار آلہ دیا٬٬٬٬٬___

” چل بھئی مجھے لگتا ہے کہ تیرا وقت اتنا ہی تھا٬٬٬٬__ ” جبار نے اسے آللہ دیکھاتے ہوئے کہا٬٬٬__

” نہیں م مجھے !! ہاتھ بھی مت لگانا ٬٬٬__ م میں تمھیں چھوڑو گا نہیں ٬٬٬___ مار دو گا تم دونوں٬٬٬__آآآااااا” اس سے پہلے کہ وہ بات مکمل کرتا٬٬٬__ جبار اس کے سینے پر وہ آلہ چلا چکا تھا٬٬٬___

جس سے پورے کمرے میں علی حیدر کی چیخیں گونجی٬٬٬٬___

” میری بہن یاد ہے٬٬٬___ جس نے تجھ سے رحم کی بھیک مانگی٬٬٬__ پر تو نے رحم نہ کیا٬٬٬__ تو آج تجھ پر بھی رحم نہیں کیا جائے گا٬٬٬___ اسے تو نے کتنا تڑپایا ٬٬٬__ پر یہ دنیا مکافات عمل ہے جو کرو سو بھرو٬٬٬٬___”

جبار نے اسے یاد دہانی کروائی٬٬٬__ اور وہی آلہ اس کی گردن میں مار دیا٬٬٬٬___ _ علی حیدر اپنے انجام کو پہنچ گیا تھا٬٬٬__شہرام دور کھڑا اس سے لطف اٹھا رہا تھا ٬٬٬٬___

” اس کی لاش کو ٹھکانے لگا دو٬٬٬___” شہرام کہہ کر باہر کی طرف بڑھ گیا٬٬٬٬___ ” جی سر!!”

جبار نے اس کا شکریہ ادا اور پھر وہ دونوں اپنے راستے٬٬٬___

آج پھر وہ تینوں اس میز کے ارد گرد بیٹھے تھے اجلاس کے لیے٬٬٬٬__

سربراہی کرسی پر ساجدہ بیگم بیٹھی تھی٬٬٬___ اور ارد گرد شہرام اور زاروان٬٬٬__

” میری انفارمیشن کے مطابق اس شہر کی سب سے بڑی یونیورسٹی میں ڈرگز سپلائے ہو رہی ہیں٬٬٬٬___” زاروان نے کہا٬٬٬__

” تو آپ ایک کام کریں ٬٬٬__ آپ اس یونیورسٹی کو جوائن کریں تا کہ یہ ڈرگز والا چیپٹر بھی ختم ہو٬٬٬٬٬٬___ “

ساجدہ بیگم نے اسے رائے دی٬٬٬___

” ہاں !! یہ بھی بالکل ٹھیک ہے آپ یونی جوائن کر لیں٬٬٬___” شہرام نے بھی ساجدہ بیگم کی خوصلہ افزائی کی٬٬٬__

” چلیں ٹھیک ہے٬٬٬___” زاروان کا مثبت جواب سن کر یہ میٹنگ یہی ختم ہوئی اور سب باہر نکل گئے٬٬٬___

” ارے یار !! پھر سے یونی جوائن کرنی ہو گی٬٬٬___” زاروان گاڑی میں بیٹھا اور خود سے ہی باتیں کرنے لگا٬٬٬___

شہرام کمرے میں میں داخل ہوا تو شہزین بیڈ پر بیٹھی موبائل یوزر کر رہی تھی٬٬٬___

” مجھے پانی پینا ہے جاؤ میرے لیے پانی لے کر آؤں ٬٬٬___” شہرام نے آتے ہی اس پر روب جھاڑا٬٬٬__ جس کے جواب میں پہلے تو شہزین نے اسے گھورا لیکن پھر بولی٬٬٬__

” کیوں ؟؟ تمھارے ہاتھ نہیں ہیں کیا؟؟٬٬٬___”

” ہاتھ تو ہیں !! پر تمھارے ہاتھوں منگوانا ہے ٬٬٬___” وہ مسکرا کر بولا٬٬٬___

شہزین اس کے لیے پانی لے کر آئی٬٬٬___

اس نے پانی پیا اور شہزین کو گلاس دیا کی وہ رکھ آئے٬٬٬__ لیکن اس نے سائیڈ ٹیبل پر ہی رکھا٬٬٬___ پر سائیڈ ٹیبل ٹھوڑی آگے تھی٬٬٬__ اور اس کا دھیان بھی شہرام کی طرف تھا ٬٬٬٬___ تو گلاس اسی کے پاؤں پر لگ گیا اور چور چور ہو گیا٬٬٬___

آہہہہ!! وہ درد سے بلبلا اٹھی٬٬٬___ یہ دیکھتے ہی شہرام کو آگ لگی٬٬٬___

” کوئی کام ڈنگ سے کر سکتے ہوں کی نہیں ؟؟؟ پہلے بھی ایسی تھی دو سال گزرنے کے بعد بھی ایسی ہی ہو !! ٬٬٬___” وہ اس وقت شدید غصے میں آگیا٬٬٬___

پر وہ درد سے کراہ رہی تھی٬٬٬__ یہاں تک کہ اس سے چلا بھی نہ جا رہا تھا٬٬٬٬___ تو تنگ آکر شہرام نے اسے اٹھا لیا٬٬٬___ اور بیڈ پر لے کر آیا٬٬٬___ اسے بیٹھا کر سائیڈ والے دراز سے بینڈج کا بوکس نکالا اور اس کی مرہم پٹی کی٬٬٬٬___

کچھ وقت بعد شہزین کو کافی آرام آگیا تھا٬٬٬___ اس لیے وہ اٹھی اور دوسرے کمرے میں جانے لگی٬٬٬___

ایک دفعہ کے لیے تو لڑکھڑائی لیکن پھر اس نے خود کو سنبھال لیا٬٬٬٬___

” کہاں جارہی ہو٬٬٬___” شہرام اس کے پاس آیا اور اس کا بازو پکڑ کر اسے روکا ٬ رخ اپنی طرف کر کے اس سے سوال کیا٬٬٬__

” اپنے کمرے میں ٬٬٬___”

” تو یہ کیا تمھارے فرشتوں کا کمرہ ہے٬٬٬___ کہیں نہیں جاؤ گی تم !! چپ چاپ جاکر بیڈ پر لیٹ جاؤ !! اوپر سے چوٹ بھی تو لگوا لی ہے تم نے٬٬٬٬___ اب تو بالکل نہیں ٬٬٬___”

شہرام نے شہزین سے کہا٬٬٬___

” تمھاری ہمت کیسے ہوئی مجھے روکنے کی٬٬٬___” شہزین منھ بناتے ہوئے بولتی ہے٬٬٬__

” ہمت تو مجھ میں بڑی ہے جان من !! پر جب دکھانے پر آیا تو سہ نہیں پاؤ گی٬٬٬___” شہرام نے اس کے کان میں سرگوشی کی٬٬٬___

لیکن اس نے ہار نہ مانی٬٬٬___ وہ پھر باہر کی طرف بڑھی٬٬٬___ لیکن وہ بھی شہرام خاں تھا ٬٬٬__ اپنی بات کا پکا٬٬٬___

اسے اٹھا کر بیڈ پر لٹایا اور خود جا کر سامنے پڑے صوفے پر لیٹ گیا٬٬٬٬٬٬_____

کچھ ہی دیر میں شہزین تو سو گئی٬٬٬___ پر شہرام اس کے چہرے کی طرف دیکھ رہا تھا جو نہایت خوبصورت تھا٬٬٬___

صبح کے وقت٬٬٬___

نائلہ نے سب گھر والوں کو اکٹھا کیا٬٬٬___ ” کیا بات ہے مما آپ نے اس طرح کیوں بلایا ہے؟؟٬٬٬٬٬___” امبر نے سوال کیا جس کے جواب میں نائلہ نے کہا ٬٬__ ” بتاتی ہوں ابھی سب کو پتہ چل جائے گا٬٬٬___”

” دراصل بات یہ ہے کہ میں نے زرمینے کا رشتہ اپنے بیٹے جواد کے ساتھ طے کر دیا ہے٬٬٬___”

کیا٬٬٬٬٬٬___ وہ حیران ہوئی٬٬٬__

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *