Ishq Pr Zor Nahi By Abdul Ahad Butt NovelR50480 Ishq Pr Zor Nahi (Episode - 8)
Rate this Novel
Ishq Pr Zor Nahi (Episode - 8)
Ishq Pr Zor Nahi By Abdul Ahad Butt
” جبار !! ت تم ن نے مجھے دھوکا کیوں دیا؟؟؟٬٬٬٬__” علی حیدر پریشانی کے عالم میں بولتا ہے٬٬٬__
” دھوکا !! نا نانا !! دھوکا نہیں بلکہ میں نے تو بدلہ لیا ہے اپنی بہن کا٬٬٬__ یاد تو ہوگی تجھے٬٬٬__” جبار کی یہ بات سنتے ہی اس کے پسینے چھوٹ گئے٬٬٬____ لیکن وہ کچھ سننے یہ کہنے کی حالت میں نہ تھا٬٬٬__ درد سے کراہتے ہوئے علی حیدر وہی بے ہوش ہو گیا٬٬٬__
” اٹھاؤ اسے !! اور لے کر چلو٬٬٬__” شہرام نے کہا٬٬٬٬__ ” جی سر !! ٬٬٬___”
اسے ہوش آئی تو کمرے میں صرف ایک لائٹ چل رہی تھی جو کہ اس کے سر کے بالکل اوپر تھی٬٬٬__
” یہ میں کہاں ہوں ؟؟؟٬٬٬___” اس نے ہاتھ پاؤں ہلانے چاہیں پر نہ کر پایا٬٬٬٬___ کیونکہ اس کا پورا جسم رسیوں سے جکڑا ہوا تھا٬٬٬__
شہرام اس کے سامنے آکر بیٹھا٬٬٬__ اور پھر بولا٬٬٬__
” جبار !! یہ مجھ سے زیادہ تیرا گنہگار ہے٬٬٬٬٬__ تو اسے اس کے انجام تک بھی تو ہی پہنچا٬٬٬٬__” شہرام نے اسے اپنی جگہ آنے کو کہا اور اسے تیز دار آلہ دیا٬٬٬٬٬___
” چل بھئی مجھے لگتا ہے کہ تیرا وقت اتنا ہی تھا٬٬٬٬__ ” جبار نے اسے آللہ دیکھاتے ہوئے کہا٬٬٬__
” نہیں م مجھے !! ہاتھ بھی مت لگانا ٬٬٬__ م میں تمھیں چھوڑو گا نہیں ٬٬٬___ مار دو گا تم دونوں٬٬٬__آآآااااا” اس سے پہلے کہ وہ بات مکمل کرتا٬٬٬__ جبار اس کے سینے پر وہ آلہ چلا چکا تھا٬٬٬___
جس سے پورے کمرے میں علی حیدر کی چیخیں گونجی٬٬٬٬___
” میری بہن یاد ہے٬٬٬___ جس نے تجھ سے رحم کی بھیک مانگی٬٬٬__ پر تو نے رحم نہ کیا٬٬٬__ تو آج تجھ پر بھی رحم نہیں کیا جائے گا٬٬٬___ اسے تو نے کتنا تڑپایا ٬٬٬__ پر یہ دنیا مکافات عمل ہے جو کرو سو بھرو٬٬٬٬___”
جبار نے اسے یاد دہانی کروائی٬٬٬__ اور وہی آلہ اس کی گردن میں مار دیا٬٬٬٬___ _ علی حیدر اپنے انجام کو پہنچ گیا تھا٬٬٬__شہرام دور کھڑا اس سے لطف اٹھا رہا تھا ٬٬٬٬___
” اس کی لاش کو ٹھکانے لگا دو٬٬٬___” شہرام کہہ کر باہر کی طرف بڑھ گیا٬٬٬٬___ ” جی سر!!”
جبار نے اس کا شکریہ ادا اور پھر وہ دونوں اپنے راستے٬٬٬___
آج پھر وہ تینوں اس میز کے ارد گرد بیٹھے تھے اجلاس کے لیے٬٬٬٬__
سربراہی کرسی پر ساجدہ بیگم بیٹھی تھی٬٬٬___ اور ارد گرد شہرام اور زاروان٬٬٬__
” میری انفارمیشن کے مطابق اس شہر کی سب سے بڑی یونیورسٹی میں ڈرگز سپلائے ہو رہی ہیں٬٬٬٬___” زاروان نے کہا٬٬٬__
” تو آپ ایک کام کریں ٬٬٬__ آپ اس یونیورسٹی کو جوائن کریں تا کہ یہ ڈرگز والا چیپٹر بھی ختم ہو٬٬٬٬٬٬___ “
ساجدہ بیگم نے اسے رائے دی٬٬٬___
” ہاں !! یہ بھی بالکل ٹھیک ہے آپ یونی جوائن کر لیں٬٬٬___” شہرام نے بھی ساجدہ بیگم کی خوصلہ افزائی کی٬٬٬__
” چلیں ٹھیک ہے٬٬٬___” زاروان کا مثبت جواب سن کر یہ میٹنگ یہی ختم ہوئی اور سب باہر نکل گئے٬٬٬___
” ارے یار !! پھر سے یونی جوائن کرنی ہو گی٬٬٬___” زاروان گاڑی میں بیٹھا اور خود سے ہی باتیں کرنے لگا٬٬٬___
شہرام کمرے میں میں داخل ہوا تو شہزین بیڈ پر بیٹھی موبائل یوزر کر رہی تھی٬٬٬___
” مجھے پانی پینا ہے جاؤ میرے لیے پانی لے کر آؤں ٬٬٬___” شہرام نے آتے ہی اس پر روب جھاڑا٬٬٬__ جس کے جواب میں پہلے تو شہزین نے اسے گھورا لیکن پھر بولی٬٬٬__
” کیوں ؟؟ تمھارے ہاتھ نہیں ہیں کیا؟؟٬٬٬___”
” ہاتھ تو ہیں !! پر تمھارے ہاتھوں منگوانا ہے ٬٬٬___” وہ مسکرا کر بولا٬٬٬___
شہزین اس کے لیے پانی لے کر آئی٬٬٬___
اس نے پانی پیا اور شہزین کو گلاس دیا کی وہ رکھ آئے٬٬٬__ لیکن اس نے سائیڈ ٹیبل پر ہی رکھا٬٬٬___ پر سائیڈ ٹیبل ٹھوڑی آگے تھی٬٬٬__ اور اس کا دھیان بھی شہرام کی طرف تھا ٬٬٬٬___ تو گلاس اسی کے پاؤں پر لگ گیا اور چور چور ہو گیا٬٬٬___
آہہہہ!! وہ درد سے بلبلا اٹھی٬٬٬___ یہ دیکھتے ہی شہرام کو آگ لگی٬٬٬___
” کوئی کام ڈنگ سے کر سکتے ہوں کی نہیں ؟؟؟ پہلے بھی ایسی تھی دو سال گزرنے کے بعد بھی ایسی ہی ہو !! ٬٬٬___” وہ اس وقت شدید غصے میں آگیا٬٬٬___
پر وہ درد سے کراہ رہی تھی٬٬٬__ یہاں تک کہ اس سے چلا بھی نہ جا رہا تھا٬٬٬٬___ تو تنگ آکر شہرام نے اسے اٹھا لیا٬٬٬___ اور بیڈ پر لے کر آیا٬٬٬___ اسے بیٹھا کر سائیڈ والے دراز سے بینڈج کا بوکس نکالا اور اس کی مرہم پٹی کی٬٬٬٬___
کچھ وقت بعد شہزین کو کافی آرام آگیا تھا٬٬٬___ اس لیے وہ اٹھی اور دوسرے کمرے میں جانے لگی٬٬٬___
ایک دفعہ کے لیے تو لڑکھڑائی لیکن پھر اس نے خود کو سنبھال لیا٬٬٬٬___
” کہاں جارہی ہو٬٬٬___” شہرام اس کے پاس آیا اور اس کا بازو پکڑ کر اسے روکا ٬ رخ اپنی طرف کر کے اس سے سوال کیا٬٬٬__
” اپنے کمرے میں ٬٬٬___”
” تو یہ کیا تمھارے فرشتوں کا کمرہ ہے٬٬٬___ کہیں نہیں جاؤ گی تم !! چپ چاپ جاکر بیڈ پر لیٹ جاؤ !! اوپر سے چوٹ بھی تو لگوا لی ہے تم نے٬٬٬٬___ اب تو بالکل نہیں ٬٬٬___”
شہرام نے شہزین سے کہا٬٬٬___
” تمھاری ہمت کیسے ہوئی مجھے روکنے کی٬٬٬___” شہزین منھ بناتے ہوئے بولتی ہے٬٬٬__
” ہمت تو مجھ میں بڑی ہے جان من !! پر جب دکھانے پر آیا تو سہ نہیں پاؤ گی٬٬٬___” شہرام نے اس کے کان میں سرگوشی کی٬٬٬___
لیکن اس نے ہار نہ مانی٬٬٬___ وہ پھر باہر کی طرف بڑھی٬٬٬___ لیکن وہ بھی شہرام خاں تھا ٬٬٬__ اپنی بات کا پکا٬٬٬___
اسے اٹھا کر بیڈ پر لٹایا اور خود جا کر سامنے پڑے صوفے پر لیٹ گیا٬٬٬٬٬٬_____
کچھ ہی دیر میں شہزین تو سو گئی٬٬٬___ پر شہرام اس کے چہرے کی طرف دیکھ رہا تھا جو نہایت خوبصورت تھا٬٬٬___
صبح کے وقت٬٬٬___
نائلہ نے سب گھر والوں کو اکٹھا کیا٬٬٬___ ” کیا بات ہے مما آپ نے اس طرح کیوں بلایا ہے؟؟٬٬٬٬٬___” امبر نے سوال کیا جس کے جواب میں نائلہ نے کہا ٬٬__ ” بتاتی ہوں ابھی سب کو پتہ چل جائے گا٬٬٬___”
” دراصل بات یہ ہے کہ میں نے زرمینے کا رشتہ اپنے بیٹے جواد کے ساتھ طے کر دیا ہے٬٬٬___”
کیا٬٬٬٬٬٬___ وہ حیران ہوئی٬٬٬__
