Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Pr Zor Nahi (Episode - 12) Part - 2

Ishq Pr Zor Nahi By Abdul Ahad Butt

شہزین کمرے کا جائزہ لے رہی تھی٬٬٬٬____ اس اپنے کندھے پر کسی ہاتھ کی آہٹ محسوس ہوئی٬٬٬٬٬_____

وہ آہٹ محسوس کرتے ہی فوراً پیچھے مڑی٬٬٬٬_____

” ہیپی برتھڈے سوئٹ ہارٹ !! ٬٬٬٬٬_____” وہ پیچھے مڑی تو وہاں شہرام کھڑا تھا٬٬٬٬____ اور اس کے مڑتے ہی شہرام نے اسے اس کی سالگرہ ویش کی٬٬٬٬٬_____

یہ سب دیکھ کر اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ سب شہرام نے کیا ہے٬٬٬٬٬_____

” یہ سب آپ نے کیا ہے؟ ٬٬٬٬____” اس نے بے یقینی میں پوچھا٬٬٬٬____

” نہیں !! یہ سب ایک جھن نے کیا ہے٬٬٬٬____” اس نے مسکرا کر پوچھے گئے سوال کا جواب دیا٬٬٬٬____

” اور یقیناً وہ جھن آپ ہی ہوں گے٬٬٬٬٬______” شہزین نے بھی مسکراتے ہوئے کہا٬٬٬٬____

اس کا جواب سنتے ہی وہ دو قدم آگے بڑھا اور اس کی کمر کے گرد ہاتھ حائل کرتے ہوئے اسے اپنی طرف کھینچا٬٬٬٬_____

” کہہ سکتے ہیں ٬٬٬٬____” شہرام نے اس کے چہرے سے بال پیچھے کرتے ہوئے کہا٬٬٬___

” ہمم !!”

” چلو !! کیک کٹ کرتے ہیں ٬٬٬٬٬_____” شہرام نے اس پیچھے رکھے کیک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا٬٬٬٬٬_____

” چلیں !! ٬٬٬٬٬____”

شہزین نے کیک کٹ کرنے کے بعد شہرام کو کھلایا٬٬٬٬_____

” تھینک یو سو مچ شہرام !!!٬٬٬٬____”

” ارے اس میں تھینک یو والی کیا بات ہے٬٬٬٬____”

” ویسے آپ کو یاد تھا کہ میرا برتھڈے ہے ؟؟؟_____” شہزین نے پوچھا______

” اپنی جان کا اتنا اہم دن میں کیسے بھول سکتا ہوں٬٬٬٬_____” شہرام نے مسکرا کر جواب دیا٬٬٬٬_____

” تھینک یو سو میچ شہرام !! ٬٬٬٬٬____”

یہ سب دیکھ کر اسے نہایت ہی خوشی ہوئی تھی٬٬٬٬____ وہ ایک پل کے لیے بھول چکی تھی کہ یہ وہی شہرام ہے جس سے وہ اب نفرت کرتی ہے اب٬٬٬٬___ ایک پل کے لیے اسے بھی اس پر پیار آیا٬٬٬٬_____

” اٹس آک مس کیوٹی پائی٬٬٬٬____” شہرام نے نہایت ہی پیار سے کہا٬٬٬٬_____

” دیکھو شہزین !! ماضی میں جو کچھ بھی ہوا ہے میں نے جو بھی کیا اس کے لیے آئم سوری اور مجھے امید ہے کہ تم مجھے معاف مردوں گی٬٬٬٬____ اور میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کبھی تمھیں چھوڑ کر نہیں جاؤں گا٬٬٬٬_____”

شہرام نے شہزین سے کہا اور یقیناً وہ اس سے معافی کا طلبگار تھا٬٬٬٬____

” نہیں !! میں آپ کو معاف نہیں کروں گی٬٬٬٬____”

” تم مجھے معاف کروں گی٬٬٬٬____”

” نہیں !! نہیں !! نہیں !! کبھی نہیں !! ٬٬٬٬_____” اب وہ اس کے سینے میں منھ چھپا کر بول رہی تھی٬٬٬____

” آئی لو ہو شہزین !!٬٬٬٬____”

” بٹ آئی ہیٹ یو شہرام خاں !!!٬٬٬٬_____”

” آئی لو یو اینڈ یو لو می٬٬٬_____” شہرام نے مسکراتے ہوئے کہا اور شہزین کی طرف دیکھا جو اس کے سینے کے ساتھ سر لگا کر اس کی ڈھرکنیں سن رہی تھی٬٬٬____

” مجھے نیند آرہی ہے٬٬٬٬____” زیادہ بات نہ کرنے کے لیے جب اسے کوئی اور موقع نہیں ملا تو اس نے یہی بہانہ بنایا اور بیڈ پر جا کر سو گئی٬٬٬٬٬_____

شہرام بھی چپ چاپ جا کر صوفے پر لیٹ گیا٬٬٬٬____

لیکن نظر شہزین پر تھی اور کب آنکھ لگ گئی پتہ ہی نہیں چلا٬٬٬٬_____

اس کے سر پر پٹی بندھی ہوئی تھی٬٬٬٬____

وہ بستر پر لیٹی تھی اب اسے درد سے کچھ نجات ملی تھی٬٬٬٬_____

” اب آپ کی طبعیت کیسی ہے ؟؟؟٬٬٬_____” سامنے سے سوال کیا گیا٬٬٬____”

” ٹھیک ہوں مجھے گھر جانا ہے٬٬٬____”

” نہیں !!٬٬٬٬_____” یہ سنتے ہی اس نے اسے گورا٬٬٬____

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *