Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Pr Zor Nahi (Episode - 1)

Ishq Pr Zor Nahi By Abdul Ahad Butt

وہ گاڑی چلاتا رکا اور ایک چھوٹے سے گھر میں داخل۔۔۔۔ اس گھر میں صرف ایک کمرہ جس میں اندھیرا چھایا ہوا تھا۔۔

کچھ معلوم نہ تھا کہ کوئی ہے بھی کہ نہیں۔۔۔ اس کے بعد اس نے ایک لائٹ آن کی۔۔

وہ لائٹ اس وجود کے اوپر تھی جو بے ہوش پڑا تھا اور جسم رسیوں سے جکڑا ہوا تھا۔۔

وہ اس کے قریب آیا۔۔۔ اس کے ہاتھ میں ایک پانی کی بوتل تھی۔۔ جس کا سارا پانی اس نے اس کے چہرے پر انڈیل دیا۔۔

چہرے پر پانی پڑتے ہی اسے ہوش آنے لگا۔۔۔ ” میں کس جگہ ہوں۔۔۔۔” وہ ہلکی سے آواز میں پکارہ۔۔۔

” تم اپنی موت کے بہت قریب مائے ڈئیر دشمن۔۔۔ ” زاروان نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر مسکرا کر جواب دیا۔۔

زاروان کی آواز سنتے ہی اس کے شخص کے پسینے چھوٹ گئے۔۔۔ ” مجھے جانے دو پلیز۔۔۔۔ رحم کرو۔۔ مجھ پر ۔۔” وہ زاروان سے گڑ گڑا کر التجا کر رہا تھا۔۔

” ارے !! ایسے کیسے چھوڑ دو تمھیں۔۔۔ تم نے رحم کیا کسی پر۔۔۔۔” اس نے نہایت ادب سے اس سے کہا۔۔

” پلیز مجھے جانے دو پلیز۔۔۔ آئم سوری۔۔۔” وہ معافیاں مانگنے پر اتر آیا تھا۔۔۔

” میں نے تو سنا تھا کہ تم گاؤں کے سردار تھے۔۔ اور یہاں ایسے گڑگڑا رہے ہو میرے سامنے۔۔۔ تمھیں تو میرا مقابلہ کرنا چاہئیے۔۔۔۔” زاروان نے اسے مقابلہ کرنے کا کہا۔۔

کوئی پانچ منٹ وہاں پر خاموشی رہی۔۔ زاروان کی اس بات کے جواب۔ میں اس شخص نے ایک لفظ بھی نہ بولا۔۔۔

اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتا۔۔۔ زاروان اس کے سر میں تین سے چار ڈنڈے برسا چکا تھا۔۔

لیکن وہ بچارا کیا کرتا؟؟ اس کا جسم تو رسیوں سے جکڑا پڑا تھا۔۔ وہ اپنے سر کو ہاتھ میں پکڑنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔۔

” مجھے مار کیوں رہے ہو۔۔۔۔؟” اب وہ درد سے کراہ رہا تھا۔۔۔

” تم اب بھی یہ پوچھ رہے کہ میں تمھیں کیوں مار رہے ہو؟؟؟ تمھیں نہیں یاد وہ لڑکیاں جن کے ساتھ تم نے کھیل کھیلا۔۔۔” زاروان نے اسے یاد دہانی کروائی۔۔۔

زاروان نے جیسے ہی یہ بات کہی وہ آدمی چپ ہو گیا۔۔ لیکن کچھ بولنے کے قابل بھی نہ پچا کیونکہ زاروان اپنی بندوق سے چار گولیاں اس کے سینے میں اتار چکا تھا۔۔۔۔ اور پھر باہر کی طرف بڑھ گیا۔۔

زاروان نے باہر آکر اپنے آدمیوں کو کو اشارہ کیا تا کہ وہ اندر جا کر قادر کی لاش ٹھکانے لگا سکیں۔۔۔ اور خود وہ گاڑی میں بیٹھ کر اس مخصوص جگہ کی طرف بڑھ گیا جہاں اسے جانا تھا۔۔

اس نے ایک جگہ آکر گاڑی روکی۔۔ اور اندر داخل ہوا۔۔۔

وہ تینوں ایک میز کی گرد بیٹھے تھے۔۔۔ سربراہی کرسی پر وہ عورت بیٹھی تھی۔۔۔ اور زاروان خاں اور شہرام خاں آمنے سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔

” ہاں بتاؤ کام ہو گیا ہے کیا؟؟؟؟___٬٬٬٬٬٬٫” شہرام خاں نے زاروان خاں سے پوچھا۔۔۔

” یس سر !! قادر کو اس کے انجام تک پہنچا دیا ہے۔۔۔۔” زاروان نے اسے جواب دیا۔۔۔”

” آک گڈ !! ” شہرام نے کہا۔۔

اس ساری بات میں وہ عورت نہ بولی تھی۔۔۔۔

صبح کے دس بج رہے تھے۔۔۔ اس کی والدہ اسے پانچ دفعہ اٹھا کے جا چکی تھی۔۔۔ آج ہے بھی سنڈے تھا تو وہ بار بار سو جاتی۔۔۔

سورج کی کرنیں اس کے چہرے پر پڑھ رہی تھی۔۔۔ کھڑکی کھلی ہونے کی وجہ سے جس سے وہ تنگ آکر آخر کار اٹھ ہی گئی۔۔۔

اٹھ کر دیکھا تو کھڑکی کھلی ہوئی تھی ۔۔۔۔ ” اے اللہ !! ” وہ اتنا ہی کہہ کر اٹھ گئی۔۔

جب نیچے فریش ہو کر آئی۔۔۔ تو سب لوگ میز پر بیٹھ کر ناشتہ کر رہے تھے۔۔۔۔

” شہزین !! بیٹا یہ ٹائم ہے اٹھنے کا ؟؟؟؟__”

بی جان ہے تو غصے میں تھی پر آرام سے کہا۔۔

” سوری بی جان !! نیکسٹ نہیں ہو گا۔۔”

وہ نازک کلی نہایت ادب سے جواب دیتی ہے۔۔۔

” نیکسٹ ٹائم خیال رکھنا اور بیٹھیں ناشتہ کریں۔۔۔”

بی جان نے اسے ناشتہ کرنے کے لیے کہا۔۔۔

” جی بی جان !! “

دو سے تین منٹ گزرنے کے بعد۔۔۔۔

” مجھے آپ سب سے بات کرنی ہے۔۔۔”

بی جان نے کہا۔۔

یہ سنتے ہی شہزین فاروق صاحب اور نسیما بیگم اور ان کا بیٹا علی بی جان کی طرف متوجہ ہوئے۔۔۔

” آپ کو پتہ ہے کہ علی اور شہزین کچھ دن فری ہیں تو ہم کچھ دنوں کے لیے۔۔۔ گاؤں کی حویلی جانا چاہتے ہیں۔۔۔ “

بی جان نے بات کی۔۔

” پر بی جان !! وہ حویلی تو کئی سالوں سے بند پڑی ہے۔۔۔۔”

فاروق صاحب نے آنکھیں جھکا کر کہا۔۔

” ہمیں پھر بھی جانا ہے۔۔۔۔”

بی جان اب غصے میں لگ رہی تھی۔۔

” جی ٹھیک ہے بی جان۔۔۔”

فاروق صاحب نے زیادہ بات کرنا مناسب نہ سمجھا۔۔۔

” ہم آج ہی گاؤں کے لیے روانہ ہونگے۔۔۔ ناشتہ کرنے کے بعد سب اپنی اپنی پیکنگ کر لیں۔۔۔”

یہ کہہ کر بی جان کمرے میں چلی گئی۔۔

” جی ٹھیک ہے۔۔۔۔”

” اے لڑکی !! اٹھ جلدی کر صبح کے دس بج رہے ہیں اور محترمہ سوئی ہوئی ہیں۔۔۔ گھر کے کام کون کرے گا۔۔۔ جلدی اٹھ کر آ۔۔۔”

ساجدہ یہ کہتے ہوئے چلی گئی۔۔۔

” جی چچی آتی ہوں میں۔۔” زرمینے نے کہا۔۔

زرمینے کے والدین اسے بچپن میں ہی چھوڑ کر جا چکے تھے۔۔۔ اس وقت سے وہ اپنی چچی کے پاس رہ رہی تھی۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *