Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Pr Zor Nahi (Episode - 14)

Ishq Pr Zor Nahi By Abdul Ahad Butt

وہ دونوں بیٹھ کر باتیں کر رہی تھی،،___ اور کافی اچھی انڈرسٹینڈنگ بھی ہوگئی تھی ان دونوں کی،،،_____

وہ دونوں باتیں کر ہی رہی تھی کہ دروازہ کھڑکا،،،____

” آجاؤ !!،،،____”

دروازے کی آواز سنتے ہی ساجدہ بیگم نے فوراً کہا،،،____

” بیگم صاحبہ!! وہ خان اور ان کی بیوی پورے گھر میں کہیں بھی نہیں ہیں،،،___”

ایک ملازمہ کمرے میں داخل ہوئی اور کہا،،،____

” اچھا تم جاؤ !! میں دیکھ لیتی ہوں،،،_____” ساجدہ بیگم کا حکم سنتے ہی وہ ملازمہ وہاں سے چلی گئی،،،_____

” بیٹا !! تم آرام کرو ،،،____”

یہ کہہ کر ساجدہ بیگم وہاں سے چلی گئی اور ان کی بات پر زرمینے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ لائی،،،____

ساجدہ بیگم کے جانے بعد ہی کمرے میں زاروان داخل ہوا،،،____ جسے دیکھ زرمینے نے اپنا دوپٹہ سیٹ کیا،،،____

” مجھے صرف آپ سے یہی کہنا تھا کہ آپ میرے بغیر گھر سے باہر مت جائیے گا یا اگر چاہئیے ہوا تو مجھے بتا دینا کیونکہ اس وقت وہ لڑکا آپ کی ہی تلاش میں ہوگا،،،______ باقی آپ آرام کریں،،،___”

زاروان سنجیدہ انداز میں بولا،،،____

” جی ٹھیک ہے،،،،____ اور آپ کا بہت شکریہ کہ آپ میرے لیے اتنا سب کچھ کر رہے ہیں،،،____”

” ارے !! شکریہ کی کوئی ضرورت نہیں ہے،،،____”

یہ کہہ کر وہ کمرے سے باہر نکلا،،،_____

” ڈاکٹڑ !! کیا ہوا ہے میری وائف کو !!،،،_____”

ڈاکٹر کو آتا دیکھ شہرام جلدی سے ڈاکٹر کو پوچھتا ہے،،،____

” دیکھے مسٹر آپ کی مسز کو فوڈ پوائزنگ (food poisoning) ہوئی ہے،،،____ ہم نے ان کا سٹمک واش کردیا ہے کچھ ہی دیر میں آجائیں گا انھیں ہوش !!،،،_____”

” جی ٹھیک ہے ڈاکٹر!!،،،____”

شہرام نے جواب دیا،،،____

ڈاکٹڑ اپنے روم کی طرف بڑھا،،،_____

فون کی گھنٹی بجتے ہی اس نے فون اٹھایا،،،_____ یہ دیکھے بغیر کے کس کا فون ہے،،،____

” ہاں بولو !!،،،____”

” شہرام کہاں ہو تم اور شہزین کہاں ہے،،،____؟” دوسری طرف سے ساجدہ بیگم کی آواز سنتے ہی اسے یاد آیا انھیں بتانا تو وہ بھول ہی گیا تھا،،،_______

” خالہ !! وہ ہوسپٹل میں ہو میں!!،،،_____”

یہ سنتے ہی ساجدہ بیگم پر پریشانی کے تاثرات چھا گئے،،،،______

” کیوں میرے بچے ؟؟ تم ٹھیک ہوں نہ شہزین تو تھیک ہے نہ،،،_____”

” دراصل خالہ وہ شہزین کو فوڈ پوائزنگ (food poisoning) ہوئی ہے،،،____ ویسے اب وہ بالکل ٹھیک ہے،،،___ “

ساجدہ بیگم کو بہت دکھ ہوا،،،___

” اگر کہو تو میں وہاں آجاؤ ،،،____” ساجدہ بیگم کا دل کو اسی وقت چین ملنا تھا جب تک کہ وہ شہزین کو خود نہ دیکھ لیتی،،،_____

” ارے نہیں خالہ،،،_____ میں نے کہا نہ کہ اب وہ بہتر ہے اور کچھ ہی دیر میں ہم آجائیں گے گھر،،،____”

شہرام خان نے انھیں سمجھانے کی کوشش کی،،،____

پھر بھی ساجدہ بیگم نے بہت اسرار کیا لیکن شہرام بھی اپنی بات کا پکا تھا،،،_____

وہ کمرے میں بیٹھی ہوئی تھی،،،___ اسی جوڑے میں ملبوس تھی جو جوڑا اس نے صبح پہنا ہوا تھا،،،،______

” بیٹا !! جاؤ بازار سے کچھ کپڑے خرید لاؤ،،،______”

ساجدہ کمرے میں داخل ہوتے ہی اپنی بات کہتی ہیں،،،_____

” ارے آنٹی نہیں،،،_____ وہ انھوں نے منع کیا ہے،،،____”

” کس نے؟؟؟؟،،،_____” ساجدہ بیگم کو سمجھ ہی نہیں آیا کہ وہ کس کی بات کر رہی تھی،،،____

” و ۔۔وہ جن کے ساتھ،،،_____” اس سے پہلے کہ وہ بات مکمل کرتی ساجدہ بیگم نے،،،____

” اچھا !! تم زاروان کی بات کر رہی ہو،،،_______”

” ج ۔جی !!___” وہ جھجک کر بولی،،،_____

” فکر نہیں کرو اس سے میں بات کر لوں گی،،،،،________” یہ کہہ ساجدہ بیگم کمرے سے باہر چلی گئی،،،_____ اور زرمینے بھی باہر کی طرف بڑھی،،،____

وہ اس کا ہاتھ تھامے اندر کی طرف بڑھ رہی تھی،،،____

” ارے شہزین !! میری بچی کیسی ہو تم ؟؟،،،______”

ساجدہ بیگم اس کے پاس آئی اور فکر مندی سے پوچھا،،،___

” ارے خالہ کچھ بھی نہیں ہوا مجھے تھوڑا سا آرام کروں گی تو بالکل ٹھیک ہو جاؤ گی،،،______”

شہزین چہرے پر مسکراہٹ سجائے ہوئے بولی،،،____

” تمھیں پتہ ہے میں تمھارے لیے کتنا پریشان ہوگئی،،،_______ اپنے کھانے پینے کا دھیان رکھا کرو،،،،______”

وہ اپنی کیفیت بتاتے ہوئے اسے نصیحت کرنا نہ بولی،،،____

” خالہ !! یہ تو آپ کی محبت ہے،،،_____”

” شہرام !! تم نے اب شہزین کا بہت زیادہ خیال رکھنا ہے،،،_____”

اب کی بار خالہ شہرام سے مخاطب ہوئی،،،_____

” جی خالہ !!،،،،_____” شہرام نے کہا،،،_____

” اب جاؤ کمرے میں اور آرام کرو،،،_____”

ساجدہ بیگم نے کہا اور وہ کمرے کی جانب بڑھے،،،_____

کمرے میں وہ دونوں موجود تھے،،،_____

” ویسے تم نے سنا نہ کہ خالہ نے کیا کہا،،،_____؟”

کمرے میں داخل ہوتے ہی شہرام نے شہزین سے کہا،،،____

” کیا کہا،،،،_____؟” اس نے لاعلمی کا اظہار کیا،،،____

” یہی کہ مجھے تمھارا خیال رکھنا ہوگا،،،_____اور خیال رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ میں تمھارے آس پاس رہو یعنی تمھارے قریب،،،،_____”

اس نے اسے اپنے قریب کیا،،،____

” اتنا قریب ،،،___ جتنا قریب تمھارے کوئی بھی نہیں ہے،،،______” وہ مسکراتے ہوئے اس کے لبوں پر جھکا،،،_____

” دور رہے مجھ سے،،،____” شہزین غصے سے بولی،،،_____

” اگر دور رہا تو تمھیں کہیں کچھ ہو نہ جائے،،،______” وہ اسے پیچھے سے تھامتا اس کا رخ اپنی طرف کرتا ہے،،،____

وہ آج کئی دن بعد خود شاپنگ کے لیے آئی تھی،،،____ ورنہ اس کی شاپنگ بھی نائلہ ہی کرتی تھی،،،_____

وہ کافی خوش تھی،،،____

اور اپنی ضرورت کا سامان لے کر کاوئنٹڑ پر گئی اور بل ہے کر کے باہر گاڑی کی طرف بڑھی،،،_____

وہ جیسے ہی باہر نکلی،،،_____ اسے اپنے کندھے پر کسی کا ہاتھ محسوس ہوا،،،____ وہ پیچھے مڑتے ہی دنک رہ گئی،،،____

” تم !!،،،_____” زرمینے نے اسے دیکھتے ہی کہا،،،_____

” ہاں میں تمھیں کیا لگا کہ مجھ سے بچ جاؤ گی،،، نہیں تمھاری چچی نے ایک کڑوڑ لیا ہے تم سے،،،______” یہ وہی لڑکا جس سے اسے زاروان نے بچایا تھا،،،___

اسے اپنی غلطی پر شدید پچھتاوا ہو رہا تھا کہ وہ زاروان کی اجازت کے بغیر کیوں باہر نکلی،،،_____

” وہ ایک کڑوڑ رائیگاں تو نہیں جائیگا چلو میرے ساتھ،،،______”

اس نے ہاتھ پکڑا لیکن زرمینے نے اپنا ہاتھ چھڑوا کر اس کے چہرے پر زوردار تھپڑ مارا اور بہادری کا مظاہرہ کیا اور پھر اس کی آنکھوں سے اوجھل ہو گئی،،،_____

وہ گاڑی میں بیٹھ کر گھر کی طرف روانہ ہو چکی تھی پر،،،___ وہ لڑکا اسے ڈھونڈتا ہی رہ گیا،،،_____

” میرے منع کرنے کے باوجود تم باہر کیوں گئی؟؟،،،____” وہ کمرے میں داخل ہوتے ہی غصیلے انداز میں پوچھتا ہوا بولا،،،_____

” کیا ہو گیا اگر باہر چلی گئی،،__؟؟_____”

وہ جانتی تھی کہ اسے سب پتہ چل چکا ہے پھر بھی یہ کہہ گئی اور اس کے اس لہجے اور انداز کو دیکھا تھا پہلی بار،،،___ وہ سہم چکی تھی،،،_____

اور یہ بات زاروان نے بھی نوٹ کی تھی،،،_____

لیکن اس وقت وہ غصے میں تھا،،،___

” کیا ہو گیا !!!_____” اس نے اس کا ہاتھ زور سے تھاما،،،____

” آپ ہوتے کون ہیں !! مجھ پر حق جمانے والے آپ نے میری مدد کی بہت شکریہ آپ کا !! میں آپ کی کوئی غلام نہیں ہوں،،،_____”

اس کی یہ بات سن کر زاروان کے چہرے پر مسکراہٹ چھائی،،،_____

” غلام نہیں !!،،_____”

” تو کیا؟؟___”

” بیوی،،،_____” اس کے یوں کہنے پر وہ حیران ہوگئی،،،،____

” کیا مطلب،،،______” وہ ابھی بھی نہ سمجھی،،،_____

” مطلب یہ کے تمہی نے کہا نہ کہ میں تمھارا کون ہوں،،،__ تو ٹھیک ہے ہم رشتہ قائم کر لیتے ہیں پھر تو ہوگا نہ حق نکاح کر لیتے ہیں ہم،،،____ اس طرح تمھیں بھی کوئی خطرہ نہیں رہے گا،،،_____”

وہ چہرے پر مسکراہٹ سجائے ہوئے بولا،،،______

لیکن زرمینے کچھ بھی کہنے کی موڈ میں نہیں تھی،،،______

” اچھا مزاق کر لیتے ہیں آپ،،،____” کچھ دیر ساکت رہنے کے بعد وہ بولی،،،_____

” مزاق نہیں کرہا میں،،،___” زاروان نے زور سے اس کا ہاتھ تھاما،،،_____

” میر ہاتھ چھوڑیں !!،،،_____”

وہ ہاتھ چھڑوانے کی ناکام کوشش کررہی تھی،،،_____ لیکن گرفت مضبوط ہونے کی وجہ سے اس کے ہاتھ کی کانچ کی چوڑیاں ٹوٹی اور زرمینے کے بازو سے خون بہنے لگا،،،____

” آہ،،،____”

یہ دیکھ زاروان کا غصہ اترا اور پاس پڑے ہوئے ٹشو کے ڈبے سے ٹشو نکالے،،،____اور خون صاف کرنے لگا،،،_____

” سو سوری !!_____” اس نے اپنی کی ہوئی غلطی کی معافی مانگی،،،_____

پر زرمینے کی نظریں تو زاروان پر ہی تھی،،،___ وہ بھی شائید اس سے محبت کرنے لگی تھی،،،____

” صبح تیار رہنا نکاح ہو گا،،،_____” جاتے ہوئے اس کے سر پر بم پھوڑ گیا،،،_____

رات کو کب اس کی آنکھ لگی وہ خود بھی نہیں جانتی تھی،،،____ صبح آنکھ کھلی تو ساجدہ بیگم نکاح کا جوڑا لیے اس کے پاس کھڑی تھی،،،_____ وہ تیار ہوئی اور نیچے کی طرف بڑھی ساجدہ بیگم اس کے ساتھ تھی،،،_____

آخر کار نکاح ہو گیا اور وہ زرمینے درانی سے زرمینے زاروان خان بن گئی،،،_____

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *