Ishq Pr Zor Nahi By Abdul Ahad Butt NovelR50480 Ishq Pr Zor Nahi (Episode - 26)
Rate this Novel
Ishq Pr Zor Nahi (Episode - 26)
Ishq Pr Zor Nahi By Abdul Ahad Butt
___ایک سال بعد
_____
وہ اس کی تصویر کو سینے سے لگائے آنکھوں سے آنسو بہا رہی تھی،،،_ ” پتہ ہے شہرام آج آپ کو مجھ سے دور گئے ہوئے پورا ایک سال ہوگیا ہے،،_ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ایک دن اتنا سب کچھ ہو جائے گا یہ سب میری ہی غلطی ہے مجھے اس دن وہاں جانا ہی نہیں چاہئے تھا نہ میں وہاں جاتی اور نہ ہی آپ کو میری فکر ہوتی اور نہ ہم دونوں یوں الگ ہوتے،،__ “
وہ آنکھوں سے آنسو بہا رہی تھی،،_ کہ کمرے کا دروازہ کھلا اور ایک خاتون کمرے میں داخل ہوئی،،__
وہ خاتون شکل سے ہی ایک نیک خاتون لگتی تھی،،__ دراصل اس حادثے کے بعد شہزین اس خاتون کے ہی گھر رہ رہی تھی،،__ اس کی کوئی بیٹی نہیں تھی اور نہ ہی کوئی بیٹا اور جب انھیں شہزین ملی تو انھوں نے اس کا خیال رکھنے کا فیصلہ کیا،،،_ اور اسے اپنی بیٹی بنا لیا،،__
شہزین بھی ان کے ہی ساتھ رہ رہی تھی،،،__ وہ اس دن سے گھر واپس نہیں گئی تھی،،__ کیونکہ وہ نہیں جانا چاہتی تھی،،_ اس سب کا زمہدار وہ اسے خود کو ہی سمجھ رہی تھی،،،__
” شہزین بیٹا !! میں نے منع کیا تھا نہ کہ آپ نے رونہ نہیں ہے،،،__” وہ اس کے آنکھوں سے بہنے والے آنسو صاف کرتے ہوئے بولی،،،__
” آنٹی ! کیا کروں ؟ نہیں رہنا چاہتی ہوں میں شہرام کے بغیر ایک دفعہ پہلے بھی وہ میرا دل توڑ کر مجھے چھوڑ گئے تھے اور میں ان سے نفرت کرنے لگی تھی لیکن پھر وہ میری زندگی میں واپس آئے،،،__ اور اپنی محبت کا یقین دلایا،،،__ آپ کو پتہ ہے جب وہ چھوڑ کرگئے تھے تو میں پوری طرح ٹوٹ گئی تھی پھر انھوں مجھے دوبارہ جوڑا اور اب پھر چھوڑ کر چلے گئے،،،__”
اس کی آنکھوں سے بہتے آنسو رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے،،،،__
” بیٹا جو ہونا تھا وہ ہوگیا ہے اب کچھ بھی نہیں ہوسکتا وہ اب آپ کی زندگی سے جاچکے ہیں،،،__ شائید اللہ کو یہی منظور تھا،،،__ اب آپ اپنے آپ کو سنبھالے اور نیچے ناشتہ کرنے کے لیے آئیں،،،__”
وہ اس کو چپ کروانے کی ہر ممکن کوشش کر رہی تھی،،،__
” کیسے سنبھالو خود کو میں میرا دل کہتا ہے کہ وہ یہی کہیں ہیں میرے پاس بالکل ٹھیک ہیں وہ انھیں کچھ بھی نہیں ہوا وہ زندگی ہیں،،،__”
وہ اس بات کو ماننے کو تیار ہی نہیں تھی کہ شہرام اسے چھوڑ کر جا چکا ہے،،__
” بیٹا !! آپ اس بات کو جتنی جلدی تسلیم کرلیں اتنا ہی جلدی آپ کے لیے اچھا ہوگا،،،__” وہ اسے سمجھا رہی تھی،،،__
” اب اٹھیں اور جلدی سے جا کر فریش ہو جائیں،،،__”
” اچھا آپ جائیں میں آتی ہوں تیار ہو کر،،،__” یہ کہہ کر وہ اٹھی اور واش روم کی طرف بڑھی،،،__
اس کا دل سچ ہی کہتا تھا،،،__ کہ اس کا شہرام ٹھیک ہے،،،__
دراصل اس دن ایکسیڈینٹ کے بعد شہرام نے اپنی آنکھیں ہوسپٹل میں ہی کھولیں تھی،،،__ پورے چار دن بعد،،_
اسے اٹھتے ہی شہزین کا خیال آیا اور یاد آیا کہ اس کی جان خطرے میں ہے،،،__
اس نے فوراً وہاں سے جانے کی کوشش کی ڈاکٹرز نے اسے کافی روکا کہ اس کی طبعیت ابھی ٹھیک نہیں ہے،،،__ پر وہ بھی شہرام خان تھا اسے کوئی بھی نہیں روک سکتا تھا،،،__
ڈیٹلیز نکلوانے پر اسے پتہ چلا شہزین اب بہتر ہے اور ایک نہایت ہی نیک خاتون کے پاس ہے،،_ اس نے اس کی حفاظت کے لیے کچھ لوگوں کو متعین کروایا،،،__ جو پل پل اس کی حفاظت کرتے اور پل پل کی خبر شہرام کو دیتے،،،__
دراصل اپنی پہچان کو موت کے منھ میں اس نے ہی ڈالا تھا،،،__
وہ نہیں چاہتا تھا کہ کسی کو بھی معلوم ہو کہ وہ اس وقت بالکل ٹھیک ہے،،،__ کیونکہ ڈیٹلیز نکلوانے پر اسے یہ بھی معلوم ہوا تھا کہ یہ کام اس حاکم کا ہے،،،_ جس پر اسے کافی غصہ بھی آیا لیکن فلحال اسے اپنے غصے پر قابو رکھنا تھا،،،__
وہ اس وقت اسلام آباد میں تھا اور شہزین بھی اسلام آباد میں ہی تھی،،__
آج وہ گھر جانے والا تھا اور انھیں سرپرائز بھی دینا چاہتا تھا،،،__ اور پھر شہزین سے بھی اسے ملنا تھا،،،__
وہ ایک سال سے حاکم کی تلاش میں تھا،،،__ اس کی ان تینوں چمچوں کو وہ ٹھکانے لگا چکا تھا،،،__ زاروان کو کچھ بھی نہیں کرنا پڑ رہا تھا،،،___ اسے تو یہ بھی نہیں سمجھ آرہا تھا کہ یہ کر کون رہا ہے ؟
شہرام کی نظر اب صرف حاکم پڑ ہی تھی کیونکہ اس کا خاتمہ ہوتے ہی ان کا سب سے بڑا دشمن جو ختم ہو جانا تھا،،،__
حاکم کو اپنی موت نظر آرہی تھی،،،__ اسی وجہ سے وہ چھپنے چھپانے کی کوششوں میں تھا اور ہر دفعہ شہرام خان کے حملے سے بچنے میں کامیاب ہو جاتا تھا،،،__
شہرام اس وقت اپنے آدمیوں پر شدید غصہ تھا لیکن اب وہ اپنی فیملی سے دور بھی تو نہیں ہوسکتا تھا،،،__
وہ کمرے میں ٹہل رہی تھی،،،__
” آج میں لازمی جاؤں گی گھر واپس !! شائید شہرام وہی ہوں اور انھیں میں مل نہ رہی ہوں،،،___” وہ یہ سوچ رہی تھی کہ اگر شہرام ٹھیک ہو گا تو اسے دھونڈ نہیں پا رہا ہو گا،،،___
” ہاں میں آج ضرور جاؤں گی حویلی،،،___”
” پتہ نہیں کیا ہوگیا یہ ہمارے ساتھ،،،__” ساجدہ بیگم دکھی سی بیٹھی ہوئی افسوس سے بولی،،،__
” خالہ ! جو ہونا تھا ہو گیا بھائی اور بھابھی کا دکھ ہمیں بھی بہت پر اب آپ کو خود کو سنبھالنا ہوگا،،،__ ” زاروان ساجدہ بیگم کو تسلی دیتے ہوئے بولا،،،___
” جی خالہ !!” زرمینے نے کہا،،،__
” پتہ نہیں زاروان کیوں میرا دل کہتا ہے کہ شہرام اور شہزین بالکل ٹھیک ہیں،،،__ ” ساجدہ بیگم نے کہا،،،__
” آپ کا دل بالکل ٹھیک کہتا ہے خالہ،،،__”
یہ سنتے ہی انھوں نے سامنے دیکھا تو دھنک رہ گئے،،،،____
