Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Pr Zor Nahi (Episode - 15)

Ishq Pr Zor Nahi By Abdul Ahad Butt

وہ نہایت ہی حوبصورت لگ رہی تھی،،،____ زاروان کو کل رات سے صرف اسی کے خیال آرہے تھے،،،___ ایک عجیب سی بے چینی تھی اسے کی اگر وہ اس سے دور چلی گئی تو وہ اس کی سانسیں بند ہو جائیں گی،،،___

اسی وجہ سے وہ اسے اپنے اتنا قریب کر لینا چاہتا تھا کہ وہ چاہ کر بھی اس سے دور جا ہی نہ پائے،،،____ اس لیے ہی تو وہ اس سے نکاح کر رہا تھا،،،_____

اور دوسری طرف زرمینے تھی جو نہایت خوبصورت لگ رہی تھی،،،____ ایک عام سا جوڑا پہن کر،،،___ چہرے پر لائٹ میک اپ میں بھی وہ اس قدر خوبصورت لگ رہی تھی کہ جو بھی دیکھے فدا کیوں نہ ہو اس پر،،،___

زاروان باہر اپنے کام میں جیسا بھی تھا اس کے لیے وہ ایک مسیحا ہی تھا،،،____ جس نے اس درندے سے اس کی جان بچائی تھی،،،____

وہ اس سے نکاح کے لیے اس وجہ سے راضی نہیں ہوئی تھی،،،____ بلکہ وہ اس سے محبت کرنے لگی تھی،،،___

ورنہ کوئی بھی لڑکی یوں ہی نکاح کے لیے ہاں نہیں کر دیتی،،،،____

زاروان کی نظریں بار بار اس کی طرف ہی جا رہی تھی،،،___ جس چیز کو ساجدہ بیگم نے خوب نوٹس کیا تھا،،،____

اور وہ ہر بار دیکھ کر مسکرا دیتی،،،___

وہ زاروان کی نظروں میں زرمینے کے لیے پیار بخوبی دیکھ سکتی تھی،،،_____

پر زاروان یہ بات خود سمجھ نہیں پا رہا تھا،،،____ اور نہ ہی زرمینے اس چیز کو سمجھ پائی تھی،،،____

زرمینے نکاح ہونے کے بعد اٹھی اور اپنے کمرے کی جانب بڑھی،،،____ وہ بھول گئی تھی کہ اب اس کا نکاح ہو چکا ہے اور اب زاروان کا کمرہ ہی اس کا کمرہ ہے،،،____

اسے جاتا دیکھ شہزین مسکرائی،،،___ اور اس کے پیچھے گئی،،،____

آج صبح ہی شہزین اور زرمینے کی ملاقات ہوئی تھی،،،___ ان کی دوستی کافی اچھی ہوگئی تھی،،،____

شہزین نے اسے بتایا تھا کہ زاروان اگر اس سے زبردستی نکاح کر بھی رہا تو صرف اس کی بھلائی کے لیے ہی کررہا ہے،،،____ اور وہ کوئی برا لڑکا نہیں ہے،،،،_____

” زرمینے میڈم !! کہاں جارہی ہو؟؟؟،،،____” شہزین اس کا راستے روکتے ہوئے اس سے سوال پوچھتی ہے،،،____

” کمرے میں جارہی ہوں اور کہاں ؟؟،،،_____” زرمینے منھ بناتے ہوئے سوال کا جواب دیتی ہے،،،___ ” وہ مجھے پتہ ہے کہ تم کمرے میں جارہی ہو؟؟،،،____ پر یہ تمھارا کمرہ نہیں ہے،،،____” شہزین نے کہا،،،___

یہ سنتے ہی زرمینے کمرے کا دروازہ کھول کر چیک کرتی ہے اور پھر شہزین کو دیکھتے ہے،،،___

” میرا ہی تو کمرہ ہے یہ،،،،_____” زرمینے کمرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتی ہے،،،____

” تمھارا کمرہ تھا،،،____ اب تمھارا کمرہ چینج ہو گیا ہے،،،،____ آو تمھیں تمھارا کمرہ دکھاتی ہوں میں،،،____” یہ کہہ شہزین اس کو ساتھ لے کر زاروان کے کمرے کی طرف بڑھی،،،____

جیسے ہی وہ زاروان کے کمرے کے پاس پہنچتی ہیں،،،___ تو ہی زرمینے کو سمجھ آتا ہے کہ وہ کس کمرے کے بارے میں بات کر رہی تھی،،،،_____

” چلو جاؤ کمرے میں !!،،،،____” یہ کہہ کر شہزین اپنے کمرے کی طرف بڑھی،،،____

” اففف !! یہاں رہنا ہو گا،،،____” یہ کہہ کر وہ کمرے میں داخل ہوئی،،،___

کمرے میں داخل ہوتے ہی اس آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی،،،____ پورے کا پورا کمرہ خوبصورت پھولوں سے سجا ہوا تھا،،،،_____

گلاب کے پھولوں کی مہک کمرے میں پھیلی ہوئی تھی،،،،______

اور اس خوشبو کو اپنی سانسوں میں اتار رہی تھی،،،،____ کچھ دیر یوں ہی کھڑے رہنے کے بعد وہ کھڑکی کے پاس جا کر کھڑی ہوگئی اور باہر جھانکنے لگی،،،____

شہزین کمرے میں پہنچی،،،___ شہرام وہی تھا،،،_____ وہ سگریٹ پی رہا تھا،،،_____

شہزین کو اس کا سگریٹ پینا بالکل بھی پسند نہ آیا،،،،______ وہ دروازہ بند کر کے اس کے پاس گئی،،،،_____ سگریٹ اس کے لبوں کی گرفت سے نکال باہر پھینکا،،،____

” یہ کیا کر رہے ہیں آپ؟؟؟،،،_____” وہ سگریٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی،،،،_____ ” تمھارا انتظار !!،،،_____” وہ اس کے گالوں کو چھوتا ہوا بولا،،،____

” یہ میرے سوال کا جواب نہیں،،،_____” وہ فوراً ایک ہی سانس میں بولی،،،،____

” پر میرے پاس تو اس کا یہی جواب ہے،،،_____” اب کی بار وہ اسے اپنی طرف کھینچتا اس کی کمر کے گرد بازو حائل کرتا ہوا بولا،،،،______

” سگریٹ مت پیا کریں صحت کے لیے اچھا نہیں نہیں ہوتا یہ آئی بات سمجھ میں کہ نہیں !!،،،،_____” وہ مسکراتے ہوئے بولی،،،___

” آ گئی بات سمجھ میں استانی جی سگریٹ صحت کے لیے اچھا نہیں ہوتا،،،،____” وہ ہنستا ہوا جواب دیتا ہے جس شہزین بھی مسکرا دیتی ہے،،،____

” پرومس کریں !!،،،،_____”

“پرومس جی پرومس !!،،،____”

” ویسے اتنی دیر سے کہا تھی تم ؟؟ کافی دیر سے انتظار کر رہا تھا میں تمھارا،،،____” شہرام اب اسے گرفت سے آزاد کرتا ہوا دھیمے لہجے میں پوچھتا ہے،،،____

وہ زرمینے کے پاس تھی آپ بتائیں کب سے انتظار کر رہے ہیں میرا آپ ؟؟،،،،_____ شہزین بتاتے ہوئے اس سے سوال پوچھتی ہے،،،_____

” پورے پانچ منٹ !!،،،____” اس کی یہ کہنے کی دیر ہی تھی کہ شہزین اپنی ہنسی کنٹرول نہ کر پائی،،،____

” ارے تم ہنس رہی ہو مجھ پر !!،،،،_____” وہ منھ بناتے ہوئے بولا،،،_____

” ہنسو نہ تو اور کیا کرو ؟؟،،،_____ پانچ منٹ ہی تو تھے اور کہہ ایسے رہے جیسے پانچ گھنٹے ہو گئے ہو،،،____ اور اگر میں واقع ہی کہیں چلی جاؤں تو آپ کیا کریں گے،،،،_____”

اب وہ سریس ہو کر بولی،،،،_____

” شششش !! تمھارے بغیر پانچ منٹ گزارنا پانچ دن گزارنے سے کم نہیں اور کیا کہا تم نے کہ دور جاؤ گی وہ تو میں تمھیں جانے دوں گا تو نہ،،،،____” یہ کہہ وہ اس کے لبوں پر جھکا،،،،_____

شہزین بھی اسے سمجھنے لگی تھی اس سے محبت کرنے لگی تھی وہ بھی اس سے چاہے جتنی بھی نفرت کیوں نہ ہو نکاح محبت میں بدل ہی دیتا ہے،،،____ یوں ہی نکاح کے رشتے میں اتنی طاقت نہیں ہوتی ہے،،،__

وہ کھڑکی کے پاس کھڑی تھی،،،____ دروازہ کھلتے ہی پیچھے مڑی تو وہاں زاروان تھا،،،،_____

یہ دیکھ وہ اسے اگنور کرتی پھر سیدھی ہوکر کھڑی ہو گئی،،،____

وہ اس کے پاس آکر کھڑا ہوا،،،______

” ویسے مس زرمینے زاروان شاہ آپ نے کیا کہا تھا،،،،_____؟ زرا یاد تو کروائیے گا،،،،____ ہاں میں آپ پر حکم چلانے والا ہوتا کون ہوں؟؟؟،،،،،______”

وہ چہرے طنزیہ مسکراہٹ لیے بولا،،،،_____

جس پر زرمینے کچھ بھی نہ بولی،،،،_____

” اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ میں کون ہوں ؟؟،،،____ میں آپ کا شوہر زاروان شاہ،،،،_____ اب تو آپ میری بات مانے گی نا،،،____”

وہ اس کا چہرہ اپنے طرف کرتے ہوئے بولا،،،____

” آپ نے مجھ سے شادی مجھ پر حکم چلانے کے لیے کی ہے کیا،،،،___؟” اس کی سمجھ میں اب بھی نہیں آرہا تھا کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے،،،_____

” نہیں !! میں نے آپ سے شادی صرف اس لیے کی ہے،،،

Because I want to protect you and I love you…”

زاروان نے آخر کار اس سے اپنی محبت کا اظہار کیا اور اس کی طرف بڑھا،،،،____ اور یہ بات سنتے ہی زرمینے سکتے میں آگئی،،،_____

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *