Ishq Pr Zor Nahi By Abdul Ahad Butt NovelR50480 Ishq Pr Zor Nahi (Episode - 27) 2nd Last Episode
Rate this Novel
Ishq Pr Zor Nahi (Episode - 27) 2nd Last Episode
Ishq Pr Zor Nahi By Abdul Ahad Butt
یہ آواز سن کر وہ اٹھی اور پہلے حیرانگی کے تاثرات چھائے ان سب کے چہرے پر اور پھر کچھ ہی پلوں میں ان کے چہروں پر مسکراہٹ چھا گئی خوشی سے۔۔۔ اور مسکراہٹ آتی بھی کیوں نہیں سامنے اس کا بھائی اور ساجدہ بیگم کا بڑا بیٹا کھڑا تھا۔۔۔۔ ہے تو وہ ان کی بہن کا بیٹا تھا۔۔ پر ساری زندگی انھوں نے ہی اس کی پرورش کی۔۔۔۔ تو ایک حساب سے وہ ان کا بیٹا ہی ہوا۔۔۔۔۔” شہرام !!۔۔” ساجدہ بیگم کو اپنی آنکھوں پر یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ سامنے شہرام ہی کھڑا ہے۔۔۔۔ وہ اس کے پاس گئی اور اس کے ماتھے پر بوسہ دینے کے بعد انھیں یقین ہوا کہ شہرام بالکل ٹھیک ہے۔۔۔۔ ” بیٹا تو اتنی دیر سے کہاں تھا؟؟ کیوں دور رہا ہم سے۔۔۔۔” ساجدہ۔ بیگم نے اس سے گلی کیا اور اس بات کا گلہ کرنا بنتا بھی تھا کہ وہ ایک سال سے گھر واپس نہیں آیا تھا۔۔۔ ” ہاں بھائی اتنی دیر سے کہاں تھے آپ ؟؟” زاروان نے بھی شہرام سے مل کر اس سے سوال پوچھا۔۔۔۔۔ ” میں سب بتاتا ہوں سب کچھ۔۔۔ بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔۔۔۔” شہرام نے کہا تو سب صوفے پر بیٹھ گئے اور زرمینے چائے بنانے کے لیے چلی گئی۔۔۔۔ اس کے جانے کے بعد شہرام نے ساجدہ بیگم اور زاروں کو سب بتایا جو اس دن ہوا کیسے ہوا کیوں ہوا اور اس کے اثرات کیا تھے؟…. وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔ سب سننے کے بعد ساجدہ بیگم کو شہزین کا خیال آیا۔۔۔۔ ” اور بیٹا شہزین !!” ساجدہ بیگم کے سوال پر وہ ہلکا سا مسکرایا اور بولا۔۔۔ ” خالہ وہ بالکل ٹھیک ہے اس کی فکر مت کریں آپ۔۔۔۔” جس پر خالہ بھی خوش ہوئی کہ دونوں بچے بالکل ٹھیک ہیں۔۔۔۔ ” تو اسے گھر کب کا رہے ہو؟؟” ساجدہ بیگم نے کہا۔۔۔۔ ” آج ہی بلکے ابھی۔۔۔۔” شہرام نے بے چینی اور بے قراری سے کہا جس پر انھوں نے اپنی ہنسی کو بامشکل ہی کنٹرول کیا تھا۔۔۔۔۔ ” اچھا ٹھیک ہے چلو میں بھی تمھارے ساتھ ہی جاؤ گی۔۔۔۔۔” ساجدہ بیگم نے کہا۔۔۔ صاحبہ کی شادی ہو چکی تھی اور سزا کے طور اس کی ماں اسے خود سے بہت دور امریکہ بھجوا دیا تھا۔۔۔ تاکہ وہ بھی خوش رہے اور یہ بھی۔۔۔ ایک ماں تھی وہ کیسے اپنی بیٹی کے ساتھ برا کرتی۔۔۔ اور صاحبہ ان سے اپنے کیے کی معافی بھی مانگ چکی تھی۔۔۔ جس وہ بھی پر سکون تھی۔۔۔۔ صاحبہ کا شوہر اچھا انسان تھا اور شائید صاحبہ ابھی نہ سہی کل اسے پسند ضرور کرنے لگی گی۔۔۔۔
” آنٹی میں جارہی ہوں ابھی۔۔۔۔ ” شہزین کے جواب پر ریشماں کمرے سے باہر آئی۔۔۔ ” شہزین بیٹا کہاں جا رہی ہو ؟” ریشماں کے سوال پر وہ مسکرائی۔۔۔ “آنٹی میں نے آپ کو بتایا تو تھا کہ میرا جاب انٹرویو ہے تو میں اسی کے سلسلے میں جارہی ہوں۔۔۔۔” شہزین نے کہا جس پر ریشماں کو یاد آیا کہ اس نے رات کو اس سے بات کی تھی۔۔۔۔ ” اچھا بیٹا حیر حیریت سے جاؤ اللہ تمھیں اپنے حفظ و ایمان میں رکھے۔۔۔۔ ” انھوں نے اسے دعا دی اور اس پر آیتلکرسی پڑھ کر پھونکنے لگی۔۔۔ شہزین اس کی طرف ہی چہرہ کیے کھڑی تھی۔۔۔۔ ” شہزین !!” اسی دوران ایک ایسی آواز ان دونوں کے کانوں میں پڑی جو ان کی مسکان چھین گئی۔۔۔ یہ آواز تو کچھ جانی پہچانی سی ہے۔۔۔۔ !! خالہ۔۔۔ سوچتے ہوئے اسے یاد آیا کہ یہ آواز تو ساجدہ بیگم کی ہے۔۔۔۔۔ وہ پیچھے مڑی تو اس کا شق درست ثابت ہوا پیچھے ساجدہ بیگم کو پا کر اس کے چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ چھا گئی۔۔۔۔ ” خالہ۔۔۔” وہ ان کے گلے سے جا لگی۔۔۔ انھوں نے بھی اسے اپنے سینے میں بھینج لیا۔۔۔۔ ” خالہ آپ اتنے مہینوں سے کہاں تھی آپ مجھے ملنے کیوں نہیں آئی ؟؟ میں نے آپ کو کتنا مس کیا۔۔۔۔” ان کے گلے سے لگے ہی اس نے شکوہ کیا۔۔۔ جس پر ساجدہ بیگم نے مسکرا کر کہا۔۔۔ “میں نے سوچا کہ کچھ لے کر ہی آؤں تمھارے لیے۔۔۔۔” اس سب میں تو شہرام کا خیال جیسے ذہن سے نکل ہی گیا۔۔۔۔ ان کی بات پر شہزین نے زیادہ کچھ بھی نہیں کہا۔۔۔ ” پوچھو گی نہیں کہ میں تمھارے لیے کیا لائی ہوں ؟؟ ” وہ اسے خود سے الگ کرتی ہوئی بولی تھی۔۔۔ ” کیا لائی ہیں میرے لیے۔۔۔۔۔” ” سامنے دیکھو۔۔۔۔” ساجدہ بیگم کے کہنے پر اس نے سامنے دیکھا تو وہاں کوئی اور نہیں بلکہ شہرام ہی کھڑا تھا۔۔۔۔ جسے دیکھ اسے کے ساتھ گزرے ہوئے شہزین کی آنکھوں کے سامنے کسی پیکچر کی طرح چل گئی۔۔۔
” شہزین !!” شہرام کے چٹکی بجانے پر وہ ہوش میں واپس آئی۔۔۔ تو دیکھا وہاں صرف وہی دونوں تھے۔۔۔ ریشماں اور ساجدہ بیگم وہاں سے جا چکی تھی۔۔۔۔ ” میں آپ سے بات نہیں کر رہی۔۔۔۔؟” غصے میں کہتی ہوئی وہ کمرے کی طرف مڑی پر شہرام نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنی طرف کھینچا جس سے وہ سنبھل نہ سکی اور اس کی سینے سے جا ٹکرائی۔۔۔ ” کیوں ناراض ہو؟؟” اس کے سوال پر شہزین اسے گھورنے لگی۔۔۔ ” کیونکہ جب بھی میں آپ کو اپنی زندگی میں شامل کرتی ہوں آپ سے محبت کرنے لگتی ہوں آپ مجھے چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں۔۔۔۔” اس کے کہنے پر اس کے چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ چھا گئی۔۔۔ وعدہ رہا میرا تم سے آئیندہ کبھی نہیں چھوڑ کر بھاگوں گا ہمیشہ تمھارے ساتھ ہی رہوں گا یہ کہتے ہوئے اس نے اپنی مجبوری کے بارے میں اسے بتایا جسے شہزین سمجھ بھی گئی۔۔۔۔ ” اچھا ٹھیک ہے زیادہ باتیں بنانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔” وہ مسکرا کر بولی۔۔۔ پر اس کی نظر تو اس کے حسین لبوں پر تھی۔۔۔ جسے دیکھ وہ اس کے لبوں پر جھکنے لگا۔۔۔۔ پر شہزین کا ہاتھ رکاوٹ بن گیا۔۔ ” شرم کھائے تھوڑی سی کوئی دیکھ لے گا۔۔۔۔” شہزین ادھر ادھر دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔۔ ” اگر دیکھتا ہے تو دیکھ لے مجھے کسی کا کوئی ڈر ہے کیا اور ویسے بھی تم میری بیوی ہو۔۔۔۔ ” شہرام نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔۔
وہ کہتے ہیں نہ کہ ظلم کبھی تکتا نہیں۔۔۔ اسی طرح نائلہ کا کیا ہوا ظلم بھی اس کے سامنے آیا اسے بلڈ کینسر ہو گیا اور پھر کچھ ماہ پہلے موت بھی ہوگئی۔۔۔ اس کے دونوں بچے اپنے باپ کو لے کر ترکی جا چکے تھے۔۔۔۔ اعظم اور بی جان کے سامنے بھی ان کے کیے ہوئے عمل آئے۔۔۔۔ بی جان کو عمر قید اور اعظم کو 20 سال کی سزا سنائی گئی۔۔۔۔۔
