Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Pr Zor Nahi (Episode - 2)

Ishq Pr Zor Nahi By Abdul Ahad Butt

زرمینے کی چچی اس سے خاص کچھ اچھا سلوک نہ کرتی۔۔۔ ٬٬٬٬٬ لیکن زرمینے نے کبھی اعتراض نہ کیا۔۔

اس کے چچا نہایت شفیق تھے۔۔ اس سے بہت پیار کرتے تھے۔۔۔

زرمینے کے والدین اچھے خاصے امیر تھے.. ان کے انتقال کے بعد زرمینے کا سب کچھ تھا کیونکہ وہ ایک ہی بیٹی تھی ان کی ۔۔

لیکن اس کی چچی نے اس کے بہانے اس کے گھر پر قبضہ کر لیا۔۔ اسی کے گھر رہتی اس کا بیٹا اب اس کے والد کا بیزنس سنبھالتا۔۔ اس کی چچی گھر کے سارے کام اسی سے کرواتی۔۔

لیکن وہ کچھ بھی نہ بولتی اور چپ چاپ سارے کام کر دیتی۔۔۔ نائلہ ( زرمینے کی چچی) کا بیٹا اسے پسند کرتا تھا۔۔ لیکن محبت کا اظہار نہ کیا کبھی بھی۔۔۔

نائلہ یونی کی اسٹوڈینٹ تھی۔۔ یونی سے آکر گھر کے سارے کام بھی کرتی۔۔رات کا کھانا بھی وہی بناتی۔۔ اس کے چچا اس کی مدد کر دیا کرتے کبھی اس کی لیکن اس کی چچی کو ایک آنکھ بھی نہ بھاتی۔۔۔

🪄__________________________🪄

وہ لوگ حویلی کے لیے روانہ ہو چکے تھے۔۔۔

کچھ ہی دیر میں حویلی پہنچ بھی گئے۔۔

حویلی کئی سالوں سے بند پڑی ہوئی تھی۔۔۔ نہ ہی کوئی وہاں سے گزرتا اور نہ ہی کسی نے وہاں آنے کی کوشش بھی کی۔۔۔۔

لوگوں کے مطابق وہاں جھن بھوتوں کا بھسیرہ تھا۔۔لیکن جھن بھوت وغیرہ کچھ بھی نہیں ہوتے۔۔۔

حویلی کا دروازہ کھلوا دیا گیا تھا اور صاف صفائی بھی کروائی گئی۔۔۔ اس لیے انھیں کوئی خاص دکت نہ ہوئی۔۔

سب کو ان کے کمروں کا بتا دیا گیا تھا ۔۔ اور سب اپنے کمروں میں چلے گئے۔۔۔ کچھ دیر بعد شہزین اپنی والدہ نسیما بیگم کے پاس آئی۔۔

” امی !! یہ بی جان کو چار سو سال پرانی حویلی ہی کیوں پسند ہے؟؟__٬٬٬٬ “

شہزین نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔۔

” بیٹا !! اس طرح نہیں کہتے اور بھول کے بھی یہ بات بی جان کے سامنے نہ کر دینا۔۔ انھیں برا لگے گا۔۔۔”

نسیما بیگم نے شہزین کو نصیحت کی۔۔۔

” جی ٹھیک ہے۔۔۔۔”

اسی طرح وہ دونوں باتیں کرنے میں مصروف ہوگئے ۔۔۔

” بیگم صاحبہ !! آپ کو بڑی بیگم صاحبہ نے یاد کیا ہے۔۔۔”

ایک ملازمہ نے آکر نہایت ادب کے ساتھ بی جان کا پیغام انھیں دیا۔۔۔

” ٹھیک ہے تم جاؤ !! میں آتی ہوں۔۔۔”

نسیما بیگم نے ان سے کہا۔۔۔

ان کا جواب سنتے ہی وہ وہاں سے چلی گئی۔۔

نسیما بیگم بی جان کے کمرے میں پہنچی ۔۔۔۔ فاروق صاحب بھی وہی موجود تھے۔۔۔

” آئیں بیٹھے !! اب جو ہم آپ سے کہنے جا رہے ہیں زرا غور سے سنیے گا۔۔۔۔”

بی جان کی اس بات پر فاروق صاحب اور ان کی بیوی نسیما بیگم ان کی طرف متوجہ ہوئی۔۔۔

” میں نے شہزین کا رشتہ طہ کر دیا ہے اعظم کے ساتھ۔۔۔۔۔”

بی جان کی اس بات پر وہ دونوں کھڑے ہوئے۔۔ اور وہ جو باہر مسکراتے ہوئے آرہی تھی۔۔۔ یہ بات سنتے ہی وہی رکی اور چہرے پر افسردگی چھا گئی۔۔۔

” اعظم کے ساتھ۔۔۔۔٬٬٬٬٬٬”

نسیما بیگم نے حیران ہوکر پوچھا۔۔۔

” ہاں !! کیوں کوئی مسئلہ ہے کیا؟؟؟ ٬٬٬٬٬٬٬٬ “

بی جان نے نسیما بیگم سے سوال کیا۔۔۔

” مسئلہ !! مجھے یہ رشتہ قبول نہیں ہے میں اپنی بیٹی کو اس دلدل میں نہیں جھونکوں گی۔۔۔”

نسیما بیگم نے دو ٹوک بات کی۔۔۔۔

” میں نے فیصلہ کر لیا ہے۔۔۔”

بی جان نے اپنی بات مکمل کی۔۔۔

” فیصلے بدلے بھی جا سکتے ہیں۔۔۔ میں وہاں شہزین کی شادی مر کر نہیں ہونے دوں گی۔۔۔ اور آپ کیا نہیں جانتی کہ وہ کتنا گھتیا بد تمیز اسے تو بڑوں سے بھی بات کرنے کی تمیز نہیں ہے ۔۔۔٬٬٬ “

نسیما بیگم کافی غصے میں تھی۔۔۔

” فاروق !! تم دیکھ رہے ہو اپنی بیوی کو۔۔۔۔۔٬٬٬٬٬٬٬”

بی جان اب فاروق سے مخاطب ہوئی۔۔۔

” ماں !! وہ ٹھیک کہہ رہی ہے ۔۔۔۔”

فاروق صاحب نے بھی اپنی بیوی کا ساتھ دیا۔۔۔

” یہ تم دونوں کر کیا رہے ہو شہزین کو بلاؤ میں اس سے خود بات کروں گی۔۔۔۔۔۔”

بی جان کافی غصے میں تھی۔۔۔۔

🪄________________________🪄

” قادر کی موت کے بعد اب ہمیں چوکنا رہنا ہو گا۔۔۔۔۔٬٬٬٬ “

وہ تینوں اسی میز کے ارد گرد بیٹھے اور سربراہی کرسی پر بیٹھی وہ عورت انھیں سمجھا رہی تھی۔۔۔

” اب قادر کے بعد علی حیدر ہی سر جو ہم پر اٹیک کرے گا ۔۔۔۔”

زاروان نے شہرام کو بتایا ۔۔۔۔

” پر ہم بھی کمزور نہیں ہیں۔۔۔”

دراصل شہرام اور زاروان بھائی تھی اور وہ عورت ان کی خالہ تھی۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *