Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Pr Zor Nahi (Episode - 18)

Ishq Pr Zor Nahi By Abdul Ahad Butt

زاروان کمرے میں آیا تو زرمینے کمرے میں موجود نہیں تھی،،،،_____ اس نے پھر بھی ایک دفعہ چیک کیا وہ کہیں نہیں تھی،،،،_____

وہ جانتا تھا کہ زرمینے یہی کہی ہو گی تو آ جائے گی،،،،____ وہ بیڈ پر بیٹھ کر موبائل میں مصروف ہوگیا،،،،_____

کچھ ہی دیر بعد کمرے کا دروازہ کھلا اور زرمینے کمرے میں آئی،،،_____

” کہاں تھی؟؟،،،،،_____” اسے کمرے میں آتا دیکھ زاروان نے اس سے سوال کیا،،،،_____

” و۔وہ میں باہر لان میں تھی،،،،،______” وہ جھجک کر بولی،،،_____

” اچھا !! ٹھیک ہے،،،،_____” یہ کہہ کر زاروان پھر سے موبائل استعمال کرنے میں مصروف ہوگیا،،،،_____ زرمینے بھی صوفے پر کچھ دیر چپ رہنے کے بعد بولی،،،،_____

” مجھے شاپنگ کرنی ہے،،،،_____” زرمینے نے زاروان سے کہا جس پر اس نے ایک نظر زرمینے کو دیکھا،،،،،_____

“کوئی ضرورت نہیں ہے،،،،____”کہہ کر زاروان دوبارہ موبائل یوزر کرنے میں مصروف ہو گیا،،،_____ یہ سنتے ہی زرمینے نے منھ بنا لیا زاروان اسے دیکھ رہا تھا اور اس کی طرف دیکھ کر مسکرایا اور اس کی طرف بڑھا،،،،،_______

اس نے زرمینے کو منانے کی کوشش کی پر وہ بھی اپنے نام کی ایک تھی،،،،______

آخر کار ہار زاروان کی ہوئی،،،_____ اور اسے زرمینے کو شاپنگ پر لے کر جانا ہی پڑا،،،،_____

وہ دونوں مال پہنچے،،،____ شاپنگ کی اور آئس کریم بھی کی،،،،،_____ آخر میں جب زرمینے کلاتھ شاپ میں آئی،،،____ تو زاروان کو یاد آیا کہ اس کا موبائل گاڑی میں رہ گیا تو وہ لینے گیا،،،،_____

زرمینے اس بات سے نامعلوم تھی،،،،______

جب وہ کلاتھ شاپ سے باہر آئی تو زاروان کو نا پاکر گھبرا گئی،،،،_____

لیکن اپنی کندھے پر ایک بھاری ہاتھ پاکر وہ پیچھے مڑی کہ زاروان ہے،،،،_____

” ارے زاروان !!،،،،_______” اس سے آگے وہ بول نہ پائی کیونکہ وہ زاروان نہیں تھا،،،،_____ وہ کوئی اور نہیں بلکہ جواد تھا،،،،_____

” زرمینے !! ت۔ تم کہاں چلی گئی تھی،،،،_____” جواد کے چہرے پر کئی دنوں بعد مسکراہٹ چھائی تھی،،،،_____

” آپ یہاں کیا کر رہے ہیں؟،،،،_____” زرمینے پریشانی کے عالم میں بولی،،،،_____ اس کو ڈر تھا کہیں زاروان نہ آجائیں،،،،______

اور یہی ہوا زاروان نے اسے دیکھ لیا تھا،،،____ پر چھپ کر دیکھ رہا تھا وہ ان کو،،،_____

” اب میں تمھاری ایک بات بھی نہیں سنو گا میرے ساتھ چلو،،،،،_____”

جواد نے اس کا ہاتھ پکڑا اور ساتھ لے کر جانے والے انداز میں پیچھے مڑا،،،،_____

زاروان اتنا ہی دیکھ پایا،،،،______

زرمینے نے اپنا ہاتھ چھڑوایا اور کہا،،،،___

” میں شادی شدہ ہوں دور رہو مجھ سے،،،،______” زرمینے غصے میں بولی کر چلی گئی،،،،_____ جواد کو یقین ہی نہیں آیا،،،،_____

زاروان سمجھ رہا تھا کہ زرمینے نے اس سے شادی کسی مقصد کے تحت کی،،،،______ وہ دھوکے باز ہے،،،،______ پر ایسا بالکل بھی نہیں تھا،،،_______

وہ دونوں گھر واپس آئے،،،،____ زرمینے سیدھا کمرے میں چلی گئی،،،،_____ زاروان بھی اس کے پیچھے گیا،،،،_____

” مال میں وہ لڑکا کون تھا،،،،_____” کمرے میں داخل ہوتے ہی زاروان کے سوال پر وہ رکی اس کی سانسیں بند ہونے کو تھی،،،،_____

” و وہ۔۔۔ وہ” ڈر کے مارے اس سے کچھ بھی بولا ہی نہیں جا رہا تھا،،،،_______

” کیا وہ وہ ؟؟ ،،،____ لگا رکھی ہے،،،،___ جو سوال پوچھا ہے اس کا جواب دو،،،،____” زاروان کا لہجہ تلخ تھا،،،،____ زرمینے سمجھ چکی تھی کہ وہ سب کچھ جان چکا ہے،،،،____

” وہ لڑکا میرا کزن ہے،،،،____” کافی ہمت کرکے بھی وہ بس اتنا ہی بول پائی،،،،،،،_____

” بس کزن کے تمھارا عاشق !! جس نے مال میں کسی کی بھی فکر کیے بغیر تمھارا ہاتھ یوں تھاما جیسے اسے یہ حق تم نے دیا ہو،،،،،______”

اس کی یہ باتیں زرمینے کے دل پر لگ رہی تھی،،،،_____

” کیا کہا آپ نے عاشق اور ہاتھ !! مجھے افسوس ہے آپ پر زاروان خان کے آپ نے یہ کیسے سوچ لیا کہ میں آپ کو دھوکا دو گی ارے اگر مجھے اس سے ہی شادی کرنی ہوتی تو تم سے تو کبھی بھی نہیں ملتی میں،،،،____ ہاں وہ مجھے پسند کرتا تھا پر میں اس سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی،،،،______ مجھے تو یقین نہیں آرہا کہ یہ آپ کہہ رہے ہیں،،،،_____ آپ نے بھی تو محبت کے دعوے کیے تھے نہ،،،،____ شادی بھی آپ نے ہی کی مجھ سے میں نے نہیں کہا تھا آپ کو شادی کا،،،،_____ لیکن شائید یہ میری ہی غلطی ہے کہ میں نے آپ کو باقی مردوں سے الگ سمجھا سب مرد ایک ہی جیسے ہوتے ہیں،،،،،______”

اپنی تفصیلی بات پوری کرتے ہوئے وہ آنکھوں میں آنسو لیے کمرے سے باہر چلی گئی،،،،____ زاروان نے اسے کچھ بھی نہیں کہا،،،،_____

جیسے ہی زرمینے کمرے سے نکلی زاروان کا فون بجا،،،____ اس نے اپنی جیب سے فون نکال کر دیکھا تو وہ اس کے ایک خاص آدمی کا تھا جسے اس نے اس معاملے کے بارے میں پتہ لگانے کو کہا تھا،،،،____

” اسلام علیکم سر !! وہ جس لڑکے کا آپ نے کہا تھا نہ وہ میم کا کزن ہے اور ان دونوں کی شادی ہونے والی تھی لیکن نہ ہو پائی مال میں وہ دونوں اتفاقاً مل گئے تھے،،،،_____”

” ٹھیک ہے،،__” ابھی اس نے اپنی بات مکمل نہیں کی تھی کہ زاروان نے فون بند کردیا،،،،_____

اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا اور شدید غصہ آیا کہ غصے میں اس نے زرمینے کو کیا کیا کہہ دیا تھا جب کہ وہ اس سب سے بری وہ صرف اس سے ہی محبت کرتی ہے،،،،_____

۔۔۔۔۔۔

وہ اس وقت لان میں کھڑی تھی،،،،____ وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ جس شخص سے اس نے اتنی محبت کی وہ اسے یہ کہے گا،،،_____

زاروان اس کے پیچھے آکر کھڑا ہوگیا،،،،_____ زرمینے جان ہی نہ پائی کہ وہ اس کے پیچھے کھڑا ہے،،،،____

” زرمینے !! آئم سوری،،،،_____” اس کی آواز سنتے ہی وہ پیچھے مڑی،،،،______

” کس چیز کے لیے زاروان خان سوری ؟؟،،،،______” وہ طنزیہ لہجے میں بولی،،،،_____ جس پر زاروان کو اور زیادہ شرمندگی محسوس ہوئی،،،،______

” آئم سوری ! مجھے تمھیں یہ سب نہیں کہنا چاہئیے تھا،،،،_____ میں اپنی کہی باتوں کے لیے شرمندہ ہوں،،،،_____”

” میں نہیں کروں گی معاف،،،،_____” زرمینے نے کافی غصے میں کہا،،،،_____

” تم مجھ سے ناراض بھی نہیں رہ پاؤں گی،،،،_____ ” وہ اس کی طرف قدم بڑھاتا ہوا بولا،،،،____

” ایک ہی شرط پر معاف کروں گی،،،،____” یہ سنتے ہی زاروان کے چہرے پر مسکراہٹ چھا گئی،،،،_____

” بولو کیا شرط ہے،،،،_____ ہر شرط منظور ہے مجھے تمھاری ،،،،______” وہ اس کو اپنی باہوں کے حصار میں لیتا ہوا بولا،،،،_____

” زاروان !! کوئی دیکھ لے گا،،،؟”

” دیکھتا ہے تو دیکھے تم کونسا پرائی لڑکی ہو،،،،_____” وہ اس کی طرف نظریں جھکائے نہایت ہی پیار سے بولا،،،،_____

” شرط یہ ہے کہ آپ کبھی بھی مجھ سے اونچی آواز میں بات نہیں کرے گے،،،،_____” زرمینے کی اس شرط پر زاروان نے بمشکل ہی اپنی ہنسی کو دبایا،،،،____

” بس یہی شرط ہے تمھاری،،،،______”

” جی !!،،،” یہ کہہ کر وہ اس کے سینے میں اپنا سر چھپا گئی،،،،______

جو بھی تھا وہ اس سے محبت کرتی تھی اور یہ سب صرف ایک غلط فہمی کی وجہ سے ہوا تھا اور اب سب ٹھیک بھی ہوگیا تھا،،،،_____

” اعظم دیکھ تو سچ کہہ رہا ہے نہ ؟؟،،،،______” بی جان نے اس سے پھر ایک دفعہ تصدیق کی،،،،_____

” جی بی جان بالکل سچ !!،،،،_____” اعظم نے پھر ایک دفعہ کہا،،،،_____

” کہاں ہے شہزین !!!؟؟؟؟؟” اب کی بار بی جان کی آنکھوں میں شہزین کے لیے نفرت صاف جھلک رہی تھی،،،،______

” وہ مجھے معلوم ہے،،،___ پر ایک مسئلہ ہو گیا ہے؟؟؟،،،،____” اعظم نے کہا،،،___

” کیسا مسئلہ ؟،،،،،_______” بی جان کو کچھ سمجھ نہ آیا،،،،،______

” دراصل بی جان !! وہ شہزین نے نکاح کر لیا ہے،،،،،______” اعظم نے کہا،،،،_____

یہ سنتے ہی بی جان کے حواس باختہ ہوگئے،،،،،،،______

” کیا بکواس کر رہے ہو تم اعظم !!،،،،،_______” بی جان نے غصے میں پاس پڑے شیشے کے گلاس کو اٹھا کر نیچے پھینکا،،،،_____

” میں سچ کہہ رہا ہوں اس نے نکاح کرلیا اور جس کے ساتھ اس نے نکاح کیا ہے وہ وہی لڑکا ہے جس کے ساتھ وہ گئی تھی،،،،،________”۔

اعظم نے پھر سے کہا،،،______

” کوئی مسئلہ نہیں ہے اعظم !!،،،،،_________ میں ایسے حالات کو پیدا کر دوں گی جس کی وجہ سے وہ لڑکا خود شہزین کو چھوڑ دے گا،،،،،________”

بی جان کی اس بات پر ان دونوں نے ایک زور دار شیطانی قہقہہ لگایا،،،،_______

پر ابھی وہ جانتے نہیں تھے کہ کس سے پنگا لے رہے ہیں،،،،،______

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *