Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Pr Zor Nahi (Episode - 29) Last Episode (Part - 2)

Ishq Pr Zor Nahi By Abdul Ahad Butt

آج بارات کا فنکشن تھا۔۔۔ آخر کار سب ٹھیک ہو چکا تھا۔۔۔ ان کی زندگی میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی۔۔۔

شہزین اور زرمینے اپنے اپنے کمروں میں تھی۔۔۔ آرٹیسٹ انھیں تیار کرنے آچکی تھی۔۔۔۔

ساجدہ بیگم زاروان کے ساتھ کہی باہر گئی تھی۔۔۔ شہرام کو شہزین سے ملنے کا موقع مل گیا تھا۔۔۔ کیوں کہ اپنی موجودگی میں تو ساجدہ بیگم انھیں کبھی بھی نہیں ملنے دیتی۔۔۔

وہ چپکے سے دروازہ کھول کر کمرے میں داخل ہوا تو کمرے میں موجود ساری لڑکیاں کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔۔۔ لیکن جس سے اسے ملنے تھا وہ تو وہاں تھی ہی نہیں۔۔۔ اس نے ادھر ادھر نظر دوڑائی پر وہ کہی بھی نہیں تھی۔۔۔۔

اس کے اوسان خطا ہو رہے تھے کہ وہ کہاں گئی ؟؟

لیکن اگلے ہی پل دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔۔۔ وہ لہنگا پہنے واش روم۔سے نکلی۔۔۔

چہرہ میک اپ سے بالکل شفاف تھا۔۔۔۔ بہت ہی خوبصورت لگ رہی تھی وہ میرون کلر کے لہنگے میں۔۔۔۔

شہرام اس کے قریب گیا اور اس کی گال پر ہاتھ رکھا۔۔۔۔

” So, beautiful!!’

شہرام کی آواز پر اس نے اپنا چہرہ اپنے ہی ہاتھوں میں چھپا لیا۔۔۔۔۔

” ارے مجھ سے کیا چھپانا !! میں تو شوہر ہوں نہ۔۔۔ ” وہ مسکراتے ہوئے آگے بڑھا۔۔۔۔ اس کے بڑھتے قدم دیکھ شہزین کی روح فنا ہوئی اور وہ پیچھے کی طرف مڑی۔۔۔۔

پر پیچھے سے جب کمر دیوار سے ٹکرائی تو اسے ہوش آیا۔۔۔ وہ اس کے ارد گرد بازو حائل کرتا ہوا اس کے قریب ہوا۔۔۔

شہزین کو لگا جیسے آج تو پکا وہ گئی۔۔۔ لیکن پھر ہمت کرکے بولی۔۔۔۔۔

” آپ یہاں کیوں آئے ہیں جائیں یہاں سے۔۔۔۔ ” اس کی بات پر اس نے منھ بنایا۔۔۔۔

” تم بھی خالہ کی زبان بولنے لگی۔۔۔۔ جیسے انھوں نے منع کیا تھا تم بھی جانے کا کہہ رہی ہو۔۔۔۔ ” یہ سنتے ہی شہزین نے اپنی مسکراہٹ چھپائی۔۔۔

” میں خالہ کی نہیں خالہ میری زبان بول رہی ہیں۔۔۔۔ ” جس پر شہرام نے اسے گھورا۔۔۔۔

” مجھے یوں مت گھوریں اور چپ چاپ چلیں جائیں یہاں سے۔۔۔۔ ” اسے پیچھے دکھیکلیتے ہوئے شہرام سے کہا۔۔۔۔۔

” جو حکم !!” یہ کہتے ہوئے وہ کمرے سے نکل گیا۔۔۔۔ پیچھے سے شہزین نے سکھ کا سانس لیا۔۔۔

بارات کا فنکشن ہو چکا تھا۔۔۔ انھیں کمرے میں لا کر بیڈ پر بٹھایا گیا۔۔۔۔

پورے کمرے کو پھولوں سے سجایا گیا تھا۔۔۔۔ پورے کمرے میں گلاب کے کھلے پھولوں کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔۔۔ شہزین بیڈ پر بیٹھی اس کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔۔

کمرے کا دروازہ کھلنے پر اس کی دھڑکنیں تیز ہوئی۔۔۔ اور شہرام شیروانی پہنے کمرے میں داخل ہوا۔۔۔۔

آکر اس کی گود میں سر رکھ دیا۔۔۔

” اب بتاؤ شہزین شہرام خان !! کیسے بچاؤ گی حود کو مجھ سے۔۔۔۔ اس ٹائم تو بہت بول رہی تھی۔۔۔۔ ” وہ مسکراتے اٹھا اور جیب سے نہایت ہی قیمتی انگوٹھی نکال اس کی انگلی میں پنائی۔۔۔

” پیاری ہے۔۔۔ ” شہزین کے منھ سے بے ساختہ نکلا۔۔۔

” تمھارے ان خوبصورت ہاتھوں میں آکر ہوگئی ہے۔۔۔۔۔ ” وہ مسکرا بولا۔۔۔۔ تو شہزین کے چہرے پر بھی مسکراہٹ چھا گئی۔۔۔۔

کمرے کا دروازہ کھول کر وہ اندر داخل ہوا لاک کرکے اس کے پاس آکر بیٹھ گیا۔۔۔۔۔

” جی تو اب بتائیں جان زاروان کل تو بہت اچھل رہی تھی۔۔۔ ” زاروان نے شرارت سے کہا۔۔۔ تو زرمینے کا چہرہ کانوں تک سرخ پڑ گیا۔۔۔۔۔

” ویسے تم آج بہت ہی خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔۔ ” زاروان اس کی گال جو سہلاتے ہوئے بولا اور پھر اچانک سے اسے کچھ یاد آیا۔۔۔۔

اس نے جیب میں ہاتھ ڈال کر ایک بیش قیمتی پریسلیٹ نکالا اور اس کے ہاتھ میں پہنا دیا۔۔۔۔

” کافی خوبصورت ہے۔۔۔۔ ” ” پر تم سے کم۔۔۔ “

تین ماہ گزر چکے تھے۔۔۔۔ حاکم کا کچھ بھی نہیں پتہ تھا۔۔۔ شہرام جتنا اس کام کو جلدی ختم کرنا چاہتا تھا۔۔۔ وہ اتنا ہی لٹکتا جا رہا تھا۔۔۔۔

” سر !! حاکم مل گیا ہے۔۔۔ ” جبار نے فون کرکے یہ خوش خبری دی۔۔۔

” ٹھیک ہے تم اسے پکڑ کر رکھو میں آرہا ہو وہاں۔۔۔۔ ” یہ کہتے ہوئے کچھ اہم اشیاء لیے وہ گاڑی چلاتا گھر سے نکلا۔۔۔ جو شہزین دیکھ چکی تھی۔۔۔۔

” یہ شہرام کہاں جارہے ہیں۔۔۔ ؟؟”

وہ اٹھی اور ساجدہ بیگم کے کمرے کی طرف بڑھی۔۔۔ زاروان پہلے کی جا چکا تھا۔۔۔ اور اسی سوال کا جواب لینے ساجدہ بیگم کے پاس تھی۔۔۔۔

” خالہ !! یہ شہرام کہاں گئے ہیں۔۔۔ ” کمرے میں داخل ہوتے ہی اس نے سوال کیا۔۔۔

” خالہ !! اب تو بتا دیں کہاں گئے ہیں شہزین بھی پوچھ رہی ہے اب۔۔۔ ” زرمینے نے زد لگائی۔۔۔

” کسی کام سے گئے ہیں۔۔۔ ” ساجدہ بیگم نے انھیں چپ کرانے کے لیے بولا۔۔۔۔

” کس کام سے ؟؟ اور ان کا کام ہے کیا یہ بھی بتائیں ؟؟” زرمینے کو وہ درگز والا واقعی یاد آیا تو اس نے سوال کیا۔۔۔

” وہ میں ابھی نہیں بتا سکتی ۔۔۔ ” ساجدہ بیگم نے اپنا رخ موڑا۔۔۔۔

” نہیں خالہ !! آپ کو ہمیں سب بتانا ہی پڑے گا۔۔۔ ” شہزین نے ضد لگائی۔۔۔

” اگر اتنا ہی شوق ہے تو سنو۔۔۔۔ ” یہ کہہ کر ساجدہ بیگم نے ساری حقیقت سے انھیں آگاہ کیا۔۔۔۔۔

” بہت بھاگ لیا تم نے حاکم میاں اب باری ہماری۔۔۔۔ ” شہرام نے کہنے پر اس نے اوپر دیکھا تو خوف حاکم کے چہرے پر بخوبی جھلک رہا تھا۔۔۔۔۔

” یہی حود چاہئیے مجھے تمھارے چہرے پر۔۔۔ ” یہ کہتے ہی اس نے ایک تیز دار چھری اس کے سینے میں دے ماری۔۔۔

” تیری ہمت کیسے ہوئی۔۔۔ میری بیوی کو فون کرنے کی بھی۔۔۔ ” یہ کہتے ہوئے اس نے ایک اور حملہ کیا حاکم پر۔۔۔

پورے کمرے میں حاکم کی آوازیں گونج رہی تھی۔۔۔۔

یہ کہتے ہی ایک اور حملہ کرکے شہرام نے اس کا قصہ تمام کیا۔۔۔

” جبار اس کی لاش کو ٹھکانے لگا دو۔۔۔۔ ” یہ کہتے ہوئے وہ دونوں گاڑی میں بیٹھے اور گھر پہنچے۔۔۔

شہرام کمرے میں داخل ہوا تو شہزین کو جاگتا ہوا دیکھ کر اس کو تھوڑا سا خوف آیا۔۔۔

وہ اس کے پاس جا کر بیٹھ گیا۔۔۔

” آپ نے اپنے کام کے بارے میں مجھے کیوں نہیں بتایا پہلے۔۔۔ ” وہ اس کی گال پر اپنے نرم و ملائم لب رکھ گئی۔۔۔

” اگر پتہ ہوتا کہ یہ انعام ملے گا تو کبھی بھی نہ چھپاتا۔۔۔ ” جس پر ان دونوں نے قہقہ لگایا۔۔۔۔

زاروان کمرے میں داخل ہوا تو وہ رو رہی تھی جسے دیکھ وہ تڑپ گیا۔۔۔۔

” رو کیوں رہی ہو ؟؟” وہ اس کے پاس جا کر بیٹھا اور اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے بولا۔۔۔

” کیا آپ مجھ پر یقین نہیں تھا کہ آپ نے اپنے کام کے بارے میں مجھے بھی نہیں بتایا۔۔۔ ” اس نے شکوہ کیا۔۔۔

” آئم سروی۔۔۔ ” اس کے یوں کہنے پر روتے ہوئے چہرے پر مسکراہٹ چھا گئی۔۔۔ زاروان نے اسے خود میں بھینج لیا۔۔۔۔

دو سال بعد

شہزین کا شرارتی سا بیٹا تھا۔۔۔ جو ہر وقت اسے تنگ کرتا رہتا تھا۔۔۔ اس کا ایک ہی ڈائیلاگ ہو گیا تھا۔۔۔

” باپ تو باپ بیٹا بھی اففف!!”

زرمینے کا بھی ایک ہی بیٹا تھا۔۔۔ وہ اچھا خاصا شرارتی بچہ تھا۔۔۔ جس کا نام ہشام خاں تھا۔۔۔۔

اور شہرام کے صاحبزادے کا نام آریان خاں تھا۔۔۔۔

” بابا !! مما نے مجھے دانٹا۔۔۔ ” شہرام کو آتا دیکھ آریان نے منھ بنا کر کہا۔۔۔

” بیٹا وہ ہمیں روز ہی پڑتی ہے۔۔۔ ” یہ سنتے ہی سب مسکرانے لگے۔۔۔

علی کی بھی شادی ہو گئی تھی۔۔ سب اپنی زندگی میں خوش تھے۔۔۔۔

ختم شد ❤️❤️

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *