Ishq Pr Zor Nahi By Abdul Ahad Butt NovelR50480 Ishq Pr Zor Nahi (Episode - 23)
Rate this Novel
Ishq Pr Zor Nahi (Episode - 23)
Ishq Pr Zor Nahi By Abdul Ahad Butt
” تم ہمارا کچھ بھی نہیں بگاڑ پاؤں گے،،،،،_____” ان دو لڑکوں میں سے ایک لڑکے نے کہا،،،،____
” تمھیں ایسا کیوں لگتا ہے تم مجھ سے بچ جاؤ گے زاروان خاں سے،،،،،،_____”
زاروان کے چہرے پر مسکراہٹ چھا گئی،،،،،_____
” کیونکہ ہمارے پیچھے وہ ہے جس نے تم سے بدلہ لینا ہے،،،،____ اور وہ لے کر رہے گا اور ہمیں بچا بھی لے گا،،،،____”
انھیں یہ غلط فہمی تھی کہ وہ حاکم کے لیے بہت اہم ہیں پر ایسا کچھ بھی نہیں ہے اس کے لیے یہ کیڑے مکوڑوں سے زیادہ نہیں تھے،،،،،____
” چلو اس سے بھی مل لیں گے پہلے تم سے مل لیں،،،،______” یہ کہہ زاروان نے ان دونوں پر بندوق تانی،،،،____
” زاروان !!” یہ آواز سنتے ہی وہ حیران ہوا کیونکہ یہ آواز کسی اور کی نہیں بلکہ زرمینے کی تھی،،،،،_____ وہ بالکل اس کے سامنے ہی کھڑی ہوئی تھی،،،،___
” زاروان !! آپ یہ کیا کر رہے ہیں،،،_ ؟ چلیں میرے ساتھ،،،،____ اور یہ بندوق،،،____” وہ ہوسٹل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی،،،،،______
” زرمینے !! میں نے کہا جاؤ ابھی یہاں سے،،،،،_____” وہ شدید آواز میں چلایا جس پر زرمینے پیچھے مڑی،،،،،_____ اور واپس جانے لگی،،،،____ لیکن شائید اب یہ ممکن نہ تھا،،،،____
وہ تین لڑکے تھے جن میں سے دو زاروان کے بالکل سامنے کھڑے تھے،،،،____
اور تیسرا اسی موقع کے انتظار میں تھا جو زرمینے نے وہاں آکر اسے دے دیا،،،،____
وہ جانے لگی ہی تھی کہ وہ تیسرا لڑکا پیچھے سے بھاگتا ہوا آیا اور زرمینے کو درگز کا انجکشن لگا دیا،،،،،____ پہلے تو وہ ٹھیک ہی رہی لیکن پھر کچھ ہی منٹوں میں اس کا سر چکرانے لگا کیونکہ دوز کافی حیوی تھی،،،،،_____
” زرمینے !! ،،،،،_____” زاروان اس کے پاس آیا پر وہ اس کی باہوں میں جھول گئی اور اپنی آنکھیں بند کرلیں،،،،،____
” زرمینے !! اٹھو آنکھیں کھولو،،،،،______” وہ نہایت ہی نرمی سے اس کے چہرا تھپتپھانے لگا،،،،،____ لیکن بے سود،،،،،____
وہ ٹس سے مس بھی نہ ہوئی،،،،،_____ ” زرمینے !!،،،،،______” وہ اس تیز آواز پر چونکا اور پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہاں امبر کھڑی تھی،،،،،_____
” زرمینے اٹھو !!،،،،،،_____ میری جان،،،،____ ” وہ اسے دیکھ حیران ہوئی کہ ابھی تو وہ بالکل ٹھیک اس کے پاس سے ہوکر گئی تھی پھر پانچ منٹ میں ایسا کیا ہوگیا کہ وہ بے ہوش ہی ہو گئی،،،،____
” اسے کیا ہوا ہے،،،،،؟؟” اس نے زاروان سے سوال کیا،،،،____
” بعد میں بتاتا ہوں ابھی ہوسپٹل جانا ہوگا،،،،،____” وہ اسے اپنی باہوں میں بھرتا گاڑی کی طرف بڑھا اور گاڑی فل سپیڈ پر چلانے لگا،،،،___
اسے سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کریں اسے اس بات کا بالکل بھی علم نہیں تھا کہ زرمینے وہاں پہنچ جائے گی،،،،،_____
آخر کار وہ ہسپتال پہنچ ہی گئے،،،،____ اور زرمینے کا ٹریٹمنٹ سٹارٹ کیا گیا،،،،،_____
زاروان آپریشن تھیٹر کے باہر چکر کاٹ رہا تھا،،،،،،_____
اور امبر پاس پڑی کرسیوں پر بیٹھ کر اس کی سلامتی کی دعائیں مانگنے لگی،،،،_____
وہ تینوں لڑکے بھاگ چکے تھے،،،،،____ وہ تینوں حاکم کے پاس ہی گئے تھے،،،،____
انھیں یہ معلوم تو تھا کہ زاروان ان کا پتہ لگا لیں گا پر اتنی جلدی انھیں یہ معلوم نہیں تھا،،،،_____
” آ۔آپ زاروان ہیں،،،،____!!” امبر اس کے پاس آٹھ کر گئی اور اور اس سے سوال کیا،،،،____ ” جی پر آپ کون ؟؟،،،،،_____” اس کے سوال کا جواب دے کر اس نے بھی سوال کیا،،،،،____
” میں امبر !! زرمینے کی کزن ہوں میں،،،،،_____” اس نے اپنے بارے میں بتایا،،،،،___
” اؤوو !! تو آپ ہیں زرمینے کی کزن،،،،____ آپ کے بارے میں بتایا ہے اس نے مجھے نائس تو میٹ یو،،،،،_____” زاروان نے کہا،،،،____
” تھینکس !!،،،،_____” امبر نے کہا اور پھر جا کر بیٹھ گئی،،،،،____
” اگر آپ چاہیں تو گھر چلی جائیں میں زرمینے کے پاس ہوں،،،،،______” زاروان نے کہا،،،،____
” نہیں !! جب تک زرمینے کو ہوش نہیں آجاتا میں یہی رکو گی،،،،،_____” امبر نے کہا،،،،___ ” ٹھیک ہے،،،،،____”
اس کا سارا دھیان زرمینے کی طرف تھا،،،،___ ” مجھے زرمینے کو ساتھ نہیں لانا چاہئیے تھا،،،،،_____”
وہ دل ہی دل میں سوچ رہا تھا،،،،،،______
” زاروان !!،،،،____” ایک بھاری آواز پر وہ پیچھے مڑا تو دیکھا شہرام اس کی طرف بڑھ رہا ہے،،،،____
زاروان بھی اس کی طرف بڑھا،،،،____ اور امبر سے تھوڑا دور ہی اسے روک لیا وہ اس کے سامنے بات نہیں کرنا چاہتا تھا،،،،،_____
” زاروان !! یہ سب کیسے ہوا ؟؟؟؟ اور تم نے مجھے بتانا بھی گوارا نہیں کیا؟؟؟،،،،_____” شہرام کے چہرے غصہ صاف جھلک رہا تھا،،،،_____
” بھائی !! یہ سب اتنی جلدی ہوا کہ بتانے کا موقع ہی نہیں ملا،،،،_____”
زاروان نے اسے صفائی پیش کی،،،،___
” اچھا وہ تو ٹھیک ہے پر کیا تم نے زرمینے کو یہ سب بتا رکھا تھا،،،،،،______”
شہرام نے اس سے سوال کیا،،،،____
” نہیں بھائی !! وہ تو بس وہاں اچانک آگئی تھی،،،،___ اور ان تینوں نے اس کا فائدہ اٹھا لیا،،،،____ پر اب میں ان کو چھوڑو گا نہیں،،،،،____”
وہ غصے میں تھوڑا سا آگے بڑھا لیکن شہرام نے اس کا بازو پکڑ کر اسے روکا،،،،____
” دیکھو زاروان یہ وقت غصے سے کام لینے کا نہیں بلکہ عقل سے کام لینے کا ہے،،،__ ان تینوں کو میں خود دیکھ لوں گا،،،،___ لیکن ابھی تم یہاں سے کہیں نہیں جاؤ گے،،،،____ تم یہی رکو زرمینے کے پاس،،،___”
اس نے اسے سمجھایا اور اس کی نظر امبر پر پڑی،،،___
” وہ لڑکی کون ہے،،،__؟” شہرام کے سوال پر زاروان نے ایک نظر امبر کو دیکھا اور پھر بولا،،،،____ ” زرمینے کی کزن ہے وہ !!”
” اچھا حیر جو بھی ہے،،،____ میں ابھی جاتا ہوں لیکن تم یہاں سے کہیں نہیں جاؤ گے،،،،____”
شہرام اسے سمجھاتا ہوا وہاں سے نکل گیا،،،،،_____
” جی ٹھیک ہے بھائی،،،،____”
کچھ ہی دیر بعد ایک نرس آپریشن تھیٹر سے باہر آئی،،،،____
” نرس وہ میری وائف !!” امبر نے کہا،،،،___
یہ سن کر امبر بھی نرس کی طرف متوجہ ہوئی،،،،___
” دیکھیں مسٹر !! انھیں درگز کی کافی ہیوی دوز دی گئی ہے اور ایسے کیسز میں بچنے کے چانسز بہت کم ہوتے ہیں اس لیے ان کی کنڈیشن کافی کریٹیکل ہے ان کے بچنے کے چانسز صرف بیس فیصد ہیں باقی جو اللہ کو منظور آپ ان کے لیے دعا کریں،،،،____”
یہ کہہ وہ نرس وہاں سے چلی گئی،،،،___
” یا اللہ ! پلیز میری بہن کو ٹھیک کردے،،،،،_____” امبر نے زرمینے کے لیے دعا مانگی،،،،___ پر زاروان وہی ساکت کھڑا رہا،،،،____
” تم نکموں کو کوئی کام دھنگ سے نہیں آتا،،،،____” حاکم اس وقت شدید غصے میں تھا،،،،____
” س۔سوری سر !!!” ان تینوں کے سانس اکھڑے ہوئے تھے اس دڑ سے کہ اب حاکم ان کے ساتھ کیا کرے گا،،،،،_____”
” کیا سوری !! تم لوگوں کو اتنا ٹرین کرنے کا کیا فایدہ مجھے اگر ایسے ہی ڈڑے ہوئے چوہے کی طرح بھاگنا ہے تو،،،،____ “
حاکم نے کہا،،،___
” پر سر !! ہم نے اس کی بیوی کو درگز کا انجکشن لگا دیا تھا اب وہ بچ نہیں پائے گی،،،،____”
” گدو ! اس کی بیوی سے ہمیں کیا کام وہ جیت یا مرے ہمیں زاروان کو مارنا ہے،،،،_____ اب دفعہ ہو جاؤ یہاں سے،،،،____”
انھیں بتاتے ہوئے اس نے انھیں وہاں سے جانے کو کہا،،،،_____
