Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Pr Zor Nahi (Episode - 24)

Ishq Pr Zor Nahi By Abdul Ahad Butt

” خالہ !! اب زرمینے کی طبعیت کیسی ہے،؟ کوئی حیر خبر آئی ہے کیا اس کی ؟ شہرام میرا فون بھی اٹینڈ نہیں کر رہے ہیں،،،___؟” شہزین نے ساجدہ بیگم کے پاس آکر بیٹھ کر پوچھا،،،___

” نہیں بیٹا ابھی بھی اس کا آپریشن ہی چل رہا ہے،،،___ کوئی حیر خبر نہیں ہے ابھی بس دعا کرو تم،،،___” ساجدہ بیگم افسوس سے بولی،،،،__

” آمین ثم آمین !! میری دعائیں تو ہمیشہ زرمینے کے ساتھ ہیں اللہ تعالیٰ اسے جلدی جلدی ٹھیک کر دیں بس،،،____” شہزین نے زرمینے کے لیے دعا مانگی،،،___

” آمین !! بہت ہی پیاری بچی ہے ماشاءاللہ اسے کسی کی نظر ہی لگ گئی ہے،،،،،___” ساجدہ بیگم نے کہا،،،،___

” جی آنٹی بالکل !! زرمینے بہت ہی اچھی ہے،،،___ ویسے خالہ یہ حادثہ کیسے پیش آیا،،،،____ ” شہزین نے ساجدہ بیگم سے معاملے کی وجہ پوچھی جس پر ساجدہ بیگم کو کچھ بھی سمجھ نہیں آیا کہ وہ اب کیا کرے،،،،____؟ کیونکہ وہ زاروان اور شہرام کے کام کے بارے میں وہ اسے نہیں بتا سکتی تھی،،،،____

اور وہ اسے درگز والا واقعی بتاتی تو اسے سب کچھ بتانا پڑنا تھا،،،____ اس لیے اس نے انکار کردیا،،،،___

” نہیں بیٹا !! مجھے نہیں پتہ کہ یہ کیسے ہوا ہے،،،،____ ؟” ساجدہ بیگم کا جواب سن اس نے کچھ بھی نہیں کہا،،،،___

” ایک کام کرو کمرے میں چلی جاؤ تھک جاؤ گی صبح سے میرے ساتھ کام لگی ہوئی ہو،،،،،_____” ساجدہ بیگم کے کہنے پر وہ مسکرائی،،،___

” خالہ آپ فکر مت کریں،،،،___ آپ کی بہو نہیں تھکتی،،،____”

” نہیں بیٹا !! پھر بھی کچھ دیر جا کر آرام کر لو میری خاطر،،،،_____” ساجدہ بیگم کے یوں کہنے پر شہزین کو وہاں سے جانا ہی پڑا،،،،،____.

” ٹھیک ہے خالہ !! پر اگر کوئی بھی کام ہوا تو آپ مجھے ہی بلائیں گی،،،،___”

یہ کہہ شہزین کمرے سے چلی اور ساجدہ بیگم کے چہرے پر اس کی بات کی بدولت مسکراہٹ چھا گئی،،،،____

وہ آپریشن تھیٹر کے باہر ہی تھا،،،،____ کافی دیر ہو چکی تھی لیکن کوئی بھی باہر نہیں آیا تھا اب تک،،،،____

وہ یوں ہی چکر لگا رہا تھا،،،،___ امبر کرسیوں پر ہی بیٹھی ہوئی تھی،،،،____

کچھ ہی دیر میں آپریشن تھیٹر سے ایک ڈاکٹر باہر آئی،،،،____ اور زاروان سے مخاطب ہوئی،،،،___

” آپ پیشنٹ کا کیا لگتے ہیں،،،،____؟” ڈاکٹر نے ان سے سوال کیا،،،___

” میں ان کا ہسبنڈ ہوں،،،،____” زاروان نے کہا،،،___ امبر بھی اٹھ کر ان کے پاس آئی،،،___

” میں ان کی بہن ہوں،،،___” امبر نے کہا،،،،__

” ٹھیک ہے،،،،___ ویسے آپریشن تو کردیا گیا ہے پر،،،،____ ابھی ان کی جان خطرے سے خالی نہیں ہے،،،،___ اگر انھیں چوبیس گھنٹوں میں ہوش آیا تو ٹھیک ورنہ ان کا بچنا ناممکن ہے،،،،____ ان کا سٹمک ہم نے واش کردیا ہے آگے جو اللہ کو منظور،،،،____ابھی ہم انھیں ایمرجنسی وارڈ میں ہی رکھیں گے جب انھیں ہوش آئے گا تو ہی روم میں شفٹ کریں گے،،،___”

یہ کہہ کر ڈاکٹر اپنے آفس میں چلی گئی،،،__

” یہ جو کچھ ہو رہا میری وجہ سے ہورہا ہے مجھے اسے اکیلا چھوڑ کر نہیں جانا چاہئیے تھا،،،___ نہ وہ میرے پیچھے آتی اور نہ ہی یہ سب ہوتا،،،،____”

زاروان نے دل ہی دل میں سوچا اور اس سب کا زمہ دار خود کو ٹھرایا،،،،__

زرمینے بھی ادھر تھی کافی دیر ہوچکی تھی اسے،،،___ اس لیے اس نے بیگ سے فون نکالا اور اپنے بابا کو کال ملائی،،،،____

کال جلد ہی اٹھا لی گئی،،،،___ ” اسلام علیکم بابا !!،،،____”

فون اٹھاتے ہی اس نے اپنے بابا سے سلام لیا،،،،___

” وعلیکم السلام بیٹا !! تم کہاں ہو ٹھیک تو ہو نہ تمھاری ماں پریشان ہو رہی ہے تمھارے لیے،،،،____” اس کے بابا اس کے لیے فکر مند ہوئے،،،،____

” آپ مما کو چھوڑیں !! میں اس وقت ہوسپٹل میں ہوں،،،،____” وہ اپنی ماں کے بارے میں یوں بولی تھی جیسے وہ ان سے شدید نفرت کرتی ہو،،،،____

جسے اس کے بابا نے بھی نوٹ کیا تھا،،،___

” بیٹا !! ہوسپٹل میں کیا کر رہی ہو تم !! ” یہ کہہ انھوں نے اس کی پریشانی میں مزید اضافے کر دیا،،،،____

” بابا میں ٹھیک ہوں لیکن زرمینے ہوسپٹل میں ایڈمٹ ہے جیسے ہی اسے ہوش آتا ہے میں فورا گھر واپس آجاؤ میں نے فون صرف اس لیے کیا ہے کہ پریشان مت ہوئیے گا،،،،____”

” پر بیٹا زرمینے،،،____”

” بابا میں آپ کو گھر آکر سب کچھ بتا دوں گی آپ فکر مت کریں،،،،____ “

یہ کہہ اس نے فون بند کردیا تھا،،،،____

۔۔۔۔۔۔۔۔

تئیس گھنٹے گزر چکے تھے لیکن ابھی بھی زرمینے کو ہوش نہیں آیا تھا،،،،___

زاروان کی بھی حالت بری ہو رہی تھی اور امبر کو بھی کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا،،،،___

لیکن شائید زاروان اور زرمینے کا ساتھ زندگی بھر کا تھا جو اللہ نے زرمینے کو ایک نئی زندگی بخشی تھی،،،___ کچھ ہی دیر بعد ایمرجنسی وارڈ سے ایک خاتون چہرے پر مسکراہٹ لیے نکلی،،،___

” زرمینے پیشنٹ کے ساتھ آپ ہیں،،،،___” اس نے زاروان اور امبر کی طرف اشارہ کیا،،،،____

” جی ،،،___” زاروان نے کہا،،،___

” آپ کے پیشنٹ کو ہوش آگیا ہے،،،،___” یہ سنتے ہی زاروان اور امبر دونوں کے چہرے پر مسکراہٹ چھا گئی اور دونوں نے ہی اللہ کا شکر ادا کیا،،،،____

” کیا ہم ان سے مل سکتے ہیں ؟؟،،،،_______” زاروان نے اس سے سوال پوچھا جس پر اس نے سر نفی میں ہلایا،،،،__

” نہیں ابھی نہیں مل سکتے دراصل پہلے ایک دفعہ ڈاکٹر چیک کرلیں،،،___ پھر ہی آپ کو ملنے کی اجازت ہے،،،،_____”

وہ خاتون یہ کہہ کر ڈاکٹر کے روم کی طرف بڑھی،،،،____

ڈاکٹر نے چیک اپ کیا اور انھیں ملنے کی اجازت دے دی،،،،___ ساتھ ہی ساتھ ان کو ہدایت بھی کی کہ زرمینے زیادہ نہ ہی بولے،،،___

” زرمینے تم ٹھیک ہو،،،،____” امبر کے سوال پر اس نے سر ہاں میں ہلایا،،،__

” ز۔۔زار” اس نے بولنا چاہا پر لفظ شائید گلے میں ہی کہیں اٹک گئے،،،____

” رکو میں انھیں بلاتی ہوں،،،،_____” امبر کہہ کر باہر کی طرف بڑھی،،،،____

” زاروان بھائی !! وہ زرمینے سے مل لیں،،،،____” وہ اس سے ملنے کو بے چین تھا کہ کب امبر باہر آئے اور وہ اندر جاکر اس سے ملے،،،،___ اور یہ سنتے ہی فورا اندر بھاگ گیا،،،___

زاروان زرمینے کے پاس آیا،،،،____ اور اسے اس حالت میں دیکھ کر اسے شدید غصہ آیا،،،،____

” آئم سو سوری زرمینے یہ سب کچھ میری ہی وجہ سے ہوا ہے،،،،____” سب سے پہلے اس نے اپنی غلطی کا اعتراف کیا،،،،____

جس پر زرمینے اپنا سر نفی میں ہلایا،،،،___ پھر یوں ہی وہ دونوں باتیں کرتے رہے،،،،___

” خالہ کیا ہوا ہے؟؟” ساجدہ بیگم کو خوش دیکھ کر اسے کچھ سمجھ نہ آیا،،،___

” بیٹا زرمینے اب بالکل ٹھیک ہے اور اسے ہوش بھی آگیا تھا،،،،____” ساجدہ بیگم کے کہنے پر شہزین کے چہرے پر بھی مسکراہٹ چھا گئی اور اس نے اللہ کا شکر ادا کیا،،،،____

” اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ زرمینے ٹھیک ہوگئی ہے،،،،___ اب وہ گھر آلے میں نے خود اس کا خیال رکھنا ہے،،،،،_____”

شہزین نے کہا جس پر ساجدہ بیگم بھی مسکرا دی،،،،____

وقت پر لگا کر اڑ گیا،،،___

چھ دن گزر چکے تھے لیکن پتہ ہی نہیں لگا تھا زرمینے بھی ہوسپٹل سے ڈسچارج ہو گئی تھی،،،،___ اس کے کھانے پینے کی اور اس کے خیال کی ساری زمہداری شہزین نے لے رکھی تھی،،،،____

ان چھ دنوں میں شہرام ایک بھی دفعہ گھر واپس نہیں آیا تھا،،،،____ جس پر شہزین کو بہت ہی زیادہ غصہ تھا،،،،،____ دراصل شہرام حاکم اور اس کے چمچوں کی تلاش میں تھا،،،__

وہ کمرے میں بیٹھی ہوئی موبائل یوزر کررہی تھی،،،____

کمرے کا دروازہ کھلا تو وہ متوجہ سامنے شہرام کو پاکر اس کے چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ چھاگئی،،،،_____

وہ اس کی طرف بھاگی لیکن پھر رک گئی،،،،__ اور منھ بنا لیا،،،،____

” کیا ہوا رک کیوں گئی ہو،،،،___؟” کمرے کا دروازہ لاک کرتے ہوئے اس نے کہا،،،_

” میں نہیں آپ سے بولتی،،،،____” وہ منھ بنا کر ہاتھ باندھتے ہوئے بولی،،،،___

” کیوں ؟؟!،،،،____ کیوں ناراض ہو تم مجھ سے،،،،____” شہرام نے کہا جس پر شہزین کو شدید غصہ آیا،،،،___

” ابھی بھی میں ہی بتاؤں چھ دن سے آپ گھر نہیں آئے ہیں،،،،،____ اور پوچھتے ہیں ناراضگی کی وجہ کیا ہے؟؟؟” وہ غصے میں بولی،،،،____

” اچھا اس بات پر ناراض ہو سوری یار دراصل وہ کام کی وجہ سے نہیں آسکا لیکن نیکسٹ کبھی بھی ایسا نہیں ہوگا،،،،____” اس نے شہزین سے معافی مانگی،،،،____

” پرومس،،،،_____” وہ کسی چھوٹے بچے کی طرح اس سے وعدہ لے رہی تھی،،،،____ ” ہاں پرومس،،،،____” یہ کہہ کر شہرام نے شہزین کو اپنے سینے میں بھینج لیا،،،،____

” جتنا خوش ہونا ہے ہوجاؤ،،،___ پر اب تم دونوں کے ساتھ کہ کچھ ہی دن باقی ہیں،،،،___” وہ شیشے سے انھیں دیکھ رہی تھی اور یہ کہہ کر وہاں سے چلی گئی،،،،____

ایک ماہ گزر گیا تھا پر حاکم اور اس کے چمچوں کا کچھ بھی پتہ نہیں چلا تھا،،،،___

شہزین نے زرمینے کا بہت ہی اچھی طرح خیال رکھا تھا اب وہ بالکل ٹھیک ہو گئی تھی،،،،____

سب خوش تھے،،،___

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *