Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Pr Zor Nahi (Episode - 11)

Ishq Pr Zor Nahi By Abdul Ahad Butt

امبر کی بات سنتے ہی سب کھڑے ہوئے،،،___ اور نائلہ کا دل یہ سنتے ہی تھم سا گیا،،،___

” امبر !! ہوش میں تو ہو نا یہ کیا کہہ رہی ہو٬٬٬٬____” جواد نے اس سے کہا٬٬٬___

” امبر !! ایسا کچھ نہیں ہے بیٹا !!___”

جواد کی بات ختم ہونے کے بعد نائلہ نے امبر کے چہرے پر ہاتھ لگانے کی کوشش کی٬٬٬___لیکن اس نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا٬٬٬___

” بھائی !! یقین نہیں آرہا ہے نا ،،__ پہلے مجھے بھی اس بات پر بالکل بھی یقین نہ تھا٬٬٬___ میں سمجھتی تھی کہ شائید ماما اسے ویسے پسند نہیں کرتی٬٬٬___ لیکن میں یہ سوچ نہیں سکتی تھی کہ ماما اس قدر گر جائیں گی٬٬٬____”

یہ کہتے ہوئے وہ زمین پر بیٹھی٬٬٬___ اس کی آنکھیں نم ہوچکی تھی٬٬٬٬٬______

جواد اس کے پاس بیٹھا اور اسے سہارا دیا٬٬٬___ اسے زمین سے اٹھا کر صوفے پر بیٹھایا٬٬٬___ نائلہ کے پسینے چھوٹ گئے تھے٬٬٬___ اور اس کے چہرے پر چھائی ہوئی پریشانی اس بات کا ثبوت دے رہی تھی٬٬٬٬___ کہ زرمینے کی اصل گنہگار وہی تھی٬٬٬____

” مما !! آپ نے ایسا کیوں کیا؟؟٬٬٬٬___” جواد شرمندہ ہوتے ہوئے پوچھتا ہے٬٬٬٬___

جس پر نائلہ تڑپ اٹھی٬٬٬٬____

” بیٹا !! ٬٬٬____” وہ اس کے چہرے کو پکڑنا چاہتی تھی٬٬٬___

پر وہ پیچھے ہٹ گیا٬٬٬٬____ جسے دیکھ نائلہ ایک دفعہ پھر تڑپی٬٬٬٬____

اس کے دونوں بچے جو اس سے شدید پیار کرتے تھے٬٬٬٬____ اس پر جان نچھاور کرتے تھے٬٬٬٬____ آج اس کی ایک غلطی کی وجہ سے اس سے دور ہوگئے تھے٬٬٬٬٬____

” مما !! میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ پیسے کے لالچ میں آپ اتنا گر جائیں گی٬٬٬٬___ کہ آپ نے میری محبت ، میرے پیار کا ہی سودا کردیا٬٬٬٬____ آج آپ نے زرمینے کا نہیں بلکہ میرا یعنی اپنے بیٹے کا سودا کیا ہے٬٬٬٬_____ “

نائلہ زمین پر بیٹھ کر رونے لگی پر معافی کا کوئی راستہ نہ تھا اب٬٬٬٬____ اس کا شوہر کیا ہی کہتا ٬٬٬٬____ انھیں تو یہ سمجھ ہی نہیں آرہی تھی کہ یہ ہوا کیسے٬٬٬٬____؟

زرمینے زاروان کی باہوں میں جھول گئی٬٬٬٬_____ اس کے سر پر شدید چوٹ آئی تھی٬٬٬٬٬____ کافی خون بھی بہہ گیا تھا،،___

وہ لڑکا وہاں سے فرار ہو چکا تھا٬٬٬٬____

وہ اسے اٹھا کر گاڑی کی طرف بھاگا٬٬٬٬٬____ اسے گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھا کر اس نے گاڑی ہوسپٹل کی طرف بھگا دی٬٬٬٬_____

وہ اس کا نام تک نہیں جانتا تھا٬٬٬٬____ پھر بھی اس کی اتنی فکر کر رہا تھا٬٬٬٬٬____ پتا نہیں کیا نظر آتا تھا اس میں اس کو٬٬٬٬٬____

اس نے گاڑی ہوسپٹل کے سامنے لا کر روکی٬٬٬٬____

زرمینے کا ٹریتمینٹ شروع ہوچکا تھا٬٬٬٬_____ زاروان آپریشن تھیٹر کے باہر چکر کاٹ رہا تھا٬٬٬٬____ اس کی جان پر بنی ہوئی تھی٬٬٬٬_____

کچھ دیر بعد ایک لیڈی ڈاکٹر باہر آئی اور کہا٬٬٬___

” دیکھیں مسٹر !! اب وہ خطرے سے باہر نہیں ہیں٬٬٬٬___ لیکن انھیں نہایت توجہ کی ضرورت ہے٬٬٬___ کل انھیں ڈسچارج کر دیا جائے گا٬٬٬___ آپ کو اپنی وائف کا بہت خیال رکھنا ہوگا٬٬٬٬___”

ڈاکٹر کی بات سن کر وہ چپ ہی رہا اگر وہ چاہتا تو انھیں بتا سکتا تھا کہ وہ اس کا شوہر نہیں ہے٬٬٬٬____ پر اسے اچھا لگا٬٬٬____

” جی ٹھیک ہے ڈاکٹر !! ٬٬٬٬____”

” یہ کچھ میڈیسنز ہیں جو آپ کو انھیں روز کھلانی ہوں گی٬٬٬٬____” ڈاکٹر نے اس کے ہاتھ میں ایک پیپر تمھایا اور چلی گئی٬٬٬٬٬_____

اور وہ پیپر لے کر ہوسپٹل کے میڈیکل سٹور کی طرف بڑھا٬٬٬٬_____

شہزین بیڈ کی ایک سائیڈ پر لیٹی ہوئی تھی٬٬٬٬____ اور دوسری سائیڈ پر شہرام آکر بیٹھ گیا٬٬٬٬٬٬_____

” ایک منٹ ایک منٹ !! کیا تم بیڈ پر سو گے٬٬٬٬٬____ ” شہزین اٹھ کر بیٹھی٬٬٬٬____

” ہاں تو ؟؟ کیا ہوا ٬٬٬٬____” شہرام نے کندھے اچکائے٬٬٬٬____

” خاں صاحب !! شائید آپ نے میری بات غور سے سنی نہیں تھی ٬٬٬٬___ چلو میں یاد کروا دیتی ہوں٬٬٬٬___ میں نے کہا تھا کہ ہم دونوں ایک جگہ پر اکھٹے نہیں سوئیں گے٬٬٬٬____”

شہزین نے اسے یاد دہانی کروائی٬٬٬٬____

” جو بھی ہے میں بیڈ پر ہی سوؤں گا٬٬٬٬_____” شہرام بھی اپنی بات کا پکا تھا٬٬٬٬_____

” ٹھیک ہے میں دوسرے کمرے میں چلی جاتی ہوں٬٬٬٬_____” شہزین نے ہار مانی اور اٹھ کر جانے لگی٬٬٬٬____

” شائید تمھیں بھی یاد نہیں ہے٬٬٬___ میں نے کہا تھا تم اس کمرے سے باہر قدم بھی نہیں رکھو گی٬٬٬٬____”

شہرام اس کے سامنے آکر کھڑا ہوا اور اسے بھی یاد کروایا٬٬٬٬____

” چلو ٹھیک ہے ٬٬٬٬____ میں صوفے پر ہی سو جاتی ہوں٬٬٬٬____” یہ کہہ کر وہ صوفے کی جانب بڑھی ہی تھی کہ شہرام نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے روکا اور اپنی جانب کھینچا ٬٬٬٬____ جس سے وہ اس کے سینے سے جا ٹکڑائی٬٬٬٬_______

” کیوں کرتی ہو مجھ سے اتنی نفرت؟؟؟______” شہرام نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا٬٬٬٬____

جواب دینے سے پہلے اس نے خود کو شہرام کی گرفت سے آزاد کیا٬٬٬٬____ اور پھر بولی٬٬٬٬___

” میرے زخموں پر نمک مت چھڑکوں شہرام خاں !! مجھے وہ دن آج بھی یاد ہے جس دن تم نے مجھ سے اپنی نفرت کا اظہار کیا تھا٬٬٬٬____”

یہ سنتے ہی شہرام کی روح کانپ اٹھی٬٬٬٬____ اور شرمندگی سے سر جھکا لیا٬٬٬٬___

💙💙 ماضی 💙💙

یہ یونی کے ان دنوں کی بات ہے جب شہرام اور شہزین ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے٬٬٬٬____ شہرام کئی دن سے یونی نہیں آیا تھا٬٬٬٬___ اور شہزین روز اس کی راہ تکتی٬٬٬٬٬___ آخر کار دس دن بعد وہ یونی آیا٬٬٬٬٬____

کلاس ختم ہونے کے بعد شہزین شہرام کو ڈھونڈھتے ہوئے باغ میں پہنچی٬٬٬٬___ وہاں شہرام اکیلا ہی بیٹھا ہوا تھا٬٬٬٬____

وہ اس کے پاس جا کر بیٹھی٬٬٬٬____

” تم یہاں بیٹھے ہو ٬٬٬٬٬____ میں تمھیں پوری یونی میں ڈھونڈ رہی تھا٬٬٬٬____”

شہزین نے کہا پر اس کے جواب میں شہرام کچھ بھی نہ بولا٬٬٬٬٬____

” شہرام !! آر یو آکے٬٬٬٬____” شہزین نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا لیکن اس نے ہاتھ جھٹک دیا٬٬٬٬___

پر شہزین نے یہ نوٹس نا کیا٬٬٬٬٬____ اس کے ہاتھ میں گلاب کا پھول تھا٬٬٬٬٬____

شہزین نے شہرام کو پھول دینا چاہا پر اس نے پھول اٹھا کر دور پھینکا٬٬٬٬___ اور اپنی چپ توڑی٬٬٬٬____

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *