Ishq Pr Zor Nahi By Abdul Ahad Butt NovelR50480 Ishq Pr Zor Nahi (Episode - 11)
Rate this Novel
Ishq Pr Zor Nahi (Episode - 11)
Ishq Pr Zor Nahi By Abdul Ahad Butt
امبر کی بات سنتے ہی سب کھڑے ہوئے،،،___ اور نائلہ کا دل یہ سنتے ہی تھم سا گیا،،،___
” امبر !! ہوش میں تو ہو نا یہ کیا کہہ رہی ہو٬٬٬٬____” جواد نے اس سے کہا٬٬٬___
” امبر !! ایسا کچھ نہیں ہے بیٹا !!___”
جواد کی بات ختم ہونے کے بعد نائلہ نے امبر کے چہرے پر ہاتھ لگانے کی کوشش کی٬٬٬___لیکن اس نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا٬٬٬___
” بھائی !! یقین نہیں آرہا ہے نا ،،__ پہلے مجھے بھی اس بات پر بالکل بھی یقین نہ تھا٬٬٬___ میں سمجھتی تھی کہ شائید ماما اسے ویسے پسند نہیں کرتی٬٬٬___ لیکن میں یہ سوچ نہیں سکتی تھی کہ ماما اس قدر گر جائیں گی٬٬٬____”
یہ کہتے ہوئے وہ زمین پر بیٹھی٬٬٬___ اس کی آنکھیں نم ہوچکی تھی٬٬٬٬٬______
جواد اس کے پاس بیٹھا اور اسے سہارا دیا٬٬٬___ اسے زمین سے اٹھا کر صوفے پر بیٹھایا٬٬٬___ نائلہ کے پسینے چھوٹ گئے تھے٬٬٬___ اور اس کے چہرے پر چھائی ہوئی پریشانی اس بات کا ثبوت دے رہی تھی٬٬٬٬___ کہ زرمینے کی اصل گنہگار وہی تھی٬٬٬____
” مما !! آپ نے ایسا کیوں کیا؟؟٬٬٬٬___” جواد شرمندہ ہوتے ہوئے پوچھتا ہے٬٬٬٬___
جس پر نائلہ تڑپ اٹھی٬٬٬٬____
” بیٹا !! ٬٬٬____” وہ اس کے چہرے کو پکڑنا چاہتی تھی٬٬٬___
پر وہ پیچھے ہٹ گیا٬٬٬٬____ جسے دیکھ نائلہ ایک دفعہ پھر تڑپی٬٬٬٬____
اس کے دونوں بچے جو اس سے شدید پیار کرتے تھے٬٬٬٬____ اس پر جان نچھاور کرتے تھے٬٬٬٬____ آج اس کی ایک غلطی کی وجہ سے اس سے دور ہوگئے تھے٬٬٬٬٬____
” مما !! میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ پیسے کے لالچ میں آپ اتنا گر جائیں گی٬٬٬٬___ کہ آپ نے میری محبت ، میرے پیار کا ہی سودا کردیا٬٬٬٬____ آج آپ نے زرمینے کا نہیں بلکہ میرا یعنی اپنے بیٹے کا سودا کیا ہے٬٬٬٬_____ “
نائلہ زمین پر بیٹھ کر رونے لگی پر معافی کا کوئی راستہ نہ تھا اب٬٬٬٬____ اس کا شوہر کیا ہی کہتا ٬٬٬٬____ انھیں تو یہ سمجھ ہی نہیں آرہی تھی کہ یہ ہوا کیسے٬٬٬٬____؟
زرمینے زاروان کی باہوں میں جھول گئی٬٬٬٬_____ اس کے سر پر شدید چوٹ آئی تھی٬٬٬٬٬____ کافی خون بھی بہہ گیا تھا،،___
وہ لڑکا وہاں سے فرار ہو چکا تھا٬٬٬٬____
وہ اسے اٹھا کر گاڑی کی طرف بھاگا٬٬٬٬٬____ اسے گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھا کر اس نے گاڑی ہوسپٹل کی طرف بھگا دی٬٬٬٬_____
وہ اس کا نام تک نہیں جانتا تھا٬٬٬٬____ پھر بھی اس کی اتنی فکر کر رہا تھا٬٬٬٬٬____ پتا نہیں کیا نظر آتا تھا اس میں اس کو٬٬٬٬٬____
اس نے گاڑی ہوسپٹل کے سامنے لا کر روکی٬٬٬٬____
زرمینے کا ٹریتمینٹ شروع ہوچکا تھا٬٬٬٬_____ زاروان آپریشن تھیٹر کے باہر چکر کاٹ رہا تھا٬٬٬٬____ اس کی جان پر بنی ہوئی تھی٬٬٬٬_____
کچھ دیر بعد ایک لیڈی ڈاکٹر باہر آئی اور کہا٬٬٬___
” دیکھیں مسٹر !! اب وہ خطرے سے باہر نہیں ہیں٬٬٬٬___ لیکن انھیں نہایت توجہ کی ضرورت ہے٬٬٬___ کل انھیں ڈسچارج کر دیا جائے گا٬٬٬___ آپ کو اپنی وائف کا بہت خیال رکھنا ہوگا٬٬٬٬___”
ڈاکٹر کی بات سن کر وہ چپ ہی رہا اگر وہ چاہتا تو انھیں بتا سکتا تھا کہ وہ اس کا شوہر نہیں ہے٬٬٬٬____ پر اسے اچھا لگا٬٬٬____
” جی ٹھیک ہے ڈاکٹر !! ٬٬٬٬____”
” یہ کچھ میڈیسنز ہیں جو آپ کو انھیں روز کھلانی ہوں گی٬٬٬٬____” ڈاکٹر نے اس کے ہاتھ میں ایک پیپر تمھایا اور چلی گئی٬٬٬٬٬_____
اور وہ پیپر لے کر ہوسپٹل کے میڈیکل سٹور کی طرف بڑھا٬٬٬٬_____
شہزین بیڈ کی ایک سائیڈ پر لیٹی ہوئی تھی٬٬٬٬____ اور دوسری سائیڈ پر شہرام آکر بیٹھ گیا٬٬٬٬٬٬_____
” ایک منٹ ایک منٹ !! کیا تم بیڈ پر سو گے٬٬٬٬٬____ ” شہزین اٹھ کر بیٹھی٬٬٬٬____
” ہاں تو ؟؟ کیا ہوا ٬٬٬٬____” شہرام نے کندھے اچکائے٬٬٬٬____
” خاں صاحب !! شائید آپ نے میری بات غور سے سنی نہیں تھی ٬٬٬٬___ چلو میں یاد کروا دیتی ہوں٬٬٬٬___ میں نے کہا تھا کہ ہم دونوں ایک جگہ پر اکھٹے نہیں سوئیں گے٬٬٬٬____”
شہزین نے اسے یاد دہانی کروائی٬٬٬٬____
” جو بھی ہے میں بیڈ پر ہی سوؤں گا٬٬٬٬_____” شہرام بھی اپنی بات کا پکا تھا٬٬٬٬_____
” ٹھیک ہے میں دوسرے کمرے میں چلی جاتی ہوں٬٬٬٬_____” شہزین نے ہار مانی اور اٹھ کر جانے لگی٬٬٬٬____
” شائید تمھیں بھی یاد نہیں ہے٬٬٬___ میں نے کہا تھا تم اس کمرے سے باہر قدم بھی نہیں رکھو گی٬٬٬٬____”
شہرام اس کے سامنے آکر کھڑا ہوا اور اسے بھی یاد کروایا٬٬٬٬____
” چلو ٹھیک ہے ٬٬٬٬____ میں صوفے پر ہی سو جاتی ہوں٬٬٬٬____” یہ کہہ کر وہ صوفے کی جانب بڑھی ہی تھی کہ شہرام نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے روکا اور اپنی جانب کھینچا ٬٬٬٬____ جس سے وہ اس کے سینے سے جا ٹکڑائی٬٬٬٬_______
” کیوں کرتی ہو مجھ سے اتنی نفرت؟؟؟______” شہرام نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا٬٬٬٬____
جواب دینے سے پہلے اس نے خود کو شہرام کی گرفت سے آزاد کیا٬٬٬٬____ اور پھر بولی٬٬٬٬___
” میرے زخموں پر نمک مت چھڑکوں شہرام خاں !! مجھے وہ دن آج بھی یاد ہے جس دن تم نے مجھ سے اپنی نفرت کا اظہار کیا تھا٬٬٬٬____”
یہ سنتے ہی شہرام کی روح کانپ اٹھی٬٬٬٬____ اور شرمندگی سے سر جھکا لیا٬٬٬٬___
![]()
ماضی ![]()
![]()
یہ یونی کے ان دنوں کی بات ہے جب شہرام اور شہزین ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے٬٬٬٬____ شہرام کئی دن سے یونی نہیں آیا تھا٬٬٬٬___ اور شہزین روز اس کی راہ تکتی٬٬٬٬٬___ آخر کار دس دن بعد وہ یونی آیا٬٬٬٬٬____
کلاس ختم ہونے کے بعد شہزین شہرام کو ڈھونڈھتے ہوئے باغ میں پہنچی٬٬٬٬___ وہاں شہرام اکیلا ہی بیٹھا ہوا تھا٬٬٬٬____
وہ اس کے پاس جا کر بیٹھی٬٬٬٬____
” تم یہاں بیٹھے ہو ٬٬٬٬٬____ میں تمھیں پوری یونی میں ڈھونڈ رہی تھا٬٬٬٬____”
شہزین نے کہا پر اس کے جواب میں شہرام کچھ بھی نہ بولا٬٬٬٬٬____
” شہرام !! آر یو آکے٬٬٬٬____” شہزین نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا لیکن اس نے ہاتھ جھٹک دیا٬٬٬٬___
پر شہزین نے یہ نوٹس نا کیا٬٬٬٬٬____ اس کے ہاتھ میں گلاب کا پھول تھا٬٬٬٬٬____
شہزین نے شہرام کو پھول دینا چاہا پر اس نے پھول اٹھا کر دور پھینکا٬٬٬٬___ اور اپنی چپ توڑی٬٬٬٬____
