Ishq Pr Zor Nahi By Abdul Ahad Butt NovelR50480 Ishq Pr Zor Nahi (Episode - 7)
Rate this Novel
Ishq Pr Zor Nahi (Episode - 7)
Ishq Pr Zor Nahi By Abdul Ahad Butt
صبح ناشتہ کر کے نائلہ اپنے کمرے میں آگئی٬٬٬___ زرمینے اور امبر یونی جا چکی تھی٬٬٬___ جواد نے موقع کا فائدہ اٹھایا اور نائلہ سے بات کرنے چلا گیا٬٬٬٬__
” امی !! میں اندر آجاؤ ٬٬٬___” جواد نے کمرے کا دروازہ کھڑکا کر پوچھا٬٬٬___ “ہاں !! آجاؤ جواد!! ؛؛؛؛؛___” اس کی آواز سنتے ہی وہ سیدھی ہوکر بیٹھی٬٬٬___ جواد کمرے میں آیا٬٬٬___ ” امی !! مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے٬٬٬___” جواد اس کے پاس آکر بیٹھا اور اس نے کہا٬٬٬__” بولو !! میں سن رہی ہوں٬٬٬٬__”
” امی میں زرمینے !! سے شادی کرنا چاہتا ہوں٬٬٬٬___” آخر کار اس نے اپنے دل کی بات کہہ دی ٬٬٬٬__ ” کیا؟؟؟ یہ کیا کہہ رہے ہو تم !! ہوش میں تو ہو نہ تم !! ٬٬٬٬٬٬___” اس کی بات سنتے ہی نائلہ غصے سے کھڑی ہوگئی ٬٬٬٬___ ” امی !! میں ہوش میں ہی ہوں ٬٬٬٬٬___” جواد نے کہا٬٬٬٬___ “اگر ہوش میں ہوتے تو ایسی بات نہ کرتے٬٬٬٬٬___” نائلہ نے کہا٬٬٬__ ” اور کیا تمھیں وہی ایک گوار ملی ہے شادی کے لیے٬٬٬٬٬___” نائلہ شدید غصے میں بولی تھی٬٬٬__ اب اس کے ماتھی پر بل آئے اور اس نے کہا٬٬٬٬٬٬___
” امی !! اس گوار سے شادی تو میری پسند ہے٬٬٬__ لیکن اس میں آپ کا بھی تو فائدہ ہے٬٬٬__ دیکھیں !! سب جانتے ہیں کہ اس جائیداد کی مالک وہ ہے٬٬٬٬__ تو اگر آپ اس کی شادی کہیں اور کریں گی تو وہ تو اس کی جائیداد بھی آپ سے مانگیں گے٬٬٬__ تو کیا آپ دے دیں گی٬٬٬___ اگر میں اس سے شادی کرتا ہوں تو وہ تو یہاں رہی گی اس کی جائیداد بھی یہی رہے گی٬٬٬___ سوچ لیں آپ !! ٬٬٬___ “
اس نے نائلہ کو لالچ دینے کی کوشش کی٬٬٬___ اور یہ کہہ کر وہ چلا گیا٬٬٬__ پیچھے سے نائلہ سوچ میں پڑ گئی٬٬٬__کیونکہ یہ تو اس نے سوچا ہی نہیں تھا٬٬٬٬٬___ آخر اس نے فیصلہ جواد کے حق میں کیا٬٬٬___
صبح ناشتے کی میز سب موجود تھے٬٬٬٬___ شہزین اور شہرام بھی نیچے آئے٬٬٬__ سربراہی کرسی پر اس کی خالہ اور ان کی ساتھ والی دو کرسیوں (ارد گرد پڑی ہوئی کرسیاں ) پر زاروان اور صاحبہ بیٹھے تھے٬٬٬٬___ صاحبہ ساجدہ بیگم کی صاحبزادی تھی٬٬٬__ جو شہرام کو پسند کرتی تھی٬٬٬__ لیکن اس بات کوئی واقف نہ تھا٬٬٬___ وہ یہ دیکھ کر کہ شہرام کے ساتھ کوئی لڑکی آرہی ہے اور شہرام اس کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کر رہا ہے٬٬٬٬___ وہ جل بن گئی٬٬٬٬___ ” امی !! یہ لڑکی کون ہے؟؟؟٬٬٬٬___” صاحبہ نے اپنی ماں سے سوال کیا٬٬٬___
” یہ !! شہزین ہے شہرام بھائی کی بیوی !! ٬٬٬٬٬__ ” ساجدہ بیگم سے پوچھے گئے سوال کا جواب زاروان نے دیا٬٬٬٬___ اتنی ہی دیر میں شہرام اور شہزین بھی آکر ناشتے کی میز پر بیٹھ چکے تھے٬٬٬٬٬___ ” شہزین یہ ہیں صاحبہ !! خالہ کی بیٹی اور صاحبہ یہ ہیں شہزین !! مائے وائف ٬٬٬٬___” شہرام نے ان دونوں کو آپس میں متعارف کروایا٬٬٬٬____
” نائس تو میٹ یو٬٬٬__ (nice to meet you) ” شہزین نے پیار سے اس سے کہا٬٬٬٬___ لیکن اس کے جواب میں صاحبہ کھانے کی میز سے اٹھ کر چلی گئی٬٬٬__ نوٹس سب نے کیا پر کوئی بھی نہ بولا٬٬٬٬___
وہ کمرے میں آئی٬٬٬٬___ اور بیڈ کے سائیڈ ٹیبل سے تصویر اٹھائی٬٬٬__ جو کہ کسی اور کی نہیں بلکہ شہرام کی تھی٬٬٬__ اس نے اس تصویر کو سینے میں بھینج لیا٬٬٬٬_____ اس کی آنکھیں نم ہو چکی تھی٬٬٬___ ” کتنی محبت کی میں نے تم سے ٬٬٬___ اس قدر تم محبت تم سے کوئی نہ کرتا٬٬٬__ پر تم نے میری محبت کا پاس نہ رکھا٬٬٬__ ” اب اس نے وہی تصویر زمین پر پھینکی٬٬٬٬___ تصویر کا کانچ چکنا چور ہو گیا٬٬٬__ ” میں وعدہ کرتی ہو تم سے کہ میں اس لڑکی کو تمھاری زندگی میں زیادہ دیر تک ے نہ دوں گی٬٬٬٬___ ” وہ غصے میں چلائی٬٬٬__ اپنی آنکھیں صاف کی اور پھر شہرام کے کمرے کی طرف بڑھ گئی٬٬٬٬____
پر جیسے ہی وہاں پہنچی ٬٬٬٬___ اسے وہاں سے کچھ آوازیں سنائی دی٬٬٬٬___ ” بیٹا !! تم صاحبہ کی اس حرکت کا برا مت منانا ٬٬٬٬___ ” اس کی والدہ نے شہزین سے کہا٬٬٬___ ” ارے نہیں آنٹی !! ” وہ تو میری چھوٹی بہنوں کی طرح ہے٬٬٬___ ” شہزین نے پیار سے کہا،،،،،،__ یہ سنتے ہی وہ وہاں سے چلی گئی اور دوبارہ کمرے میں واپس آئی٬٬٬___ ” چھوٹی بہن !! میں اس کی زندگی کا سب سے بڑا نائٹ مئیر (night mare ) بننے والی ہوں اور یہ “‘ وہ غصے میں بولی تھی٬٬٬٬___
شہرام کسی کام سے باہر چلا گیا٬٬٬٬___ شہزین پوری رات میں صرف ایک ہی گھنٹہ سو پائی تھی٬٬٬٬___ اس لیے اب نیند پوری کرنے کے لیے سوئی٬٬٬٬___
آخر کار شہرام آج علی حیدر تک پہنچ ہی گیا تھا٬٬٬___ لیکن علی حیدر کو معلوم نہ تھا اور وہ ابھی بھی شہرام کو مارنے کا پلین بنا رہا تھا٬٬٬__
” سر !! سر !! سر !! ” جبار بوکھلایا ہوا علی حیدر کے پاس پہنچا٬٬٬___
” کیا ہوا جبار !! کیوں بوکھلائے ہوئے ہو؟؟؟ ٬٬٬٬٬٬٬_____ ” علی حیدر نے وجہ معلوم کی٬٬٬٬٬٬٬٫____
” سر !! وہ ش شہرا شہرام خان یہاں آچکا ہے٬٬٬٫٬___ ” جبار جھجک کر بولا٬٬٬٬٬٬___ ” کیا ؟؟؟ !! ٬٬٬٬___” یہ کیا کہہ رہے ہو تم ؟؟ پہلے کہیں مر گئے تھے کیا تم سارے کے سارے جو تم لوگوں کو پتا نہ چلا٬٬٬٬___” علی حیدر انتہائی غصے میں بولا٬٬٬٬٬___
” پہلے کا تو نہیں پتہ !! پر اب تم لوگ ضرور مرو گے ٬٬٬٬___ ” باہر جتنے بھی لوگ تھے ان کی لاشیں بچھا کر شہرام کمرے میں آیا،،،،،،،___ اور اس نے کہا،،،،،،____ شہرام کی شکل دیکھتے ہی علی حیدر کے پسینے چھوٹ گئے،،،،___
” ت ت تم تمھیں آہہہہہہ” وہ بول ہی رہا تھا کہ،،،،،___ کہ اسے پیچھے سے کچھ تیز دار چیز چبی،،،،،___ پیچھے سے کسی نے اس کی کمر میں تیز دار چاقو مارا،،،،___
وہ پیچھے مڑا تو حیان رہ گیا،،،، وہاں کوئی اور نہیں تھا٬٬٬٬___ بلکہ اس کا اپنا ہی آدمی جبار تھا٬٬٬٬___ ” جبار !! تم نے ایسا کیوں کیا ؟؟ میرے ساتھ٬٬٬٬٬٬٬___”
