Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Pr Zor Nahi (Episode - 7)

Ishq Pr Zor Nahi By Abdul Ahad Butt

صبح ناشتہ کر کے نائلہ اپنے کمرے میں آگئی٬٬٬___ زرمینے اور امبر یونی جا چکی تھی٬٬٬___ جواد نے موقع کا فائدہ اٹھایا اور نائلہ سے بات کرنے چلا گیا٬٬٬٬__

” امی !! میں اندر آجاؤ ٬٬٬___” جواد نے کمرے کا دروازہ کھڑکا کر پوچھا٬٬٬___ “ہاں !! آجاؤ جواد!! ؛؛؛؛؛___” اس کی آواز سنتے ہی وہ سیدھی ہوکر بیٹھی٬٬٬___ جواد کمرے میں آیا٬٬٬___ ” امی !! مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے٬٬٬___” جواد اس کے پاس آکر بیٹھا اور اس نے کہا٬٬٬__” بولو !! میں سن رہی ہوں٬٬٬٬__”

” امی میں زرمینے !! سے شادی کرنا چاہتا ہوں٬٬٬٬___” آخر کار اس نے اپنے دل کی بات کہہ دی ٬٬٬٬__ ” کیا؟؟؟ یہ کیا کہہ رہے ہو تم !! ہوش میں تو ہو نہ تم !! ٬٬٬٬٬٬___” اس کی بات سنتے ہی نائلہ غصے سے کھڑی ہوگئی ٬٬٬٬___ ” امی !! میں ہوش میں ہی ہوں ٬٬٬٬٬___” جواد نے کہا٬٬٬٬___ “اگر ہوش میں ہوتے تو ایسی بات نہ کرتے٬٬٬٬٬___” نائلہ نے کہا٬٬٬__ ” اور کیا تمھیں وہی ایک گوار ملی ہے شادی کے لیے٬٬٬٬٬___” نائلہ شدید غصے میں بولی تھی٬٬٬__ اب اس کے ماتھی پر بل آئے اور اس نے کہا٬٬٬٬٬٬___

” امی !! اس گوار سے شادی تو میری پسند ہے٬٬٬__ لیکن اس میں آپ کا بھی تو فائدہ ہے٬٬٬__ دیکھیں !! سب جانتے ہیں کہ اس جائیداد کی مالک وہ ہے٬٬٬٬__ تو اگر آپ اس کی شادی کہیں اور کریں گی تو وہ تو اس کی جائیداد بھی آپ سے مانگیں گے٬٬٬__ تو کیا آپ دے دیں گی٬٬٬___ اگر میں اس سے شادی کرتا ہوں تو وہ تو یہاں رہی گی اس کی جائیداد بھی یہی رہے گی٬٬٬___ سوچ لیں آپ !! ٬٬٬___ “

اس نے نائلہ کو لالچ دینے کی کوشش کی٬٬٬___ اور یہ کہہ کر وہ چلا گیا٬٬٬__ پیچھے سے نائلہ سوچ میں پڑ گئی٬٬٬__کیونکہ یہ تو اس نے سوچا ہی نہیں تھا٬٬٬٬٬___ آخر اس نے فیصلہ جواد کے حق میں کیا٬٬٬___

صبح ناشتے کی میز سب موجود تھے٬٬٬٬___ شہزین اور شہرام بھی نیچے آئے٬٬٬__ سربراہی کرسی پر اس کی خالہ اور ان کی ساتھ والی دو کرسیوں (ارد گرد پڑی ہوئی کرسیاں ) پر زاروان اور صاحبہ بیٹھے تھے٬٬٬٬___ صاحبہ ساجدہ بیگم کی صاحبزادی تھی٬٬٬__ جو شہرام کو پسند کرتی تھی٬٬٬__ لیکن اس بات کوئی واقف نہ تھا٬٬٬___ وہ یہ دیکھ کر کہ شہرام کے ساتھ کوئی لڑکی آرہی ہے اور شہرام اس کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کر رہا ہے٬٬٬٬___ وہ جل بن گئی٬٬٬٬___ ” امی !! یہ لڑکی کون ہے؟؟؟٬٬٬٬___” صاحبہ نے اپنی ماں سے سوال کیا٬٬٬___

” یہ !! شہزین ہے شہرام بھائی کی بیوی !! ٬٬٬٬٬__ ” ساجدہ بیگم سے پوچھے گئے سوال کا جواب زاروان نے دیا٬٬٬٬___ اتنی ہی دیر میں شہرام اور شہزین بھی آکر ناشتے کی میز پر بیٹھ چکے تھے٬٬٬٬٬___ ” شہزین یہ ہیں صاحبہ !! خالہ کی بیٹی اور صاحبہ یہ ہیں شہزین !! مائے وائف ٬٬٬٬___” شہرام نے ان دونوں کو آپس میں متعارف کروایا٬٬٬٬____

” نائس تو میٹ یو٬٬٬__ (nice to meet you) ” شہزین نے پیار سے اس سے کہا٬٬٬٬___ لیکن اس کے جواب میں صاحبہ کھانے کی میز سے اٹھ کر چلی گئی٬٬٬__ نوٹس سب نے کیا پر کوئی بھی نہ بولا٬٬٬٬___

وہ کمرے میں آئی٬٬٬٬___ اور بیڈ کے سائیڈ ٹیبل سے تصویر اٹھائی٬٬٬__ جو کہ کسی اور کی نہیں بلکہ شہرام کی تھی٬٬٬__ اس نے اس تصویر کو سینے میں بھینج لیا٬٬٬٬_____ اس کی آنکھیں نم ہو چکی تھی٬٬٬___ ” کتنی محبت کی میں نے تم سے ٬٬٬___ اس قدر تم محبت تم سے کوئی نہ کرتا٬٬٬__ پر تم نے میری محبت کا پاس نہ رکھا٬٬٬__ ” اب اس نے وہی تصویر زمین پر پھینکی٬٬٬٬___ تصویر کا کانچ چکنا چور ہو گیا٬٬٬__ ” میں وعدہ کرتی ہو تم سے کہ میں اس لڑکی کو تمھاری زندگی میں زیادہ دیر تک ے نہ دوں گی٬٬٬٬___ ” وہ غصے میں چلائی٬٬٬__ اپنی آنکھیں صاف کی اور پھر شہرام کے کمرے کی طرف بڑھ گئی٬٬٬٬____

پر جیسے ہی وہاں پہنچی ٬٬٬٬___ اسے وہاں سے کچھ آوازیں سنائی دی٬٬٬٬___ ” بیٹا !! تم صاحبہ کی اس حرکت کا برا مت منانا ٬٬٬٬___ ” اس کی والدہ نے شہزین سے کہا٬٬٬___ ” ارے نہیں آنٹی !! ” وہ تو میری چھوٹی بہنوں کی طرح ہے٬٬٬___ ” شہزین نے پیار سے کہا،،،،،،__ یہ سنتے ہی وہ وہاں سے چلی گئی اور دوبارہ کمرے میں واپس آئی٬٬٬___ ” چھوٹی بہن !! میں اس کی زندگی کا سب سے بڑا نائٹ مئیر (night mare ) بننے والی ہوں اور یہ “‘ وہ غصے میں بولی تھی٬٬٬٬___

شہرام کسی کام سے باہر چلا گیا٬٬٬٬___ شہزین پوری رات میں صرف ایک ہی گھنٹہ سو پائی تھی٬٬٬٬___ اس لیے اب نیند پوری کرنے کے لیے سوئی٬٬٬٬___

آخر کار شہرام آج علی حیدر تک پہنچ ہی گیا تھا٬٬٬___ لیکن علی حیدر کو معلوم نہ تھا اور وہ ابھی بھی شہرام کو مارنے کا پلین بنا رہا تھا٬٬٬__

” سر !! سر !! سر !! ” جبار بوکھلایا ہوا علی حیدر کے پاس پہنچا٬٬٬___

” کیا ہوا جبار !! کیوں بوکھلائے ہوئے ہو؟؟؟ ٬٬٬٬٬٬٬_____ ” علی حیدر نے وجہ معلوم کی٬٬٬٬٬٬٬٫____

” سر !! وہ ش شہرا شہرام خان یہاں آچکا ہے٬٬٬٫٬___ ” جبار جھجک کر بولا٬٬٬٬٬٬___ ” کیا ؟؟؟ !! ٬٬٬٬___” یہ کیا کہہ رہے ہو تم ؟؟ پہلے کہیں مر گئے تھے کیا تم سارے کے سارے جو تم لوگوں کو پتا نہ چلا٬٬٬٬___” علی حیدر انتہائی غصے میں بولا٬٬٬٬٬___

” پہلے کا تو نہیں پتہ !! پر اب تم لوگ ضرور مرو گے ٬٬٬٬___ ” باہر جتنے بھی لوگ تھے ان کی لاشیں بچھا کر شہرام کمرے میں آیا،،،،،،،___ اور اس نے کہا،،،،،،____ شہرام کی شکل دیکھتے ہی علی حیدر کے پسینے چھوٹ گئے،،،،___

” ت ت تم تمھیں آہہہہہہ” وہ بول ہی رہا تھا کہ،،،،،___ کہ اسے پیچھے سے کچھ تیز دار چیز چبی،،،،،___ پیچھے سے کسی نے اس کی کمر میں تیز دار چاقو مارا،،،،___

وہ پیچھے مڑا تو حیان رہ گیا،،،، وہاں کوئی اور نہیں تھا٬٬٬٬___ بلکہ اس کا اپنا ہی آدمی جبار تھا٬٬٬٬___ ” جبار !! تم نے ایسا کیوں کیا ؟؟ میرے ساتھ٬٬٬٬٬٬٬___”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *