Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Pr Zor Nahi (Episode - 28) Last Episode (Part - 1)

Ishq Pr Zor Nahi By Abdul Ahad Butt

وہ سب لاؤنچ میں بیٹھ کر چائے پی رہے تھے۔۔۔ سب ٹھیک ہو چکا تھا۔۔۔ سب خوش بھی تھے۔۔۔

پر اس وقت بھی حاکم کا کچھ بھی نہیں۔ پتہ تھا کہ وہ کہاں ہے؟؟۔۔۔۔

شہرام اور زاروان پوری کوشش کر رہے تھے کہ اسے جلد از جلد ڈھونڈ ہی لیں۔۔۔

پر وہ ملنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔۔۔

” شہرام !! زاروان !! میں چاہتی ہوں کہ تم دونوں کی شادی ایک بار پھر سے ہو۔۔۔ کیونکہ جن حالات میں تم دونوں کی شادی ہوئی ان میں تو میں اپنا ایک بھی ارمان نہیں پورا کر پائی۔۔۔۔ ” ساجدہ بیگم نے شہرام اور زاروان کو متوجہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔

” جی حالی ویسے بات تو ٹھیک ہے۔۔۔ گھر میں کئی سالوں سے کوئی ہلہ گلہ بھی نہیں ہوا اسی بہانے فنکشن بھی ہو جائے گا گھر میں۔۔۔۔”

شہرام کے کہنے پر ساجدہ بیگم کے چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ چھا گئی۔۔۔

” شہزین زرمینے !! اس بارے میں تم دونوں کا کیا خیال ہے۔۔۔۔ ؟” ساجدہ بیگم نے اب شہزین اور زرمینے سے سوال کیا۔۔۔

” مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔۔۔” ” مجھے بھی !!”

شہزین اور زرمینے نے باری باری جواب دیا۔۔۔۔

” چلو یہ تو اچھا ہو گیا۔۔۔ اب جمعہ تالمبارک کو مہندی اور ہفتے کو بارات اور اتوار کو ولیمہ ہو گا۔۔۔۔ ” ساجدہ بیگم نے کہا۔۔۔

” پر خالہ اتنی جلدی کیسے ؟؟ جمعہ تو کل ہی ہے نہ تیاریاں کیسے ہوں گی اتنی جلدی۔۔۔۔۔” شہرام نے کہا۔۔۔

” اس کی فکر تم مجھ پر چھوڑ دو وہ میں خود دیکھ لوں گی۔۔۔۔ ” ساجدہ بیگم نے کہا۔۔۔۔

” ٹھیک ہے۔۔۔ ہم نے بھی ایک فیصلہ کیا ہے۔۔۔۔” زرمینے نے چہرے پر مسکراہٹ لیے اپنی اور شہزین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔

” کیسا فیصلہ۔۔۔۔ !!” زاروان نے سوال کیا۔۔۔۔

” وہ فیصلہ یہ ہے کہ جس طرح ہر لڑکی کی شادی ہوتی ہے اسی طرح ہماری بھی ہوگی۔۔۔ بارات والے دن سے پہلے نہ آپ ہم سے ملیں گے۔۔۔ اور نہ بات کرنے کی کوشش کریں گے۔۔۔۔”

اب کی بار شہزین نے کہا جس ساجدہ بیگم نے مسکرا دیا۔۔۔ لیکن زاروان اور شہرام کو تو جیسے آگ ہی لگ گئی ہو۔۔۔۔

” ٹھیک ہے بھئی جیسی تم دونوں کی مرضی۔۔۔۔ ” ساجدہ بیگم نے کہا۔۔۔۔

” پر خالہ۔۔۔ ” شہرام نے اس بات پر اعتراض کرنا چاہا لیکن ساجدہ بیگم نے تو اپنی بہووں کی بات ماننی تھی۔۔۔۔

” پر سر کچھ نہیں جو یہ دونوں کہیں گی وہی ہوگا۔۔۔ ” ساجدہ بیگم نے شہزین اور زرمینے کی طرف داری کی۔۔۔

” واہ حالہ بہت ہی جلدی پارٹی بدلی آپ نے۔۔۔۔” زاروان نے کہا جس پر ان تینوں نے قہقا لگایا اور شہزین اور زرمینے آٹھ کمروں میں چلی گئی۔۔۔۔

ان دونوں کو لگا کہ شائید وہ مزاق کررہی ہیں۔۔۔

شہرام رات کو تھوڑا لیٹ آیا تھا۔۔۔۔ کمرے میں پہنچا تو موڈ بہت ہی اچھا تھا۔۔۔ لیکن شہزین کو کمرے میں نا پا کر اس کے تن بدن میں آگ لگی۔۔۔۔

” یعنی میڈم کو میرے کہے کا کوئی اثر ہی نہیں۔۔۔۔”

وہ غصے میں اس کے کمرے کی طرف بڑھا۔۔۔

کمرے کے دروازہ لاک تھا۔۔۔ پر وہ بھی شہرام تھا یوں ہی تھوڑی مانے گا وہ بھی۔۔۔۔ کمرے کی چابیوں میں اس کمرے کی چابی نکال کر اس نے دروازہ کھولا۔۔۔۔۔۔

لیکن کمرے میں داخل ہوتے ہی سارا غصہ اڑ گیا جب اس نے اس نازک کلی کو بیڈ پر سویا ہوا پایا۔۔۔۔

وہ اس کے جا کر بیٹھا۔۔۔ اور اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھے۔۔۔

اپنی پیشانی پر کسی کہ دہکتے لب پا کر اس کی آنکھیں کھلی اور نیند اڑ گئی۔۔ وہ اٹھ کر بیٹھی۔۔۔ اور جان لیوا انداز میں شہرام کو دیکھنے لگی۔۔۔

” ایسے کیا دیکھ رہی ہو ؟؟؟” اسے اپنے طرف دیکھتا دیکھ اس نے سوال کیا۔۔۔۔۔

” آپ پہلے یہ بتائیں کہ آپ میرے کمرے میں کیا کر رہے ہیں۔۔۔۔” اس کے سوال کا جواب دینے کی بجائے اس نے ایک اور سوال پوچھا۔۔۔

” یہاں کیا کررہا ہوں؟ اپنی بیوی کے پاس ہی ہوں میں تم کمرے میں نہیں تھی تو یہاں آگیا تمھارے پاس۔۔۔۔ “

” کیا آپ صبح والی بات یاد نہیں ہے۔۔۔” شہزین نے کہا۔۔۔۔۔

” نہیں۔۔۔۔۔۔ نکاح ہوا ہے ہمارا بیوی ہو تم میری اور تم مجھے اپنے قریب آنے سے نہیں روک سکتی۔۔۔۔” شہرام نے آنکھ مارتے ہوئے کہا اور اس کے اور اپنے درمیان کا فیصلہ ختم کیا۔۔۔

” دور ہی رہیں مجھ سے ورنہ۔۔۔۔” اس سے پہلے کہ وہ بات مکمل کرتی وہ اس کی سانسوں کو اپنی سانسوں میں قید کرگیا۔۔۔۔

آج ان کی مہندی کا فنکشن تھا۔۔۔

اور بات کے مطابق ساجدہ بیگم نے پورے گھر کو ایک ہی دن میں سجوا دیا تھا۔۔۔۔ پورے گھر میں پھولوں کی مہک تھی۔۔۔ نہایت ہی خوبصورت لگ رہا تھا آج گھر کا منظر۔۔۔۔

آخر کار رات ہوئی اور مہمانوں نے آنا شروع کیا۔۔۔۔

پورے دن گزر چکا تھا پر شہرام اور زاروان نے شہزین اور زاروان کا چہرہ تک نہیں دیکھا تھا۔۔۔۔

وہ دونوں کمرے سے باہر نکلی ہی نہیں تھی۔۔۔ اور ان دونوں کو ان کے کمرے میں جانے سے منع ساجدہ بیگم نے کیا تھا۔۔۔

اور وہ اس کی بات کیسے ٹالتے۔۔۔۔

آخر کار ساری تیاریاں مکمل ہوگئی تھی۔۔۔۔

شہزین اور زرمینے بہت ہی خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔ پیلے رنگ کا جوڑا۔۔۔ پھولوں سے بھرے کانٹے۔۔۔ بھندی۔۔۔ بہت ہی دلکش لگ رہا تھا سب کچھ۔۔۔۔

پھر کچھ لڑکیوں کے ہمراہ وہ دونوں سٹیج کی طرف بڑھی۔۔۔ زاروان اور شہرام اسٹیج پر ہی تھے۔۔۔۔

ان دونوں کو آتا دیکھ وہ دونوں کھڑے ہوئے۔۔۔ شکر ادا کیا رب کا کہ چہرہ تو دیکھنے کو ملا۔۔۔

ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ بٹھایا اور پھر مہندی کی رسومات شروع کی گئی۔۔۔

رسمیں ادا ہونے کے بعد وہ دونوں کمرے میں چلی آئیں۔۔۔۔

زرمینے چینج کرکے واش روم سے نکلی۔۔۔ تو روم کی لائیٹس آف تھی۔۔۔۔

” یہ لائیٹس کو کیا ہوا ہے۔۔۔؟” یہ کہتے ہوئے وہ آگے بڑھی۔۔۔ پر جب اس کا سر ایک چوڑے سینے سے ٹکرایا تو چیخ مارنے کی کوشش کی گئی۔۔۔

پر سامنے کھڑے شخص نے اس چیز کی اجازت نہیں دی۔۔۔۔

” خبردار !! اگر آواز نکالی تو۔۔۔۔” گھمگیر لہجے میں بولا گیا۔۔۔۔ اور آہستہ سے ہاتھ ہٹا کر پاکٹ سے لائیٹر نکال دونوں چہروں کے درمیان جلایا۔۔۔

وہ کوئی اور نہیں بلکہ زاروان تھا۔۔۔۔

” آپ !!! یہاں کیا کررہے ہیں آپ ؟؟” زرمینے نے کہا۔۔۔۔

” ہاں میں کیوں کوئی مسئلہ نہیں آسکتا میں یہاں کیا بولو۔۔۔۔ ” زاروان نے کہا۔۔۔۔

جس پر زرمینے نے صاف انکار کردیا۔۔۔۔

” ویسے آج بہت پیاری لگ رہی تھی تم۔۔۔۔” زاروان نے اس کی تعریف کی۔۔۔۔

” تعریف کرنے کے لیے آئے تھے آپ۔۔۔”

” ہاں !!”۔ زاروان نے جواب دیا۔۔۔۔

” ہوگئی ہے تعریف اب جائیں۔۔۔۔” وہ اسے خود سے الگ کرتے ہوئے بولی۔۔۔۔

” چلا لیں مرضی میڈم !! ہمارے بارے میں تو کل رات کو پتہ لگے گا آپ کو۔۔۔۔” آنکھ مار کر چلا گیا۔۔۔ لیکن زرمینے کا چہرہ سرخ پڑ گیا۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *