Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Pr Zor Nahi (Episode - 13)

Ishq Pr Zor Nahi By Abdul Ahad Butt

” کیا مطلب کیوں نہیں جا سکتی گھر !!٬٬٬____” زرمینے ہسپتال کے بستر پر لیٹی ہوئی اس سے سوال کرتی ہے،،،____

” تم ابھی بھی وہاں جانا چاہتی ہوں ؟؟ تمھارا دماغ تو ٹھیک ہے نہ تم اس گھر جانا چاہتی ہوں جس گھر میں تمھارا سودا کیا گیا،،،،______ وہ گھر !! اسے تم گھر کہتی ہو،،،____”

زاروان اونچی آواز میں بولا اور وہ سہم گئی اور ڈرنے کی وجہ سے آنکھوں سے آنسو ٹپک پڑے !!،،،____

پہلے تو وہ کچھ دیر یوں ہی روتی رہی لیکن پھر اپنے آنسو صاف کرکے کچھ دیر بعد بولی،،،___

” دیکھیں جو بھی ہے،،،___ وہ میرا گھر ہے اور اگر میں وہاں نہیں جاؤں گی تو اور میں کہا جاؤ گی،،،____۔ “

” آپ میرے ساتھ رہیں گی میرے گھر !!،،،____”

یہ سنتے ہی زرمینے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اسے دیکھنے لگی،،،___

” نہیں !! میں آپ کے ساتھ کس طرح رہ سکتی ہوں !! ،،،____ “

وہ شرماتی ہوئی بولی،،،____

” دیکھیں میرا کوئی غلط مطلب نہیں ہے،،،___ اور آپ فکر نہ کریں میرے گھر میری خالہ بھابھی اور اور کزن بھی رہتی ہیں وہ آپ کا خیال رکھیں گی اور جب آپ ٹھیک ہو جائیں گی تو آپ کو جہاں جانا ہوگا چلی جائیے گا میں نہیں روکا گا آئی پرومس،،،،______”

زاروان نظریں جھکائے بولا جس پر وہ چپ کر گئی اور اس کی خاموشی ہی اس کا جواب تھی،،،،____

شہرام کی نظریں بار بار اس وجود پر جا رہی تھی،،،___ جو بالکل اس کے سامنے تھا،،،___

کسی بھی داغ سے پک چہرہ !! خوبصورت ہاتھ ✋!! بال بکھرے ہوئے جو نہایت ہی خوبصورت لگ رہی تھی،،،___ چہرے پر میک اپ کا کوئی نشان نا تھا یا شائید اس کی کوئی ضرورت ہی نہیں تھی،،،،_____

یہ سب اس کا دل تو بہکا رہے تھے پر اسے خود پر قابو پانا تھا،،،___ پھر بھی وہ اس کے پاس گیا،،،،___

اس کی پیشانی سے بال ہٹائے اور نا چاہتے ہوئے بھی اپنے دہکتے لب اس کی پیشانی پر رکھ دیے،،،،___

وہ جانتا تھا کہ اس حرکت سے وہ اس کی جان نکال دے گی پر اس نے کوئی بھی جوابا عمل نہ کیا،،،____

بلکہ وہ ٹس سے مس بھی نہ ہوئی،،،،______

” شہزین !! صبح ہوگئی ہے اٹھ جاؤ جان !! ،،،___” وہ اس کے پاس بیٹھا دو سے تین دفعہ بولا،،،___

مگر جواب ندارد!!_____

اب وہ پریشان ہو چکا تھا کہ شہزین اٹھ نہیں رہی،،،___

” شہزین !! شہزین !! ،،،،____”

وہ پریشانی کے عالم میں اس کا چہرہ تھپتپھانے لگا،،،___ لیکن جب اسے ہوش نہ آیا تو اس کی نظر پاس پڑھے ہوئے پانی کے جگ پر گئی،،،___ اس نے وہ جگ پکڑا اور پانی کی چھینٹیں شہزین کے چہرے پر مارنے شروع کی،،،،_____

پر اس سے بھی وہ نہ اٹھی،،،___ اب صرف ایک ہی راستہ تھا،،،___ ڈاکٹر !!!،،،،،،______

اس نے اسے اپنی باہوں میں بھرا،،،،____ اور گاڑی کی طرف بھاگا،،،____

اسے گاڑی میں بیٹھا کر گاڑی ہوسپٹل کے راستے پر ڈالی اور کچھ ہی دیر میں وہ ہسپتال کے سامنے رکے،،،____

شہرام نے اسے اپنی باہوں میں بھرا اور اندر بھاگا،،،_____

” ڈاکٹر !! ڈاکٹر !! ___” وہ چلایا،،،_____

دو سے تین منٹ ہی وہاں ڈاکٹر پہنچ گئے تھے،،،____ اور شہزین کو ایمرجنسی وارڈ میں منتقل کر دیا گیا تھا،،،،____

شہرام نہایت ہی پریشان ایمرجنسی وارڈ کے باہر چکر کاٹ رہا تھا،،،___ اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کے اسے کیا ہوا ہے،،،_____

” آجائیں !!،،،_____” جب زاروان نے اسے آہستہ آہستہ آتے دیکھا تو وہ زرمینے کو اندر جانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا،،،،______

” ج۔جی !!” وہ جھجک کر بولی،،،،_____

وہ چلتے چلتے صحن میں آگئے تھے،،،،_____

” نسرین !! نسرین !!،،،_____”

وہاں پہنچتے ہی زاروان نے اونچی آواز میں گھر کی ملازمہ نسرین کو آواز لگائی،،،_____

” جی چھوٹے صاحب !!،،،____”

وہ پہنچتے ہی نظریں جھکا کر بولی،،،_____

” نسرین !! جو کمرہ میں نے تیار کروایا ہے انھیں وہاں لے جاؤ،،،____”

” جی صاحب !! آئیں بی بی !!” نسرین زاروان کو جواب دے کر زرمینے سے مخاطب ہوتے ہے،،__ اور زاروان کے اشارے پر زرمینے بھی اس کے پیچھے چل دی،،،____

اسی وقت وہاں ساجدہ بیگم پہنچتی ہیں،،،_____ اور زرمینے ان کی نظر سے نہیں چھپتی،،،____

اور زاروان کو دیکھ وہ سمجھ جاتی ہیں کہ یہ لڑکی گھر میں زاروان ہی لایا ہے،،،____

” زاروان یہ لڑکی!!؛،،،،_____” ساجدہ بیگم اس کے پاس آکر سوال پوچھتی ہیں،،،،____ اس کے جواب میں زاروان انھیں ساری بات بتاتا ہے اور ساجدہ بیگم کو اپنی بہن کے لاڈلے پر فخر ہوتا ہے کہ اس نے کسی لڑکی کی زندگی برباد ہونے سے بچا لی،،،،_____

” نام کیا ہے اس لڑکی کا؟؟؟،،،،____” ساجدہ بیگم کے سوال پر وہ جھنجھلا جاتا ہے کیونکہ اسے تو اس کا نام نہیں پتا تھا،،،____

” وہ تو مجھے نہیں پتا،،،،_____”

زاروان تھوڑا جھجک کر بولتا ہے،،،____

” کیا تمھیں اس کا نام نہیں پتہ ؟؟،،،،_____ اتنا سب کچھ ہوگیا اور تم نے نام بھی نہیں پوچھا،،،____”

ساجدہ بیگم اسے کہتی ہیں،،،____

” وہ خالہ ٹائم ہی نہیں ملا تھا نام پوچھنے کا،،،___!!” زاروان انھیں بتاتا ہے،،،،____

” اچھا کوئی بات نہیں میں اس سے خود جا کر مل لیتی ہوں ،،،____”

یہ کہہ کر وہ زرمینے کے کمرے کی طرف بڑھتی ہیں !!

وہ کمرے میں پہنچی اور سر میں اس کے اس وقت شدید درد تھا،،،،_____

اس لیے بیڈ پر لیٹ گئی،،،____

کچھ ہی دیر بعد کمرے کا دروازہ کھلنے کی آواز سنائی دی،،،____

وہ ڈر کر اٹھی،،،___

” ارے ارے !! ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے میں زاروان کی خالہ ہوں ساجدہ بیگم!!،،،،____”

یہ سنتے ہی اسے زاروان کی بات یاد آئی جب اس نے اسے بتایا تھا کہ اس کے گھر میں اس کی خالہ بھی رہتی ہیں،،،____

” ماشاءاللہ!! بہت پیاری ہو !!،،،،____ نام کیا ہے تمھارا ،،،_____”

ساجدہ بیگم پیار سے اس کے چہرے پر ہاتھ مارتے ہوئے پوچھتی ہیں،،،،______

” زرمینے !!،،،____”

” ماشاءاللہ بہت ہی پیارا نام ہے،،،_____”

یہ بات سن کر زرمینے مسکراتی ہے،،، اور وہ دونوں باتیں کرنے لگتے ہیں،،،______

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *