Ishq Pr Zor Nahi By Abdul Ahad Butt NovelR50480 Ishq Pr Zor Nahi (Episode - 5)
Rate this Novel
Ishq Pr Zor Nahi (Episode - 5)
Ishq Pr Zor Nahi By Abdul Ahad Butt NovelR50480
” میرے بال چھوڑو مجھے درد ہو رہا ہے٬٬٬٬___” وہ درد سے کراہتے ہوئے بولی تھی٬٬٬٬__ ” ہاں درد مجھے بھی بہت ہوا تھا پورے دو سال٬٬٬٬__” شہرام اس وقت شدید غصے میں تھا٬٬٬٬__ ” تو کیوں ختم کیا تھا سب کچھ٬٬٬__” شہزین نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جواب دیا٬٬٬__ ” اب اس کا عزالہ بھی میں ہی کروں گا٬٬٬__ تمھیں یہاں سے جانے نہیں دوں گا٬٬٬__” اس کے بال ابھی بھی اس کے ہاتھ میں تھے٬٬٬___ ” یہ تمھاری بھول ہے شہرام خاں !! تم مجھے روک نہیں پاؤں گے اور نکاح تمھارا خواب ہے بس٬٬٬___”
شہزین نے کہا اور پھر دروازے کی طرف بڑھی٬٬٬__ لیکن شہرام اس کا بازو پکڑ کر اسے روک چکا تھا٬٬٬٫____
” تمھیں میں نے کہا نہ کے تم کہیں نہیں جاؤ گی تو تمھیں میری بات سمجھ نہیں آئی کیا؟؟ دماغ ہے بھی کہ نہیں٬٬٬٬___” وہ سر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا تھا٬٬٬٬___ ” دماغ !! ہوتا تو یوں تمھارے ساتھ ہوتی٬٬__ اس سے اچھا تو میں اعظم سے نکاح کر لیتی یا مر جاتی٬٬٬__ ” وہ بول ہی رہی تھی کہ شہرام نے اس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر اسے چپ کروایا٬٬٬__
” ششش !! آج کے بعد کبھی بھی مرنے کی بات مت کرنا٬٬٬__” وہ آہستگی سے بولا تھا٬٬٬٬__ ” میں یہ بات کروں یا نہ کروں تمھیں کوئی فرق نہیں پڑتا ٬٬٬__ مجھے گھر جانا ہے٬٬٬__” ” تمھارا گھر یہی ہے کچھ دیر میں مولوی صاحب آجائیں گے نکاح پڑھانے کے لیے٬٬٬٬__” یہ کہہ کر وہ دروازے کی طرف مڑا٬٬٫_____
” او جسٹ شٹ اپ !! تم سے شادی کرنے سے بہتر ہے کہ میں زہر کھا لوں ٬٬٬__” اس کی یہ باتیں سیدھا شہرام کے دل پر حملہ آور ہو رہی تھی٬٬٬__ وہ جو اس وقت سے چپ کر کے اس کی باتیں سن رہا تھا٬٬٬__ اب ضبط کا پیمانہ لبریز ہونے ہاتھ اٹھانے کی غلطی کر بیٹھا٬٬٬٬٬__ لیکن اس نے اپنا ہاتھ ہوا میں ہی روک لیا٬٬٬__
وہ جس نے اپنا چہرہ ہاتھوں کے پیچھے چھپا لیا تھا٬٬٬__ ہاتھ پیچھے کیے اور شہرام کو گھوری بھری٬٬٬٬__ لیکن وہ نظریں چرا گیا٬٬٬٬__ ” شہرام خاں !! مارو رک کیوں گئے تم مارتے کیوں نہیں٬٬٬٬___ بس یہی تو رہ گیا تھا٬٬٬__ اور تمھیں کرنا بھی کیا آتا ہے؟؟؟٬٬٬__” وہ انتہائی غصے سے بولی٬٬٬__ ” میں جب کچھ کرنے پر آیا تو تم سہ نہیں پاؤ گی٬٬٬٬__” وہ اس کے گرد بازو حائل کر کے بولا تھا٬٬٬__ ” نکاح کے لیے تیار رہنا سویٹ ہارٹ٬٬٬__” یہ کہہ کر ایک نظر اس پر ڈال کے وہ کمرے سے باہر نکل گیا٬٬٬٬___
اس کے جاتے ہی شہزین نے سکھ کا سانس لیا٬٬٬٬__ “اے میرے رب !! یہ میں کس مشکل میں پھنس گئی٬٬٬__ اے اللہ میری مدد فرما٬٬٬___ میں اس شخص سے شادی نہیں کرنا چاہتی جس نے مجھے دھوکا دیا ہو٬٬٬٬__ وہ صرف ایک دھوکے باز انسان ہے بدتمیز کہیں کا٬٬٬٬__” وہ خود سے ہی باتیں کرنے میں مگن تھی پر اب تو نکاح ہو کر ہی رہے گا٬٬٬٬__
شہرام کمرے سے باہر نکلتے ہی سیدھا اپنی خالہ کے کمرے میں چلا گیا٬٬٫٫٫__ اور ساری بات تفصیلاً بتائی٬٬٬٬_ _ وہ یہ سن کر خوش ہوئی کہ کوئی تو ہے جسے شہرام بھی پسند کرتا ہے اور انھوں نے بغیر اعتراض کیے ہاں کہہ دیا٬٬٬٬__ وہ اس وقت کمرے میں اکیلی تھی٬٬٬٬__ شہرام ڈور لاک کرکے گیا تھا٬٬٬٬__ پر اس بات سے وہ ناواقف تھی٬٬٬___ اس نے دروازہ کھول کر وہاں سے جانے کی کوشش کی٬٬٬٫__ پر ناکام رہی٬٬٬٬__
شہزین خود سے ہی باتیں کیے جارہی تھی٬٬٬٬__ کمرے کا دروازہ کھلنے پر وہ کھڑی ہوئی٬٬٬__ سامنے دیکھا تو وہاں ایک خاتوں کھڑی تھی٬٬٬__ جو اس کی طرف دیکھ کر مسکرا رہی تھی٬٬٬٬__ جو دیکھنے سے ہی رحم دل لگ رہی تھی بلکہ ہے تھی رحم٬٬٬٬__ ” ماشااللہ !! بہت پیاری بچی ہو٬٬٬__ شہرام نے بھی ہیرا ڈھونڈا ہے٬٬٬٬__” شہزین ان کی باتیں غور سے سن رہی تھی٬٬٬٬__ ” میں شہرام کی خالہ ہوں ٬٬٬__” اسے اپنی طرف دیکھتا دیکھ انھوں نے اپنا تعارف کروایا٬٬٫٬__ اور پھر ایک جوڑا اس کے سامنے رکھا٬٬٬٬__ ” یہ لو !! یہ پہن لو مولوی صاحب آتے ہی ہوں گے٬٬٬٬__” ساجدہ بیگم نے کہا٬٬٬٬__ ” مجھے یہ نکاح نہیں کرنا٬٬٬٬٬٬__” وہ قرہت لہجے میں بولی تھی٬٬٬٫٬__ ” دیکھو !! شہرام دل کا بہت صاف ہے٬٬٬ اور تم سے محبت بھی کرتا ہے٬٬٬__ اور تم اکیلی لڑکی کیسے اپنی حفاظت کرو گی٬٬٬٬__ بہتر یہی ہے کہ تم یہ نکاح کرلو٬٬٬_” یہ کہتے ہوئے ساجدہ بیگم کمرے سے باہر نکل گئی٬٬٬__ اب شہزین کے پاس کوئی اور راستہ نہ تھا٬٬٬٬_ مجبوراً اسے تیار ہونا ہی پڑا٬٬٬٬___
کچھ ہی دیر میں مولوی صاحب آگئے٬٬٬٫ __ نکاح پڑھایا گیا٬٬٬__ شہرام نے تو فوراً ہاں کردی٬٬٬ پر شہزین نے اٹک اٹک کر ہی کہا٬٬٬٬___
وہ پھر کمرے میں ہی آگئی تھی٬٬٬__ اور کپڑے بھی بدل چکی تھی٬٬٬__ کچھ دیر بعد وہ کمرے میں آیا٬٬٬__ وہ بیڈ کے پاس پڑے صوفے پر بیٹھی تھی٬٬٬__ ” ارے !! اتنا غصہ میرا انتظار تو کرتی٬٬٬__ ” وہ اس کے پاس جاکر بیٹھ گیا٬٬٬__ ” تم اس کمرے میں کیا کر رہے ہو؟؟؟٬٬٬٬__” شہزین سوال کرتی ہے٬٬٬__ ” کومن سی بات ہے میرا کمرہ ہے تو میں ہی آوں گا اس کمرے میں٬٬٬٬___” اس نے مسکرا کر جواب دیا٬٬٬٬__ ” ٹھیک ہے پھر میں اس کمرے میں نہیں رہوں گی٬٬٬___” شہزین نے کہا٬٬__ ” کیا مطلب ؟؟ ٬٬___” وہ الجھا٬_ ” مطلب یہ کہ میں اس کمرے میں نہیں رہوں گی جس کمرے میں تم ہو گے٬٬٬__” اس نے واضح بات کی٬٬٬___ ” واٹ ربش اب ہماری شادی ہوگئی ہے تو ساتھ ہی رہیں گے٬٬٬__” شہرام نے کہا٬٬٬__ ” جی نہیں ٬٬٬__” ” اچھا !! تو ایسی بات ہے؟؟ تو اس روم کے ساتھ ہی ایک کمرہ ہے جہاں صرف چارپائی ہے٬٬٫٬__” وہ اپنے بالوں میں ہاتھ مارتے ہوئے بولا٬٬٬__ کہ شائد وہ انکار کردے پر وہ بھی شہزین تھی٬٬٬٬٬٬____ ” ٹھیک ہے یہ کہہ کر وہ اس کمرے میں چلی گئی اور جاکر سو بھی گئی٬٬٬__ شہرام اسے لینے تو گیا ٬٬٬ پر وہ سو چکی تھی٬٬٬___”
” کہاں گئی شہزین؟؟؟٬٬٬__ زمین نکل گئی یا آسمان کھا گیا٬٬٬٬__” بی جان انتہائی غصے میں چیخ رہی تھی٬٬٬__
” وہ اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ گئی ہے٬٬٬__ اتنی رات کو” اعظم نے کہا٬٬٬٬___ ” علی !! یہ دیکھ رہے ہیں اپنی بہن کے کام !! گھر سے بھاگ گئی ہے وہ بدکردار٬٬٬___” اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور بولتی علی انھیں چپ کروا چکا تھا٬٬٬٬٬٬٬____ ” بس بی جان !! میری بہن نے جو بھی کیا بالکل ٹھیک کیا٬٬٬__ اس اعظم سے شادی کروانے سے تو بہتر ہے کہ وہ اس سے ہی نکاح کرلے٬٬٬___” وہ انتہائی غصے میں کمرے کی طرف بڑھ گیا٬٬٬٬٬٬٬__
” بی جان !! یہ دیکھ رہی ہیں آپ ؟؟ یہ کیا کہہ کر گیا ہے مجھے؟؟٬٬٬__” اس نے علی کی طرف اشارہ کیا٬٬٬٬___ پر بی جان تو اس کے تیور ہی دیکھتی رہ گئی٬٬٬٬__
” اعظم !! تم فکر مت کرو سب دیکھ رہی ہو میں اور ہاں ایک اور بات اس شہزین کو کی تلاش جاری رکھو٬٬٬٬__ اور اگر کہیں مل جائے تو اگر دو چار کھانی بھی پڑی تو لگا دینا اور اسے یہاں لے کر آنا٬٬٬٬__” بی جان نے اعظم سے کہا٬٬٬٫____
” جی بی جان !! ٬٬٬٬٬٬٬____” یہ کہہ کر اعظم باہر چلا گیا٬٬٬٬٬___ پر اب شہزین سے شادی تو کیا٬٬٬٬__ اسے دیکھ بھی نہیں سکتا تھا وہ٬٬٬٬___
زرمینے آج یونی سے واپس تھوڑا لیٹ آئی٬٬٬__ اگر نائلہ گھر ہوتی تو اس کی خوب کلاس لیتی٬٬٬٬__ پر وہ گھر نہ تھی اس لیے زرمینے نے سکھ کا سانس لیا٬٬٫٬_____ اور اپنے کمرے میں آگئی٬٬٬__
کمرے کا دروازہ لاک کرنا بھول گئی٬٬٬__ دروازہ ناک ہوا٬٬٬٬____ ” ارے آپ !! اگر کوئی کام تو بتا دیتے مجھے٬٬٬٬___” سامنے نائلہ کا بیٹا کھڑا تھا٬٬٬__ ” کوئی کام نہیں تھا مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے٬٬٬٬٬___” یہ کہہ کر وہ اس کے قریب ہوا٬٬٬ ___ اسے کافی برا لگا٬٬٬__ مگر چپ رہی٬٬٬___
