Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Pr Zor Nahi (Episode - 20)

Ishq Pr Zor Nahi By Abdul Ahad Butt

بی جان نے جب پیچھے دیکھا تو پیچھے پولیس کھڑی تھی،،،،،_____ اور وہ اعظم کو اریسٹ کر چکے تھے،،،،____

اب باری تھی بی جان کی،،،،،_____ بی جان کا رنگ اڑ گیا تھا،،،،______

” شہزین !! یہ تم نے اچھا نہیں کیا،،،،،______ میرا بھی وقت آئے گا،،،،______” وہ اسے دھمکاتے ہوئے بولی،،،،_____

” وقت ختم ہوا بی جان !! انسپکٹر اریسٹ دھیم !!،،،،،_______” بی جان سے کہہ وہ انسپکٹر سے مخاطب ہوا،،،،_____

جس پر انسپکٹر نے آپنے ساتھ موجود لیڈی عملے کو اشارہ کیا اور وہ بی جان کو گرفتار کرنے کے لیے آگے بڑھی،،،،،______

” ایک منٹ رکو !! آپ مجھے کیوں گرفتار کر رہے ہیں،،،،،______”

انھیں اپنی طرف آتا دیکھ کر بی جان نے انھیں ہاتھ کے اشارے سے روکا اور کہا،،،،،______

” رسی جل گئی پر بل نہیں گیا،،،،____ !! آپ نے میرے ماں بابا کا ایکسیڈینٹ کروا اور ان کی ڈیتھ ہوگئی اسی جرم میں،،،،_____”

شہزین کے کہنے کے فوراً بعد ہی بی جان کو گرفتار کر لیا گیا،،،،_____

” شہزین صاحبہ تم نے مجھے تو گرفتار کروا لیا اب میں اریسٹ ہو چکی ہوں تو جاتے ہوئے ایک سچ ہی بتاتی جاؤ اپنے بھائی کو بچا سکتی ہو تو بچا لینا،،،،_______”

بی جان کا کہنا ہی تھا کہ شہزین کی آنکھوں میں ایک خوف سا پیدا ہوا،،،،_____

” یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ !!!!”

شہزین کو دیکھ شہرام اس کے پاس آیا اور بی جان سے مخاطب ہوا،،،،،،______

” لگا نہ جھٹکا !!!،،،،،______” بی جان کے چہرے پر ایک شیطانی مسکراہٹ چھائی،،،،،______

شہزین سمجھ ہی نہیں پا رہی تھی،،،،____

” ش۔شہرام یہ کیا کہہ رہی ہیں؟؟؟؟؟ !!!!!!” شہزین نے شہرام سے کہا،،،،____

” کچھ بھی نہیں ہم ابھی حویلی جائیں گے اور فکر نہیں کرو علی بالکل ٹھیک ہوگا،،،،_____” اس کے چہرے پر ہاتھ اسے دلاسا دیتے وہ دونوں گاڑی میں بیٹھے،،،،____ شہرام نے گاڑی کو حویلی کے رستے پر ڈالا،،،،______

بی جان اور اعظم کو جیل میں رکھا گیا تھا ہمیشہ کے لیے قتل کے جرم میں !!٬٬٬٬٬_____

وہ دونوں جلد ہی حویلی پہنچ گئے تھے،،،،،____

شہزین بھاگتی ہوئی علی کے کمرے کی طرف بھاگی،،،،،______ کمرے میں پہنچی،،،،____ شہرام اس کے ساتھ ہی تھا،،،،،_____

علی بالکل ٹھیک تھا اسے کچھ بھی نہیں ہوا تھا،،،،______

” ع۔علی تم ٹھیک ہو !!!،،،،______” وہ اس کے پاس گئی،،،،_____” جی آپی !!! میں بالکل ٹھیک ہوں،،،،_____ لیکن کیا ہوا ہے؟؟؟،،،،______” علی اسے تسلی دیتا اور اس سے پھر سوال پوچھا،،،،،_____

” کچھ نہیں وہ بی جان نے کہا،،،،،_____” شہرام اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتا ہوا بولا،،،،_____

” اووو اچھا !! انھوں نے ایسے ہی نہیں کہا تھا انھوں نے مجھے دودھ میں زہر ملا کر بھی دیا تھا،،،،_____ پر میری خوش قسمتی کہ میں ان کے ارادوں کے بارے میں جان گیا تھا،،،،،_____ اسی وجہ وہ دودھ میں نے نہیں پیا تھا،،،،_____”

علی کی بات پر شہزین نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا،،،،____

” پر تمھیں کیسے پتہ چلا کہ !!”

” دراصل آپی میں نے انھیں بات کرتے سنا تھا،،،،_____”

(فلیش بیک سین)

علی کچن میں پانی پینے کے لیے گیا تھا،،،،،____ ویسے تو وہ کسی کو کہہ دیتا پر آج گھر پر کوئی نوکر چاکر نہیں تھے،،،،____ اسی وجہ سے اسے خود جانا پڑا،،،،_____

جب علی کچن کے دروازے کے پاس آیا تو اس نے دیکھا بی جان کچن میں دودھ کے گلاس میں کچھ ملا رہی ہیں !!

دودھ ملاتے ہی انھوں نے فون اٹھایا اور کہا،،،،_____

” علی کے دودھ میں میں نے زہر ملا دیا ہے اب وہ ہمارے راستے کا کانٹا نہیں بنے گا،،،،،_____ “

یہ کہہ کر انھوں نے فون بند کیا اور ایک شیطانی قہقہہ لگایا،،،،____

حال

یہ سنتے ہی میں اپنے کمرے میں آگیا،،،،،_____ علی نے کہا،،،،____

” پر وہ دودھ !!” شہرام نے کہا،،،،____

” اس دودھ کو میں نے ایک اور دودھ کے گلاس سے اکسینج کر دیا تھا،،،،_____ اور جو دودھ میں نے پیا تھا اس میں زہر نہیں ملا ہوا تھا،،،،____”

علی کے کہنے پر شہزین کے چہرے پر مسکراہٹ چھا گئی،،،،____” اپنا بہت زیادہ خیال رکھنا علی اب ہم چلتے ہیں “

یہ کہہ شہرام اور شہزین جانے کے لیے مڑے،،،،،______

” آپی آج آپ میرے پاس ہی رکیں !!،،،،_______” علی کے کہنے پر وہ پیچھے مڑی اور مسکرا کر دیکھا،،،،_____

” علی میری جان!! تمھاری آپی تمھارے پاس ضرور رکتی پر میں اس حویلی کو کبھی دیکھنا بھی نہیں چاہتی تھی،،،،____ پلیز ضد مت کرو،،،،،______ “

شہزین نے اسے سمجھانے کی کوشش کی،،،،_____ اور وہ سمجھ بھی گیا،،،،،____

” ٹھیک ہے آپی،،،،_____” یہ کہہ کر وہ دونوں حویلی سے نکلے اور گھر کی طرف بڑھے،،،،،_____

” یہ ہے شہرام خان !!!،،،،،،،_______” بڑی سی سکرین پر اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس شخص نے کہا،،،،،______

” اور یہ ہے اس کا چھوٹا بھائی ،،،،،_____ ” زاروان “

اب اس سکرین پر شہرام کی تصویر کی جگہ زاروان کی تصویر تھی،،،،_____

” یہی وہ لڑکا ہے جو تمھارے کالج میں تم لوگوں کو ڈھونڈنے آیا ہے،،،،،______ تم لوگوں کو ہوشیاری سے کام لینا ہو گا اس طرح درگز سپلائی کرنی ہونگی کہ کسی کو پتہ نہ چلیں اور یونی میں تم لوگوں کا اڈا کہاں ہے کسی کو بھی نہ پتہ چلے،،،،،______”

وہ کسی کمانڈر کی طرح ان کو حکم دے رہا تھا اور وہ تینوں اس کی بات پر سر ہلا رہے تھے،،،،،______

” اور اگر وہ تم لوگوں کو ڈھونڈ بھی لے تو تم لوگوں کو اس کی کمزوری کا پتہ ہونا چاہیئے،،،،،_____ “

” کیا ہے اس کی کمزوری!! ،،،،،_____” اس کی بات پر ان تینوں میں سے ایک نے سوال پوچھا،،،،____ جس پر وہ جو انھیں کمانڈ دے رہا تھا،،،،،_____ وہ مسکرایا،،،،،_____

” یہ !!” سکرین پر زرمینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وہ شخص بولا،،،،،_____”

” یہ اس کی بیوی ہے زرمینے خان ویسے تو اس کی کوئی ضرورت نہیں لیکن اگر وہ تمھیں ڈھونڈ لے تو اس کو استعمال کرنا ہوگا آگے تم اچھے سے جانتے ہو کیا کرنا ہے تم لوگوں کو،،،،،________”

یہ سنتے ہی وہ تینوں اٹھے اور فوراً وہاں سے نکل گئے،،،،،______

اب اس روم میں اس شخص اور اس کے پرائیویٹ سیکٹری کے علاؤہ کوئی اور نہیں تھا،،،،_____

” سر آپ یہ سب زاروان خان اور اس کے بھائی شہرام سے بدلہ لینے کے لیے کر رہے ہیں نہ،،،،،_____” اس کا پرائیویٹ سیکٹری اس کے پاس آیا اور بولا،،،،_____

” بڑا ہی کمبخت ہے تو !! سب جان گیا حاکم کے بارے میں ،،،،_____”

اس بات پر وہ دونوں مسکرائے،،،،،،_______

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *