Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Pr Zor Nahi (Episode - 25)

Ishq Pr Zor Nahi By Abdul Ahad Butt

سب ٹھیک ہوچکا تھا پر ابھی بھی ایک بہت بڑا مسئلہ باقی تھا،،،___ صاحبہ کا،،،__ وہ ہر ممکن کوشش کر رہی تھی کہ وہ شہرام اور شہزین کو کسی بھی طرح الگ کرکے شہرام کو اپنا بنا لے،،،___ پر ایسا ممکن نہیں تھا،،،____ اسی لیے اس نے کئی کوششیں کی پر بے سود بے کار ہر بار ناکامی نے اسے پاگل کردیا تھا،،،__ اب اسے صرف ایک ہی راستے نظر آرہا تھا یا تو وہ اپنی جان دے دیں،،،__ یا پھر وہ شہزین کو مار دے،،،__ جان کس کو پیاری نہیں ہوتی اسے بھی اپنی جان پیاری تھی،،،__ اسی وجہ سے اس نے شہزین کو مارنے کا فیصلہ کیا،،،،___

شہزین صبح اٹھ کر کچن کی طرف بڑھی،،،__ ” ارے صاحبہ !! تم کچن میں کیا کر رہی ہو؟؟،،،__” صاحبہ کو کچن میں دیکھ کر شہزین کو کچھ سمجھ نہیں آیا،،،،___ ” کیوں کیا میں کچن میں نہیں آسکتی،،،___؟” صاحبہ نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا،،،___

” نہیں ایسی بات نہیں ہے تم کچن میں آسکتی ہو لیکن پہلے نہیں نہ دیکھا تمھیں کبھی،،،،____” شہزین نے کہا جس صاحبہ چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ لائی،،،___ ” ہاں یہ بات تو ہے کہ میں پہلے کبھی بھی کچن میں نہیں آئی،،،___ وہ میں نے سوچا کہ تم اتنا کام کرتی ہو زرمینے کا بھی خیال رکھتی ہو،،_ تو کیوں نہ اب سے ناشتہ میں ہی بنا دیا کرو،،،__” صاحبہ نے کہا،،،__

” نہیں صاحبہ !! مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے،،__ تم فکر نہیں کروں یہ کام میں کر لوں گی،،__” شہزین نے اسے کام کرنے سے منع کیا،،__ ” نہیں !! تم جاؤ آج تو ناشتہ میں ہی بناؤں گی،،،__” صاحبہ چہرے پر جھوٹی مسکراہٹ لائی اور شہزین کو کچن سے باہر کھڑا کردیا اور جانے کو کہا،،__ ” اچھا !! لیکن دھیان سے ہاتھ وغیرہ نہ جلا لینا اور اگر کسی بھی چیز کی ضرورت ہوئی تو بتا دینا،،،___ ” شہزین نے اسے سمجھایا،،_

” نہیں ہوگا کچھ ابھی جاؤ تم یہاں سے،،__” صاحبہ کے کہنے پر وہ مسکرا کر وہاں سے چلی گئی،،__ اور صاحبہ کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ چھا گئی،،،__ اس نے فریج سے دودھ نکال ایک گلاس میں ڈالا اسے گرم کرکے اس میں زہر ملایا اور ایک نوکرانی کے ہاتھ شہزین کو بجوایا،،،__

” شہزین کیا ہوا آج ہمیں ناشتہ نہیں ملے گا کیا؟؟” شہزین کو کچن سے واپس آتا دیکھ شہرام نے اس سے سوال کیا،،،__ ” ملے گا کیوں نہیں ملے گا،،،__ پر صاحبہ کے ہاتھ کا،،،__” یہ شہزین اس کے ساتھ جاکر بیٹھ گئی،،،___ ” کیا مطلب مجھے تو تمھارے ہاتھ کا کھانا ہے،،،__” شہرام نے شرارت سے کہا،،،__

” میں نے آپ کو اپنے ہاتھ کا بنا ناشتہ نہیں کھلانا ہے،،،__ ” وہ بھی آنکھیں بھینج کر بولی،،،__ ” کیوں ؟؟” شہرام کے اس سوال پر اس نے اسے گورا،،__ “کیونکہ میری مرضی،،،__” اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور کہتا ملازمہ کی آواز پر وہ اس کی طرف متوجہ ہوئے،،،__ ” بی بی جی ! یہ دودھ صاحبہ بی بی ! نے دیا ہے آپ کے لیے،،،__” یہ سن شہزین کو کچھ بھی سمجھ نہیں آیا،،،___

” میرے لیے،،_” شہزین نے کہا،،_ ” جی آپ کے لیے،،،__” اس ملازمہ نے جواب دیا،،__ ” آپ ایک کام کریں یہ مجھے دے دیں کیونکہ یہ دودھ میں پیو گا،،،___” شہرام نے یہ کہتے ہوئے اس ملازمہ کے ہاتھ سے دودھ کا گلاس لے لیا اس کا جواب سنتے ہی وہ ملازمہ وہاں سے چلی گئی،،،__

” دودھ دے دیا تم نے شہزین کو،،،___” اس ملازمہ کو واپس آتا دیکھ صاحبہ نے اس سے سوال پوچھا،،،__ ” نہیں وہ تو شہرام صاحب نے لے لیا،،،__” یہ سنتے ہی صاحبہ کا رنگ اڑ گیا،،،__” شہزین کو دینا شہرام کو نہیں !!” وہ غصے سے چلائی،،،___ اور باہر کی طرف بڑھ گئی،،_ اس نے کچھ اور سوچا تھا اور یہاں کچھ اور ہوگیا،،،_ وہ باہر پہنچی تو شہرام دودھ پینے ہی والا تھا،،،_ یہ دیکھ صاحبہ شہرام کی طرف بھاگی،،__ ” شہرام یہ دودھ مت پئیے،،،__” یہ کہتے ہوئے اس نے گلاس نیچے پھینکا جس ے سرا دودھ فرش پر پھیل گیا اور گلاس ٹوٹ کر چکنا چور ہو گیا،،__ یہ آواز سنتے ہی وہاں باقی گھر والے بھی پہنچے،،،__ ” یہ کیا حرکت ہے صاحبہ،،،_ ؟” ساجدہ غصے میں بولی،،،__ ” یہ دودھ آپ نے بنا کر بھیجا تھا نہ شہزین کے لیے تو یہ میں کیوں نہیں پی سکتا،،،__” شہرام نے اس گھورا،،،__ ” کیونکہ اس میں زہر ہے،،،__” لاعلمی میں اپنا سب وہ خود ہی بول گئی،،__ ” کیا !!” یہ سنتے ہی سب کے ہوش اڑ گئے کہ صاحبہ اتنا کیوں گر گئی،،،__ یہ سنتے ہی ساجدہ بیگم آگے بڑھی،،،__ ” چٹاخ !!” ایک زور دار تھپڑ مارا انھوں نے صاحبہ کے چہرے پر،،_ صاحبہ اپنے گال پر ہاتھ رکھے انھیں دیکھنے لگی،،__ ” ہماری نظروں کے سامنے سے دفعہ ہو جاؤ،،_” ساجدہ بیگم نے کہا جس پر وہ کمرے کی طرف بھاگ گئی،،،__ باقی کسی بھی گھر والے نے اور کچھ بھی نہیں کہا،،،__

دو دن بعد !!

شہزین کمرے میں تھی،،_ شہرام کسی کام سے باہر گیا تھا،،__ ایک ان ناؤن نمبر سے اسے بار بار فون آرہا تھا،،__ آخر کار اس نے فون اٹھایا،،__

” اگر اپنے بھائی کی جان بچانا چاہتی ہو تو چپ چاپ اس جگہ آجاؤ جس کی لوکیشن سینڈ کررہا ہوں،،،،__ اور اگر کسی بھی گھر والے کو بھی بتایا تو تمھارا بھائی گیا،،،__” یہ کہہ کر فون بند کردیا گیا،،،__ شہزین کو کچھ بھی کہنے کا موقع ہی نہیں دیا گیا،،،__

اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے کیونکہ وہ اگر نہ جاتی تو بھی اس کے بھائی جان کو خطرہ ہے اور اگر وہ چلی بھی جاتی یا پھر کسی کو بتا دیتی تو بھی اس کے بھائی کی جان کو خطرہ ہے،،_

اس لیے اس نے بنا بتائے جانے کا فیصلہ کیا،،_ وہ اٹھی اور شاپنگ کا بہانہ کرکے گھر سے نکل گئی اور لوکیشن کے مطابق مطلوبہ جگہ پر پہنچ گئی،،،__

” کافی جلدی آگئی تم !!،،،،__” وہاں پہنچی تو سامنے کھڑے شخص نے اس سے سوال کیا وہ شخص کوئی اور نہیں بلکہ حاکم ہی تھا،،،__ ” میں تمھارے سوالوں کے جواب دینے نہیں بلکہ اپنے بھائی کو لینے آئی ہوں،،،__ ” اس نے غصے میں کہا،،،__ ” اندر ہے تمھارا بھائی،،،__ جاؤ مل لو اس سے،،__ ” حاکم نے سامنے کھلے دروازے کی طرف اشارہ کیا،،،__ تو وہ فوراً اندر بھاگ گئی،،__

لیکن اسے اپنی غلطی کا احساس اس وقت ہوا جب پیچھے سے دروازہ بند کردیا گیا،،__ ” دروازہ کھولو !! دروازہ کیوں بند کیا ہے؟؟،،،___” اسے اب بھی سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کتنی بڑی مصیبت میں بھنس چکی ہے،،،__ ” ہاہاہاہا!! کتنی معصوم ہو تم !! بھائی گھر آرام کر رہا اور تم اپنی موت کے پاس ہو کچھ ہی دیر میں تمھارا شوہر آئے گا دس منٹ میں اور پھر بھوک بوم بلاسٹ اور سب ختم !! ہاہا !! ” یہ کہہ وہ وہاں سے چلا گیا اور وہاں کوئی بھی نہیں تھا جو اس کی پکار سن سکے،،،___

” اگر اپنی بیوی کو بچانا ہے تو دس منٹ میں جو لوکیشن سینڈ کی ہے وہاں آجا،،،__ ” شہرام یہ سن کر اپنے ہوش کھو بیٹھا کہ شہزین کی جان کیسے خطرے میں،،،__ ” تم ہو کون؟؟” شہرام نے کہا،،_ ” میری چھوڑ اپنی بیوی کو بچا تو،،،__” یہ کہہ کر فون بند کردیا گیا،،،__ شہرام نے گاڑی کی سپیڈ فل کردی،،،___

” کیا کیا کروں ” صرف پانچ منٹ باقی تھے،،،__ اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ اب کیا کرے،،،__ اچانک اس کی نظر ایک سریے پر گئی اور دروازے کے شیشے پر اس نے سریہ اٹھایا اور دروازے کا شیشہ توڑا شیشے سے ہاتھ نکال کر دروازہ کھولا،،،__ صرف دو ہی منٹ باقی تھے،،،_ وہ بھاگی وہاں سے،،،__ پر دو منٹ میں کتنا ہی دور بھاگا جاتا ہے،،،__ آخر کار وہ بوم پھٹ گیا اور پوری کی پوری بیلڈنگ اڑ گئی شہزین زیادہ دور نہ ہونے کی وجہ سے اس بلاسٹ سے دور جا کر گری اور آنکھیں بند کرگئی،،،__

وہاں دوسری طرف شہرام نے گاڑی کی سپیڈ فل تیز رکھی ہوئی تھی،،،__ ” شہزین میں تمھیں کچھ بھی نہیں ہونے دوں گا،،،__ ” اس نے اور تیز سپیڈ کی،،_ اور دھیان موبائل کی طرف کیا اور شہزین کو فون کرنے لگا پر فون تو اس کا گھر تھا،،_ اس سب میں اسے معلوم ہی نہیں ہوا کہ کب ایک ٹرک اس کے سامنے آگیا اور وہ گاڑی کی سپیڈ کی وجہ سے گاڑی کنٹرول نہیں کر پایا،،_

اور گاڑی ٹرک سے جا ٹکرائی اور شہرام کا سر ہینڈل سے اور اس کے سر سے بے تحاشا خون بہنے لگا اور اسے کوئی ہوش نہیں تھی،،،،__

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *